Fussilat 41:14

Fussilat · from ayah 14

41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ ؕ— قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ۟اِذۡ جَآءَتۡهُمُ الرُّسُلُ مِنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ‌ؕ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ‏

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[That occurred] when the messengers had come to them before them and after them, [saying], "Worship not except Allah." They said, "If our Lord had willed, He would have sent down the angels, so indeed we, in that with which you have been sent, are disbelievers."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:14

جب خدا کے رسول اُن کے پاس آگے اور پیچھے، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا "ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے پاس جب ان کے آگے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کے پاس پیغمبر (کبھی) ان کے آگے سے اور (کبھی) ان کے پیچھے سے یہ پیغام لے کر آئے کہ اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ : اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے بھیجتا۔ لہذا جس بات کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے۔ ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بولے ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب اُن کے پاس اُن کے آگے اور اُن کے پیچھے (یا اُن سے پہلے اور ان کے بعد) پیغمبر آئے (اور کہا) کہ اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، تو وہ کہنے لگے: اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا سو جو کچھ تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب ان کے پاس ان کے رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، انھوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور کوئی فرشتے نازل کردیتا، پس بیشک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب ان کے پاس ان کے آگے سے اور پیچھے سے رسول آئے (اور کہا) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو کہنے لگے کہ : اگر اللہ (ہماری ہدایت) چاہتا تو فرشتے نازل کرتا لہذا تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ آئے ان کے رسول ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ ہاتھوں نے جواب دیا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا تو ہم تو اس پیغام کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ ان کے پاس ان کے رسول آئے ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی (اور سب نے یہی کہا کہ لوگوں !) تم لوگ بندگی نہ کرو مگر صرف ایک اللہ کی تو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو بھیج دیتا کچھ فرشتوں کو (رسول بنا کر) لہذا ہم اس چیز کے قطعی طور پر منکر ہیں جس کے ساتھ تم کو بھیجا گیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

جب کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر آئے تھے ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی کہ بجز اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ وہ بولے اگر ہمارے پروردگار کو یہی منظور ہوتا تو وہ فرشتوں کو بھیجتا تو ہم تو اس (پیام) کے منکر ہیں جسے دے کر تم بھیجے گئے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جبکہ ان کے پاس رسول ؑ آئے ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی (اس دعوت کے ساتھ) کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو (جواب میں ہر قوم کے) لوگوں نے یہی کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو نازل کردیتا پس جو چیز دے کر آپ بھیجے گئے ہیں ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو کہنے ل کے کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا، سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When the Messengers (of Allah) came to them from the front and from the rear, saying: “Do not serve any but Allah”; they said: “Had our Lord so willed, He would have sent down angels. So we deny the Message you have brought.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

when the messengers came to them from their front and from their rear, saying, :Do not worship anyone but Allah. They said, :Had our Lord (really) willed (to send someone as messenger), He would have sent down angels. So, we are deniers of what you have been sent with.

— Muhammad Taqi Usmani

when the messengers came to them from their front and from their rear, saying, :Do not worship anyone but Allah. They said, :Had our Lord (really) willed (to send someone as messenger), He would have sent down angels. So, we are deniers of what you have been sent with.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When the Messengers came to them, from before them and behind them (saying): "Worship none but Allah," they said: "If our Lord had so willed, He would surely have sent down the angels. So, indeed we disbelieve in that with which you have been sent."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When their messengers came unto them from before them and behind them, saying: Worship none but Allah! they said: If our Lord had willed, He surely would have sent down angels (unto us), so lo! we are disbelievers in that wherewith ye have been sent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[That occurred] when the messengers had come to them before them and after them, [saying], "Worship not except Allah." They said, "If our Lord had willed, He would have sent down the angels, so indeed we, in that with which you have been sent, are disbelievers."

— Saheeh International

When Messengers from all sides came to them saying, "Do not worship anything besides God, " they said, "Had our Lord wanted, He would have sent us angelic Messengers. We do not believe in your message".

— Muhammad Sarwar

When their apostles came to them from before them and from behind them, saying, Serve nothing but Allah, they said: If our Lord had pleased He would certainly have sent down angels, so we are surely unbelievers in that with which you are sent.

— Muhammad Habib Shakir

Recall what time the apostles came Unto them from before them and behind them, saying: worship none save Allah. They said: had our Lord listed, He surely would have sent down angels, so verily in that wherewith ye have been sent we are disbelievers altogether.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, the messengers came to them, from before them and behind them, (preaching): "Serve none but Allah." They said, "If our Lord had so pleased, He would certainly have sent down angels (to preach). Now we reject your mission (altogether)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–18

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب۔ حکم ہوتا ہے کہ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ میری تعلیم سے رو گردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کردی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے درپے رسول آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 18 اس فقرے کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے پاس رسول آتے رہے۔ دوسرے یہ کہ رسولوں نے ہر پہلو سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو راہ راست پر لانے کے لیے کوئی تدبیر اختیار کرنے میں کسر نہ اٹھا رکھی۔ تیسرے یہ کہ ان کے پاس ان کے اپنے ملک میں بھی رسول آئے اور گرد و پیش کے ملکوں بھی آتے رہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 19 یعنی اگر اللہ کو ہمارا یہ مذہب پسند نہ ہوتا اور وہ اس سے باز رکھنے کے لیے ہمارے پاس کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ تم چونکہ فرشتے نہیں ہو بلکہ ہم جیسے انسان ہی ہو اس لیے ہم یہ نہیں مانتے کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے اور اس غرض کے لیے بھیجا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–15

خلاصہ تفسیر پھر (دلائل توحید سن کر بھی) اگر یہ لوگ (توحید سے) اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی عاد وثمود پر (شرک و کفر کی وجہ سے) آفت آئی تھی (مراد عذاب سے ہلاک کرنا ہے) جیسا کہ قریش مکہ کے سردار غزوہ بدر میں ہلاک اور قید کئے گئے، اور یہ قصہ عاد وثمود کا اس وقت ہوا تھا) جبکہ ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی پیغمبر آئے (یعنی جو پیغمبر ان کی طرف بھیجے گئے اور ان کے سمجھانے میں جان توڑ کوشش کی گئی۔ جیسے کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو کسی مصیبت و ہلاکت کی طرف جاتے دیکھے تو وہ کبھی آگے سے آ کر اسے روکتا ہے، کبھی پیچھے سے پکڑتا ہے۔ اور اس کی مثال قرآن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ ’ رسل ‘ کے جمع لانے کی علت ان قوموں کی طرف اگرچہ دو ہی رسولوں…حضرت ہود اور حضرت صالح علیہما السلام… کا مبعوث ہونا قرآن میں مذکور ہوا ہے لیکن یہاں لفظ ’ رسل ‘ بصورت جمع استعمال ہونے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ ان قوموں کا ذکر یہاں بطور مثال ہوا ہے۔ مقصود ان تمام قوموں کی طرف اشارہ کرنا ہے جنہوں نے ان کی روش بد کی پیروی اور اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔ رسولوں کی ہمہ جہت جدوجہد کی تعبیر ’ من بین ایدیھم و من خلفھم الا تعبدوآ الا اللہ ‘۔ یہ ان رسولوں کی اس انتھک، ہمہ جہت اور شبانہ روز جانفشانی کی تعبیر ہے جو انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو دعوت توحید پہنچانے میں صرف کی۔ ابلیس نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی چونکہ تم ہماری طرح ہی کے انسان ہو، اس لئے ہم تمہیں نبی نہیں مان سکتے اللہ تعالیٰ کو نبی بھیجنا ہوتا تو فرشتوں کو بھیجتا نہ کہ انسانوں کو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

8: یہ ایک محاورہ ہے، اور مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے ہر رخ سے اپنی قوموں کو سمجھانے کی کوشش کی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–18

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی ہر طرف سے۔ شاید بہت رسول آئے ہوں گے مگر مشہور یہ ہی دو رسول ہیں۔ حضرت ہود اور حضرت صالح علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام۔ اور یا (مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ ) 41 ۔ فصلت :14) سے مراد یہ ہو کہ ان کو ماضی اور مستقبل کی باتیں سمجھاتے ہوئے آئے۔ کوئی جہت اور کوئی پہلو نصیحت و فہمائش کا نہیں چھوڑا۔ 11 یعنی خدا کا رسول بشر کیسے ہوسکتا ہے اگر اللہ کو واقعی رسول بھیجنا ہے تو آسمان سے کسی فرشتہ کو بھیجتا۔ بہرحال تم اپنے زعم کے موافق جو باتیں خدا کی طرف سے لائے ہو ہم ان کے ماننے کے لیے تیار نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 { اِذْ جَآئَ تْہُمُ الرُّسُلُ مِنْم بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ } ”جبکہ ان کے پاس رسول علیہ السلام آئے ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی“ یہاں پر قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کر کے عرب کا وہ پورا علاقہ مراد لیا گیا ہے جہاں مختلف قوموں کی طرف پے در پے پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں اور ان کی اقوام کا ذکر قرآن میں بہت تکرار سے آیا ہے۔ { اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ } ”اس دعوت کے ساتھ کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔“ { قَالُوْا لَوْ شَآئَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَۃً } ”جواب میں ہر قوم کے لوگوں نے یہی کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو نازل کردیتا“ {…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے پاس رسول آتے رہے۔ دوسرا یہ کہ ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان لوگوں کو ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کی اور تیسرا یہ کہ ان کے اپنے علاقہ میں بھی رسول آئے اور ان کے گردوپیش کے علاقہ میں بھی اور ان کی تعلیم بھی ان تک پہنچ چکی تھی۔ 17 یعنی تم تو بشر ہو۔ تمہیں ہم کیسے اللہ کا رسول مان سکتے ہیں۔ کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بن کر آتا تب بھی کوئی بات تھی۔ ہر منکر حق قوم کو یہ اعتراض رہا ہے اور اس اعتراض کی حقیقت خوئے بدرا بہانہ بسیار سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور اس اعتراض کے جواب بھی قرآن میں جا بجا مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ یعنی وہ ہر طرح کی سعی بلیغ انہیں اسی مسئلہ توحید کے سمجھانے کی کرتے رہے۔ اے اجتھدوابھم واتوا بجمیع الوجوہ (کبیر) والجھتان کنایۃ عن جمیع الجھات والمراد باتیانھم من جمیع الجھات ببذل الوسع فی دعوتھم (روح) (آیت) ” جآء تھم “۔ ھم ضمیر جمع ہے حالانکہ ذکر صرف دو کا گزرا ہے۔ عاد وثمود کا، لیکن تثنیہ کے موقع پر ضمیر جمع لانا عربی میں عام ہے۔ ففیہ اطلاق الجمع علی الاثنین وھو شائع (روح) 14۔ (اپنے خیال وپندار کے مطابق) ان قدیم منکروں کا جواب وہی تھا جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی ان کی زبانوں پر رہا۔ یعنی اگر خدا کو واقعی ہماری ہدایت منظور تھی آدمیوں کے خود دیوی دیوتا ہی اتر کر کیوں نہ ہمارے پاس آگئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–18

آیت نمبر 9 تا 18 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذجاء تھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم الا تعبدوا الا اللہ قالوا لو شاء ربنا لا نزل ملئکۃ فانا بما ارسلتم بہ کفرون جبکہ ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی پیغمبر آئے کہ بجز اللہ کے اور کسی کو مت پوجو۔ انہوں نے جواب دیا : اگر ہمارے رب کو یہ منظور ہوتا (کہ کسی کو پیغمبر بنا کر بھیجے) تو فرشتوں کو بھیجتا ‘ سو ہم اس توحید کے منکر ہیں جس کو دے کر (بزعم خود) تم بھیجے گئے ہو۔ اِذْجَآءَتْھُمُ الرُّسُلُ جب قوم عاد وثمود کے پاس ان کے پیغمبر آئے۔ مِنْم بیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمنْ خَلْفِھِمْآگے سے بھی اور پیچھے سے بھی ‘ یعنی ہر طرف سے پہنچے اور ان کو ہدایت کرنے کی انتہائی کوشش کی ‘ یا آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

(14۔ 15) جبکہ عاد وثمود سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ان کی قوم کی طرف رسول آئے اور انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کسی کی توحید کا اقرار مت کرو تو ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو یہی جواب دیا کہ اگر اللہ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجنا منظور ہوتا تو اپنے پاس سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا تو جو چیز تم لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں کیونکہ تم تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور قوم ہود ایمان لانے سے ناحق تکبر کرنے لگی اور کہنے لگی کہ جسمانی اور مالی طاقت میں کون ہم سے بڑھ کر ہے جو ہمیں ہلاک کرے گا کیا ان کو یہ نظر نہ آیا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اذ جآء نھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم : دونوں قوموں کی طرف آنے والے دو رسولوں ہود اور صالح ؑ کے لئے جمع کا لفظ استعمال فرمایا ہے، یا مراد دونوں پیغمبروں میں سے ہر ایک کے ساتھ پیغام حق پہنچانے والے مومن بھی ہیں، جنہوں نے ہر طرح اور ہر جانب سے آکر انہیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ آگے پیچھے سے مراد ہر طرف سے اور ہر طرح سے آکر سمجھانا ہے، جیسا کہ ابلیس نے کہا تھا : ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم و عن ایمانھم و عن شمآئلھم ولا تجداکثرھم شکرین) (الاعراف :18) ”پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے ائٓوں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

(فان اعرضوا فقل۔۔۔۔۔ ) فان اعرضوا اے محمد ﷺ ! اگر کفار قریش ایمان سے اعراض کریں جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عادوثمود۔ یعنی ہم نے ڈرایا ہلاکت سے جس طرح عاد اور ثمود کی ہلاکت تھی اذجاء تھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم یعنی ان کی طرف انہیں مبعوث کیا گیا اور ان سے قبل قوموں کی طرف مبعوث کیا گیا الا تعبدوا الا اللہ ان محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جر حذف ہے اصل میں کلام یوں تھی بالا تعبدوا۔ قالو لو شاء ربنا لا نزل ملیکۃ یعنی رسولوں کی جگہ فرشتے مبعوث کرتا فانابما ارسلتم بہ کفرون۔ یعنی انذار اور تبشیر کا انکار کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان کی طرف سے استہزاء ہے۔ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی ” صعقۃ “ ہے اس کا معنی عذاب ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ (تم کو ایسی آواز سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد ثمود پر آئی تھی یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں عاد اور ثمود پر (عذاب کے) حملہ سے (آیت ) ” ریحا صرصرا “ (طوفان آندھی) یعنی ٹھنڈی ہوا۔ (آیت ) ” نحسات “ یعنی نحوستیں اور دشواریاں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارسلنا علیہم ریحا صرصرا “ (ہم نے ان پر طوفان آندھی بھیجی) سے مراد ہے سخت منحوس۔ 4:۔ ابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذْ جَاۗءَتْهُمُ [ جب آئے ان کے پاس ] الرُّسُلُ [ رسول ] مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے آگے سے ] وَمِنْ خَلْفِهِمْ [ اور ان کے پیچھے سے ] اَلَّا تَعْبُدُوْٓا [ کہ تم لوگ بندگی مت کرو ] اِلَّا اللّٰهَ ۭ [ مگر اللہ کی ] قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] لَوْ شَاۗءَ رَبُّنَا [ اگر چاہتا ہمارا رب ] لَاَنْزَلَ مَلٰۗىِٕكَةً [ تو وہ ضرور اتارتا کچھ فرشتے ] فَاِنَّا بِمَآ [ تو بیشک ہم اس چیز سے ] اُرْسِلْتُمْ بِهٖ [ تم لوگ بھیجے گئے جس کے ساتھ ] كٰفِرُوْنَ [انکار کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–16

(فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا) (سو ہم نے ان پر تیز ہوا بھیج دی) (فِیْ اَیَّامٍ نَحِسَاتٍ ) (منحوس دنوں میں) (لِنُذِیقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) (تاکہ انہیں دنیا والی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں) اور اسی عذاب پر بس نہیں ان کے لیے آخرت میں بھی عذاب ہے اور وہ اس دنیا والے عذاب سے بڑھ کر زیادہ ذلت اور رسوائی والا ہوگا (وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ ) اور وہاں ان کی مدد نہ کی جائے گی یہ جو مال و دولت اور افرادو اولاد پر گھمنڈ ہے سب دھرا رہ جائے گا سورة الحاقہ میں فرمایا ہے (سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُومًا فَتَرَی الْقَوْمَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” اذجاءتہم “ جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر ہر طرف سے آئے یعنی انہوں نے ہر ممکن طریق سے ان کو سمجھایا ” الا تعبدوا الا اللہ “ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور حاجات میں مافوق الاسباب اس کے سوا کسی کو نہ پکارو یہ وہ دعوی (حکمنامہ) ہے جو سورة مومن میں ذکر کیا گیا ہے۔ ولمراد باتیانہم من جمیع الجہات بذل الوسع فی دعوتہم علی طریق الکنایۃ (روح ج 24 ص 110) ۔ تو مشرکین نے انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کے جواب میں کہا کہ ہم ان پیغمبروں کو نہیں مانتے جو بشر ہیں اور کھانے پینے کے محتاج ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا منظور ہی تھا تو وہ فرشتوں کو پیغمبر بنا کر بھیجتا، اس لیے ہم اس پیغام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–18

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور اپنی نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ اس کا توازن برقرار رہے۔ زمین میں انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے اور اس کو با برکت بنادیا ۔ پھر اللہ نے سات آسمانوں کو جداجدا کردیا ۔ ہر آسمان کو اس کی مخلوق کے مناسب حال حکم جاری فرمایا ۔ آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اسے شیاطین اور جنات کی رسائی سے محفوظ کردیا ۔ یہ سب انعامات الٰہیہ ہیں اور توحید کے عقلی دلائل بھی ہیں ۔ اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت آسانی سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ جَاۗءَتْہُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللہَ۝ 0 ۭ قَالُوْا لَوْ شَاۗءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰۗىِٕكَۃً فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ كٰفِرُوْنَ۝ 14 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذْ جَآئَ تْہُمُ الرُّسُلُ مِنْ م بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّ اللّٰہَ ط قَالُوْا لَوْشَآئَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِکَۃً فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْـتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 14) (جبکہ آئے ان کے پاس رسول، ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے، یہ دعوت لے کر کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، تو انھوں نے کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کردیتا، لہٰذا ہم اس بات کو نہیں مانتے جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ ) لفظِ رُسُل کے جمع لانے کا سبب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتا جب تک ان پر اتمامِ حجت نہیں کرلیتا۔ اور اتمامِ حجت کا سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرتیں دیکھنے اور اس کی نعمتیں استعمال کرنے کے باوجود جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں۔ انہیں قوم عاد اور قوم ثمود کے انجام پر نظر رکھنا چاہیے۔ اے نبی ﷺ ! آپ کے مخاطبین ہر قسم کے دلائل سُننے اور حقائق جاننے کے باوجود اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک چھوڑ نے کے لیے تیار نہیں تو انہیں فرما دیں کہ میں نے تمہیں قوم عاد اور قوم ثمود کے دھماکوں سے ڈرا دیا ہے۔ ان کے پاس اور ان کے بعد رسول آئے اور انہوں نے زندگی بھر انہیں دعوت دی کہ اللہ کے سوا نہ کسی کو معبود مانو اور نہ کسی اعتبار سے ان کی بندگی کرو۔ قوم عاد اور ثمود نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اِذْ جَاۗءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ (جب ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی رسول آئے) یعنی ہر طرف سے آئے اور انہوں نے ان کے ایمان کے سلسلہ میں ہر حیلہ اختیار کیا۔ مگر ان کی طرف سے اعراض ہی نظر آیا۔ قول حسن (رح) : انبیاء (علیہم السلام) نے ان کو پہلی امتوں میں پیش آنے والے واقعات اور عذاب آخرت سے ڈرایا۔ نحو : ان بمعنی ای ہے۔ یا مخخہ من المثقلہ ہے اس کی اصل بانہ ہے۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ قَالُوْا (کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے تم اور کسی کو مت پوجو۔ انہوں نے جواب دیا) یعنی قوم نے لَوْ شَاۗءَ رَبُّنَا (اگر ہمارے پروردگار کو منظور ہوتا) کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13، فان اعرضوا، یعنی یہ مشرکین اس بیان کے بعد ایمان لانے سے، فقل انذرتکم ، میں نے تم کو ڈرایا۔ ، صاعقۃ مثل صاعقۃ عاد وثمود، یعنی ان جیسی ہلاکت سے اور، صاعقۃ، ہرچیز میں سے ہلاک کرنے والی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–21

13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–15

آیت 13 یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جا چکی ہے (فقل انذرتکم صعقۃ) تو کہہ دیجئے : میں تمہیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں “ جو کہ عذاب ہے وہ تمہاری جڑ کاٹ کر رکھ دے (مثل صعقۃ عاد وثمود) ” جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی “۔ عاد اور ثمودیہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا تھا اور انہیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔ (اذ جاء تھم الرسل مم بین ایدیھم و مم خلفھم) ” جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے “۔ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

24 بعثت رسل ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رسولوں کی بعثت و تشریف آوری ان کی امتوں کے لیے ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے ان کی اطاعت و اتباع کو اپنایا وہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفرازہو گئے اور جنہوں نے ان کی دعوت و ہدایت سے منہ موڑا اور اعراض و روگردانی کی راہ کو اپنایا وہ خائب و خاسر اور ذلیل و نامراد ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آئے انکے پاس انکے رسول انکے آگے سے بھی اور انکے پیچھے سے بھی "۔ یعنی ہر طرف سے آئے اور انہوں نے دعوت حق کے لیے ہر طریقہ اپنایا اور ہر حیلہ اختیار کیا۔ تاکہ یہ لوگ حق کو قبول کریں۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–18

دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–17

آیات 9 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 2 یعنی ہر طرف سے ان کے پاس پیغمبر ﷺ آئے۔ ممکن ہے بہت سے پیغمبر ﷺ آئے ہوں۔ اگرچہ قرآن میں حضرت ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( موضح) یا ان کے ارد گرد کی آبادیوں میں بہت سے اللہ کے پیغمبر ﷺ ہو گزرے ہیں جو انہیں اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کا حکم دیتے تھے اور یہ ان پیغمبروں ﷺ کی نافرمانی کرنے والوں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ( ابن کثیر وغیرہ)3 نہ کہ تمہیں جو ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔4 یعنی اس دین کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جس کے متعلق تمہارا دعویٰ ہے کہ اللہ نے تمہیں دے کر بھیجا ہے۔ یہ وہ اعتراض ہے جو قریش آنحضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے۔ قرآن میں متعدد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:14) اذ جاء تھم الرسل ۔۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ (1) یہ انذرتکم کا ظرف زمان ہے۔ (2) یہ الصاعقۃ الاولی کی صفت ہے۔ (3) یہ الصاعقۃ الاولی کی صفت ہے۔ (4) یہ صعقۃ عاد سے حال ہے۔ متعدد مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ من بین ایدیہم ومن خلفھم کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی یعنی رسول ہر طرف سے ان کے پاس پہنچے۔ یعنی ان کو ہر پہلو سمجھانے کی کوشش کی۔ اور ان کو راہ راست پر لانے کے لئے کوئی تدبیر اختیار کرنے میں کسر نہ اٹھا رکھی۔ ای اجتھدوا بھم واتو بجمیع الوجوہ۔ (2) ان کے پاس یکے بعد دیگرے رسول آتے رہے۔ یعنی رسولوں کی کثیر تعداد ان کو سمجھانے کے لئے بھیجی جاتی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–18

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا) تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–14

کافروں کے قدم بقدم چلنے کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ کفارلوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو ٹال دیویں اور شرک وکفر سے باز نہ آویں تو اے محبوب ﷺ ان سے کہہ دیاجائے کہ میں تم کو عاد اور ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی انکا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس پیغمبر بھیجے گئے اور پیغمبروں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت بھی کی مگر جس طرح بےٹھکانے کی باتیں اللہ کے رسول سے تم لوگ کرتے ہو کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ایسی ہی باتیں ان کافروں نے اللہ کے پیغمبروں سے کیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔ [8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–16

ف 1: ان شواہد و دلائل کے بعد ارشاد فرمایا ۔ کہ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ چاہتے ہیں ۔ کہ دنیا میں عزت وآبرو کے ساتھ زندہ رہیں ۔ تو پھر بجز اس کے اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہوسکتا ۔ کہ اسلام کے لوائے رحمت تلے جمع ہوجائیں ۔ ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے ۔ جو عاد اور ثمود کی قوموں کا ہوا ۔ قوم عاد کے پاس جب اللہ کے پیغمبر آئے ۔ اور انہوں نے کہا کہ ایک اللہ کے سامنے جھکو اور قلب و دماغ سے لے کر اعضاء جوارح تک سب کو اللہ کی اطاعت میں لگادو ۔ تو انہوں نے ازراہ کبر و غرور انکار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہم انسان کی فرمانبرداری کے لئے تیار نہیں ہیں اگر اللہ کو منظور ہوتا ۔ کہ وہ ہمیں ہدایت دے ۔ تو پھر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) جبکہ ان کے پاس رسول ان کے منہ کے سامنے سے اور ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آئے اور ان کو سمجھایا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی عبادت نہ کرو مگر انہوں نے جواب دیا اگر ہمارے پروردگار کو رسولوں ککا بھیجنا منظور ہوتا تو وہ فرشتوں کو اتارتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا تو ہم اس چیز کے ماننے سے انکار کرتے ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ آگے سے اور پیچھے سے آنے کا یہ مطلب کہ بار بار سمجھایا کبھی سامنے سے آکر سمجھایا اور کبھی پیچھے سے غرض ہر طرح اور ہر جہت سے سمجھایا مگر وہ مانتے تو کیا کہا تو یہ کہا اگر ہمارا پروردگار چاہتا اور ہم کو تبلیغ کرنا اس کو منظور ہوتا تو وہ فرشتے نازل کرتا اور جبکہ ایسا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–18

ف 1۔ یہاں تک عذاب دنیوی کا ذکر تھا اور آگے عذاب آخرت کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان قوموں کے پاس ان کی طرف بھیجے ہوئے رسول آئے لیکن انہوں نے ان کی ایک نہ مانی 14 ؎ عاد قوم کے رسول ہود (علیہ السلام) اور ثمود قوم کے رسول صالح (علیہ السلام) تھے لیکن اس جگہ (اذجاء تھم الرسل) کے الفاظ آئے ہیں اس سے کسی کو وہم نہ ہونا چاہیے کہ یہ خلاف واقع ہے۔ ہرگز نہیں یہاں ذکر قوموں کا ہے اور قوموں میں سے مثال کے طور پر ان دو قوموں کا ذکر کیا گیا ہے ورنہ مراد ساری اقوام عالم ہیں جس طرح قرآن کریم میں جب بھی اقوام عالم کا ذکر آتا ہے تو ان میں سے محض پانچ سات اقوام کا ذکر کیا جاتا ہے ساری اقوام عالم کا نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ان چند اقوام سے لوگ اور خصوصاً قریش واقف تھے اور باقی اقوام سے متعارف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

Commentary The basic purpose of these verses is to warn the people of Makkah that if, even after seeing the manifest proofs of the Oneness of Allah, they do not accept the call of the Holy Prophet ﷺ ، they may face a punishment like the earlier people of ` Ad and Thamud had faced. In this context, a brief account of what happened to these people has been given. The people of Makkah are also reminded that their punishment on the Day of Judgment will be much more severe, and they will not be able to escape it, because even the organs of their body will testify against them. And in this context,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 This sentence can have several meanings: (1) That the Messengers continued to come to them one after the other; (2) that the Messengers tried in every wav to make them understand the truth and did not leave any stone unturned to bring them to the Right Path; and (3) that the Messengers came to them in their own country as well as in the adjoining countries. 19 That is "If Allah had disapproved of our religion, and had willed to send a messenger to us to keep us away from it, He would have sent the angels. As you are not an angel but a man like us, we do not believe that you have been sent…

Read the full tafseer →