Fussilat 41:16

Fussilat · from ayah 16

41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ؕ— وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰی وَهُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ ۟فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيۡحًا صَرۡصَرًا فِىۡۤ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّـنُذِيۡقَهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡىِ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ ؕ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَخۡزٰى‌ وَهُمۡ لَا يُنۡصَرُوۡنَ

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

So We sent upon them a screaming wind during days of misfortune to make them taste the punishment of disgrace in the worldly life; but the punishment of the Hereafter is more disgracing, and they will not be helped.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:16

آخرکار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہے، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

بالﺂخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں، اور (یقین مانو) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیاده رسوائی واﻻ ہے اور وه مدد نہیں کیے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ ہم نے کچھ منحوس دنوں میں ان پر آندھی کی شکل میں ہوا بھیجی تاکہ انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور ان کو کوئی مدد میسر نہیں آئے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو ہم نے اُن پر منحوس دنوں میں خوفناک تیز و تُند آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں دنیوی زندگی میں ذِلت کے عذاب کا مزہ چکھائیں، اور آخرت کا عذاب تو سب سے زیادہ ذِلت انگیز ہوگا اور اُن کی کوئی مدد نہ کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہم نے ان پر ایک سخت تند ہوا چند منحوس دنوں میں بھیجی، تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم نے ان پر چند منحوس دنوں میں سناٹے کی آندھی چھوڑ دی تاکہ ہم انہیں دنیا میں ہی رسوائی کا عذاب چکھائیں اور جو آخرت کا عذاب ہے وہ تو اور زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور انہیں کہیں سے مدد بھی نہ ملے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہم نے ان پر چند منحوس دنوں میں ایک بادتند بھیجی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا اور وہاں ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو آخرکار ہم نے بھیج دی ان پر ایک سخت زور کی (ہولناک) ہوا چند منحوس دنوں میں تاکہ ہم ان کو مزہ چکھا دیں (ذلت و) رسوائی کے عذاب کا اسی دنیاوی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو یقینی طور پر اس سے بھی کہیں بڑھ کر رسوا کن ہے اور وہاں ان کی (کہیں سے) کوئی مدد بھی نہ کی جائے گی

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے ان پر تیز آندھی بھیجی ایسے دنوں میں جو (ان کے حق میں) منحوس تھے کہ ہم انہیں (اسی) دنیوی زندگی میں عذاب رسوائی کا مزہ چکھا دیں اور عذاب آخرت تو رسوا تر ہوگا اور انہیں (کوئی) مدد نہ پہنچ سکے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو ہم نے ان پر چھوڑ دی بہت زور کی ہوا نحوست کے دنوں میں تاکہ ہم انہیں مزہ چکھائیں رسوا کن عذاب کا اس دنیا کی زندگی میں۔ اور آخرت کا عذاب تو کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا اور وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور اس روز ان کو مدد بھی نہ ملے گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

whereupon We sent upon them a fierce wind on inauspicious days that We might make them taste a degrading chastisement in the life of this world. And surely the chastisement of the Hereafter is even more degrading. There will be none to help them there.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, We let loose a wild wind on them in unlucky days to make them taste the humiliating punishment in the present life. And of course, the punishment of the Hereafter will be much more humiliating, and they will not be helped.

— Muhammad Taqi Usmani

So, We let loose a wild wind on them in unlucky days to make them taste the humiliating punishment in the present life. And of course, the punishment of the Hereafter will be much more humiliating, and they will not be helped.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, We sent upon them a Sarsar wind in days of calamity that We might give them a taste of disgracing torment in this present worldly life. But surely the torment of the Hereafter will be more disgracing, and they will never be helped.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor We let loose on them a raging wind in evil days, that We might make them taste the torment of disgrace in the life of the world. And verily the doom of the Hereafter will be more shameful, and they will not be helped.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So We sent upon them a screaming wind during days of misfortune to make them taste the punishment of disgrace in the worldly life; but the punishment of the Hereafter is more disgracing, and they will not be helped.

— Saheeh International

We sent upon them a violent wind during a few ill-fated days to make them suffer a disgraceful torment in this life. Their torment in the life to come will be even more disgraceful and they will not receive any help.

— Muhammad Sarwar

So We sent on them a furious wind in unlucky days, that We may make them taste the chastisement of abasement in this world's life; and certainly the chastisement of the hereafter is much more abasing, and they shall not be helped.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore We sent upon them a raging wind in days inauspicious, that We might make them taste the torment of humiliation in the life of the world; and surely the torment of the Hereafter will be more humiliating, nor will they be succoured.

— Abdul Majid Daryabadi

So We sent against them a furious Wind through days of disaster, that We might give them a taste of a Penalty of humiliation in this life; but the Penalty of a Hereafter will be more humiliating still: and they will find no help.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–18

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب۔ حکم ہوتا ہے کہ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ میری تعلیم سے رو گردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کردی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے درپے رسول آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 20 " منحوس دنوں " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دن بجائے خود منحوس تھے اور عذاب اس لیے آیا کہ یہ منحوس دن قوم عاد پر آگئے تھے۔ یہ مطلب اگر ہوتا اور بجائے خود ان دنوں ہی میں کوئی نحوست ہوتی تو عذاب دور و نزدیک کی ساری ہی قوموں پر آجاتا۔ اس لیے صحیح مطلب یہ ہے کہ ان ایام میں چونکہ اس قوم پر خدا کا عذاب نازل ہوا اس بنا پر وہ دن قوم عاد کے لیے منحوس تھے۔ اس آیت سے دنوں کے سعد و نحس پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ طوفانی ہوا کے لیے " ریح صرصر " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سخت لو ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–18

معارف و مسائل (آیت) فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا۔ یہ اس عذاب صاعقہ کی تشریح ہے جو اس سے پہلے آیت میں صاعقہ عاد وثمود کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔ صاعقہ کے اصل معنے مدہوش وبے ہوش کرنے والی چیز کے ہیں اسی لئے گرنے والی بجلی کو بھی صاعقہ کہا جاتا ہے۔ اور ناگہانی آفت و مصیبت کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قوم عاد پر جو ہوا کا طوفان مسلط کیا گیا وہ بھی اسی صاعقہ کا ایک فرد ہے اسی کو ریح صرصر کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ جو تیز و تند ہوا کو کہا جاتا ہے، جس میں تیز رفتاری کے ساتھ سخت آواز بھی ہو۔ (قرطبی) ضحاک نے فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے تین سال تک بارش بالکل بند کردی اور تیز…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عاد پر عذاب ’ ریع صرصر ‘ سے مراد وہ باد تند ہے جو عرب میں شدید سردیوں کے زمانے میں شمال سے چلتی ہے اور جس کے ساتھ سرما کے بادل بھی ہوتے ہیں اور گرج چمک بھی۔ ’ ایام نحسات ‘ سخت سردی کے ان دنوں کو بھی کہتے ہیں جن میں سردی کی شدت کے سبب سے ہر چیز پر اداسی، افسردگی، خشکی اور ایک قسم کی نحوست چھا جاتی ہے۔ فرمایا کہ چونکہ انہوں نے استکبار اور حق سے اعراض کی روش اختیار کرلی اس وجہ سے ہم نے ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھانے کے لئے، ان پر سرما کی نحوست کے ایام میں، باد صر صر مسلط کردی جس نے ان کو بالکل تاراج کر کے رکھ دیا۔ اس طرح وہ ان لوگوں کی نگاہوں میں بھی ذلیل ہوئے جن کے انذار کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 صر صر، صرۃ (آواز) سے ہے۔ یعنی ایسی ہوا جس میں سخت آواز تھی، یعنی نہایت تند اور تیز ہوا، جس میں آواز بھی ہوتی ہے بعض کہتے ہیں یہ صر سے ہے جس کے معنی برد ٹھنڈک کے ہیں یعنی ایسی پالے والی ہوا جو آگ کی طرح جلا ڈالتی ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں والحق انہا متصفۃ بجمیع ذلک وہ ہوا ان تمام ہی باتوں سے متصف تھی۔ 16۔ 2 نحسات کا ترجمہ، بعض نے متواتر پے درپے کا کیا ہے کیونکہ یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، بعض نے گرد و غبار یہ ایام جن میں ان پر سخت ہوا کا طوفان جاری رہا، انکے لئے منحوس ثابت ہوئے۔ یہ نہیں کہ ایام ہی منحوس ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–19

9: قرآن و سنت کے متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ تمام دن اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، اور کسی بھی دن میں بذات خود کوئی عمومی نحوست نہیں ہوتی، اس لیے یہاں منحوس دنوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ دن ان لوگوں کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–18

آیت نمبر 13 تا 18 یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔ فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔ اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ان کا غرور توڑنے کو ایک کمزور مخلوق سے ان کو تباہ کرا دیا۔ سات رات اور آٹھ دن مسلسل ہوا کا طوفان چلتا رہا۔ درخت آدمی، مکان، مواشی کوئی چیز نہ چھوڑی۔ 4 یعنی آخرت کی رسوائی تو بہت ہی بڑی ہے جو کسی کے ٹالے نہیں ٹلے گی، نہ وہاں کوئی مدد کرسکے گا۔ ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہوگی۔ محبت و ہمدردی کے بڑے بڑے مدعی آنکھیں چرائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْٓ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ } ”تو ہم نے ان پر چھوڑ دی بہت زور کی ہوا نحوست کے دنوں میں“ سورة الحاقہ میں تند و تیز ہوا کے اس عذاب کا ذکر یوں آیا ہے : { سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍٍ } آیت 6 یعنی انتہائی تیز اور شدید ہوا کا یہ جھکڑ ّان لوگوں پر سات راتوں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتا رہا۔ { لِّنُذِیْقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”تاکہ ہم انہیں مزہ چکھائیں رسوا کن عذاب کا اس دنیا کی زندگی میں۔“ { وَلَـعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزٰی وَہُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ } ”اور آخرت کا عذاب تو کہیں زیادہ رسوا کن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 کوئی دن بذات خود نحس نہیں ہوتا (ذکر قوم عاد) :۔ یعنی وہ دن قوم عاد کے لیے منحوس تھے ورنہ کوئی دن بذات خود نہ سعد ہوتا ہے اور نہ نحس جیسا کہ جوتشیوں اور انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات تسلیم کرنے والوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ وہی دن جو قوم عاد کے لیے منحوس تھے۔ سیدنا صالح اور مومنوں کے لیے مبارک تھے۔ جس دن فرعون اور اس کے ساتھی بحیرہ قلزم میں غرق ہوئے۔ فرعون اور آل فرعون کے لیے منحوس تھا۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے لیے مبارک تھا۔ علاوہ ازیں اگر یہ دن بذاتہ منحوس ہوتے تو عذاب صرف قوم عاد کے مجرموں پر ہی نہ آتا بلکہ ساری دنیا پر آتا۔ 20 قوم عاد پر ٹھنڈی اور تیز ہوا کا عذاب :۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ یعنی عذاب آخرت جو کہیں زیادہ سخت اور سارے اہل محشر کی نظر میں ہونے کے باعث کہیں زیادہ رسوا کن بھی ہوگا وہ تو بہرحال ابھی پردۂ غیب میں ہے۔ یہ عذاب ہلاکت جو ہم نے ان پر دنیا میں نازل کیا، اس سے یہ دنیا ہی میں خلقت کی نظر میں حقیر و ذلیل ہو کر رہے کہ قوت و شوکت کے اتنے دعو وں کے باوجود اپنے کو بچانے پر ذرا بھی قادر نہ ہوسکے۔ (آیت) ” فی ایام نحسات “۔ نحس سے صرف یہ مراد ہے کہ وہ وقت اسی نزول عذاب الہی کے باعث ان لوگوں کے حق میں منحوس نکلا، عن مالک یعنی شدائد لاخیر فیھا (ابن العربی) ورنہ کسی متعین دن یا مخصوص زمانہ کے ” منحوس “ ہونے کا عقیدہ ہی سرے سے اسلام میں نہیں۔ و لیس ھذاممایزعمہ الناس من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–18

آیت نمبر 9 تا 18 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فارسلنا علیھم ریحا صرصرا فی ایام نحسات لنذیقھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اخزی تو ہم نے ان پر ایک طوفانی آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی ‘ تاکہ اس دنیوی زندگی میں ہم ان کو رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی رسوائی کا سبب ہے۔ رِیْحًا صَرْصَرًا تیز آندھی جس میں سخت سردی اور شور کرنے والی آواز بھی ہو۔ صَرْ صَرْ ماخوذ ہے صَرْ سے ‘ صَرْ کا معنی ہے سردی ‘ یا صرۃ سے ماخوذ ہے اور صرۃ کا معنی ہے چیخ ‘ سخت آواز۔ نَحِسَاتٍ یعنی وہ دن جو ان کیلئے منحوس تھے۔ ضحاک نے کہا : تین سلا تک اللہ نے ان کو بارش سے محروم رکھا اور بغیر بارش کے تیز ہوائیں چلتی رہیں۔ بعض روایات میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو ہم نے ان پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا ایسے دنوں میں بھیجی جو نزول عذاب الہی ہونے کی وجہ سے ان کے حق میں سخت تھی تاکہ اس دنیوی زندگی میں سخت عذاب چکھائیں۔ اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت ہے اور عذاب الہی کے مقابلہ میں ان کی کچھ مدد نہ کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فارسلنا علیھم ریحاً صرصراً :”صرصراً“ ”صر“ (صاد پر کسرہ) سے ہے، سردی کی شدت جو بدن سیکڑ کر رکھ دے، یعنی شدید ٹھنڈی ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(کمثل ریح فیھا صر) (آل عمران :118) ”اس ہوا کی مثال جیسی ہے جس میں سخت سرد ہے۔“ یا ”صرۃ“ سے ہے، جس کا معنی ”خوفناک چیخ“ ہے۔ جیسا کہ فرمایا : فاقبلت امراتہ فی صرۃ) (الذاریات : 29)”تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی۔“ یہاں دونوں معنی اکٹھے ملحوظ ہیں کہ وہ ہوا نہایت ٹھنڈی اور خوفناک چیخ جیسی آواز والی تھی۔ ”صرصراً“ میں حروف مکرر ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی ہم نے ان پر نہایت خوفناک آواز والی شدید ٹھنڈی تیز و تند آندھی بھیجی اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فارسلنا علیھم ریحا صرصراً یہ صاعقہ کی تفسیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھیجی تھی ایسی ہوا جو سخت ٹھنڈی تھی آواز شدید اور تیز چل رہی تھی۔ یہ کہا جاتا ہے : اصل میں صرر تھا جو صر سے مشتق ہے جس کا معنی ٹھنڈک ہے درمیانی راء کو فعل کے فاء کلمہ سے بدل دیا جس طرح ان کا قول ہے کبکبوا اصل میں کببوا تھا۔ تجفجف الثوب اصل میں تجفف الثوب ہے۔ ابو عبید نے کہا : صرصرا کا معنی ہے سخت آندھی، عکرمہ اور سعید بن جبیر نے کہا : سخت سرد، قطرب نے ابو حطیہ ٔ کا قول ذکر کیا : المطعون اذا ھبت بصر صرۃ والحاملنو اذا ستودوا علی الناس (1) جب سخت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں تو وہ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ اور وہ جھنڈے اٹھانے والے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی ” صعقۃ “ ہے اس کا معنی عذاب ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ (تم کو ایسی آواز سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد ثمود پر آئی تھی یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں عاد اور ثمود پر (عذاب کے) حملہ سے (آیت ) ” ریحا صرصرا “ (طوفان آندھی) یعنی ٹھنڈی ہوا۔ (آیت ) ” نحسات “ یعنی نحوستیں اور دشواریاں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارسلنا علیہم ریحا صرصرا “ (ہم نے ان پر طوفان آندھی بھیجی) سے مراد ہے سخت منحوس۔ 4:۔ ابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ [ تو ہم نے بھیجا ان پر ] رِيْحًا صَرْصَرًا [ ایک تندوتیز ہوا کو ] فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ [ منحوس دنوں میں ] لِّنُذِيْقَهُمْ [ تاکہ ہم چکھائیں ان کو ] عَذَابَ الْخِــزْيِ [ رسوائی کا عذاب ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ [ دنیوی زندگی میں ] وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ [ اور یقینا آخرت کا عذاب ] اَخْزٰى [ سب سے زیادہ رسواکن ہے ] وَهُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ [ اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی ] ن ح س : (ف) نحسا : (1) افق آسمان کا سرخ ہوکر دھوئیں کی طرح ہوجانا ۔ (اے نحوست کی علامت سمجھا جاتا تھا ) (2) نامبارک ہونا ۔ منحوس ہونا۔ نحس ۔ اسم ذات ہے ۔ منحوسیت ، نحوست ۔ آیت ۔ اِنَّآ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–16

(فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا) (سو ہم نے ان پر تیز ہوا بھیج دی) (فِیْ اَیَّامٍ نَحِسَاتٍ ) (منحوس دنوں میں) (لِنُذِیقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) (تاکہ انہیں دنیا والی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں) اور اسی عذاب پر بس نہیں ان کے لیے آخرت میں بھی عذاب ہے اور وہ اس دنیا والے عذاب سے بڑھ کر زیادہ ذلت اور رسوائی والا ہوگا (وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ ) اور وہاں ان کی مدد نہ کی جائے گی یہ جو مال و دولت اور افرادو اولاد پر گھمنڈ ہے سب دھرا رہ جائے گا سورة الحاقہ میں فرمایا ہے (سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُومًا فَتَرَی الْقَوْمَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ ” فارسلنا علیہم “ قوم عاد کا متکبرانہ دعوے تھا کہ قوت اور طاقت میں ان سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے ایک معمولی سی چیز یعنی تند و تیز ہوا بھیج کر ان کے غرور و استکبار کی گردن توڑ دی اور اس سے سب کو ہلاک کر کے دنیا ہی میں ذلیل ورسوا کردیا۔ ” ایام نحسات “ نحس اور برے دن یہ نحس اور برے قوم عاد کے حق میں تھے اس لیے کہ اسلام میں کوئی دن فی نفسہ نحس نہیں۔ یہ رسوائی تو دنیا میں ہوئی اور آخرت میں انہیں جو عذاب دیا جائے گا وہ اس سے بھی زیاد ذلت آمیز اور رسوا کن ہوگا۔ اور پھر کہیں سے مدد بھی نہیں مل سکے گی۔ تاکہ اللہ کے عذاب سے چھوٹ سکیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–18

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور اپنی نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ اس کا توازن برقرار رہے۔ زمین میں انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے اور اس کو با برکت بنادیا ۔ پھر اللہ نے سات آسمانوں کو جداجدا کردیا ۔ ہر آسمان کو اس کی مخلوق کے مناسب حال حکم جاری فرمایا ۔ آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اسے شیاطین اور جنات کی رسائی سے محفوظ کردیا ۔ یہ سب انعامات الٰہیہ ہیں اور توحید کے عقلی دلائل بھی ہیں ۔ اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت آسانی سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَہُمْ عَذَابَ الْخِــزْيِ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ 0 ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزٰى وَہُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ۝ 16 رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْٓ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّـنُذِیْـقَھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا ط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزٰی وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 16) (تو ہم نے ان پر چند منحوس دنوں میں ایک سخت طوفانی ہوا بھیجی تاکہ ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں زیادہ رسوا کن ہوگا، اور وہ کوئی مدد نہیں کیے جائیں گے۔ ) قومِ عاد پر آنے والے عذاب کی تفصیل یہ اس عذاب کی تفصیل ہے جو قوم عاد پر بھیجا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان پر ایک طوفانی ہوا بھیجی، یہ وہ بادتند ہے جو عرب میں شدید…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–16

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کا کفر اور اس کا انجام۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ ہیں۔ قوم عاد کے لوگ جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انہوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

باد صر صر سے ہلاکت : فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا (پس ہم نے ان پر ایک ہوائے تند بھیجی) تیز آندھی جس سے صرصراہٹ کی آواز تھی۔ یا ٹھنڈی ہوا جو اپنی سردی کی شدت سے ہر چیز کو جلاتی تھی۔ الصر، ٹھنڈک، پالا۔ اسی کو رباعی پر لے جایا گیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ پچھم ہے۔ فِيْٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ (ایسے دنوں میں جو منحوس تھے) ان کے لیے منحوص تھے۔ قراءت : مکی، بصری، نافع نے نَحْسات پڑھا ہے۔ یہ نُحِس نَحَسا سعد سعداً کی نقیض و عکس ہے اور ھو نَحِسٌ کہا جاتا ہے۔ البتہ نَحْس یا نَحِس کو تخفیف سے پڑھتے ہیں یا یہ مستقل فِعلٌ کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے یا مصدر کو صفت کے معنی میں استعمال کرلیا یہ آخر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 15۔ ، فاما عاد فاستکبروافی الارض بغیر الحق وقالو امن اشدمنا قوۃ، پھر وہ جو عاد کے لوگ تھے، وہ دنیا میں ناحق تکبر کرنے لگے اور کہنے لگے : وہ کون ہے جو طاقت میں ہم سے بڑھ کر ہے ؟ ، فاستکبروا، یعنی بغیر استحقاق کے دوسرے لوگوں سے اپنے کو بڑا اور برتر سمجھنے لگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–21

13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 16 یہ ان مذکورہ بالا دو قوموں، یعنی عادوثمود کا مفصل قصہ ہے۔ فرمایا : (فاما عاد) قوم عاد اپنے کفر، آیات الٰہی اور انبیاء ومرسلین کی تکذیب کے ساتھ ساتھ زمین پر تکبر کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے اردگرد بندگان الٰہی پر قہر اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کی قوت نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا (وما امن اشد منا قوۃ) ” اور وہ کہتے تھے : بھلا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا جواب دیا جسے ہر شخص جانتا ہے۔ (اولم یروا ان اللہ الذی خلقھم ہو اشد منھم قوۃ) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا، وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے “۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 قوم عاد کے ہولناک انجام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار ہم نے بھیج دی ان پر ایک سخت زور کی ہولناک ہوا جس نے تہس نہس کر کے رکھ دیا اس بدبخت قوم کو اور جو لگاتار سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ان پر مسلط رہی "۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَخَّرَھا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃِ اَیَّامٍ حَسُوْمًا } ۔ (الحاقۃ : 7) ۔ اور جس مال و دولت اور اپنی مادی ترقی و عروج پر ان لوگوں کو بڑا ناز تھا وہ ان کو کچھ بھی کام نہ آسکا ۔ { اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَعِبْرَۃٌ } ۔ ریح صرصر سے مراد وہ باد تند ہے جو عرب میں شدید سردیوں کے زمانے میں شمال کی طرف سے چلتی ہے اور جس کے ساتھ بادل بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–18

دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–17

آیات 9 تا 17۔ اسرار ومعارف۔ ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

ف 5 کئی دنوں سے مراد مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ہیں۔ ( دیکھئے سورة الحاقہ آیت 6، 7) دنوں کے منحوس ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے کے حق میں منحوس رہے نہ یہ کہ وہ بجائے خود منحوت تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:16) ریحا صرصرا : موصوف و صفت۔ منصوب بوجہ مفعول ارسلنا متحرک ہوا جو کہ زمین و آسمان کے درمیان مسخر ہے اسے ریح کہتے ہیں ۔ بوکو بھی ریح کہتے ہیں۔ کیونکہ کسی چیز کی بو ہوا ہی کے ذریعہ ہی ناک تک پہنچتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ انی لاجد ریح یوسف (12:94) میں یوسف کی بو پا رہا ہوں۔ اور کبھی اس کا استعمال غلبہ کے لئے بھی ہوتا ہے۔ مثلا وتذھب ریحکم (8:46) اور تمہاری ہوا ہی جاتی رہے گے۔ یعنی تمہارا غلبہ ختم ہوجائے گا۔ یہ روح یا ر ی ح مادہ سے ہے اور ارواح وریاح آتی ہے۔ مفردات القرآن میں ہے : عام طور پر جن مواضع میں ارسال الریح صیغہ مفرد کے ساتھ مذکور ہے ۔ چناچہ ریح کے متعلق فرمایا : فارسلنا علیہم ریحا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–18

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا) تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–22

کافروں کی نافرمانی۔ (ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–18

[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔ [8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–16

ف 1: ان شواہد و دلائل کے بعد ارشاد فرمایا ۔ کہ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ چاہتے ہیں ۔ کہ دنیا میں عزت وآبرو کے ساتھ زندہ رہیں ۔ تو پھر بجز اس کے اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہوسکتا ۔ کہ اسلام کے لوائے رحمت تلے جمع ہوجائیں ۔ ان کا حشر بھی وہی ہونے والا ہے ۔ جو عاد اور ثمود کی قوموں کا ہوا ۔ قوم عاد کے پاس جب اللہ کے پیغمبر آئے ۔ اور انہوں نے کہا کہ ایک اللہ کے سامنے جھکو اور قلب و دماغ سے لے کر اعضاء جوارح تک سب کو اللہ کی اطاعت میں لگادو ۔ تو انہوں نے ازراہ کبر و غرور انکار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہم انسان کی فرمانبرداری کے لئے تیار نہیں ہیں اگر اللہ کو منظور ہوتا ۔ کہ وہ ہمیں ہدایت دے ۔ تو پھر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) پھر ہم نے ان پر ان دنوں میں جو ان کے حق میں منحوس تھے سخت تندوتیز ہوا بھیجی تاکہ ہم ان کو اسی دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں اور آخرت کا عذاب یقینا بہت رسوا کرنے والا ہے اور آخرت کی مار میں تو پوری رسوائی ہے اور ان کو کہیں سے مدد بھی نہیں جائے گی۔ صرصر اس ہوا کو کہتے ہیں جو نہایت تیز ہوا اور اس میں آواز بھی ہو یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی جیسا کہ سورة الحاقۃ میں انشاء اللہ آجائے گا۔ کہتے ہیں یہ ہوا شوال کے آخری ہفتہ سے شروع ہوئی اور بدھ کے دن تک چلتی رہی ایام نحسات فرمایا اس لئے کہ یہ دن ان کے نزدیک منحوس تھے یا اس عذاب کی وجہ سے یہ دن ان پر منحوس ہوئے نحس سعد کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–18

ف 1۔ یہاں تک عذاب دنیوی کا ذکر تھا اور آگے عذاب آخرت کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کا انجام یہ ہوا کہ ہم نے ایک بار صر صر چلای اور ان کا کام تمام کردیا 16 ؎ عاد قوم کے لوگ جو ناحق استکبار میں مبتلا تھے اور تکبرہی کے باعث وہ ہم چومادیگرے نیست کی ڈینگیں مارتے تھے اور ہود (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود وہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے اور بار بار یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ اگر اپنے بیان میں سچے ہیں تو وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے جس کا ہم کو باربار وعدہ دیتے ہیں اور اپنی طاقت وقوت کا ناجائز مظاہرہ ان کا مشغلہ بن کر رہ گیا تھا اور یہ سلسلہ ایک مدت تک جاری رہا تا آنکہ وہ وقت آہی گیا جس کے آنے کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ جب وہ وعدہ کا دن آیا تو اللہ کے رسول ہود (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

فَأَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمْ رِ‌يحًا صَرْ‌صَرً‌ا (So, We let loose a wild wind on them - 41:16) This is the explanation of what was mentioned as ` calamity of ` Ad and Thamud' in the earlier verse. The Arabic word used in the text is sa` igah. It originally means ` something that renders one unconscious. That is why the thunderbolt is also called sa'iqah, and unforeseen calamity and disaster is also called sa` iqah. The storm which entrapped the people of ` Ad was also a 'sa'iqah', and has been mentioned in the present verse as ` wild wind' which was a wild tempest of extremely high speed and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

20 "III-omened days" does not mean that the days in themselves were illomened, and the torrent came because the people of 'Ad met with those illomened days. If this were the meaning and there were some ill omen in the days themselves, the torment would have visited all the nations of the world. The cornet meaning, therefore, is that since in those days God's torment descended on this nation, the days were ill-omened for the people of 'Ad. It is not cornet to argue on the basis of the verse that some days are iII-omened and some auspicious. The lexicographers have disputed the meaning of the…

Read the full tafseer →