41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsسراج البیان

Ayahs 41:1–4

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

بڑے مہربان نہایت رحم والے کی طرف سے اتارا ہوا ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

یہ کتاب ہے جس کی آیتیں وضاحت سے بیان کی گئی ہیں قرآن عربی ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

خوشی اور ڈر سناتا ہے ۔ پھر ان میں سے بہتوں نے منہ موڑ لیا ۔ سو وہ نہیں سنتے

سورة حم 2: اس صورت میں دوسری مکی سورتوں کی طرح اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ۔ کہ قرآن کی حیثیت شرعی کیا ہے اور مشرکین مکہ کو اس کے ماننے میں کیوں تامل ہے اور حشرونشر پر فطرت کی طرف اسے کیا کیا دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ رسالت کیا ہے اور نبوت سے کہتے ہیں ۔ اور گذشتہ تو میں کیوں ہلاک ہوئیں ۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہا کہ جس چیز کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اس سے ہمارے دل پردوں (ف 1) میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان پردہ ہے سو تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کرتے ہیں

ہمارے دلوں پر دے پڑے ہیں 1: مکہ والے جب قرآن حکیم کو سنتے تھے ۔ تو صاف طور پر اعلان کرتے تھے ۔ کہ ہمارے دلوں پر حسد اور تعصب کے پردے پڑے ہوئے ہیں جو حق وصداقت کی روشنی کو نہیں پہنچنے دیتے ۔ ہماری سماعت میں ثقل ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم معذور ہیں ۔ کہ دلائل آیات کو نہ سنیں ۔ تمہارے اور ہمارے درمیان اختلافات عقائد کا انتا بڑا برزخ حائل ہے ۔ کہ متفق الرائے ہونا عملاً دشوار اور لامحال ہے ۔ اس لئے اب یہی بہتر ہے کہ تم اپنا کام کئے جاؤ۔ اور ہمیں اجازت دو ۔ کہ ہم اپنے مشاغل میں مصروف رہیں ۔ گویا ان کے نزدیک حضور کی کامیابی کے لئے کوئی امکان ہی موجودنہ تھا ۔ اور امکان کا کیونکر خیال ہوسکتا ہے ۔ جب کہ لوگ بات سننے کے لئے بھی تیار نہ ہوں ۔ جب مکان کے روشن دان بند کرلئے جائیں ۔ تو پھر دھوپ کیسے اندر پہنچ سکتی ہے ؟ جب کانوں اور دلوں پر جہالت وحماقت کے پہرے بٹھلا دیئے جائیں ۔ تو اس کے بعد پذیرائی کی توقع واقع مشکل ہے ۔ مگر یہ قرآن کا معجزہ ہے ۔ کہ باوجود اس تعصب و تاریکی انکات وتمرد کے ان کانوں میں داخل ہوا ۔ اور دل تک اتر گیا ۔ انہیں لوگوں نے قرآن کو سنا اور مجبور ہکر سنا ۔ حتیٰ کے یہی لوگ قرآن کے مبلغ بن گئے کیونکہ قرآن نے جو تعلیم پیش کی ۔ وہ حالات کے عین مطابق تھی ۔ وہ وقت کی کی آواز تھی ۔ اور ایک فطری ضرورت کی تکمیل تھی ۔ ان لوگوں کے لئے کوئی چارہ کار ہی نہ تھا ۔ بجز اس کے قرآن کے نوائے رحمت تلے جمع ہوجائیں ۔ اور اس کی صداقتوں پر ایمان لے آئیں ۔
Ayahs 41:6–9

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

تو کہہ میں بھی تمہاری ہی مانند بشر (ف 2) ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے سو اسی کی طرف سیدھے رہو اور اس سے معافی مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے ، اور آخرت کے منکر ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

اور بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کو بےانتہا ثواب ملے گا

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

تو کہہ کیا تم منکر ہو ۔ جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے لئے اوروں کو برابر ٹھہراتے ہو ! حالانکہ وہ سارے جہان کا رب ہے

میں ایک انسان ہوں 2: فرمایا جہاں تک میری جسمانی ساخت اور طبیعت کا تعلق ہے محض ایک انسان ہوں ۔ اور کسی بات میں تھی تم سے ممتاز نہیں ۔ میرے بھی دوہاتھ اور دو پاؤں ہیں ۔ دو آنکھیں اور دو ہونٹ ہیں ۔ میں بھی ایک دماغ اور ایک دل رکھتا ہوں اور بھی زندگی کی ضروریات ہوتی ہیں مگر ایک بات میں مختلف ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھے رسالت کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا ہے ۔ اور مجھ کو ایک بہت بڑی ذمہ داری کا حامل بنا کر بھیجا گیا ہے میں پیغمبر ہوں رسول ہوں ۔ اور اللہ کی طرف سے ایک پیغام مسرت لے کر آیا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا ایک ہے ۔ معبود ایک ہے ۔ اسی کی طرف اپنی توجہات فکروعقیدت کو پھیر لو ۔ صرف اسے اپنی نیاز مندیوں کے لئے منتخب کرلو ۔ اور اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش طالب کرو ۔ یاد رکھو ۔ وہ مشرکین جو اسلامی نظام عمل نہیں مانتے ہیں ۔ نہ نماز پڑھتے ہیں اور نہ زکوٰۃ دیتے ہیں ۔ اور آخرت پر بھی اعتقاد نہیں رکھتے ان کے لئے جہنم کا عذاب اور بڑی خرابی ہے ۔ حل لغات صفحہ :۔ جاشنا ۔ ہمارا عذاب فصلت ۔ تفصیل سے ہے جس کے معنے جدا جدا کرکے بیان کرنے کے ہیں ۔ اور شرح وبسط کے ساتھ بیان کرنے کے بھی ہیں او یہ بھی کہ ان آیتوں میں تو اصل کی بلیغ اور موسیقی خیز رعایت رکھی گئی ہے ۔ جو صوتی مناسبت کے لئے نہایت ضروری تھے ۔ اور ان تو اصل کا یہ فائدہ بھی ہے ۔ کہ گویا پوری آیت کا مضمون ان میں سما جاتا ہے کنۃ ۔ کن سے ہے ۔ جس کے معنے پوشیدہ اور مستتر شئے کے ہوتے ہیں ۔ جیسے او اکننتم فی انفسکم یہ کنان کی جمع ہے ۔ یعنی پردہ ۔ غیر ممنون ۔ غیر منقطع ، دائمی ، اور ابدی جو موقولہ نہ ہو ۔
Ayahs 41:10–13

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ قائم کئے اور اس کے اندر برکت رکھی اور اس میں اس کی خوراکیں چاروں میں ٹھہرائیں (ف 1) پوچھنے والوں کے لئے پورا (جواب ہوا)

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں ہورہا تھا ۔ پھر اس سے اور زمین سے کہا کہ تم دونوں خوش یا ناخوش ہوکر چلے آؤ۔ دونوں بولے ۔ کہ ہم خوشی سے آئے

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر ان (آسمانوں) کو دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کا حکم نازل کیا اور آسمان کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور یہ محانظت کے لئے کیا ۔ یہ تقدیر غالب خبردار کی ہے

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر وہ (اہل مکہ) منہ موڑیں تو کہہ میں تمہیں ایک کڑک سے ڈراتا ہوں جیسے عاد ثمود کی کڑک تھی

سلسلہ تکوین 1: تکوین کائنات کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ زمین کو دو مدید وقفوں میں پیدا کیا ہے ۔ اور پھر اس میں پہاڑوں کو استوار کیا ہے ۔ اور ضروری برکات پھیلائی ہیں ۔ اور غذاؤں کا سامان مہیا کیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ چار وقفوں میں قرار پایا ۔ پھر آسمان کی جانب توجہ مبذول کی ۔ اور ان کو کئی بلندیوں میں تقسیم فرمایا ۔ اور یہ بھی دو قرنوں میں ہوا مگر یہ دو قرن پہلے دو قرنوں میں داخل ہوا ۔ اس کے بعد سطح دنیا کو بوقلمون چراغوں سے آراستہ فرمایا ۔ اور ان میں حفاظت کے لئے پورا پورا انتظام کردیا ۔ کہ شیطانی قوتیں ملا واعلیٰ کے اسرار نہ معلوم کرلیں ۔ فرمایا کہ ساری کائنات میں دیکھو تمہیں معلوم ہوگا ۔ کہ ایک علم ہے ۔ جو اس کے پس پردہ کار فرما ہے ۔ اور زبردست قوت و غلبہ ہے ۔ جس کی حکومت واقتدار ہے پھر ان حالات میں بھی تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لئے تیار ہو یا نہیں ؟ ۔ یاد رہے ۔ کہ کائنات کیونکر منصہ شہود پر آئی ہے ۔ یہ ایک مختف فیہ مسئلہ ہے ۔ ارباب عقل نے مختلف نظرئیے پیش کئے ہیں ۔ جن میں کوئی قطعی نہیں ۔ کیونکہ اس ضمن میں جتنی بحثیں ہوں گی ۔ وہ محض قیاس پر مبنی ہونگی ۔ اس میں منطق اور تجربہ کو بالکل دخل نہیں ۔ اور کوئی ایسی سعی شہادت موجود نہیں ہے ۔ جس کی بنا پر یقین کے ساتھ کچھ کہا جاسکے ۔ اس لئے اس باب میں کوئی ضرورت نہیں ۔ کہ قرآن اس قسم کی معلومات کا ساتھ دے ۔ البتہ جب یہ معلومات قرآن کے مطابق ہوجائیں گی ۔ اس وقت ہم سمجھیں گے ۔ کہ نظر اور استدلال میں کوئی تقاوت پیدا نہیں ہوا ۔ اور حضرت انسان نے پیدائش اور تخلیق کا صحیح صحیح سرا غ لگالیا ۔ حل لغات :۔ یومین ۔ یہاں مراد بارہ گھنٹے کا دن نہیں ہے ۔ بلکہ دو مدید وقفے ہیں جن میں زمین کو پیدا کیا گیا ۔ جیسا کہ قرآن کے دیگر استعمالات سے پتہ چلتا ہے ۔ اس طرح اربعۃ ایام سے مقصود چار قرن ہیں ۔ لسالعین ۔ مکہ والے یہود اور نصاریٰ سے پوچھ کر اس قسم کے سوالات کرتے تھے ۔ تاکہ بجز نبوت کی گہرائی کا اندازہ کریں ۔ اس لئے ان کی تسکین خاطر کے لئے مسئلہ تحقیق پر روشنی ڈالی گئی ۔ استویٰ ۔ قرار پذیر ہوا ۔ توجہ فرماہوا ۔ تفصیل کئی مقامات پر گزرچکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے ۔ کہ مراد ایک نوع کی توجہ خاص سے ہے ۔ دخان ۔ یعنی ابتدا میں صرف ایک دھواں سا تھا موجودہ تحقیقات کا نظریہ بھی یہی ہے اور سائنس کی اصطلاع میں اس کیفیت کو نیکوں کے ہیں ۔
Ayahs 41:14–16

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے رسول آئے ۔ کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو تو بولے کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیج دیتا ۔ سو جو چیز تم دے کر بھیجے گئے ہو ۔ ہم اس کو نہیں مانتے (ف 1)

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

سو جو عاد تھے انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور بولے کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ قوت میں زیادہ ہے اور وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

سو ہم نے (ان کے) منحوس دنوں میں زور کی آندھی بھیجی تاکہ دنیا کی زندگی میں ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو بڑی ہی رسوائی کا ہے اور انہیں مدد نہ ملے گی

ف 1: ان شواہد و دلائل کے بعد ارشاد فرمایا ۔ کہ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ چاہتے ہیں ۔ کہ دنیا میں عزت وآبرو کے ساتھ زندہ رہیں ۔ تو پھر بجز اس کے اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہوسکتا ۔ کہ اسلام کے لوائے رحمت تلے جمع ہوجائیں ۔ ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے ۔ جو عاد اور ثمود کی قوموں کا ہوا ۔ قوم عاد کے پاس جب اللہ کے پیغمبر آئے ۔ اور انہوں نے کہا کہ ایک اللہ کے سامنے جھکو اور قلب و دماغ سے لے کر اعضاء جوارح تک سب کو اللہ کی اطاعت میں لگادو ۔ تو انہوں نے ازراہ کبر و غرور انکار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہم انسان کی فرمانبرداری کے لئے تیار نہیں ہیں اگر اللہ کو منظور ہوتا ۔ کہ وہ ہمیں ہدایت دے ۔ تو پھر وہ فرشتوں کو بھیجتا ۔ یہ پیغمبر جو جسمانی ساخت میں ہم جیسا ہے ۔ اور جس کے پاس کچھ مادی قوت اور اقتدار بھی نہیں ہے ۔ کیونکر نبوت کا مستحق قرار پاسکتا ہے ۔ دراصل یہ لوگ کوتاہ نظر تھے ۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا ۔ کہ ان کو معبوث کرنے والا ان سے زیادہ مصالح کو جانتا ہے ۔ اور اس کو خوب معلوم ہے ۔ کہ کس میں اس منصب جلیل کی اہلیت ہے فرمایا اگر ان کو اپنی طاقت کا گھمنڈ ہے ۔ تو وہ دیکھیں ۔ کہ ان کا خالق ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے ۔ وہ ان کی ساری شان و شوکت کو خاک میں ملادیگا ۔ چناچہ اللہ کا عذاب آیا ۔ اور یہ اپنے غرور وکبر کی وجہ سے تیز وتند ہوا کے طوفان سے ہلاک ہوگئے ۔ حل لغات :۔ بمصابیح ۔ مصباح کی جمع ہے ۔ بمعنے چراغ صاعقۃ ۔ آفت ۔ بدحواس کردینے والی مصیبت للمرۃ من الحمق
Ayahs 41:17–21

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور وہ ثمود تھے انہیں ہم نے ہدایت کی سو انہوں نے ہدایت پر اندھا رہنا پسند کیا ۔ پھر انہیں ان کی بداعمالیوں کے سبب جو وہ کرتے (ف 1) تھے ذلت کے عذاب کی کڑکوں نے آپکڑا

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے تھے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اٹھائے جائین گے پھر ان کی مثلیں ہٹیں گی

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے نزدیک آئیں گے ۔ تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان پر گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے کہ تم نے ہم پر کیوں گواہی دی ! وہ چمڑے کہیں گے ۔ کہ ہمیں اللہ نے گویا کیا ۔ جس نے ہر شئے کو گویائی دی اور اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ۔ اور اسی طرف تم لوٹ کرجاؤ گے

ف 1: قوم ثمود کے پاس اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے پیغمبر بھیجا ۔ مگر انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ۔ ان کی راہنمائی کی گئی ۔ مگر انہوں نے جاہل رہنے کو ترجیح دی ۔ ان کو روشنی کی طرف بلایا گیا ۔ مگر انہوں نے اس سے محروم رہنا بہتر سمجھا ۔ اس لئے اللہ کا عذاب آیا ۔ اور وہ مٹا دیئے گئے ۔ بجز ان لوگوں کے جو مومن تھے ۔ اور جنہوں نے ازراہ احتیاط وتقویٰ رسول کی باتوں کو توجہ اور التفات سے سنا ۔ اور عقیدت مندی کے ساتھ قبول کیا ۔ اور یہ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ وہ صرف ان قوموں کو نعمت لقا و بخشتا ہے ۔ جو اس کے نواسیس کو مانتی ہیں ۔ اور اس کے حکموں کی پیروی کرتی ہیں ۔ وہ قوم جو سرکشی اختیار کرتی ہے اور اس کے مقررہ معین قوانین کو ماننے سے انکار کردیتی ہے ۔ وہ کبھی نہیں پنپتی ۔ اور ذلت ورسوائی کے ساتھ معدوم ہوجاتی ہے ۔ جس طرح کہ ایک شخص اس وقت تک اپنی صحت وتنومندی کو قائم نہیں رکھ سکتا ۔ جب تک فطرت کے اصول کے مطابق نہ چلے ۔ اور ان قواعد کی پابندی نہ کرے جو اس ضمن میں ضروری ہیں ۔ اس طرح ان قوموں کی بقاء ان کی قوت و توانائی صرف اسی وقت تک قائم رہتی ہے جب تک کہ وہ شریعت کی پیرو رہتی ہیں اور اطاعت وفرمانبرداری کو اپنا فرض منصبی گردانتی ہیں ۔ حل لغات :۔ صرصرا ۔ وہ ہوا جو تیز اور تندہو ۔ اور پھر شدید طور پر ٹھنڈی بھی ہو نحسات ۔ منحوس یا سردی کے دن اخزی ۔ زیادہ رسوا کن اغداء اللہ ۔ عدد کی جمع ہے ۔
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم چھپ نہیں سکتے تھے اس بات سے کہ گواہی دیں گے اوپر تمہارے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے (ف 1) لیکن تم نے گمان کیا کہ اللہ نہیں جانتا بہت اس چیز سے جو تم کرتے ہو

اعضاء بولیں گے 1: یہ لوگ اس لحاظ سے اللہ کے دشمن ہیں ۔ کہ اس کے پیش کردہ نصب العین سے عداوت رکھتے ہیں ۔ اس لئے نہیں ۔ کہ ان کی دشمنی اس کی جلالت قدر کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ یا ان کو اللہ کے مدمقابل ہونے کی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ دشمن دین جب کشاں کشاں اس کے حضور میں لائے جائیں گے ۔ تو خلاف توقع ان کے کان ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیں گی ۔ اور بولیں گی ۔ یہ لوگ حیرت وندامت سے کہیں گے کہ تم میں گویائی کی صلاحیت کیونکر پیدا ہوگئی ؟ یہ جواب میں کہیں گی کہ جس اللہ نے ہر بولنے والی چیز کو نطق کی نعمت سے نوازا ہے ۔ اسی نے ہمیں بھی یہ صلاحیت بخش دی ہے ۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا تھا ۔ اور آج اسی کے حضور میں لائے گئے ہو ۔ یہ جواب جو اعضاء وجوارح کی طرف سے دیا گیا ہے ۔ کس درجہ معقول ہے ۔ کتنا درست ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سارے اعتراضات کو ایک جملہ میں رفع کردیا ہے ۔ کیونکہ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ منہ میں گوشت کا ایک ٹکڑا بول سکتا ہے ۔ تو پھر کان کیوں گویا نہیں ہوسکتے ۔ اور آنکھیں گفتگو نہیں کرسکتیں ۔ جہاں تک اللہ کی حکمتوں اور قدرتوں کا تعلق ہے ۔ ان کو مان لینے کے بعد اس نوع کے مشکوک کا قطعی ازالہ ہوجاتا ہے ۔ وہ چاہے تو آہن اور فولاد کے جگر میں احساس کی استعداد رکھ دے ۔ پتھروں کو شنوا کردے ۔ اور پہاڑوں کو رواں دواں بنائے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ اور ان کی قدرتوں کا دائرہ اتنا وسیع اور لامحدود ہے ۔ کہ ہم اس کے احاطہ سے عاجز ہیں ۔ ہمارا یہ منصب نہیں ۔ کہ ہم کہیں یہ مشکل ہے ۔ اور یہ محال ہے بلکہ ہمارا فرض یہ ہے ۔ کہ اس کے سامنے سر نیاز جھکادیں ۔ اور کہہ دیں کہ اے اللہ تو ان بیشمار چیزوں پر قدرت رکھتا ہے ۔ جن کے متعلق ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں ۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے رب کی نسبت کیا تمہیں ہلاک کیا ہے سو تم زیاں نکاڑ میں (ف 2) ہوگئے

خدا کا علم وسیع ہے 2: منکرین یہ سمجھے ہوئے تھے ۔ کہ ہماری سیاہ کاریوں کا علم خدا کو کس طرح ہوسکے گا ۔ اور یہ کیسے ممکن ہے ۔ کہ وہ ان اعمال کو دیکھ سکے جو ہم چھٹ کر کرتے ہیں ۔ اور جس طرح کی اطلاع چشم فلک کو بھی نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ کہ ہماری تمام سیسہ کاریوں کو کوئی ذات اپنی قدرت سے معلوم کرلے مگر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ ہوگی ۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اس کی اطلاعات کس درجہ وسیع ہیں ۔ اور وہ خدا نہ صرف یہ کہ ان کی کرتوتوں کو جانتا ہے ۔ بلکہ یہ قدرت بھی رکھتا ہے ۔ کہ ان کے اپنے بدن کے حصے گواہی دینے لگیں ۔ کان ۔ آنکھیں اور کھالیں زبان احتیاج بن جائیں ۔ اور ان کی بدعملیوں کو واشگاف طور پر بیان کردیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان کا اللہ کے باب میں یہ سوظن کہ وہ ہمارے اعمال سے آگاہ نہیں ہے ۔ یہی وہ بات تھی جس نے انہیں ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا ۔ اور جس کی وجہ سے یہ گناہوں کو دلیرانہ مرض عمل میں نہ لاتے تھے ۔ آج ان کا جہنم ٹھکانہ ہے ۔ جسے صبر کے ساتھ برداشت کریں ۔ اور چاہے بےقراری اور بےچینی کا اظہار کریں ۔ نہ شکایت سنی جائے گی اور نہ تکلیف رفع کی جائیگی ۔
Ayahs 41:24–25

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

پھر اگر وہ صبر کریں تو آگ (ف 1) ان کا ٹھکانا ہے اور جو تو دیا غدر خواہی کریں تو ان کی توبہ قبول نہ ہوگی

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے ہمنشین (شیاطین) مقرر کئے ہیں ۔ سو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کی نظر میں اچھے کر دکھلائے ہیں ۔ اور ان پر عذاب کی بات قائم ہوگئی ۔ یہ بھی انہیں امتوں میں شامل ہوئے جو جنات اور آدمیوں میں سے ان سے پہلے ہو گزری ہیں بیشک وہ زیانکار تھے

برے دوست 1: یہ ایک انداز بیان ہے ان کے لئے برے ہمنشین مقرر کر رکھے تھے ۔ اور نہ مقصد یہ ہے کہ کہ ان کچھ ایسے یاران صحبت تھے ۔ جو اپنی گناہوں میں حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ اور ان کے اعمال بد کو سنوار سنوار کر پیش کرتے تھے ۔ جس سے ان کے دل میں احساس تک نہیں پیدا ہوتا تھا ۔ ورنہ خدا نہیں چاہتا کہ اس کے بندے گمراہ ہوں ۔ وہ ایک قلم رحمت ہے رمودت ہے اور راحت و شفقت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتا ۔ کہ انسان کو عقل سے بہرہ مند کردے اور پھر دوسرے ذرائع تربیت سے ہاتھ اٹھائے بلکہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ۔ توفیق ہدایت سے مشرف کرتا ہے ۔ معجزات و دلائل پیش کرتا ہے ۔ تاکہ اس کا بندہ محروم نہ رہ جائے ۔ ایسے شفیق اور رحیم خدا کے متعلق یہ خیال کرنا بھی کس قدر گناہ ہے ۔ کہ وہ بندہ ٹکا جلا نہیں چاہتا ۔ اس نوع کے اسلوب بیان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی مرحلہ میں بھی خدا کو نہ بھولے اور کسی منزل میں بھی اس کو فراموش نہ کرے ۔ اسی لئے اس طرح کی اشیاء کو بھی جو محض بالواسطہ ای کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ وہ اپنی جانب منسوب کرلیتا ہے ۔
Ayahs 41:26–28

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا کہ یہ قرآن (ف 2) نہ سنو اور پڑھنے کے وقت اس میں بک بک کرو (شور مچاؤ) شاید تم غالب آؤ

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم کافروں ونمرود سخت عذاب چکھائیں گے اور ان کے بدترین اعمال کا جو وہ کرتے تھے ضرور بدلہ دیں گے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ اللہ کے دشمنوں کی سزا ہے ۔ آگ ہے ۔ اس میں ان کا ہمیشہ کے لئے گھر ہے یہ اس کا بدلہ ہے کہ وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

ف 2: یعنی کفار مکہ کی ذہنیت یہ تھی ۔ کہ ان کی صلاح کے لئے قرآن پڑھ کر ان کو سنایا جاتا ۔ اور وہ ازراہ بدبختی اور محرومی نہ صرف اس کی مخالفت کرتے ۔ بلکہ دوسروں کو بھی آمادہ کرتے ۔ کہ شوروشغب ڈال کر مجمعوں کو منتشر کردیں اور ایسی فضا پیدا کردیں کہ حضور ﷺ کے ارشادات سے کوئی استفادہ نہ کرسکے ۔ مگر ان کی شطنت اور ارادوں کے خلاف قرآن کی تعلیم پھیلتی چلی گئی ۔ اور اس کی فتوحات دن دوگنی رات چوگنی ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کلام الٰہی ہرچند سنانا نہ چاہا مگر قرآن نے مجبور کردیا کہ وہ سنیں اور اس کے مبلغ نہیں ۔ حل لغات :۔ من المعتبین ۔ عتاب سے ہے ہمزہ سلب کے لئے ہے قیضنا ۔ تعینات کیا ۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں جن اور آدمیوں میں سے وہ فریق دکھلا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا کہ ہم ان دونوں کو اپنے پیروں کے نیچے گرائیں کہ وہ سب سے نیچے (ف 1) رہیں

ہم کو گمراہ کرنے والے کہا ہیں 1: منکرین جب جہنم میں جائیں گے ۔ اس وقت ان کی یہ خواہش ہوگی کہ کسی طرح ہم اس برے ساتھیوں کو اور دوستوں کو دیکھ لیں ۔ جو ہماری گمراہی کا باعث بنے ہیں ۔ تاکہ یہاں ان کو ان کی ہر خود غلط راہنمائی کی سزا دیں ۔ ان کو پاؤں تلے روندیں اور سخت ترین عقوبت میں مبتلا کریں ۔ چناچہ وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرینگے کہ پروردگار ایسا تو کردے کہ ان مہربانیوں کو دیکھ لیں اور ان سے پوچھیں ۔ کہ وہ تمہاری فخروغرور کی باتیں کیا ہوئیں ۔ آج یہ کیا ہوا ۔ کہ ہم اور تم دونوں اللہ کے غضب اور غصے کے مورد اور مستحق قرار پا رہے ہیں ۔ تمہارا دعویٰ تو یہ تھا کہ تم روحانیت کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہو اور انجات تمہارے اشارہ چشم وابر پر موقوف ہے ۔ جن کو تم چاہو گے جنت میں لے جاؤگے ۔ اور جن کو نہ چاہو گے ۔ وہ محروم رہیں گے مگر آج یہ کیا حالت ہے ۔ کہ تم خود ذلت اور رسوائی سے دوچار ہو ۔ اور جہنم میں پڑے سزا بھگت رہے ہو ۔
Ayahs 41:30–35

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

تحقیق جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر قائم رہے ۔ ان پر فرشتے (ف 2) اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو ۔ اور اس جنت کی خوشخبری سنو ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

دنیا کی زندگی اور آخرت میں ہم تمہارے دوست ہیں اور وہاں تمہارے لئے تمہارا جی چاہے گا موجود ہوگا اور جو تم مانگو گے ملے گا

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) اس بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بہتر کس کی بات ہے ۔ جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک کام کیا اور کہا کہ میں مسلمانوں میں ہوں

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ۔ بدی کو اس خصات سے جو بہت اچھی ہو دفع کر (یعنی ) بدی کے جواب میں اس سے بہتر سلوک کرتا ، کہ یکایک وہ شخص جس کو تجھ سے روادت سے ایسا ہوجائیگا کہ گویا وہ رشتہ دار دوست ہے

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صابر ہیں اور یہ بات اس کو ملنی ہے جو بڑا صاحب نصیب ہے

فرشتے اتریں گے 2: اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ جہنم میں دکھ اور تکلیف برداشت کررہے ہونگے ۔ جہوں نے دنیا میں اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ دوسری جانب جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ تعلقات عبودیت کو استوار کیا اور پھر ان تعلقات کی ذمہ داریوں کو مردانہ وار استقلال اور عزیمت کے ساتھ آخر تک نبھایا ۔ وہ فرشتوں کی زبان سے خوشخبریاں سن رہے ہونگے ۔ کہ اس وقت تم قطعاً غم اور فکر سے بےنیاز ہوجاؤ۔ دلوں کو مسرت سے معمور کرلو ۔ کہ تمہارے لئے جنت کی نعمتیں اور آسودگیوں مقدر ہیں ۔ جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم نے دنیا میں تمہاری اعانت کی ۔ آج آخرت میں بھی تمہارے رفیق اور دوست ہیں ۔ یہاں جنت میں رزق اور قوت کی کمی نہیں ۔ جو چاہوگے ملے گا ۔ اور جس چیز کی خواہش کا اظہار کروگے ۔ وہی دی جائے گی ۔ اور تم یوں رہوں گے جس طرح مہمان عزت واحترام کے ساتھ رہتا ہے یہ واضح رہے کہ تنزل علیھم الملائکۃ سے مقصود یہ ہے ۔ کہ مقام حشر میں جب کہ لوگ گھبرا رہے ہونگے اور ان کو معلوم نہیں ہگا ۔ کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ تو اس وقت فرشتے تسکین قلوب کے لئے اتریں گے اور ان کو خوشخبری سنائیں گے ۔ جنہوں نے عزیمت و استقامت کو اختیار کیا ہے جیسا کہ سیاق وسباق سے ظاہر ہے اس کا تعلق دنیوی زندگی سے نہیں ہے ۔ اور اگر اس کا تعلق سباق کے واقعات سے نہ ہو ۔ اور اس کے عموم کو بہر آئینہ باقی رکھا جائے ۔ تو پھر فرشتوں کے نزول سے مراد ان مومنوں کے دلوں میں اطمینان پیدا کرتا ہے ۔ یہ مقصد نہیں کہ فرشتے باقاعدہ نزول وحی کی غرض سے آئیں گے ۔ کیونکہ اس قسم کا نزول وحی کی غرض سے آئیں گے کیونکہ اس کا نزول ہمیشہ کے لئے بندہوچکا ہے ۔ جناب رسالت مآب محمد ﷺ کے بعد اب کوئی اس کا استحقاق نہیں رکھتا ۔ کہ ملائکہ پیغام الٰہی لے کر اس کے پاس آئیں ۔ حل لغات :۔ استقاموا ۔ یعنی راہ ہدیات کے سلسلے میں تمام مصیبتوں کو برداشت کیا تنزل ۔ اترتے ہیں ۔