Explained with ayahs 6–8
حصول نجات اور اتباع رسول ﷺ۔
اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے۔ یعنی بقول ابن عباس لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 10
اصل میں اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے دو معنی اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا اجر ہوگا جس میں کبھی کمی نہ آئے گی۔ دوسرے یہ کہ وہ اجر احسان جتا جتا کر نہیں دیا جائے گا جیسے کسی بخیل کا عطیہ ہوتا ہے کہ اگر وہ جی کڑا کر کے کسی کو کچھ دیتا بھی ہے تو بار بار اس کو جتاتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ۔ لفظ ممنون کے معنے مقطوع کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ایمان وعمل صالح کے پابند لوگوں کو آخرت میں جو اجر دیا جائے گا وہ دائمی غیر منقطع ہوگا۔ اور بعض حضرات مفسرین نے اس کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ مومن جن اعمال صالحہ کا عادی ہوتا ہے، اگر کسی بیماری یا سفر یا دوسرے عذر سے کسی وقت یہ عمل بھی ترک ہوجائے تو بھی اس عمل کا اجر قطع نہیں کیا جاتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ میرا بندہ جو عمل اپنی تندرستی اور فرصت کے اوقات میں پابندی سے کیا کرتا تھا، اس کے عذر کی حالت میں بھی وہ اعمال بغیر کے ہوئے اس کے نامہ اعمال میں لکھے جاتے ہیں۔ اسی مضمون کی حدیثیں صحیح…
Read the full tafseer →توحید خالص پر قائم رہنے والوں کے لئے بشارت
یہ اس انذار کے مقابل میں بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں غیر منقطع اجر صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے یعنی بلا شائبہ شرک توحید پر ایمان لائیں گے اور خدا کی بندگی اور اطاعت کے جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کو پورے اخلاص اور کامل استقامت کے ساتھ ادا کریں گے۔ ’ غیر ممنون ‘ کی تاویل بعض لوگوں نے اس سے مختلف بھی کی ہے لیکن قرآن کے نظائر سے تائید اسی تاویل کی ہوتی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ قرآن میں بعض جگہ یہی مضمون ’ عطا غیر مجذوذ ‘ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے معنی ایسی بخشش کے ہیں جس کا سلسلہ کبھی…
Read the full tafseer →8۔ 1 اجر غیر ممنون کا وہی مطلب ہے جو عطاء غیر مجذوذ ہود کا ہے یعنی نہ ختم ہونے والا اجر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
1: یہ سورت مکی ہے اور اس کے علاوہ بعض دوسری مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ مکہ مکرمہ ہی میں فرض ہوچکی تھی، البتہ اس کے تفصیلی احکام مدینہ منورہ میں آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 227 تشریح آیات
﷽
آیت نمبراتا 8
حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار…
Read the full tafseer →9 یعنی کبھی منقطع نہ ہوگا ابدالآباد تک جاری رہے گا۔ جنت میں پہنچ کر نہ ان کو فنا نہ ان کے ثواب کو۔
Read the full tafseer →آیت 8 { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ } ”بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7 مَنَّ کا لغوی مفہوم :۔ َغیْرَ مَمْنُوْنٍ کے بھی دو معنی ہیں۔ مَنَّ کا معنی کسی چیز کا آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہوجانا اور اس کا سلسلہ منقطع ہوجانا بھی ہے اور اس کا دوسرا معنی احسان کرنا اور احسان جتلانا بھی ہے۔ پہلے معنی تو ترجمہ سے واضح ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ اہل جنت کو جو نعمتیں بھی میسر ہوں گی ان کا کبھی احسان نہیں جتلایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7۔ وہ کوئی چھوٹا موٹا دیوتا نہیں، وہ تو سارے عالم ومافی العالم کا واحد خالق و پروردگار ہے ! تم ایسے عظیم الشان وجلیل القدر آفرید گار کے باب میں اس کے تفرد کے قائل نہیں، اب اس سے بڑھ کر کھلی ہوئی حماقت وسفاہت اور کیا ہوگی (آیت) ” فی یومین “۔ یوم پر حاشیہ فی ستۃ ایام کے تحت میں گزر چکا ہے کہ اس سے مراد یہ ہمارا متعارف 24 گھنٹہ کا دن نہیں جس کا وجود آفرینش کائنات کے بعد ہی ہوسکا ہے بلکہ مطلق دو مختلف وقت مراد ہیں۔ (آیت) ” ائنکم لتکفرون “ ، ائن اور ل معنی کفر کی تاکید کیلئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وعملوا الصلحت لھم اجر غیر ممنون جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ‘ ان
کیلئے اجر ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔
حضرت ابن عباس نے غَیْرُ مَمْنُوْنٍکا ترجمہ کیا : غیر منقطع۔ مقاتل نے کہا : غیر ناقص (یعنی کامل) مجاہد نے کہا : بےحساب۔ بعض نے ترجمہ کیا : بےاحسان دھرے۔ مَنٌّ احسان رکھنا۔
سدی نے کہا : جو بیمار ‘ اپاہج اور بوڑھے لوگ (جوانی کی طرح) عبادت سے عاجز ہوگئے ہوں ‘ ان کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا ‘ مطلب یہ ہے کہ جوانی اور صحت کی حالت میں وہ نیک عمل کرتے تھے ‘ کمزوری اور مجبوری کے زمانہ میں بھی ان کے اعمال ویسے لکھے جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ان کے لیے ایسا ثواب ہے جو کہ کم ہونے والا یا یہ کہ ختم ہونے والا نہیں اور کہا گیا ہے کہ بڑھاپے یا مرنے کے بعد بھی قیامت تک ان کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا رہے گا جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →ان الذین اھنوا و عملوا الصلحت …”ممنون“ ”من یمن منا“ (ن) ”الحبل“ رسی کو کاٹ دینا۔ کفار کے ساتھ ہی ایمان اور عمل صالح والوں کا انجام ذکر فرمایا کہ ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم یا کم ہونے والی نہیں، بلکہ دائمی اور ہر دن زیادہ ہونے والی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(لانقطوعۃ ولا ممنوعۃ) (الواقعۃ : 33)”(جنت کے پھل) نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہوگی۔“ اور فرمایا :(عطآء غیر مجذوذ) (ھود : 108)”ایسا عطیہ جو قطع کیا جانے والا نہیں۔“ اور فرمایا :(ان ھذا ھذا رزقنا باللہ من نفاذ) (ص : 53) ”بلاشبہ یقیناً یہ ہمارا رزق ہے، جس کے لئے کسی…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا و عملوالصلحت لھم اجر غیر ممنون۔ حضرت ابن عباس ؓ نے غیر ممنون کا معنی غیر مقطوع کیا ہے وہ ختم نہ ہوگا مننت الحبل سے مآخوذ ہے جب تو اس کو کاٹ دے اسی معنی میں ذی الاصبع کا شعر ہے :
انی لعمرک مایابی بذی غلق علی الصدیق ولا خیری بممنون (2)
تیری زندگی کی قسم ! میرا دروازہ دوست پر کبھی بند نہیں ہوا اور نہ میرا احسان ختم ہوا ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
فتری خلفھا من الرجع والوقع منینا کا نہٗ اھباء
منین سے مراد الغبار المنقطع الضعیف ہے۔
1 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4 صفحہ 87۔ 186 2 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 169
حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے (1) مقاتل نے کہا : اس میں نقص نہیں ہوگا اسی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وویل للمشرکین (6) الذین لا یؤتون الزکوۃ “ (اور ہلاکت ہے ان مشرکین کے لئے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) سے مراد ہے کہ وہ ” لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتے (آیت) ” لھم اجر غیر ممنون “ (ان کیلئے اجر ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا) یعنی جو کم نہ ہوگا۔
2:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین لا یؤتون الزکوۃ “ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا پل ہے جس نے اس کو عبور کیا وہ بری ہوگیا (جہنم سے) اور نجات پا گیا اور جس نے اس کو عبور نہ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ بیشک جو لوگ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] لَهُمْ اَجْرٌ [ ان کے لئے اجر ہے ] غَيْرُ مَمْنُوْنٍ [ نہ منقطع ہونے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
زمین و آسمان کی تخلیق کا تذکرہ، ان دونوں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب، اور ان کا فرمانبرداری والا جواب
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کی دعوت دی ہے اور شرک کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی نیز آسمان اور زمین کے پیدا فرمانے اور آسمان اور زمین سے متعلقہ امور بیان فرمائے۔
ارشاد فرمایا کیا تم اس ذات پاک کی توحید کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا فرما دیا اتنی بڑی زمین کا وجود سمجھدار عقلمند انسان کے لیے یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ اس کا پیدا فرمانے والا وحدہ لا شریک ہے اس کی توحید کے قائل ہونے کی بجائے تم نے یہ کر رکھا ہے کہ اس کے لیے شریک ٹھہرا دئیے جنہیں تم اس کے برابر سمجھتے ہو انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔
حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6:۔ ” ان الذین امنو۔ الایۃ “ یہ سیدھی راہ پر چلنے والوں اور توحید پر قائم رہنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے ان لوگوں کے لیے آخرت میں جو اجر وثواب اور انعام و اکرام مقدر ہے وہ دائمی ہوگا۔ اور کبھی ختم نہیں ہوگا۔ غیر ممنون قال ابن عباس غیر مقطوع (قرطبی ج 15 ص 341) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ 8ۧ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔
تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُمَمْنُوْنٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 8)
(بےشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ )
ایمان و عمل کے حاملین کے لیے بشارت
مشرکین کی تباہی و بربادی کا ذکر کرنے کے بعد ایمان و عمل کے حامل لوگوں کو بشارت سنائی گئی ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے شرک کی ہر آلودگی سے بچیں گے اور اللہ تعالیٰ کی غیرمشروط اطاعت میں حتی الامکان کوئی کمی نہیں کریں گے اور ہر معاملے میں اخلاص اور استقامت کا ثبوت دیں گے، انھیں یقینا اللہ تعالیٰ ایسے اجر اور صلے سے نوازیں گے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کو اپنے لیے بوجھ قرار دینے والوں کو نبی محترم ﷺ کا جواب۔
جو شخص گمراہی اور اپنی جہالت کا اعتراف کرنے کے باوجود اس پر اترائے۔ اس کے ساتھ جھگڑنے یا اس پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ بحیثیت انسان میں بھی تمہارے جیسا ایک بشر ہوں۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول منتخب کیا اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر واضح کروں کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اس کا حکم ہے کہ ادھر ادھر کے راستوں کو چھوڑ کر صرف اسی کے راستے پر پکے ہوجاؤ۔ اپنے…
Read the full tafseer →غیر منقطع اجر :
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ (جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو منقطع ہونے والا نہیں) ۔ ممنون منقطع کو کہتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے متعلق اتری جو اپاہج، بیمار، انتہائی بوڑھے ہیں کہ جب وہ عجز کی عمر تک پہنچ جائیں تو ان کے صحت و جوانی میں کیے جانے والے اعمال کا بدلہ اسی طرح لکھا جاتا ہے (احادیث میں یہ مضمون کثرت سے وارد ہے۔ مترجم)
Read the full tafseer →7، الذین لا یؤتون الزکاۃ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو لاالہ الا اللہ کہتے ہیں یہ نفس کی زکٰوۃ ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ شرک سے توحید کے ذریعے پاک نہیں کرتے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ زکوۃ کا اقرار نہیں کرتے اور اس کے دینے کو واجب نہیں سمجھتے ۔ اور وہ فرماتے ہیں کہ زکواسلام کا پل ہے جو اس کو طے کرلے گا وہ نجات پالے گا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا اور ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ طاعت میں خرچ نہیں کرتے اور صدقہ نہیں کرتے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اپنے اعمال کو پاک نہیں کرتے۔ ، وھم بالا خرۃ ھم کافرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت 1
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور…
Read the full tafseer →14 نیکوکاروں کیلئے ایک عظیم الشان خوشخبری : سو اس ارشاد سے نیکوکاروں کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والے اجر کا مژدئہ جان فزا سنایا گیا ہے کہ اس پر ان کو جنت کی دائمی نعمتیں نصیب ہوں گی اور جنت اور اس کی نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں۔ نیز ایسے لوگ صحت و جوانی میں جو نیکیاں کرتے رہے مرض اور بڑھاپے میں بھی ان کا اجر وثواب ان کو ہمیشہ ملتا رہے گا۔ بہرکیف منکرین و مشرکین کے ہولناک انجام کے مقابلے میں یہ مومنین مختلصین کے انجام کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید پر بلا کسی شائبہ و شرک کے سچا پکا ایمان لائیں گے اور اس کے مطابق وہ نیک عمل بھی کریں گے تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار ومعارف۔
حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔
کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ف 6 یا ’ جس کا ان پر احسان نہ جتایا جائے گا “ لفظ ” غیر ممنون “ کے لغوی طور پر یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں بعض علمائے تفسیر کا خیال ہے کہ یہ آیت بعض علمائے تفسیر کا خیال ہے کہ یہ آیت بیماروں اور کمزوروں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی قوت اور تندرستی کی حالت میں جتنی عبادت وہ کرنے تھے۔ بیماری کی حالت میں اگر نہ بھی کرسکیں تو انہیں اس عبادت کا ثواب ملتا رہے گا (کدنی الشوکانی)
Read the full tafseer →(41:8) غیر ممنون : غیر حرف استثناء ممنون مستثنیٰ (مستثنیٰ غیر کے بعد واقع ہو تو مجرور ہوگا) ۔ ممنون اسم مفعول واحد مذکر۔ من مادہ۔ (باب نصر) کم کیا ہوا۔ قطع کیا ہوا۔ غیر ممنون (یعنی وہ اجر) جو نہ کم ہوگا اور جو نہ منقطع (ختم) ہوگا۔ من (باب نصر) الشیء کسی چیز کو کم کرنا۔ من الحبل رسی کاٹنا۔ اسی سے المنون بمعنی موت ہے کہ عمر کو قطع کرتی ہے تعداد کو گھٹاتی ہے۔
مجاہد نے کہا ہے بےحساب ، بعض نے ترجمہ کیا ہے بےاحسان دھرے۔ من احسان رکھنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے لاتبطلوا صدقتکم بالمن و والاذی (2:264) (مومنو ! ) اپنے صدقات (و خیرات) کو احسان رکھنے سے اور ایذاء دینے سے برباد نہ کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
باری تعالیٰ کا فضل وکرم۔
(ف 1) جو لوگ ایمان لائے اور خالصا للہ اعمال صالحہ کیے ان کے لیے جنت کا ثواب ملے گا، جو کبھی موقوف نہ ہوگا، یا ناقص نہ ہوگا، یا کہ ان پر احسان جتاکران کو شرمندہ نہ کیا جائے گا یا کہ ان کا ثواب بعد ان کی موت کے بھی ان کو ملتا رہے گا یہ بھی کہا گیا کہ یہ آیت بیماروں اور اپاہجوں اور بوڑھوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو عمل وطاعت کے قابل نہ رہیں، انہیں وہی اجر ملے گا جو تندرستی میں عمل کرتے تھے بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کوئی عمل کرتا ہے اور کسی مرض یا سفر کے باعث وہ عامل اس عمل سے مجبور ہوجاتا ہے تو تندرستی اور اقامت کی حالت میں جو کرتا تھا ویسے ہی اس کے لیے لکھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[3] یہاں زکوٰۃ کے معنی میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ مفسرین کے ایک گروہ کے نزدیک یہاں زکوٰۃ سے مراد پاکیزگی نفس ہے جو توحید کے عقیدے اور اللہ کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسرا گروہ اس کو مال کی زکوٰۃ کے معنی میں لیتا ہے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ افسوس ان مشرکین پر جو پاکیزگی اختیار نہیں کرتے۔ دوسری تفسیر کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ افسوس ان لوگوں پر جو شرک کر کے اللہ کا اور زکوٰۃ نہ دے کر بندوں کا حق مارتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
میں ایک انسان ہوں
2: فرمایا جہاں تک میری جسمانی ساخت اور طبیعت کا تعلق ہے محض ایک انسان ہوں ۔ اور کسی بات میں تھی تم سے ممتاز نہیں ۔ میرے بھی دوہاتھ اور دو پاؤں ہیں ۔ دو آنکھیں اور دو ہونٹ ہیں ۔ میں بھی ایک دماغ اور ایک دل رکھتا ہوں اور بھی زندگی کی ضروریات ہوتی ہیں مگر ایک بات میں مختلف ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھے رسالت کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا ہے ۔ اور مجھ کو ایک بہت بڑی ذمہ داری کا حامل بنا کر بھیجا گیا ہے میں پیغمبر ہوں رسول ہوں ۔ اور اللہ کی طرف سے ایک پیغام مسرت لے کر آیا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا ایک ہے ۔ معبود ایک ہے ۔ اسی کی طرف اپنی توجہات فکروعقیدت کو پھیر لو ۔ صرف…
Read the full tafseer →(8) یقینا جو لوگ ایمان لائے اور وہ نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی منقطع ہونے والا نہیں۔ زکوٰۃ کا جو ترجمہ ہم نے کیا ہے اس کے بعد ان شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے کہ کفار صرف ایمان کے مخاطب ہیں یا فرائض اور شرائع کے بھی مخاطب ہیں یا یہ شبہ کہ زکوٰۃ مدینہ میں فرض ہوئی ہے اور یہ سورت مکیہ ہے ، یہاں زکوٰۃ سے کافروں کے صرف جبلی بخل کی مذمت مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 4۔ چناچہ مشاہد ہے کہ ہر حصہ ارض کے رہنے والوں کے مناسب الگ الگ غذائیں ہیں، یعنی زمین میں ہر قسم کے غلے میوے پیدا کردیئے، کہیں کچھ کہیں کچھ، جن کا سلسلہ اب تک چلا آتا ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ان کا اجر محفوظ ہے
8 ؎ گزشتہ آیات میں نذرات وتنذیر کا بیان تھا اور اس آیت میں بشارت وتبشیر کا بیان شروع کیا جارہا ہے کہ جو لوگ سچے دل سے ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کا انہوں نے مظاہرہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو بیان کرتے رہے اور اس کی تعلیم وتبلیغ میں لگے رہے ان کا بہترین اجر اللہ رب کریم کے ہاں محفوظ ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوگا اور یہ اجر بھی ایسا ہے جو ان کو ان کے اعمال ہی کے نتیجے میں دیا جائے گا کوئی احسان نہیں ہوگا ہاں ! جو احسان ہوگا وہ اس کے علاوہ ہے اور یہ بھی کہ یہ اجر کوئی وقتی چیز نہیں ہوگی بلکہ ہمشہو ہمیشہ کے لیے بحال…
Read the full tafseer →لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (For them there is a reward that will never be interrupted 41:8) The word mamnun used here means something interrupted. The sense is that the reward of those people who are firm in their faith and regular in their good deeds would be continuous and eternal. Some exegetes have explained the intention of the verse that if a Muslim, despite being regular in religious duties, could not perform them at any time due to illness, travel or some other reason, the reward for the good deeds is not cut off. Rather, Allah Almighty orders the angels to keep on crediting…
Read the full tafseer →10 The words ajrun ghaira mamnun in the original have two other meanings also: (1) That it will be a reward which will never decrease and diminish; and (2) that this reward will not be given with reminders of good done, like the gift made by a miserly person, who keeps on reminding the beneficiary of his favour if at all he gives away anything.
Read the full tafseer →