Fussilat 41:19

Fussilat · from ayah 19

41:19

وَیَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَی النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ ۟وَيَوۡمَ يُحۡشَرُ اَعۡدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ‏

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention, O Muhammad], the Day when the enemies of Allah will be gathered to the Fire while they are [driven] assembled in rows,

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:19

اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ﻻئے جائیں گے اور ان (سب) کو جمع کر دیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس دن کا دھیان رکھو جب اللہ کے دشمنوں کو جمع کر کے آگ کی طرف لے جایا جائے گا، چنانچہ انہیں ٹولیوں میں بانٹ دیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس دن اﷲ کے دشمنوں کو دوزخ کی طرف جمع کر کے لایا جائے گا پھر انہیں روک روک کر (اور ہانک کر) چلایا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پھر ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ہانک کر لائے جائیں گے تو انہیں (گروہ در گروہ بننے کے لئے) روک لیا جائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس دن کا دھیان کرو جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف اٹھے کئے جائیں گے پس ان کی درجہ بندی ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (یاد کرو اس ہولناک دن کو) جس دن کہ گھیر لایا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو دوزخ کی طرف پھر ان کو روک دیا جائے گا ان کے پچھلوں کے آنے تک

— مولانا اسحاق مدنی

اور (یاد لائیے انہیں وہ دن) جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے پھر وہ روکے جائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن اللہ کے یہ دشمن جمع کیے جائیں گے آگ کی طرف تو ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Imagine the Day when Allah's enemies will be mustered to the Fire, and the people of the former times will be detained until the arrival of people of the later times,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Remind them of) the day when Allah‘s enemies will be mustered towards the Fire. So they will be kept under control,

— Muhammad Taqi Usmani

(Remind them of) the day when Allah‘s enemies will be mustered towards the Fire. So they will be kept under control,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) the Day that the enemies of Allah will be gathered to the Fire, then they will be driven.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (make mention of) the day when the enemies of Allah are gathered unto the Fire, they are driven on

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention, O Muhammad], the Day when the enemies of Allah will be gathered to the Fire while they are [driven] assembled in rows,

— Saheeh International

They will be spurred on

— Muhammad Sarwar

And on the day that the enemies of Allah shall be brought together to the fire, then they shall be formed into groups.

— Muhammad Habib Shakir

And warn them of the Day whereon the enemies of Allah will be gathered Unto the Fire; and they will be set in bands.

— Abdul Majid Daryabadi

On the Day that the enemies of Allah will be gathered together to the Fire, they will be marched in ranks.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–24

انسان اپنا دشمن آپ ہے۔ یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے جیسے فرمان ہے (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86؀ۘ) 19۔ مریم :86) یعنی گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کردیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضا کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے۔ کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ کہیں گے اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 23 اصل مدعا یہ کہنا ہے کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ لیکن اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ کیونکہ ان کا انجام آخر کار دوزخ ہی میں جانا ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 24 یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک ایک نسل اور ایک ایک پشت کا حساب کر کے اس کا فیصلہ یکے بعد دیگرے کیا جاتا رہے، بلکہ تمام اگلی پچھلی نسلیں بیک وقت جمع کی جائیں گی اور ان سب کا اکٹھا حساب کیا جائے گا۔ اس لیے کہ ایک شخص اپنی زندگی میں جو کچھ بھی اچھے اور برے اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتے بلکہ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

(آیت) فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۔ یہ وزع سے مشتق ہے جس کے معنی روکنے اور منع کرنے کے آتے ہیں، اسی کے مطابق خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ترجمہ روکنے سے کیا گیا ہے۔ اور اکثر حضرات مفسرین نے یہی معنی لئے ہیں کہ اہل جہنم جو بڑی تعداد میں ہوں گے ان کو میدان حشر اور موقف حساب کی طرف جانے کے وقت انتشار سے بچانے کے لئے اگلے حصہ کو کچھ روک دیا جائے گا، تاکہ پچھلے لوگ بھی آ ملیں۔ اور بعض حضرات مفسرین نے یوزعون کا ترجمہ یساقون و یدفعون سے کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو موقف حساب کی طرف ہانک کر دھکے دے کر لایا جائے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ ویوم یحشرا عدآعا اللہ الی النار فھم یوزعون (19) دنیا کے عذاب کے بعد آخرت کی رسوائی دنیا کے عذاب کے بعد اب یہ ان کی اس رسوائی اور عذاب کا ذکر آ رہا ہے جس سے ان کو قیامت کے دن سابقہ پیش آئے گا۔ ’ یحشر ‘ کے بعد ’ الی ‘ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ لفظ ’ یساقون ‘ یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے۔ ’ یوزعون ‘ کی وضاحت سورة نمل کی آیت 17 کے تحت ہوچکی ہے۔ ہمارے نزدیک اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ان کی درجہ بندی کی جائے گی، شاہ عبد القادر صاحب ؒ نے اپنے ترجمہ میں لفظ کے اس مفہوم کا لحاظ رکھا ہے۔ فرمایا کہ اس دن کا بھی دھیان کرو جس دن اللہ کے یہ سارے دشمن ہانک کر جہنم کے پاس اکٹھے کئے جائیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 یہاں اذکر محذوف ہے وہ وقت یاد کرو جب اللہ کے دشمنوں کو جہنم کے فرشتے جمع کریں گے یعنی اول سے آخر تک کے دشمنوں کا اجتماع ہوگا۔ 19۔ 1 ای یحبس اولھم علی آخرھم لیلا حقوا (فتح القدیر) یعنی ان کو روک روک کر اول وآخر کو باہم جمع کیا جائے گا اس لفظ کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورة النمل آیت نمبر 17 (وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ) کا حاشیہ

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–19

9: قرآن و سنت کے متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ تمام دن اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، اور کسی بھی دن میں بذات خود کوئی عمومی نحوست نہیں ہوتی، اس لیے یہاں منحوس دنوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ دن ان لوگوں کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

اب جبکہ فطرت کائنات کے اندر اللہ کی قوتوں کا مطالعہ کرلیا گیا۔ انسانی تاریخ میں اللہ کے فیصلوں کو ہم نے دیکھ لیا کہ کتنی کتنی طاقتور تہذیبوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ اب اللہ ان کو بتاتا ہے کہ خود نفس انسانی پر اللہ کی بادشاہت کس طرح قائم ہے کہ خود اپنی ذات کی کسی چیز کے بھی وہ مالک نہیں ہیں۔ اور اللہ کے اقتدار سے وہ اپنی ذات کی کوئی چیز بھی بچا کر نہیں رکھ سکتے۔ یہاں تک کہ ان کے کان ، ان کی آنکھیں ، ان کا گوشت و پوست بھی اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور جب قیامت کا دن آئے گا تو یہ سب خود انسان پر گواہ ہوں گے۔ اس وقت انسان کی حیرانگی کا عالم کیا ہوگا ! ملاحظہ کیجئے :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ہر ایک قسم کے مجرموں کی الگ الگ جماعت ہوگی اور یہ سب جماعتیں ایک دوسرے کے انتظار میں جہنم کے قریب روکی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 { وَیَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآئُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ } ”اور جس دن اللہ کے یہ دشمن جمع کیے جائیں گے آگ کی طرف تو ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔“ ظاہر ہے کردار و اعمال کے حوالے سے اہل جہنم سب برابر نہیں ہوں گے۔ ہر مجرم کا عذاب اس کے جرم کے مطابق ہوگا۔ چناچہ وہاں جرائم اور سزائوں کی اقسام کے مطابق اہل جہنم کو الگ الگ جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 روکنے کی دو صورتیں یا وجوہ ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ مجرموں کی الگ الگ جرائم کے مطابق گروہ بندی کی جائے۔ دوسری یہ کہ پہلی نسل کو بعد میں آنے والی نسلوں کے آنے تک روک دیا جائے۔ تاکہ پہلی نسلوں نے جو شرکیہ عقائد اور رسوم چھوڑے اور انہیں بعد والی نسلوں نے تقلید آباء کے طور پر قبول کیا۔ تو ان بعد والی نسلوں کے گناہوں کی سزا کا کچھ حصہ ان پہلی نسلوں پر بھی ڈالا جائے گا۔ جنہوں نے ان شرکیہ عقائد و رسوم کو رواج دیا تھا یا کسی دوسرے برے کام کی طرح ڈالی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–20

18۔ یہ منظر اس وقت کا ہے، جب عرصہ محشر میں ان لوگوں کو دوزخ کے قریب لے آیا جائے گا، اور آگ ہی آگ انہیں ہر طرف نظر آئے گی۔ حساب کتاب اس وقت شروع ہورہا ہوگا۔ (آیت) ” ماجآء وھا “۔ مازائدہ یعنی تاکید کے لیے ہے۔ ما مزیدۃ للتاکید (مدارک) (آیت) ” فھم یوزعون “۔ دوزخیوں کا جھنڈ بیشمار ہوگا۔ ایک خاص مقام پر پہنچ کر آگے چلنے والوں کو روک دیا جائے گا کہ پیچھے والے بھی برابر آجائیں۔ اے یحبس اولھم علی اخرھم لیتلاحقوا وھو کنایۃ عن کثرتھم (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–25

آیت نمبر 19 تا 25 ترجمہ : اور وہ دن یاد کرو کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (یَحْشُرُ ) میں یاء اور نون مفتوح اور شین کے ضمہ کے ساتھ اور (اَعْدَاءَ ) کے (آخری) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے قریب آجائیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ (لوگ) اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے ہمیں اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو جس کو چاہا بولنے کی طاقت بخشی اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے، کہا گیا ہے کہ وہ (یعنی وھو خلَقَکم اول مرّۃ الخ) کھالوں کا کلام ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار فھم یوزعون۔ اور (یاد دلائیے ان کو) وہ دن کہ جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف (لے جانے کیلئے) جمع کئے جائیں گے ‘ پھر روکے جائیں گے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

قیامت کے دن جبکہ صفوان بن امیہ اور اس کے دونوں داماد ربیعہ بن عمرو اور تمام کفار کو دوزخ کی طرف لایا جائے گا اور پھر ترتیب وار روکے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار : لفظ ”یوم“ ”اذکر“ کا مفعول ہے جو یہاں مقدر ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ واؤ کا عطف کس پر ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے پہلے انبیاء کو جھٹلانے والے منکرین پر دنیا میں آنے والے عذابوں کا ذکر فرمایا تھا، اب آخرت میں ان کے ہونے والے حال کا ذکر فرمایا۔ چناچہ آخرت کا حال یاد دلانے والے اس جملے کا عطف اس مقدر جملے پر ہے جس میں ان پر دنیا میں آن والے عذاب یاد دلائے گئے ہیں۔ گویا اصل عبارت یہ تھی ”اذکر ایام اعداء اللہ فی الدنیا فی انزال العذاب لھم واذکر یوم یحشرون الی النار۔“ یعنی ”انہیں اللہ کے دشمنوں پر دنیا میں آنے والے عذابوں کی یاد دہانی کرو اور انہیں وہ دن یاد دلا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–21

(واما ثمود۔۔۔۔ ) واما ثمود فھدینھم یعنی ہم نے ان کے لیے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور دوسرے علماء نے اما ثمود نصب کہ ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة الاعراف پر پسند کیا (1) فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون۔ الھون ضمہ کے ساتھ ہے جس کا معنی ذلت و رسوائی ہے۔ ہون بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر جو کنانہ اور اسد سے تعلق رکھتا تھا۔ اھانہ اس کو حقیر و خفیف جانا اس کا اسم ھوان اور مھانہ ہے۔ صاعقہ کو عذاب کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ صاعقہ کہتے ہیں ہلاک کرنے والی چیز کو۔ گویا فرمایا : مھلک العذاب یعنی ایسا عذاب جو مہلک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–24

1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ (اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے پھر روکے جائیں گے) یعنی ان میں سے پہلے کو آخری پر روک دیا جائے گا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور ابورزین (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوزعون “ سے مراد ہے کہ ان کو دھکیل دیا جائے گا۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ میں ” الوزعہ “ سے مراد ہے فرشتوں میں سے ہانکنے والے کہ وہ ان کو دوزخ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ يُحْشَرُ [اور جس دن اکٹھا کئے جائیں گے ] اَعْدَاۗءُ اللّٰهِ [اللہ کے دشمن ] اِلَى النَّارِ [ آگ کے طر] فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ [ پھر ان کی صف بندی کی جائے گی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کے دشمنوں کا دوزخ کی طرف جمع کیا جانا ان کے اعضاء کا ان کے خلاف گواہی دینا اور عذاب سے کبھی چھٹکارا نہ ہونا ان آیات میں اللہ کے دشمنوں یعنی کافروں کی مصیبت بیان فرمائی کہ قیامت کے دن انہیں دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا جماعتیں جماعتیں بن کر اس کے قریب پہنچیں گے ایک جماعت آئے گی وہ روک لی جائے گی پھر دوسری جماعت آئے گی وہ بھی روک لی جائے گی جب یہ جماعتیں جمع ہوجائیں گی اور دوزخ کے قریب پہنچ جائیں گے تو ان کے خلاف ان کے کان اور آنکھیں اور کھالیں گا ہی دیں گی دنیا میں جو جو حرکتیں کی تھیں یہ اعضاء سب بتادیں گے کہ اس شخص نے ہمیں ایسے ایسے کاموں میں استعمال کیا آنکھیں اور کان تو اعضاء ہیں اس دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–32

تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 20:۔ ” ویوم یحشر “ تا ” فما ھم من المعتبین “ تخویف دنیوی کے بعد تخویف اخروی کا بیان ہے۔ قیامت کے دن جب دشمنانِ خدا (کفار و مشرکین) کو دوزخ کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا۔ تو جہنم کے کنارے پر انہیں روک دیا جائے گا۔ تاکہ سب جمع ہوجائیں۔ قال قتادۃ والسدی یحبس اولہم علی اخرھم حتی یجتمعوا (قرطبی ج 15 ص 350) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–25

ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی سر کشی اور انکار نبوت اور پھر ان کے ساتھ دنیا میں ہونے والے سلوک کا ذکر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا تھا تو کسی فرشتے کو اپنا پیغام دے کر بھیج دیتا تو ہم ایمان لے آتے ، ہم کسی انسان کو نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر ان قوموں نے توحید و رسالت دونوں کا انکار کیا ۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر تند ہوا بھیج دی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَاۗءُ اللہِ اِلَى النَّارِ فَہُمْ يُوْزَعُوْنَ۝ 19 حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–24

ترکیب : یوم ظرف لما دل علیہ مابعدہ وھو قولہ فہم یوزعون ان یشہد ای من ان یشھد لان یستتر لایتعدی بنفسہ و ذلکم مبتداء و ظنکم خبرہ الذی لغت للخبر او خبر بعد خبر واردکم خبر آخر ویجوزان یکون الجمیع صفت او بدلاء و ارادکم الخبر و یجوزان یکون حالا یستعتبوایطلب العتبیٰ ۔ تفسیر : دنیا کی سزا بیان کرکے آخرت کی سزا اور اس عالم کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ بیان کامل ہوجاوے فقال و یوم یحشر کہ جس روز دشمنان خدا آتش جہنم کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے، ان کو ٹھہراویں گے۔ یہاں تک کہ سب جمع ہوجاویں گے، پھر ان کے اعمال قبیحہ پر ان کی آنکھیں اور کان جلدیں گواہی دیں گے۔ حواس گو پانچ ہیں، مگر قوت شامہ سے کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآئُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَھُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 19) (اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے، پھر وہ روکے جائیں گے۔ ) یُحْشَرُکے بعد اِلیٰ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یُحْشَرُ ، یُسَاقُوْنَیا اس کے ہم معنی کسی لفظ کے مفہوم میں ہے۔ یعنی وہ لوگ گھیر کر اور کھینچ کر ہانکتے ہوئے لائے جائیں گے۔ یُوْزَعُوْنَ وزع سے مشتق ہے جس کے معنی روکنے اور منع کرنے کے آتے ہیں۔ دنیا کے عذاب کے بعد آخرت کی رسوائی تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں قومیں دنیا ہی میں جس طرح عذاب کا شکار ہو کر رسوائی کا حوالہ بنتی رہی ہیں عاد وثمود کے ذکر سے اس کی یاددہانی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–21

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد اور ثمود دنیا میں ذلّت کی موت مرے اور آخرت میں انہیں جہنّم میں داخل کیا جائے گا۔ اس سے پہلے قوم عاد اور ثمود کی تباہی کا ذکر ہوا جس میں یہ بتایا گیا کہ ہم نے صالح کردار ایمانداروں کو عذاب سے بچا لیا۔ تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ صاحب ایمان اور صالح کردار کو کس طرح بچایا گیا تاہم یہ بات حقیقت ہے کہ جس نبی کی موجودگی میں اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور اس کے ساتھیوں کو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ لوگ عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ اب مجرموں کے اخروی انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی ابتدا یوں ہوگی کہ جب محشر کے میدان میں تمام لوگ اکٹھے ہوں گے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تذکرہ حشر : وَيَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَاۗءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ (جس دن اللہ تعالیٰ کے دشمن آگ کی طرف جمع کر کے لائے جائیں گے) اعداء اللہ سے کفار مراد ہیں جو اولین و آخرین میں سے ہوں گے۔ قراءت : نافع اور یعقوب نے نحشُرُ پڑھا ہے۔ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ (پھر وہ روکے جائیں گے) ان کے اول شخص کو پچھلے کی آمد تک روک لیا جائے گا۔ در اصل اس تعبیر سے ان کی کثرت تعداد بیان کرنا مقصود ہے۔ یہ اصل میں وزعتہ ای کففتہ سے ہے یعنی میں اس کو روکا سے لیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 19–20

19، ویوم یحشراعداء اللہ الی النار، نافع اور یعقوب رحمہما اللہ نے، نحشر، نون کے ساتھ اور ، اعداء ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء اور اس کے پیش اور شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، اعداء کو مرفوع پڑھا ہے۔ یعنی وہ جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ ، فھم یوزعون، ہانکے جائیں گے جہنم کی طرف ۔ قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے پہلے لوگوں کو روکاجائے گا، پچھلوں کے لیے تاکہ وہ مل جائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–21

13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 (واماثمود) اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انہیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی اللہ کی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی، اس لئے ثمود کے بارے میں فرمایا : (و اما ثمود فھدینھم) ” جو ثمود تھے، ہم نے انہیں سیدھا راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

31 ایمان وتقویٰ باعث نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا ایمان اور تقویٰ والوں کو۔ یعنی اس ہولناک انجام اور عذاب استیصال سے "۔ سو ایمان و یقین اور تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت ہی انسان کے لئے نجات کا ذریعہ اور فوز و فلاح کا سبب ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ اِلَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنْعَمْۃِ الایمان بمحْضِ مَنِہّ وَکَرَمِہ ۔ اللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَ ثِبّتْ اَقْدَاَمَنَا علیٰ صراطک المستقیم ۔ آمین۔ یہاں پر { نجینا } کے ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ نجات دینے والے اور بچانے والے سب کے ہم ہی ہیں۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سب اسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–29

حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 18–25

آیات 18 تا 25۔ اسرار ومعارف ۔ اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔ اعضاء کی گواہی۔ توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:19) ویوم : واؤ عاطفہ ہے اور اس کا عطف قل انذرتکم صعقۃ آیت 13 متذکرہ بالا۔ پر ہے۔ یوم منصوب بوجہ فعل مقدرہ کے مفعول ہونے کے ہے۔ ای اذکر یوم : اور (ان کو) یاد دلائیے وہ دن کہ ۔۔ یا یہ یحشر کا مفعول فیہ (ظرف زمان) ہے۔ یحشر ۔۔ الی : مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ جمع کرکے لے جائے جائیں گے۔ فہم یوزعون فاء تفصیلیہ ہے (یعنی فاء ترتیب ذکری جو مفصل کو مجمل پر عطف کرنے کو کہتے ہیں ۔ اس کی مثال : ونادی نوح ربہ فقال رب ۔۔ الآیۃ (11:45) الاتقان جلد اول نوع چالیسویں الفائ۔ یوزعون : مضارع مجہول واحد مذکر غائب وزع مصدر (باب فتح) ان کو جمع کیا جائے گا۔ وزع کے اصل معنی ہیں روک دینا۔ اور وزع الجیش (غیر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–25

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25 : یحشر ( اکٹھے کئے جائیں گے) یوزعون (گروہوں میں تقسیم ہوں گے) شھد (اس نے گواہی دی) جلود (جلد) ( کھالیں ، گوشت پوست ، چمڑے) لم شھدتم (تم نے گواہی کیوں دی) انطقنا (ہمیں بولنے کی طاقت دی) مرۃ (مرتبہ ، باربار) تستترون ( تم پردہ کرتے ہو ، چھپاتے ہو) اردی ( اردائ) (ہلاک کیا ، تباہ کیا) یستعتبوا (راضی کریں گے) قیضنا (ہم نے مقرر کردیا) تشریح : آیت نمبر 19 تا 25 : انسان راز داری کے ہزاروں پردوں کے اندر چھپ کر کوئی کام کرے یا اعلانیہ کھلم کھلا ۔ اللہ کو اس کی ایک ایک ایک حرکت کا علم ہوتا ہے۔ جس بات کو دنیا کا کوئی آدمی نہیں جانتا اور ہر ایک سے پوشیدہ ہے اللہ کو اس کا بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–22

کافروں کی نافرمانی۔ (ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–21

ف 1: قوم ثمود کے پاس اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے پیغمبر بھیجا ۔ مگر انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ۔ ان کی راہنمائی کی گئی ۔ مگر انہوں نے جاہل رہنے کو ترجیح دی ۔ ان کو روشنی کی طرف بلایا گیا ۔ مگر انہوں نے اس سے محروم رہنا بہتر سمجھا ۔ اس لئے اللہ کا عذاب آیا ۔ اور وہ مٹا دیئے گئے ۔ بجز ان لوگوں کے جو مومن تھے ۔ اور جنہوں نے ازراہ احتیاط وتقویٰ رسول کی باتوں کو توجہ اور التفات سے سنا ۔ اور عقیدت مندی کے ساتھ قبول کیا ۔ اور یہ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ وہ صرف ان قوموں کو نعمت لقا و بخشتا ہے ۔ جو اس کے نواسیس کو مانتی ہیں ۔ اور اس کے حکموں کی پیروی کرتی ہیں ۔ وہ قوم جو سرکشی اختیار کرتی ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ کے دشمن آگ کی طرف جمع کیے جائیں گے پھر ان کو اکٹھا کرنے کے لئے روکاجائیگا۔ یعنی پچھلے آنے والے پہلوں سے آملیں جیسا کہ سورة نمل میں ہم حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکروں کے بارے میں کہہ آئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا دوزخ کے پاس لاکر اس میں دھکیلے جائیں گے اور بعض نے کہا ہنکائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–21

ف 2۔ پس جو خدا ایسا قادر اور عظیم الشان ہو اس کے سامنے اس کے پوچھنے پر ہم حق کو کیسے چھپا سکتے تھے۔ کہ اس کی عظمت اس سے مانع تھی، اس لئے ہم نے گواہی دے دی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دن کہ اس طرح کے سارے اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف چائے جائیں گے 19 ؎ مطلب یہ ہے کہ قوم عاد کے کافر ہوں یا قوم ثمود کے یا دوسری اقوام سے تعلق رکھنے والے یہاں تک کہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے عداوت اور مخالفت رکھنے والے سب کو ایک روز دوزخ کی طرف گھیر کر لایا جائے گا وہ جہاں بھی ہیں جیسے بھی ہیں اور جو کچھ بھی ہیں اور ان میں سے کسی زور آور سے زور آور کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ دوزخ کی طرف چلائے جانے سے انکار کرے اور سر پھیرے کیونکہ اس وقت ان سب کا سارا تکبر ہوا ہوچکا ہوگا اور ان غباروں سے ہوا خارج ہوچکی ہوگی اور یہ ظاہر ہے کہ ان کو دوزخ کی طرف لایا جائے گا تو پہلے عدالت الٰہی سے پیشی بھگت کر ہی ان کو آنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

فَهُمْ يُوزَعُونَ (So they will be kept under control…...41:19) The original word used in the text is ` Yuza’ un' which is derived from waz' which means ` to stop', ` to prevent'. Most of the learned exegetes have explained it in the sense that when people of Hell, who will be numerous, will be taken forward to the field of hashr and the place of reckoning, the people in the front will be halted for a while, so that the people in the rear also catch up with them. This will be done to avoid indiscipline. (It is this interpretation of the verse on the basis of which it is translated as ` kept…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 What is meant to be said have is: "When they will be rounded up to be presented in the Court of Allah," though the words used are to the effect: "When they will be gathered to be driven to Hell," for Hell in any case will be their final destination. 24 That is, All the former and latter generations and races will be gathered together at a time and called to account together, For whatever a person does in his lifetime, whether good yr evil, its influence and impact dces not end with his life; but continues to operate even after his death for long periods of time, for which he is totally…

Read the full tafseer →