Fussilat 41:2

Fussilat · from ayah 2

41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۟ۚتَنۡزِيۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ‌ۚ

(یہ کتاب خدائے) رحمٰن ورحیم (کی طرف) سے اُتری ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[This is] a revelation from the Entirely Merciful, the Especially Merciful -

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:2

یہ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ کتاب خدائے) رحمٰن ورحیم (کی طرف) سے اُتری ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اتاری ہوئی ہے بڑے مہربان بہت رحم والے کی طرف سے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ کلام اس ذات کی طرف سے نازل کیا جارہا ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اتارا ہے بڑے رحم والے مہربان کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والے (رب) کی جانب سے اتارا جانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس بےحد رحم والے، نہایت مہربان کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ (قرآن) بڑے مہربان نہایت رحم والے کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

قرآن خدائے رحمان و رحیم کی تنزیل ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ کتاب) اتاری گئی ہے اس ذات کی طرف سے جو بڑی ہی مہربان نہایت ہی رحم والی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ کلام) رحمن ورحیم کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اس کتاب کا) اتارا جانا ہے اس ہستی کی طرف سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ کتاب اللہ رحمن و رحیم کی طرف سے اتری ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

This is a revelation from the Most Merciful, the Most Compassionate,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is a revelation from the All-Merciful, the Very-Merciful-

— Muhammad Taqi Usmani

This is a revelation from the All-Merciful, the Very-Merciful-

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A revelation from the Most Gracious, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A revelation from the Beneficent, the Merciful,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[This is] a revelation from the Entirely Merciful, the Especially Merciful -

— Saheeh International

This is the revelations from the Beneficent, Merciful God.

— Muhammad Sarwar

A revelation from the Beneficent, the Merciful Allah:

— Muhammad Habib Shakir

This is a revelation from the Compassionate, the Merciful -

— Abdul Majid Daryabadi

A Revelation from (Allah), Most Gracious, Most Merciful;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

فرماتا ہے کہ یہ عربی کا قرآن اللہ رحمان کا اتار ہوا ہے۔ جیسے اور آیت میں فرمایا اسے تیرے رب کے حکم سے روح الامین نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے روح الامین نے اسے تیرے دل پر اس لئے نازل فرمایا ہے کہ تو لوگوں کو آگاہ کرنے والا بن جائے، اس کی آیتیں مفصل ہیں، ان کے معانی ظاہر ہیں، احکام مضبوط ہیں۔ الفاظ واضح اور آسان ہیں جیسے اور آیت میں ہے (كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۙ) 11۔ ھود :1) ، یہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم و مفصل ہیں یہ کلام ہے حکیم وخبیر اللہ جل شانہ کا لفظ کے اعتبار سے معجز اور معنی کے اعتبار سے معجز۔ باطل اس کے قریب پھٹک بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–4

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 1 یہ اس سورة کی مختصر تمہید ہے۔ آگے کی تقریر پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس تمہید میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں وہ بعد کے مضمون سے کیا مناسبت رکھتی ہیں۔ پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کلام خدا کی طرف سے نازل ہو رہا ہے۔ یعنی تم جب تک چاہو یہ رٹ لگاتے رہو کہ اسے محمد ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں، لیکن واقعہ یہی ہے کہ اس کلام کا نزول خداوند عالم کی طرف سے ہے۔ مزید براں یہ ارشاد فرما کر مخاطبین کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اگر اس کلام کو سن کر چیں بجبیں ہوتے ہو تو تمہارا یہ غصہ محمد ﷺ کے خلاف نہیں بلکہ خدا کے خلاف ہے، اگر اسے رد کرتے ہو تو ایک انسان کی بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل یہ سات سورتیں جو حم سے شروع ہوئی ہیں جن کو آل حم یا حوامیم کہا جاتا ہے۔ با ہم امتیاز کے لئے ان کے ساتھ نام میں کچھ اور الفاظ بھی شامل کئے جاتے ہیں۔ مثلاً سورة مومن کے حم کو حم المومن اور اس سورت کے حم کو حم السجدہ یا حم فصلت بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کے یہ دونوں نام معروف ہیں حم فصلت اور حم السجدہ۔ اس سورة کے پہلے مخاطب قریش عرب ہیں جن کے سامنے یہ قرآن نازل ہوا اور ان کی زبان میں نازل ہوا۔ انہوں نے قرآن کے اعجاز کا مشاہدہ کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے بیشمار معجزات دیکھے اس کے باوجود قرآن سے اعراض کیا۔ اور سمجھنا کیا سننا بھی گوارہ نہ کیا، اور نبی کریم ﷺ کی مشفقانہ نصیحتوں کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (1۔ 2) حٰمٓ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ پچھلی سورة میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ جو سورتیں اس نام سے موسوم ہیں ان سب میں مضامین مشترک سے ہیں۔ تالیف کلام اگرچہ یوں بھی ہو سکتی ہے کہ اس کو مبتدا مان کر بعد کے جملہ کو اس کی خبر قرار دیجئے لیکن ہمارے نزدیک یہ مستقل جملہ ہے اور مبتداء اس میں محذوف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ تنزیل من الرحمن الرحیم میں بھی مبتداء میرے نزدیک حذف ہے یعنی یہ قرآن خدائے رحمان ظاہر کرنا بھی ہے جو قرآن جیسی عظیم رحمت کی ناقدری اور اس پر ایمان لانے کے بجائے اس عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا تھا۔ گویا ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

اس سورت کا دوسرا نام فصّلت ہے اس کی شان نزول کی روایات میں بتلایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش نے باہم مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کے پیروکاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے ہمیں اس کے سد باب کے لیے ضرور کچھ کرنا چاہیے چناچہ انہوں نے اپنے میں سے سب سے زیادہ بلیغ و فصیخ آدمی عتبہ بن ربیعہ کا انتخاب کیا تاکہ وہ آپ ﷺ سے گفتگو کرے چناچہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں گیا اور آپ پر عربوں میں انتشار و افتراق پیدا کرنے کا الزام عائد کر کے پیشکش کی کہ اس نئی دعوت سے اگر آپ ﷺ کا مقصد مال ودولت کا حصول ہے تو وہ ہم جمع کیے دیتے ہیں قیادت وسیادت منوانا چاہتے ہیں تو آپ ﷺ کو ہم اپنا لیڈر اور سردار مان لیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–8

درس نمبر 227 تشریح آیات ﷽ آیت نمبراتا 8 حروف مقطعات کے بارے میں بات کئی سورتوں میں ہوچکی ہے اور اس افتتاح مکرر ” تم “ میں بھی وہی اشارہ ہے جس طرح قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ بار بار ان حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالتے ہیں اور تکرار اس لیے کہ انسان کو باربار یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی نظر سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے اور اس کے ذہین میں کوئی بھی شعوری حقیقت بٹھانے کے لیے ۔ اسے باربار تنبیہہ کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن کا نازل کرنے والا اپنے تخلیق کردہ فطرت انسانی سے خوب واقف ہے۔ اور اس کے خصائص اور صلاحیتیں اسی نے عطا کی ہیں اس لیے وہ باربار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

1 یعنی اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی مہربانی اور رحمت بندوں پر ہے جو ان کی ہدایت کے لیے ایسی عظیم الشان اور بیمثال کتاب نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } ”اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس ہستی کی طرف سے جو بیحد مہربان ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند بھی ہے اور اس رحمت میں دوام اور تسلسل بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–3

1 سرداران قریش دعوت اسلام کو نیچا دکھانے کے لیے کئی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔ انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی طرح رسول اللہ ور مشرکین مکہ میں بالفاظ دیگر حق و باطل میں سمجھوتہ ہوجائے۔ ایک دن رسول اللہ حرم کے ایک گوشہ میں اور چند سرداران قریش دوسرے گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ ایک معزز قریشی سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں محمد پر کچھ باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور مان لے گا اور اگر اس نے قبول کرلی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کرسکیں گے۔ اس کے ساتھیوں نے کہا : ابو الولید ! آپ ضرور یہ کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (اور ان پیغمبر کا اختراع کیا ہوا نہیں ہے) حم پر ملاحظہ ہو سورة مومن کا حاشیہ نمبر 1 برصفحہ 937 (آیت) ” من الرحمن الرحیم “۔ یہ کلام ان تمام ہدایتوں اور احکام پر شامل ہے جن کی مصدر صفات رحمانیت ورحیمیت ہوسکتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–8

آیت نمبر 1 تا 8 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تنزیل من الرحمن الرحیم۔ حٰمٓ مبتداء ہے اور تنزیلٌ خبر ‘ لیکن اگر حٰآ سے مراد حروف ہجاء ہوں تو تنزیل مبتداء محذوف کی خبر ہوگی۔ اخفش کے نزدیک تنزیل چونکہ موصوف ہے ‘ اسلئے باوجود نکرہ ہونے کے مبتداء ہے اور کتابٌ خبر ہے۔ ان ساتوں سورتوں کا آغاز حٰآسے کیا گیا ہے اور سب ہی کا نام حٰآ رکھا گیا اور کتاب سے افتتاح کیا گیا ہے ‘ کیونکہ ان سب کا آغاز عبارت کے لحاظ سے بھی ملتا جلتا ہے اور معنی کے اعتبار سے بھی یکسانیت ہے یعنی اللہ ‘ رحمن ‘ رحیم کی طرف سے اتاری ہوئی ایک کتاب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : موسیٰ کی الواح (تختیوں) سے مجھے طٰہٰ اور طوسین (طٰسٓمّٓ والی سورتیں) اور حوامیم (حٰمٓ والی سورتیں)…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) تنزیل من الرحمٰن الرحیم : ”تنزیل“ کا معنی ”تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا“ ہے۔ قرآن مجید کو ایک ہی دفعہ نازل کرنے کے بجائے تئیس (23) برس میں نازل کرنے کی حکمتوں کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (106) کی تفسیر۔”الرحمٰن الرحیم“ کا مفوہم اور باہمی فرق سورة فاتحہ کی تفسیر میں دیکھیے۔ کفار قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب نہیں مانتے تھے، بلکہ اسے رسول اللہ ﷺ کا خود ساختہ کلام کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یقین دلانے کے لئے یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہے، اس بات کو متعدد مقامات پر مختلف انداز سے بیان فرمایا۔ پچھلی سورت میں یہ با ت اپنی صفات ”عزیز وعلیم“ کے ذکر کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

(حم۔ تنزیل من الرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔ ) حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔ زجاج نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ اس کا رفع ھذا کا مضمر ہونے کی بناء پر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ کہا جائے کتب یہ تنزیل سے بدل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ یہ تنزیل لی کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حم کی تقدیر یہ ہے ھذہ حم جس طرح تو کہتا ہے : باب کذا اصل میں ھو باب کذا تھا پس حم یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اصل میں یہ ھو حم تھا تنزیل دوسرا مبتداء ہے اور کتب اس کی خبر ہے فضلیت ایتہٗ یعنی ان کی وضاحت و تفسیر بیان کردی گئی ہے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اس کے حرام سے اس کے حلال کو اور اس کی معصیت سے اس کی اطاعت کو واضح کردیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حم ٓ السجدہ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابویعلی وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) و بیہقی (رح) (کلاھمافی الدلائل) وابن عساکر (رح) نے جابربن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن قریش اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے دیکھو تم سے کون جادو کو کھانا کو اور شعر کو زیادہ جانتا ہے۔ ؛ وہ اس آدمی کے پاس جائے جس نے ہماری جماعت میں جدائی ڈال دی اور ہماری قوت کو کمزور کردیا اور ہمارے دین میں عیب لگایا ہم نے سوچا ہے کہ اس سے بات کی جائے پھر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَنْزِيْلٌ [ (یہ تدریجا ) اتارنا ہے ] مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ [ رحمان رحیم (کی طرف) سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

قرآن کی آیات مفصل ہیں، وہ بشیر ہے اور نذیر ہے، منکرین اس سے اعراض کرتے ہیں حٰمٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے اس کے بعد دو آیتوں میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی، اول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو رحمن ہے اور رحیم ہے یعنی بہت بڑا مہربان ہے بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے اس کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے کتاب نازل فرمائے دوم یہ کہ قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیات مفصل ہیں یعنی خوب صاف صاف بیان کی گئی ہیں سوم یہ فرمایا کہ یہ قرآن کی آیات ہیں جو عربی ہے اس کے اولین مخاطب اہل عرب ہیں اس کا سمجھنا ان کے لیے آسان ہے اور فصاحت و بلاغت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حقانیت قرآن کریم و رسالت سید المرسلین و انجام مکذبین ومنکرین واجر وثواب مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم ٓ، تنزیل من الرحمن الرحیم ....... الی ....... لھم اجر غیر ممنون “۔ (ربط) جیسا کہ گذشتہ کلمات میں ذکر کیا گیا کہ پہلی سورت مضامین توحید پر مشتمل تھی اب اس سورت میں قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا مقصود ہے، اور یہ کہ منکرین کا انجام کس طرح ہلاکت وتباہی کا ہوگا اور اہل ایمان کو کس اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ ارشاد فرمایا۔ حآ خدا ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے۔ یہ کلام نازل کیا جارہا ہے، رحمن ورحیم کی طرف سے جو ایک کتاب ہے جس کی آیتیں صاف صاف بیان کی گئی ہیں اس طرح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” تنزیل۔ الایۃ “ یہ تمہید مع ترکیب ہے۔ یہ مبتدا مقدر یعنی ھذا یا حم (اگر یہ سورت کا نام ہو) کی خبر ہے اور ” من الرحمن الرحیم “ خبر بعد خبر ہے (روح) ۔ یہ حکم نامہ بڑے مہربان اور رحیم بادشاہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ جس پر عمل کرنے میں تمہاری دین و دنیا کی کامیابی و فلاح ہے۔ اس لیے اس کو مانو، آنکھوں سے لگاؤ، اس میں غور و فکر کرو اور اسے اپنی زندگی کا لائحہ عمل بناؤ۔ ” کتب فصلت ایتہ “ یہ حسب سابق یا تو خبر بعد خبر یا تنزیل سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے اور ” فصلت ایتہ “ کتاب کی صفت ہے (مدارک و روح) ۔ یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی تمام آیتیں ایک دوسری سے الگ اور ممتاز ہیں اور اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ 1ۚتَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ 2ۚ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔ تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰـتُـہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ج فَاَعْرَضَ اَکْثَرُھُمْ فَھُمْ لاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 1، 4) (حٰ مٓ۔ 1) یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن کی صورت میں، ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ خوشخبری دینے والی اور ڈرا دینے والی، پس ان میں سے اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی اور وہ اس کو سن کر نہیں دیتے۔ ) مخالفین کا اصل ہدف ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مخالفین کی مخالفت کا اصل ہدف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن سورۃ المومن کا خاتمہ اس بات پر ہوا تھا کہ باطل پر اصرار کرنے والے بالآخر نقصان اٹھائیں گے۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ اگر دنیا اور آخرت کے نقصان سے بچنا چاہتے ہو تو رب رحمٰن کی اتاری ہوئی کتاب پر پوری طرح ایمان لاؤ۔ لیکن اکثر لوگ اعراض ہی کیا کرتے ہیں۔ حم ٓ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن مجید کا فہم رکھنے والا جانتا ہے کہ ان کا معنٰی نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔ سورة حٰمٓ سجدہ کا آغاز لفظ ” تَنْزِیْلٌ“ کے بعد ” اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ کی صفات سے ہورہا ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بیشک تم انکار کرو لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس قرآن میں ایک لفظ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔ ، حم ، تنزیل من الرحمن ارحیم، اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ تنزیل مبتداء ہے اور اس کی خبر اللہ تعالیٰ کافرمان۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

آیت 1 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل (آیت) ” اتارا گیا ہے “ یعنی صادر ہوا ہے (آیت) ” رحمان و رحیم کی طرف سے “ جس کی رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نور و شفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے، پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ “ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیان کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم اور منفرد پہلو : کہ یہ خالص اتاری ہوئی کتاب ہے خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے۔ سو یہ اس کتاب حکیم کی عظمت شان کا ایک اہم اور منفرد پہلو ہے کہ اس جیسی دوسری کوئی کتاب روئے زمین پر ہے ہی نہیں۔ اس سے پہلے جو آسمانی کتابیں اتری تھیں اول تو وہ فی نفسہا کامل کتابیں تھی ہی نہیں بلکہ وہ دراصل اسی کتاب حکیم کے مختلف اجزاء اور حصوں کی حیثیت رکھتی تھیں اور پھر وہ باقی رہیں بھی نہیں بلکہ ان کو ان کے حاملین نے بدل اور بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنادیا۔ سو اب وحی خداوندی کی دولت اس کتاب حکیم کے سوا اور کہیں سے بھی ملنا ممکن نہیں۔ سو اس خدائے رحمان و رحیم کی رحمت بےپایاں کا یہ عین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ کی رحمتیں قرآن کی صورت میں تشریحـ: ان آیات میں خدائے واحد کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رحم کرنے والا بےحد مہربان ہے۔ اس نے انسانوں پر مہربانی کی کہ ایک کتاب جو ہر طرح سے مکمل اور بہترین کتاب ہے انسانوں کی بہتری، آسانی اور کامیابی کے لیے بہترین راہنما اصول بنا کر انسانوں کو وقت پر خبردار کردیا ہے کہ جو اس کے بتائے ہوئے راستوں کو اختیار کرے گا۔ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوگا اور جو اس سے دور رہے گا وہ دنیا و آخرت میں سزا پائے گا ناکام ہوگا۔ عرب لوگوں کی سہولت کے لیے قران پاک ان کی مادری زبان عربی میں نازل کیا گیا اور بےحد آسان زبان، آسان مضمون اور آسان الفاظ میں نازل کیا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ حم سے شروع ہونے والی سات سورتیں ہیں جنہیں اٰل حم یاحوامیم کہا جاتا ہے الگ پہچان کے لیے ان کے ناموں کے ساتھ کچھ الفاظ شامل کرلیے جاتے ہی جیسے حم مومن ، یاحم سجدہ ، یاحم فصلت یہ آخری وہ نام اس سورة مبارکہ کے مشہور ہیں۔ کفار کو اپنے علوم پر ناز تھا اور اس کے مطابق اپناعقیدہ طرز حیات اور نظام ترتیب دے رکھا تھا جس طرح کہ پہلی امتوں میں بھی یہی کچھ پیش آیا جبکہ نبی (علیہ السلام) ایک نیا اور منفرد عقیدہ پیش فرما رہے تھے جس کے مطابق نہ صرف نظر یہ تبدیل کرنا پڑتا تھا بلکہ سارانظام معاشرت سیاست اور عدالت تک از سرنواستوار کرنا پڑتے تھے لہذا وہ اپنے حال پر اڑ گئے اگرچہ جب عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 9 یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔10 یعنی اصحاب علم و عقل ہیں اور اس کے معانی سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:2) تنزیل : بروزن تفعیل مصدر ہے اتارنا۔ نازل کرنا۔ تنزیل اور انزال میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو یکے بعد دیگرے اور متفرق طور پر نازل کرنے کے ہوتے ہیں اور انزال کا مطلب یہ ہے جو یکے بعد دیگرے ترتیب سے اتارنے کے لئے بھی آتا ہے اور ایک ہی دفعہ مکمل طور پر کسی چیز کو نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں تنزیل سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے۔ تنزیل مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھذا تنزیل من الرحمن الرحیم (یہ قرآن) اتارا گیا ہے (خدائے) رحمن و رحیم کی طرف سے۔ من الرحمن الرحیم متعلق خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 : فصلت ( کھول دی گئی) اعرض (منہ پھیر لے) اکنۃ ( کنان) ( پردے) وقر (بوجھ ، گرانی ، ڈاٹ) حجاب (پردہ) استقیموا (سیدھے رہو) غیر ممنون (نہ ختم ہونے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 8 :۔ اس سورت کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس سے پہلے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ سورة مومن اور سورة احقاف تک سات سورتیں ” حم “ سے شروع کی گئی ہیں جن کے بہت سے فضائل ہیں جس کی کچھ تفصیل آپ نے سورة مومن میں بھی پڑھ لی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی ایک صداقت و حقانیت یہ ہے کہ یہ نہایت رحم و کرم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

(ف 1) مشرکین کہتے تھے کہ یہ قران اللہ کا کلام نہیں، محمد ﷺ نے خود بنالیا ہے اس واسطے اللہ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکریہ بھی پیش کریں ، یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام، دنیا کی پیدائش کا، اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا یہ حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور امی رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھدرا شخص کی سمجھ میں اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة حم 2: اس صورت میں دوسری مکی سورتوں کی طرح اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ۔ کہ قرآن کی حیثیت شرعی کیا ہے اور مشرکین مکہ کو اس کے ماننے میں کیوں تامل ہے اور حشرونشر پر فطرت کی طرف اسے کیا کیا دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ رسالت کیا ہے اور نبوت سے کہتے ہیں ۔ اور گذشتہ تو میں کیوں ہلاک ہوئیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) یہ کلا م اس اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کیا جاتا ہے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے۔ یہ سورت بھی حروف مقطعات سے شروک ہوئی جن کے معنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور اس میں مثل سورة مومن اور سورة زمر کے ابتداء قرآن کی صداقت اور اس کی حقانیت سے ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 8۔ یعنی عربی میں اس لئے ہے تاکہ جن لوگوں میں اس کا نزول ہوا ہے وہ آسانی سے سمجھ لیں۔ 9۔ یعنی گو مکلف سب ہی ہیں، مگر منتفع صرف اہل دانش ہی ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم اللہ رب کریم کی طرف سے نازل ہوا ہے جو رحمن ورحیم ہے 2 ؎ قرآن کریم میں کفار مکہ کی یہ بات بار بار ذکر کی گئی ہے کہ کفار اس کو کتاب اللہ ماننے اور تسلیم کرنے کے یے تیار نہیں بلکہ وہ بضد ہیں کہ فہ محمد ﷺ نے گھڑا ہے یا اس کے سامنے بعض لوگ اس طرح کا بیان دیتے ہیں اور وہ اس کو اس طرح لکھوادیتا ہے۔ ان سے بار بار یہ مطالبہ کیا گیا کہ اگر یہ قرآن محمد ﷺ نے گھڑلیا ہے تو تم بھی اس جیسا ایک کلام گھڑ کرلے آئو اور اگر زیادہ نہیں تو چلو دس سورتیں ہی گھڑ کرلے آئو اور تم جس جس کو چاہتے ہو اپنے ساتھ شریک کرلو اور انجام کا ردس سورتوں سے کم کرکے اس کو ایک سورت پر لے آیا گیا کہ چلو ایک سورت ہی لے آئو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The seven Surahs that commence with "Ha Meem" are known as "Al Hameem' or 'Hawameem'. Some more words are added as suffixes in their names to differentiate between them, for example, the 'Ha Meem' of Surah Mu'min is called "Ha Meem Al-Mum'in, and 'Ha Meem' of this Surah is called 'Ha Meem Sajdah' or 'Ha Meem Fussilat'. Both the names of this Surah are well-known. The first addressees of this Surah are Quraysh of ` Arabia among whom Qur'an was revealed in their own language. They had witnessed the marvel of the Qur'an, and they had also seen innumerable miracles of the Holy Prophet…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

1 This is a brief introduction to the Surah. A study of the following discourse can show what relevance the things mentioned in it have with the theme that follows. The first thing said is that this Word is being sent down by God, as if to say: "You, O people, may go on saying again and again that this Word is being composed by Muhammed (upon whom be Allah's peace) but the fact is that its revelation is from God, Lord of the worlds. " Furthermore, the addressees have also been warned, so as to say: "If you express your displeasure on hearing this discourse. this displeasure is not against…

Read the full tafseer →