Explained with ayahs 49–51
انسان کی سرکشی کا حال
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آپڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آجائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہوجاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھلائی اور راحت مل جائے تو کہنے بیٹھ جاتا ہے کہ اللہ پر یہ تو میرا حق تھا، میں اسی کے لائق تھا، اب اس نعمت پر پھولتا ہے، اللہ کو بھول جاتا ہے اور صاف منکر بن جاتا ہے۔ قیامت کے آنے کا صاف انکار کرجاتا ہے۔ مال و دولت راحت آرام اس کے کفر کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے (كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 67
یعنی ہماری اطاعت و بندگی سے منہ موڑتا ہے اور ہمارے آگے جھکنے کو اپنی توہین سمجھنے لگتا ہے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 68
اس مضمون کی متعدد آیات اس سے پہلے قرآن مجید میں گزر چکی ہیں۔ اس کو پوری طرح سمجھنے کے لیے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن جلد دوم، یونس، حاشیہ 15، ہود، حاشیہ 10، بنی اسرائیل، حاشیہ 102۔ جلد سوم، الروم، حواشی 52 تا 56، جلد چہارم، الزمر آیات 8۔ 9۔ 49۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
معارف و مسائل
فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ۔ مقصود یہ ہے کہ کافر انسان کی خصلت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو کوئی نعمت دولت وعزت و عافیت دیتے ہیں تو ان میں مگن اور مست ہو کر منعم حقیقی اللہ تعالیٰ سے اور بھی زیادہ دور ہوجاتا ہے اور اس کا تکبر اور غفلت بڑھ جاتی ہے اور جب کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ لمبی دعا کو اس جگہ عریض یعنی چوڑی سے تعبیر فرمایا جس میں زیادہ مبالغہ ہے۔ کیونکہ جس چیز کا عرض بڑا ہو اس کا طول اس سے زیادہ بڑا ہونا خود بخود معلوم ہے۔ اسی لئے جنت کی وسعت بیان فرمانے میں بھی حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت) عرضھا السموٰت والارض۔ یعنی جنت اتنی وسیع…
Read the full tafseer →واذا انعمنا علی الانسان اعرض ونا بجانبہ واذا مسہ الشرفذو دعآء عریض (51)
نابجانیہ سے وہی مضمون ادا کیا گیا ہے جو دوسرے مقامات میں تولی برکنہ یا مشانی عطفہ وغیرہ محاورات سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ غرور و استکبار سے اعراض کرنے اور منہ پھیرنے کی تعبیر ہے۔ جانب کے معنی پہلو کے ہیں آدمی جب کسی سے غرور کے ساتھ منہ موڑتا ہے تو مونڈھے جھٹک کر اپنا پہلو بدلتا اور وہاں سے چل دیتا ہے۔ اسی حالت کو یہاں نابجانبہ سے تعبیر فرمایا ہے۔
تنک ظرفوں کے کردار کا ایک خاص پہلو
اوپر کی آیات میں اس قبیل کے لوگوں کے کردار کا ایک پہلو پیش کیا گیا ہے۔ اب ان کے اسی کردار کا دوسرا پہلو دکھایا جا رہا ہے کہ اس سفلہ لوگوں (اشارہ…
Read the full tafseer →51۔ 1 یعنی حق سے منہ پھیر لیتا ہے اور حق کی اطاعت سے اپنا پہلو بدل لیتا ہے اور تکبر کا اظہار کرتا ہے۔
51۔ 2 یعنی بارگاہ الہی میں تضرع وزاری کرتا ہے تاکہ وہ مصیبت دور فرما دے۔ یعنی شدت میں اللہ کو یاد کرتا ہے، خوش حالی میں بھول جاتا ہے نزول نقمت کے وقت اللہ سے فریادیں کرتا ہے، حصول نعمت کے وقت اسے وہ یاد نہیں رہتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔
19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وما اظن الساعۃ قائمۃ (41 : 50) “ میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی ”۔ اب یہ اپنے آپ میں مست ہے۔ اللہ پر احسان جتلاتا ہے۔ اور یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں بھی میرا یہی مقام ہوگا حالانکہ اس کا کوئی مقام نہ ہوگا۔ یہ تو آخرت کا منکر اور کافر ہے۔ اس کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اگر اللہ کے ہاں چلا گیا تو وہاں بھی باعزت لوگوں میں شمار ہوگا۔
ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی (41 : 50) “ لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا ”۔ یہ ہے بےجا غرور ، اب نہایت ہی برمحل تنبیہہ آتی ہے۔
فلننبئن الذین ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (41 : 50) “ حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے…
Read the full tafseer →8 یعنی اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونے کے وقت تو منعم کی حق شناسی اور شکر گزاری سے اعراض کرتا اور بالکل بےپروا ہو کر ادھر سے کروٹ بدل لیتا ہے۔ پھر جب کوئی تکلیف اور مصیبت پیش آتی ہے تو اسی خدا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ شرم نہیں آتی کہ اب اسے کس منہ سے پکارے۔ اور تماشا یہ ہے کہ بعض اوقات اسباب پر نظر کر کے دل اندر سے مایوس ہوتا ہے۔ اس حالت میں بھی بدحواس اور پریشان ہو کر دعا کے ہاتھ بےاختیار خدا کی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ قلب میں ناامیدی بھی ہے اور زبان پر یا اللہ بھی، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ سب بیان ہے انسان کے نقصان (و قصور) کا نہ سختی میں صبر ہے نہ نرمی میں شکر۔ '
Read the full tafseer →آیت 51{ وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ } ”اور جب ہم انسان پر نعمتوں کی بارش کردیتے ہیں تو وہ رخ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بدل لیتا ہے۔“
{ وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآئٍ عَرِیْضٍ } ”اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔“
Read the full tafseer →69 خوشحالی میں اکثر انسانوں کا اللہ کو بھول جانا :۔ یعنی جب انسان پر خوشحالی اور آسودگی کا دور آتا ہے تو پھولا نہیں سماتا اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اس وقت دراصل وہ خود خدا بنا بیٹھا ہوتا ہے۔ اور اگر اسے اللہ کی آیات سنائی جائیں اور یہ بتایا جائے کہ یہ سب انعام اللہ ہی نے کیا لہذا تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اس کے حقوق ادا کرنے چاہیں اور اپنے برے انجام سے ڈرنا چاہئے تو اسے ایسی باتیں ناگوار اور تلخ محسوس ہوتی ہیں جنہیں وہ سننا بھی گوارا نہیں کرتا اور اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ لیکن جب پھر کسی بلا میں پھنس جاتا ہے تو اس وقت اسے اپنا وہ پروردگار یاد آنے لگتا ہے جس کی آیات سننے سے بھی بدکتا…
Read the full tafseer →53۔ یہ دعائیں زوال نعمت پر محض جزع وفزع کی راہ سے ہوتی ہیں نہ کہ منعم حقیقی کی طرف توجہ ورجوع کے طور پر ۔ (آیت) ” الانسان “۔ ذکر اسی کافر، ناشکرے انسان کا چل رہا ہے۔ یرید الکافر (قرطبی) (آیت) ” فذودعآء عریض “۔ (آیت) ” عریض “۔ کا لفظ کثیر کے معنی میں محاورۂ عرب میں عام ہے۔ العرب تستعمل الطول والعرض فی الکثرۃ (قرطبی) والعرب تستعمل الطول والعرض فی الکثرۃ یقال اطال فلان الکلام والدعاء واعرض اے اکثر (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
آیت نمبر 45 تا 53
ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…
Read the full tafseer →واذا نعمنا علی الانسان اعرض ونابجانبہ واذا مسہ الشر فذو دعاء عریض اور جب آدمی کو ہم نعمت عطا کرتے ہیں تو (ہم سے اور ہمارے احکام سے) منہ پھیر لیتا ہے اور کروٹ بدل لیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو خوب لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے۔
الْاِنْسَان یعنی کافر آدمی۔
اَعْرَضَ یعنی شکر کرنے سے رخ پھیر لیتا ہے۔
وَنَاٰبِجَانِبِہٖ اور اپنا پہلو موڑ لیتا ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ جانب سے بطور کنایہ نفس مراد ہے ‘ جیسے آیت جنب اللہ میں جنب سے مراد ذات ہے ‘ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ وہ اپنے نفس کو (ادائے شکر سے) دور لے جاتا ہے اور غفلت کی وجہ سے بالکل دور ہوجاتا ہے۔
عَرِیْضٍ لمبی چوڑی ‘ یعنی کثیر۔ عرب لمبے…
Read the full tafseer →اور جس وقت ہم کافر کو مال و دولت دیتے ہیں تو اس کے شکر سے منہ پھیرتا ہے اور ایمان سے دور بھاگ جاتا ہے اور جب فاقہ کی مصیبت میں گرفتار کردیتے ہیں تو خاص طور پر یہ عتبہ مال و اولاد کی زیادتی کی خوب لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔
Read the full tafseer →واذا انعمنا علی الانسان اعرض و نابجانبہ :”نای ینای نایاً“ (ف) دور ہونا۔ یہ فعل لازم ہے، ”بجانیہ“ پر آنے والی ”بائ“ کے ساتھ متعدی ہوگیا ، اس لئے ”نابجانبہ“ کا معنی ہے اپنا پہلو دور کرلیتا ہے۔ پچھلی آیت میں کافر انسان کا قول بیان ہوا ہے، اس آیت میں اس کا حال بیان ہوا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة یونس (12) ، ہود (10، 11) اور سورة زمر (49)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
واذ انعمنا علی الانسان انسان سے مراد کافر ہے اعرض ونا بجانبہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ خلف ہیں جنہوں نے اسلام سے اعراض کیا اور اس سے دور ہوئے نابجانبہ کا معنی ہے حق کی اطاعت کرنے سے اپنے آپ کو بلند جانا اور اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر تکبر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نا کا معنی دور ہونا ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : نا یتہ و نایت عنہ نآ یا۔ میں اس سے دور ہوا اء نا یتہ فانتای میں نے اسے دور کیا تو وہ دور ہوگیا۔ تناء وا۔ وہ دور ہوگئے منتاء ی۔ دور جگہ۔ نابغہ نے کہا :
فانک للیل الذی ھو مدر کی وان خلت ان المنتاءی عنک واسع
تورات کی طرح ہے جو مجھے پانے والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَنْعَمْنَا [ اور جب ہم انعام کرتے ہیں ] عَلَي الْاِنْسَانِ [ انسان پر ] اَعْرَضَ [ تو وہ بےرخی برتتا ہے ] وَنَاٰ [ اور موڑ لیتا ہے ] بِجَانِبِهٖ ۚ [ اپنے پہلو کو ] وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ [ اور جب کبھی چھوتی ہے اس کو برائی ] فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ [ تو (وہ لمبی ) چوڑی دعا والا ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد انسان کے مزاج کی ایک حالت بتائی اور وہ یہ کہ جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں یعنی جب اسے نعمتیں دیتے ہیں تو تکبر کے انداز میں ایک طرف کو دور چلا جاتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار نہیں ہوتا یہ مال اور نعمتیں جو موجب شکر تھیں ان کو تکبر کا ذریعہ بنا لیتا ہے نعمتوں کے زمانے میں اس کا یہ حال ہوتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچ جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں (1) کرنے لگتا ہے انسانوں کا جو حال ان آیات میں بیان فرمایا ہے عموما مشاہدہ میں آتا رہتا ہے۔
(1) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ دعا کی جو صفت بیان کی گئی ہے اس سے لازم آتا ہے کہ دعا لمبی بھی ہو کیونکہ دعا طویل جب ہی ہوتی ہے جبکہ وہ چوڑائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت…
Read the full tafseer →50:۔ ” واذا انعمنا “ یہ انسان کافر کا حال ہے۔ جب ہم اس کو دنیا میں انعام و راحت سے نوازتے ہیں تو شکر کرنے کے بجائے وہ حق سے اعراض کرتا اور تکبر و غرور سے اتراتا ہے۔ لیکن اس حال پر بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ انعام و راحت کے بعد اگر اس پر کوئی مصیبت آجائے تو اس کی ساری شیخی دھری کی دھری رہ جاتی ہے، اور گڑ گڑا کر خدا سے دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” واذا مسکم الضر فی البحر ضل من تدعون الا ایاہ “ (بنی اسرائیل رکوع 7) ۔ فاذا رکبوا فی الفلک دعو وا اللہ مخلصین لہ الدین (عنکبوت رکوع 7) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ربط آیات
پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو…
Read the full tafseer →وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ 0 ۚ وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ 51
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
تفسیر : واذا انعمنا اور جب ہم انسان پر عنایت کرتے ہیں تو سرکشی کرتا ہے۔ (والجانب مجاز عن النفس و نائی بمعنی بعد یقال نائت و تنایت ای بعدت وتباعدت والمتنائی الموضع البعید) اور جب اس پر بلا آتی ہے تو بڑی دعا کرتا ہے۔ (العرض والطول یستعمل فی الکثرۃ مجازا فی کلام العرب) یہ انسان کی جبلی بات ہے، غرض یہ کہ یہ تمام سرکشی خدا تعالیٰ کی عطاء کی ہوئی نعمت کی بدہضمی سے ہے۔
اس کے بعد پھر کفار کے شبہات دفعہ کرتا ہے۔ فقال ارایتم ان کان من عنداللہ الخ ان سے کہہ دے تم جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہو اچھا یہ بھی تو خیال کرلو (کیونکہ تمہارے انکار پر کوئی حجت قوی نہیں ہے صرف توہمات ہیں) کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →وَاِذَٓا اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَـاٰ بِجَانِبِہٖ ج وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّفَذُوْدُعَـآئٍ عَرِیْضٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 51)
(جب ہم انسان کو نعمتوں سے نوازتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور پہلو بچا کے نکل جاتا ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے والا بن جاتا ہے۔ )
انسان کی غیرمتوازن شخصیت کا ایک انداز
انسان کی غیرمتوازن شخصیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب ہم اسے نعمتوں سے نوازتے اور اپنے فضل و کرم سے گراں بار کردیتے ہیں تو بجائے شکرگزار ہونے کے اسے دولت کا خمار آپکڑتا ہے اور غرور و استکبار اس کی شخصیت کا لازمہ بن جاتا ہے۔ اب وہ اللہ تعالیٰ کے شکر سے اعراض کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک کے شرک کی بنیادی وجہ مفاد پرستی اور جلد بازی کرنا ہے۔
مشرک کی طبیعت میں مفاد پرستی اور جلد بازی کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ مشرک دنیا کے بارے میں بڑا حریص ہوتا ہے۔ مشرک اور دنیا پرست انسان معمولی آزمائش اور نقصان برداشت نہیں کرسکتا۔ ہمیشہ دنیا کے لیے ہی دعائیں کرتارہتا ہے۔ (البقرۃ : 200)
مشرک کو تکلیف پہنچے اور اس کی دعا جلد قبول نہ ہو تو یہ اپنے رب سے ہی مایوس ہوجاتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں اسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نواز دے تو سمجھتا ہے کہ یہ میری کوشش کا نتیجہ ہے۔ بسا اوقات اپنی زبان سے بھی کہتا ہے کہ میری تکلیف اس لیے رفع ہوئی کہ میں نے اس کے لیے بہتر منصوبہ…
Read the full tafseer →سرکشی کی دوسری قسم :
51: وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ (اور جب ہم آدمی کو نعمت عطاء کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے) یہ انسان کی سرکشی کی دوسری قسم ہے۔ کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو نعمت عنایت فرماتے ہیں تو وہ نعمت اس کو مغرور کردیتی ہے۔ وہ منعم کو بھول جاتا ہے اور اس کے شکریہ سے اعراض کرلیتا ہے۔ وَنَاٰبِجَانِبِہٖ (اور کروٹ پھیر لیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے دوری اختیار کرتا اور اس کے پکارنے سے پہلو تہی کرتا ہے یا وہ اپنے آپ سے نکل کر تکبر کرنے لگتا ہے۔ اور بڑا بنتا ہے۔ حقیقت اس کی یہ ہے کہ اس کے پہلو کو اس انسان کی جگہ رکھا گیا ہے کیونکہ آدمی کا مکان اور اس کی جہت اس کے قائم…
Read the full tafseer →50، ولئن اذقناہ رحمۃ منا، ہم اس کو دیں خیر اور عافیت اور غنا۔ ، من بعد ضرآء مستہ، اس سختی اور مصیبت کے بعد جو اس کو پہنچی تھی۔ ، لیقولن ھذالی، یعنی میرے عمل کی وجہ سے اور میں اس کا محبوب ہوں ۔ ومااظن الساعۃ قائمۃ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی، یہ کافر کہے گا مجھے بعث کا کوئی یقین تھا۔ پس جب معاملہ ایسا ہے اور میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میرے لیے حسنی یعنی جنت ہوگی۔ یعنی جیسے اس نے مجھے دنیا میں دیا، عنقریب وہ مجھے آخرت میں بھی دے گا۔
، فلننبئن الذین کفروابما عملوا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ان کو ان کے برے اعمال واقف کریں گے۔ ، ولنذیقنھم من عذاب غلیظ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
49۔ 51۔ منکر حشر لوگوں کی مذمت کے طور پر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حرص اور بےصبری کی مذمت فرمائی ہے قابل مذمت بےصبری شریعت میں دو طرح کی ہے ایک تو سختی اور مصیبت کے وقت بےصبر ہوجانا اور خدا کی درگاہ سے مصیبت کے بعد راحت کی توقع نہ رکھنا دوسرے فراخ دستی کے وقت جو چیزیں شرع میں منع ہیں ان سے بچنے میں صبر نہ کرنا اور فراخ دستی کے نشہ میں بےصبری سے ان کو کر بیٹھنا اس واسطے حرص کی مذمت کے ساتھ دونوں طرح کی بےصبری کی مذمت ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے ان دونوں موقعوں پر صبر کرنے کے اجر میں اور بےصبری کی اور حرص کی مذمت میں بہت سی حدیثیں جن کو ان آیتوں کی تفسیر کہنا چاہئے چناچہ حرص کی مذمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
آیت 49 ۔ 51
اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کرسکتا ہے نہ شر پر، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا : (لایسئم الانسان من دعآء الخیر) یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے اپنی فوز و فلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لئے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے۔ وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ (وان مسہ الشر) ” اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔ “ یعنی بیماری، فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں (فیوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے
قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →97 مادہ پرست انسان کی تنگ ظرفی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے دولت ایمان سے محروم مادہ پرست انسان کے اعراض و استکبار کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو یہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم مادہ پرست انسان کی تنگ ظرفی اور اس کی نفسیات کے ایک اور مظہر کا ذکر وبیان ہے کہ جب اس کو دنیائے دوں کی کوئی نعمت ملتی ہے تو یہ اس پر اکڑ جاتا ہے اور مست ہوجاتا ہے۔ اور جب اسے کوئی تکلیف اور مصیبت آتی ہے تو یہ ٹائیں ٹائیں فش ہو کر لمبی چوڑی دعائیں مانگنے اور ہزار ہزار دانے کی تسبیح رولنے لگتا ہے۔ کل بھی اس کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے کہ اس کے نزدیک یہ دنیا اور اس کی نعمت و تکلیف ہی سب کچھ ہے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
انسان کی فطرت
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عام طور پر میرے بندے مجھے اس وقت یاد کرتے ہیں جب ان کو کوئی مصیبت یا پریشانی پہنچتی ہے۔ ورنہ خوشی اور راحت کے حالات میں بندہ مجھ سے غافل ہوجاتا ہے۔ اس حد تک غافل ہوجاتا ہے کہ تمام نعمتوں اور برکتوں کو اپنا ہی کمال سمجھنے لگتا ہے۔ سچے اور اچھے مسلمان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہر صورت میں اللہ کا شکر گزار رہتا ہے، تنگی پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوگی اور خوشی میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنا رہتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ تمام کرامات، احسانات اور مہربانیاں صرف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
آیات 47 تا 54۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔
مادہ کے حمل کی خبر۔
اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اینٹھ جاتا ہے اور حق کے سامنے سرنگوں ہونے کو اپنی کسر شان سمجھنے لگتا ہے۔
Read the full tafseer →(41:51) اعرض : ماضی واحد مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر اس نے منہ پھیرلیا۔ اس نے کنارہ کیا۔ العرض (کسی چیز کی چوڑائی) یہ الطول کا ضد ہے اصل میں اس کا استعمال اجسام کے لئے ہوتا ہے اس کے بعد غیر اجسام کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ مثلا اسی آیت میں آگے آتا ہے فذو دعاء عریض : تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ اور عرض خاص کر ایک جانب اور کنارہ کو کہتے ہیں جیسے عرض الشیء اس کی ایک جانت ظاہر ہوگئی۔ یہ لفظ متعدد المعانی ہے اور قرآن مجید میں بھی مختلف مقامات پر مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً
(1) بمعنی پیش کرنا۔ جیسے ثم عرضہم علی الملئکۃ (2:31) پھر اس نے ان کو فرشتوں کے سامنے رکھا۔
(2) بمعنی آڑ جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
منکرین کا ذکر۔
(ف 1) اے محبوب ان کافروں سے کہہ دو کہ تم جو یوں بےدھڑک قرآن کا انکار کرتے ہو اتنا خیال نہیں کرتے اور یہ نہیں بتلاتے کہ اگر یہ قرآن خدا کے پاس سے ہو اور پھر تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر گمراہ اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی وہ نشانیاں اور ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاوے گا، جس سے یہ لوگ اچھی طرح جان لیویں گے کہ جو باتیں ان لوگوں کو سمجھائی جاتی تھیں وہ بالکل آنکھوں کے سامنے آگئیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد پچھلی امتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[24] یعنی قیامت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ یہ منکرین کے اس سوال کے جواب میں ہے کہ قیامت کب آئے گی۔[25] یعنی ہم میں کوئی اقبالی مجرم نہیں جو اس جرم (یعنی شرک) کا اعتراف کرنے کو تیار ہو۔ گویا اس وقت نہایت دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کر واقعے کا انکار کرنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة المومن کی آیات 74, 73 صفحہ 1132 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
حل لغات :۔ حریض ۔ چوڑی لمبی پھیلاؤ زیادہ ہو ۔ شقاق ۔ مخالفت اور عناد کرنا ۔ الافاق ۔ افق کی جمع ہے یعنی کنارہ آسمان ۔ اطراف عالم ۔ مراد دنیا ۔
قرآن حکیم میں ایک بڑی خوبی یہ ہے ۔ کہ یہ ان تمام نفسیاتی کمزوریوں سے آگاہ ہے جو انسان میں پائی جاتی ہیں ۔ اور ایک ایک کرکے ان سب چیزوں کو بیان کرتا ہے ۔ تاکہ لغزش کے تمام مواقع اسے معلوم ہیں ۔ اور وہ کسی حالت میں بھی سچی راہنمائی سے محروم نہ رہے ۔ فرمایا : کہ یہ انسان اپنی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ دست بدعا رہتا ہے ۔ اور ترقی کی خواہس سے اس کا کبھی جی نہیں بھرتا ۔ پھر جب اس کی توقعات کے خلاف ہوتا ہے اور اگر تکلیف کے بعد پھر اللہ آسائش وتنعم کے سامان…
Read the full tafseer →(51) اور جب ہم انسان کو اپنے انعام سے نوازتے ہیں اور اپنی کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو مونہہ موڑتا اور اپنا پہلو پھیر لیتا ہے اور جب اسی انسان کو کوئی برائی اور سختی پہنچتی ہے تو ہاتھ پھیلا پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ منکر اور کافر کے افعال کا ذکر فرمایا۔ مال پر حرص حب دنیا میں انہماک عیش میں خدا کو بھول جانا اترانا اینٹہنا مصیبت میں جزع اور فزع وغیرہ نہ سختی میں صبر نہ نعمت میں شکر یہ منکرین کی جبلت ہے اور مسلمان کی طبیعت اور عادت ان تمام باتوں سے بالا تر ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ اور یہ غایت درجہ کا شر و بطر ہے۔
4۔ اور یہ غایت درجہ کی بےصبری اور حب دنیا میں انہماک ہے۔
Read the full tafseer →ایسے انسانوں کی فطرتِ ثانیہ ہی کچھ اس قسم کی ہوتی ہے کہ وہ بےتکی ہانکتے ہیں
51 ؎ ان لوگوں کی عادت ہی کچھ اس قسم کی ہوجاتی ہے کہ یہ گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ نظر آتے ہیں ان کا ذاتی فائدہ ایک آنہ کا ہو تو یہ قومی سو روپے کے نقصان کو کوئی نقصان نہیں سمجھتے اور اپنا ایک آنہ کا فائدہ نہیں چھوڑتے۔ ان کو ذرا نقصان پہنچ جائے تو چیخنے لگتے ہیں اور غرض پوری ہو تو پھولے نہیں سماتے تکبر اور غرور سے ہر وقت بھرے رہتے ہیں اِلاّ یہ کہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو پھر گردن جھکا دیتے ہیں۔ ان کی صحیح تصویر دیکھنا ہو تو کسی دیوانی عدالت میں چلے جائیے جہاں ان کے ساتھی کسی زمین کے مقدمہ میں پیشی بھگت رہے ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
Commentary
فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ (he is full of broad prayers - 51.) The nature of an infidel is being stated here that when Allah Almighty bestows upon him the good things: wealth, honor and peace, the infidel gets so involved in them and so intoxicated with them that he becomes even more distant from the true Benefactor, Allah Almighty, and his pride and heedlessness increase even more. But when he faces some distress, then he starts long and lengthy supplications to Allah Almighty. Here the Qur'an has used the word ` broad' to describe their lengthy supplications, because what is wider…
Read the full tafseer →67 That is, "He turns away from Our obedience and worship, and thinks it is below his dignity to bow to Us. "
68 For other verses on this subject, see Yunus: 12, Bani Isra'il: 83, ArRum: 33-36, Az.Zumar: 8-9, 49 and the E.N.'s.
Read the full tafseer →