Explained with ayahs 1–5
فرماتا ہے کہ یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے۔ جیسے اور آیت میں فرمایا اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لئے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں جیسے اور آیت میں ہے (كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم وخبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز۔ باطل اس کے قریب پھٹک بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 1
یہ اس سورة کی مختصر تمہید ہے۔ آگے کی تقریر پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس تمہید میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں وہ بعد کے مضمون سے کیا مناسبت رکھتی ہیں۔
پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کلام خدا کی طرف سے نازل ہو رہا ہے۔ یعنی تم جب تک چاہو یہ رٹ لگاتے رہو کہ اسے محمد ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں، لیکن واقعہ یہی ہے کہ اس کلام کا نزول خداوند عالم کی طرف سے ہے۔ مزید براں یہ ارشاد فرما کر مخاطبین کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اگر اس کلام کو سن کر چیں بجبیں ہوتے ہو تو تمہارا یہ غصہ محمد ﷺ کے خلاف نہیں بلکہ خدا کے خلاف ہے، اگر اسے رد کرتے ہو تو ایک انسان کی بات…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے سامنے کفار مکہ کی طرف سے ایک پیشکش
کفار قریش جو اس سورت کے بلاواسطہ مخاطب ہیں۔ انہوں نے نزول قرآن کے بعد ابتداء اسلام میں زور قوت کے ساتھ اسلام کی تحریک کو دبانے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچا کر خوفزدہ کرنے کی بہت سی کوششیں کیں۔ لیکن اسلام ان کے علی الرغم بڑھتا اور قوت پکڑتا چلا گیا۔ پہلے حضرت حمزہ جو قریش کے مسلم سردار تھے وہ مسلمان ہوگئے پھر حضرت عمر بن خطاب جیسے قوی اور جری داخل اسلام ہوگئے تو اب قریش مکہ نے تخویف کا راستہ چھوڑ کر ترغیب اور لالچ کے ذریعہ تبلیغ اسلام کا راستہ روکنے کی تدبیریں سوچنا شروع کردیں۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ ہے…
Read the full tafseer →اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن کی صورت میں اتارتے تو یہ لوگ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیتیں ہمارے لئے اچھی طرح کھولی کیوں نہ گئیں ؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی !
’ لقوم یعلمون ‘ میں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ہم نے یہ سارا اہتمام ان لوگوں کے لئے کیا جو جاننے اور سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو جاننے کی خواہش ہی سے محروم ہیں ان کے لئے سارے جتن بیکار ہیں۔ اس اسلوب بیان میں عربوں کے لئے ایک تحریص و ترغیب بھی ہے کہ انہیں جاننے اور سمجھنے کا حریص ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ امی رہے ہیں اور اب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی تعلیم کے لئے ان کی زبان میں اپنی کتاب اتاری…
Read the full tafseer →4۔ 1 ایمان اور اعمال صالح کے حاملین کو کامیابی اور جنت کی خوشخبری سنانے والا اور مشرکین و مکذبین کو عذاب نار سے ڈرانے والا۔ 4۔ 2 یعنی غور و فکر اور تدبر و تعقل کی نیت سے نہیں سنتے کہ جس سے انہیں فائدہ ہو۔ اسی لئے ان کی اکثریت ہدایت سے محروم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 227 تشریح آیات
﷽
آیت نمبراتا 8
حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار…
Read the full tafseer →4 یعنی قرآن اپنے ماننے والوں کو نجات و فلاح کی خوشخبری سناتا اور منکروں کو برے انجام سے ڈراتا ہے۔
5 یعنی ان سب باتوں کے باوجود بھی تعجب ہے ان میں کے بہت لوگ اس کتاب کی بیش قیمت نصائح کی طرف دھیان نہیں کرتے۔ اور جب ادھر دھیان ہی نہیں تو سننا کیوں چاہیں گے۔ فرض کیجیے کانوں سے سن بھی لیا لیکن گوش دل سے نہ سنا اور قبول کرنے کی توفیق نہ ہوئی تو سنا ان سنا برابر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4 { بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ”بشارت دینے والی اور آگاہ کردینے والی۔“
یہ کتاب بشارتیں بھی دیتی ہے اور خبردار بھی کرتی ہے۔ حضور ﷺ بھی تبشیر اور انذار کا حق قرآن مجید کے ذریعے سے ہی ادا فرماتے تھے۔ جیسا کہ سورة مریم میں فرمایا گیا : { فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰــہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا۔ } ”پس ہم نے توآسان کردیا ہے اس قرآن کو آپ ﷺ کی زبان میں ‘ تاکہ آپ بشارت دیں اس کے ساتھ متقین کو اور خبردار کریں اسی کے ذریعے جھگڑالو قوم کو۔“
{ فَاَعْرَضَ اَکْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ } ”تو ان کی اکثریت نے اعراض کیا اور وہ سنتے ہی نہیں ہیں۔“
Read the full tafseer →2 قرآن کی چار صفات کا ذکر :۔ یہ تمہیدی آیات ہیں جن میں قرآن کی چند صفات بیان کرکے اسے متعارف کرایا جارہا ہے اس کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ نہ محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے نہ ہی کسی دوسرے آدمی کا ہے بلکہ یہ اس ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو رحمان و رحیم ہے۔ اپنی مخلوق پر بےانتہا مہربان ہے اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی فلاح وسعادت کے لیے قرآن جیسی عظیم نعمت نازل فرمائی ہے اور اگر کوئی شخص اس نعمت سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو وہ انتہائی ناشکرا اور ناقدر شناس ہے۔ اس کتاب کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کی آیات کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ نئے سے نئے پیرائے میں بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ (آیت) ” لقوم یعلمون “۔ قرآن کا مخاطب تو سارا عالم انسانی ہیں لیکن نفع اس سے بہرحال وہی اٹھاتے ہیں جو علم وفہم سے کام لیتے رہتے ہیں، (آیت) ’ ’ بشیرا “۔ بشارت دینے والا ان کے حق میں جو اس کے پیام کو سن لیں، مان لیں، (آیت) ” نذیرا “۔ ڈرانے والا انکے حق میں جو اس کے پیام کو نہ سنیں، اس سے انکار کردیں، (آیت) ” عرب یا “۔ عربی کے معنی تو کلام فصیح کے ہیں، لیکن اگر زبان عربی کا قرآن اس سے مراد لیا جائے تو اس کی یہ خصوصیت اس کے مخاطبین اول کی رعایت سے ہوگی۔
3۔ یعنی قرآن کی ان خصوصیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ سب ایمان لے آتے لیکن اکثر مخاطبین نے اپنے قصد واختیار سے اس کی طرف سے روگردانی کی، نتیجہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →بشیرا ونذیرا (ا اللہ کے دوستوں کو) بشارت دینے والا اور (ا اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے) ڈرانے والا۔
فاعرض اکثرھم سو اکثر لوگوں نے (قران پر غور کرنے اور اس کو ماننے سے) رخ پھیرلیا۔
فھم لا یسمعون اسلئے وہ کان لگا کر (محض ضد اور دشمنی کی وجہ سے) نہیں سنتے۔ یا لاَ یَسْمَعُوْنَکا مطلب ہے قبول
نہیں کرتے۔ عربی محاورہ میں کہا جاتا ہے : میں نے فلاں شخص کی سفارش کی مگر اس نے میری بات نہیں سنی ‘ یعنی نہیں مانی۔
Read the full tafseer →جنت کی خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا ہے یعنی قرآن کریم پر ایمان لانے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتا ہے اور اس کا انکار کرنے والوں کو دوزخ سے ڈراتا ہے۔
مگر مکہ والوں نے رسول اکرم پر ایمان لانے اور قرآن کریم کے ماننے سے اعراض کیا اور وہ نہ حضور اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) بشیراً و نذیراً : یہ چوتھی اور پانچویں صفت ہے کہ یہ کتاب ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں بہترین انجام کی بشارت دیتی ہے اور جھٹلانے والوں کو دنیا اور آخرت کے بدترین انجام سے ڈراتی ہے۔
(2) فاعرض اکثرھم فھم لایستعون : قرآن مجید کی صفات بیان کرنے کے بعد اس پر لوگوں کا ردعمل بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ سنتے ہی نہیں۔ اکثر سے مراد یہاں کفار ہیں۔ نہ سننے سے مراد یہ ہے کہ وہ سرے سے سنتے ہیں ہیں، بلکہ مجلس سے اٹھ جاتے ہیں (دیکھیے ص : 6) یا کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں اور کپڑے اوڑھ لیتے ہیں۔ (دیکھیے نوح : 7) یا شور و غل ڈال کر نہ خود سنتے ہیں نہ کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(حم۔ تنزیل من الرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔ )
حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔ زجاج نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ اس کا رفع ھذا کا مضمر ہونے کی بناء پر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ کہا جائے کتب یہ تنزیل سے بدل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ یہ تنزیل لی کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حم کی تقدیر یہ ہے ھذہ حم جس طرح تو کہتا ہے : باب کذا اصل میں ھو باب کذا تھا پس حم یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اصل میں یہ ھو حم تھا تنزیل دوسرا مبتداء ہے اور کتب اس کی خبر ہے فضلیت ایتہٗ یعنی ان کی وضاحت و تفسیر بیان کردی گئی ہے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اس کے حرام سے اس کے حلال کو اور اس کی معصیت سے اس کی اطاعت کو واضح کردیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حم ٓ السجدہ مکہ میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابویعلی وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) و بیہقی (رح) (کلاھمافی الدلائل) وابن عساکر (رح) نے جابربن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے دیکھو تم سے کون جادو کو کھانا کو اور شعر کو زیادہ جانتا ہے۔ ؛ وہ اس آدمی کے پاس جائے جس نے ہماری جماعت میں جدائی ڈال دی اور ہماری قوت کو کمزور کردیا اور ہمارے دین میں عیب لگایا ہم نے سوچا ہے کہ اس سے بات کی جائے پھر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتا…
Read the full tafseer →بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۚ [ بشارت دینے والی اور خبردار کرنے والی ہوتے ہوئے ] فَاَعْرَضَ [ پھر اعراض کیا ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر نے ] فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ [ نتیجتا وہ لوگ سنتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آپ فرما دیجیے میں تمہارے ہی جیسا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے، مشرکین کے لیے ہلاکت ہے اور اہل ایمان کے لیے ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا
قرآن کے مخاطبین جو یہ کہتے تھے کہ ہم تمہیں کیسے اللہ کا نبی مانیں تم تو ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اس کا جواب دے دیا کہ میں ہوں تو تمہارے ہی جیسا آدمی لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی فضیلت اور خصوصیت عطاء فرمائی ہے جو تم میں نہیں ہے اور وہ یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت سے نوازا ہے چونکہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہوں اس لیے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی بات پہنچاتا ہوں تمہارا معبود ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ شانہٗ جس نے سب کو پیدا فرمایا عقل صحیح کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔
حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” فاعرض اکثرھم “ تا ” اننا عملون “ یہ منکرین پر زجر ہے اور پہلا شکوی ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ ایسی عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب کو سینوں سے لگاتے۔ لیکن انہوں نے اس سے اس طرح منہ موڑا کہ اسے سمجھنا اور اس میں غور وفکر کرنا تو درکنار وہ اسے سنتے بھی نہیں۔ ان کے نہ سننے اور اعراض کو آگے تین تعبیروں سے ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ۔ ماتدعونا الیہ “ سے مسئلہ توحید مراد ہے جو سورة مومن کا دعوی ہے۔ ” ما تدعونا الیہ من التوحید “ (مدارک مظہری) ۔ یعنی ہمارے دل تہ بتہ پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے تیرے اس مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و…
Read the full tafseer →بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا 0ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُہُمْ فَہُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ 4
بشیر
ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64]
والبشیر : المُبَشِّر، قال تعالی: فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96]
( ب ش ر ) البشر
اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔
البشیر
خوشخبری دینے والا ۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔
تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰـتُـہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ج فَاَعْرَضَ اَکْثَرُھُمْ فَھُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 1، 4)
(حٰ مٓ۔ 1) یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن کی صورت میں، ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ خوشخبری دینے والی اور ڈرا دینے والی، پس ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی اور وہ اس کو سن کر نہیں دیتے۔ )
مخالفین کا اصل ہدف
ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مخالفین کی مخالفت کا اصل ہدف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے نزول اور نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد نیک لوگوں کو خوشخبری سنانا اور بروں لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے
نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے نیک لوگوں کو ان کے بہتر انجام کی خوشخبری دی جائے اور برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرایا جائے۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے یہی بات بیان فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد حقیقی ایمان اور صالح کردار رکھنے والوں کو دنیا اور آخرت کی خوشخبری سنانا اور باطل عقائد اور برا کردار رکھنے والوں کو ان کے بھیانک انجام سے ڈرانا ہے۔ جسے آپ ﷺ نے پورے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ کھول…
Read the full tafseer →بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا (بشارت دینے والا ہے اور ڈرانے والا ہے)
نحو : یہ دونوں قرآن کی صفات ہیں۔
فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ (پس اکثر لوگوں نے روگردانی کی پھر وہ سنتے ہی نہیں) یعنی آپ کی بات کو قبول ہی نہیں کرتے۔ عرب کہتے ہیں تشفعت الی فلان فلم یسمع قولی ولقد سمعہ ولکنہ لما لم یقبلہ ولم یعمل بمقتضاہ۔ میں نے فلاں کے ہاں سفارش کی پس اس نے میری بات نہیں سنی حالانکہ اس نے بات تو سنی ہوتی ہے لیکن قبول نہیں کی ہوتی اور نہ ہی اس کے مقتضی پر عمل کیا ہوتا ہے۔ پس گویا اس نے سنا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3، کتا ب فصلت آیاتہ، ہے۔ اس کی آیات بیان کی گئی ہیں، قرآنا عربیا لقوم یعلمون، عربی زبان میں اور اگر ان کی زبان کے علاوہ کسی زبان میں ہوتا تو وہ اس کونہ جانتے اور قرآنا کا نصب بیان کے اس پر واقع ہونے کی وجہ سے ہے یعنی ، فصلنا ہ قرآنا، یعنی ہم نے اس کو بیان کیا یعنی قرآن کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت 1
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور…
Read the full tafseer →5 قرآن حکیم کی صفت تبشیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ خوشخبری دینے والا ہے "۔ یعنی یہ اپنے ماننے والوں کو دائمی سعادتوں اور ابدی راحتوں کی بشارت و خوشخبری دیتا ہے۔ سو جو لوگ صدق دل سے اس کتاب حکیم پر ایمان لائیں گے اور اس کی مقدس تعلیمات کو اپنائیں گے ان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی بشارت و خوشخبری ہے ۔ اللہ توفیق دے ۔ نیز اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ دین حق کے ماننے اور اس کتاب حکیم کے علوم و معارف سے مستفید و فیضیاب ہونے کے لیے کسی طرح کے جبر واکراہ کا نہ کوئی دخل ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت۔ بلکہ اس کا کام اور اس کی شان راہ حق و ہدایت سے آگاہ کردینا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ کی رحمتیں قرآن کی صورت میں
تشریحـ: ان آیات میں خدائے واحد کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رحم کرنے والا بےحد مہربان ہے۔ اس نے انسانوں پر مہربانی کی کہ ایک کتاب جو ہر طرح سے مکمل اور بہترین کتاب ہے انسانوں کی بہتری، آسانی اور کامیابی کے لیے بہترین راہنما اصول بنا کر انسانوں کو وقت پر خبردار کردیا ہے کہ جو اس کے بتائے ہوئے راستوں کو اختیار کرے گا۔ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوگا اور جو اس سے دور رہے گا وہ دنیا و آخرت میں سزا پائے گا ناکام ہوگا۔ عرب لوگوں کی سہولت کے لیے قران پاک ان کی مادری زبان عربی میں نازل کیا گیا اور بےحد آسان زبان، آسان مضمون اور آسان الفاظ میں نازل کیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار ومعارف۔
حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔
کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1 یعنی تمہاری کوئی بات ہم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ اور جو دعوت تم لے کر اٹھے ہو اس نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈالی دی ہے۔2 یعنی بتوں کی عبادت اور باپ دادا کی رسوم کی یا دین حق کو مٹانے کی کوشش۔
Read the full tafseer →(41:4) بشیرا ونذیرا۔ یہ ہر دو صفات ہیں جن کا موصوف قرانا ہے۔ (یہ قرآن) اہل اطاعت کے لئے مژدہ سنانے والا ہے اور اہل معصیت کے ڈرانے والا ہے۔
فاعرض۔ ماضی صیغہ واحد مذکر غائب اس نے اعراض کیا۔ اس نے روگردانی کی۔ اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ اعراض (افعال) مصدر ۔ فاعرض اکثرھم۔ یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ ان صفات کے پیش نظر سب اس پر ایمان لے آتے لیکن ہوا یہ کہ ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگرانی کی۔ اکثرھم مضاف مضاف الیہ۔ ان میں سے اکثر۔ ہم ضمیر کا مرجع قوم ہے۔
فھم لا یسمعون ۔ عربی محاورہ ہے تشفعت الی فلان فلم یسمع تولی : میں نے فلاں کو سفارش کے لئے کہا لیکن اس نے میری بات نہ سنی۔ یعنی میری بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
مشرکوں کو جواب۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں کی باتوں کے جواب میں کہہ دو کہ ظاہر میں کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں میری بات سنی بھی جاتی ہے اور میرے اور تمہارے درمیان بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہارا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی پردہ ہو، اگر بجائے میرے کوئی گیر جنس جن یافرشتہ آتا تو تم کہتے کہ کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں، ہمارے ان کے درمیان توجنسی مخالف ہی بڑ اپردہ ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہواتو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہیے اور میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة حم
2: اس صورت میں دوسری مکی سورتوں کی طرح اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ۔ کہ قرآن کی حیثیت شرعی کیا ہے اور مشرکین مکہ کو اس کے ماننے میں کیوں تامل ہے اور حشرونشر پر فطرت کی طرف اسے کیا کیا دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ رسالت کیا ہے اور نبوت سے کہتے ہیں ۔ اور گذشتہ تو میں کیوں ہلاک ہوئیں ۔
Read the full tafseer →(4) اس قرآن کریم کی شان یہ ہے کہ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے پھر بھی ان کے اکثر لوگوں نے اس قرآن کریم سے روگردانی کی سو وہ سنتے ہی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کلام کی آیتیں مفصل ہیں یعنی جدا جدا ایک آیت سے دوسری آیت علیحدہ اور اپنے مضامین اور معانی میں نہایت صاف اور واضح مراد لیتا ہوں میں قرآن عربی زبان کا یعنی اس کتاب سے مراد قرآن ہے جو عربی میں ہے تاکہ جن لوگوں میں یہ نازل ہوا ہے وہ اس کو آسانی سے سمجھ سکیں اور دوسرے لوگوں کو سمجھا سکیں اور دوسرے لوگوں کو سمجھا سکیں ان لوگوں کے نفع کے لئے یہ قرآن کریم نازل کیا گیا ہے جو سمجھدار ہیں یعنی اگرچہ مکلف سب ہیں لیکن حقیقتہً منتفع وہی لوگ ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1۔ یعنی ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔
2۔ یعنی ہم سے کچھ امید قبول کی نہ رکھیئے، اور پھر کہنے کو جی چاہے تو کہے جایئے۔ آپ جانیں اور آپ کا کام، ہم اپنے طریقہ کو نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کی سنت یہ بھی ہے کہ وہ جہانوں کے لیے بشیر ونذیر بنایا گیا
4 ؎ بشیرونذیر قرآن کریم کی بھی صفت ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی بھی کیونکہ قرآن کریم اپنے ماننے والوں کے لیے بلا ریب خوشخبری ہے اور مخالفین ومعاندین کے لیے انداز ہے اور نبی کریم ﷺ اس خوشخبری کے سنانے والے اور مخالفت کرنے والوں کو ڈرانے والے ہیں۔ زیر نظر آیت میں یہ لفظ قرآن کریم کی صفت کے طور پر آیا ہے لیکن اس بشارت ونذرات سے وہی لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو اس پر کام رکھیں اور اس کو سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہوں۔ قرآن کریم کی اپنی پیش گوئی کے مطابق بھی لوگوں کی اکثریت اس کو سننے کے لیے تیار نہیں اور جو سنتے ہیں ان میں بھی سن کر ،…
Read the full tafseer →An offer by the infidel's of Makkah to the Holy Prophet ﷺ
The infidels of Quraysh, who are the direct addressees of this Surah, tried very hard to suppress the propagation of Islam in early days after the revelation of the Qur'an, through the use of physical force, and tried equally hard to intimidate the Messenger of Allah and those who believed in him by causing to them all sorts of pains and agonies. But despite their opposition, Islam kept on widening the circle of its adherents, and increasing in strength. At first powerful and valiant persons like Sayyidna ` Umar Ibn Khattab ؓ entered…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 This is a brief introduction to the Surah. A study of the following discourse can show what relevance the things mentioned in it have with the theme that follows. The first thing said is that this Word is being sent down by God, as if to say: "You, O people, may go on saying again and again that this Word is being composed by Muhammed (upon whom be Allah's peace) but the fact is that its revelation is from God, Lord of the worlds. " Furthermore, the addressees have also been warned, so as to say: "If you express your displeasure on hearing this discourse. this displeasure is not against…
Read the full tafseer →