Explained with ayahs 13–18
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب۔
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ میری تعلیم سے رو گردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کردی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے درپے رسول آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 20
" منحوس دنوں " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دن بجائے خود منحوس تھے اور عذاب اس لیے آیا کہ یہ منحوس دن قوم عاد پر آگئے تھے۔ یہ مطلب اگر ہوتا اور بجائے خود ان دنوں ہی میں کوئی نحوست ہوتی تو عذاب دور و نزدیک کی ساری ہی قوموں پر آجاتا۔ اس لیے صحیح مطلب یہ ہے کہ ان ایام میں چونکہ اس قوم پر خدا کا عذاب نازل ہوا اس بنا پر وہ دن قوم عاد کے لیے منحوس تھے۔ اس آیت سے دنوں کے سعد و نحس پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔
طوفانی ہوا کے لیے " ریح صرصر " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سخت لو ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
خلاصہ تفسیر
پھر (دلائل توحید سن کر بھی) اگر یہ لوگ (توحید سے) اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایسی آفت سے ڈراتا ہوں جیسی عاد وثمود پر (شرک و کفر کی وجہ سے) آفت آئی تھی (مراد عذاب سے ہلاک کرنا ہے) جیسا کہ قریش مکہ کے سردار غزوہ بدر میں ہلاک اور قید کئے گئے، اور یہ قصہ عاد وثمود کا اس وقت ہوا تھا) جبکہ ان کے پاس ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی پیغمبر آئے (یعنی جو پیغمبر ان کی طرف بھیجے گئے اور ان کے سمجھانے میں جان توڑ کوشش کی گئی۔ جیسے کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو کسی مصیبت و ہلاکت کی طرف جاتے دیکھے تو وہ کبھی آگے سے آ کر اسے روکتا ہے، کبھی پیچھے سے پکڑتا ہے۔ اور اس کی مثال قرآن…
Read the full tafseer →عاد کا رویہ
یہ ان کے اس رویہ کی کسی قدر وضاحت ہے جو انہوں نے اپنے رسولوں کے انذار کے مقابل میں اختیار کیا۔ پہلے زمانی تقدم کی بنا پر عاد کو لیا ہے۔ فرمایا کہ عاد کو جو قوت و شوکت اللہ تعالیٰ نے بخشی اس کو پا کر خدا کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ خدا کی زمین میں اکڑنے والے بن گئے۔ ان کے اس ’ استکبار ‘ کو ’ بغیر الحق ‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ اس کے محل میں ہم اشارہ کرچکے ہیں، یہ ہے کہ تکبر صرف اس کے لئے زیبا ہے جو اس تمام کائنات کا خالق ومالک ہے اس کے سوا اور کسی کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے۔
’ وقالوا من اشد منا قوۃ ‘۔ یہ ان کے اسی تکبر کی وضاحت ہے کہ جب اللہ کے رسول نے ان کو…
Read the full tafseer →15۔ 1 اس فقرے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ عذاب روک لینے پر قادر ہیں کیونکہ وہ دراز قد اور نہایت زور آور تھے یہ انہوں نے اس وقت کہا جب ان کے پیغمبر حضرت ہود ؑ نے ان کو انذار و تنبیہ کے لیے عذاب الہی سے ڈرایا۔
15۔ 1 یعنی کیا وہ اللہ سے بھی زیادہ زور آور ہیں، جس نے انہیں پیدا کیا اور انہیں قوت و طاقت سے نوازا۔ کیا ان کے بنانے کے بعد اس کی اپنی قوت و طاقت ختم ہوگئی ہے ؟ یہ استفہام استنکار اور توبیخ کے لیے ہے۔
15۔ 2 ان معجزات کا جو انبیاء کو ہم نے دیئے تھے یا ان دلائل کا جو پیغمبروں کے ساتھ نازل کیے تھے یا ان آیات تکوینیہ کا جو کائنات میں پھیلی اور بکھری ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
8: یہ ایک محاورہ ہے، اور مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے ہر رخ سے اپنی قوموں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
آیت نمبر 13 تا 18
یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔
فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔
اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا…
Read the full tafseer →1 شاید رسولوں نے جو عذاب کی دھمکی دی ہوگی اس کے جواب میں یہ کیا ہو کہ ہم سے زیادہ زور آور کون ہے جس سے ہم خوف کھائیں۔ کیا ہم جیسے طاقتور انسانوں پر تم اپنا رعب جما سکتے ہو ؟ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ان کے جسم بہت بڑے بڑے ہوتے تھے۔ بدن کی قوت پر غرور آیا۔ غرور کا دم بھرنا اللہ کے ہاں وبال لاتا ہے۔ "
2 یعنی دل میں ان کا حق ہونا سمجھتے تھے، مگر ضد اور عناد سے انکار کرتے چلے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 15 { فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ } ”عاد کا معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے زمین میں بہت تکبر کیا بالکل ناحق“
{ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً } ”اور انہوں نے کہا کہ کون ہے ہم سے بڑھ کر قوت میں ؟“
{ اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّۃً } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے بہت بڑھ کر ہے قوت میں !“
اگر انہیں اپنے مدمقابل کوئی اور قوم اس وقت دنیا میں نظر نہیں آرہی تھی تو کیا انہیں اللہ کی طاقت بھی نظر نہیں آرہی تھی ؟ ایک وہ طاقتور ہستی تو بہر حال موجود تھی جس نے انہیں پیدا…
Read the full tafseer →18 حق کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہی ہوا کرتا ہے۔ رسولوں کی بات مان لینے سے ان کی اپنی اپنی سرداریوں اور چودھراہٹوں پر زد پڑتی ہے۔
لہذا یہ چودھری ٹائپ لوگ سینہ تان کر رسولوں کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے حلقہ اثر کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں اور یہ قوم عاد تو تھے بھی بڑے قدوقامت والے اور بڑے زور آور گھمنڈ میں آگئے۔ اور رسولوں سے کہنے لگے کہ ہم تمہیں کیا سمجھتے ہیں ؟ اس وقت انہیں اتنا خیال نہ آیا کہ رسول تو ان سے طاقت میں کمزور ہوسکتا ہے لیکن جس ہستی نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے وہ تو ان سے کمزور نہیں۔
Read the full tafseer →15۔ یعنی خداوندی نشانات تکوینی اور آیات تشریعی دونوں کا انکار وابطال کرکے اپنے ہی ڈھرے پر قائم رہے۔ (آیت) ” بغیر الحق “۔ بندوں کیلئے استکبار تو ہمیشہ ہی ناجائز ہے۔ بغیر الحق کے اضافہ نے یہ بتا دیا کہ ان لوگوں کے پاس استکبار کی کوئی بنیاد خود ان کے معیار سے بھی نہ تھی، (آیت) ” من اشد منا قوۃ “۔ یہ نعرۂ خودی، اپنی قوت کا زعم، اپنے قانون وآئین کی بالادستی، یہ ساری خدا فراموش اور آخرت فراموش متمدن قوموں میں مشترک رہی ہے۔ یہی نعرۂ خودی آج روس کا بھی ہے، امریکہ کا بھی ہے، اور ان سے دھیمے لہجہ میں برطانیہ کا بھی، اور ابھی کل تک کس زور شور کے ساتھ جرمنی اور اٹلی اور جاپان کا تھا۔ (آیت) ” اولم ......…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
آیت نمبر 9 تا 18
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…
Read the full tafseer →فاما عاد فاستکبروا فی الارض بغیر الحق وقالوا من اشد منا قوۃ پھر وہ جو عاد کے لوگ تھے ‘
وہ دنیا میں ناحق تکبر کرنے لگے اور کہنے لگے : وہ کون ہے ‘ جو طاقت میں ہم سے بڑھ کر ہے ؟
فَاسْتَکْبَرُوْا یعنی بغیر استحقاق کے دوسرے لوگوں سے اپنے کو بڑا اور برتر سمجھنے لگے اور جب ان کو عذاب سے ڈرایا گیا تو پندار کے نشے میں کہنے لگے۔
مِنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ یعنی ہر عذاب کو ہم اپنی طاقت سے دفع کردیں گے۔ (قوم عاد کی طاقت کی یہ حالت تھی کہ) پہاڑ کے بڑے بڑے پتھر اکھاڑ کر جہاں چاہتے تھے ‘ لے جاتے تھے۔ اللہ نے ان کی تردید میں فرمایا :
اولم یوا ان اللہ الذی خلقھم ھو اشد منھم قوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(14۔ 15) جبکہ عاد وثمود سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ان کی قوم کی طرف رسول آئے اور انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کسی کی توحید کا اقرار مت کرو تو ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو یہی جواب دیا کہ اگر اللہ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجنا منظور ہوتا تو اپنے پاس سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا تو جو چیز تم لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں کیونکہ تم تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور قوم ہود ایمان لانے سے ناحق تکبر کرنے لگی اور کہنے لگی کہ جسمانی اور مالی طاقت میں کون ہم سے بڑھ کر ہے جو ہمیں ہلاک کرے گا کیا ان کو یہ نظر نہ آیا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے۔
اور…
Read the full tafseer →(1) فاما عاد فاستکبروا فی الارض …: اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ایسے لمبے قد، جسمانی قوت اور دنیوی ترقی کے اسباب عطا فرمائے تھے کہ اس کے فرمان کے مطابق اس جیسی کوئی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا :(الم ترکیف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد) (الفجر : 6 تا 8)”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کس طرح کیا۔ (وہ عاد) جو ارم (قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔ وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا کیا گیا۔“ اور فرمایا :(اتنبنون بکل ریح ایۃ تعبثون وتتخدون مصانع لعلکم تخلدون واذا بطثثم بطثثم جبارین) (الشعراء :128 تا 130)”کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو ؟ اس حال…
Read the full tafseer →فاما عاد فاسکتبرو فی الارض انہوں نے اللہ کے بندوں حضرت ہود اور مومنوں پر تکبر کیا۔ قالوا من اشد منا قوۃ جب انہیں عذاب کی دھمکی دی تو انہوں نے اپنے جسموں کی وجہ سے دھوکہ کھایا انہوں نے کہا : ہم اپنی قوت کی زیادتی کی وجہ سے اپنے آپ سے عذاب دور کرنے پر قادر ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لمبے جسموں والے اور موٹے تھے۔ سورة اعراف میں بحث گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ان میں طویل ترین سو ہاتھ اور چھوٹا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :” اولم یروا ان اللہ الذی خلقھم ھو اشد منھم قوۃ، قوۃ “ کا معنی قدرت ہے جب بندہ اللہ تعالیٰ کے قدرت دینے سے قادر ہوتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی ” صعقۃ “ ہے اس کا معنی عذاب ہے۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ (تم کو ایسی آواز سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد ثمود پر آئی تھی یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں عاد اور ثمود پر (عذاب کے) حملہ سے (آیت ) ” ریحا صرصرا “ (طوفان آندھی) یعنی ٹھنڈی ہوا۔ (آیت ) ” نحسات “ یعنی نحوستیں اور دشواریاں۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارسلنا علیہم ریحا صرصرا “ (ہم نے ان پر طوفان آندھی بھیجی) سے مراد ہے سخت منحوس۔
4:۔ ابن المنذر…
Read the full tafseer →فَاَمَّا عَادٌ [ پس وہ جو عاد تھے ] فَاسْـتَكْبَرُوْا [ تو وہ بڑے بنے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] مَنْ اَشَدُّ مِنَّا [ کون زیادہ سخت ہے ہم سے ] قُوَّةً ۭ [بلحاظ قوت کے ] اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انہوں نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ [ کہ وہ اللہ جس نے ] خَلَقَهُمْ [ پیدا کیا ان کو ] هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ [ وہ زیادہ سخت ہے ان سے ] قُوَّةً ۭ [ بلحاظ قوت کے ] وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْــحَدُوْنَ [ اور وہ ہماری نشانیوں کا جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ]
نوٹ۔ 1: یہاں اسلوب بیان سے واضح ہے کہ عاد اور ثمود کا ذکر محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا) (سو ہم نے ان پر تیز ہوا بھیج دی) (فِیْ اَیَّامٍ نَحِسَاتٍ ) (منحوس دنوں میں) (لِنُذِیقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) (تاکہ انہیں دنیا والی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں) اور اسی عذاب پر بس نہیں ان کے لیے آخرت میں بھی عذاب ہے اور وہ اس دنیا والے عذاب سے بڑھ کر زیادہ ذلت اور رسوائی والا ہوگا (وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ ) اور وہاں ان کی مدد نہ کی جائے گی یہ جو مال و دولت اور افرادو اولاد پر گھمنڈ ہے سب دھرا رہ جائے گا سورة الحاقہ میں فرمایا ہے (سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُومًا فَتَرَی الْقَوْمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…
Read the full tafseer →16:۔ ” فاما عاد “۔ قوم عاد کو اپنی قوت و شوکت پر ناز تھا اس لیے کبر اور غرور پر اتر آئے اور کہنے لگے کون ہے جو قوت میں ہم سے فائق اور برتر ہے ؟ ” اولم یرو ان اللہ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ فرمایا ان نادانوں نے یہ نہیں سوچا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا اور قوت عطا کی وہ ان سے بھی زیادہ قوی اور طاقت ور ہے لیکن انہیں یہ سمجھنے کی توفیق نہ ملی اور وہ ہماری آیتوں کا مسلسل انکار ہی کرتے رہے بلکہ غرور و استکبار کی وجہ سے ان کو سننا بھی گوارہ نہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور اپنی نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ اس کا توازن برقرار رہے۔ زمین میں انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے اور اس کو با برکت بنادیا ۔ پھر اللہ نے سات آسمانوں کو جداجدا کردیا ۔ ہر آسمان کو اس کی مخلوق کے مناسب حال حکم جاری فرمایا ۔ آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اسے شیاطین اور جنات کی رسائی سے محفوظ کردیا ۔ یہ سب انعامات الٰہیہ ہیں اور توحید کے عقلی دلائل بھی ہیں ۔ اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت آسانی سے…
Read the full tafseer →فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً 0 ۭ اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللہَ الَّذِيْ خَلَقَہُمْ ہُوَاَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّۃً 0 ۭ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْــحَدُوْنَ 15
الاسْتِكْبارُ
والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة .
والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين :
أحدهما :
أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ا ؎ یعنی کثرت سے رسول آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَامَّا عَادٌ فَاسْتَـکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ط اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَہُمْ ھُوَاَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ط وَکَانُوْا بِاٰیٰـتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 15)
(پس جہاں تک عاد کا تعلق ہے انھوں نے زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زورآور ہے، وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے ہیں۔ )
قومِ عاد اور اس کے رویئے پر تنقید
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں قریش کو یہ تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر انھوں نے حق سے اعراض کی روش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کا کفر اور اس کا انجام۔
حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ ہیں۔
قوم عاد کے لوگ جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انہوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب…
Read the full tafseer →عاد کا قوت پر گھمنڈ : فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (پھر وہ جو عاد کے لوگ تھے وہ دنیا میں ناحق تکبر کرنے لگے) انہوں نے ایسی چیزوں سے انی بڑائی دوسروں پر جتلائی جس کے وہ حقدار نہ تھے۔ اور طاقت اور جسامت اور حکومت پر بلا استحقاق زبردستی قابض ہوگئے۔ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً (اور کہا وہ کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہے) ان کے اجسام بڑے بڑے اور ڈیل ڈول بڑے تھے۔ ان کی قوت یہاں تک پہنچی تھی کہ آدمی پہاڑ سے چٹان اکھاڑ لیتا۔ اَوَلَمْ يَرَوْا (کیا ان کو یہ نظر نہ آیا) کیا ان کو اس طرح کا علم نہ ہوا جو آنکھوں دیکھے کی طرح ہو۔ اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ…
Read the full tafseer →14، اذجاء تھم، یعنی عادوثمود کے پاس، الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم، اللہ تعالیٰ کے قول، من بین ایدیھم، سے وہ رسول مراد ہیں جوان کے آباء و اجداد کی طرف اس سے پہلے بھیجے گئے تھے۔ ، من خلفھم، یعنی جو رسول ان کے آباء و اجداد کی طرف بھیجے گئے تھے ان کے بعد وہ رسول جو خودان کی طرف بھیجے گئے جیسے ہودوصالح علیہما السلام۔ پس ضمیر، من بین ایدیھم، میں عاد وثمود کی طرف لوٹ رہی ہے اور، ومن خلفھم، میں، الرسل، کی طرف۔ ، ان لا، اس بات کے ساتھ نہ ، تعبدوا الا اللہ قالوالوشاء ربنا لانزل، ان رسولوں کے بدلے۔ ، ملائکۃ، یعنی اگر ہمارا رب مخلوق کو دعوت دین دینا چاہتا تو فرشتے اتارتا۔ ، فانا بماارسلتم بہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
آیت 13
یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جا چکی ہے (فقل انذرتکم صعقۃ) تو کہہ دیجئے : میں تمہیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں “ جو کہ عذاب ہے وہ تمہاری جڑ کاٹ کر رکھ دے (مثل صعقۃ عاد وثمود) ” جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی “۔ عاد اور ثمودیہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا تھا اور انہیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔
(اذ جاء تھم الرسل مم بین ایدیھم و مم خلفھم) ” جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے “۔ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول…
Read the full tafseer →26 استکبار باعث محرومی و ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قوم ثمود نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اللہ کی زمین میں ناحق طور پر "۔ پس اپنی بڑائی کا گھمنڈ انسان کو لے ڈوبتا اور اس کو حق سے محروم کردیتا ہے۔ اس لئے دین اسلام میں اس کی بہت مذمت اور ممانعت کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا ۔ " لَا یَدْخُل الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مثقالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْر " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے جو قوت و شوکت بخشی تھی اس کو پاکر خداوند قدوس کا شکرگزار بننے کی بجائے الٹا وہ لوگ کبر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
آیات 9 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 5 کئی دنوں سے مراد مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ہیں۔ ( دیکھئے سورة الحاقہ آیت 6، 7) دنوں کے منحوس ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے کے حق میں منحوس رہے نہ یہ کہ وہ بجائے خود منحوت تھے۔
Read the full tafseer →(41:15) فاما : اما حرف شرط ہے اور اس کے حرف شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے۔ جیسا کہ آیت ہذا میں آیا ہے :۔ فاما عاد فاستکبروا۔ یہ اکثر تفصیل کے لئے آتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور کبھی تاکید کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے
جہاں تک عاد کی بات ہے سو۔ رہا عاد کا ذکر سو ۔۔
جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ اما السفینۃ فکانت لمسکین (18:79) ۔ رہی کشتی کی بات سو وہ غریب لوگوں کی تھی
کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے مثلا اما بعد فانہ کذا۔
فاستکبروا :جواب شرط کے لئے ہے۔ استکبروا ماضی جمع مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر۔ انہوں نے تکبر کیا۔ گھمنڈ کیا۔ غرور کیا۔
بغیر الحق : ناحق ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
کافروں کی نافرمانی۔
(ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام
بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔
[8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 1: ان شواہد و دلائل کے بعد ارشاد فرمایا ۔ کہ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ چاہتے ہیں ۔ کہ دنیا میں عزت وآبرو کے ساتھ زندہ رہیں ۔ تو پھر بجز اس کے اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہوسکتا ۔ کہ اسلام کے لوائے رحمت تلے جمع ہوجائیں ۔ ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے ۔ جو عاد اور ثمود کی قوموں کا ہوا ۔ قوم عاد کے پاس جب اللہ کے پیغمبر آئے ۔ اور انہوں نے کہا کہ ایک اللہ کے سامنے جھکو اور قلب و دماغ سے لے کر اعضاء جوارح تک سب کو اللہ کی اطاعت میں لگادو ۔ تو انہوں نے ازراہ کبر و غرور انکار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہم انسان کی فرمانبرداری کے لئے تیار نہیں ہیں اگر اللہ کو منظور ہوتا ۔ کہ وہ ہمیں ہدایت دے ۔ تو پھر…
Read the full tafseer →(15) پس وہ جو عاد تھے وہ دنیا میں ناحق تکبر اور غرور کرنے لگے اور جب ان کو ڈرایا گیا تو کہنے لگے وہ کون ہے جو قوت میں ہم سے زیادہ ہے کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ تعالیٰ نے ان کو بنایا اور پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے غرض ! وہ ہماری نشانیوں کا انکار ہی کرتے رہے۔
یہ عاد وثمود کے بعض حالات کی تفصیل ہے کہ عاد کے لوگ بڑے قدآور اور بڑے مضبوط تھے انہوں نے تکبر اور غرور اختیار کررکھا تھا اپنی طاقت اور زور کے آگے کسی کو سنتے ہی نہ تھے جب ان کو اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرایا گیا تو انجان بن کر پوچھنے لگے وہ ہے کون جو ہم سے قوت اور زور میں زیادہ ہے تو ہم کو عذاب دے گا۔
حضرت حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ف 1۔ یہاں تک عذاب دنیوی کا ذکر تھا اور آگے عذاب آخرت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →عاد قوم کے لوگوں نے تکبر کیا اور اپنی قوت کا ناجائز مظاہرہ کیا
15 ؎ گزشتہ آیتوں میں قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر تھا اگرچہ مراد ساری ہی اقوام سے تھی پھر زیر نظر آیت میں عاد قوم کا مخصوص ذکر کیا جارہا ہے کہ عاد قوم نے زمین میں بغیر حق تکبر کرنا شروع کیا اور ان کے اس تکبر کا ذکر عزوۃ الوثقی جلد ششم کی سورة الشعراء میں تفصیل سے کیا جاچکا ہے جس کا اختصار یہ ہے کہ ایک تو قوم عاد متکبرانہ انداز میں عمارتیں بنایا کرتے تھے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے بہت بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے تھے جو بلندی میں فلک بوس ہوتی تھیں حالانکہ ان کو ان عمارات کی کوئی ضرورت نہ ہوتی تھی صرف نام آوری کے لیے انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
Commentary
The basic purpose of these verses is to warn the people of Makkah that if, even after seeing the manifest proofs of the Oneness of Allah, they do not accept the call of the Holy Prophet ﷺ ، they may face a punishment like the earlier people of ` Ad and Thamud had faced. In this context, a brief account of what happened to these people has been given. The people of Makkah are also reminded that their punishment on the Day of Judgment will be much more severe, and they will not be able to escape it, because even the organs of their body will testify against them. And in this context,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
20 "III-omened days" does not mean that the days in themselves were illomened, and the torrent came because the people of 'Ad met with those illomened days. If this were the meaning and there were some ill omen in the days themselves, the torment would have visited all the nations of the world. The cornet meaning, therefore, is that since in those days God's torment descended on this nation, the days were ill-omened for the people of 'Ad. It is not cornet to argue on the basis of the verse that some days are iII-omened and some auspicious. The lexicographers have disputed the meaning of the…
Read the full tafseer →