Explained with ayahs 52–54
قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہوگا ؟ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہوگا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 69
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محض اس خطرے کی بنا پر ایمان لے آؤ کہ اگر کہیں یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا تو انکار کر کے ہماری شامت نہ آجائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سرسری طور پر بےسوچے سمجھے تم انکار کر رہے ہو، اور بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہو، اور خواہ مخواہ کی ضد میں آ کر مخالفت پر تل گئے ہو، یہ کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ تم یہ دعویٰ تو نہیں کرسکتے کہ تمہیں اس قرآن کے خدا کی طرف سے نہ ہونے کا علم ہوگیا ہے اور تم یقین کے ساتھ یہ جان چکے ہو کہ خدا نے اسے نہیں بھیجا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے کلام الہٰی ماننے سے تمہارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
معارف و مسائل
فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ۔ مقصود یہ ہے کہ کافر انسان کی خصلت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو کوئی نعمت دولت وعزت و عافیت دیتے ہیں تو ان میں مگن اور مست ہو کر منعم حقیقی اللہ تعالیٰ سے اور بھی زیادہ دور ہوجاتا ہے اور اس کا تکبر اور غفلت بڑھ جاتی ہے اور جب کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ لمبی دعا کو اس جگہ عریض یعنی چوڑی سے تعبیر فرمایا جس میں زیادہ مبالغہ ہے۔ کیونکہ جس چیز کا عرض بڑا ہو اس کا طول اس سے زیادہ بڑا ہونا خود بخود معلوم ہے۔ اسی لئے جنت کی وسعت بیان فرمانے میں بھی حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت) عرضھا السموٰت والارض۔ یعنی جنت اتنی وسیع…
Read the full tafseer →قل ارویتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید (52)
مکذبین قرآن سے ایک سوال
یہ ان مکذبین سے علی سبیل التنزیل ایک سوال فرمایا کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو قرآن کا انکار کر رہے ہو تو اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا تب کہاں جائو گے ! اس صورت میں ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو ایسی دور رس مخاصمت میں مبتلا ہو کر پانی ہلاکت کی اس منزل کو پہنچ جائیں جہاں سے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہ جائے !
قرآن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت
یہ قرآن پر پوری سنجیدگی اور پوری اہمیت کے ساتھ غور کر کے اس کے باب میں کوئی فیصلہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس دعوت کی بنیاد یہ ہے کہ قرآن اپنی…
Read the full tafseer →52۔ 1 یعنی ایسی حالت میں تم سے زیادہ گمراہ اور تم سے زیادہ دشمن کون ہوگا۔
52۔ 2 شقاق کے معنی ہیں ضد، عناد اور مخالفت بعید مل کر اس میں اور مبالغہ ہوجاتا ہے۔ یعنی جو بہت زیادہ مخالف اور عناد سے کام لیتا ہے، حتی کہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کی بھی تکذیب کردیتا ہے، اس سے بڑھ کر گمراہ اور بدبخت کون ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔
19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →قرآن ان کے سامنے ایک احتمال پیش کرتا ہے کہ اس قدر احتیاط تو کرو ، لیکن انہوں نے کوئی احتیاط بھی نہ کی۔
Read the full tafseer →1 اوپر انسان کی طبیعت کا عجیب و غریب نقشہ کھینچ کر اس کی کمزوریوں اور بیماریوں پر نہایت موثر انداز میں توجہ دلائی تھی۔ اب تنبیہ کرتے ہیں کہ یہ کتاب جو تمہاری کمزوریوں پر گاہ کرنے والی اور انجام کی طرف توجہ دلانے والی ہے، اگر خدا کے پاس سے آئی ہو (جیسا کہ واقع میں ہے) پھر تم نے اس کو نہ مانا، اور ایسی اعلیٰ اور بیش قیمت نصائح سے منکر رہ کر اپنی عاقبت کی فکر نہ کی، بلکہ حق کی مخالفت میں دور ہوتے چلے گئے تو کیا اس سے بڑھ کر گمراہی اور نقصان و خسارہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 52{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہٖ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے : کیا تم نے غور کیا کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ ہی کی طرف سے ہو ‘ پھر تم نے اس کا کفر کیا“
بیشک تم لوگ قرآن کو اللہ کا کلام ماننے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ لیکن تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لو کہ اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے منکر ہو رہے ہو تو :
{ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ } ”تو کون ہوگا اس سے بڑھ کر بھٹکا ہوا جو دور کی مخالفت میں پڑا ہو !“
یہ بالکل وہی اسلوب ہے جو اس سے پہلے سورة سبا کی اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے : { قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍج…
Read the full tafseer →70 آخرت کے منکر کیسے خسارہ میں رہتے ہیں ؟:۔ اس قرآن میں جو بعث بعدالموت اور اللہ کے حضور پیشی کا عقیدہ پیش کیا گیا ہے وہ ایک ٹھوس حقیقت ہو تو بتاؤ تمہارا کیا حال ہوگا ؟ فرض کرو کہ تمہارے زعم کے مطابق سب انسان مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور یہی انسان کا انجام ہو تو جو شخص روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کا کیا بگڑے گا ؟ اور اگر قرآن کی بات سچی ہوئی اور تمہیں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہونا پڑا تو بتاؤ تمہاری گمراہی کا کوئی ٹھکانا ہے جس کے نتیجہ میں لازماً تمہیں جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا ؟
Read the full tafseer →54۔ مطلب یہ ہوا ہے کہ قرآن کے کلام الہی ہونے کی اتنی اندرونی اور بیرونی شہادتوں کے ہوتے ہوئے کم از کم درجہ احتمال میں تو اسے خدائی کلام سمجھو اور پھر اس احتمال ہی کی بنیاد پر سوچو کہ اگر قرآن کا برحق ہونا ہی نکل آیا تو تم ضلالت کے کس درجہ اشد میں اپنے کو پاؤ گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
آیت نمبر 45 تا 53
ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…
Read the full tafseer →قل ارئیتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید آپ کہئے :
یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہی آیا ہو ‘ پھر تم کرو اس کا انکار ‘ تو اس سے زیادہ غلطی میں کون ہوگا جو (حق سے) دور دراز مخالفت میں پڑا ہو ؟
اس کلام کا ربط آیت قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَآءٌ سے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ اگر قرآن اللہ کی طرف سے ہو تو یقیناً حق ہوگا اور اس سے انکار حق سے دور دراز مخالفت ہوگا اور تم اس کے منکر ہو ‘ لہٰذا تم سے زیادہ اور کوئی گمراہ (اضلّ ) نہیں ہے۔
Read the full tafseer →آپ ان سے فرمایئے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا اور پھر تم اس کے اللہ کی جانب سے ہونے کا انکار کرو تو تمہارا پروردگار تمہیں کیا سزا دے گا تو ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو حق و ہدایت سے بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہوا ہے یا یہ کہ رسول اکرم کے ساتھ بہت ہی دشمنی کرتا ہے یعنی ابو جہل۔
Read the full tafseer →قل ارء یتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ …: یہ پوری سورت قرآن کریم، توحید و رسالت اور قیامت کے حق ہونے کے دلائل سے بھری ہوئی ہے، جنہیں کفار نہ صرف یہ کہ مانتے نہیں تھے بلکہ سننے پر بھی تیار نہیں تھے۔ جیسا کہ آیت (5) میں گزرا :(وقالوا قلوبنا فی اکنۃ)”اور انہوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں۔“ اور آیت (26) میں ہے :(وقال الذین کفروا لاتسمعوا لھذا القرآن)”اور انا لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو۔“ تو سورت کے آخر میں بنی ﷺ کو حکم ہوا کہ ان سے کہیں کہ تم جو قرآن کو سننے تک کے لئے تیار نہیں اسے باطل یا جھوٹ کیسے کہہ سکتے ہو ؟ کیونکہ اسے غلط تو تب کہہ سکتے ہو کہ اسے سنو، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
واذ انعمنا علی الانسان انسان سے مراد کافر ہے اعرض ونا بجانبہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ خلف ہیں جنہوں نے اسلام سے اعراض کیا اور اس سے دور ہوئے نابجانبہ کا معنی ہے حق کی اطاعت کرنے سے اپنے آپ کو بلند جانا اور اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر تکبر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نا کا معنی دور ہونا ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : نا یتہ و نایت عنہ نآ یا۔ میں اس سے دور ہوا اء نا یتہ فانتای میں نے اسے دور کیا تو وہ دور ہوگیا۔ تناء وا۔ وہ دور ہوگئے منتاء ی۔ دور جگہ۔ نابغہ نے کہا :
فانک للیل الذی ھو مدر کی وان خلت ان المنتاءی عنک واسع
تورات کی طرح ہے جو مجھے پانے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ [ آپ کہئے کیا تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ كَانَ [ اگر وہ (قرآن ) ہو ] مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ] ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ [ پھر تم نے انکار کیا اس کا ] مَنْ اَضَلُّ [ تو کون زیادہ گمراہ ہے ] مِمَّنْ هُوَ [اس سے جو کہ وہی ] فِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ [ دور والی گمراہی میں ہے ]
Read the full tafseer →منکرین کو قرآن حکیم کے بارے میں غوروفکر کی دعوت، اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے
سورة حم سجدہ ختم ہورہی ہے شروع سورت میں قرآن مجید کی تنزیل اور تفصیل بیان فرمائی اور درمیان میں بھی قرآن مجید کی توصیف فرمائی اب آخر میں ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے مخاطبین سے فرما دیجیے کہ تم عقلمندوں کے طریقے پر سوچ لو اور اپنے نفع و نقصان کو سمجھ لو یہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے میرا یہ دعوی ہے اور دلیل سے ثابت ہوچکا تم اس کے منکر ہو اب تم غور کرلو اور سوچ کر بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوا (یعنی آخرت میں اس کا من عنداللہ ہونا ثابت ہوگیا اور تم اس کا انکار کر بیٹھے تو یہ مخالفت تم پر کس قدر بھاری پڑے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت…
Read the full tafseer →51:۔ ” قل ارایتم۔ الایۃ “ یہ آیت چاروں شکو وں سے متعلق ہے اور جواب محذوف ہے۔ ای افلا یضرکم ذالک۔ یعنی یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے ہو لیکن تم اس کا انکار کرو، نہ خود اسے سنو، نہ اوروں کو سننے دو ، اور اگر کبھی سن ہی لو، تو اس سے متاثر ہونے اور اسے ماننے کے بجائے ازراہ عناد اس پر طعن ہی کرتے رہو اور اس میں شبہات نکالتے رہو اور معبودانِ باطلہ کی دعا اور پکار کو ترک نہ کرو، تو کیا یہ چیز تمہارے حق میں مضر نہ ہوگی ؟ اس لیے تمہیں چاہئے کہ اعراض نہ کرو۔ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور شور نہ کرو اور طعن کرنے سے باز رہو اور غیر اللہ کی پکار چھوڑ دو اور دلائل وبراہین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ربط آیات
پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللہِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِہٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَفِيْ شِقَاقٍؚبَعِيْدٍ 52
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
تفسیر : واذا انعمنا اور جب ہم انسان پر عنایت کرتے ہیں تو سرکشی کرتا ہے۔ (والجانب مجاز عن النفس و نائی بمعنی بعد یقال نائت و تنایت ای بعدت وتباعدت والمتنائی الموضع البعید) اور جب اس پر بلا آتی ہے تو بڑی دعا کرتا ہے۔ (العرض والطول یستعمل فی الکثرۃ مجازا فی کلام العرب) یہ انسان کی جبلی بات ہے، غرض یہ کہ یہ تمام سرکشی خدا تعالیٰ کی عطاء کی ہوئی نعمت کی بدہضمی سے ہے۔
اس کے بعد پھر کفار کے شبہات دفعہ کرتا ہے۔ فقال ارایتم ان کان من عنداللہ الخ ان سے کہہ دے تم جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہو اچھا یہ بھی تو خیال کرلو (کیونکہ تمہارے انکار پر کوئی حجت قوی نہیں ہے صرف توہمات ہیں) کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ ھُوَفِیْ شِقَاقٍ م بَعِیْدٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 52)
(اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے تم نے کبھی غور کیا کہ اگر واقعی یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا تو اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو۔ )
منکرینِ قرآن سے ایک سوال
پروردگار نے اس آیت کے آغاز میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ سے فرمایا ہے کہ آپ ان لوگوں کو اپنے رویئے پر غور و فکر کی دعوت دیں، کیونکہ بات صرف اتنی سادہ نہیں کہ آپ کی دعوت کو قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی دعوت کے قبول…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے منکر دنیا کے فائدے کی خاطر قرآن مجید کی مخالفت کرتے ہیں۔
اس سے پہلے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم انسان پر جب انعام کرتے ہیں تو وہ شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری اور اعراض کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سب سے بڑا انعام قرآن مجید کا نزول ہے جس میں انسان کی راہنمائی کا انتظام کیا گیا ہے اکثر انسان اس پر ایمان لانے کی بجائے کفر اختیار کرتے ہیں جو شخص قرآن کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا کوئی گمراہ نہیں ہوسکتا۔
اے رسول ﷺ ! ان لوگوں سے استفسار فرمائیں کہ جس قرآن اور اس کی تعلیمات کا انکار کرتے ہو۔ اگر واقعی ہی یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے اور تم نے اسے نہ…
Read the full tafseer →52: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (کہہ دیں کہ مجھے بتلائو) خبردو اِنْ کاَنَ (کہ اگر وہ) یعنی قرآن مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہٖ (اللہ کی طرف سے پھر تم انکار کرو) مَنْ اَضَلُّ (تو ایسے شخص سے بڑھ کر کون غلطی پر ہوگا۔ یعنی تم سے بڑھ کر) البتہ قول مِمَّنْ ھُوَ فِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ اس کی جگہ لایا گیا تاکہ ان کے حال کو واضح کردیا جائے اور ان کی حالت ظاہر ہوجائے۔
Read the full tafseer →51، واذا نعمنا علی الانسان اعرض ونابجانیہ الشرفذوادعاء عریض، زیادہ۔ اور عرب طول اور عرض کو کثرت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ جیسے کہاجاتا ہے اطال فلان الکلام والدعاواعرض ، یعنی اس نے زیادہ کلام کی اور زیادہ دعا کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
52۔ 53۔ اوپر جن قرآن کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں بھی ان ہی لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ یہ بات ان لوگوں کو پہلے سمجھا دی گئی تھی کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اتار گیا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ باتیں بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے زبان پر نہیں لاسکتا ان آیتوں میں پہلی فہمائش کے سلسلہ میں مختصر طور پر یہ ارشاد ہے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر پہلے کی فہمائش کی موافق یہ قرآن اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر بہکا ہوا اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
آیت 52
(قل) قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے : (ارئیتم ان کان) ” مجھے بتایئے اگر یہ ہو ! “ یعنی یہ قرآن (من عند اللہ) بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید) ” پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت اور عناد میں کیونکہ حق تم پر واضح ہوچکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔ اگر تمہیں اس کی حقیقت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے
قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →98 منکرین کے دل و دماغ پر زوردار دستک : سو اس ارشاد سے قرآن حکیم کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کیلئے منکرین و مکذبین کے دل و دماغ پر ایک زوردار دستک دی گئی ہے۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر گمراہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ایسا انسان سب سے بڑا ظالم اور بدبخت انسان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں قرآن حکیم کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کیلئے منکرین و مکذبین کے دل و دماغ کو ایک زوردار دستک دی گئی ہے کہ جو دعوت یہ کتاب حکیم تم لوگوں کو دے رہا ہے، اس کے بارے میں تم لوگ سوچو اور اس کے عواقب و نتائج پر صحیح طریقہ سے غور کرو کہ جو دعوت یہ قرآن اس دنیا کو دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
قرآن کریم کی حفاظت کے بعض دلائل
تشریح : قرآن پاک کے سچ ہونے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی پکی، سچی اور واضح نشانیاں اور ثبوت اللہ نے ان آیات میں بیان کئے ہیں۔ ایسے ثبوت، ایسی نشانیاں کہ جن کو آنحضرت ﷺ نے بھی حق جانا اور موجودہ زمانے کے حکماء، علماء، محدثین اور جدید سائنس کے ماہرین ان تمام پیش گوئیوں کو واضح الفاظ میں بیان کر رہے ہیں جو 14 سو سال پہلے قرآن پاک میں بتائی گئی تھیں۔ مثلاً ۔ اعضاء انسانی کا گواہی دینا اور زمین کا گواہی دینا سورة یٰسین میں گزر چکا اور آنحضرت ﷺ نے اس کی یوں وضاحت کی کہ ” زمین ہمارے اعمال پر شاہد ہے “۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) اور پھر آیت 53 میں آیا ہے کہ (ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
آیات 47 تا 54۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔
مادہ کے حمل کی خبر۔
اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے…
Read the full tafseer →ف 11 لمبی چوڑی دعا سے مراد ایسی دعا ہے۔ جس کے الفاظ زیادہ ہوں مگر مضمون کم ہو۔ (ابن کثیر)
12 ۔ یا ” جو ( اس قرآن کی) انتہائی مخالفت میں پڑاہو۔ لفظ شقاق کے معنی ضد بھی آتے ہیں اور مخالفت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(41:52) قل : ای قل لہم یا محمد ﷺ ۔ ارایتم کیا تم نے دیکھا عربی محاورہ میں اس کو بمعنی اخبرونی (بھلا مجھے بتاؤ تو سہی) استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کان من عند اللہ ای کان القران من عند اللّٰہ۔ اگر یہ قرآن منزل من اللہ ہو۔
ثم کفرتم بہ میں ثم تراخی فی الرتبی ہے اور اس کی اس عظمت و مرتبت کے باوجود ترم اس سے انکار کرو۔
اضل۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت نہکا ہوا۔ بہت بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ ضلال (باب ضرب و سمع) مصدر۔
شقاق بعید۔ موصوف و صفت۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ اپنے دوست کی شق چھوڑ کر دوسری شق میں ہوجانا۔ اور شق طرف کو کہتے ہیں۔ چناچہ شاعر کہتا ہے ؎
اذا ما بکی من خلفھا انحرفت لہ یشق وشق عندنا لم یحول
(جب بچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
منکرین کا ذکر۔
(ف 1) اے محبوب ان کافروں سے کہہ دو کہ تم جو یوں بےدھڑک قرآن کا انکار کرتے ہو اتنا خیال نہیں کرتے اور یہ نہیں بتلاتے کہ اگر یہ قرآن خدا کے پاس سے ہو اور پھر تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر گمراہ اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی وہ نشانیاں اور ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاوے گا، جس سے یہ لوگ اچھی طرح جان لیویں گے کہ جو باتیں ان لوگوں کو سمجھائی جاتی تھیں وہ بالکل آنکھوں کے سامنے آگئیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد پچھلی امتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[24] یعنی قیامت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ یہ منکرین کے اس سوال کے جواب میں ہے کہ قیامت کب آئے گی۔[25] یعنی ہم میں کوئی اقبالی مجرم نہیں جو اس جرم (یعنی شرک) کا اعتراف کرنے کو تیار ہو۔ گویا اس وقت نہایت دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کر واقعے کا انکار کرنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة المومن کی آیات 74, 73 صفحہ 1132 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: منکرین سے کہا ہے ۔ کہ جب بھی قرآن تمہارے سامنے پیش کیا ہے ۔ تم نے انکار کیا اور اس کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر یہ کتاب عزیز واقعی اللہ کی طرف سے ہو ۔ اور تم بدستور سرکشی اور تمرد پر قائم رہو ۔ تو پھر تمہاری پوزیشن کیا ہوگی ؟ تم اللہ کو کیا جواب دوگے ؟ یعنی دو ہی باتیں ہیں ۔ یا تو یہ کلام اللہ کا کلام نہیں ہے ۔ اور محض حضور ﷺ کا افتراء ہے ۔ اس صورت میں بھی اس کو تسلیم کرلینا اس لحاظ سے مفید ہے کہ اس میں جو تعلیمات ہیں ۔ وہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ہیں ۔ اور یا یہ یقینی اور حتمی طور پر خدا کا کلام ہے ۔ بتاؤ اگر صورت حال یہ ہے ۔ تو پھر تمارے پاس اس محرومی اور…
Read the full tafseer →(52) اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا یہ تو بتائو اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہو اور پھر تم اس کا انکار کرو تو اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایک ایسی مخالفت میں مبتلا ہو جو مخالفت طریقہ حق سے بہت دور ہو۔ کافروں کی طبعی کمزوریوں کے بعد تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہو جیسا کہ واقع میں ہے بھی پھر تم اس کا انکار کرو جیسا کہ اس کی مخالفت کررہے اور نہیں مانتے تو تم ہی بتائو کہ کون تم سے زیادہ گمراہ ہوگا جو ایک صحیح چیز کی مخالفت میں طریقہ حق سے اس قدر دور ہوجائے اور ایسی مخالفت میں پھنس جائے ایسے موقعہ پر تو نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 5۔ کہ اقطار عرب پیشنگوئی کے مطابق فتح ہوجاویں گے۔
6۔ یعنی یہ بدر میں مارے جاویں گے اور ان کا مسکن مکہ بھی فتح ہوجاوے گا۔
7۔ اور اس نے جا بجا آپ کی رسالت کی شہادت دی ہے، قولا بھی اور عملا بھی اظہار معجزات سے پس وہ شہادت کافی ہے۔
Read the full tafseer →کتاب اللہ کے ساتھ کفر کر کے گمراہی کو خواہ مخواہ مول نہ لو
52 ؎ زیر نظر آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ واقعی یہ قرآن اللہ ربِّ کریم کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار ہی کرتے رہے تو اس شخص سے زیادہ بھٹکا ہوا کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو۔ “ اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ان کو کہا جا رہا ہے کہ محض اس خطرے کے باعث تم ایمان لے آؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم اس پر ایمان نہ لائے تو پھر کیا ہوگا ؟ یہ کسی شک و شبہ کی وجہ سے بیان نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث کہا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
Commentary
فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ (he is full of broad prayers - 51.) The nature of an infidel is being stated here that when Allah Almighty bestows upon him the good things: wealth, honor and peace, the infidel gets so involved in them and so intoxicated with them that he becomes even more distant from the true Benefactor, Allah Almighty, and his pride and heedlessness increase even more. But when he faces some distress, then he starts long and lengthy supplications to Allah Almighty. Here the Qur'an has used the word ` broad' to describe their lengthy supplications, because what is wider…
Read the full tafseer →69 It dces not mean that they should believe in it only owing to the danger that if it were really from Allah they would be inviting their own doom by denying it, but it means this "It is not wisdom that you should be bent upon opposing it stubbornly without seriously trying to understand what it says. You cannot assert that you have come to know that this Qur'an is not from God, and you have known with certainty that God has not sent it. Obviously, your refusal to believe in it as Divine Word is not based on knowledge, but on conjecture, which may possibly be right as well as wrong. Now…
Read the full tafseer →