Ash-Shura 42:1

42. Ash-Shuraالشورى

Consultation · Meccan · 53 ayahs · 5 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

42:1

حٰمٓ ۟ۚحٰمٓ

حٰمٓ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ha, Meem.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:1

Tafseer of 42:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حم عسق کی تفسیر : حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الشُّوْرٰی 1 افتتاح کلام کا یہ انداز خود بتارہا ہے کہ پس منظر میں وہ چہ میگوئیاں ہیں جو مکہ معظمہ کی ہر محفل، ہر چوپال، ہر کوہ و بازار، اور ہر مکان اور دکان میں اس وقت نبی ﷺ کی دعوت اور قرآن کے مضامین پر ہو رہی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ نہ معلوم یہ شخص کہاں سے یہ نرالی باتیں نکال نکال کر لا رہا ہے۔ ہم نے تو ایسی باتیں نہ کبھی سنیں نہ ہوتے دیکھیں۔ وہ کہتے تھے، یہ عجیب ماجرا ہے کہ باپ دادا سے جو دین چلا آرہا ہے، ساری قوم جس دین کی پیروی کر رہی ہے، سارے ملک میں جو طریقے صدیوں سے رائج ہیں، یہ شخص ان سب کو غلط قرار دیتا ہے اور کہتا ہے جو دین میں پیش کر رہا ہوں وہ صحیح ہے۔ وہ کہتے تھے، اس دین کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

خلاصہ تفسیر حم عسق۔ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائد عظیمہ کے لئے یہ سورت آپ پر نازل ہو رہی ہے) اسی طرح آپ پر اور جو (پیغمبر) آپ سے پہلے ہوچکے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے (دوسری سورتوں اور کتابوں کی) وحی بھیجتا رہا ہے (اور اس کی یہ شان ہے کہ) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے برتر اور عظیم الشان ہے (اس کی عظمت شان کو اگر کچھ زمین والے نہ پہچانیں اور نہ مانیں مگر آسمانوں میں اس کی معرفت رکھنے والے اور عظمت کو پہچاننے والے فرشتے اس کثرت سے ہیں کہ) کچھ بعید نہیں کہ آسمان (ان کے بوجھ کی وجہ سے) اپنے اوپر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم، عسق (2-1) یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ یاد ہوگا پچھچلی دو سورتوں کا نام بھی حم ہی ہے۔ یہاں اس پر عسق کا اضافہ ہے۔ ناموں کا اشتراک عمود کی وحدت پر دلیل ہے اور یہ اضافہ اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سورة میں کچھ خاص مطالب بھی ہیں جو پچھلی دونوں سورتوں میں نہیں ہیں چناچہ مطالب کے تجزیہ پر ایک نظر ڈال کر ان خاص مطالب کو الگ کیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

3۔ 1 یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیاء پر آسمانی کتابیں نازل کی گئیں وحی اللہ کا کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہوجاتی ہے تو مجھے یاد ہوچکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–6

حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

5 یعنی جس طرح یہ سورت (جو نہایت اعلیٰ و اکمل مضامین پر مشتمل ہے) آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، ایسے ہی اللہ تعالیٰ کی عادت آپ کی طرف اور دوسرے انبیاء کی طرف وحی بھیجنے کی رہی ہے۔ جس سے اس کی شان حکمت و حکومت کا اظہار ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–3

1 نام لئے بغیر مابہ النزاع مسائل کے جوابات :۔ مکی دور میں حق و باطل کے درمیان اختلافی مسئلے بنیادی طور پر دو ہی تھے۔ ایک یہ کہ مشرکوں کے بتوں کا کائنات میں کچھ تصرف ہے یا نہیں ؟ اور دوسرا یہ کہ کیا انسان کا مر کر جی اٹھنا پھر اپنے پروردگار کے حضور جواب دہی کے لیے پیش ہونا درست ہے یا نہیں ؟ یہی دو مسائل تھے جن کا اکثر مجلسوں اور نجی گفتگو میں ہر وقت چرچا رہتا تھا۔ پھر ان میں ایک تیسرا مسئلہ از خود شامل ہوجاتا تھا کہ آیا محمد فی الواقع اللہ کا رسول ہے یا نہیں ؟ جو کچھ وہ کلام پیش کرتا ہے۔ فی الواقع اللہ کا کلام ہے ؟ اور قرآن کا انداز خطاب یہ ہے کہ اکثر سورتوں میں تمہید کے طور پر کافروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (اصول دین کی تحقیق وتعیین کے لئے) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح یہ سورت نازل کی اسی طرح اس نے دوسری سورتوں اور آیتوں کی وحی آپ ﷺ پر کی ہے۔ اے مثل ذلک الوحی (کشاف) اے یوحی مثل مافی ھذہ السورۃ من المعانی (روح) (آیت) ” حم۔ عسق “۔ حضرت ابن عباس ؓ کی جانب یہ قول منسوب ہوا ہے۔ کہ (آیت) ” حم “ ایک اسم الہی ہے اور ع سے اشارہ عذاب بدر کی جانب ہے اور س سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے۔ (آیت) ” سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون “۔ اب رہا ” ق “ تو حضرت ابوذر ؓ صحابی کی جانب یہ قول منسوب ہے کہ اس سے صور قیامت مراد ہے۔ لیکن محققین کے نزدیک نہ یہ دونوں روایتیں ثابت شدہ ہیں نہ اور کوئی روایت، ذکر المفسرون فی ” حم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) حم عسق۔ ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و ثنا فرمائی ہے۔ چناچہ حا سے اس کا حلم اور میم سے اس کا ملک اور عین سے علم اور سین سے اس کی عزت قاف سے اپنی مخلوق پر قدرت مراد ہے یا یہ کہ حا تمام ہونے والی لڑائیاں اور میم سے سلطنتوں کی تبدیلیاں اور عین سے ہر ایک وہ وعدہ جو ہوگا اور سین سے یوسف کے زمانہ کی طرح قحط سالی کے سال اور قافل سے ہر ایک ہونے والی تہمت مراد ہے یا یہ کہ ان لفاظ کے ذریعے قسم کھائی ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے گا اور اسی حالت میں اپنے پروردگار سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخل نہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

حم عسق : یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

حم، عسق، عبدالمئو من نے کہا : میں نے حسین بن فضل سے پوچھا حم کو عسق کو سے کیوں الگ کیا گیا ہے جبکہ کھیعص، المر اور المص کو الگ الگ نہیں کیا گیا۔ فرمایا : کیونکہ حم عسق سورتوں کے درمیان ہے جن میں سے پہلی حم ہے تو یہ ما قبل اور بعد کے نظائر پر جاری ہوئی گویا حم مبتدا ہے اور عسق خبر ہے اور اس کی اخوات جن کو اکٹھے لکھا گیا ہے وہ ایک آیات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حروف معجمہ سب کے سب ایک معنی میں ہیں وجہ اس کی منصل لکھا گیا ہے کیونکہ کلام یہ کی گئی ہے حم سے مراد ہے مم ماھو کائن۔ جو ہو کر رہنے والا ہے اس کا قصد کرلیا گیا ہے انہوں نے فرق کیا ہے جس میں فعل مقدر ہوتا ہے یا فعل مقدر نہیں ہوتا پھر اگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ عبدالرزاق نے المصنف میں جعفر بن محمد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھی اور اس کو باربار پڑھا، اور فرمایا اے میمونہ ! کیا تیرے پاس (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ ہے (یعنی تجھے یاد ہے) عرض کیا جی ہاں ! فرمایا اس کو پڑھو میں اس کے اول وآخر کے درمیان سے بھول گیا ہوں۔ 4:۔ طبرانی (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) حضرت میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اللہ تعالیٰ عزیز ہے، حکیم ہے، اعلیٰ ہے، عظیم ہے، غفور ہے، رحیم ہے یہ سورة الشوریٰ کے پہلے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرکے فرمایا کہ جس طرح یہ سورة اپنے فوائد پر مشتمل ہوکر آپ کی طرف نازل کی جا رہی ہے اسی طرح آپ پر دوسری سورتوں کی بھی وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے جو حضرات انبیائے کرام تھے ان پر وحی کی گئی یہ وحی اللہ تعالیٰ نے بھیجی جو عزیز یعنی زبردست اور غالب ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے اس کی مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی ہے وہ برتر ہے اور عظیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–12

اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” کذلک یوحی الیک “ اس سورت میں جو مضمون توحید نازل کیا گیا ہے یہی مضمون ہم اس سے پہلی سورتوں میں آپ کی طرف نازل کرتے رہے ہیں، اور یہی مضمون توحید گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی کرتے رہے ہیں۔ کلام مستانف وارد لتحقیق ان مضمون السورۃ موافق لما فی تضاعیف الکتب المنزلۃ علی سائر الرسل المتقدمین فی الدعوۃ الی التوحید والارشاد الی الحق (روح ج 25 ص 10) ۔ ” کذلک “ یعنی اس کی مانند یہ تعبیر اس لیے اختیار کی گئی کہ عبارت وہ نہیں، البتہ مضمون وہی ہے۔ ای مثل ذلک الوحی (مدارک، جامع البیان) یوحی میں حال گذشتہ کو مضارع سے تعبیر کیا گیا تاکہ استمرار و دوام پر دلالت کرے۔ وذکر المضارع للاستمرار وبیان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الشوریٰ ہے ۔ اس کی آیت 38 میں اہل ایمان کی باہمی مشاورت کا ذکر ہے اور اسی سے اس سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے پہلے قریبی دور میں پچھلی سورة حم السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة کی ترپن 53 آیا ت ہیں اور یہ پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں 883 الفاظ اور 3588 حروف ہیں۔ مضامین سورة یہ سورة مبارکہ بھی حوامیم سبعہ میں شامل ہے۔ ان سورتوں کو قرآن کریم کا لب لباب کہا گیا ہے کیونکہ ان میں عام طور پر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت اور معاد ہی کا ذکر ہے ، تا ہم بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ۔ اگرچہ حوامیم میں مذکورہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–3

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ 1 ۚعۗسۗقۗ۝ 2 كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ۝ 0 ۙ اللہُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 3 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

حٰـمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الشوری : 1 تا 3) (ح م۔ ع س ق۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جو غالب اور حکیم ہے آپ کی طرف اور ان رسولوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے وحی کرتا رہا ہے۔ ) پہلی دونوں آیتیں حروفِ مقطعات پر مشتمل ہیں اور ان کے بارے میں ہم سورة البقرۃ کے آغاز میں گفتگو کرچکے ہیں۔ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے ؟ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی تیسری آیت کے بارے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کَذٰلِکَ کا اشارہ کس طرف ہے۔ بعض اہل علم نے تو یہ کہا ہے کہ جس طرح اصول دینیہ کی تحقیق اور فوائدِعظیمہ سے متعلق قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن سورة حم ٓ سجدہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ سورة الشّوریٰ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ جس طرح قرآن کی شکل میں آپ ﷺ کی طرف وحی کی جاررہی ہے۔ اسی طرح ہی آپ ﷺ سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ حم ٓ، عسق حروف مقطّعات میں سے ہیں۔ ان کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اے نبی ﷺ ! ” اللہ “ ہی وحی کے ذریعے قرآن مجید آپ کی طرف نازل کررہا ہے۔ اس طرح جیسے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحائف، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات، حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–2

حٰمٓ۔ عٓسٓقٓ۔ کَذٰلِکَ یُوْحِیْ اِلَیْکَ وَاِلَی (حم۔ عسق۔ اسی طرح آپ پر اور جو آپ سے پہلے ہوچکے ہیں) الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے۔ وحی بھیجتا رہا ہے) ۔ 1، 2: حٰمٓ۔ عٓسٓقٓ حمؔ کو عسق سے الگ کر کے لکھا گیا ہے۔ کھیعص کو اکٹھا لکھا گیا۔ کیونکہ حم، عسق دو آیات ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ حروف مقطعات تمام جدا لکھے جاتے ہیں ان کے ساتھ ملانے کیلئے اس طرح لکھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–2

تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔۔ حم عسق، حسین بن فضل (رح) سے سوال کیا گیا کہ ، حم عسق ، کو لکھنے میں جداکیوں لکھاجاتا ہے حالانکہ یہ ، کھیعص، کو لکھنے میں جدا نہیں کیا جاتا ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس لیے کہ یہ سورتیں ایسی ہیں کہ ان کے شروع میں، حم، آتا ہے تو اس کی اس جیسی دوسری صورتوں کے طرزپر جاری کیا گیا ہے۔ پس حم مبتداء ہے اور ، عسق، اس کی خب رہے اور اس لیے کہ یہ دونوں دوآیتیں شمار کی گئی ہیں اور اس جیسے دوسرے مقطعات جیسے، کھیعص، اور، المص، اور، المر، یہ ایک آیت شمار کیے گئے ہیں۔ حروف مقطعات کی تفسیر اور کہا گیا ہے اس لیے کہ مفسرین رحمہم اللہ کا، کھیعص، اور اس کے ہم مثل کے حروف تہجی ہونے میں کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

سورة الشورے مکیۃ 1۔ 6 حم عسق حروف مقطعات میں سے ہے سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ حروف مقطعات آیات متشابہات کی قسم میں سے ہیں کیونکہ ان کے معنوں سے کوئی حرام و حلال کا حکم متعلق نہیں ہے اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس طرح کی سب آیتیں متشابہات میں داخل ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تفسیر سے علماء امت کو منع فرمایا ہے اس واسطے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسی طریقہ پر گزرا ہے کہ وہ متشابہ آیتوں کی تفسیر کے درپے نہ ہوتے تھے بلکہ ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–9

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

1 حضرات انبیائے کرام کی ایک امتیازی صفت کا ذکر وبیان : سو اس سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء و رسل کی تعلیم بھی ایک ہی رہی اور ذریعہ تعلیم بھی ایک ہی رہا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح اللہ وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف "۔ یعنی جس طرح اس سورة کریمہ کے مضامین کی وحی فرمائی جا رہی ہے اسی طرح آپ کی طرف اور ان تمام انبیائے کرام کی طرف بھی اللہ پاک کی طرف سے وحی فرمائی جاتی رہی جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ ان سب کے مشمولات بھی ایک ہی قسم کے تھے اور مقاصد بھی مشترک۔ کیونکہ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم وغیرہ بنیادی عقائد و مسائل ان سب میں مشترک تھے۔ اور مقصد بھی ایک ہی تھا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–19

اللہ کا غلبہ، قدرت، دانائی اور رحم و کرم سب سے زیادہ ہے تشریح : پہلی اور دوسری آیات میں حروف مقطعات ہیں۔ اس کے بعد رب ذوالجلال کی صفات کا ذکر ہے۔ توحید پر ایمان لانا انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔ کیونکہ یہی مبارک راستہ انسان کو زندگی کی تمام قباحتوں سے بچاتا ہے۔ انسان کو ایسانظام حیات عطا کرتا ہے کہ جس کی وجہ سے عبادات، اخلاقیات، معاملات، حقوق اور تعزیرات کا ایک بہترین نقشہ انسان کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ یہ نظام حیات انسان کو ظلم زیادتی، کفر و شرک، بےحیائی بد نظمی اور تمام غم، خوف اور پریشانیوں سے محفوظ کردیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کو بہت بڑی رحمت اور اسلام کو سلامتی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس پیغام کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–5

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے زور سے یا فرشتوں کے ذکر کی کثرت سے تاثیر ہو اور وہ پھٹ پڑیں۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا : آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر نہیں رکھ رہا سجدے میں “۔ ( موضح) 8 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :” ویستغفرون للذین امنوا “ کہ حاملین عرش اور جو فرشتے اس کے ارد گرد ہیں وہ مومنین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ ( مومن 7) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرشتوں کے استغفار سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے بندوں کی بخشش ہو اور ان سے عذاب ٹلے تاکہ کافر ایمان لائے اور فاسق توبہ کرے۔” استغفار “ کے یہ معنی لئے جائیں تو مومنوں کے ساتھ استغفار کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–9

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

(ف 1) اے محبوب ﷺ جیسا تمہاری طرف یہ قرآن اتارا، اور حضرت جبرائیل کی معرفت وحی بھیجی یوں ہی ان کی طرف بھی بھیجی جو تم سے پہلے انبیاء تھے پھر فرمایا کہ اس فہمائش کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی بےٹھکانوں کی باتوں سے باز نہ آئیں گے اور کلام الٰہی کے جھٹلاتے جائیں گے تو اللہ ایسے لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے پچھلی بہت سی قومون کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا، فرمایا جبکہ آسمان زمین کا مالک وہی وحدہ لاشریک ہے اور سب پر اسی کا حکم جاری ہے تو پھر کس استحقاق سے یہ مشرک لوگ غیروں کو اس کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–5

[1] اہل زمین میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظرانداز کرے اور کافروں کے لئے استغفار یہ کہ اللہ ان کے دل میں توفیق ایمان ڈال دے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة الشوریٰ 1: یہ سورت مکی ہے ۔ اس میں عقائد اور زندگی کے اہم مسائل بیان فرمائے گئے ہیں اس میں رسالت کا تذکرہ ہے ۔ توحید کی بحث ہے عمل کی ذمہ داریوں کا بیان ہے اور ان تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہے ۔ جو اس وقت کے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے تھے یا آج پیدا ہوسکتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 1–2

سورة الشورے مکیۃٌ 62 حم عسق حروف مقطعات میں سے ہیں 1 ؎ حا۔۔ می۔۔ م عائی۔۔ ن سی۔۔ ن قا۔۔حروف مقطعات میں سے ہیں اور حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کے شروع میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے پھر یہ پانچ حروف کو دو آیات بتایا گیا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ اس سورت کے مضامین بہت ہی چونکا دینے والے اور نہایت ہی خبردار کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–4

Commentary (Ha Meem ` Ayn Seen Qaf) Only Allah knows the meaning of these letters. The gist of the first five verses is as follows: Just as this surah was revealed to the Holy Prophet ﷺ for the ascertainment of the religious principles and for other benefits, similarly Allah Ta’ ala has been sending other prophets who preceded him. His Magnificence is such that whatever there is in the heavens and in the earth is His. He is the Supreme, the Most Magnificent. Even though some of the people of this world do not recognize and do not admit the greatness of His magnificence, yet the number of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 The style of the opening verses by itself shows that in the background there are the misgivings, wonder and amazement which were being expressed at that time in every assembly, every meeting place, every street and every house and shop of Makkah at the message of the Holy Prophet and the themes of the Qur'an. The people said, "Wherefrom is this tnan bringing us new revelations everyday? The like of these we had never heard nor seen before. How strange that he rejects as false the religion that our forefathers have been following in the past, the religion that is still being followed by all…

Read the full tafseer →