Explained with ayahs 1–5
فرماتا ہے کہ یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے۔ جیسے اور آیت میں فرمایا اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لئے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں جیسے اور آیت میں ہے (كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم وخبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز۔ باطل اس کے قریب پھٹک بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 1
یہ اس سورة کی مختصر تمہید ہے۔ آگے کی تقریر پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس تمہید میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں وہ بعد کے مضمون سے کیا مناسبت رکھتی ہیں۔
پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کلام خدا کی طرف سے نازل ہو رہا ہے۔ یعنی تم جب تک چاہو یہ رٹ لگاتے رہو کہ اسے محمد ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں، لیکن واقعہ یہی ہے کہ اس کلام کا نزول خداوند عالم کی طرف سے ہے۔ مزید براں یہ ارشاد فرما کر مخاطبین کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اگر اس کلام کو سن کر چیں بجبیں ہوتے ہو تو تمہارا یہ غصہ محمد ﷺ کے خلاف نہیں بلکہ خدا کے خلاف ہے، اگر اسے رد کرتے ہو تو ایک انسان کی بات…
Read the full tafseer →اور ان سب صفات کو بیان کر کے آخر میں فرمایا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ یعنی آیات قرآن کا عربی زبان میں ہونا واضح اور صاف ہونا اور بشارت ونذارت پر مشتمل ہونا، یہ سب ایسے ہی لوگوں کو نفع دے سکتا ہے جو سوچنے اور سمجھنے کا ارادہ کریں۔ یعلمون کے لفظ سے اس جگہ یہی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مراد ہے۔ اسی لئے خلاصہ تفسیر میں اس کا ترجمہ دانشمند سے کیا گیا ہے۔ مگر عرب اور قریش نے ان سب باتوں کے باوجود اس سے اعراض کیا، سمجھنا کیا سننا بھی گوارہ نہ کیا جس کا ذکر انہی آیات میں فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ سے فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →اہل عرب پر قرآن کا خاص حق
یہ خبر کے بعد دوسری خبر اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت کی تفصیل ہے جو قرآن کی صورت میں خاص طور پر اس نے اہل عرب پر فرمائی کہ اس کو عربی زبان میں اتارا تاکہ ان کو اس کلام کے سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ اعتراض اٹھاتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کی وضاحت ان کے لئے خود ان کی زبان میں کیوں نہیں فرمائی ؟ چناچہ آگے اسی سورة میں اسی بات کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی کیا حلال ہے اور کیا حرام ؟ یا طاعت کیا ہیں اور معاصی کیا ؟ یا ثواب والے کام کون سے ہیں اور عقاب والے کون سے ؟
3۔ 2 یہ حال ہے۔ یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی مفصل اور واضح ہیں۔
3۔ 3 یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی و مفا ہیم اور اس کے اسرار و اسلوب کو جانتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 227 تشریح آیات
﷽
آیت نمبراتا 8
حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار…
Read the full tafseer →2 لفظی طور پر آیات کا جدا جدا ہونا تو ظاہر ہے، مگر معنوی حیثیت سے بھی سینکڑوں قسم کے علوم اور مضامین کی تفصیل الگ الگ آیات میں کی گئی ہے۔
3 یعنی قرآن کریم اعلیٰ درجہ کی صاف و شستہ عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو اس کے مخاطیبین اولین کی مادری زبان تھی۔ تاکہ ان لوگوں کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ خود سمجھ کر دوسروں کو پوری طرح سمجھا سکیں۔ مگر اس کے باوجود بھی ظاہر ہے وہ ہی لوگ اس سے منتفع ہوسکتے ہیں جو سمجھ رکھتے ہوں، ناسمجھ جاہل کو اس نعمت عظمیٰ کی کیا قدر ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3 { کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُہٗ } ”یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں“
یعنی قرآن میں ہرچیز اور ہر موضوع کو تفصیل کے ساتھ علیحدہ علیحدہ discretely بیان کردیا گیا ہے۔ اس سورت کا دوسرا نام فُصِّلَتْ اسی جملے سے لیا گیا ہے۔
{ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ } ”قرآن عربی کی صورت میں ‘ ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہوں یا علم رکھنا چاہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 سرداران قریش دعوت اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی طرح رسول اللہ ور مشرکین مکہ میں بالفاظ دیگر حق و باطل میں سمجھوتہ ہوجائے۔ ایک دن رسول اللہ حرم کے ایک گوشہ میں اور چند سرداران قریش دوسرے گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ ایک معزز قریشی سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں محمد پر کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور مان لے گا اور اگر اس نے قبول کرلی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کرسکیں گے۔ اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! آپ ضرور یہ کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ (آیت) ” لقوم یعلمون “۔ قرآن کا مخاطب تو سارا عالم انسانی ہیں لیکن نفع اس سے بہرحال وہی اٹھاتے ہیں جو علم وفہم سے کام لیتے رہتے ہیں، (آیت) ’ ’ بشیرا “۔ بشارت دینے والا ان کے حق میں جو اس کے پیام کو سن لیں، مان لیں، (آیت) ” نذیرا “۔ ڈرانے والا انکے حق میں جو اس کے پیام کو نہ سنیں، اس سے انکار کردیں، (آیت) ” عرب یا “۔ عربی کے معنی تو کلام فصیح کے ہیں، لیکن اگر زبان عربی کا قرآن اس سے مراد لیا جائے تو اس کی یہ خصوصیت اس کے مخاطبین اول کی رعایت سے ہوگی۔
3۔ یعنی قرآن کی ان خصوصیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ سب ایمان لے آتے لیکن اکثر مخاطبین نے اپنے قصد واختیار سے اس کی طرف سے روگردانی کی، نتیجہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →کتب فصلت ایتہ یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کردی گئی ہیں۔ یعنی احکام ‘ قصص اور مواعظ واضح طور
پر تفصیل کے ساتھ اس میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔
قرانا عربیا (یعنی) ایسا قرآن ہے جو عربی (زبان میں) ہے۔ یعنی یہ اللہ کا عربوں پر احسان ہے کہ اس نے قرآن عربی
میں نازل کیا جس کو پڑھنا ان کیلئے دشوار نہیں اور سمجھنا آسان ہے۔ اگر دوسری زبان میں نازل ہوتا تو عربوں کیلئے سمجھنا دشوار ہوتا۔
لقوم یعلمون اہل علم کیلئے (اس ترجمہ پر یعلمون بجائے فعل لازم کے مانا جائے گا) یا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی ان لوگوں
کیلئے جو قرآن کے معانی و مطالب جانتے اور سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ ایک کتاب ہے جس میں اوامرو نواہی اور حلال و حرام صاف صاف بیان کیے گئے ہیں اور ایسا قرآن ہے جو عربی زبان میں جبریل امین کے ذریعے رسول اکرم پر نازل کیا گیا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) کتب فضلت ایتہ : ”فضلت“ کا کچھب یان سورة ہود کی پہلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہمارے استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں :”یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔“ (اشرف الحواشی) یہ ”کتب“ کی پہلی صفت ہے۔
(2) قراناً عریباً : یہ دوسری صفت ہے۔ تفسیر کیلئے دیکھیے سورة یوسف (2) اور سورة شعراء (195)
(3) لقوم یعلمون : یہ تیسری صفت ہے۔ ”لقوم“ کا لام ”تنزیل“ کے متعلق بھی ہوسکتا ہے اور ”فضلت“ کے بھی۔ یعنی یہ کتاب ان لوگوں کے لئے نازل کی گئی ہے اور انھی کے لئے اس کی آیات کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں جو جانتے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(حم۔ تنزیل من الرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔ )
حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔ زجاج نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ اس کا رفع ھذا کا مضمر ہونے کی بناء پر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ کہا جائے کتب یہ تنزیل سے بدل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ یہ تنزیل لی کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حم کی تقدیر یہ ہے ھذہ حم جس طرح تو کہتا ہے : باب کذا اصل میں ھو باب کذا تھا پس حم یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اصل میں یہ ھو حم تھا تنزیل دوسرا مبتداء ہے اور کتب اس کی خبر ہے فضلیت ایتہٗ یعنی ان کی وضاحت و تفسیر بیان کردی گئی ہے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اس کے حرام سے اس کے حلال کو اور اس کی معصیت سے اس کی اطاعت کو واضح کردیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حم ٓ السجدہ مکہ میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابویعلی وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) و بیہقی (رح) (کلاھمافی الدلائل) وابن عساکر (رح) نے جابربن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے دیکھو تم سے کون جادو کو کھانا کو اور شعر کو زیادہ جانتا ہے۔ ؛ وہ اس آدمی کے پاس جائے جس نے ہماری جماعت میں جدائی ڈال دی اور ہماری قوت کو کمزور کردیا اور ہمارے دین میں عیب لگایا ہم نے سوچا ہے کہ اس سے بات کی جائے پھر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتا…
Read the full tafseer →كِتٰبٌ [ (یہ ) ایک ایسی کتاب ہے ] فُصِّلَتْ [ کھول کھول کر بتائی گئیں ] اٰيٰتُهٗ [ جس کی آیتیں ] قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا [ عربی قرآن ہوتے ہوئے ] لِّــقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [علم رکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قرآن کی آیات مفصل ہیں، وہ بشیر ہے اور نذیر ہے، منکرین اس سے اعراض کرتے ہیں
حٰمٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی، اول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو رحمن ہے اور رحیم ہے یعنی بہت بڑا مہربان ہے بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے اس کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے کتاب نازل فرمائے دوم یہ کہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیات مفصل ہیں یعنی خوب صاف صاف بیان کی گئی ہیں سوم یہ فرمایا کہ یہ قرآن کی آیات ہیں جو عربی ہے اس کے اولین مخاطب اہل عرب ہیں اس کا سمجھنا ان کے لیے آسان ہے اور فصاحت و بلاغت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔
حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” فاعرض اکثرھم “ تا ” اننا عملون “ یہ منکرین پر زجر ہے اور پہلا شکوی ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ ایسی عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب کو سینوں سے لگاتے۔ لیکن انہوں نے اس سے اس طرح منہ موڑا کہ اسے سمجھنا اور اس میں غور وفکر کرنا تو درکنار وہ اسے سنتے بھی نہیں۔ ان کے نہ سننے اور اعراض کو آگے تین تعبیروں سے ذکر کیا گیا ہے۔ اول، ” وقالوا قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ۔ ماتدعونا الیہ “ سے مسئلہ توحید مراد ہے جو سورة مومن کا دعوی ہے۔ ” ما تدعونا الیہ من التوحید “ (مدارک مظہری) ۔ یعنی ہمارے دل تہ بتہ پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے تیرے اس مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالا تر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و…
Read the full tafseer →كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 3 ۙ
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔
تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰـتُـہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ج فَاَعْرَضَ اَکْثَرُھُمْ فَھُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 1، 4)
(حٰ مٓ۔ 1) یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن کی صورت میں، ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ خوشخبری دینے والی اور ڈرا دینے والی، پس ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی اور وہ اس کو سن کر نہیں دیتے۔ )
مخالفین کا اصل ہدف
ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مخالفین کی مخالفت کا اصل ہدف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ المومن کا خاتمہ اس بات پر ہوا تھا کہ باطل پر اصرار کرنے والے بالآخر نقصان اٹھائیں گے۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ اگر دنیا اور آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہو تو رب رحمٰن کی اتاری ہوئی کتاب پر پوری طرح ایمان لاؤ۔ لیکن اکثر لوگ اعراض ہی کیا کرتے ہیں۔
حم ٓ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن مجید کا فہم رکھنے والا جانتا ہے کہ ان کا معنٰی نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز لفظ ” تَنْزِیْلٌ“ کے بعد ” اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ کی صفات سے ہورہا ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بیشک تم انکار کرو لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس قرآن میں ایک لفظ بھی…
Read the full tafseer →كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ (یہ ایک کتاب ہے جس کی آیات صاف صاف) قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (بیان کی گئی ہیں۔ یعنی ایسا قرآن ہے جو عربی ہے ایسے لوگوں کیلئے ہے جو دانشمند ہیں) ۔
تفصیل کا معنی : کتب فصلت ایتہ، الگ الگ کی گئی ہیں اور تفاصیل مختلف معانی میں دی گئی ہے جیسے احکام، امثال، مواعظ، وعدہ، وعید وغیرہ ذلک۔ قرانا عربیا اختصاص و مدح کی بناء پر یہ منصوب ہیں۔ ای ارید بھذا الکتاب المفصل قرانا من صفتہ کیت و کیت۔ میری مراد اس کتاب مفصل سے قرآن ہے جس کی صفت یہ یہ ہے۔ نمبر 2 ۔ حال کی بناء پر منصوب ہے۔ ای فصلت آیاتہ فی حال کونہ قرانا عربیا، اس کی آیت مفصل ہیں۔ اس حال میں کہ وہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3، کتا ب فصلت آیاتہ، ہے۔ اس کی آیات بیان کی گئی ہیں، قرآنا عربیا لقوم یعلمون، عربی زبان میں اور اگر ان کی زبان کے علاوہ کسی زبان میں ہوتا تو وہ اس کونہ جانتے اور قرآنا کا نصب بیان کے اس پر واقع ہونے کی وجہ سے ہے یعنی ، فصلنا ہ قرآنا، یعنی ہم نے اس کو بیان کیا یعنی قرآن کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت 1
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور…
Read the full tafseer →2 کتاب حکیم کی تفصیل اللہ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ کھول کر بیان کردیا گیا اس کی آیتوں کو "۔ ظاہری اعتبار سے اس کی سورتیں الگ الگ اور ان کے فواتح اور خواتیم جدا جدا۔ پھر سورتوں کی آیتیں باہم ممتاز اور آیتوں کے اندر کے چھوٹے چھوٹے فقرے الگ الگ چنے ہوئے موتیوں کی طرح جھلمل جھلمل کرتے۔ اور معنوی اعتبار سے اس کے معانی و مضامین اور مطالب و مفاہیم کو احکام و مسائل، قصص و امثال، وعظ و تذکیر اور انذار وتبشیر وغیرہ کی صورت میں کھول کھول کر بیان کردیا گیا۔ ان میں سے ہر ایک کا مقصد واضح اور مدعا صاف ہے۔ نہ کوئی گنجلک نہ الجھن۔ نہ خفاء نہ غموض۔ نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ کی رحمتیں قرآن کی صورت میں
تشریحـ: ان آیات میں خدائے واحد کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رحم کرنے والا بےحد مہربان ہے۔ اس نے انسانوں پر مہربانی کی کہ ایک کتاب جو ہر طرح سے مکمل اور بہترین کتاب ہے انسانوں کی بہتری، آسانی اور کامیابی کے لیے بہترین راہنما اصول بنا کر انسانوں کو وقت پر خبردار کردیا ہے کہ جو اس کے بتائے ہوئے راستوں کو اختیار کرے گا۔ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوگا اور جو اس سے دور رہے گا وہ دنیا و آخرت میں سزا پائے گا ناکام ہوگا۔ عرب لوگوں کی سہولت کے لیے قران پاک ان کی مادری زبان عربی میں نازل کیا گیا اور بےحد آسان زبان، آسان مضمون اور آسان الفاظ میں نازل کیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8
اسرار ومعارف۔
حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔
کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 9 یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔10 یعنی اصحاب علم و عقل ہیں اور اس کے معانی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →(41:3) کتب بروزن فعال بمعنی مفعول ہے ای مکتوب وانما قیل لہ کتاب لانہ مکتوب فی اللوح المحفوظ۔ اسے کتاب اسلئے کہا گیا ہے کہ وہ لوح محفوظ پر مکتوب ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ (85:22)
کتب مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھذا کتب۔
فصلت ایتہ : فصلت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب تفصیل (تفعیل) مصدر سے۔ ایتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی آیات : فصلت ایتہ جس کی آیات کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں۔ یہ متعلق خبر (کتب) ہے۔
قرانا عربیا : موصوف و صفت، موصوف بوجہ ایتہ سے حال ہونے کے ہے ای فصلت ایتہ فی حال کونہ قرانا عربیا : جس کی آیات کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں درآنحالیکہ یہ قرآن عربی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
مشرکوں کو جواب۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں کی باتوں کے جواب میں کہہ دو کہ ظاہر میں کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں میری بات سنی بھی جاتی ہے اور میرے اور تمہارے درمیان بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہارا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی پردہ ہو، اگر بجائے میرے کوئی گیر جنس جن یافرشتہ آتا تو تم کہتے کہ کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں، ہمارے ان کے درمیان توجنسی مخالف ہی بڑ اپردہ ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہواتو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہیے اور میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة حم
2: اس صورت میں دوسری مکی سورتوں کی طرح اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ۔ کہ قرآن کی حیثیت شرعی کیا ہے اور مشرکین مکہ کو اس کے ماننے میں کیوں تامل ہے اور حشرونشر پر فطرت کی طرف اسے کیا کیا دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ رسالت کیا ہے اور نبوت سے کہتے ہیں ۔ اور گذشتہ تو میں کیوں ہلاک ہوئیں ۔
Read the full tafseer →(3) یہ کلام ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں جدا جدا اور صاف و واضح ہیں یعنی ایسا قرآن کریم جو عربی زبان میں ہے ان لوگوں کے نفع کے واسطے جو دانشمند اور سمجھدار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 8۔ یعنی عربی میں اس لئے ہے تاکہ جن لوگوں میں اس کا نزول ہوا ہے وہ آسانی سے سمجھ لیں۔
9۔ یعنی گو مکلف سب ہی ہیں، مگر منتفع صرف اہل دانش ہی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →اس کتاب کی آیتیں مفصل ہیں جو عربی زبان میں نازل کی گئی ہیں
3 ؎ اس کتاب کا خاصہ یہ ہے کہ اس کی آیتیں عقائد ونظریات اور قصص وواقعات کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ان کے مضمون کی وسعت اور بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہ کمال ہے اس عربی زبان کا جس میں یہ کتاب نازل ہوئی یعنی نازل کی گئی کیونکہ جو وسعت بیان اللہ نے اس زبان میں رکھا ہے وہ اور کسی زبان میں نہیں پایا جاتا اور یہ بھی کہ اس کی آیات ایسی ہیں کہ بعض بعض کی تفصیل خود کردیتی ہیں اس لیے قرآن کریم کو کسی ایک جگہ سے پڑھ کر صرف اس جز سے اس کا مفہوم متعین کرنا سراسر غلطی اور قرآن کریم کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس کا مفہوم متعین…
Read the full tafseer →And after stating these qualities, it is said towards the end of the verse-3, لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (for a people who understand) which means that the verses of the Holy Qur'an being in Arabic, their being clear and evident and their communicating good news as well as warnings can only benefit those people who intend to ponder over them and understand them. But the Arabs and the Quraysh, despite all this, turned away from the Qur'an, and let alone trying to understand, they did not even bear to listen to the Qur'an. This has been mentioned at the end of verse 4: "Yet most of them turned away,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 This is a brief introduction to the Surah. A study of the following discourse can show what relevance the things mentioned in it have with the theme that follows. The first thing said is that this Word is being sent down by God, as if to say: "You, O people, may go on saying again and again that this Word is being composed by Muhammed (upon whom be Allah's peace) but the fact is that its revelation is from God, Lord of the worlds. " Furthermore, the addressees have also been warned, so as to say: "If you express your displeasure on hearing this discourse. this displeasure is not against…
Read the full tafseer →