Explained with ayahs 47–48
علم الٰہی کی وسعتیں
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں تمام انسانوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی حضرت جبرائیل ؑ نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا 44ۭ) 79۔ النازعات :44) یعنی قیامت کب ہوگی ؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت (لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 60
اس ساعت سے مراد قیامت ہے، یعنی وہ گھڑی جب بدی کرنے والوں کو ان کی بدی کا بدلہ دیا جائیگا اور ان نیک انسانوں کی داد رسی کی جائے گی جن کے ساتھ بدی کی گئی ہے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 61
یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ گھڑی کب آئے گی۔ یہ جواب ہے کفار کے اس سوال کا کہ ہم پر بدی کا وبال پڑنے کی جو دھمکی دی جا رہی ہے وہ آخر کب پوری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا ہے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 62
اس ارشاد سے سامعین کو دو باتوں کا احساس دلایا گیا ہے، ایک یہ کہ صرف ایک قیامت ہی نہیں بلکہ تمام امور غیب کا علم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے، کوئی دوسرا عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
خلاصہ تفسیر
(اوپر جس قیامت کا ذکر ہے کہ اس میں ان کو جزا ملے گی اس) قیامت کے علم کا حوالہ خدا ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے (یعنی اس سوال کے جواب میں کہ قیامت کب آوے گی جیسا کہ کفار بغرض انکار ایسا کہا کرتے تھے یہی کہا جاوے گا کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ مخلوق کو اس کا علم نہ ہونے سے اس کا عدم وقوع لازم نہیں آتا) اور (قیامت ہی کی کیا تخصیص ہے۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے حتیٰ کہ) کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے (اور اس اطلاع کی وجہ اس کی صفت علم کا ذاتی ہونا ہے جو بوجہ اعلیٰ درجہ کے کمال ہونے کے دلیل توحید بھی…
Read the full tafseer →8 آگے کا مضمون … آیات 54-47
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جو عذاب یا قیامت سے اس بنا پر نچنت تھے کہ ان کو اس کا وقت تعین کے ساتھ نہیں بتایا جا رہا ہے۔ ان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی حقیقت کا انکار محض اس بنیاد پر کوئی دانشمندی نہیں ہے کہ اس کے ظہور کا وقت بتایا نہیں جاسکتا۔ کتنی پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں جن کے ظہور کا وقت اگرچہ کسی کو نہیں معلوم لیکن کوئی عاقل اس کا انکار نہیں کرتا۔
اس کے بعد عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کے حال پر اظہار افسوس کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے تھرڈلے پن کا حال یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو توبہ وا اصلاح کے لئے جو مہلت دی ہے تو…
Read the full tafseer →47۔ 1 یعنی اللہ کے سوا اس کے وقوع کا علم کسی کو نہیں۔ اس لئے جب حضرت جبرائیل ؑ نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا ' اس کی بابت مجھے بھی اتنا علم ہے، جتنا تجھے ہے، میں تجھ سے زیادہ نہیں جانتا۔ دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا) 79۔ النازعات :44)
47۔ 2 یہ اللہ کے علم کا محیط کا بیان ہے اور اس کی صفت علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے یعنی اس طرح کا علم کامل کسی کو حاصل نہیں، حتیٰ کے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی نہیں انہیں بھی اتنا ہی علم ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے سے بتلا دیتا ہے۔
47۔ 3 یعنی آج ہم میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔
19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →آیات گزشتہ میں قیامت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اس میں اللہ کی جانب سے سب کے ساتھ انصاف کرنے کی طرف بھی اشارہ تھا کہ کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اس لیے یہاں یہ بھی کہہ دیا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا علم صرف اللہ وحدہ کو ہے۔ اس ضمن میں اللہ کے علم کی تصویر کشی بھی کردی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں کتنی گہرائیاں اور تفصیلات رکھتا ہے۔ بعض مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد قیامت کا ایک منظر بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں مشرکوں سے سوال و جواب ہوتے ہیں :
قیام قیامت ایک ایسا غیب ہے جو مجہول اور مستقبل کے ضمیر میں گہرا پوشیدہ ہے۔ اسی طرح شگوفوں میں سے جو پھل مستقبل میں برآمد ہوتے ہیں ان کو بھی صرف اللہ جانتا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →1 یعنی اسی کو خبر ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ بڑے سے بڑا نبی اور فرشتہ بھی اس کے وقت کی تعیین نہیں کرسکتا۔ جس سے دریافت کرو گے۔ یہ ہی کہے گا " مَا الْمَسْؤلُ عَنْہَا بِاَعْلَمُ مِنَ السَّآئِل "
2 یعنی علم الٰہی ہر چیز کو محیط ہے۔ کوئی کھجور اپنے گابھے سے اور کوئی دانہ اپنے خوشہ اور کوئی میوہ یا پھل اپنے غلاف سے باہر نہیں آتا جس کی خبر خدا کو نہ ہو۔ نیز کسی عورت یا کسی مادہ (جانور) کے پیٹ میں جو بچہ موجود ہے اور جو چیز وہ جن رہی ہے سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ موجودہ دنیا کے نتیجہ کے طور پر جو آخرت کا ظہور اور قیامت کا وقوع ہونے والا ہے اس کا وقت بھی خدا ہی کو معلوم ہے کہ کب آئے…
Read the full tafseer →آیت 47{ اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ } ”اسی کی طرف لوٹتا ہے قیامت کا علم۔“
یعنی قیامت کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔
{ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَامِہَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ } ”اور نہیں نکلتے کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہ کسی مادہ کو حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کو جنتی ہے ‘ مگر اسی کے علم سے۔“
یعنی صرف قیامت ہی نہیں بلکہ تمام امور غیب کا علم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ جزئیات کا بھی اتنا تفصیلی علم رکھتا ہے کہ اس کی نگاہ سے کسی شخص کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔
واضح رہے کہ یہاں پر اُنْثٰی کا لفظ اپنے مفہوم…
Read the full tafseer →61 جواب کا رخ اس طرف موڑ دینا جس کا تعلق عملی زندگی سے ہو :۔ اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کا یہ حال ہے کہ شگوفہ کے اندر اس کے پھل کے نکلنے تک جو کیفیات گزرتی ہیں اور رحم مادر میں جنین پر جو جو مرحلے پیش آتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ ایسی ہی علیم ہستی جب یہ خبر دے رہی ہے کہ قیامت یقینی طور پر آنے والی ہے تو تمہیں اس بات پر یقین کرلینا چاہئے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی تو اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور یہ بات بتانا مشیئت الٰہی کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس طرح تخلیق انسانی کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ کافروں کا یہ مشغلہ سا بن گیا تھا کہ وہ بار بار رسول اللہ سے یہی سوال کرتے رہتے تھے تو اس کے جواب…
Read the full tafseer →48۔ حق تعالیٰ کی صفت علم کا اثبات ہورہا ہے کہ اس کا علم کامل اور ہر ہر جزئیہ کو محیط ہے اور وہی وقت قیامت کا علم رکھتا ہے۔ (آیت) ” الیہ یرد علم الساعۃ “۔ یہ منکرین کے اس تعریضی سوال کے جواب میں ہے کہ قیامت آخرکب آئے گی۔
49۔ (اور اپنی غلطی کے بالکل معترف ہیں) (آیت) ” این شرکآء ی “۔ یعنی جنہیں تم اپنے زعم وپندار میں ہمارا شریک وہمسر سمجھا کرتے تھے۔ انہیں بلاؤ وہ اب آکر بچائیں۔ شرکواء کی اپنی جانب نسبت واضافت میں ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے مشرکین کے عقائد پر تعریض کی ہے۔ اضافھم الی نفسہ علی زعمھم وفیہ تھکم و تقریع (مدارک) (آیت) ” مامنا من شھید “۔ یعنی آج ہم میں سے کوئی بھی اس کا مدعی نہیں کہ تیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
آیت نمبر 45 تا 53
ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…
Read the full tafseer →الیہ یرد علم الساعۃ وما تخرج من ثمرت من اکمامھا وما تحمل من انثی ولا تضع الا
بعلمہ قیامت کے علم کا حوالہ اللہ ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے ‘ مگر سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے۔ یعنی قیامت کے برپا ہونے کے وقت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جائے ‘ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے قیامت برپا ہونے کا وقت دریافت کیا گیا تو اس کو جواب میں کہنا چاہئے : اللہ ہی کو اس کا علم ہے ‘ اسکے سوا کوئی قیامت کے معین وقت کا علم نہیں رکھتا۔
اَکْمَام شگوفے۔ مَا تحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی میں مَا نافیہ ہے اور مِنْ زائد ہے۔
ویوم ینادیھم این شرکائی قالوا…
Read the full tafseer →قیامت کے علم کا حوالہ اللہ ہی کی طرف کیا جاتا ہے اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں کہ قیامت کب ہوگی۔ اور ایسے ہی کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا اور نہ کسی حاملہ عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اس کی اجازت سے ہوتا ہے اس کے علاوہ اور کسی کو ان باتوں کا علم نہیں۔
اور دوزخ میں جب اللہ تعالیٰ مشرکین سے فرمائے گا کہ وہ میرے شریک اب کہاں ہیں جن کی تم میرے علاوہ عبادت کرتے تھے اور میرے شریک ان کو سمجھتے تھے تو وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے آپ سے عرض کرچکے ہیں کہ ہم نے آپ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہیں کی۔
Read the full tafseer →(1) الیہ یرد علم الساعۃ : پچھلی آیت کے ضمن میں ہر نیک و بدعمل کی جزا کا ذکر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اکثر لوگ جزا کے بغیر فوت ہوجاتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ اسی کا نام ہی ”یوم الدین“ (جزا کا دن) ہے، کیونکہ اگر وہ نیک و بد کو جز نہ دے تو یہ ظلم ہے، جب کہ وہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم کرنے والا نہیں۔ کفار چونکہ قیامت قائم ہونے اور اس پر اللہ تعالیٰ کے پوری طرح قادر ہونے کی بات کو دلیل کے ساتھ نہیں جھٹلا سکتے تھے، اس لئے انہوں نے جھٹلانے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ بار بار پوچھتے، قیامت کب ہوگی ؟ گویا انکی فرمائش پر وہ فوراً قائم نہ ہوئی تو کہہ سکیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت نمبر 47,, 48
الیہ یرد علم الساعۃ یعنی کب وہ قائم ہوگی ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا : اے محمد ! اگر تو نبی ہے تو ہمیں بتائو قیامت کب برپا ہوگی ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی وما تخرج من ثمرت من زائدہ ہے، مراد ہے جو اس کا پھل نکلتا ہے من اکمامھا اپنے برتنوں سے۔ اکمام پھلوں کے برتن ہوتے ہیں اسکی واحد کمۃ ہے یہ مال اور دوسری چیزوں کا برتن ہوتا ہے اسی وجہ سے گا بھے کے چھلکے کو کہۃ کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کمہ، کفری اس وقت ہوتا ہے جو ابھی پھٹا نہ ہو جب وہ پھٹ جائے تو کمہ نہیں ہوتا۔ سورة الرحمن میں اس کی مزید وضاحت آئیگی۔ نافع، ابن عامر اور حفص نے جمع کا صیغہ من ثمرت پڑھا ہے جبکہ باقی قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت…
Read the full tafseer →اِلَيْهِ [ اس کی طرف ہی ] يُرَدُّ [ پھیرا (Refer کیا) جاتا ہے ] عِلْمُ السَّاعَةِ ۭ [ اس گھڑی (قیامت ) کا علم ] وَمَا تَخْرُجُ [ اور نہیں نکلتا ] مِنْ ثَمَرٰتٍ [ کوئی بھی پھل ] مِّنْ اَكْمَامِهَا [ اپنے غلافوں میں سے ] وَمَا تَحْمِلُ [ اور نہیں اٹھاتی (حمل) ] مِنْ اُنْثٰى [ کوئی بھی مؤنث ] وَلَا تَضَعُ [ اور نہ وہ جنتی ہے ] اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۭ [ مگر اس کے علم سے ] وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ [ اور جس دن وہ پکارے گا ان کو ] اَيْنَ شُرَكَاۗءِيْ ۙ [ کہاں ہیں میرے شریک ] قَالُوْٓا [ تو وہ لوگ کہیں گے ] اٰذَنّٰكَ ۙ [ ہم نے آگاہ کردیا تجھ کو ] مَا مِنَّا [ نہیں ہے ہم میں سے ] مِنْ شَهِيْدٍ [ کوئی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس دن مشرکین کی حیرانی و بربادی
قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف حوالہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت کب واقع ہوگی اس کا علم اللہ عالی کے سوا کسی کو نہیں، سور الاعراف میں فرمایا (يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ) وہ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ کب ہے اس کا واقعہ ہونا، آپ فرما دیجیے کہ اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے اس کو ظاہر نہیں فرمائے گا مگر وہی۔ ایک مرتبہ جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ کے پاس انسانی صورت میں آئے اور متعدد سوالات کیے ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت…
Read the full tafseer →46:۔ ” الیہ یرد “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الترقی۔ ” الیہ “ کی تقدیم مفید حصر ہے۔ اس دلیل سے غیر اللہ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی جس طرح متصرف و کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسا کہ پہلی دونوں عقلی دلیلوں سے ثابت ہوچکا ہے۔ اسی طرح عالم الغیب بھی وہی ہے اور اس نے غیب کی کنجیاں کسی کو نہیں دیں۔ قیامت قائم ہونے کا معین وقت صرف اسی کو معلوم ہے اور یہ علم اسی کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ای علم وقت قیامہا یرد الیہ یعنی یجب علی کل من سئل عنہا ان یقول اللہ اعلم اذ لایعلمہا الا ھو (مظہری ج 8 ص 303) ۔ جو پھل اور میوے اپنے پردوں سے نمودار ہوتے ہیں۔ جو مادہ بار آور ہوتی ہے اور جو بچہ جنتی ہے یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ربط آیات
پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو…
Read the full tafseer →اِلَيْہِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ 0 ۭ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِہَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ 0 ۭ وَيَوْمَ يُنَادِيْہِمْ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيْ 0 ۙ قَالُوْٓا اٰذَنّٰكَ 0 ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَہِيْدٍ 47 ۚ
رد
الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147]
( رد د ) الرد ( ن )
اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ترکیب : وما تخرج مانا فیۃ و من الاولی للاستغراق والثانیۃ للابتداء وقیل ماموصولۃ فی محل جرعطفا علی الساعۃ ای علم الساعۃ وعلم التی تخرج۔
تفسیر : جبکہ کفار کے مقابلے میں یہ کہا گیا تھا کہ جو نیکی کرتا ہے اپنے لیے اور بدی جو کرتا ہے تو اپنے لیے۔ جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ پوری جزاء و سزا قیامت کو ملے گی، اس پر سامع کا خیال جاسکتا تھا کہ قیامت کب ہوگی، اس بات کا جواب دیتا ہے، الیہ یردعلم الساعۃ کہ قیامت کی خبر اس کے پاس ہے، یعنی جب کوئی کسی سے اس کے تعین وقت سے سوال کرتا ہے تو اس کی خبر اللہ ہی کے سپرد کی جاتی ہے کہ وہی جانتا ہے اور اس پر کیا موقوف ہے جو کچھ عالم غیب سے دنیا میں ظہور کرتا ہے، جیسا…
Read the full tafseer →اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ ط وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَا مِھَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلاَ تَضَعُ اِلاَّ بِعِلْمِہٖ ط وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ اَیْنَ شُرَکَـآئِ یْ لا قَالُـوْٓا اٰذَنّٰـکَ لا مَامِنَّا مِنْ شَھِیْدٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 47)
(اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم، اور کوئی پھل اپنے غلاف سے باہر نہیں نکلتا، اور کوئی مادہ حاملہ نہیں ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اسی کے علم سے، پھر جس روز وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ تو وہ کہیں گے ہم نے تجھ سے عرض کردیا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے۔ )
مشرکین کے ایک سوال کا جواب
یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فہم القرآن
ربط کلام : جو شخص کتاب اللہ کے بارے میں شک کرتا ہے وہ قیامت کے بارے میں بھی شک کا شکار ہوتا ہے۔
قرآن مجید کا اسلوب بیان خطاب برائے خطاب نہیں۔ قرآن انسان کی ہر پہلو پر راہنمائی کرتے ہوئے اس کی توجہ حقیقت پر مرکوز رکھتا ہے۔ اس کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی ترغیب دینا ہے۔ فکر آخرت کو اس لیے بنیادی عقائد میں شامل کیا ہے کہ اس کے سوا آدمی کو نہ نیکی کرنے میں حوصلہ ملتا ہے اور نہ ہی برائی کرنے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے توحید و رسالت کی تسلیم و اطاعت کے لیے آخرت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیام آخرت کی منکر تھی جس بنا پر وہ نبی…
Read the full tafseer →قیام قیامت کا علم اللہ عزوجل ہی کو ہے :
47: اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ (اور قیامت کے علم کا حوالہ خدا ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے) قیامت کے قیام کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنے والا ہے۔ مسئول پر لازم ہے کہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوا کہے۔ اللّٰہ یعلم ذلک۔ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰاتٍ (اور کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا)
قراءت : مدنی، شامی، حفص نے ثمرات اور دیگر قراء نے بغیرالف پڑھا ہے۔
مِّنْ اَکْمَا مِہَا (اپنے خولوں سے) جمع کُمٌ کی ہے معنی خول جس میں پھل ہوتا ہے اس سے قبل کہ وہ پھٹے۔ وَ مَاتَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی (اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے) یعنی اس کا حمل وَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
تفسیر 47، الیہ یرد علم الساعۃ، یعنی جب قیامت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو اس کا علم اسی کی طرف لوٹا یا جائے گا کہ اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ ، وماتخرج من ثمرات من اکما مھا، اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص رحمہم اللہ نے، ثمرات ، جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے، ثمرۃ، مفرد کا صیغہ پڑھا ہے۔ ، من اکمامھا، ان کے خوشوں سے۔ اس کا واحد، کم، ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے پھل کا خوشہ مراد ہے، کھلنے سے پہلے۔ ، وما تحمل من النثی ولاتضع الا بعلمہ، مگر اس کی اجازت کے ساتھ ۔ فرماتے ہیں کہ اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹایاجاتا ہے۔ جیسا کہ اس کی طرف پھلوں اور ان کے نتیجے کا علم لوٹایاجاتا ہے۔ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
45۔ 47۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کے سننے اور ان کے مطلب کے سمجھنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کرتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات اور یہود کی پھوٹ اور ٹیڑھی باتوں کا ذکر فرمایا تاکہ اللہ کے رسول ﷺ کی تسلی ہوجائے کہ مشرکین مکہ کی یہ حالت کچھ نئی نہیں ہے یہود کی بھی یہی حالت ہے سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب یہود نے تورات کے موافق عمل کرنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کیں تو ان کو ڈرایا گیا کہ ان پر طور پہاڑ پٹخ دیا جائے گا اس ڈر سے انہوں نے وہ ٹیڑھی باتیں چھوڑیں یہود کی ایسی اور مثالیں بھی قرآن شریف میں ہیں صحیح 1 ؎ بخاری میں عبد اللہ بن مسعود سے اور صحیح 2 ؎ مسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اسی لئے فرمایا : (الیہ یرد علم الساعۃ) ” قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ “ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء ومرسلین اور فرشتے وغیرہ اس بارے میں اپنے عجز اور بےبسی کا اقرار کرتے ہیں۔ (وما تخرج من ثمرات من اکمامھا) ” اور نہ تو پھل پابھوں سے نکلتے ہیں۔ “ یعنی ان شگوفوں میں سے جن سے وہ عموماً نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے
قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →86 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم "۔ کہ اس کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ سو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اس کی بہت سی نشانیاں اور علامتیں تو بتادیں۔ اور یہ بھی کہ وہ محرم کے مہینے میں اور جمعہ کے دن قائم ہوگی۔ لیکن کب اور کتنے زمانے اور کتنے سالوں کے بعد ؟ کس محرم اور کون سے جمعہ کے دن وغیرہ ؟ تو ان تمام امور کا علم اللہ پاک کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حدیث جبریل میں صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا ۔ " مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بَاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " ۔ یعنی قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
قیامت کا علم اللہ کے پاس
تشریح : جب ایک بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا صرف وہ اللہ ہی ہے جو بےحد مضبوط قدرت والا، بےحد رحم کرنے والا اور سخت حساب لینے والا، ہر وقت ہمارے کام کو دیکھنے والا بلکہ ہماری نیتوں، ارادوں اور منصوبوں سے بھی وہ بڑی اچھی طرح واقف ہے اور دنیا و آخرت میں ہمارے حساب کتاب کر کے بدلہ دینے کے ایسے بہترین اور پکے بندوبست اس نے کر رکھے ہیں کہ ہر شخص جب دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہوگا تو اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور یوں کسی شخص کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہرگز نہ ہو سکے گی۔ اللہ بےحد مہربان ہے اور بےحد سخت بھی ہے۔ اگر بار بار نصیحت کا اثر بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
آیات 47 تا 54۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔
مادہ کے حمل کی خبر۔
اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی قیامت کب آئے گی ؟ اسے صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں ہے۔ روایات میں ہے کہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے کہا ” اگر تم محمد ﷺ دعوائے نبوت میں سچے ہو تو بتائو قیامت کب آئے گی۔ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (شوکانی) مشہور صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت جبریل ( علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر قیامت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا نیز دیکھئے اعراف آیت 187 (ابن کثیر)
2 مطلب یہ ہے کہ صرف قیامت کا علم ہی نہیں غیب کے متعلق جتنے بھی امور ہیں، ان سب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ کسی نبی ﷺ یا…
Read the full tafseer →(41:47) الیہ : ای الی اللّٰہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
یرد : مضارع مجہول واحد مذکر غائب رد (باب نصر) مصدر، لوٹایا جائے گا۔ علم الساعۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول مالم یسم فاعلہ فعل یرد کا قیامت کا علم اسی کی طرف (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ہی) لوٹایا جائے گا۔ قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاسکتا ہے۔ ای لا یعلمھا الا اللّٰہ یعنی اللہ عزوجل کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا : قل انما علمھا عند ربی لایجلیہا لوقتھا الاھو (7:187) کہہ دو کہ اس کا علم (یعنی قیامت کے آنے کا علم) تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ اس کے وقت پر اسے کوئی نہ ظاہر کرے گا سوائے اس کے۔
وما تخرج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
مشرکوں کا مسخراپن۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جہاں مشرکین کی اور مسخرا پن کی باتیں تھیں وہاں مسخراپن کے طور پر یہ لوگ اکثر قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے کہ جس قیامت کے دن کی سزا سے ڈرایاجاتا ہے وہ آخر کب آئے گی ، مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ قیامت کے آنے کے وقت اور میوؤں کا درختوں کے غلافوں میں سے نکلنے کا وقت اور مادہ کے حمل کو اور اس کی ساعتوں کو اور وضع کے ووقت کو اور اس کے ناقص وغیرہ اور اچھے اور برے نرومادہ ہونے کو رب جانتا ہے پھر اللہ کے رسول ﷺ سے گھڑی گھڑی مسخراپن سے قیامت کے آنے کا وقت کیوں پوچھتے ہو، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اولیائے کرام اصحاب کشف بسا اوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[24] یعنی قیامت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ یہ منکرین کے اس سوال کے جواب میں ہے کہ قیامت کب آئے گی۔[25] یعنی ہم میں کوئی اقبالی مجرم نہیں جو اس جرم (یعنی شرک) کا اعتراف کرنے کو تیار ہو۔ گویا اس وقت نہایت دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کر واقعے کا انکار کرنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة المومن کی آیات 74, 73 صفحہ 1132 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
حل لغات :۔ اکمام ۔ کم کی جمع ہے ۔ پھل کا غلاف ۔ شگوفے لایسئمم ۔ اکتا نہیں جاتا ہے لیوس ۔ ناامید ہراساں ۔ ناامید ۔
پورا پورا علم صرف اللہ کو ہے
1: غرض یہ ہے کہ کوئی انسان یہ نہیں جان سکتا ۔ کہ مستقبل میں کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے اور فردا کی آغوش میں کون سے حوادث پنہاں ہیں ۔ کوئی یقینی طور پر غیب کے متعلق پیش گوئی نہیں کرسکتا ۔ اور نہیں کہہ سکتا ۔ کہ آئندہ بطن تقدیر سے کیا تولد ہونے والا ہے اس باب خاص میں سب لوگ ناآشنا اور بےبہرہ ہیں ۔ ہاں انبیاء (علیہ السلام) کو بعض حالات سے مطلع کردیا جاتا ہے ۔ کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ۔ مگر ہر واقعہ اور ہر بات کے متعلق وہ بھی جواب نہیں دے سکتے ۔ قیامت کے…
Read the full tafseer →(47) قیامت کے وقوع کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ مادہ کوئی بچہ جنتی ہے الا یہ کہ یہ سب کام اسی کی اطلاع اور اس کے علم سے ہوتے ہیں اور جس دن اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو پکار کر فرمائے گا وہ میرے شریک کہاں ہیں وہ مشرک جواب دیں گے ہم نے آپ کو جتا دیا اور آپ سے عرض کردیا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس عقیدے کا مدعی اور اقرار کرنے والا نہیں۔ یعنی جب کہ تم میرا شریک ٹھہراتے تھے وہ آج کہا ہیں تو وہ کہیں گے ہم تو آپ کو بتا چکے اور آپ کی خبر دے چکے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں جو اس بات کی گواہی دے کہ آپ کا کوئی…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی اس سوال کے جواب میں کہ قیامت کب آوے گی یہی کہا جاوے گا کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے، مخلوق کو اس کا علم نہ ہونے سے اس کا عدم وقوع لازم نہیں آتا۔
Read the full tafseer →اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دینے کا دن اور وقت کب آئے گا ؟
47 ؎ گزشتہ آیت میں اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دیئے جانے کا ذکر تھا جس سے مخاطبین کے ذہن میں اکثر یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہم جب وہ کچھ کر رہے ہیں جن سے آپ ہم کو منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم نے ایسے اعمال کیے تو ہم کو یہ سزا دی جائے گی جب ہم وہی کچھ کر رہے ہیں تو آخر ہم کو وہ سزا کیوں نہیں ملتی ؟ مخالفین کا یہ سوال کئی ایک مقامات پر ذہرایا بھی گیا ہے لیکن اس جگہ بغیر اس کے ذکر کرنے کے اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا باقی سب کچھ تم جان چکے ہو اور صرف اور صرف یہی قیامت کا ایک دن ایسا رہ گیا ہے جس کے متعلق تم کو اتنی تشویش ہے کہ پھر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ (Is it a non- Arabic [ book ] and an Arab [ messenger ]? - 44) The original word used for non-Arabic in the text is a'jamiyy (with hamza before the letter 'ain) which is an Arabic term for ` ineloquent speech', while ` ajam' (without hamzah in its beginning) means any nation other than Arabs. Therefore ` ajamiyy is a person who is non-Arab, even though he may speak eloquently, and a'jamiyy is a person who cannot speak eloquently (Qurtubi). The use of the word أَعْجَمِيٌّ ajamiyy in this verse means that if We had revealed the Qur'an in any language other than…
Read the full tafseer →60 That is, "None but Allah knows when the Hour would occur. " This is the answer to the disbelievers' question as to when the threat being given them of meeting with the consequences of their evil deeds will be carried out. Allah has answered their question without citing it.
61 "The Hour": the Hour of Resurrection, i.e. the Hour when the evildoers will be punished for their evil and the grievances of the oppressed good people will be redressed.
62 By this the listeners have been made to realize two things: (1) That not only of Resurrection but the knowledge of all unseen things is reserved…
Read the full tafseer →