Explained with ayahs 6–8
حصول نجات اور اتباع رسول ﷺ۔
اللہ کا حکم ہو رہا ہے کہ ان جھٹلانے والے مشرکوں کے سامنے اعلان کر دیجئے کہ میں تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ مجھے بذریعہ وحی الٰہی کے حکم دیا گیا ہے کہ تم سب کا معبود ایک اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم جو متفرق اور کئی ایک معبود بنائے بیٹھے ہو یہ طریقہ سراسر گمراہی والا ہے۔ تم ساری عبادتیں اسی ایک اللہ کیلئے بجا لاؤ۔ اور ٹھیک اسی طرح جس طرح تمہیں اس کے رسول سے معلوم ہو۔ اور اپنے اگلے گناہوں سے توبہ کرو۔ ان کی معافی طلب کرو۔ یقین مانو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، جو زکوٰۃ نہیں دیتے۔ یعنی بقول ابن عباس لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتے۔ عکرمہ بھی یہی…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 5
یعنی میرے بس میں یہ نہیں ہے کہ تمہارے دلوں پر چڑھے ہوئے غلاف اتار دوں، تمہارے بہرے کان کھول دوں، اور اس حجاب کو پھاڑ دوں جو تم نے خود ہی میرے اور اپنے درمیان ڈال لیا ہے۔ میں تو ایک انسان ہوں۔ اسی کو سمجھا سکتا ہوں جو ملنے کے لیے تیار ہو۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 6
یعنی تم چاہے اپنے دلوں پر غلاف چڑھا لو اور اپنے کان بہرے کرلو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمہارے بہت سے خدا نہیں ہیں بلکہ صرف ایک ہی خدا ہے جس کے تم بندے ہو۔ اور یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے جو میں نے اپنے غور و فکر سے بنایا ہو، جس کے صحیح اور غلط ہونے کا یکساں احتمال ہو، بلکہ یہ حقیقت مجھ پر وحی کے ذریعہ سے منکشف کی گئی ہے جس…
Read the full tafseer →منکرین کے انکار و استہزاء کا پیغمبرانہ جواب
کفار نے جو اپنے دلوں پر پردے، کانوں میں بوجھ وغیرہ کا اقرار کیا، یہ تو ظاہر ہے اس سے مراد یہ نہ تھا کہ ان میں عقل نہیں یا بہرے ہیں بلکہ ایک قسم کا استہزاء و تمسخر تھا۔ مگر اس ظالمانہ جرأت و استہزاء کا جو جواب رسول اللہ ﷺ کو تلقین کیا گیا وہ یہ تھا کہ ان کے مقابلہ میں کوئی تشدد کی بات نہ کریں، بلکہ اپنی تواضع کا اظہار کریں کہ میں خدا نہیں جو ہر کام کا مالک و مختار ہوں بلکہ تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ فرق صرف اس کا ہے کہ مجھے میرے رب نے وحی بھیج کر ہدایت کی، اس کی تائید کے لئے معجزات دیئے۔ جس کا اثر یہ ہونا چاہئے تھا کہ تم سب مجھ پر ایمان لاتے۔ اور اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
یہ اس اعراض اور نہ سننے کی تفصیل ہے کہ وہ بڑی رعونت و تمکنت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جن چیزوں کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ان کو قبول کرنے کے لئے ہمارے دل بالکل بند ہیں یعنی جس توحید اور آخرت کی تم دعوت لے کر اٹھے ہو یہ دعوت کسی طرح ہمارے دل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو یہود کی زبانی قالوا قلوبنا غلف ‘ کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ لفظ ’ اکنۃ ‘ پر اس کے محل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
’ وفی اذاننا وقرا ‘ کے بعد ’ من استماع القراٰن ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذت ہیں۔ ’ مما تدعونا الیہ ‘ کا تقابل اس حذف کی طرف اشارہ کر رہا ہے، ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ یعنی یہ قرآن جو تم ہم کوس نا رہے…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی میرے اور تمہارے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے بجز وحی الہی کے پھر یہ بعد وحجاب کیوں ؟ علاوہ ازیں میں جو دعوت توحید پیش کر رہا ہوں وہ بھی ایسے نہیں کہ عقل وفہم میں نہ آسکے پھر اس سے اعراض کیوں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 227 تشریح آیات
﷽
آیت نمبراتا 8
حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار…
Read the full tafseer →7 یعنی نہ میں خدا ہوں کہ زبردستی تمہارے دلوں کو پھیر سکوں، نہ فرشتہ ہوں جس کے بھیجے جانے کی تم فرمائش کیا کرتے ہو نہ کوئی اور مخلوق ہوں، بلکہ تمہاری جنس و نوع کا ایک آدمی ہوں جس کی بات کا سمجھنا تم کو ہم جنسی کی بناء پر آسان ہونا چاہیے، اور وہ آدمی ہوں، جسے حق تعالیٰ نے اپنی آخری اور کامل ترین وحی کے لیے چن لیا ہے بناء ً علیہ خواہ تم کتنا ہی اعراض کرو اور کتنی ہی یاس انگیز باتیں کرو میں خدائی پیغام تم کو ضرور پہنچاؤں گا مجھے بذریعہ وحی بتلایا گیا ہے کہ تم سب کا معبود اور حاکم علی الاطلاق ایک ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔ لہذا سب کو لازم ہے کہ تمام شؤون و احوال میں سیدھے اسی خدائے واحد کی…
Read the full tafseer →آیت 6 { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک انسان ہوں تمہاری طرح کا“
مخالفین کی طرف سے چیلنج کا گستاخانہ انداز دیکھئے اور حضور ﷺ کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔ یعنی میں نے تم لوگوں کے سامنے نہ تو خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی میں نے کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس ایک انسان ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔
{ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ} ”میری طرف وحی کی جا رہی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے“
ان سورتوں کا مرکزی مضمون چونکہ توحید ہے ‘ اس لیے سورت کے آغاز میں ہی اس مضمون کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔
{…
Read the full tafseer →5 اس لیے میں نہ تو تمہارے دلوں کے پردوں کو ہٹا سکتا ہوں، نہ تمہاری ثقل سماعت کو دور کرسکتا ہوں اور جو عداوت و مخالفت کی دیوار تم نے حائل کر رکھی ہے میں اسے بھی گرا دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور یہ کام ایک انسان کی بساط سے باہر ہیں۔ ہاں تمہارے جیسا انسان ہونے کے باوجود میں یہ ضرور دعویٰ رکھتا ہوں کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے۔ جس کا بنیادی مضمون یہی ہے کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بات میں کوئی وہم و گمان اور قیاس کی بنا پر نہیں کہتا بلکہ وحی جیسے یقینی علم کی بنا پر کہتا ہوں۔ اور وحی کا تقاضا یہ ہے…
Read the full tafseer →5۔ یعنی اس کی طرف کی سیدھی راہ، راہ توحید اختیار کرو، اور اب تک جو شرک میں مبتلا رہے ہو، اس سے تائب ہوجاؤ۔ (آیت) ” انما انا بشر مثلکم “ یعنی بیشک مجھ میں کوئی قدرت تم کو ایمان پر مجبور کردینے کی نہیں بلحاظ بشریت جیسے تم ویسا ہی میں۔ رسول اور محبوب ترین رسول کے لئے بشریت کا اثبات اور بار بار اثبات، وہ بھی (آیت) ” مثلکم “ کی تاکید کے ساتھ، قرآن مجید اور شریعت اسلامی کی خصوصیات امتیازی میں سے ہے۔ (آیت) ” یوحی ..... واحد “۔ یعنی امتیازی حیثیت مجھ میں صرف اتنی ہے کہ میں بشر ہونے کے ساتھ صاحب وحی بھی ہوں .... اور وحی بھی ایسے مضمون کی جو عقلا بھی قابل قبول ہے۔ یعنی توحید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →قل (اے محمد ﷺ ! آپ ان کے جواب میں) کہہ دیجئے۔
انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد کہ میں بھی تم ہی جیسا بشر ہوں ‘ مجھ پر وحی نازل ہوئی
ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے (تھانوی) ۔
حسن نے کہا : اللہ نے آپ کو تواضع کی تعلیم دی ‘ یعنی میں تم میں سے ہی ایک شخص ہوں ‘ اگر میرے پاس وحی نہ آتی تو مجھے وہ علم حاصل نہ ہوتا جو تم دیکھ رہے ہو۔ میرے پاس وحی ہی تو آئی ہے جس نے بتایا ہے کہ تمہارا سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ‘ اسلئے تم پر لازم ہے کہ اسکو کان لگا کر سنو اور قبول کرو۔ یا انما انا بشر مثلکمکا یہ مطلب ہے کہ میں فرشتہ نہیں ہوں ‘ نہ جن ہوں کہ تم اس سے تعلیم حاصل نہ کرسکو ‘ نہ خلاف عقل باتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) سو آپ اپنے دین پر اپنے اللہ سے ہماری ہلاکت کی تدبیر کیجیے ہم اپنے طریقہ پر اپنے معبودوں سے درخواست کر رہے ہیں۔ محمد آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں بھی تم ہی جیسا انسان ہوں میرے پاس بذریعہ قرآن کریم جبریل امین یہ وحی لائے تاکہ میں تمہیں باخبر کردوں کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
تو شرک سے توبہ کر کے اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی کی توحید کا اقرار کرلو سو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔
جو کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہیں کرتے اور موت کے بعد جی اٹھنے اور جنت و دوزخ کے منکر ہیں ان کے لیے جہنم میں خون اور پیپ کی ایک وادی ہے اسے ویل بھی کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(1) قل انما انا بشر مثلکم : یعنی مجھ سے تمہاری اس قدر دوری کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ نہ تو میں فرشتہ یا جن یا نظر نہ آنے والی کوئی اور مخلوق ہوں کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی پردہ جس کی وجہ سے تم مجھے دیکھ نہ سکو یا میری بات سن نہ سکو، بلکہ میں ایک بشر ہی ہوں جو تم میں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور نبوت سے سرفراز ہوا۔ نہ یہ بات ہے کہ میری زبان تم سے مختلف ہے۔ بلکہ تمہاری طرح عرب ہوں، کھانے پینے، سونے جاگنے، تندرستی ، بیماری، شادی، غمی اور آل اولاد ، غرض تمام انسانی صفات میں تمہارے جیسا ہوں، پھر مجھ سے یہ اجتناب اور ایسی دوری کیوں ؟
(2) یوحی الی انما الھکم الہ واحد : دوری کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(قل انما انا بشر مثلکم۔۔۔۔ )
قل انماانا بشر مثلکم میں بادشاہ نہیں بلکہ میں انسان ہوں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو تواضع کی تعلیم دی یوحی الی یعنی فرشتوں کے ذریعے آسمانوں سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے (4)
الما الھکم الہ واحد تمہارا معبود ایک ہے اس پر ایمان لائو اور دعا کرتے وقت اور سوال کرتے وقت اس یک طرف متوجہ ہو واستغفروہ اپنے شرک پر مغفرت طلب کرو۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5 صفحہ 241 2 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 168 3 ؎۔ ایضاً
4 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 4، صفحہ 412
وویل للمشرکین۔ الذین لا یوتون الزکوۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتے یہ نفس کی زکوٰۃ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے (الاسماء والصفات میں) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وویل للمشرکین (6) الذین لا یؤتون الزکوۃ “ (اور ہلاکت ہے ان مشرکین کے لئے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) سے مراد ہے کہ وہ ” لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتے (آیت) ” لھم اجر غیر ممنون “ (ان کیلئے اجر ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا) یعنی جو کم نہ ہوگا۔
2:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین لا یؤتون الزکوۃ “ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا پل ہے جس نے اس کو عبور کیا وہ بری ہوگیا (جہنم سے) اور نجات پا گیا اور جس نے اس کو عبور نہ…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَآ [ آپ کہئے کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا بَشَرٌ [ میں ایک بشر ہوں ] مِّثْلُكُمْ [ تم لوگوں کے جیسا ] يُوْحٰٓى اِلَيَّ [ (ہاں) وحی کی جاتی ہے میری طرف ] اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ [ کہ تم لوگوں کا الہ تو بس ] اِلٰهٌ وَّاحِدٌ [ ایک ہی الہ ہے ] فَاسْتَقِيْمُوْٓا [ تو تم لوگ سیدھے رہو ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭ [ اور مغفرت طلب کرو اس سے ] وَوَيْلٌ [اور تباہی ہے ] لِّـلْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آپ فرما دیجیے میں تمہارے ہی جیسا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے، مشرکین کے لیے ہلاکت ہے اور اہل ایمان کے لیے ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا
قرآن کے مخاطبین جو یہ کہتے تھے کہ ہم تمہیں کیسے اللہ کا نبی مانیں تم تو ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اس کا جواب دے دیا کہ میں ہوں تو تمہارے ہی جیسا آدمی لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی فضیلت اور خصوصیت عطاء فرمائی ہے جو تم میں نہیں ہے اور وہ یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت سے نوازا ہے چونکہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہوں اس لیے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی بات پہنچاتا ہوں تمہارا معبود ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ شانہٗ جس نے سب کو پیدا فرمایا عقل صحیح کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔
حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4:۔ ” قل انما انا بشر “ یہ مشرکین کے قول ” ومن بیننا وبینک حجاب “ یعنی ہمارے اور تیرے درمیان پردہ حائل ہے کا جواب ہے۔ فرمایا کہ اس کے جواب میں کہہ دو کہ میں کوئی فرشتہ یا جن نہیں ہوں کہ جس سے افہام و تفہیم میں دشواری ہو، بلکہ میں تو ایک بشر اور انسان ہوں جس کی بات تم آسانی سے سمجھ سکتے ہو۔ اگر ایک بار بات سمجھ میں نہ آئے، تو بار بار دریافت کر کے اطمینان کرسکتے ہو۔ لست ملکا ولا جن یا لایمکنکم التلقی منہ وھو رد لقولہم بیننا وبینک حجات (روح ج 24 ص 97) ۔ ” یوحی الی انما الہکم الہ واحد “ یہ مشرکین کے قول ” قلوبنا فی اکنۃ الخ “ ، کا جواب ہے یعنی میں تمہیں کسی ایسی بات کی دعوت نہیں دے رہا جو عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوْٓا اِلَيْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ 0 ۭ وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ 6ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
بشر
وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ،
( ب ش ر ) البشر
اور قرآن میں جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔
تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
قُلْ اِنَّمَـآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْـلُـکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ ط وَوَیْلٌ لِّـلْمُشْرِکِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 6، 7)
(اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، میں تو تم جیسا ایک بشر ہوں، مجھ پر یہ بات وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود تو بس ایک ہی معبود ہے، پس تم سیدھے اسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے مغفرت مانگو اور تباہی ہے مشرکوں کے لیے۔ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہی آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔ )
راہ ِہدایت کے موانع کا دور کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کو اپنے لیے بوجھ قرار دینے والوں کو نبی محترم ﷺ کا جواب۔
جو شخص گمراہی اور اپنی جہالت کا اعتراف کرنے کے باوجود اس پر اترائے۔ اس کے ساتھ جھگڑنے یا اس پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ بحیثیت انسان میں بھی تمہارے جیسا ایک بشر ہوں۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول منتخب کیا اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر واضح کروں کہ ہر قسم کی عبادت کے لائق صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ اس کا حکم ہے کہ ادھر ادھر کے راستوں کو چھوڑ کر صرف اسی کے راستے پر پکے ہوجاؤ۔ اپنے…
Read the full tafseer →بشر ہونے کی حالت میں وحی کی بناء پر میری نبوت درست ہے :
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ (آپ فرما دیجیے کہ میں بھی تم ہی جیسا بشر ہوں۔ مجھ پر یہ وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے) ۔ یہ کفار کے قول قلوبنا فی اکنۃ کا جواب ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے ان کو فرمایا میں رشتہ نہیں ہوں۔ میں تو تمہارے جیسا انسان ہوں اور میری طرف وحی ہوتی ہے تم پر نہیں۔ بشر ہونے کی حالت میں وحی ہونے کی بناء پر میری نبوت صحیح ہے۔ جب میری نبوت درست ہے تو تم پر میری اتباع ان تمام باتوں میں لازم ہے جو میری طرف وحی کی جاتی ہیں۔ وہ بات یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →5، وقالوا، یعنی مکہ کے مشرکین ، قلوبنا فی اکنۃ، پردوں میں ہیں۔ ، مما تدعونا الیہ ، تو جو وہ کہتے ہیں ہم نہیں سمجھتے۔ ، وفی آذاننا وقر، بہراپن ہے۔ پس ہم ان کی کہی ہوئی بات نہیں سنتے اور معنی یہ ہے کہ ہم قبول کو چھوڑنے اور آپ کے نزدیک اس شخص کی طرح جو نہ سمجھتا ہے اور نہ سنتا ہے۔ ، ومن بیننا وبینک حجاب، دین میں اختلاف ہے اور ملت میں رکاوٹ ہے تو ہم آپ کی کہی ہوئی بات میں آپ کی موافقت نہ کریں گے ۔ ، فاعمل ، آپ اپنے دین پر، اننا عاملون، ہمارے دین پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت 1
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور…
Read the full tafseer →9 پیغمبر کو اپنی بشریت کے اعلان کا حکم و ارشاد : سو پیغمبر کو خطاب کر کے حکم وارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ سوائے اس کے نہیں کہ میں تو ایک بشر ہوں تم ہی جیسا "۔ یعنی نہ تو میں خدا ہوں نہ کسی خدائی صفت کا دعویدار کہ زور زبردستی سے تم لوگوں سے حق بات منوا کر ہی چھوڑوں۔ اور نہ ہی میں کوئی فرشتہ یا دوسری کوئی مافوق العادۃ مخلوق ہوں کہ تمہیں مجھے سے اتصال و استفادہ مشکل ہو اور تم مجھ سے لایعنی قسم کے مطالبات کرو۔ بلکہ میں تو اصلاً ایک بشر اور انسان ہوں اور تم ہی جیسا آدم کی اولاد میں سے ہوں۔ اور تمہاری ہی طرح تمام بشری لوازم اور تقاضے رکھتا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مجھے میرے خالق ومالک نے وحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–18
دنیا کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ آخرت پر دھیان دینا ضروری ہے۔
اللہ کا حکم نبی ﷺ کی زبانی
تشریح : ان آیات کو پڑھنے سے مسلمان کے خصوصی اعتقادات کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول کو عام انسانوں پر فوقیت کیوں دی گئی۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کی بہترین مثال ہوتا ہے۔ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دے۔ سب سے پہلے وہ اللہ کی وحدانیت کا حکم سناتا ہے وہ واحد اس لیے ہے کہ اس جیسا خالق، مہربان، منتظم، انصاف کرنے والا اور باخبر اور کوئی نہیں جن، بشر یا فرشتے کوئی بھی اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اس کی بنائی ہوئی تمام مخلوقات بہترین، مکمل اور نقص سے پاک ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار ومعارف۔
حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔
کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی میں تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں اور وحی کے ذریعہ تمہیں توحید کی طرف دعوت دیتا ہوں اور وہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے عقل انسانی سمجھنے سے قاصر ہو۔ میری دعوت میں کوئی ایسی چیز ہے۔ تفرقہ ڈالتی ہو بلکہ یہ تو قومی یک جہتی ہو ہم رنگی پیدا کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔4” لہٰذا اسی کو پکارو اور اسی سے حاجتیں طلب کرو “۔5” زکوٰۃ “ کے لفظی معنی ” پاکیزگی “ کے ہیں اور صدقہ کو زکوٰۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس سے آدمی کا مال پاک ہوجاتا ہے۔ یہ آیت چونکہ مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت مدینہ میں ہوئی۔ اس لئے یہاں زکوٰۃ سے مراد صدقہ و خیرات بھی لیا گیا ہے اور اقرار توحید کے ذریعہ نفس کی پاکیزگی بھی۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(41:6) قل : ای قل یا محمد ﷺ ۔
انما : بےشک، تحقیق ، بجز اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے ، یعنی ان یا ان کا اسم بجائے منصوب ہونے کے مرفوع ہوگا اور اس طرح ان یا ان کا عمل کہ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے رک جائے گا۔ جیسے انما الصدقت للفقراء (9:60) تحقیق صدقات (یعنی زکوۃ و خیرات) مفلسوں کے لئے ہے۔
انما۔ وہی معانی ہیں جو اوپر انما کے بیان ہوئے ہیں۔
فائدہ : ان اور ان کے استعمال میں فرق یہ ہے کہ ان (مکسورہ) صدر کلام میں آتا ہے اور اپنے اسم و خبر سے مل کر کلام تام بن جاتا ہے۔ جیسے ان زیدا قائم اس جگہ ان اپنے اسم و خبر سے مل کر کلام تام بن جاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
مشرکوں کو جواب۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں کی باتوں کے جواب میں کہہ دو کہ ظاہر میں کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں میری بات سنی بھی جاتی ہے اور میرے اور تمہارے درمیان بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہارا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی پردہ ہو، اگر بجائے میرے کوئی گیر جنس جن یافرشتہ آتا تو تم کہتے کہ کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں، ہمارے ان کے درمیان توجنسی مخالف ہی بڑ اپردہ ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہواتو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہیے اور میرے…
Read the full tafseer →[1] کفار مکہ نے اپنے دلوں کا غلافوں میں اور ڈاٹ کا کانوں میں ہونے کا جو اقرار کیا تھا تو اس سے مراد ان کی یہ نہ تھی کہ ان میں عقل نہ تھی یا وہ بہرے تھے۔ بلکہ یہ ایک قسم کا استہزاد تمسخر تھا۔ مگر اس ظالمانہ جرأت و استہزا کا جو جواب نبی ﷺ کو تلقین کیا گیا وہ یہ تھا کہ ان کے مقابلے میں کسی تشدد کی بجائے اپنی تواضع کا اظہار کریں کہ میں اِلٰہ نہیں کہ ہر کام کا مالک و مختار ہوں بلکہ تم ہی جیسا ایک انسان ہوں۔
[2] یعنی اس کے سوا کسی کی عبادت کی طرف توجہ نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
میں ایک انسان ہوں
2: فرمایا جہاں تک میری جسمانی ساخت اور طبیعت کا تعلق ہے محض ایک انسان ہوں ۔ اور کسی بات میں تھی تم سے ممتاز نہیں ۔ میرے بھی دوہاتھ اور دو پاؤں ہیں ۔ دو آنکھیں اور دو ہونٹ ہیں ۔ میں بھی ایک دماغ اور ایک دل رکھتا ہوں اور بھی زندگی کی ضروریات ہوتی ہیں مگر ایک بات میں مختلف ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھے رسالت کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا ہے ۔ اور مجھ کو ایک بہت بڑی ذمہ داری کا حامل بنا کر بھیجا گیا ہے میں پیغمبر ہوں رسول ہوں ۔ اور اللہ کی طرف سے ایک پیغام مسرت لے کر آیا ہوں ۔ اور وہ یہ ہے کہ خدا ایک ہے ۔ معبود ایک ہے ۔ اسی کی طرف اپنی توجہات فکروعقیدت کو پھیر لو ۔ صرف…
Read the full tafseer →(6) اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو بس تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میری طرف یہ وحی بھیجی جاتی ہے اور مجھ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ بس تمہارا حاکم اور تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے سو تم اسی کی طرف سیدھا باندھے چلے جائو اور سیدھے رہو اور اسی کی طرف سیدھے متوجہ رہو اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی اور بخشش طلب کرتے رہو اور ان مشرکوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو زکوٰۃ نہیں ادا کرتے یعنی کار خیر میں روپیہ خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی میں صاحب وحی ہوں، جس کی تصدیق معجزات سے ہوچکی ہے، جن میں اعظم قرآن ہے، جس کا اوپر بیان ہے۔
Read the full tafseer →6 ؎ آپ فرمادیجئے اے پیغمبر اسلام ! کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں۔ اس جگہ اس جملہ کا مطلب کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم انسان ہو اور باپ دادا رکھتے ہو میں بھی انسان ہوں اور باپ دادارکھتا ہوں۔ جس طرح تم کہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا ایسا ایسا کرتے آئے ہیں میں بھی کہتا ہوں بلکہ تم سب سے بڑھ کر ان کی عزت واحترام کا خواہش مند ہوں۔ میرے جسم میں بھی ایک دل ہے فرق یہ ہے کہ تم جس چیز کو میری صوابدید سمجھتے ہو اور پھر اپنی اولاد اور اپنے آبائو اجداد کی صوابدید کے ساتھ مقابلہ کرتے ہو یہ تم کو غلطی لگی ہے میں اپنی صوابدید کے مطابق عمل نہیں کرتا بلکہ میری طرف رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے وحی کی جاتی ہے جس…
Read the full tafseer →Prophetic reply to the Denial and Ridicule of Disbelievers
The infidels saying that their hearts were covered and their ears were leaden, etc., was not because they had become deaf and bereft of intellect; rather it was a kind of ridicule and jest that they used to make. But the reply to this offensive ridicule that the Holy Prophet ﷺ was directed to give was not to be offensive in the like manner, but to express his humility that he ﷺ is not God, having authority over everything, rather he ﷺ is also a human being; the only difference is that his Lord has given him ﷺ guidance through wahy,…
Read the full tafseer →5 That is, "It is not in my power to remove the covering that envelops your hearts, open your ears, and tear away the curtain which you have drawn between me and yourselves, I am only a tnan: I can make only him understand who is inclined to listen, and can only meet him who is ready to meet me."
6 That is. "You may if you so like put coverings on your hearts and make your ears deaf, but the fact is that you don't have many gods: then is only One God, whose servants you are. And this is no philosophy, which I might have thought out myself, and which might have equal probability of being true…
Read the full tafseer →