Explained with ayahs 52–54
قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہوگا ؟ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہوگا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 70
اس آیت کے دو مفہوم ہیں اور دونوں ہی اکابر مفسرین نے بیان کیے ہیں
ایک مفہوم یہ ہے کہ عنقریب یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اس قرآن کی دعوت تمام گرد و پیش کے ممالک پر چھا گئی ہے اور یہ خود اس کے آگے سرنگوں ہیں۔ اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ آج ان سے کہا جا رہا ہے اور یہ مان کر نہیں دے رہے ہیں، وہ سراسر حق تھا۔ بعض لوگوں نے اس مفہوم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ محض کسی دعوت کا غالب آجانا اور بڑے بڑے علاقے فتح کرلینا تو اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے، باطل دعوتیں بھی چھا جاتی ہیں اور ان کے پیرو بھی ملک پر ملک فتح کرتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک سطحی اعتراض ہے جو پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(آیت) سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ۔ یعنی اپنی قدرت کاملہ اور وحدانیت کی نشانیاں ان لوگوں کو دکھلاتے ہیں آفاق میں بھی اور خود ان کے اپنے تن بدن میں بھی۔ آفاق افق کی جمع ہے، آسمان کے نچلے کنارے کو کہا جاتا ہے۔ مراد آفاق سے اطراف عالم ہیں یعنی سارے عالم کی بڑی چھوٹی مصنوعات و مخلوقات آسمان و زمین اور ان کے درمیانی مخلوقات میں سے ہر چیز کو دیکھو تو وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے علم وقدرت کے محیط ہونے اور یکتا ہونے کی شہادت دیتی ہیں اور اس سے زیادہ قریب کی چیز خود انسان کی اپنی جان اور جسم ہے۔ اس کے ایک ایک عضو اور اس میں کام کرنے والی باریک اور نازک مشینوں کو…
Read the full tafseer →سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق ط اولم یکف بربک انہ علی کل شیء شھید (53)
قرآن کی صداقت کے آثار آفاق وانفس میں
یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی اور مکذبین قرآن کے لئے تہدید و وعید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو، اس کے دلائل کی بنیاد پر، ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس کی تصدیق کے لئے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت بھی آ رہا ہے جب مکہ کے اطراف میں بھی اور خود مکہ میں، قریش کے اندر بھی، اس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ لوگ پکار اٹھیں گے کہ بیشک قرآن بالکل حق ہے۔
آیات سے مراد غلبہ حق اور ہزیمت باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں جن کی قرآن نے پیشین…
Read the full tafseer →53۔ 1 جن سے قرآن کی صداقت اور اس کا من جانب اللہ ہونا واضح ہوجائے گا یعنی انہ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے بعض نے اس کا مرجع اسلام یا رسول اللہ ﷺ کو بتلایا ہے۔ مآل سب کا ایک ہی ہے۔ آفاق افق کی جمع ہے کنارہ مطلب ہے کہ ہم اپنی نشانیاں باہر کناروں میں بھی دکھائیں گے اور خود انسان کے اپنے نفسوں کے اندر بھی۔ چناچہ آسمان و زمین کے کناروں میں بھی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں مثلا سورج، چاند، ستارے، رات اور دن، ہوا اور بارش، گرج چمک، بجلی، کڑک، نباتات وجمادات، اشجار، پہاڑ اور انہار و بحار وغیرہ۔ اور آیات انفس سے انسان کا وجود، جن اخلاط ومواد اور ہیئتوں پر مرکب ہے وہ مراد ہیں۔ جن کی تفصیلات طب وحکمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔
19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →اس کے بعد اب قرآن کریم ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ سوچیں۔ اور پھر اس وسیع کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھو اللہ نے اس میں کچھ نشانات اور تقدیرات طے کر رکھی ہیں ، جن کا ظہور مستقبل میں ہوگا۔
یہ آخر ضرب ہے اور آخری تبصرہ ہے۔ ۔۔۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے کہ عنقریب تمہیں اس کائنات کے کچھ رازوں سے آگاہ کیا جائے گا ، اسی طرح خود تمہارے نفس اور ذات کے اندر جو راز ہیں ان کے بارے میں تم پر انکشافات ہوں گے یعنی انفس و آفاق کے نشانات تمہیں دکھائے جائیں گے۔ اور یہ راز ہائے ۔۔۔ جب کھلیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ کتاب ، کتاب برحق ہے۔ یہ کتاب اور یہ منہاج اور نظام زندگی ، اور یہ قول جو…
Read the full tafseer →2 یعنی قرآن کی حقانیت کے دوسرے دلائل وبراہین تو بجائے خود رہے۔ اب ہم ان منکروں کو خود ان کی جانوں میں اور ان کے چاروں طرف سارے عرب بلکہ ساری دنیا میں اپنی قدرت کے وہ نمونے دکھلائیں گے جن سے قرآن اور حال قرآن کی صداقت بالکل روز روشن کی طرح آنکھوں سے نظر آنے لگے۔ وہ نمونے کیا ہیں ؟ وہ ہی اسلام کی عظیم الشان اور محیر العقول فتوحات جو سلسلہ اسباب ظاہری کے بالکل برخلاف قرآنی پیشین گوئیوں کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئیں۔ چناچہ معرکہ " بدر " میں کفار مکہ نے خود اپنی جانوں کے اندر اور " فتح مکہ " میں مرکز عرب کے اندر اور خلفائے راشدین کے عہد میں تمام جہان کے اندر یہ نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے۔ اور یہ…
Read the full tafseer →آیت 53{ سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ } ”عنقریب ہم انہیں دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں بھی اور ان کی اپنی جانوں کے اندر بھی“
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جانوں اور زمین و آسمان کے اندر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مبرہن انداز میں ان لوگوں کے سامنے آتی چلی جائیں گی۔
{ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ } ”یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔“
اس آیت میں دراصل معلومات کے اس explosion کی طرف اشارہ ہے جو سائنسی ترقی کے باعث آج کے دور میں ممکن ہوا ہے۔ موجودہ دور سائنس کا دور ہے۔ اس دور کی تاریخ زیادہ سے زیادہ دو سو برس پرانی ہے اور سائنسی ترقی…
Read the full tafseer →71 آفاق وانفس کے دو مفہوم :۔ اس آیت کے دو مطلب ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ آفاق سے مراد عرب کے قرب و جوار کے ممالک مراد لیے جائیں اور انفس سے عرب قوم اور بالخصوص قریش قوم مراد لی جائے جس سے رسول اللہ نسبی تعلق رکھتے تھے اس لحاظ سے اس آیت کا جو مطلب ہے وہ تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے۔ چند ہی سالوں میں قریشی سرداروں کو ذلت سے دوچار ہونا پڑا اور کفر و شرک کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ کی زندگی ہی میں کفر و شرک کو عرب کی سرزمین سے دیس نکالا مل گیا اور سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر کے دور میں پے در پے فتوحات کے نتیجہ میں عرب کے ارد گرد کے ملکوں میں اسلام کا جو بول بالا ہوا وہ ہر ایک نے اپنی…
Read the full tafseer →55۔ یعنی غلبہ حق کی ان مادی علامتوں کو دیکھ کر یہ ایک حد تک اضطرار اعتراف پر مجبور ہوجائیں گے ..... چناچہ نہ صرف علاقہ حجاز بلکہ سارا ملک عرب اور اس کے اطراف ونواح اسلام کے مسخر ہوئے اور بڑے بڑے رؤساء وسرداران ریاست مکہ مرکٹ کر رہے۔ (آیت) ” الافاق “۔ اس کا ترجمہ مفسر تھانوی (رح) نے ” ان کے گردونواح “ سے کیا ہے اور حاشیہ یہ دیا ہے۔ اشارۃ الی ان الالف والام عن المضاف الیہ وھو من المواھب (آیت) ” ایتنافی الافاق وفی انفسھم “۔ آیات الہی آفاقی اور آیات الہی انفسی ان دونوں سے کیا مراد ہے ؟ عجب نہیں کہ آیات آفاقی سے مراد وہ واقعات و دلائل خارجی ہوں جو ہر فطرت سلیم کو توحید و حکمت الہی کی طرف لاتے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
آیت نمبر 45 تا 53
ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…
Read the full tafseer →ہم عنقریب اپنی (قدرت کی) نشانیاں ان کے گردونواح میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ وہ (قرآن حق) ہے
اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاق حضرت ابن عباس نے آیت فی الاٰفاق کی تفسیر میں فرمایا : گذشتہ اقوام کے (پارینہ کھنڈر اور) مکان اور فی انفسم سے مراد غزوۂ بدر کا واقعہ (جس میں باوجود طاقت اور فوج کی کثرت کے کافروں کو شکست ہوئی ‘ کچھ مارے گئے اور کچھ قید ہوئے) قتادہ نے بھی اس کی یہی تفسیر کی ہے۔ بعض کے نزدیک آیات فی انفسھم سے مراد ہیں مصائب اور جسمانی روگ۔ مجاہد اور سدی نے کہا : آیات فی الاٰفاق یہ تھیں کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اللہ نے مختلف بستیوں کی فتوحات…
Read the full tafseer →اے محمد ہم مکہ والوں کو اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں ان کے اردگرد میں بھی دکھائیں گے جیسا کہ عاد وثمود اور ان کے بعد والے لوگوں کی ویران بستیاں پڑی ہوئی اور ان کو بھی امراض و تکالیف اور مصیبتوں میں گرفتار کر کے خود ان کی ذات میں بھی دکھائیں گے۔
Read the full tafseer →(1) سنریھم ایتنا فی الافاق و فی انفسھم …:”الفاق“”افق“ کی جمع ہے، کنارے دور وہ جگہ جہاں آسمان و زمین ملتے ہوئے نظر آتے ہیں، افق کہلاتی ہے۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ ”انہ“ کی ضمیر سے مراد قرآن اور نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی ہم انہیں دنیا بھر میں اور خود ان میں اپنی ایسی نشانیاں دکھا دیں گے جن سے ثابت ہوجائے گا کہ آپ ﷺ کی نبوت اور قرآن حق ہے۔ نشانیوں سے مراد ظاہری اسباب کی قلت کے باوجو دسلام کی فتوحات ہیں۔ ”الافاق“ سے مراد مکہ کے گرد و پیش میں اسلام کا غلبہ ہے جو بدر، احد ، خندق اور دوسرے معرکوں کے ساتھ جزیرہ عرب پر اور آخر کار پوری زمین کے مشرقی اور مغربی کنن اورں تک پھیل…
Read the full tafseer →سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم ہماری وحدانیت اور ہماری قدرت کی نشانیاں سابقہ امتوں کی منازل کی بربادی میں ہیں اور فی انفسھم سے مراد زمین کے حادثات ہیں۔ مجاہد نے کہا : فی الافاق سے مراد بستیوں کی فتوحات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فتوحات کو اپنے رسول اللہ ﷺ آپ کے بعد خلفاء اور آفاق دنیا میں اس کے دین کے مدد گاروں کے لیے فتو حات کو مشرق و مغرب کے علاقوں کو عموماً اور مغرب کے علاقوں کو خصوصاً آسان کردیا۔ کیونکہ یہ ایسی فتوحات ہیں جو ان سے قبل زمین کے کسی حاکم کے لیے آسسان نہ ہوئیں اس طرح جابر حکمرانوں، فارس کے کسری تھوڑے لشکر کو کثیر لشکر پر فتح دینا، کمزوروں کو قوی لوگوں پر غلبہ دینا اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت…
Read the full tafseer →سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا [ ہم دکھائیں گے ان کو اپنی نشانیاں ] فِي الْاٰفَاقِ [ اطراف (عالم ) میں ] وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ [اور ان کے اپنے (اندر) میں ] حَتّٰى يَتَبَيَّنَ [ یہاں تک کہ واضح ہوجائے ] لَهُمْ اَنَّهُ [ ان کے لئے کہ وہ (قرآن) ] الْحَقُّ ۭ [ ہی کل حق ہے ] اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ [ اور کیا کافی نہیں ہوا آپ کا رب ] اَنَّهٗ [ (اس پر ) کہ وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] شَهِيْدٌ [ موقعہ پر موجود ہے ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 53 ۔ کے دو مفہوم ہیں اور دونوں ہی اکابر مفسرین نے بیان کیے ہیں ۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اس قرآن کی دعوت تمام گردوپیش کے ممالک پر چھا گئی ہے…
Read the full tafseer →(سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ) ہم عنقریب انہیں آفاق میں اور ان کے نفسوں میں نشانیاں دکھائیں گے۔ آفاق جمع ہے افق کی، افق کنارے کو کہتے ہیں اس سے آسمانوں اور زمین کے کنارے چاند سورج ستارے اشجار و انہار مراد ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے امم سابقہ کے واقعات مراد ہیں یعنی زمین میں جو سفر کرتے ہیں اور ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈروں پر گزرتے ہیں یہ بھی آفاق میں داخل ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں دکھا دیں گے اور ان کے نفسوں میں بھی انسانوں کے نفسوں میں جو امراض آتے رہتے ہیں اور حالات بدلتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت…
Read the full tafseer →51:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ یہ آیت چاروں شکو وں سے متعلق ہے اور جواب محذوف ہے۔ ای افلا یضرکم ذالک۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے ہو لیکن تم اس کا انکار کرو، نہ خود اسے سنو، نہ اوروں کو سننے دو ، اور اگر کبھی سن ہی لو، تو اس سے متاثر ہونے اور اسے ماننے کے بجائے ازراہ عناد اس پر طعن ہی کرتے رہو اور اس میں شبہات نکالتے رہو اور معبودانِ باطلہ کی دعا اور پکار کو ترک نہ کرو، تو کیا یہ چیز تمہارے حق میں مضر نہ ہوگی ؟ اس لیے تمہیں چاہئے کہ اعراض نہ کرو۔ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور شور نہ کرو اور طعن کرنے سے باز رہو اور غیر اللہ کی پکار چھوڑ دو اور دلائل وبراہین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ربط آیات
پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو…
Read the full tafseer →سَنُرِيْہِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ 0 ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّہٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ 53
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
تفسیر : واذا انعمنا اور جب ہم انسان پر عنایت کرتے ہیں تو سرکشی کرتا ہے۔ (والجانب مجاز عن النفس و نائی بمعنی بعد یقال نائت و تنایت ای بعدت وتباعدت والمتنائی الموضع البعید) اور جب اس پر بلا آتی ہے تو بڑی دعا کرتا ہے۔ (العرض والطول یستعمل فی الکثرۃ مجازا فی کلام العرب) یہ انسان کی جبلی بات ہے، غرض یہ کہ یہ تمام سرکشی خدا تعالیٰ کی عطاء کی ہوئی نعمت کی بدہضمی سے ہے۔
اس کے بعد پھر کفار کے شبہات دفعہ کرتا ہے۔ فقال ارایتم ان کان من عنداللہ الخ ان سے کہہ دے تم جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہو اچھا یہ بھی تو خیال کرلو (کیونکہ تمہارے انکار پر کوئی حجت قوی نہیں ہے صرف توہمات ہیں) کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →سَنُرِیْہِمْ اٰیٰـتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّـہُ الْحَقُّ ط اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 53)
(عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں دکھائیں گے اور خود ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے، کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے۔ )
قرآن کریم کی صداقت پر دلائل
گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفین کے اپنے نفع و ضرر کے حوالے سے نہایت دھیمے انداز میں انھیں قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی دعوت پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی تھی اور عقلی اسلوب اختیار کرتے ہوئے انھیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن کی مخالفت کرنے والوں کو ایک اور انتباہ۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان اور قوم کے لیے ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔ جب کوئی انسان اور قوم اس حد کو پھلانگ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اعتاب کا کوڑا حرکت میں آجاتا ہے۔ منکرین حق کو اس وقت سے آگاہ کرنے کے لیے بتلایا گیا ہے کہ ہم عنقریب انہیں آفاق اور ان کی ذات سے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر حق آشکارا ہوجائے گا۔ یعنی اس وقت حق کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ لیکن اس وقت اعتراف اور اظہارِ حق کا نہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اے محبوب ﷺ ! آپ اس یقین کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں کہ آپ کا رب ہر حال میں ہر چیز کو دیکھتا…
Read the full tafseer →قرآن کی حقانیت واضح ہوجائے گی :
53: سَنُرِیْہِمْ ٰایٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ (عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں گردو نواح میں بھی دکھائیں گے) کہ شرقاً اور غرباً ممالک فتح ہوگئے ہیں۔ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ (اور خود ان کے اپنے نفسوں میں) مکہ کی فتح حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (یہاں تک کہ ان کے سامنے واضح ہوجائے گا کہ وہ برحق ہے) یعنی قرآن مجید یا اسلام اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ (کیا آپ کے رب کی یہ بات کافی نہیں)
نحو : بربکؔ رفع کے مقام میں فاعل ہے اور مفعول محذوف ہے۔
اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ (کہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے) یہ بربکؔ کا بدل ہے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ اولم یکفھم ان ربک…
Read the full tafseer →52، قل ارایتم ان کان ، یہ قرآن، من عند اللہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھوفی شقاق بعید، حق کے خلاف اس سے دور یعنی کوئی شخص بھی تم سے زیادہ گمراہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
52۔ 53۔ اوپر جن قرآن کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں بھی ان ہی لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ یہ بات ان لوگوں کو پہلے سمجھا دی گئی تھی کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اتار گیا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ باتیں بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے زبان پر نہیں لاسکتا ان آیتوں میں پہلی فہمائش کے سلسلہ میں مختصر طور پر یہ ارشاد ہے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر پہلے کی فہمائش کی موافق یہ قرآن اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر بہکا ہوا اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
آیت 52
(قل) قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے : (ارئیتم ان کان) ” مجھے بتایئے اگر یہ ہو ! “ یعنی یہ قرآن (من عند اللہ) بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید) ” پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت اور عناد میں کیونکہ حق تم پر واضح ہوچکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔ اگر تمہیں اس کی حقیقت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے
قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
100 صداقت و حقانیت قرآن کی نشانیاں آفاق وانفس میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم انکو دکھاتے جائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں بھی اور انفس میں بھی "۔ ۔ { سنریہم } ۔ کا صیغہ استقبال اور استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی ہم آئندہ ان کو ایسی نشانیاں دکھاتے جائیں گے اور مرور ایام کے ساتھ ساتھ وہ ان کے سامنے کھلتی اور نکھرتی چلی جائیں گی جس سے اس کلام حق کی حقانیت و صداقت ان کے سامنے واضح ہوتی چلی جائے گی۔ چناچہ ایسے ہی ہوا ہے۔ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ کتنے ہی ایسے انکشافات انسان کے سامنے ہوئے اور ہو رہے ہیں جن سے اس کلام حق و صدق ترجمان کی صداقت و حقانیت نکھرتی گئی اور نکھرتی جا رہی ہے۔ اور کتنے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
قرآن کریم کی حفاظت کے بعض دلائل
تشریح : قرآن پاک کے سچ ہونے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی پکی، سچی اور واضح نشانیاں اور ثبوت اللہ نے ان آیات میں بیان کئے ہیں۔ ایسے ثبوت، ایسی نشانیاں کہ جن کو آنحضرت ﷺ نے بھی حق جانا اور موجودہ زمانے کے حکماء، علماء، محدثین اور جدید سائنس کے ماہرین ان تمام پیش گوئیوں کو واضح الفاظ میں بیان کر رہے ہیں جو 14 سو سال پہلے قرآن پاک میں بتائی گئی تھیں۔ مثلاً ۔ اعضاء انسانی کا گواہی دینا اور زمین کا گواہی دینا سورة یٰسین میں گزر چکا اور آنحضرت ﷺ نے اس کی یوں وضاحت کی کہ ” زمین ہمارے اعمال پر شاہد ہے “۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) اور پھر آیت 53 میں آیا ہے کہ (ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
آیات 47 تا 54۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔
مادہ کے حمل کی خبر۔
اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے…
Read the full tafseer →ف 1 انہ کی ضمیر قرآن اور پیغمبر ﷺ کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بھی پہلی صورت میں آیات سے مراد فتوحات ہونگی اور مطلب یہ ہوگا کہ عنقریب ہی جب گرد و پیش کے ممالک اور خود ان ( قریش) پر فتوحال حاصل ہوں گی ( جو آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کے عہد میں حاصل ہوئیں) تب انہیں یقین حاصل ہوگا کہ قرآن یا پیغمبر برحق تھے اور یہ ناحق ان کی تکذیب کرتے رہے ہیں اور دوسری صورت میں یہ ہوگا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ان دلائل پر غور کریں جو خود ان کے اندر اور باہر آفاق میں پائے جاتے ہیں تو ان کو اللہ کے یکتا اور خالق ومالک ہونے کا یقین ہوجائے۔ آفاق میں دلائل سے مراد سورج چاند وغیرہ ہیں۔ پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(41:52) قل : ای قل لہم یا محمد ﷺ ۔ ارایتم کیا تم نے دیکھا عربی محاورہ میں اس کو بمعنی اخبرونی (بھلا مجھے بتاؤ تو سہی) استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کان من عند اللہ ای کان القران من عند اللّٰہ۔ اگر یہ قرآن منزل من اللہ ہو۔
ثم کفرتم بہ میں ثم تراخی فی الرتبی ہے اور اس کی اس عظمت و مرتبت کے باوجود ترم اس سے انکار کرو۔
اضل۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت نہکا ہوا۔ بہت بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ ضلال (باب ضرب و سمع) مصدر۔
شقاق بعید۔ موصوف و صفت۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ اپنے دوست کی شق چھوڑ کر دوسری شق میں ہوجانا۔ اور شق طرف کو کہتے ہیں۔ چناچہ شاعر کہتا ہے ؎
اذا ما بکی من خلفھا انحرفت لہ یشق وشق عندنا لم یحول
(جب بچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ مشرکین قیامت کے آنے کے بارے میں اور بعد موت اپنے رب کے پاس جانے میں اور حساب کتاب کے ہونے میں شک رکھتے ہیں خدا کے علاوہ کا یقین نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے حالانکہ اس کے قبضہ اور احاطہ سے نکل کر نہیں جاسکتے، اگر مرنے کے بعد ان کے بدن کے ذرات مٹی میں مل جائیں یا پانی میں بہہ جائیں یا ہوا میں منتشر ہوجائیں تب بھی ایک ایک ذرہ پر اللہ کا علم اور قدرت محیط ہے ان کو جمع کرکے از سرنوزندہ کردینا کچھ مشکل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
[26] مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو اس کے دلائل کی بناء پر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ اس کی تصدیق کے لئے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت آ رہا ہے جب مکہ کے اطراف میں اور خود مکہ میں قریش کے اندر بھی اس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ لوگ پکار اٹھیں گے کہ بیشک قرآن بالکل حق ہے۔ یہاں '' آیات '' سے مراد غلبہ حق اور دعوت باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں جن کی قرآن نے پیشن گوئی کی ہے۔ چناچہ تھوڑے ہی عرصے میں قرآن کی دعوت گردوپیش کے ممالک پر چھا گئی اور خود کفار مکہ کو اس کے آگے سرنگوں ہونا پڑا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی دعوت کا محض غالب آجانا اس کے حق ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
قرآن کی صداقت پرخارجی اور باطنی شواہد
2: یہ پیشگوئی ہے ۔ کہ ہم قرآن کی حقانیت کے ثبوت میں پوری کائنات کو حرکت میں لے آئینگے ۔ اور آفاق میں ایسے ایسے دلائل مہیا کرینگے ۔ کہ پھر اہل دانش کے لئے ناممکن ہوجائیگا ۔ نیز ان کی نفسیات میں ایسا عظیم انقلاب پیدا کریں گے ۔ اور ان کو ایسا روحانی ارتقاء بخشیں گے ۔ کہ وہ خود بخود اسلامی نظریات عقائد وعمل کی تصدیق کرنے لگیں گے ۔ ہمارے نزدیک اس کی تین صورتیں ہیں :۔
(1) اسلامی فتوحات کی کثرت ایک بےسروسامان جماعت کا ساری دنیا پرچھاجانا ۔ اور اپنے بےپناہ غلبہ واقتدار سے ثابت کرنا ۔ کہ اللہ کی تائید ان کے شامل حال ہے ۔ اس کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اسلامی عساکر…
Read the full tafseer →(53) ہم عنقریب ان منکرین قرآن کی اطراف عالم میں اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں اور اپنی قدرت کے نمونے دکھائیں گے یہاں تک کہ یہ بات ان پر واضح اور آشکارا ہوجائے گی کہ یہ قرآن واقعی حق ہے کیا اے پیغمبر آپ کے پروردگار کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے۔
مطلب یہ ہے کہ عنقریب کچھ ایسی نشانیوں اور پیشین گوئیوں کا ظہور ہوگا جس سے عرب کا کونہ کونہ متاثر ہوگا اور اطراف عالم پر اس کا اثر پڑے گا اور خود ان کے متعلق بھی بعض ایسی پیشین گوئیوں کا ظہور ہوگا جن سے یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ یہ دین اسلام یا یہ قرآن واقعی حق اور سچ ہے اور چونکہ ان پیشین گوئیوں کا ظہور رسول کریم ﷺ کی صداقت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 5۔ کہ اقطار عرب پیشنگوئی کے مطابق فتح ہوجاویں گے۔
6۔ یعنی یہ بدر میں مارے جاویں گے اور ان کا مسکن مکہ بھی فتح ہوجاوے گا۔
7۔ اور اس نے جا بجا آپ کی رسالت کی شہادت دی ہے، قولا بھی اور عملا بھی اظہار معجزات سے پس وہ شہادت کافی ہے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم اور اسلام کی صداقت کے آثار آفاق وانفس میں پھیلے ہوئے ہیں
53 ؎ زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ ” عنقریب ہم ان لوگوں کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی “ ظاہر ہے کہ ” ہم “ ضمیر سے مراد ہی لوگ ہیں جو مخاطبین اوّل تھے اور جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کی مخالفت رو در رو کی تھی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب یہ لوگ بھی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ قرآن کریم کی یہ دعوت تمام گرد و پیش ممالک پرچھا گئی ہے اور یہ خود بخود اس کے سامنے گردنیں جھکا چکے ہیں اس وقت یہ لوگ جان لیں گے کہ جو کچھ کل ان سے کہا گیا تھا وہ آج بالکل صحیح نکلا کیوں ؟ اس لیے کہ یہ وہ بلاشبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (We will show them Our signs in the universe and within their own beings - 53). The word "Afaq' used in the text literally means ` horizons' which includes all sides of the whole universe. (That is why it is translated above as ` universe' ) In other words, if one looks at the creatures and creations of the whole universe, big and small, in the skies, on the earth and in between them, they all bear witness not only to the existence of Allah Ta’ ala, but also to His Knowledge, His all-encompassing authority, and to His being One and…
Read the full tafseer →70 This verse has two meanings and both have been given by the major commentators: First, that they will soon see wit their own eyes that the message of the Qur'an has spread in all the adjoining lands, and they themselves have yielded to it. Then they will realize that what they arc being told today, which they are denying, was absolutely true. Some people have objected to this meaning, saying that a message's being dominant and overwhelming vast areas is no argument to prove that it is the truth. False messages also become dominant and their adherents also go on subduing one country after…
Read the full tafseer →