Explained with ayahs 19–24
انسان اپنا دشمن آپ ہے۔
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے جیسے فرمان ہے (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86ۘ) 19۔ مریم :86) یعنی گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کردیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضا کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے۔ کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ کہیں گے اللہ…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 25
احادیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ جب کوئی ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار ہی کرتا چلا جائے گا اور تمام شہادتوں کو بھی جھٹلانے پر تل جائے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے جسم کے اعضاء ایک ایک کر کے شہادت دیں گے کہ اس نے ان سے کیا کیا کام لیے تھے۔ یہ مضمون حضرت انس، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابن عباس ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے اور مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بزّار وغیرہ محدثین نے ان روایات کو نقل کیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 55)۔
یہ آیت منجملہ ان بہت سی آیات کے ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(آیت) فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۔ یہ وزع سے مشتق ہے جس کے معنی روکنے اور منع کرنے کے آتے ہیں، اسی کے مطابق خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ترجمہ روکنے سے کیا گیا ہے۔ اور اکثر حضرات مفسرین نے یہی معنی لئے ہیں کہ اہل جہنم جو بڑی تعداد میں ہوں گے ان کو میدان حشر اور موقف حساب کی طرف جانے کے وقت انتشار سے بچانے کے لئے اگلے حصہ کو کچھ روک دیا جائے گا، تاکہ پچھلے لوگ بھی آ ملیں۔ اور بعض حضرات مفسرین نے یوزعون کا ترجمہ یساقون و یدفعون سے کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو موقف حساب کی طرف ہانک کر دھکے دے کر لایا جائے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →فرمایا کہ جب دوزخ کے پاس سب اکٹھے ہو لیں گے تو یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کون کس درجہ کا مجرم اور جنم کے کس طبقہ کا سزا وار ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی زحمت پیش نہیں آئے گی اس لئے کہ اس دن کئی اپنے کسی عمل کو چھپا نہیں سکے گا۔ آدمی کے کان، آنکھ، بلکہ اس کے جسم کے رونگٹے تک اس کے تمام اعمال کی گواہی دیں گے۔
لفظ ’ جلود ‘ یہاں خاص کے بعد عام کی حیثیت سے آیا ہے۔ ’ سمع ‘ اور ’ بصر ‘ کا خاص گواہ ہونا تو واضح ہے کہ ہر چیز کے سننے اور دیکھنے والے یہی ہیں لیکن آدمی کے پاس اور بھی اعضا وجوارح ہیں جن سے وہ بدی یا نیکی میں کام لیتا ہے۔ لفظ ’ جلود ‘ نے ان سب کا احاطہ کرلیا ہے۔ گویا اس دن آدمی کے بدن کارواں دواں…
Read the full tafseer →20۔ 1 یعنی جب وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا، تو اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے اعضاء بول کر گواہی دیں گے کہ یہ فلاں فلاں کام کرتے رہے۔ اذا ما جاءوھا میں ما زائد ہے تاکید کے لیے انسان کے اندر پانچ حواس ہیں یہاں دو کا ذکر ہے تیسری جلد میں کھال کا ذکر ہے جو مس یا لمس کا آلہ ہے یوں حواس کی تین قسمیں ہوگئیں باقی دو حواس کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ ذوق بوجہ لمس میں داخل ہے کیونکہ یہ چکھنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس شئے کو زبان کی جلد پر نہ رکھا جائے اسی طرح سونگھنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ شئے ناک کی جلد پر نہ گزرے اس اعتبار سے جلود کے لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
10: شروع میں مشرک لوگ بوکھلاہٹ کے عالم میں یہ جھوٹ بول جائیں گے کہ ہم نے تو کبھی شرک نہیں کیا تھا، جیسا کہ قرآن کریم نے سورة انعام : 23 میں بیان فرمایا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ خود انہی کے جسم کے مختلف حصوں سے ان کے خلاف گواہی دلوائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اب جبکہ فطرت کائنات کے اندر اللہ کی قوتوں کا مطالعہ کرلیا گیا۔ انسانی تاریخ میں اللہ کے فیصلوں کو ہم نے دیکھ لیا کہ کتنی کتنی طاقتور تہذیبوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ اب اللہ ان کو بتاتا ہے کہ خود نفس انسانی پر اللہ کی بادشاہت کس طرح قائم ہے کہ خود اپنی ذات کی کسی چیز کے بھی وہ مالک نہیں ہیں۔ اور اللہ کے اقتدار سے وہ اپنی ذات کی کوئی چیز بھی بچا کر نہیں رکھ سکتے۔ یہاں تک کہ ان کے کان ، ان کی آنکھیں ، ان کا گوشت و پوست بھی اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور جب قیامت کا دن آئے گا تو یہ سب خود انسان پر گواہ ہوں گے۔ اس وقت انسان کی حیرانگی کا عالم کیا ہوگا ! ملاحظہ کیجئے :
Read the full tafseer →9 دنیا میں کانوں سے آیات تنزیلیہ سنیں اور آنکھوں سے آیات تکوینیہ دیکھیں، مگر کسی کو نہ مانا۔ ہر بن مو سے خدا کی نافرمانی کرتے رہے یہ خبر نہ تھی کہ گناہوں کا یہ سارا ریکارڈ خود انہی کی ذات میں محفوظ ہے جو وقت پر کھول دیا جائے گا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر میں کفار اپنے جرائم کا زبان سے انکار کریں گے۔ اس وقت حکم ہوگا کہ ان کے اعضاء کی شہادت پیش کی جائے جن کے ذریعہ سے گناہ کیے تھے چناچہ ہر ایک عضو شہادت دیے گا اور اس طرح زبان کی تکذیب ہوجائے گی۔ تب مبہوت و حیران ہو کر اپنے اعضاء کو کہے گا (کم بختو ! ) دور ہوجاؤ ! تمہاری ہی طرف سے تو میں جھگڑتا اور مدافعت کر رہا تھا (تم خود ہی اپنے جرموں کا…
Read the full tafseer →آیت 20{ حَتّٰٓی اِذَا مَا جَآئُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”یہاں تک کہ جب یہ وہاں پہنچیں گے تو ان کے خلاف گواہی دیں گے ان کے کان ‘ ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں اس بارے میں جو کچھ کہ وہ کرتے رہے تھے۔“
”شہادت“ کے بارے میں یہ بات بتکرار و اعادہ بیان کی جا چکی ہے کہ شہادت کسی کے خلاف ہوتی ہے اور کسی کے حق میں۔ چناچہ شَھِدَ کے بعد اگر عَلٰی کا صلہ ہو تو اس کے معنی کسی کے خلاف گواہی دینے کے ہوں گے جیسا کہ آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے جبکہ شَھِدَ کے ساتھ ”ل“ کا صلہ آنے کی صورت میں کسی کے حق میں گواہی کا مفہوم نکلے گا۔ مثلاً : {…
Read the full tafseer →24 اعضاء اور جوارح پر اعمال کے اثرات اور ان کی گواہی :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس دنیا میں جو بھی اچھے یا برے اعمال بجا لاتا ہے۔ یہی نہیں کہ کراماً کاتبین اس کے اعمال نامہ میں اس کے سب اعمال و اقوال درج کرتے جاتے ہیں بلکہ ان اعمال و افعال کے اثرات ان اعضاء پر بھی ثبت ہوتے جاتے ہیں جن کو اس کام کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔ جو مجرم اپنے گناہوں کا اور پھر خارجی گواہیوں کا بھی انکار کردیں گے ان پر انہیں کے اعضاء کو گواہ بنا کر لایا جائے گا۔ اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن ذرات سے ہمارا جسم مرکب ہے۔ انہی ذرات سے ہمارا وہ جسم بھی مرکب ہوگا جو قیامت کے دن ہماری روح کو ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
18۔ یہ منظر اس وقت کا ہے، جب عرصہ محشر میں ان لوگوں کو دوزخ کے قریب لے آیا جائے گا، اور آگ ہی آگ انہیں ہر طرف نظر آئے گی۔ حساب کتاب اس وقت شروع ہورہا ہوگا۔ (آیت) ” ماجآء وھا “۔ مازائدہ یعنی تاکید کے لیے ہے۔ ما مزیدۃ للتاکید (مدارک) (آیت) ” فھم یوزعون “۔ دوزخیوں کا جھنڈ بیشمار ہوگا۔ ایک خاص مقام پر پہنچ کر آگے چلنے والوں کو روک دیا جائے گا کہ پیچھے والے بھی برابر آجائیں۔ اے یحبس اولھم علی اخرھم لیتلاحقوا وھو کنایۃ عن کثرتھم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
آیت نمبر 19 تا 25
ترجمہ : اور وہ دن یاد کرو کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (یَحْشُرُ ) میں یاء اور نون مفتوح اور شین کے ضمہ کے
ساتھ اور (اَعْدَاءَ ) کے (آخری) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے قریب آجائیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ (لوگ) اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے ہمیں اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو جس کو چاہا بولنے کی طاقت بخشی اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے، کہا گیا ہے کہ وہ (یعنی وھو خلَقَکم اول مرّۃ الخ) کھالوں کا کلام ہے اور…
Read the full tafseer →حتی اذا ماجاؤھا شھد علیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعلمون (تاکہ باقی لوگ بھی آجائیں) یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے قریب آجائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور کھالیں ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے۔
یُوْزَعُوْنَ یعنی ہنکائے جائیں گے اور دھکے دے کر دوز کی طرف لے جائے جائیں گے۔ قتادہ اور سدی نے کہا : آگے والوں کو روک دیا جائے گا تاکہ پچھلے لوگ آکر ان سے مل جائیں اور سب یکجا ہوجائیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اس سے مراد دوزخیوں کی کثرت کا اظہار ہے۔
جَآءَوْھَا یعنی جب دوزخ کے سامنے پہنچیں گے۔ آنے سے مراد ہے دوزخ کے سامنے پہنچ جانا۔
وَجُلُوْدُھُمْ سدی اور اہل تفسیر کی ایک جماعت نے لکھا : کھالوں…
Read the full tafseer →یہاں تک کہ جب دوزخ کے قریب آجائیں گے تو ان کے کان ان کی سنی ہوئی باتوں اور آنکھیں ان کی دیکھی ہوئی اور ان کے اعضاء ان کے اعمال بد کے بارے میں گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →حتی اذ ما جآء وھا شھدا علیھم سمعھم …زمخشری نے فرمایا :”اذا“ کے بعد لفظ ”ما“ اس کی تاکید کے لئے ہے، تاکید کا مطلب یہ ہے کہ آگ کے پاس پہنچنے کا وقت ہی ان پر شہادت کا وقت ہوگا، یہ نہیں کہ کچھ وقت شہادت سے خالی ہو۔“ (کشاف) اس لئے میں نے ”اذاما“ کا ترجمہ ”جوں ہی“ کیا ہے۔ یعنی آگ کے پاس پہنچنے پر جب وہ اپنے جرائم سے انکار کریں گے تو فوراً ہی ان کے کان، آنکھیں اور چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ اس کی تفصیل سورة یٰسین کی آیت (65) ، (الیوم نختم علی افواھھم) میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
(واما ثمود۔۔۔۔ )
واما ثمود فھدینھم یعنی ہم نے ان کے لیے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور دوسرے علماء نے اما ثمود نصب کہ ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة الاعراف پر پسند کیا (1)
فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون۔ الھون ضمہ کے ساتھ ہے جس کا معنی ذلت و رسوائی ہے۔ ہون بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر جو کنانہ اور اسد سے تعلق رکھتا تھا۔ اھانہ اس کو حقیر و خفیف جانا اس کا اسم ھوان اور مھانہ ہے۔ صاعقہ کو عذاب کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ صاعقہ کہتے ہیں ہلاک کرنے والی چیز کو۔ گویا فرمایا : مھلک العذاب یعنی ایسا عذاب جو مہلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ (اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے پھر روکے جائیں گے) یعنی ان میں سے پہلے کو آخری پر روک دیا جائے گا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور ابورزین (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوزعون “ سے مراد ہے کہ ان کو دھکیل دیا جائے گا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ میں ” الوزعہ “ سے مراد ہے فرشتوں میں سے ہانکنے والے کہ وہ ان کو دوزخ کی…
Read the full tafseer →حَتّىٰٓ اِذَا مَا [ یہاں تک کہ جب ] جَاۗءُوْهَا [ وہ سب آئیں گے اس (آگ ) کے پاس ] شَهِدَ عَلَيْهِمْ [ تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ] سَمْعُهُمْ [ ان کی سماعت ] وَاَبْصَارُهُمْ [ اور ان کی بصارتیں ] وَجُلُوْدُهُمْ [ اور ان کی کھالیں ] بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [بسبب اس کے جو وہ کرتے تھے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 20 ۔ منجملہ ان بہت سی آیات کے ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم آخرت محض ایک روحانی عالم نہیں ہوگا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم وروح کے ساتھ زندہ کئے جائیں گے جس طرح وہ اب اس دنیا میں ہیں ۔ ان کو جسم بھی وہی دیا جائے گا جس میں اب وہ رہتے ہیں ۔ اور وہ انہی جسموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
(وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ ) (الآیۃ) یہ بھی کافروں سے خطاب ہے وہاں ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں جو کام کرتے تھے اس کا تمہیں ذرا بھی احتمال نہ تھا کہ قیامت کے دن تمہارے کان اور آنکھیں چمڑے تمہارے خلاف گواہی دیدیں گے لہٰذا تم ان سے نہ چھپتے تھے نہ چھپ سکتے تھے جس کی وجہ سے تم دلیری کے ساتھ گناہ کرتے تھے تم سمجھتے تھے کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والا کوئی نہ ہوگا مخلوق کے بارے میں تو تمہارا خیال تھا ہی تم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہی خیال کر رکھا تھا کہ وہ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا۔
قال القرطبی و معنی ” تَسْتَتِرُوْنَ “ تستخفون فی قول اکثر العلماء أی ما کنتم تستخفون من أنفسکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…
Read the full tafseer →پر جمع ہوجائیں گے تو کہیں گے بار الٰہا ! ہمیں کراماً کاتبین کی گواہی منظور نہیں انہوں نے خواہ مخواہ ہمارے اعمالناموں میں ایسے گناہ لکھ دئیے ہیں جو ہم نے کبھی نہیں کیے تھے۔ اس لیے ہمیں اپنے گھر کے گواہوں کے سوا کسی کی گواہی پر اعتماد نہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا۔ اور ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء کو بولنے کی طاقت عطا کردے گا۔ تو وہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ ” الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیہم و تشہد ارجلہم بما کانوا یکسبون (یس رکوع 4) قال رسول اللہ صلی اللہ علی ہو سلم عجبت من مجادلۃ العبد ربہ یوم القیامۃ یقول ای رب الیس وعدتنی ان لا تظلمنی قال بلی، فیقول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ربط آیات
گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی سر کشی اور انکار نبوت اور پھر ان کے ساتھ دنیا میں ہونے والے سلوک کا ذکر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا تھا تو کسی فرشتے کو اپنا پیغام دے کر بھیج دیتا تو ہم ایمان لے آتے ، ہم کسی انسان کو نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر ان قوموں نے توحید و رسالت دونوں کا انکار کیا ۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر تند ہوا بھیج دی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک…
Read the full tafseer →حَتّٰٓي اِذَا مَا جَاۗءُوْہَا شَہِدَ عَلَيْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 20
حَتَّى
حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] .
ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع،
وفي كلّ واحد وجهان :
فأحد وجهي النصب : إلى أن .
والثاني : كي .
وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي :
مشیت فدخلت البصرة .
والثاني : يكون ما بعده حالا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ترکیب : یوم ظرف لما دل علیہ مابعدہ وھو قولہ فہم یوزعون ان یشہد ای من ان یشھد لان یستتر لایتعدی بنفسہ و ذلکم مبتداء و ظنکم خبرہ الذی لغت للخبر او خبر بعد خبر واردکم خبر آخر ویجوزان یکون الجمیع صفت او بدلاء و ارادکم الخبر و یجوزان یکون حالا یستعتبوایطلب العتبیٰ ۔
تفسیر : دنیا کی سزا بیان کرکے آخرت کی سزا اور اس عالم کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ بیان کامل ہوجاوے فقال و یوم یحشر کہ جس روز دشمنان خدا آتش جہنم کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے، ان کو ٹھہراویں گے۔ یہاں تک کہ سب جمع ہوجاویں گے، پھر ان کے اعمال قبیحہ پر ان کی آنکھیں اور کان جلدیں گواہی دیں گے۔ حواس گو پانچ ہیں، مگر قوت شامہ سے کوئی تعلق…
Read the full tafseer →حَتّٰی اِذَا مَا جَآئُ وْھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 20)
(یہاں تک کہ جب وہ سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ )
جرائم پر اعضاء کی گواہی
جب سب لوگ یا سب مجرم محشر کے پاس یا جہنم کے پاس جمع ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کے عقائد اور جرائم کے بارے میں سوال کرے گا کہ کیا تم نے کفر و شرک کا ارتکاب کیا تھا، اور کیا واقعی تم نے فلاں فلاں جرم کی جسارت کی تھی ؟ تو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے جرائم کو تسلیم کرلیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد اور ثمود دنیا میں ذلّت کی موت مرے اور آخرت میں انہیں جہنّم میں داخل کیا جائے گا۔
اس سے پہلے قوم عاد اور ثمود کی تباہی کا ذکر ہوا جس میں یہ بتایا گیا کہ ہم نے صالح کردار ایمانداروں کو عذاب سے بچا لیا۔ تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ صاحب ایمان اور صالح کردار کو کس طرح بچایا گیا تاہم یہ بات حقیقت ہے کہ جس نبی کی موجودگی میں اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور اس کے ساتھیوں کو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ لوگ عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ اب مجرموں کے اخروی انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی ابتدا یوں ہوگی کہ جب محشر کے میدان میں تمام لوگ اکٹھے ہوں گے تو…
Read the full tafseer →اعضاء کی شہادت :
حَتّىٰٓ اِذَا مَا جَاۗءُوْهَا (یہاں تک کہ وہ جب اس کے قریب آجائیں گے) اس کے بالکل سامنے پہنچ جائیں گے۔
ما یہ زائدہ ہے جو تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ آگ کی طرف ان کی آمد لازماً ان کی شہادت کے وقت میں ہوگی اس سے خالی ہونے کا مطلب ہی نہیں۔ شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (تو ان کے کان اور آنکھیں اور ان کی کھالیں ان پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گی) ۔ جلود کھالوں کی مس بالحرام کے متعلق گواہی مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے یہ شرمگاہوں سے کنایہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19، ویوم یحشراعداء اللہ الی النار، نافع اور یعقوب رحمہما اللہ نے، نحشر، نون کے ساتھ اور ، اعداء ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء اور اس کے پیش اور شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، اعداء کو مرفوع پڑھا ہے۔ یعنی وہ جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ ، فھم یوزعون، ہانکے جائیں گے جہنم کی طرف ۔ قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے پہلے لوگوں کو روکاجائے گا، پچھلوں کے لیے تاکہ وہ مل جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
13۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
(واماثمود) اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انہیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی اللہ کی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی، اس لئے ثمود کے بارے میں فرمایا : (و اما ثمود فھدینھم) ” جو ثمود تھے، ہم نے انہیں سیدھا راستہ…
Read the full tafseer →33 مجرموں کے خلاف انکے اپنے اعضاء کی گواہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکے خلاف گواہی دیں گے انکے اپنے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں "۔ تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اور یہ اس وقت ہوگا جبکہ وہ اپنے کئے کا انکار کرنے لگیں گے اور حیلے بہانے کرنے لگیں گے۔ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کتب احادیث میں اس کی تفصیل موجود و مذکور ہے۔ سو مطلب اس ارشاد کا یہ ہوا کہ جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کے پاس پہنچ جائیں گے تو یہ معلوم کرنے کیلئے کہ کون دوزخ کے کس درجے کا مستحق ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی دقت اور دشواری پیش نہیں آئے گی۔ اس لیے کہ اس دن کوئی اس سے اپنے کسی عمل کو چھپا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات
تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
آیات 18 تا 25۔
اسرار ومعارف ۔
اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔
اعضاء کی گواہی۔
توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و…
Read the full tafseer →ف 1 یا ان کی مثلیں لگائی جائیں گی۔ یعنی ان کی ہر قسم کو الگ الگ جمع کیا جائے گا۔ لفظ ” یوزعون “ کے ” ا گلوں کا روکے جانا “ اور ” مثلیں بنایا جانا “ دونوں معنی صحیح ہیں۔ ( دیکھئے سورة نمل 17)2 یہ صورت حال ان منافقین اور کفار کو پیش آئے گی جو اپنے گناہوں کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے، فرشتوں کی گواہی کو جھٹلائیں گے اور اپنے نامہ اعمال کی صحت کو تسلیم نہ کریں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اچھاتم اپنی بکواس بند کرو، دیکھو خود تمہارے ہاتھ پائوں اور دوسرے اعضاء تمہارے خلاف کیا گواہی پیش کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ صحابہ ؓ کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ اچانک مسکرائے اور پھر…
Read the full tafseer →(41:20) حتی۔ یہاں تک (انتہایا غایت کے لئے ہے)
اذاما : میں ما زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے۔ جب۔
جاء وھا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النار (دوزخ) کے لئے ہے۔ جاء وھا : ای حضروھا (یہاں تک کہ جب) وہ اس کے قریب (دوزخ کے قریب) جا پہنچیں گے۔
شھد علیہم۔ وہ ان کے خلاف شہادت دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25 : یحشر ( اکٹھے کئے جائیں گے) یوزعون (گروہوں میں تقسیم ہوں گے) شھد (اس نے گواہی دی) جلود (جلد) ( کھالیں ، گوشت پوست ، چمڑے) لم شھدتم (تم نے گواہی کیوں دی) انطقنا (ہمیں بولنے کی طاقت دی) مرۃ (مرتبہ ، باربار) تستترون ( تم پردہ کرتے ہو ، چھپاتے ہو) اردی ( اردائ) (ہلاک کیا ، تباہ کیا) یستعتبوا (راضی کریں گے) قیضنا (ہم نے مقرر کردیا)
تشریح : آیت نمبر 19 تا 25 : انسان راز داری کے ہزاروں پردوں کے اندر چھپ کر کوئی کام کرے یا اعلانیہ کھلم کھلا ۔ اللہ کو اس کی ایک ایک ایک حرکت کا علم ہوتا ہے۔ جس بات کو دنیا کا کوئی آدمی نہیں جانتا اور ہر ایک سے پوشیدہ ہے اللہ کو اس کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
کافروں کی نافرمانی۔
(ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو،…
Read the full tafseer →[11] اصل میں لفظ '' جلود '' استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی پوست (جلد) کے ہیں اور مراد ہیں تمام اعضا۔ اسی لئے ترجمہ میں گوشت کا لفظ بڑھا دیا گیا ہے اور بولنے میں بھی گوشت پوست بولا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ف 1: قوم ثمود کے پاس اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے پیغمبر بھیجا ۔ مگر انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ۔ ان کی راہنمائی کی گئی ۔ مگر انہوں نے جاہل رہنے کو ترجیح دی ۔ ان کو روشنی کی طرف بلایا گیا ۔ مگر انہوں نے اس سے محروم رہنا بہتر سمجھا ۔ اس لئے اللہ کا عذاب آیا ۔ اور وہ مٹا دیئے گئے ۔ بجز ان لوگوں کے جو مومن تھے ۔ اور جنہوں نے ازراہ احتیاط وتقویٰ رسول کی باتوں کو توجہ اور التفات سے سنا ۔ اور عقیدت مندی کے ساتھ قبول کیا ۔ اور یہ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ وہ صرف ان قوموں کو نعمت لقا و بخشتا ہے ۔ جو اس کے نواسیس کو مانتی ہیں ۔ اور اس کے حکموں کی پیروی کرتی ہیں ۔ وہ قوم جو سرکشی اختیار کرتی ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →(20) یہاں تک کہ جب وہ سب جمع ہوکر دوزخ کے قریب آجائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں اور کھالیں ان کے خلاف ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے - یعنی تمام اعضاء اور انسان کی کھال بھی اس کے خلاف شہادت دے گی جب کافر یہ حالت دیکھیں گے تو گھبرا کر اپنے اعضاء کو برا بھلا کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 2۔ پس جو خدا ایسا قادر اور عظیم الشان ہو اس کے سامنے اس کے پوچھنے پر ہم حق کو کیسے چھپا سکتے تھے۔ کہ اس کی عظمت اس سے مانع تھی، اس لئے ہم نے گواہی دے دی۔
Read the full tafseer →وہ دن ایسا ہوگا کہ ان کے اپنے سارے اعضاء ان پر گواہی دیں گے اور اس وقت اعضاء کی گواہی کو سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں ہے جب تک اعضاء کی گواہی ابھی مشاہدہ میں نہ آئی تھی اس وقت تک اس کی تفسیر مفسرین نے کی جو کی اور اپنی تفہیمات سے وہ کہتے رہے جو کہتے رہے لن کی اس وقت یہ مشاہدہ میں آچکی ہے کہ عمران خان ہٹ لگا رہے ہوں ، علامہ صاحب تقریر کر رہے ہوں ، چور نقب زنی کررہا ہو ، ڈاکو ڈاکہ کے لیے کسی گھر یا کارخانہ وبنک میں گھس رہے ہوں اور ایک کاشتکار اپنے کھیت یا کھلیان میں کام کاج میں مصروف ہو اور اسی حالت میں اس کو دکھایا جاسکتا ہے تو اس وقت جو وہ کررہا ہوتا ہے وہ اس کے ہاتھ اور پائوں اور جلد وبشرہ تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
فَهُمْ يُوزَعُونَ (So they will be kept under control…...41:19) The original word used in the text is ` Yuza’ un' which is derived from waz' which means ` to stop', ` to prevent'. Most of the learned exegetes have explained it in the sense that when people of Hell, who will be numerous, will be taken forward to the field of hashr and the place of reckoning, the people in the front will be halted for a while, so that the people in the rear also catch up with them. This will be done to avoid indiscipline. (It is this interpretation of the verse on the basis of which it is translated as ` kept…
Read the full tafseer →25 The explanation of this given in the Hadith is that when a stubborn culprit will go on denying his crimes, and will even belie All the witnesses, then the limbs of his body will bear the witness, one after the other, by the Command of Allah, and will tell what offences he had committed through them. This thing has been reported by Hadrat Anas, Hadrat Abu Musa Ash'ari, Hadrat Abu Said Khudri and Hadrat Ibn 'Abbas from the Holy Prophet, and traditionists like Muslim, Nasa'i, Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Bazzar and others have related these in their books. (For further explanation, see E.N. 55…
Read the full tafseer →