Explained with ayahs 1–5
فرماتا ہے کہ یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے۔ جیسے اور آیت میں فرمایا اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لئے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں جیسے اور آیت میں ہے (كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم وخبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز۔ باطل اس کے قریب پھٹک بھی…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 2
یعنی اس کے لیے ہمارے دلوں تک پہنچنے کا کوئی راستہ کھلا ہوا نہیں ہے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 3
یعنی اس دعوت نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔ اس نے ہمیں اور تمہیں ایک دوسرے سے کاٹ دیا ہے۔ یہ ایک ایسی رکاوٹ بن گئی ہے جو ہم کو اور تم کو جمع نہیں ہونے دیتی۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 4
اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم کو تم سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسرے یہ کہ تم اپنی دعوت سے باز نہیں آتے تو اپنا کام کیے جاؤ، ہم بھی تمہاری مخالفت سے باز نہ آئیں گے اور جو کچھ تمہیں نیچا دکھانے کے لیے ہم سے ہو سکے گا کریں گے۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ۔ اس جگہ کفار قریش کے تین قول نقل کئے گئے، اول یہ کہ آپ کے کلام سے ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے آپ کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ دوسرے یہ کہ آپ کے کلام سے ہمارے کان بہرے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ہمارے اور آپ کے درمیان پردے حائل ہیں۔ قرآن میں اس قول کو بطور مذمت کے نقل کیا ہے۔ جس سے ان کا کہنا غلط معلوم ہوتا ہے۔ مگر دوسری جگہ خود قرآن نے ان کا ایسا ہی حال بیان فرمایا ہے۔ سورة انعام کی آیت میں ہے۔ (آیت) وجعلنا علیٰ قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقراً۔ و مثلہ فی سورة بنی اسرائیل و الکہف۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کا اس کہنے سے مطلب یہ تھا کہ ہم تو مجبور و معذور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
یہ اس اعراض اور نہ سننے کی تفصیل ہے کہ وہ بڑی رعونت و تمکنت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جن چیزوں کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ان کو قبول کرنے کے لئے ہمارے دل بالکل بند ہیں یعنی جس توحید اور آخرت کی تم دعوت لے کر اٹھے ہو یہ دعوت کسی طرح ہمارے دل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو یہود کی زبانی قالوا قلوبنا غلف ‘ کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ لفظ ’ اکنۃ ‘ پر اس کے محل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
’ وفی اذاننا وقرا ‘ کے بعد ’ من استماع القراٰن ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذت ہیں۔ ’ مما تدعونا الیہ ‘ کا تقابل اس حذف کی طرف اشارہ کر رہا ہے، ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ یعنی یہ قرآن جو تم ہم کوس نا رہے…
Read the full tafseer →5۔ 1 اکنہ کنان کی جمع ہے۔ پردہ۔ یعنی ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں کہ ہم تیری توحید و ایمان کی دعوت کو سمجھ سکیں۔
5۔ 2 وَقْر کے اصل معنی بوجھ کے ہیں، یہاں مراد بہرا پن ہے، جو حق کے سننے میں مانع تھا۔
5۔ 3 یعنی ہمارے اور تیرے درمیان ایسا پردہ حائل ہے کہ تو جو کہتا ہے، وہ سن نہیں سکتے اور جو کرتا ہے، اسے دیکھ نہیں سکتے، اس لئے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم تجھے تیرے حال پر چھوڑ دیں، تو ہمارے دین پر عمل نہیں کرتا، ہم تیرے دین پر عمل نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 227 تشریح آیات
﷽
آیت نمبراتا 8
حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار…
Read the full tafseer →6 یعنی صرف اسی قدر نہیں کہ نصیحت کی طرف دھیان نہیں کرتے یا کان نہیں دھرتے، بلکہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن کو سن کر ناصح بالکلیہ مایوس ہوجائے۔ اور آئندہ نصیحت سنانے کا ارادہ بھی ترک کر دے۔ مثلاً کہتے ہیں ہمارے دلوں پر تو تمہاری باتوں کی طرف سے غلاف چڑھے ہوئے ہیں اس لیے کوئی بات وہاں تک پہنچتی نہیں۔ اور جب تم بات کرتے ہو ہمارے کان اونچا سننے لگتے ہیں۔ ثقل سماع کی وجہ سے کچھ سنائی نہیں دیتا، اور ہمارے تمہارے درمیان ایسا پردہ ہے جو ایک کو دوسرے سے ملنے نہیں دیتا، دشمنی، اور عداوت کی جو دیواریں کھڑی ہیں وہ درمیان سے اٹھ جائیں اور جو خلیج حائل ہے وہ پر ہو، تب ہم میں سے ایک دوسرے تک پہنچ سکے۔ لیکن ایسا…
Read the full tafseer →آیت 5 { وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پر دوں میں ہیں اس چیز سے جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں“
{ وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ} ”اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے“
مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی باتیں ادب و احترام کے دائرے میں نہیں بلکہ آپ ﷺ کو تنگ کرنے کے لیے گستاخانہ اور استہزائیہ انداز میں کرتے تھے۔ وہ لوگ مختلف طریقوں سے آپ ﷺ کے سامنے اپنے اس موقف کو بار بار دہراتے رہتے تھے کہ آپ ﷺ جس قدر چاہیں اپنے آپ کو ہلکان کرلیں ‘ آپ ﷺ کی یہ باتیں ہمارے دلوں میں اتر کر اپنا اثر نہیں دکھا سکتیں۔ آپ ﷺ کی ان باتوں کو نہ تو ہم سنتے ہیں اور نہ ہی…
Read the full tafseer →3 قرآن کی ان گونا گوں خوبیوں کے باوجود زیادہ تر لوگ اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں وہ اس کی آیات کو تسلیم کرنا تو درکنار سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ پھر اپنی اس خصلت پر فخر بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم ہمارے دلوں پر مطلقاً اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ ہمارے دل ایسے اثرات قبول کرنے سے کلیتاً محفوظ ہیں۔ بلکہ ہمیں تو ان آیات کا سننا بھی گوارا نہیں۔ ایسی باتیں سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں۔ لہذا وہ سننے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ( ! ) تمہاری اس دعوت سے ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت کی ایک دیوار حائل ہوچکی ہے اور اس دعوت نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔ لہذا…
Read the full tafseer →4۔ یعنی ہم اپنے طریقہ کو نہ چھوڑیں گے، ہم سے کوئی امید قبول کی نہ رکھیے، پھر بھی کہنے کو جی چاہے تو کہے جائیے، آپ جانیں اور آپ کا کام .... مشرکوں کا یہ قول از راہ فخر وعزم اصرار علی الکفر تھا۔ اسی لئے محل ذم میں نقل ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →وقالوا اور انہوں نے (یعنی مشرکین مکہ نے) کہا۔
قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ وفی اذاننا وقرو من بیننا و بینک حجاب فاعمل اننا
عملون 1 جس چیز کی طرف آپ ہم کو بلاتے ہیں اسکی طرف سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ لگ رہی ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک پردہ پڑا ہوا ہے ‘ سو آپ اپنا کام کئے جائیے ‘ ہم اپنا کام کر رہے ہیں۔
قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ - اکنِّۃ ‘ کنان کی جمع ہے ‘ پردے ‘ سرپوش۔
مِّمَّا تَدْعُوْنَا یعنی جس توحید کی طرف تم ہم کو بلا رہے ہو ‘ اسکی طرف سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں ‘ اسلئے تمہاری بات ہم نہیں سمجھتے۔
وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ ۔ وقر ‘ ثقل ‘ گرانی ‘ ڈاٹ۔…
Read the full tafseer →اور کفار مکہ یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ قرآن کریم اور توحید کے بارے میں ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں اور ہمارے کانوں میں بہرہ پن ہے آپ جو ہم سے کہتے ہیں ہم اسے نہیں سنتے اور کفار اپنے سروں پر بطور مذاق کے کپڑا ڈال لیا کرتے تھے پھر کہتے تھے کہ محإد آپ کے اور ہمارے درمیان ایک پردہ حائل ہے ہم آپ کی باتوں کو نہیں سنتے۔
Read the full tafseer →(1) وقالوا قلوبنا فی اکنۃ …”اکنۃ“”کنان“ کی جمع ہے، پردہ جیسا کہ ”غطاء“ کی جمع ”اغطیۃ“ ہے۔ ترکش یعنی تیروں کا تھیلا جس میں تیر چھپے ہوتے ہیں ”کنانۃ“ کہلاتا ہے۔”وقر“ کا اصل معنی ”بوجھ“ ہے، مراد بہرا پن ہے۔
(2) فرمایا ، کفار کا آیات الٰہی سے اعراض اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ صرف یہ نہیں کہ وہ سنتے نہیں یا منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں ، بلکہ ان کی نفرت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ انہوں نے واشگاف الفاظ میں اس کا اظہار کیا اور اس کی تنی وجہیں بیان کیں۔ پہلی یہ کہ تم ہمیں جس بات کی طرف دعوت دیتے ہو ہمارے دل اس سے بھاری پردوں میں محفوظ ہیں۔ (اکنۃ کی تنوین تعظیم کے لئے ہے) وہ دعوت ہمارے دلوں تک پہنچتی ہی نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(حم۔ تنزیل من الرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔ )
حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔ زجاج نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ اس کا رفع ھذا کا مضمر ہونے کی بناء پر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ کہا جائے کتب یہ تنزیل سے بدل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ یہ تنزیل لی کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حم کی تقدیر یہ ہے ھذہ حم جس طرح تو کہتا ہے : باب کذا اصل میں ھو باب کذا تھا پس حم یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اصل میں یہ ھو حم تھا تنزیل دوسرا مبتداء ہے اور کتب اس کی خبر ہے فضلیت ایتہٗ یعنی ان کی وضاحت و تفسیر بیان کردی گئی ہے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اس کے حرام سے اس کے حلال کو اور اس کی معصیت سے اس کی اطاعت کو واضح کردیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ “ اور انہوں نے کہا (ہمارے دل پردوں میں ہیں) جیسے تیر کے لئے ترکش ‘۔
2:۔ ابوسہل السری بن سہل الجندی نیسابوری (فی حدیثہ من طریق عبد القدوس نافع بن ازرق) اور انہوں نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ قریش کے لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا اسلام لانے سے کس چیز نے تم کو روکا ہے (اگر تم اسلام لے آؤ) تو تم عرب کے سردار بن جاؤ گے۔ اور انہوں نے کہا : اے محمد ! آپ جو کہتے ہیں ہم اسے نہیں سمجھتے اور نہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا [ اور انہوں نے کہا ہمارے دل ] فِيْٓ اَكِنَّةٍ [ غلافوں میں ہیں ] مِّمَّا [ اس سے ] تَدْعُوْنَآ [ آپ بلاتے ہیں ہم کو ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ] وَفِيْٓ اٰذَانِنَا [ اور ہمارے کانوں میں ] وَقْرٌ [ کچھ گرانی ہے ] وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ [ اور ہمارے درمیان اور آپ کے درمیان ] حِجَابٌ [ ایک حجاب ہے ] فَاعْمَلْ [ تو آپ عمل کریں ] اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ [ بیشک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں ]
نوٹ ۔ 1: کفار نے جو اپنے دلوں پر پردے ، کانوں میں بوجھ وغیرہ کا اقرار کیا ، اس سے ظاہر ہے یہ تو مراد نہ تھا کہ ان میں عقل نہیں یا بہرے ہیں ، بلکہ یہ ایک قسم کا استہزاء و تمسخر تھا ۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آپ فرما دیجیے میں تمہارے ہی جیسا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے، مشرکین کے لیے ہلاکت ہے اور اہل ایمان کے لیے ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا
قرآن کے مخاطبین جو یہ کہتے تھے کہ ہم تمہیں کیسے اللہ کا نبی مانیں تم تو ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اس کا جواب دے دیا کہ میں ہوں تو تمہارے ہی جیسا آدمی لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی فضیلت اور خصوصیت عطاء فرمائی ہے جو تم میں نہیں ہے اور وہ یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت سے نوازا ہے چونکہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہوں اس لیے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی بات پہنچاتا ہوں تمہارا معبود ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ شانہٗ جس نے سب کو پیدا فرمایا عقل صحیح کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔
حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4:۔ ” قل انما انا بشر “ یہ مشرکین کے قول ” ومن بیننا وبینک حجاب “ یعنی ہمارے اور تیرے درمیان پردہ حائل ہے کا جواب ہے۔ فرمایا کہ اس کے جواب میں کہہ دو کہ میں کوئی فرشتہ یا جن نہیں ہوں کہ جس سے افہام و تفہیم میں دشواری ہو، بلکہ میں تو ایک بشر اور انسان ہوں جس کی بات تم آسانی سے سمجھ سکتے ہو۔ اگر ایک بار بات سمجھ میں نہ آئے، تو بار بار دریافت کر کے اطمینان کرسکتے ہو۔ لست ملکا ولا جن یا لایمکنکم التلقی منہ وھو رد لقولہم بیننا وبینک حجات (روح ج 24 ص 97) ۔ ” یوحی الی انما الہکم الہ واحد “ یہ مشرکین کے قول ” قلوبنا فی اکنۃ الخ “ ، کا جواب ہے یعنی میں تمہیں کسی ایسی بات کی دعوت نہیں دے رہا جو عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْہِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ 5
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
قلب
قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] .
( ق ل ب ) قلب
الشئی کے معنی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔
تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَـآ اِلَیْہِ وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌوَّمِنْ م بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّـنَا عٰمِلُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 5)
(اور وہ کہتے ہیں ہمارے دل اوٹ میں ہیں، ان باتوں سے جن کی آپ ہمیں دعوت دے رہے ہیں، ہمارے کان اس چیز سے بہرے ہیں (جو آپ ہمیں سنا رہے ہیں) اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب حائل ہے، پس آپ اپنا کام کیجیے، ہم اپنا کام کیے جائیں گے۔ )
اعراض کی تفصیل
اوپر کی آیت میں جس اعراض کا ذکر ہے اس آیت میں اس کی تفصیل ہے۔ یعنی ان کا اعراض صرف انکار کی حد تک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر بن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے نزول اور نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد نیک لوگوں کو خوشخبری سنانا اور بروں لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے
نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے نیک لوگوں کو ان کے بہتر انجام کی خوشخبری دی جائے اور برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا جائے۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے یہی بات بیان فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد حقیقی ایمان اور صالح کردار رکھنے والوں کو دنیا اور آخرت کی خوشخبری سنانا اور باطل عقائد اور برا کردار رکھنے والوں کو ان کے بھیانک انجام سے ڈرانا ہے۔ جسے آپ ﷺ نے پورے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ کھول…
Read the full tafseer →انکار کفار کی تمثیل :
وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دل اس سے پردوں میں ہیں) اکنہ جمع کنان کی ہے : پردے۔ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ (جس بات کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں) یعنی توحید۔ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ (اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے) حجاب کا معنی پردہ۔ در اصل قبول حق سے ان کے دلوں کے انکار کی یہ تمثیل ہے اور اعتقاد حق کے انکار کو اس تمثیل سے ظاہر کیا گیا گویا ان کے دل پردے اور غلاف سے ڈھنپے ہوئے جو کہ نفوذ حق سے رکاوٹ بن گئے ہیں اور ان کے کان سننے سے انکاری ہیں۔ گویا کہ وہ حق سے بہرے ہوچکے ہیں۔ اور حق و…
Read the full tafseer →4، بشیراونذیرا، یہ دونوں صفتیں قرآن مجید کی ہیں یعنی اللہ کے اولیاء کو خوشخبری دینے والا اور اس کی دشمنوں کو ڈانے والا ہے۔ ، فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون، یعنی تکبر کی وجہ سے اس کی طرف کان نہیں دھرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت 1
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور…
Read the full tafseer →7 عناد اور ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں اس چیز سے جس کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں۔ ہمارے کانوں میں ڈاٹ پڑے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک پردہ حائل ہے " اور ان کے کانوں کے یہ ڈاٹ اور ان کی آنکھوں کے یہ پردے دراصل نتیجہ تھا اس ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا جو وہ لوگ حق اور اہل حق کے بارے میں اپنے اندر رکھتے تھے۔ مگر قدرت کی پھٹکار اور ان کی بدبختی ملاحظہ ہو کہ اپنی اس محرومی پر پچھتانے اور افسوس کرنے کی بجائے وہ الٹا اسے فخریہ طور پر بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ کی رحمتیں قرآن کی صورت میں
تشریحـ: ان آیات میں خدائے واحد کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رحم کرنے والا بےحد مہربان ہے۔ اس نے انسانوں پر مہربانی کی کہ ایک کتاب جو ہر طرح سے مکمل اور بہترین کتاب ہے انسانوں کی بہتری، آسانی اور کامیابی کے لیے بہترین راہنما اصول بنا کر انسانوں کو وقت پر خبردار کردیا ہے کہ جو اس کے بتائے ہوئے راستوں کو اختیار کرے گا۔ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوگا اور جو اس سے دور رہے گا وہ دنیا و آخرت میں سزا پائے گا ناکام ہوگا۔ عرب لوگوں کی سہولت کے لیے قران پاک ان کی مادری زبان عربی میں نازل کیا گیا اور بےحد آسان زبان، آسان مضمون اور آسان الفاظ میں نازل کیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار ومعارف۔
حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔
کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1 یعنی تمہاری کوئی بات ہم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ اور جو دعوت تم لے کر اٹھے ہو اس نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈالی دی ہے۔2 یعنی بتوں کی عبادت اور باپ دادا کی رسوم کی یا دین حق کو مٹانے کی کوشش۔
Read the full tafseer →(41:5) اکنۃ۔ پردے۔ غلاف۔ کنان کی جمع۔ ک ن ن مادہ کے حروف ہیں۔ اس معنی میں اور جگہ قرآن میں ہے وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ (6:25) اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں کہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔
الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جائے۔ کننت الشیء کنا کسی چیز کو کن میں محفوظ کردینا۔ اس کن کی اکنان آتی ہے اسی سے محفوظ رکھی ہوئی چیز کو مکنون کہیں گے جیسے کانھم لؤلؤ مکنون (52:24) جیسے چھپائے ہوئے موتی۔
مما تدعونا الیہ : من حرف جار ما اسم موصول تدعونا مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر نا ضمیر مفعول جمع متکلم الیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔
وقر اسم مصدر۔ ثقل ۔ گرانی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
مشرکوں کو جواب۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں کی باتوں کے جواب میں کہہ دو کہ ظاہر میں کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں میری بات سنی بھی جاتی ہے اور میرے اور تمہارے درمیان بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہارا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی پردہ ہو، اگر بجائے میرے کوئی گیر جنس جن یافرشتہ آتا تو تم کہتے کہ کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں، ہمارے ان کے درمیان توجنسی مخالف ہی بڑ اپردہ ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہواتو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہیے اور میرے…
Read the full tafseer →ہمارے دلوں پر دے پڑے ہیں
1: مکہ والے جب قرآن حکیم کو سنتے تھے ۔ تو صاف طور پر اعلان کرتے تھے ۔ کہ ہمارے دلوں پر حسد اور تعصب کے پردے پڑے ہوئے ہیں جو حق وصداقت کی روشنی کو نہیں پہنچنے دیتے ۔ ہماری سماعت میں ثقل ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم معذور ہیں ۔ کہ دلائل آیات کو نہ سنیں ۔ تمہارے اور ہمارے درمیان اختلافات عقائد کا انتا بڑا برزخ حائل ہے ۔ کہ متفق الرائے ہونا عملاً دشوار اور لامحال ہے ۔ اس لئے اب یہی بہتر ہے کہ تم اپنا کام کئے جاؤ۔ اور ہمیں اجازت دو ۔ کہ ہم اپنے مشاغل میں مصروف رہیں ۔ گویا ان کے نزدیک حضور کی کامیابی کے لئے کوئی امکان ہی موجودنہ تھا ۔ اور امکان کا کیونکر خیال ہوسکتا ہے ۔ جب کہ لوگ…
Read the full tafseer →(5) اور ان دین حق کے منکروں نے یوں کہا کہ جس بات کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اس بات کے سمجھنے سے ہمارے دل اور قلوب پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ثقل اور بوجھ ہے اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک خاص مانع یعنی پردہ حائل ہے سو تو اپنا کام کئے جا اور ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ یعنی آپ جو ہم کو دعوت دیتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں اس سے ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے دل پردوں میں ہیں کانوں میں ثقل یعنی ٹٹیاں اڑی ہوئی ہیں اور آپ کے اور ہمارے درمیان پردہ حائل ہے یہ تمام موانع ہیں اب تیرا جو کام ہے وہ کرتارہ اور ہمارا جو کام ہے وہ ہم کررہے ہیں کفار کی یہ باتیں بطور استہزا اور بطور تمسخر تھیں اور عناد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1۔ یعنی ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔
2۔ یعنی ہم سے کچھ امید قبول کی نہ رکھیئے، اور پھر کہنے کو جی چاہے تو کہے جایئے۔ آپ جانیں اور آپ کا کام، ہم اپنے طریقہ کو نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →مخالفین نے برملا کہا کہ جس بات کی آپ ہم کو دعوت دیتے ہیں اس بات پر ہمارا جی نہیں لگتا
5 ؎ مخالفین ایک تو مخالف تھے اور دوسرا تکبر و رعونت سے بھی بھرے ہوئے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم چومادیگرے نیست اس لیے انہوں نے برملا کہنا شروع کیا اے پیغمبر اسلام ! جس بات کی طرف آپ ہم کو دعوت دیتے ہیں اس دعوت پر ہمارا جی نہیں لگتا پھر ہم اس دعوت کو کیونکر قبول کرلیں۔ یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے صرف اور صرف دو باتوں کی دعوت دی تھی ایک توحید الٰہی کی اور دوسری روز قیامت کی یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنے کی یہی دونوں عقیدے اسلام میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں باقی سب ان کی معاونت کے لیے ہیں اور یہ دونوں…
Read the full tafseer →وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ - (And they say, " Our hearts are [ wrapped ] in covers against that to which you invite us 41:5) Here three statements of the infidels of Quraysh are reproduced. Firstly, they said that there was a cover on their hearts against his discourse, and therefore they do not understand what he says. Secondly, that their ears are deaf to listen to his speech. Thirdly, that there are barriers between him and them. The Holy Qur'an has reproduced this statement of theirs in the context of denouncing it, which indicates that these statements are wrong. But at another…
Read the full tafseer →2 That is, "It has no way open to reach our hearts."
3 That is "This invitation has divided us: it has cut us off from you it leas become a hindrance for us to join you."
4 It has two meanings: (1) "That we have nothing to do with you ;" and (2) "that if you do not desist from your preaching, you may go on doing your mission, we also will not stop our opposition to you, and we will do whatever we can to defeat and frustrate your mission. "
Read the full tafseer →