Explained with ayahs 13–18
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب۔
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ میری تعلیم سے رو گردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء کی مخالف امتیں تم سے پہلے زیرو زبر کردی گئیں کہیں تمہاری شامت اعمال بھی تمہیں انہی میں سے نہ کر دے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے اور ان جیسے اوروں کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے پاس پے درپے رسول آئے اس گاؤں میں اس گاؤں میں اس بستی میں اس بستی میں اللہ کے پیغمبر اللہ کی منادی کرتے پھرتے لیکن ان کی آنکھوں پر وہ چربی چڑھی ہوئی تھی اور دماغ میں وہ گند ٹھسا ہوا تھا کہ کسی ایک کو بھی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 22
ثمود کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 57 تا 59، ہود، حواشی، 69 تا 74، الحجر، حواشی 42 تا 46، بنی اسرائیل، حاشی 68، جلد سوم، الشعراء، حواشی 95 تا 106، النمل، حواشی 58 تا 66
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
معارف و مسائل
(آیت) فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا۔ یہ اس عذاب صاعقہ کی تشریح ہے جو اس سے پہلے آیت میں صاعقہ عاد وثمود کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔ صاعقہ کے اصل معنے مدہوش وبے ہوش کرنے والی چیز کے ہیں اسی لئے گرنے والی بجلی کو بھی صاعقہ کہا جاتا ہے۔ اور ناگہانی آفت و مصیبت کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قوم عاد پر جو ہوا کا طوفان مسلط کیا گیا وہ بھی اسی صاعقہ کا ایک فرد ہے اسی کو ریح صرصر کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ جو تیز و تند ہوا کو کہا جاتا ہے، جس میں تیز رفتاری کے ساتھ سخت آواز بھی ہو۔ (قرطبی)
ضحاک نے فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے تین سال تک بارش بالکل بند کردی اور تیز…
Read the full tafseer →ونجینا الذین امنوا و کانوایتقون (18)
یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں سے نجات دی۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ رسولوں پر ایمان لائے اور انذار سے متنبہ ہو کر انہوں نے تقویٰ کی زندگی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب سے بچا لیا۔ اس آیت میں اشارہ عاد اور ثمود دونوں قوموں کے مومنین کی طرف ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں تفصیل ہے کہ ان قوموں میں سے جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے رسول کے ساتھ ان کو بھی عذاب سے محفوظ رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 یعنی ان کو توحید کی دعوت دی، اس کے دلائل ان کے سامنے واضح کئے اور ان کے پیغمبر حضرت صالح ؑ کے ذریعے سے ان پر حجت تمام کی۔
17۔ 2 یعنی انہوں نے مخالفت کی حتیٰ کہ اس اونٹنی تک کو ذبح کر ڈالا جو بطور معجزہ ان کی خواہش پر چٹان سے ظاہر کی گئی تھی اور پیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی۔
17۔ 2 صاعقۃ عذاب شدید کو کہتے ہیں ان پر یہ سخت عذاب چنگھاڑ اور زلزلے کی صورت میں آیا جس نے انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ تباہ و برباد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
9: قرآن و سنت کے متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ تمام دن اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، اور کسی بھی دن میں بذات خود کوئی عمومی نحوست نہیں ہوتی، اس لیے یہاں منحوس دنوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ دن ان لوگوں کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
آیت نمبر 13 تا 18
یہ فی حقیقت ایک خوفناک ڈراوا ہے۔
فان اعرضو۔۔۔۔ وثمود (41: 13) ” اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد ثمود پر نازل ہوا تھا “۔ یہ ڈراوا مشرکین کے جرائم اور نہایت ہی مکروہ بدکاریوں کے لیے نہایت مناسب تھا جس طرح کے غرور میں مشرکین مکہ مبتلا تھے ، جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ہوا ، نیز وہ اس پوری کائنات کی روش اطاعت سے بھی پھرے ہوئے تھے ، جس کا ذکر اس ڈراوے سے متصلا پہلے ہوا۔
اس ڈراوے کے قصے کے بارے میں ابن اسحاق نے روایت کی ہے یزید ابن زیادہ سے انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے ، انہوں نے کہا مجھے یہ بتایا…
Read the full tafseer →7 یعنی جو لوگ ایمان لائے اور بدی کے راستہ سے بچ کر چلتے تھے ان کو اللہ نے صاف بچا لیا۔ نزول عذاب کے وقت ان پر ذرا آنچ بھی نہیں آئی۔
Read the full tafseer →آیت 18 { وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ } ”اور ہم نے نجات دے دی ان کو جو ان میں سے ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی۔“
Read the full tafseer →22 یعنی سیدنا صالح کو عذاب نازل ہونے سے پہلے ہجرت کا حکم دے دیا گیا تھا۔ چناچہ آپ ایمانداروں کے ہمراہ جن کی تعداد ایک سو بیس کے لگ بھگ تھی، بحکم الٰہی ہجرت کرکے فلسطین کی طرف چلے گئے اور رملہ کے قریب جاکر آباد ہوئے۔ اسی مقام پر سیدنا صالح نے وفات پائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
18۔ یہ منظر اس وقت کا ہے، جب عرصہ محشر میں ان لوگوں کو دوزخ کے قریب لے آیا جائے گا، اور آگ ہی آگ انہیں ہر طرف نظر آئے گی۔ حساب کتاب اس وقت شروع ہورہا ہوگا۔ (آیت) ” ماجآء وھا “۔ مازائدہ یعنی تاکید کے لیے ہے۔ ما مزیدۃ للتاکید (مدارک) (آیت) ” فھم یوزعون “۔ دوزخیوں کا جھنڈ بیشمار ہوگا۔ ایک خاص مقام پر پہنچ کر آگے چلنے والوں کو روک دیا جائے گا کہ پیچھے والے بھی برابر آجائیں۔ اے یحبس اولھم علی اخرھم لیتلاحقوا وھو کنایۃ عن کثرتھم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
آیت نمبر 9 تا 18
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز…
Read the full tafseer →ونجینا الذین امنوا وکانوا یتقون اور (اس آفت سے) ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور (ہم سے) ڈرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17۔ 18) اور قوم صالح کی طرف ہم نے صالح کو بھیجا اور انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کفر و ایمان اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کیا تو انہوں نے کفر کو ایمان کے مقابلے میں پسند کیا تو ان کو سخت ترین عذاب نے گھیر لیا ان کے کفریہ اقوال و افعال اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کی وجہ سے اور ان لوگوں کو نجات دی جو حضرت صالح پر ایمان لائے تھے اور کفر و شرک اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے ڈرتے تھے۔
Read the full tafseer →ونجینا الذین امنوا …: یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب قدرت ہے کہ اتنے شدید عذاب : زلزلے، خوف ناک چیخ اور بجلیاں چمکنے اور گرن کے باوجود کسی مسلمان کا بال تک بیکا نہیں ہوا، وہ سب اللہ کے فضل سے صحیح سلامت رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
(واما ثمود۔۔۔۔ )
واما ثمود فھدینھم یعنی ہم نے ان کے لیے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور دوسرے علماء نے اما ثمود نصب کہ ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة الاعراف پر پسند کیا (1)
فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون۔ الھون ضمہ کے ساتھ ہے جس کا معنی ذلت و رسوائی ہے۔ ہون بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر جو کنانہ اور اسد سے تعلق رکھتا تھا۔ اھانہ اس کو حقیر و خفیف جانا اس کا اسم ھوان اور مھانہ ہے۔ صاعقہ کو عذاب کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ صاعقہ کہتے ہیں ہلاک کرنے والی چیز کو۔ گویا فرمایا : مھلک العذاب یعنی ایسا عذاب جو مہلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن میں جہاں بھی ” صعقۃ “ ہے اس کا معنی عذاب ہے۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “ (تم کو ایسی آواز سے ڈراتا ہوں جیسی آفت قوم عاد ثمود پر آئی تھی یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں عاد اور ثمود پر (عذاب کے) حملہ سے (آیت ) ” ریحا صرصرا “ (طوفان آندھی) یعنی ٹھنڈی ہوا۔ (آیت ) ” نحسات “ یعنی نحوستیں اور دشواریاں۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارسلنا علیہم ریحا صرصرا “ (ہم نے ان پر طوفان آندھی بھیجی) سے مراد ہے سخت منحوس۔
4:۔ ابن المنذر…
Read the full tafseer →وَنَجَّيْنَا [ اور ہم نے رہائی دی ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ] وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ [اور وہ جو تقوی اختیار کرتے تھے ]
Read the full tafseer →(وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ) (اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور ڈرتے تھے) یعنی اللہ تعالیٰ کا خوف کھاتے تھے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
استعجاب وتوبیخ برکفر خالق کائنات وتہدید بذکرانجام مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض ........ الی ......... وکانوایتقون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور اثبات رسالت نبی کریم ﷺ ، بطور تمہید ان امور کو ذکر کرکے اب ان آیات میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس امر پر اظہار تعجب کیا جارہا ہے کہ خالق کائنات (جس کی قدرت وخالقیت اور الوہیت کے دلائل روزروشن سے زائد واضح ہیں) کا انکار کوئی بھی صاحب عقل انسان کیونکر کرتا ہے، جب بھی انسان عقل اور فطرت کے معیار پر اس بات کو پرکھے گا کبھی بھی انکار خدا اور شرک کے امکان کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اس ذلیل میں…
Read the full tafseer →19:۔ ” ونجینا الذی امنوا۔ الایۃ “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت دنیوی ہے۔ قوم عاد وثمود میں سے جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور انبیاء (علیہم السلام) کی رہنمائی میں نیک عمل کیے اللہ نے انہیں دنیا کے رسوا کن عذاب سے بچا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور اپنی نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ اس کا توازن برقرار رہے۔ زمین میں انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے اور اس کو با برکت بنادیا ۔ پھر اللہ نے سات آسمانوں کو جداجدا کردیا ۔ ہر آسمان کو اس کی مخلوق کے مناسب حال حکم جاری فرمایا ۔ آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اسے شیاطین اور جنات کی رسائی سے محفوظ کردیا ۔ یہ سب انعامات الٰہیہ ہیں اور توحید کے عقلی دلائل بھی ہیں ۔ اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت آسانی سے…
Read the full tafseer →وَنَجَّيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ 18ۧ
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔
وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ا ؎ یعنی کثرت سے رسول آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَنَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 18)
(اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بدعملی سے بچتے تھے۔ )
نجات پانے والے اور ان کا رویہ
عاد وثمود کے انجام سے ان لوگوں کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنھوں نے ان قوموں جیسی روش اختیار کر رکھی ہے کہ وہ اپنی طاقت و دولت کے گھمنڈ میں کسی صحیح بات سننے کے روادار نہیں۔ لیکن اب پیش نظر آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لائے اور اس کی دعوت سے متأثر ہو کر انھوں نے تقویٰ کی زندگی اختیار کی۔ ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ کی شریعت کو دیکھنے اور اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا کردار اور انجام۔
اس قوم کو اصحاب الحجر بھی کہا گیا ہے۔ اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔
قوم ثمود کا کردار :
1۔ قوم ثمود اللہ کے ساتھ شرک کیا کرتی تھیں۔ (ھود : 62۔ 61)
2۔ ثمود انبیاء کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ (الشعراء :…
Read the full tafseer →وَنَجَّيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (اور ہم نے ان کو نجات دی جو ایمان لائے) جنہوں نے ہدایت کو گمراہی کے مقابلے میں چن لیا ہم نے ان کو اس صاعقہ سے بچا لیا۔ وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ (اور وہ ڈرتے تھے) ۔ اس بات سے کہ وہ اندھے پن کو ہدایت کے مقابلے میں منتخب کریں۔
Read the full tafseer →17، واما ثمود فھدیناھم، ہم نے ان کو پکارا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے ہم نے ان کے لیے راستہ واضح کردیا۔ بعض نے کہا ہم نے ان کے لیے خیر اور شرکاراستہ اختیار کرلیا۔ ، فاسحبوا العمی علی الھدی، ان کو اختیار دے دیا، ایمان یاکفرکا۔ ، فاخنتھم صاعقۃ العذاب، ہلاک کرنے والا عذاب۔ ، الھون، جوان کو ذلیل ورسوا کردینے والا۔ ، بماکانو ایکسبون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
(واماثمود) اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انہیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی اللہ کی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی، اس لئے ثمود کے بارے میں فرمایا : (و اما ثمود فھدینھم) ” جو ثمود تھے، ہم نے انہیں سیدھا راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
31 ایمان وتقویٰ باعث نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا ایمان اور تقویٰ والوں کو۔ یعنی اس ہولناک انجام اور عذاب استیصال سے "۔ سو ایمان و یقین اور تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت ہی انسان کے لئے نجات کا ذریعہ اور فوز و فلاح کا سبب ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ اِلَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنْعَمْۃِ الایمان بمحْضِ مَنِہّ وَکَرَمِہ ۔ اللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَ ثِبّتْ اَقْدَاَمَنَا علیٰ صراطک المستقیم ۔ آمین۔ یہاں پر { نجینا } کے ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ نجات دینے والے اور بچانے والے سب کے ہم ہی ہیں۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سب اسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
آیات 18 تا 25۔
اسرار ومعارف ۔
اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔
اعضاء کی گواہی۔
توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 7 یعنی اے کفار قریش ! ذرا اس دن کا تصور کرو جب۔۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →(41:18) وکانوا یتقون۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اور کانوا یتقون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ، اور وہ ہم سے ڈرتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 18 : رواسی ( بھاری پہاڑ ، بوجھ) اقوات ( قوت) ( کھانے کی چیزیں) قدر (اس نے مقرر کیا ، اندازہ کیا) دخان ( دھواں) طوعا (خوشی خوشی) کرھا ( زبردستی) طالعین (کہا ماننے والے) قضی (اس نے فیصلہ کیا) زینا (ہم نے زینت دی ، خوبصورت بنایا) مصابیح (چراغ) صعقۃ (کڑک) اشد (زیادہ طاقت والا) یجحدون (وہ انکار کرتے ہیں) ریح (ہوا) صرصر (سخت ، تند و تیز) نحسات (آفتوں والا) اخزی (زیادہ ذلیل کرنے والا) استحبوا (انہوں نے پسند کیا) الھون ( ذلیل و رسوال کرنا)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 18 : ان آیات میں کفار و مشرکین کو ان کے کفر و شرک پر آگاہ کرتے ہوئے زمین ، آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
کافروں کی نافرمانی۔
(ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
[7] اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا اور یہ شکل ظاہر ہے انہیں دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔ اس لئے متوجہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کی طرف توجہ فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا لیکن جس طرح ایک وسیع عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی کسی گوشے میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشے میں، اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام
بھی ہوا ہے۔ لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی یا آسمان۔
[8] ان آیات سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ف 1: قوم ثمود کے پاس اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے پیغمبر بھیجا ۔ مگر انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ۔ ان کی راہنمائی کی گئی ۔ مگر انہوں نے جاہل رہنے کو ترجیح دی ۔ ان کو روشنی کی طرف بلایا گیا ۔ مگر انہوں نے اس سے محروم رہنا بہتر سمجھا ۔ اس لئے اللہ کا عذاب آیا ۔ اور وہ مٹا دیئے گئے ۔ بجز ان لوگوں کے جو مومن تھے ۔ اور جنہوں نے ازراہ احتیاط وتقویٰ رسول کی باتوں کو توجہ اور التفات سے سنا ۔ اور عقیدت مندی کے ساتھ قبول کیا ۔ اور یہ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ وہ صرف ان قوموں کو نعمت لقا و بخشتا ہے ۔ جو اس کے نواسیس کو مانتی ہیں ۔ اور اس کے حکموں کی پیروی کرتی ہیں ۔ وہ قوم جو سرکشی اختیار کرتی ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →(18) اور جو لوگ ایمان لائے اور بچ کر چلے یعنی تقویٰ اور پرہیزگاری کے پابند رہے ان کو ہم نے بچا لیا۔ یعنی اہل ایمان اور تقویٰ شعارحضرات اس عذاب ہون سے محفوظ رہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عاد کا غرور توڑنے کی کمزوری مخلوق سے ان کو تباہ کروایا دلو کی مہینے میں آخر کے آٹھ دن تھے جن میں وہ بائو چلی۔ اور ثمود کے لئے فرماتے ہیں زلزلہ آیا ساتھ ایک آواز تند کے اس آواز سے جگر پھٹ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
ف 1۔ یہاں تک عذاب دنیوی کا ذکر تھا اور آگے عذاب آخرت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →عذاب الٰہی سے نجات صرف ان لوگوں کے حصہ میں آئی جو پرہیز گار تھے
18 ؎ اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو پرہیز گار اور نیک لوگ کہا گیا یہ وہی تھے جو صالح (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کرگئے تھے اور اس علاقہ کو چھوڑ گئے تھے گویا انہوں نے اپنے ہر معاملہ میں صالح (علیہ السلام) کی پیروی کی اور ان کی ہدایت کے مطابق عمل کیا یہاں تک کہ جب ان کو علاقہ چھوڑ دینے کا حکم دیا تو اس وقت بھی ان کو علاقے اور اپنے عزیزواقارب کی صحبت روک نہ سکی۔ یہی ان کے پرہیز گار ہونے کی بظاہر نشانی تھی اور اس عذاب سے وہی عذاب مراد ہے جس عذاب الٰہی نے ان کو ہلاک کیا اور ان کے پورے علاقے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ قوم ثمود کے حالات دیکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا (So, We let loose a wild wind on them - 41:16) This is the explanation of what was mentioned as ` calamity of ` Ad and Thamud' in the earlier verse. The Arabic word used in the text is sa` igah. It originally means ` something that renders one unconscious. That is why the thunderbolt is also called sa'iqah, and unforeseen calamity and disaster is also called sa` iqah. The storm which entrapped the people of ` Ad was also a 'sa'iqah', and has been mentioned in the present verse as ` wild wind' which was a wild tempest of extremely high speed and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
22 For the details of the story of Thamud see AI-A'raf: 73-79; Hud: 61.68; AI-ZHjr: 80-84; Bani Isra'il: 59; Ash-Shua`ara' :141.159; An-Naml: 45-53 and the E.N.'s.
Read the full tafseer →