Fussilat 41:54

Fussilat · from ayah 54

41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ ؕ— اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ ۟۠اَلَاۤ اِنَّهُمۡ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّهِمۡ‌ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَىۡءٍ مُّحِيۡطٌ

دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Unquestionably, they are in doubt about the meeting with their Lord. Unquestionably He is, of all things, encompassing.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 6 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:54

آگاہ رہو، یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں سن رکھو، وہ ہر چیز پر محیط ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یاد رکھو کہ یہ لوگ اپنے رب کا سامنا کرنے کے معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو کہ وہ ہر چیز کو احاطے میں لیے ہوئے ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سنو انہیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے سنو! وہ ہر چیز کو محیط ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جان لو کہ وہ لوگ اپنے رب کے حضور پیشی کی نسبت شک میں ہیں، خبردار! وہی (اپنے علم و قدرت سے) ہر چیز کا احاطہ فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سنو ! یقینا وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کے بارے میں شک میں ہیں۔ سن لو ! یقینا وہ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سن لو ! یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات سے شک میں پڑے ہوئے ہیں (اور یہ بھی) سن لو کہ اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آگاہ کہ یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیشی کے باب میں شک میں ہیں ! آگاہ کہ وہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آگاہ رہو کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات (اور اس کے حضور پیشی) کے بارے میں شک میں پڑے ہیں آگاہ رہو کہ وہ ہر چیز کا پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یاد رکھو یہ لوگ اپنے پروردگار کے روبرو جانے کی طرف سے شک میں پڑے ہیں یاد رکھو کہ وہ ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آگاہ ہو جائو ! یہ لوگ اپنے رب کے ساتھ ملاقات سے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں آگاہ ہو جائو ! بیشک وہ ہرچیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دیکھو یہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ‘

— محترمہ رفعت اعجاز

Lo, they are in doubt concerning their meeting with their Lord. Surely He fully encompasses everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Beware, they are in doubt about meeting their Lord. Beware, He is the One who encompasses everything.

— Muhammad Taqi Usmani

Beware, they are in doubt about meeting their Lord. Beware, He is the One who encompasses everything.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Lo, Verily, they are in doubt concerning the meeting with their Lord. Verily, He is surrounding all things!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How! Are they still in doubt about the meeting with their Lord? Lo! Is not He surrounding all things?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Unquestionably, they are in doubt about the meeting with their Lord. Unquestionably He is, of all things, encompassing.

— Saheeh International

They are certainly doubtful about their meeting with their Lord. God indeed encompasses all things.

— Muhammad Sarwar

Now surely they are in doubt as to the meeting of their Lord; now surely He encompasses all things.

— Muhammad Habib Shakir

Lo! they are in doubt concerning the meeting with their Lord: Lo! He Is of everything the Encompasser!

— Abdul Majid Daryabadi

Ah indeed! Are they in doubt concerning the Meeting with their Lord? Ah indeed! It is He that doth encompass all things!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–54

قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہوگا ؟ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہوگا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 72 یعنی ان کے اس رویہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ کبھی ان کو اپنے رب کے سامنے جانا ہے اور اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 73 یعنی اس کی گرفت سے بچ کر یہ کہیں جا نہیں سکتے اور اس کے ریکارڈ سے ان کی کوئی حرکت چھوٹ نہیں سکتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–54

(آیت) سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ۔ یعنی اپنی قدرت کاملہ اور وحدانیت کی نشانیاں ان لوگوں کو دکھلاتے ہیں آفاق میں بھی اور خود ان کے اپنے تن بدن میں بھی۔ آفاق افق کی جمع ہے، آسمان کے نچلے کنارے کو کہا جاتا ہے۔ مراد آفاق سے اطراف عالم ہیں یعنی سارے عالم کی بڑی چھوٹی مصنوعات و مخلوقات آسمان و زمین اور ان کے درمیانی مخلوقات میں سے ہر چیز کو دیکھو تو وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے علم وقدرت کے محیط ہونے اور یکتا ہونے کی شہادت دیتی ہیں اور اس سے زیادہ قریب کی چیز خود انسان کی اپنی جان اور جسم ہے۔ اس کے ایک ایک عضو اور اس میں کام کرنے والی باریک اور نازک مشینوں کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الاانھم فی مریۃ من لقآء ربھم الا انہ بکل شیء محیط (54) یہ آخر میں ان معاندین کی اصل علت فساد سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان کی اصلی بیماری یہ ہے کہ یہ اپنے رب کے حضور پیشی کے باب میں مشتبہ ہیں۔ ان کے اس اشتباہ نے انہیں زندگی کے معاملات میں ناعاقبت اندیش اور حق کی مخالفت میں دلیر بنا دیا ہے۔ انہیں اچھی طحر آگاہ کر دو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے، کوئی چیز بھی اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں ہے۔ وہ جو کچھ چاہے گا اور جب چاہے گا، کر ڈالے گا۔ نہ کوئی اس کے قبضہ قدرت سے باہر نکل سکتا اور نہ کوئی اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکتا۔ بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

54۔ 1 اس لئے اس کی بابت غورو فکر نہیں کرتے، نہ اس کے لئے عمل کرتے ہیں اور نہ اس دن کا کوئی خوف ان کے دلوں میں ہے۔ 54۔ 2 بنابریں اس کے لیے قیامت کا وقوع قطعا مشکل امر نہیں کیونکہ تمام مخلوقات پر اس کا غلبہ وتصرف ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے کرتا ہے کرسکتا ہے اور کرے گا کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–54

18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔ 19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الا انھم فی مریۃ من لقاء ربھم (41 : 54) “ آگاہ رہو یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں ”۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ کی ملاقات پر پورا یقین نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی تاکیدی امر ہے۔ الا انہ بکل شییء محیط (41 : 54) “ سن رکھو وہ ہر چیز پر محیط ہے ”۔ لہٰذا تم اس کی ملاقات سے کیسے بچ سکتے ہو۔ تم مکمل طور پر اس کے گھیرے میں ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی یہ اس دھوکے میں ہیں کہ کبھی خدا سے ملنا اور اس کے سامنے جانا نہیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ ہر وقت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے کسی وقت بھی اس کے قبضہ اور احاطہ سے نکل کر نہیں جاسکتے۔ اگر مرنے کے بعد ان کے بدن کے ذرات مٹی میں مل جائیں یا پانی میں بہہ جائیں یا ہوا میں منتشر ہوجائیں تب بھی ایک ایک ذرہ پر اللہ کا علم اور قدرت محیط ہے۔ ان کو جمع کر کے از سر نو زندہ کردینا کچھ مشکل نہیں۔ تمت سورة حم السجدۃ فلہ الحمد والمنۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54{ اَلَآ اِنَّہُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآئِ رَبِّہِمْ } ”آگاہ ہو جائو ! یہ لوگ اپنے رب کے ساتھ ملاقات سے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“ { اَلَآ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطٌ } ”آگاہ ہو جائو ! بیشک وہ ہرچیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

73 یعنی کافروں کی فتنہ انگیزیوں اور شرارتوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں نہ روزآخرت پر ایمان ہے اور نہ اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور پر۔ اگر انہیں یہ یقین ہوتا تو کبھی ایسی حرکتیں نہ کرتے۔ لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ اختیار میں کس طرح گھرے ہوئے اور مجبور محض ہیں اور اس کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

57۔ (تو کاش ان کے دلوں میں حق تعالیٰ کی ان صفات ہمہ بینی وہمہ دانی کا استحضار ہوتا ! ) (آیت) ” الا ..... ربھم “۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ حق کی طلب وجستجوان میں اس لیے نہیں کہ خود آخرت ہی کا اعتقاد انہیں نہیں اور طبیعت میں تحقیق وجستجو کی طرف سے تسائل وبے رغبتی تو آخرت کی اسی بےیقینی نے پیدا کردی ہے۔ (آیت) ” انہ ...... محیط “۔ آیت میں ان جاہلی قوموں کا رد ہے جنہوں نے حق تعالیٰ کی صفات ہمہ دانی وہمہ توانی میں کلام کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–54

آیت نمبر 45 تا 53 ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا انھم فی مریۃ من لقاء ربھم الا انہ بکل شیء محیط یاد رکھو کہ وہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں پڑے ہیں۔ خوب سن لو کہ اللہ ہر چیز کو اپنے علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔ مِنْ لِّقَآءِ رَبِّھِمْ لقاءِ رب سے مراد ہے قیامت برپا ہونا ‘ اعمال کا بدلہ ملنا۔ بِکُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ یعنی ہر چیز اس کے علم اور قدرت کے احاطہ میں ہے ‘ ہر چیز کا اجمالی اور تفصیلی علم اس کو ہے اور ہر چیز پر وہ قدرت رکھتا ہے ‘ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ہر چیز پر اس کا ذاتی احاطہ ہے اور ذاتی احاطہ بےکیف ہے ‘ اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ الحمد اللہ سورة فصلت (حٰمٓ السجدۃ) کی تفسیر 28/ماہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53۔ 54) یہاں تک کہ ان پر یہ ظاہر ہوجائے گا کہ نبی اکرم جو ان سے فرماتے ہیں وہ سچ ہے۔ آپ کے پروردگار نے ان لوگوں کے سامنے جو گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کیے ہیں بغیر ان کو دکھائے ہوئے کیا یہ بات ان کے لیے کافی نہیں کہ وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے مگر مکہ والے بعث بعد الموت کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال اور ان کی سزا سے خوب واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) الا انھم فی مریۃ من لقآء ربھم : یعنی یہ لوگ قرآن اور اللہ کے رسول کو اس لئے جھٹلا رہے ہیں کہ انہیں قیامت کا یقین نہیں، بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ (2) الا انہ بکل شیء محیط : یعنی وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے، کوئی چیز اس کے علم اور قدرت سے باہر نہیں، اس لئے وہ اس کی گرفت سے کسی طرح نہیں بچ سکتے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الا انھم فی مریۃ مریۃ کا معنی شک ہے من لقاء ربھم آخرت میں اپنے رب کی ملاقات سے۔ سدی نے کہا : بحث سے۔ خبر دار ! وہ اپنے رب کی ملاقات سے شے میں مبتلا ہیں (1) الا انہ بکل شیء محیط۔ اس کا علم ہر چیزکو محیط ہے ؛ اسدی نے یہ قول کیا۔ کلبی نے کہا : اس کی قدرت ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کیا ہوا ہے اور ہر چیز کا شمار کر رکھا ہے، یہ ہم کثیر طور پر وعید کے ضمن میں آتا ہے اس کا حقیقی معنی ہر سے کا احاطہ کرنا ہے جس کا احاطہ کیا ہوا ہے اس کو جڑ سے اکھیڑنا ہے یہ اصل میں محیط تھا یاء کی حرکت حاء کی طرف نقل کردی تو یاء ساکن ہوگئی اسی سے یہ کہا گیا ہے : اء حاط یحیط اء حاطۃ وحیطۃ۔ اسی سے حائد الدار (گھر کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–54

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَآ اِنَّهُمْ [ سن لو بیشک یہ لوگ ] فِيْ مِرْيَةٍ [ ایک شبہ میں ہیں ] مِّنْ لِّقَاۗءِ رَبِّهِمْ ۭ [ اپنے رب کی ملاقات سے ] اَلَآ اِنَّهٗ [ خبردار یقینا وہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کا ] مُّحِيْــطٌ [احاطہ کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اَلَآ اِنَّهُمْ ) الایۃ۔ خبردار یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات کی طرف سے شک میں پڑے ہیں انہیں وقوع قیامت کا یقین نہیں اس لیے انکار پر کمر باندھ رکھی ہے لیکن یہ نہ سمجھیں کہ ان کی حرکتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم نہیں ہے وہ ہر چیز کو اپنے احاطہ علمی میں لیے ہوئے ہے لہذا وہ ان کی حرکتوں اور کرتوتوں پر سزا دے گا۔ وھذا آخر ما یسر اللہ تعالیٰ لنا فی تفسیر سورة حم السجدہ۔ لیلۃ الثانی والعشرین فی محرم الحرام سنۃ 1318 ھ۔ من ھجرۃ سید الانام البدر التمام ﷺ الی یوم القیام و علی الہ و اصحابہ البررۃ الکرام

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–54

قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

54:۔ ” الا انھم “ یہ چوتھی عقلی دلیل کے بعد تخویف اخروی ہے۔ یہ لوگ قیامت کے بارے میں شک و تردد اور نزاع وجدال میں پڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اور کوئی چیز اس کے علم وقدرت سے باہر نہیں اور ان کے تمام اعمال پر بھی اس کا علم حاوی ہے اس لیے وہ ان کو ان کے تمام اعمال بد کی سزا دے گا۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سجاد بخاری عفا اللہ تعالیٰ عنہ۔ سورة حم السجدہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” قل ائنکم لتکفرون “ تا ” ذلک تقدیر العزیز العلیم “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 2 ۔ ” وقیضنا لھم قرناء “ الایۃ۔ (رکوع 3) ۔ شیاطین انسانوں کو بیداری میں اور خواب میں مختلف…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–54

ربط آیات پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَآ اِنَّہُمْ فِيْ مِرْيَۃٍ مِّنْ لِّقَاۗءِ رَبِّہِمْ۝ 0 ۭ اَلَآ اِنَّہٗ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطٌ۝ 54 ۧ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–54

تفسیر : واذا انعمنا اور جب ہم انسان پر عنایت کرتے ہیں تو سرکشی کرتا ہے۔ (والجانب مجاز عن النفس و نائی بمعنی بعد یقال نائت و تنایت ای بعدت وتباعدت والمتنائی الموضع البعید) اور جب اس پر بلا آتی ہے تو بڑی دعا کرتا ہے۔ (العرض والطول یستعمل فی الکثرۃ مجازا فی کلام العرب) یہ انسان کی جبلی بات ہے، غرض یہ کہ یہ تمام سرکشی خدا تعالیٰ کی عطاء کی ہوئی نعمت کی بدہضمی سے ہے۔ اس کے بعد پھر کفار کے شبہات دفعہ کرتا ہے۔ فقال ارایتم ان کان من عنداللہ الخ ان سے کہہ دے تم جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہو اچھا یہ بھی تو خیال کرلو (کیونکہ تمہارے انکار پر کوئی حجت قوی نہیں ہے صرف توہمات ہیں) کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَ لَآ اِنَّھُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَـآئِ رَبِّھِمْ ط اَ لَآ اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ مُّحِیْطٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 54) (آگاہ رہو یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں، خبردار وہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ) معاندین کی اصل علت فساد سورة کی اس آخری آیت میں معاندین اور مخالفین کی اصل علت فساد سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ ان لوگوں پر نہ نصیحت اثر کرتی ہے نہ کوئی تنبیہ اثرانداز ہوتی ہے اور بڑی سے بڑی بات کو بھی یہ لوگ سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دلآویز شخصیت انتہائی ہمدردی اور غمگساری سے انھیں ان کے انجام سے فکرمند کرنے کی کوشش کرتی ہے،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار اپنے رب کی قدرتیں دیکھنے کے باوجود اس کی ذات اور ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔ انسان کا ذہن آخرت کے فکر سے خالی ہوجائے تو وہ بڑے سے بڑے حقائق اور دلائل کو ٹھکراتا چلا جاتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ ان کے سامنے اللہ کی الوہیّت کے دلائل پیش کیے جاتے تو وہ انہیں مسترد کردیتے۔ نبی ﷺ کی رسالت کا ثبوت دیا جاتا تو وہ مذاق کا نشانہ بناتے۔ فکر آخرت کی بات ہوتی تو اہل مکہ یہ کہہ کر انکار کرتے کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو اسے کس طرح دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ دیکھیں یہ لوگ کس طرح اپنے رب کی ملاقات کے بارے میں متردّد اور شک کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

54: اَ لَآ اِنَّھُمْ فِیْ مِرْیَۃٍ (خبردار وہ لوگ شک میں پڑے ہیں) مِّنْ لِّقَآئِ رَبِّھِمْ اَ لَآ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطٌ (اپنے رب کی بارگاہ میں جانے کی طرف سے یاد رکھو وہ ہر چیز کو احاطہ میں لیے ہوئے ہے) وہ اشیاء کے اجمال و تفاصیل اور ظواہرو بواطن کو جاننے والا ہے۔ اس پر کوئی چیز چھپنے والی نہیں ہے پس وہ انکے کفر پر ان کو سزا دیگا اور اس پر بھی سزا دیگا کہ وہ اسکی ملاقات کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53، سنریھم آیاتنا فی الافاق، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ گزشتہ امتوں کے مکانات۔ ، وفی انفسھم، آزمائش اور بیماریوں کے ذریعے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ، فی الفاق ، یعنی اللہ تعالیٰ نے جو پہلی امتوں پر عذاب بھیجے اور، فی انفسھم، بدر کے دن اور مجاہد، حسن، سدی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں، حتی یتبین لھم انہ الحق، یعنی دین اسلام۔ اور کہا گیا ہے کہ قرآن کے بارے میں ان پر واضح ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے بارے میں ان پر واضح ہوگیا کہ ان کی تائید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی گئی ہے۔ عطاء اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ الا فاق یعنی آسمان و زمین کے اقطارجی سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–54

52۔ 53۔ اوپر جن قرآن کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں بھی ان ہی لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ یہ بات ان لوگوں کو پہلے سمجھا دی گئی تھی کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اتار گیا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ باتیں بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے زبان پر نہیں لاسکتا ان آیتوں میں پہلی فہمائش کے سلسلہ میں مختصر طور پر یہ ارشاد ہے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر پہلے کی فہمائش کی موافق یہ قرآن اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر بہکا ہوا اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 52–54

آیت 52 (قل) قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے : (ارئیتم ان کان) ” مجھے بتایئے اگر یہ ہو ! “ یعنی یہ قرآن (من عند اللہ) بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید) ” پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت اور عناد میں کیونکہ حق تم پر واضح ہوچکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔ اگر تمہیں اس کی حقیقت اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–54

قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 53–54

100 صداقت و حقانیت قرآن کی نشانیاں آفاق وانفس میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم انکو دکھاتے جائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں بھی اور انفس میں بھی "۔ ۔ { سنریہم } ۔ کا صیغہ استقبال اور استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی ہم آئندہ ان کو ایسی نشانیاں دکھاتے جائیں گے اور مرور ایام کے ساتھ ساتھ وہ ان کے سامنے کھلتی اور نکھرتی چلی جائیں گی جس سے اس کلام حق کی حقانیت و صداقت ان کے سامنے واضح ہوتی چلی جائے گی۔ چناچہ ایسے ہی ہوا ہے۔ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ کتنے ہی ایسے انکشافات انسان کے سامنے ہوئے اور ہو رہے ہیں جن سے اس کلام حق و صدق ترجمان کی صداقت و حقانیت نکھرتی گئی اور نکھرتی جا رہی ہے۔ اور کتنے ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–54

قرآن کریم کی حفاظت کے بعض دلائل تشریح : قرآن پاک کے سچ ہونے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی پکی، سچی اور واضح نشانیاں اور ثبوت اللہ نے ان آیات میں بیان کئے ہیں۔ ایسے ثبوت، ایسی نشانیاں کہ جن کو آنحضرت ﷺ نے بھی حق جانا اور موجودہ زمانے کے حکماء، علماء، محدثین اور جدید سائنس کے ماہرین ان تمام پیش گوئیوں کو واضح الفاظ میں بیان کر رہے ہیں جو 14 سو سال پہلے قرآن پاک میں بتائی گئی تھیں۔ مثلاً ۔ اعضاء انسانی کا گواہی دینا اور زمین کا گواہی دینا سورة یٰسین میں گزر چکا اور آنحضرت ﷺ نے اس کی یوں وضاحت کی کہ ” زمین ہمارے اعمال پر شاہد ہے “۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) اور پھر آیت 53 میں آیا ہے کہ (ہم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 47–54

آیات 47 تا 54۔ اسرار ومعارف۔ اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔ مادہ کے حمل کی خبر۔ اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی انہیں آخرت کے آنے کا یقین نہیں ہے اسی لئے وہ آپ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ 4 یعنی ان کی ایک ایک حرکت کا اسے علم ہے، لہٰذا یہ اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:54) الا۔ حرف تنبیہ واستفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے) ہے اور ہمزہ استفہام اور لا نافیہ سے مرکب نہیں بلکہ بسیط ہے۔ ہاں یہ تنبیہ استفتاح ، عرض اور تحضیض میں مشترک ہے۔ جب یہ تنبیہ اور استفتاح کے لئے استعمال ہوتا ہے تو جملہ اسمیہ اور فعلیہ دونوں پر داخل ہوتا ہے۔ اور جب عرض اور تحضیض کے لئے آتا ہے تو صرف افعال کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے خواہ وہ افعال لفظا مذکور ہوں یا تقدیرا۔ (لغات القرآن) الا : خبر دار ہوجاؤ۔ جان لو۔ سن رکھو۔ مریۃ۔ اسم مصدر۔ تردد۔ یہ شک اور ریب سے خاص ہے گویا جس شک سے تردد پیدا ہوجائے اسے مریۃ کہا جاتا ہے۔ م ر ی مادہ (باب افتعال) الاممراء اور باب مفاعلہ المماراۃ کے معنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–54

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا) تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–54

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ مشرکین قیامت کے آنے کے بارے میں اور بعد موت اپنے رب کے پاس جانے میں اور حساب کتاب کے ہونے میں شک رکھتے ہیں خدا کے علاوہ کا یقین نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے حالانکہ اس کے قبضہ اور احاطہ سے نکل کر نہیں جاسکتے، اگر مرنے کے بعد ان کے بدن کے ذرات مٹی میں مل جائیں یا پانی میں بہہ جائیں یا ہوا میں منتشر ہوجائیں تب بھی ایک ایک ذرہ پر اللہ کا علم اور قدرت محیط ہے ان کو جمع کرکے از سرنوزندہ کردینا کچھ مشکل نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–54

[26] مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو اس کے دلائل کی بناء پر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ اس کی تصدیق کے لئے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت آ رہا ہے جب مکہ کے اطراف میں اور خود مکہ میں قریش کے اندر بھی اس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ لوگ پکار اٹھیں گے کہ بیشک قرآن بالکل حق ہے۔ یہاں '' آیات '' سے مراد غلبہ حق اور دعوت باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں جن کی قرآن نے پیشن گوئی کی ہے۔ چناچہ تھوڑے ہی عرصے میں قرآن کی دعوت گردوپیش کے ممالک پر چھا گئی اور خود کفار مکہ کو اس کے آگے سرنگوں ہونا پڑا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی دعوت کا محض غالب آجانا اس کے حق ہونے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 53–54

قرآن کی صداقت پرخارجی اور باطنی شواہد 2: یہ پیشگوئی ہے ۔ کہ ہم قرآن کی حقانیت کے ثبوت میں پوری کائنات کو حرکت میں لے آئینگے ۔ اور آفاق میں ایسے ایسے دلائل مہیا کرینگے ۔ کہ پھر اہل دانش کے لئے ناممکن ہوجائیگا ۔ نیز ان کی نفسیات میں ایسا عظیم انقلاب پیدا کریں گے ۔ اور ان کو ایسا روحانی ارتقاء بخشیں گے ۔ کہ وہ خود بخود اسلامی نظریات عقائد وعمل کی تصدیق کرنے لگیں گے ۔ ہمارے نزدیک اس کی تین صورتیں ہیں :۔ (1) اسلامی فتوحات کی کثرت ایک بےسروسامان جماعت کا ساری دنیا پرچھاجانا ۔ اور اپنے بےپناہ غلبہ واقتدار سے ثابت کرنا ۔ کہ اللہ کی تائید ان کے شامل حال ہے ۔ اس کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اسلامی عساکر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) آگاہ رہو اور یادرکھو کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے اور اس سے ملنے اور اس کی ملاقات سے شک میں پڑے ہوئے ہیں آگاہ ہوا اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے یعنی ان کو تو اپنے پروردگار کے روز و حاضر ہونے کا یقین ہی نہیں ہے اور یہ شک میں مبتلا ہیں یہ یادرکھو کہ اس نے یعنی اس کے علم اور اس کی قدرت نے سب کو گھیرے میں لے رکھا ہے اس سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے اور وہ ان کو ان کے گناہوں پر سے سزا دے گا۔ تم سورة حٰم ٓ السجدۃ

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ پروردگار کی ملاقات سے شک میں ہیں ان کا شک یقینا نکل کر رہے گا 54 ؎ ملاقات خداوندی کے لیے اس دنیاوی زندگی کا حجاب ہے جب یہ حجاب اٹھتا ہے تو سارے شکوک و شبہات دور ہوجاتے ہیں ہاں ! جو لوگ ملاقات الٰہی کا یقین نہیں رکھتے ان کے یقین نہ رکھنے کا اصل باعث قیامت کے بارے میں پختہ یقین نہ ہونا ہے بلکہ اس کے برعکس ان کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ قایمت و یا مت کچھ نہیں یہ محض ایک ڈراوا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس زندگی میں سرکشی اور نافرمانی سے باز نہیں آتے ، ان کے سامنے ہزاروں دلائل پیش کیے جائیں وہ انہیں لائق التفات ہی نہیں سمجھتے کیونکہ وہ اس دنیوی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس لیے ان کی جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

سَنُرِ‌يهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (We will show them Our signs in the universe and within their own beings - 53). The word "Afaq' used in the text literally means ` horizons' which includes all sides of the whole universe. (That is why it is translated above as ` universe' ) In other words, if one looks at the creatures and creations of the whole universe, big and small, in the skies, on the earth and in between them, they all bear witness not only to the existence of Allah Ta’ ala, but also to His Knowledge, His all-encompassing authority, and to His being One and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

72 That is, "The basic cause of their attitude and conduct is that they are not sure that they will ever have to appear before their Lord and be held accountable for their deeds and actions." 73 That is, "They cannot escape His grasp nor can anything of their deeds be prevented from being recorded by Him. "

Read the full tafseer →