Fussilat 41:7

Fussilat · from ayah 7

41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ۟الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ

جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who do not give zakah, and in the Hereafter they are disbelievers.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:7

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو زکوٰة نہیں دیتے اورآخرت کے بھی منکر ہی رہتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان کا حال یہ ہے کہ آخرت کے وہ بالکل ہی منکر ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو زکوٰة نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور وہی تو آخرت کے بھی منکر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرنے والے بھی وہی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو انفاق نہیں کرتے اور آخرت کے تو اصلی منکر وہی ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہ آخرت کے انکار پر ہی کمربستہ ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے تو وہ منکر ہی ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ جو خود کو پاک کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who do not pay Zakah, and who deny the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who do not pay Zakah ; and of the life of the Hereafter, they are deniers.

— Muhammad Taqi Usmani

who do not pay Zakah ; and of the life of the Hereafter, they are deniers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who give not the Zakah and they are disbelievers in the Hereafter.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who give not the poor-due, and who are disbelievers in the Hereafter.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who do not give zakah, and in the Hereafter they are disbelievers.

— Saheeh International

Woe to the pagans, who do not pay zakat and have no faith in the life to come.

— Muhammad Sarwar

(To) those who do not give poor-rate and they are unbelievers in the hereafter.

— Muhammad Habib Shakir

Who give not the poor-rate; and they! in the Hereafter, they are disbelievers.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who practise not regular Charity, and who even deny the Hereafter.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–8

حصول نجات اور اتباع رسول ﷺ۔ اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے۔ یعنی بقول ابن عباس لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 9 یہاں زکوٰۃ کے معنی میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ابن عباس اور ان کے جلیل القدر شاگرد عکرمہ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اس مقام پر زکوٰۃ سے مراد وہ پاکیزگی نفس ہے جو توحید کے عقیدے اور اللہ کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ تباہی ہے ان مشرکین کے لیے جو پاکیزگی اختیار نہیں کرتے۔ دوسرا گروہ جس میں قتادہ، سُدی، حسن بصری، ضحاک، مُقاتل اور ابن السائب جیسے مفسرین شامل ہیں، اس لفظ کو یہاں بھی زکوٰۃ مال ہی کے معنی میں لیتا ہے۔ اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک کر کے خدا کا اور زکوٰۃ نہ دے کر بندوں کا حق مارتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر خطاب میں قرآنی بشارت ونذارت کے دونوں پہلو ان کے سامنے کردیئے کہ مشرکین کیلئے بڑی خرابی ہے اور مومنین کے لئے دائمی ثواب۔ اس میں مشرکین کی خرابی بیان کرنے کے ضمن میں اس کی وجہ یہ ذکر کی گئی ہے کہ لا یوتون الزکوٰة یعنی یہ لوگ زکوٰة نہیں دیا کرتے تھے۔ اس میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اول تو یہ کہ یہ آیات مکی ہیں اور زکوٰة کی فرضیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے تو فرض ہونے سے پہلے ہی ان پر عدم ادائیگی زکوٰة کا الزام کیسے درست ہوا ؟ اس کا جواب تو ابن کثیر نے یہ دیا ہے کہ اصل زکوٰة تو ابتدا اسلام ہی میں نماز کے ساتھ ہی فرض ہوگئی تھی جس کا ذکر سورة مزمل کی آیات میں آیا ہے۔ مگر اس کے نصابوں کی تفصیلات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس کا شریک وسہیم نہیں ہے تو بالکل یکسو ہو کر اسی کی طرف توجہ کرو اور اب تک جس شرک میں آلودہ رہے ہو اس کی معافی مانگو اور اپنے رب حقیقی کی طرف رجوع کرو۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سن لو کہ ان مشرکوں کے لئے ہلاکی و بربادی ہے جو اللہ کی راہ میں انفاق تو کرتے نہیں، بس اپنے مزعومہ سفارشیوں کے بل پر نچنت بیٹھے ہیں۔ فرمایا کہ آخرت کے اصلی منکر یہی ہیں۔ لفظ زکوٰۃ انفاق کے حام مفہوم میں ’ لایوتون الزکوٰۃ میں ’ زکوٰۃ ‘ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ‘ ہے۔ اس مفہوم کے لئے یہ لفظ اسلام کے مکی دور میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ مدنی دور میں آ کر اس کی ایک باضابطہ شکل معین ہوگئی اور پھر اس کا اطلاق اسی پر ہونے لگا۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یہ سورت مکی ہے۔ زکوٰۃ ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوئی اس لئے اس سے مراد یا تو صدقات ہیں جس کا حکم مسلمانوں کو مکہ میں ہی دیا جاتا رہا، جس طرح پہلے صبح وشام کی نماز تھا، پھر ہجرت سے ڈیڑھ سال قبل لیلۃ الاِسراء کو پانچ فرض نمازوں کا حکم ہوا۔ یا پھر زکوٰۃ سے مراد کلمہ شہادت ہے، جس سے نفس انسانی شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

1: یہ سورت مکی ہے اور اس کے علاوہ بعض دوسری مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ مکہ مکرمہ ہی میں فرض ہوچکی تھی، البتہ اس کے تفصیلی احکام مدینہ منورہ میں آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–8

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 جن لوگوں کا معاملہ اللہ کے ساتھ یہ ہے کہ عاجز مخلوق کو اس کی بندگی میں شریک کرتے ہیں، اور بندوں کے ساتھ یہ ہے کہ صدقہ اور زکوٰۃ کا پیسہ کسی محتاج مسکین پر خرچ کرنے کے روا دار نہیں ساتھ ہی انجام کی طرف سے بالکل غافل اور بےفکر ہیں، کیونکہ انہیں تسلیم ہی نہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی اور اچھے برے کا حساب کتاب بھی ہوگا۔ ایسوں کا مستقبل بجز ہلاکت اور خرابی و بربادی کے اور کیا ہونا ہے۔ (تنبیہ) بعض سلف نے یہاں " الزکوٰۃ " سے مراد کلمہ طیبہ لیا ہے۔ اور بعض نے " زکوٰۃ " کے معنی پاکیزگی اور ستھرائی کے لیے ہیں۔ مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے نفس کو عقائد فاسدہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک و صاف نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 { الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ } ”وہ لوگ جو خود کو پاک کرنے کی کوشش نہیں کرتے“ یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضور ﷺ کے مکی دور میں زکوٰۃ کا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ نظام تو ہجرت کے بعد مدینہ میں جا کر قائم ہوا تھا۔ چناچہ اگر لفظ زکوٰۃ مکی سورتوں میں آئے تو اس کے لغوی معنی مراد لیے جاتے ہیں۔ لفظ زکوٰۃ کے لغوی معنی چونکہ پاکیزگی کے ہیں اس لیے اس جملے کا مفہوم یہی ہوگا کہ جو لوگ اپنے تزکیہ نفس کی کوشش نہیں کرتے۔ { وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ } ”اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 زکوٰۃ کے دو معنی :۔ اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک لغوی اعتبار سے زکٰی کے معنی بالیدگی، نشوونما پانا اور عمدہ ہونا اور زکی اور زکیّٰ کے معنی نفس کو روحانی آلائشوں، عقائد کی خرابیوں، بیماریوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کرکے اوصاف حمیدہ پیدا کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ ان مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنے مشرکانہ عقائد سے اپنے آپ کو پاک صاف نہیں بناتے اور دوسرا مطلب شرعی اصطلاح کے اعتبار سے یہ ایسے مشرک جو شرک کرکے اللہ کے حقوق تلف کرتے ہیں اور زکٰوۃ کی عدم ادائیگی سے لوگوں کے حقوق تلف کرتے ہیں۔ اور ان دونوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت میں جوابدہی کے منکر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اور مشاہدۂ دلائل کے بعد بھی اپنے طریقہ کو نہیں چھوڑتے) (آیت) ” الزکوۃ “۔ زکوٰۃ۔ یہاں بطور اصطلاح فقہی نہیں، لفظی معنی میں ہے۔ یعنی نیک راہ میں خرچ کرنا، اور یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اپنے آپ کو نجاست شرک سے پاک نہیں کرتے ہیں۔ اے لایزکون انفسھم من لوث الشرک (کبیر) قیل الزکوۃ بالمعنی اللغوی اے لایفعلون ما یزکی انفسھم وھو الایمان والطاعۃ (روح) (آیت) ” وھم بالاخرۃ ھم کفرون “۔ ھم کی تکرار اور کافرون پر بالاخرۃ کی تقدیم تاکید کلام کے لئے ہے، والتقدیم للاھتمام (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

آیت نمبر 1 تا 8 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین لا یوتون الزکوۃ وھم بالاخرۃ ھم کفرون جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں۔ وَیْلٌ عذاب کا لفظ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃ سے مراد یہ ہے کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار نہیں کرتے ‘ توحید کا اقرار ہی نفس کی (زکوٰۃ یعنی) طہارت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ توحید کا اقرار کر کے وہ شرک کی نجاست سے اپنے نفسوں کو پاک نہیں کرتے۔ حسن اور قتادہ کے نزدیک (زکوٰۃ سے مالی زکوٰۃ ہی مراد ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ) زکوٰۃ واجب ہونے کا وہ اقرار نہیں کرتے۔ ایک مقولہ (بصورت فرمان) تھا کہ زکوٰۃ اسلام کا پل ہے ‘ جس نے اس پل کو طے کرلیا وہ (گرنے سے) بچ گیا اور جو نہ طے کرسکا وہ تباہ ہوگیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–7

(6۔ 7) سو آپ اپنے دین پر اپنے اللہ سے ہماری ہلاکت کی تدبیر کیجیے ہم اپنے طریقہ پر اپنے معبودوں سے درخواست کر رہے ہیں۔ محمد آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں بھی تم ہی جیسا انسان ہوں میرے پاس بذریعہ قرآن کریم جبریل امین یہ وحی لائے تاکہ میں تمہیں باخبر کردوں کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تو شرک سے توبہ کر کے اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی کی توحید کا اقرار کرلو سو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ جو کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہیں کرتے اور موت کے بعد جی اٹھنے اور جنت و دوزخ کے منکر ہیں ان کے لیے جہنم میں خون اور پیپ کی ایک وادی ہے اسے ویل بھی کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–7

(1) قل انما انا بشر مثلکم : یعنی مجھ سے تمہاری اس قدر دوری کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ نہ تو میں فرشتہ یا جن یا نظر نہ آنے والی کوئی اور مخلوق ہوں کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی پردہ جس کی وجہ سے تم مجھے دیکھ نہ سکو یا میری بات سن نہ سکو، بلکہ میں ایک بشر ہی ہوں جو تم میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور نبوت سے سرفراز ہوا۔ نہ یہ بات ہے کہ میری زبان تم سے مختلف ہے۔ بلکہ تمہاری طرح عرب ہوں، کھانے پینے، سونے جاگنے، تندرستی ، بیماری، شادی، غمی اور آل اولاد ، غرض تمام انسانی صفات میں تمہارے جیسا ہوں، پھر مجھ سے یہ اجتناب اور ایسی دوری کیوں ؟ (2) یوحی الی انما الھکم الہ واحد : دوری کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

(قل انما انا بشر مثلکم۔۔۔۔ ) قل انماانا بشر مثلکم میں بادشاہ نہیں بلکہ میں انسان ہوں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو تواضع کی تعلیم دی یوحی الی یعنی فرشتوں کے ذریعے آسمانوں سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے (4) الما الھکم الہ واحد تمہارا معبود ایک ہے اس پر ایمان لائو اور دعا کرتے وقت اور سوال کرتے وقت اس یک طرف متوجہ ہو واستغفروہ اپنے شرک پر مغفرت طلب کرو۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5 صفحہ 241 2 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 168 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 4، صفحہ 412 وویل للمشرکین۔ الذین لا یوتون الزکوۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتے یہ نفس کی زکوٰۃ ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–8

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وویل للمشرکین (6) الذین لا یؤتون الزکوۃ “ (اور ہلاکت ہے ان مشرکین کے لئے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) سے مراد ہے کہ وہ ” لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتے (آیت) ” لھم اجر غیر ممنون “ (ان کیلئے اجر ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا) یعنی جو کم نہ ہوگا۔ 2:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین لا یؤتون الزکوۃ “ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا پل ہے جس نے اس کو عبور کیا وہ بری ہوگیا (جہنم سے) اور نجات پا گیا اور جس نے اس کو عبور نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْنَ [ (یہ ) وہ لوگ ہیں جو ] لَا يُؤْتُوْنَ [ نہیں پہچاتے ] الزَّكٰوةَ [ زکوۃ ] وَهُمْ [ اور یہ لوگ ] بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ [ آخرت کا ہی انکار کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(الَّذِیْنَ لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکَٰوۃَ ) (جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) نماز کی تو کیا پابندی کریں گے جو بڑا کام ہے وہ تو مال خرچ نہیں کرسکتے جو معمولی چیز ہے ہاتھ کا میل ہے بخل ان پر مسلط ہے (وَھُمْ بالْآخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔ بعض حضرات نے (لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکَٰوۃَ ) کا معروف معنی نہیں لیا لغوی معنی لے کر اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ وہ اپنے نفسوں کو شرک سے پاک نہیں کرتے اور ایمان سے متصف نہیں ہوتے اس کے بعد اہل ایمان کا ثواب بتایا (اِِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے اجر ہے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔ حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6:۔ ” ان الذین امنو۔ الایۃ “ یہ سیدھی راہ پر چلنے والوں اور توحید پر قائم رہنے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے ان لوگوں کے لیے آخرت میں جو اجر وثواب اور انعام و اکرام مقدر ہے وہ دائمی ہوگا۔ اور کبھی ختم نہیں ہوگا۔ غیر ممنون قال ابن عباس غیر مقطوع (قرطبی ج 15 ص 341) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ كٰفِرُوْنَ۝ 7ۙ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : أتيت المروءة من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔ تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

قُلْ اِنَّمَـآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْـلُـکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ ط وَوَیْلٌ لِّـلْمُشْرِکِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 6، 7) (اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، میں تو تم جیسا ایک بشر ہوں، مجھ پر یہ بات وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود تو بس ایک ہی معبود ہے، پس تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے مغفرت مانگو اور تباہی ہے مشرکوں کے لیے۔ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہی آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔ ) راہ ِہدایت کے موانع کا دور کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–9

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کو اپنے لیے بوجھ قرار دینے والوں کو نبی محترم ﷺ کا جواب۔ جو شخص گمراہی اور اپنی جہالت کا اعتراف کرنے کے باوجود اس پر اترائے۔ اس کے ساتھ جھگڑنے یا اس پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ بحیثیت انسان میں بھی تمہارے جیسا ایک بشر ہوں۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول منتخب کیا اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر واضح کروں کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اس کا حکم ہے کہ ادھر ادھر کے راستوں کو چھوڑ کر صرف اسی کے راستے پر پکے ہوجاؤ۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

زکوۃ کو کفر کے ساتھ جمع کرنے کی وجہ : الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ (جو زکوۃ نہیں دیتے) ان کا وجوب زکوۃ پر ایمان نہیں اور نہ ہی اس کو ادا کرتے ہیں یا وہ افعال نہیں کرتے جس سے وہ پاک ہوجائیں اور وہ فعل ایمان ہے اور وہ فعل ایمان ہے۔ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ (اور وہ آخرت کے منکر ہیں) یعنی بعث وثواب اور عقاب کے هُمْ كٰفِرُوْنَ (اور وہ آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں) یہاں کفر کے ساتھ ملا کر زکوۃ کو کفر بالآخرت کے ساتھ جمع کردیا کیونکہ انسان کی محبوب ترین چیز اس کا مالک ہے اور یہ مال انسانی روح کا ہم جو لی ہے جب مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردیتا ہے تو یہی اس کی استقامت کی پختہ دلیل ہوتی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6، قل انما انا بشرمثلکم ، یعنی تم میں سے کسی ایک کی طرح اور اگر وحی نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ دعوت دیتا اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول یوحی الی انما الھکم الہ واحد، حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو تواضع کی تعلیم دی۔ ، فاستقیموا الیہ، اس کی طرف فرمانبرداری کرتے متوجہ ہوجاؤ اور اس کے راستے سے اعراض نہ کرو۔ ، واستغفروہ، اپنے گناہوں سے۔ ، وویل للمشرکین،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

آیت 1 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 مشرکوں کے لیے بڑی سخت ہلاکت اور تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی ہی ہلاکت و تباہی اور خرابی ہے ان مشرکوں کیلئے جو زکوٰۃ نہیں دیتے "۔ یعنی وہ ایمان نہیں لاتے کہ ایمان جانی زکوٰۃ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنا دراصل کفار و مشرکین کا فعل ہے جس سے مومنین صادقین کو بہرحال بچنا چاہیئے۔ اور یہ اس لئے کہ کفار مخاطب بالفردع نہیں ہیں۔ نیز اس لئے کہ زکوٰۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی جبکہ یہ سورة مکی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ واضح اور معقول بات یہ ہے کہ زکوٰۃ سے یہاں پر انفاق فی سبیل اللہ مراد لیا جائے۔ اور مکی دور میں یہ لفظ اس مفہوم کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ البتہ مدنی دور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–18

دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔ اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔ کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 6 یا ’ جس کا ان پر احسان نہ جتایا جائے گا “ لفظ ” غیر ممنون “ کے لغوی طور پر یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں بعض علمائے تفسیر کا خیال ہے کہ یہ آیت بعض علمائے تفسیر کا خیال ہے کہ یہ آیت بیماروں اور کمزوروں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی قوت اور تندرستی کی حالت میں جتنی عبادت وہ کرنے تھے۔ بیماری کی حالت میں اگر نہ بھی کرسکیں تو انہیں اس عبادت کا ثواب ملتا رہے گا (کدنی الشوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:7) یہ آیت مشرکین کی صفت ہے (1) زکوۃ ادا نہیں کرتے۔ یہاں زکوۃ بطور اصطلاح فقہی نہیں ہے لفظی معنی میں ہے یعنی ایک راہ میں خرچ کرنا۔ اور یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اپنے آپ کو شرک کی نجاست سے پاک نہیں کرتے ہیں (2) آخرت کے منکر ہیں۔ یہاں ہم کی تکرار اور کفرون پر بالاخرۃ کی تقدیم تاکید کلام کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

باری تعالیٰ کا فضل وکرم۔ (ف 1) جو لوگ ایمان لائے اور خالصا للہ اعمال صالحہ کیے ان کے لیے جنت کا ثواب ملے گا، جو کبھی موقوف نہ ہوگا، یا ناقص نہ ہوگا، یا کہ ان پر احسان جتاکران کو شرمندہ نہ کیا جائے گا یا کہ ان کا ثواب بعد ان کی موت کے بھی ان کو ملتا رہے گا یہ بھی کہا گیا کہ یہ آیت بیماروں اور اپاہجوں اور بوڑھوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو عمل وطاعت کے قابل نہ رہیں، انہیں وہی اجر ملے گا جو تندرستی میں عمل کرتے تھے بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کوئی عمل کرتا ہے اور کسی مرض یا سفر کے باعث وہ عامل اس عمل سے مجبور ہوجاتا ہے تو تندرستی اور اقامت کی حالت میں جو کرتا تھا ویسے ہی اس کے لیے لکھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[3] یہاں زکوٰۃ کے معنی میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ مفسرین کے ایک گروہ کے نزدیک یہاں زکوٰۃ سے مراد پاکیزگی نفس ہے جو توحید کے عقیدے اور اللہ کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔ دوسرا گروہ اس کو مال کی زکوٰۃ کے معنی میں لیتا ہے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ افسوس ان مشرکین پر جو پاکیزگی اختیار نہیں کرتے۔ دوسری تفسیر کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ افسوس ان لوگوں پر جو شرک کر کے اللہ کا اور زکوٰۃ نہ دے کر بندوں کا حق مارتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–9

میں ایک انسان ہوں 2: فرمایا جہاں تک میری جسمانی ساخت اور طبیعت کا تعلق ہے محض ایک انسان ہوں ۔ اور کسی بات میں تھی تم سے ممتاز نہیں ۔ میرے بھی دوہاتھ اور دو پاؤں ہیں ۔ دو آنکھیں اور دو ہونٹ ہیں ۔ میں بھی ایک دماغ اور ایک دل رکھتا ہوں اور بھی زندگی کی ضروریات ہوتی ہیں مگر ایک بات میں مختلف ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھے رسالت کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا ہے ۔ اور مجھ کو ایک بہت بڑی ذمہ داری کا حامل بنا کر بھیجا گیا ہے میں پیغمبر ہوں رسول ہوں ۔ اور اللہ کی طرف سے ایک پیغام مسرت لے کر آیا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا ایک ہے ۔ معبود ایک ہے ۔ اسی کی طرف اپنی توجہات فکروعقیدت کو پھیر لو ۔ صرف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–10

ف 4۔ چناچہ مشاہد ہے کہ ہر حصہ ارض کے رہنے والوں کے مناسب الگ الگ غذائیں ہیں، یعنی زمین میں ہر قسم کے غلے میوے پیدا کردیئے، کہیں کچھ کہیں کچھ، جن کا سلسلہ اب تک چلا آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہی لوگ ہیں جن پر زکوۃ بہت بھاری ہے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں 7 ؎ جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے کہ یہ سورت مکی ہے جس میں ابھی تک نہ تو نظام زکوۃ قائم تھا اور نہ ہی زکوۃ کی فرضیت کا اعلان ہوا تھا البتہ انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب جاری تھی اور اس کو زکوۃ ادا کرنے کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے چاہے جتنا خرچ کرالیں وہ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن کہاں خرچ ریں گے وہی شرک کی ترغیب و ترویج پر اس وقت وہ مشرک بتوں کی نذر ونیاز میں بہت کچھ کر گزرتے تھے اور آج کل کے مشرک خانقاہوں اور درباروں پر تو ہر وقت خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں اور گیارہویں کی نیاز کے لیے چاہے جتنا آپ مانگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Toward the end of the address, both the aspects of glad tidings and of warnings of the Qur'n have been presented to them, making it clear that there are dire consequences for the mushrikin (those who associate partners with Allah) and eternal rewards for the believers. In the context of the evil fate of the Mushriks, one reason for it has been mentioned that these people did not use to pay Zakah. This gives rise to some questions. The first one is that these verses were revealed in Makkah, whereas Zakah was made obligatory in Madinah. So, how can they be accused of non-payment of Zakah before…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 Here, the meaning of the word zakat has been disputed by the commentators. Ibn `Abbas and his illustrious pupils, `Ikrimah and Mujahid, say that zakat here implies the purity of the soul and self which accrues from belief in Tauhid and obedience to Allah. According to this explanation, the translation of the verse would be: "Woe to the mushriks, who do not adopt purity." The other group which includes commentators like Qatadah, Suddi, Hasan Basri, Dahhak, Muqatil and Ibn as-Sa'ib take this word here also in the meaning of the zakat on property and wealth. According to this explanation, the…

Read the full tafseer →