Explained with ayahs 13–18
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب۔
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ میری تعلیم سے رو گردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کردی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے درپے رسول آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 22
ثمود کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 57 تا 59، ہود، حواشی، 69 تا 74، الحجر، حواشی 42 تا 46، بنی اسرائیل، حاشی 68، جلد سوم، الشعراء، حواشی 95 تا 106، النمل، حواشی 58 تا 66
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
معارف و مسائل
(آیت) فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا۔ یہ اس عذاب صاعقہ کی تشریح ہے جو اس سے پہلے آیت میں صاعقہ عاد وثمود کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔ صاعقہ کے اصل معنے مدہوش وبے ہوش کرنے والی چیز کے ہیں اسی لئے گرنے والی بجلی کو بھی صاعقہ کہا جاتا ہے۔ اور ناگہانی آفت و مصیبت کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قوم عاد پر جو ہوا کا طوفان مسلط کیا گیا وہ بھی اسی صاعقہ کا ایک فرد ہے اسی کو ریح صرصر کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ جو تیز و تند ہوا کو کہا جاتا ہے، جس میں تیز رفتاری کے ساتھ سخت آواز بھی ہو۔ (قرطبی)
ضحاک نے فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے تین سال تک بارش بالکل بند کردی اور تیز…
Read the full tafseer →ثمود کا رویہ اور ان پر عذاب
فرمایا کہ یہی حال عاد کے بعد ثمود کا بھی ہوا۔ ہم نے ان کے لئے بھی ہدایت کی راہ کھولی لیکن انہوں نے ہماری ہدایت پر اپنی ضلالت ہی کو ترجیح دی بالآخر ان کے اعمال کی پاداش میں ہم نے ان کو بھی ذلت کے عذاب میں پکڑا اور وہ بالکل پامال و ذلیل ہو کر رہ گئے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ ان کے عذاب کی نوعیت بھی کم و بیش وہی تھی جس کی وضاحت قوم عاد کے عذاب کے سلسلہ میں ہوچکی ہے۔ نظائر قرآن کی روشنی میں اس کی تفصیل اس کے محل میں ہم پیش کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 یعنی ان کو توحید کی دعوت دی، اس کے دلائل ان کے سامنے واضح کئے اور ان کے پیغمبر حضرت صالح ؑ کے ذریعے سے ان پر حجت تمام کی۔
17۔ 2 یعنی انہوں نے مخالفت کی حتیٰ کہ اس اونٹنی تک کو ذبح کر ڈالا جو بطور معجزہ ان کی خواہش پر چٹان سے ظاہر کی گئی تھی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی۔
17۔ 2 صاعقۃ عذاب شدید کو کہتے ہیں ان پر یہ سخت عذاب چنگھاڑ اور زلزلے کی صورت میں آیا جس نے انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ تباہ و برباد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
9: قرآن و سنت کے متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ تمام دن اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، اور کسی بھی دن میں بذات خود کوئی عمومی نحوست نہیں ہوتی، اس لیے یہاں منحوس دنوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ دن ان لوگوں کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
آیت نمبر 13 تا 18
یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔
فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔
اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا…
Read the full tafseer →5 یعنی نجات کا راستہ جو ہمارے پیغمبر نے بتلایا تھا اس سے آنکھیں بند کرلیں اور اندھا رہنے کو پسند کیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی پسند کی ہوئی حالت میں انہیں پڑا چھوڑ دیا۔
6 یعنی زلزلہ آیا جس کے ساتھ سخت ہولناک آواز تھی، اس آواز سے جگر پھٹ گئے۔
Read the full tafseer →آیت 17 { وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنٰہُمْ } ”اور جو قوم ثمود تھی ‘ ان کو ہم نے ہدایت کی راہ دکھائی“
ان کی طرف ہم نے اپنا رسول بھی بھیجا اور اونٹنی کی صورت میں انہیں واضح معجزہ بھی دکھا دیا۔
{ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْہُدٰی } ”لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کو ہی پسند کیا“
ہماری واضح تعلیمات ان تک پہنچ گئی تھیں ‘ لیکن اس کے باوجود انہوں نے حقائق کی طرف سے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں۔
{ فَاَخَذَتْہُمْ صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْہُوْنِ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”توا نہیں بھی آپکڑا ذلت کے عذاب کی ہولناک کڑک نے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں۔“
Read the full tafseer →21 قوم ثمود پر زلزلہ اور چیخ کا عذاب :۔ جسے عاد ثانیہ کہا جاتا ہے اور جن کی طرف سیدنا صالح مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے سیدنا صالح سے اونٹنی کے پہاڑ سے برآمد ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے پورا کردیا تھا۔ جس سے انہیں یقین بھی ہوچکا تھا کہ سیدنا صالح کی پشت پر کوئی مافوق الفطرت ہستی موجود ہے۔ اور وہ فی الواقع اللہ کا رسول ہے۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انہوں نے سیدنا صالح کی لائی ہوئی ہدایت کو قبول نہ کیا اور اپنے جاہلانہ اور مشرکانہ رسم و رواج کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ یہ لوگ بھی قدوقامت، ڈیل ڈول اور قوت میں اپنی پیشرو قوم عاد سے کسی طرح کم نہ تھے۔ فن تعمیر سنگ تراشی کے بہترین ماہر…
Read the full tafseer →17۔ اس آخری تصریح نے ایک بار اور اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عذاب الہی جب بھی آتا ہے، بندوں کی اختیاری بددینی کی پاداش ہی میں آتا ہے۔ اور اس طرح کے تصریحی فقرے قرآن مجید میں بڑی کثرت سے آئے ہیں۔ (آیت) ” فھدینھم “۔ یہ ہدایت ثمود کو انکے پیغمبروں کے واسطہ سے پہنچی تھی۔ (آیت) ” فھدینھم ..... الھدی “۔ اس تصریح نے ایک بار پھر یہ صاف کردیا کہ ہدایت و ایمان کا ردوقبول بالکل اختیار عبد کی چیز ہے اور اسی پر عذاب یا اجر مرتب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
آیت نمبر 9 تا 18
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…
Read the full tafseer →واما ثمود فھدینھم فاستحبوا العمی علی الھدی فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون بما کانوا
یکسبون اور وہ جو قوم ثمود والے تھے تو (پیغمبر کے ذریعہ سے) ہم نے ان کو سیدھا راستہ بتادیا ‘ لیکن انہوں نے اندھے پن کو بہ نسبت ہدایت کے پسند کیا ‘ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سراپا ذلت کے عذاب کی آفت نے ان کی بدکرداریوں کی پاداش میں ان کو آپکڑا۔
فَھَدَیْنٰھُمْ یعنی خیر و شر دونوں کے راستے بتا دئیے اور پیغمبروں کی وساطت سے ان کو سیدھا راستہ دکھا دیا ‘ کذا فسر ابن عباس۔
فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْھُدٰی یعنی ایمان کے مقابلہ میں انہوں نے جہالت اور کفر کو پسند کیا۔
صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْھُوْنِ یعنی آسمان کی طرف سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17۔ 18) اور قوم صالح کی طرف ہم نے صالح کو بھیجا اور انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کفر و ایمان اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کیا تو انہوں نے کفر کو ایمان کے مقابلے میں پسند کیا تو ان کو سخت ترین عذاب نے گھیر لیا ان کے کفریہ اقوال و افعال اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کی وجہ سے اور ان لوگوں کو نجات دی جو حضرت صالح پر ایمان لائے تھے اور کفر و شرک اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے ڈرتے تھے۔
Read the full tafseer →(1) واما ثمود فھدینھم …: قوم مثود کے تعارف کے لئے دیکھیے سورة اعراف (73 تا 79)۔ ہدایت کی تفسیر کے لئے سورة فاتحہ کی آیت :(اھدنا الصراط المستقیم) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یعنی ہم نے انہیں راہ حق دکھا دیا، مگر انہوں نے ہدایت قبول کرنے کے بجائے اندھا اور گمراہ رہنے کو ترجیح دی۔
(2) فاخذثھم صعقہ العذاب الھون…”الھون“ اور ”الھوان“ معنی ذلت، یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔ ثمود پر آنے والے عذاب کو کہیں ”الرجفۃ“ (زلزلہ) کہا گیا ہے، کہیں ”الضیحۃ“ (سخت چیخ) یہاں اسے بجلی کی کڑک کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک سخت چیخ تھی جس میں بجلی کی کڑک اور شعلہ تھا، ساتھ ہی شدید زلزلہ تھا جس سے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
(واما ثمود۔۔۔۔ )
واما ثمود فھدینھم یعنی ہم نے ان کے لیے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور دوسرے علماء نے اما ثمود نصب کہ ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة الاعراف پر پسند کیا (1)
فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون۔ الھون ضمہ کے ساتھ ہے جس کا معنی ذلت و رسوائی ہے۔ ہون بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر جو کنانہ اور اسد سے تعلق رکھتا تھا۔ اھانہ اس کو حقیر و خفیف جانا اس کا اسم ھوان اور مھانہ ہے۔ صاعقہ کو عذاب کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ صاعقہ کہتے ہیں ہلاک کرنے والی چیز کو۔ گویا فرمایا : مھلک العذاب یعنی ایسا عذاب جو مہلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی ” صعقۃ “ ہے اس کا معنی عذاب ہے۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ (تم کو ایسی آواز سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد ثمود پر آئی تھی یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں عاد اور ثمود پر (عذاب کے) حملہ سے (آیت ) ” ریحا صرصرا “ (طوفان آندھی) یعنی ٹھنڈی ہوا۔ (آیت ) ” نحسات “ یعنی نحوستیں اور دشواریاں۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارسلنا علیہم ریحا صرصرا “ (ہم نے ان پر طوفان آندھی بھیجی) سے مراد ہے سخت منحوس۔
4:۔ ابن المنذر…
Read the full tafseer →وَاَمَّا ثَمُوْدُ [ اور وہ جو ثمود تھے ] فَهَدَيْنٰهُمْ [ تو ہم نے راہ سجھائی ان کو ] فَاسْتَــحَبُّوا [ پھر انہوں نے پسند کیا ] الْعَمٰى [ اندھا ہونے کو ] عَلَي الْهُدٰى [ ہدایت پر ] فَاَخَذَتْهُمْ [ تو پکڑا ان کو ] صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ [ ذلت والے عذاب کی کڑک نے ] بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ بسبب اس کے جو وہ لوگ کمائی کرتے تھے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد قوم ثمود کا حال بیان فرمایا (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنَاھُمْ ) اور رہے ثمود سو ہم نے انہیں ہدایت دی یعنی ان کی طرف نبی بھیجا جس نے انہیں حق کا راستہ بتایا اور توحید کی دعوت دی انہوں نے سمجھ سے کام نہ لیا ہدایت کو اختیار نہ کیا اور اندھا رہنے کو یعنی گمراہی کو ترجیح دی جب ہدایت کو نہ مانا تو انہیں عذاب کی مصیبت نے پکڑ لیا اور وہ اپنے برے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کردئیے گئے، صاعقہ کا اصل معنی بجلی کا ہے، جو بارش کے دنوں میں چمکتی ہے اور کبھی کبھی اس سے مطلق آفت بھی مراد لے لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…
Read the full tafseer →18:۔ ” وما ثمود “ قوم ثمود کو بھی ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے ذریعے سے مسئلہ توحید سنایا۔ لیکن انہوں نے سننے کے بعد ہادیت پر گمراہی کو ترجیح دی تو ذلت آمیز عذاب کی بجلی نے ان کو آلیا اور سب کو بھسم کر کے رکھدیا۔ یہ سزا ان کو ان کے اعمالِ مشرکانہ کی وجہ سے دی گئی قوم عاد قوم ثمود سے زیادہ سرکش تھی۔ کیونکہ اسے تو مسئلہ توحید کو سننا بھی گوارہ نہ تھا اور طغیان وعدوان پر اتر آئے ان دونوں قوموں میں یہی فرق تھا۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا۔ ” انا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی “ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہماری بات ہی نہ سنے اور زیادتی پر اتر آئے قوم عاد کی طرح یا بات تو سن لے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور اپنی نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ اس کا توازن برقرار رہے۔ زمین میں انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے اور اس کو با برکت بنادیا ۔ پھر اللہ نے سات آسمانوں کو جداجدا کردیا ۔ ہر آسمان کو اس کی مخلوق کے مناسب حال حکم جاری فرمایا ۔ آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اسے شیاطین اور جنات کی رسائی سے محفوظ کردیا ۔ یہ سب انعامات الٰہیہ ہیں اور توحید کے عقلی دلائل بھی ہیں ۔ اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت آسانی سے…
Read the full tafseer →وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَيْنٰہُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْہُدٰى فَاَخَذَتْہُمْ صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْہُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 17ۚ
ثمد
ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي :
قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله .
( ث م د ) ثمود
( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ا ؎ یعنی کثرت سے رسول آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَھَدَیْنٰـھُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی الْھُدٰی فَاَخَذَتْھُمْ صٰعِقَۃُ الْعَذَابِ الْھُوْنِ بِمَا کَانُوْا یَـکْسِبُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 17)
(اور رہے ثمود تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی، مگر انھوں نے راستہ دیکھنے کی بجائے اندھے پن کو ترجیح دی، تو آپکڑا ان کو ذلت کے عذاب کے کڑکے نے، اس سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے۔ )
قومِ ثمود کا رویہ اور ان پر عذاب
قومِ عاد کے بعد قوم ثمود کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یہ قوم بھی قوم عاد کی طرح بڑی مضبوط حیثیت کی مالک اور بڑی ترقی یافتہ قوم تھی۔ اور ہم مختلف مواقع پر ان کی تاریخ کا ذکر کرتے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا کردار اور انجام۔
اس قوم کو اصحاب الحجر بھی کہا گیا ہے۔ اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔
قوم ثمود کا کردار :
1۔ قوم ثمود اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61)
2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء :…
Read the full tafseer →ثمود کا اندھا پن : وَاَمَّا ثَمُوْدُ (اور وہ جو ثمود تھے)
نحو : ثمود کو مرفوع پڑھنا ابتداء کی وجہ سے زیادہ فصیح ہے اس لیے کہ یہ حرف ابتدء کے بعد واقع ہے۔ فَهَدَيْنٰهُمْ (سو ہم نے انہیں ہدایت دی) اور خبر فھدیناہم ہے اور منصوب پڑھنے کی صورت میں فعل مضمر ہے جس کی تفسیر فہدیناہم کر رہا ہے۔ معنی یہ ہوا ہم نے ہدایت ان کے سامنے کھول کر بیان کردی۔ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى (پس انہوں نے گمراہی کو بمقابلہ ہدایت کے پسند کیا) کفر کو ایمان پر ترجیح دی۔ فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ (پس ان کو عذاب کی آفت نے پکڑ لیا) صاعقہ عذاب کی بڑی مصیبت۔ الْهُوْنِ (سراپا ذلت) ، ذلت کو عذاب کی صفت…
Read the full tafseer →16، فارسلنا علیھم ریحا ضرصرا، سخت ہوا، من الصرۃ، سے ماخوذ ہے چیخ۔ بعض نے کہا کہ سخت سردی کی ہوا۔ فی ایام نحسات، حاء کے سکون کے ساتھ ۔ دوسرے قراء نے حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ضحاک (رح) کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تین سال بارش کا قحط لگائے رکھا اور ان پر لگاتار ہوائیں چلتی رہیں بغیر بارش کے۔ ، لنذیقھم عذاب الخزی ، ہول اورز (رح) لت والا عذاب۔ فی الحیوۃ الدنیا والعذاب الا خرۃ اخزی، سخت اہانت والا ۔ ، وھم لاینصرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
(واماثمود) اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انہیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی اللہ کی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی، اس لئے ثمود کے بارے میں فرمایا : (و اما ثمود فھدینھم) ” جو ثمود تھے، ہم نے انہیں سیدھا راستہ…
Read the full tafseer →29 قوم ثمود بھی ہلاکت و تباہی کی راہ پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ثمود کو بھی ہم نے ہدایت دی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن ہی کو اپنایا "۔ اور انہوں نے کفر و انکار کی اس راہ ہی کو اپنایا جو کہ دائمی تباہی اور ابدی ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے والی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس ڈگر پر قوم عاد کے بدبخت چلے تھے، ثمود کے لوگ بھی ہلاکت و تباہی کے اسی راستے پر چلے۔ اور بالآخر یہ بھی اسی انجام کو پہنچ کر رہے جس سے اس سے قبل وہ لوگ دوچار ہوچکے تھے۔ اور یہ ان کی اپنی کمائی کا لازمی نتیجہ اور طبعی تقاضا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دین و ہدایت اور وحی خداوندی کا نور ایک عظیم الشان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
آیات 9 تا 17۔
اسرار ومعارف۔
ان سے کہیے کہ تم اس ذات کو ماننے سے انکار کر رہے ہو جس نے دو روز میں زمین کو پیدا فرمایا اور اس کے مقابل دوسروں کو لاتے ہو اور انہیں معبود مانتے ہو جو کچھ پیدا تو کیا کرتے الٹا خود مخلوق کو یہی ذات سارے جہانوں کی پیدا کرنے والی بھی ہے اور پالنے والی بھی یہ اس کی حکمت کہ اس نے دوروز میں زمین بنائی پھر اس میں بھاری پہاڑ اور بیشمار برکات بےحساب نعمتیں رکھیں اپنی ہر ہرمخلوق کے لیے اس میں غذائیں سمودیں اور یہ ساراکام چار روز میں مکمل فرمایا کہ ساری مخلوق کی ہر ضرورت کو ہمیشہ پورا کرتی رہے گی اور یہ معنی بھی ہے کہ یہود مدینہ نے آپ سے زمین وآسمان کی تخلیق کے بارے میں جو…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی کافر رہنے کو ایمان لانے پر ترجیح دی۔
Read the full tafseer →(41:17) واما ثمود : رہی ثمود کی بات (ملاحظہ ہو آیت 41:15 متذکرۃ الصدر۔
فھدینھم : فاء جواب شرط کے لئے ہے۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ای بینالہم طریقی الرشد والضلالۃ۔ ہم نے ان کے لئے راست روی اور گمراہی ہر دو کے طریقے واضح کر دئیے۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے باری تعالیٰ کا :۔ وھدینہ النجدین (90:10) اور ہم نے اس کو (خیر وشر کے) دونوں راستے بھی دکھا دئیے۔
فاستحبوا العمی علی الھدی۔ ای اختاروا الکفر علی الایمان۔ ان العمی الکفر۔ یعنی انہوں نے ایمان کے مقابلہ میں جہالت اور کفر کو پسند کیا۔ العمی بمعنی کفر ہے۔ العمی عمی یعمی (باب سمع) سے مصدر ہے۔ اندھا پن ۔ اندھا ہونا ۔
فاخذتھم۔ اس میں فاء سببیہ ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
کافروں کی نافرمانی۔
(ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام
بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔
[8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ف 1: قوم ثمود کے پاس اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے پیغمبر بھیجا ۔ مگر انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ۔ ان کی راہنمائی کی گئی ۔ مگر انہوں نے جاہل رہنے کو ترجیح دی ۔ ان کو روشنی کی طرف بلایا گیا ۔ مگر انہوں نے اس سے محروم رہنا بہتر سمجھا ۔ اس لئے اللہ کا عذاب آیا ۔ اور وہ مٹا دیئے گئے ۔ بجز ان لوگوں کے جو مومن تھے ۔ اور جنہوں نے ازراہ احتیاط وتقویٰ رسول کی باتوں کو توجہ اور التفات سے سنا ۔ اور عقیدت مندی کے ساتھ قبول کیا ۔ اور یہ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ وہ صرف ان قوموں کو نعمت لقا و بخشتا ہے ۔ جو اس کے نواسیس کو مانتی ہیں ۔ اور اس کے حکموں کی پیروی کرتی ہیں ۔ وہ قوم جو سرکشی اختیار کرتی ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →(17) اور بہرحال وہ جو ثمود تھے ہم نے ان کو سیدھی راہ بتادی تھی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے رہنے کو پسند کیا لہٰذا ان کو ان کی اس کمائی کے بدلے میں جو وہ کمایا کرتے تھے ایک سخت ذلیل کن عذاب کے کر ا کے نے آپکڑا۔ یعنی پیغمبر کی بھیج کر ثمود کو ہدایت کی راہ بتائی مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں گمراہی کے اندھے پن کو پسند کیا اور گمراہ ہی رہے۔
آخر کار ان کو بھی ذلت و خواری کے عذاب کے ایک کڑاکے نے آپکڑا اور سب ذلت کی موت ہلاک کردیئے گئے کہتے ہیں ثمود ایک فرشتے کی ہولناک چیخ سے ہلاک کئے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ف 1۔ یہاں تک عذاب دنیوی کا ذکر تھا اور آگے عذاب آخرت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →رہی قوم ثمود تو ان کو بھی ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے اندھے پن کو محبوب سمجھا
17 ؎ ثمود قوم کی طرف صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا گیا تھا۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو ہدایت کی طرف بلایا لیکن عاد کی طرح انہوں نے بھی صالح (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی اور ایک لمبی مدت تک وہ مخالفت کرتے رہے اور قوم کے وڈیروں نے صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ اے صالح ہم تو آپ پر بہت امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ یہ لڑکا ہوگا تو کبھی نام آور ہوگا اور ہمارے علاقے ، بستی اور خاندان کا نام روشن کرے گا لیکن آپ کو نہ معلوم کیا ہوا کہ آپ بڑے ہو کر ہم سب کے باپ دادوں کا دین و مذہب ہی چھڑوانے لگے اور منع کرنے لگے کہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا (So, We let loose a wild wind on them - 41:16) This is the explanation of what was mentioned as ` calamity of ` Ad and Thamud' in the earlier verse. The Arabic word used in the text is sa` igah. It originally means ` something that renders one unconscious. That is why the thunderbolt is also called sa'iqah, and unforeseen calamity and disaster is also called sa` iqah. The storm which entrapped the people of ` Ad was also a 'sa'iqah', and has been mentioned in the present verse as ` wild wind' which was a wild tempest of extremely high speed and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
22 For the details of the story of Thamud see AI-A'raf: 73-79; Hud: 61.68; AI-ZHjr: 80-84; Bani Isra'il: 59; Ash-Shua`ara' :141.159; An-Naml: 45-53 and the E.N.'s.
Read the full tafseer →