Explained with ayahs 49–51
انسان کی سرکشی کا حال
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مال صحت وغیرہ بھلائیوں کی دعاؤں سے تو انسان تھکتا ہی نہیں اور اگر اس پر کوئی بلا آپڑے یا فقر و فاقہ کا موقعہ آجائے تو اس قدر ہراساں اور مایوس ہوجاتا ہے کہ گویا اب کسی بھلائی کا منہ نہیں دیکھے گا، اور اگر کسی برائی یا سختی کے بعد اسے کوئی بھلائی اور راحت مل جائے تو کہنے بیٹھ جاتا ہے کہ اللہ پر یہ تو میرا حق تھا، میں اسی کے لائق تھا، اب اس نعمت پر پھولتا ہے، اللہ کو بھول جاتا ہے اور صاف منکر بن جاتا ہے۔ قیامت کے آنے کا صاف انکار کرجاتا ہے۔ مال و دولت راحت آرام اس کے کفر کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے (كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 66
یعنی یہ سب کچھ مجھے اپنی اہلیت کی بنا پر ملا ہے اور میرا حق یہی ہے کہ میں یہ کچھ پاؤں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
خلاصہ تفسیر
(اوپر جس قیامت کا ذکر ہے کہ اس میں ان کو جزا ملے گی اس) قیامت کے علم کا حوالہ خدا ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے (یعنی اس سوال کے جواب میں کہ قیامت کب آوے گی جیسا کہ کفار بغرض انکار ایسا کہا کرتے تھے یہی کہا جاوے گا کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ مخلوق کو اس کا علم نہ ہونے سے اس کا عدم وقوع لازم نہیں آتا) اور (قیامت ہی کی کیا تخصیص ہے۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے حتیٰ کہ) کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے (اور اس اطلاع کی وجہ اس کی صفت علم کا ذاتی ہونا ہے جو بوجہ اعلیٰ درجہ کے کمال ہونے کے دلیل توحید بھی…
Read the full tafseer →ولئن اذقنہ رحمۃ منا من بعد ضوآء مستہ لیقون ھذا الی وما اظن الساعۃ قآئمۃ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی ج فلننبئن الذین کفروا بما عملوا ولنذیقنھم من عذاب غلیظ (50)
ایک اور کمزوری
یعنی جس مصیبت سے چھوٹنے کے لئے لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے اگر وہ دور نہیں ہوتی تب تو جیسا کہ اوپر والی آیت میں ہے، خدا سے مایوس ہوجاتا ہے اور اگر اس کی مصیبت دور کر کے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے نوازتا ہے تو اس کا شکر گزار ہونے کے بجائے، اس گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ یہ تو میرا حق ہی تھا۔ میں اسی عزت و شرف کے ساتھ پیدا ہوا ہوں اور اسی کے اندر جیوں گا، مجھے نہ اس سے کوئی محروم کرسکتا اور نہ اس کے لئے مجھے کسی…
Read the full tafseer →50۔ 1 یعنی اللہ کے ہاں میں محبوب ہوں، وہ مجھ سے خوش ہے، اسی لئے مجھے وہ اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ حالانکہ دنیا کی کمی بیشی اس کی محبت یا نارضگی کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ صرف آزمائش کے لئے اللہ ایسا کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ نعمتوں میں اس کا شکر کون کر رہا ہے اور تکلیفوں میں صابر کون ہے ؟
50۔ 2 یہ کہنے والا منافق یا کافر ہے، کوئی مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ کافر ہی یہ سمجھتا ہے کہ میری دنیا خیر کے ساتھ گزر رہی ہے تو آخرت بھی میرے لئے ایسی ہی ہوگی۔
49۔ 3 یہ کہنے والا منافق یا کافر ہے، کوئی مومن ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ کافر ہی یہ سمجھتا ہے کہ میری دنیا خیر کے ساتھ گزر رہی ہے تو آخرت بھی میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔
19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
وما اظن الساعۃ قائمۃ (41 : 50) “ میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی ”۔ اب یہ اپنے آپ میں مست ہے۔ اللہ پر احسان جتلاتا ہے۔ اور یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں بھی میرا یہی مقام ہوگا حالانکہ اس کا کوئی مقام نہ ہوگا۔ یہ تو آخرت کا منکر اور کافر ہے۔ اس کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اگر اللہ کے ہاں چلا گیا تو وہاں بھی باعزت لوگوں میں شمار ہوگا۔
ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی (41 : 50) “ لیکن اگر واقعی میں اپنے رب کی پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا ”۔ یہ ہے بےجا غرور ، اب نہایت ہی برمحل تنبیہہ آتی ہے۔
فلننبئن الذین ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (41 : 50) “ حالانکہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
6 یعنی انسان کی طبیعت عجیب طرح کی ہے۔ جب دنیا کی ذرا سی بھلائی پہنچے اور کچھ عیش و آرام و تندرستی نصیب ہو، تو مارے حرص کے چاہتا ہے کہ اور زیادہ مزے اڑائے۔ کسی حد پر پہنچ کر اس کی حرص کا پیٹ نہیں بھرتا، اگر بس چلے تو ساری دنیا کی دولت لے کر اپنے گھر میں ڈال لے۔ لیکن جہاں ذرا کوئی افتاد پڑنا شروع ہوئی اور اسباب ظاہری کا سلسلہ اپنے خلاف دیکھا تو پھر مایوس اور ناامید ہوتے بھی دیر نہیں لگتی۔ اس وقت اس کا دل فوراً آس توڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی نظر صرف پیش آمدہ اسباب پر محدود ہوتی ہے۔ اس قادر مطلق مسبب الاسباب پر اعتماد نہیں رکھتا جو چاہے تو ایک آن میں سلسلہ اسباب کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دے۔ اس…
Read the full tafseer →آیت 50{ وَلَئِنْ اَذَقْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْم بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ } ”اور اگر اسے ہم اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیں اس کے بعد کہ اسے کوئی تکلیف پہنچی تھی“
{ لَیَقُوْلَنَّ ہٰذَا لِیْلا } ”تو وہ ضرور کہے گا کہ ہاں یہ تو میرا حق ہے“
سختی کا وقت گزر جانے کے بعد حالات بہتر ہوجانے پر وہ بڑے فخر سے دعوے کرے گا کہ میں نے اپنے ناخن تدبیر سے تمام عقدے حل کرلیے ہیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بالآخر میں نے اپنے تمام مسائل پر قابوپا لیا ہے۔
{ وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً } ”اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ قیامت وغیرہ کوئی قائم ہونے والی شے ہے۔“
{ وَّلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی…
Read the full tafseer →66 آسائش میں اپنی تدبیر پر ناز :۔ اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر ہم اس کی تنگی، فاقہ یا بیماری کو دور کردیں اور اس پر بھلے دن آجائیں تو پھر بھی اللہ کی طرف نہیں ہوتا، نہ اس ذات کا شکر ادا کرتا ہے جس نے اس کی تکلیف کو دور کردیا جس سے وہ قطعاً مایوس ہوچکا تھا۔ بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ بس اس کی حسن تدبیر اور محنت کا نتیجہ تھا اور اگر میرے دن پھرگئے ہیں تو میں فی الواقع اس بات کا مستحق تھا۔
67 مالدار اور دنیا دار لوگوں کا نظریہ کہ اگر اللہ آج مجھ پر خوش ہے تو قیامت کو کیوں نہ ہوگا :۔ ایسا شخص اگر اللہ کی ہستی کو مانتا بھی ہے تو اس کی معرفت انتہائی ناقص ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ بس میں…
Read the full tafseer →52۔ یعنی اول تو اسی کا قائل نہیں کہ کوئی روز جزا بھی آنا ہے اور اگر بالفرض آئے بھی تو میں جس طرح یہاں خوش اقبال ہوں، وہاں بھی خوش اقبالی ہی میری رفیق رہے گی ، (آیت) ” ھذا لی “۔ یعنی میری تدبیر و قابلیت مقتضی ہی اسی کی تھی۔ (آیت) ” لیقولن ھذا لی “۔ غرض یہ کہ خوشحالی میں بھی سرکش وباغی، خدا فراموش وآخرت فراموش انسان اپنے مالک ومولی کی طرف رجوع نہیں کرتا، بلکہ اپنی ہی ذات پر گھوم پھر کر رہتا ہے۔ (آیت) ” ان لی عندہ للحسنی “۔ ان۔ خود کلمہ تاکید ہے۔ پھر لی کی تقدیم نے اس تاکید کو مضاعف کردیا ہے۔ پھر (آیت) ” للحسنی “۔ میں ل الگ تاکید کا۔ اس دوہری تاکید کی رعایت سے ترجمہ میں ” ضرور ہی “ بڑھا دیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
آیت نمبر 45 تا 53
ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…
Read the full tafseer →ولئن اذقنہ رحمۃ منا من بعد ضرا مستہ لیقولن ھذا لی وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن
رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی اور جو تکلیف اس کو پہنچ جاتی ہے ‘ اس کے بعد اگر ہم اپنی مہربانی کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ کہتا ہے : یہ تو میرے لئے ہونا ہی چاہئے تھا اور میں قیامت کو آنے والا خیال نہیں کرتا اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کے پاس لوٹا کرلے جایا بھی گیا تو میرے لئے اس کے پاس بہتری ہی ہوں گی۔
رَحْمَۃً یعنی مال و عافیت۔
ھٰذَا لِیْ یعنی یہ تو میرا حق تھا ہی۔ میرے علمی اور عملی کمالات کا یہی تقاضا تھا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ یہ دولت و عافیت مجھے ہمیشہ حاصل رہے گی۔
اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی یعنی بالفرض اگر…
Read the full tafseer →اور اگر ہم اس کو کسی تکلیف کے بعد اپنی طرف سے مال و اولاد کی نعمت کا مزہ چکھائیں تو یہ کہتا ہے کہ یہ تو میرے لیے علم خداوندی میں مقرر ہی تھا۔
اور قیامت کے آنے کا خیال نہیں کرتا اور بعث کا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر بقول محمد مجھے اپنے رب کی طرف پہنچایا بھی گیا تو میرے لیے آخرت میں بھی جنت ہے، عتبہ بن ربیعہ اور اس کے ساتھی یہ بکواس کرتے ہیں تو ہم ان منکروں کو ان کے کفر کی حالت کے یہ سب کردار بتا دیں گے اور ان کو دوزخ میں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
Read the full tafseer →(1) ولئن اذقنہ رحمۃ منا …: یعنی ایک طرف وہ نا امیدی کہ شر کے چھو جانے ہی سے آخری حد تک ناامید ہوتا ہے، دوسری طرف یہ احسان فراموشی کہ مصیبت کے بعد کسی رحمت کا ذائقہ چکھتے ہی پھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہوجاتا ہے، حالانکہ نہ وہ شر اور مصیبت دائمی تھی نہ اس دنیوی نعمت کو دوام ہے۔ پھر یہ نعمت اس کی محنت کا نتیجہ نہیں کہ اس پر پھول جائے، بلکہ یہ محض ہماری عطا ہے۔ ”رحمتہ منا“ کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (9، 10) کی تفسیر۔
(2) لیقولن ھذا لی : یعنی کافر آدمی دنیوی نعمت کا ذائقہ چکھتے ہی تین کفریہ باتیں کہے گا، اس کے دل میں یہی باتیں ہوں گی اور زبان سے بھی یہی کہے گا۔ پہلی بات یہ کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت نمبر 49, 50, 51
لا یسئم الانسان من دعا الخیر بھلائی کی دعا کرنے سے نہیں اکتاتا۔ یہاں خیر سے مراد مال، صحت، غلبہ اور عزت ہے۔ سدی نے کہا : یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ولید بن مغیرہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :
عتبہ اور شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے اور ولید بن خلف۔ عبد اللہ کی قراءت میں لا ایسام الاء نسان من عاء المال ہے۔
وان مسہ الشر شر سے مراد فقر اور مرض، اگر اسے فقر اور مرض پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فیئوس دعا کی قبولیت کے حوالے سے اور قنوط اپنے رب کے بارے میں سوء ظن کے حوالے سے ذکر کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : فیئوس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ [ اور اگر ہم چکھا دیں اس کو ] رَحْمَةً [ کوئی رحمت ] مِّنَّا [ اپنے (پاس) سے ] مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ [ اس برائی کے بعد جس نے ] مَسَّـتْهُ [ چھوا اس کو ] لَيَقُوْلَنَّ [ تو وہ لازما کہے گا ] ھٰذَا لِيْ ۙ [ یہ میری (کاریگری) ہے ] وَمَآ اَظُنُّ [ اور میں نہیں خیال کرتا ] السَّاعَةَ [ اس گھڑی کو ] قَاۗىِٕمَةً ۙ [ قائم ہونے والی ] وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ [ اور اگر مجھ کو لوٹایا گیا ] اِلٰى رَبِّيْٓ [ میرے رب کی طرف ] اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ [ تو بیشک میرے لئے اس کے پاس ] لَــلْحُسْنٰى ۚ [ ضرور (اور ) زیادہ خوبی ہوگی ] فَلَنُنَبِّئَنَّ [ تو ہم لازما جتا دیں گے ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْا…
Read the full tafseer →پھر فرمایا کہ اگر ہم انسان کو اپنی رحمت چکھا دیں خیر اور عافیت اور مالداری سے نواز دیں اس کے بعد کہ اسے تکلیف پہنچ چکی تھی تو کہتا ہے کہ ہاں مجھے یہ چاہئے اور میں اس کا حق دار ہوں اللہ تعالیٰ کی جو نعمت ملی اسے اللہ کا فضل نہیں بلکہ اپنے ہنر کا نتیجہ سمجھتا ہے جیسا کہ قارون نے کہا تھا (انما اوتیتہ علی علم عندی) یہ تو مجھے میرے علم کی وجہ سے دیا گیا۔ حالت ٹھیک ہوتی ہے اور مال مل جاتا ہے تو انسان قیامت ہی کا منکر ہوجاتا ہے کہتا ہے کہ میرے خیال میں تو قیامت آنے والی نہیں ہے اور اگر بالفرض قیامت آہی گئی اور میں اپنے رب کی طرف لوٹا دیا گیا تو میں وہاں بھی عزت اور کرامت سے نوازا جاؤں گا جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت…
Read the full tafseer →49:۔ ” ولئن اذقنہ “ پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت واسعہ سے اس کو نعمت عطا فرما دیتا ہے اور اس کی تکلیف دور کردیتا ہے۔ تو وہ اللہ کا شکر کرنے کے بجائے کہتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے ملنی ہی چاہئے تھی، کیونکہ میں اس کا مستحق تھا۔ اور میں نے فلاں فلاں حیلہ اور تدبیر اختیار کی۔ اس لیے مجھے یہ نعمت میسر ہوئی۔ میں نے فلاں معبود کو پکارا۔ فلاں بزرگ کی نذر مانی۔ میں نے یہ حیلہ کیا۔ وہ حیلہ کیا وغیرہ وغیرہ۔ ای ھذا من عندی (قرطبی) ای استحقہ بعملی (خازن) جیسا کہ دوسری جگہ وارد ہے انما اوتیتہ علی علم عندی (القصص رکوع 8) ۔ تائید : ” ثم اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ماکان یدعوا الیہ من قبل وجعل للہ اندادا “ (الزمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ربط آیات
پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّـتْہُ لَيَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِيْ 0 ۙ وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَاۗىِٕمَۃً 0 ۙ وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَہٗ لَــلْحُسْنٰى 0 ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا 0 ۡوَلَــنُذِيْقَنَّہُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ 50
ذوق
الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له :
الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
تفسیر : واذا انعمنا اور جب ہم انسان پر عنایت کرتے ہیں تو سرکشی کرتا ہے۔ (والجانب مجاز عن النفس و نائی بمعنی بعد یقال نائت و تنایت ای بعدت وتباعدت والمتنائی الموضع البعید) اور جب اس پر بلا آتی ہے تو بڑی دعا کرتا ہے۔ (العرض والطول یستعمل فی الکثرۃ مجازا فی کلام العرب) یہ انسان کی جبلی بات ہے، غرض یہ کہ یہ تمام سرکشی خدا تعالیٰ کی عطاء کی ہوئی نعمت کی بدہضمی سے ہے۔
اس کے بعد پھر کفار کے شبہات دفعہ کرتا ہے۔ فقال ارایتم ان کان من عنداللہ الخ ان سے کہہ دے تم جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہو اچھا یہ بھی تو خیال کرلو (کیونکہ تمہارے انکار پر کوئی حجت قوی نہیں ہے صرف توہمات ہیں) کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →وَلَئِنْ اَذَقْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْ م بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْۃُ لَیَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِیْ لا وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَـآئِمَۃً لا وَّلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْٓ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی ج فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا ز وَلَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 50)
(اور اگر ہم اسے اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں اسی کا مستحق ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو بیشک میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہی ہے، پس ہم ضرور آگاہ کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک کے شرک کی بنیادی وجہ مفاد پرستی اور جلد بازی کرنا ہے۔
مشرک کی طبیعت میں مفاد پرستی اور جلد بازی کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ مشرک دنیا کے بارے میں بڑا حریص ہوتا ہے۔ مشرک اور دنیا پرست انسان معمولی آزمائش اور نقصان برداشت نہیں کرسکتا۔ ہمیشہ دنیا کے لیے ہی دعائیں کرتارہتا ہے۔ (البقرۃ : 200)
مشرک کو تکلیف پہنچے اور اس کی دعا جلد قبول نہ ہو تو یہ اپنے رب سے ہی مایوس ہوجاتا ہے۔ مایوسی کے عالم میں اسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نواز دے تو سمجھتا ہے کہ یہ میری کوشش کا نتیجہ ہے۔ بسا اوقات اپنی زبان سے بھی کہتا ہے کہ میری تکلیف اس لیے رفع ہوئی کہ میں نے اس کے لیے بہتر منصوبہ…
Read the full tafseer →انسان کی کم عقلی اور سرکشی کی سزا :
50: وَلَپنْ اَذَقْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْم بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِیْ (اور اگر ہم اس سے کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی تھی۔ اپنی مہربانی کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ہونا ہی چاہیے تھا) جب ہم صحت دے کر مرض کے بعد کشادگی کرتے ہیں یا تنگدستی کے بعد وسعت دیتے ہیں تو کہتا ہے ھذا لی کہ یہ میرا حق ہے جو مجھے ملا ہے کیونکہ میرے پاس جو خیر ہے اس کی وجہ سے میں نے اس کو اپنے لئے واجب کرلیا۔ اور اسی طرح میرے جو اعمال صالحہ اور فضیلتیں ہیں ان کی وجہ سے میں اس کا حقدارہوا۔ یا یہ تو میرا ہی رہے گا کبھی مجھ سے زائل…
Read the full tafseer →49، لایسام الانسان، نہیں اکتاتاکافر۔ ، من دعاء الخیر، یعنی ہمیشہ وہ اپنے رب سے خیر یعنی مال و دولت اور صحت کا سوال کرتا رہتا ہے۔ ، وان مسہ الشر، سختی اور فقر، فیؤوس، اللہ کی روح سے، قنوط، اس کی رحمت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
49۔ 51۔ منکر حشر لوگوں کی مذمت کے طور پر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حرص اور بےصبری کی مذمت فرمائی ہے قابل مذمت بےصبری شریعت میں دو طرح کی ہے ایک تو سختی اور مصیبت کے وقت بےصبر ہوجانا اور خدا کی درگاہ سے مصیبت کے بعد راحت کی توقع نہ رکھنا دوسرے فراخ دستی کے وقت جو چیزیں شرع میں منع ہیں ان سے بچنے میں صبر نہ کرنا اور فراخ دستی کے نشہ میں بےصبری سے ان کو کر بیٹھنا اس واسطے حرص کی مذمت کے ساتھ دونوں طرح کی بےصبری کی مذمت ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے ان دونوں موقعوں پر صبر کرنے کے اجر میں اور بےصبری کی اور حرص کی مذمت میں بہت سی حدیثیں جن کو ان آیتوں کی تفسیر کہنا چاہئے چناچہ حرص کی مذمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
آیت 49 ۔ 51
اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کرسکتا ہے نہ شر پر، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا : (لایسئم الانسان من دعآء الخیر) یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے اپنی فوز و فلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لئے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے۔ وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ (وان مسہ الشر) ” اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔ “ یعنی بیماری، فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں (فیوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے
قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →93 تنگ ظرف انسان کی مایوسی اور نا امیدی کا عالم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ مایوس ہوجاتا ہے "۔ اور اس موقع پر وہ پچھلی اور باقی تمام نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور آئندہ کے لئے آس توڑ بیٹھتا ہے۔ سو کتنا تنگ ظرف اور کس قدر تھڑدلا اور ناشکرا و بےانصاف ہے ایمان و یقین کی دولت سے محروم یہ مادئہ و معدہ پرست انسان ۔ والعیاذباللّٰہِ العزیز الرحمن ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کی صورت میں انسان کو دنیا ملے تو بھی عذاب کہ اس سے وہ تکبر اور انانیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور اگر نہ ملے تو بھی عذاب کہ اس سے وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس تنگ ظرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
انسان کی فطرت
تشریح : ان آیات میں انسانی فطرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عام طور پر میرے بندے مجھے اس وقت یاد کرتے ہیں جب ان کو کوئی مصیبت یا پریشانی پہنچتی ہے۔ ورنہ خوشی اور راحت کے حالات میں بندہ مجھ سے غافل ہوجاتا ہے۔ اس حد تک غافل ہوجاتا ہے کہ تمام نعمتوں اور برکتوں کو اپنا ہی کمال سمجھنے لگتا ہے۔ سچے اور اچھے مسلمان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہر صورت میں اللہ کا شکر گزار رہتا ہے، تنگی پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوگی اور خوشی میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنا رہتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ تمام کرامات، احسانات اور مہربانیاں صرف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
آیات 47 تا 54۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔
مادہ کے حمل کی خبر۔
اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اپنے آپ کو اس کا مستحق گردانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی بجائے اسے اپنی محنت اور ذہانت کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔
9 یعنی میں اس کی نظر میں پسندیدہ ہوں تبھی تو اس نے مجھے خوشحالی دی ہے۔ اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اگر بالفرض آخرت بھی آئے تو وہ مجھے اپنی گونا گوں نعمتوں سے ہمکنارنہ کرے۔ دنیا پر آخرت کو قیامت کرنا یہ غلط بنیاد پر غلط عقیدہ ہے جس کی متعدد آیات میں قرآن نے تردید کی ہے۔
Read the full tafseer →(41:50) لئن لام تاکید کے لئے ان شرطیہ۔
اذقنہ رحمۃ منا : اذقنا ماضی جمع متکلم اذاقۃ (باب افعال) مصدر سے ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اس کو چکھاتے ہیں۔ ہم نے اسکو چکھایا۔ رحمۃ مفعول ثانی اذقنا کا منا متعلق رحمۃ اور (جب) ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں۔
بعد ضراء مضاف الیہ۔ الضراء تکلیف۔ سختی، تنگی۔ مرض۔ مصیبت۔ اسم ہے۔ بوجہ غیر منصرف ہونے کے بجائے مکسور کے مفتوح آیا ہے۔
مستہ : مست ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب اس نے چھوا۔ مس (باب نصر) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جسے اس نے چھوا تھا ۔ جو اس کو آئی تھی۔ جملہ لئن اذقنہ ۔۔ مستہ شرط ہے اور اگلا جملہ جواب شرط ہے۔
لیقولن لام جوان شرط کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
منکرین کا ذکر۔
(ف 1) اے محبوب ان کافروں سے کہہ دو کہ تم جو یوں بےدھڑک قرآن کا انکار کرتے ہو اتنا خیال نہیں کرتے اور یہ نہیں بتلاتے کہ اگر یہ قرآن خدا کے پاس سے ہو اور پھر تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر گمراہ اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی وہ نشانیاں اور ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاوے گا، جس سے یہ لوگ اچھی طرح جان لیویں گے کہ جو باتیں ان لوگوں کو سمجھائی جاتی تھیں وہ بالکل آنکھوں کے سامنے آگئیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد پچھلی امتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[24] یعنی قیامت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ یہ منکرین کے اس سوال کے جواب میں ہے کہ قیامت کب آئے گی۔[25] یعنی ہم میں کوئی اقبالی مجرم نہیں جو اس جرم (یعنی شرک) کا اعتراف کرنے کو تیار ہو۔ گویا اس وقت نہایت دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کر واقعے کا انکار کرنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة المومن کی آیات 74, 73 صفحہ 1132 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
حل لغات :۔ حریض ۔ چوڑی لمبی پھیلاؤ زیادہ ہو ۔ شقاق ۔ مخالفت اور عناد کرنا ۔ الافاق ۔ افق کی جمع ہے یعنی کنارہ آسمان ۔ اطراف عالم ۔ مراد دنیا ۔
قرآن حکیم میں ایک بڑی خوبی یہ ہے ۔ کہ یہ ان تمام نفسیاتی کمزوریوں سے آگاہ ہے جو انسان میں پائی جاتی ہیں ۔ اور ایک ایک کرکے ان سب چیزوں کو بیان کرتا ہے ۔ تاکہ لغزش کے تمام مواقع اسے معلوم ہیں ۔ اور وہ کسی حالت میں بھی سچی راہنمائی سے محروم نہ رہے ۔ فرمایا : کہ یہ انسان اپنی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ دست بدعا رہتا ہے ۔ اور ترقی کی خواہس سے اس کا کبھی جی نہیں بھرتا ۔ پھر جب اس کی توقعات کے خلاف ہوتا ہے اور اگر تکلیف کے بعد پھر اللہ آسائش وتنعم کے سامان…
Read the full tafseer →(50) اور اگر ہم اس تکلیف اور دکھ کے بعد جو اس کو پہنچا تھا اپنی کسی مہربانی کے مزے سے اس کو لذت اندوز کردیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا جو مجھے ملنا ہی چاہیے تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت اٹھنی ہے اور قیامت کبھی قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی میرے لئے اس کے ہاں خوبی اور بہتری ہے سو ہم ان کافروں کو ان کے تمام اعمال کی جو یہ کرتے رہتے ہیں پوری حقیقت سے آگاہ کردیں گے اور ہم ان کو سخت ترین عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا کفران نعمت دین حق کے منکروں کی عادت میں داخل ہے مال کی محبت کا یہ عالم کہ کبھی سیر نہ ہوں عدم اعتماد کی یہ حالت کہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ کیونکہ میری تدبیر و لیاقت و فضیلت اسی کو مقتضی تھی اور یہ بھی غایت ناشکری و کبر ہے۔
Read the full tafseer →ایسے انسانوں کو پکڑنے کے بعد جب چھوڑ دیا جاتا ہے تو ان کی حالت کیا ہوتی ہے ؟
50 ؎ { ولئن اذقنہ } ہٗ ضمیر اس الانسان کی طرف ہے جس کا ذکر پیچھے سے چلا آ رہا ہے جس پر ل ہے انعامات کی بارش ہوئی حالانکہ وہ ناشکرا اور کفر کرنے والا تھا لیکن اللہ نے اپنی ربوبیت کے قانون کے مطابق اس کو کافی حد تک فارغ البال کیا تھا لیکن اس نے اس فارغ البالی سے صحیح فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی بلکہ غلط در غلط ہی ہوتا چلا گیا پھر اللہ نے اپنے قانون کے مطابق اس خوشحالی اور فارغ البالی میں اس کو پکڑ لیا اور اس پر نئی آزمائش ڈال دی اور وہ اس طرح چیخنے اور چلانے لگا اور اللہ سے لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگا اور ہاتھ جوڑنے لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ (Is it a non- Arabic [ book ] and an Arab [ messenger ]? - 44) The original word used for non-Arabic in the text is a'jamiyy (with hamza before the letter 'ain) which is an Arabic term for ` ineloquent speech', while ` ajam' (without hamzah in its beginning) means any nation other than Arabs. Therefore ` ajamiyy is a person who is non-Arab, even though he may speak eloquently, and a'jamiyy is a person who cannot speak eloquently (Qurtubi). The use of the word أَعْجَمِيٌّ ajamiyy in this verse means that if We had revealed the Qur'an in any language other than…
Read the full tafseer →66 That is“I have got all this because of my being worthy of it :it is my right that I should receive all this."
Read the full tafseer →