Explained with ayahs 47–48
علم الٰہی کی وسعتیں
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں تمام انسانوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی حضرت جبرائیل ؑ نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے (اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا 44ۭ) 79۔ النازعات :44) یعنی قیامت کب ہوگی ؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت (لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 64
یعنی مایوسی کے عالم میں یہ لوگ ہر طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جن کی سیوا کرتے رہے، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آئے اور ہمیں خدا کے عذاب سے چھڑا لے، یا کم از کم ہماری سزا ہی کم کرا دے، مگر کسی طرف سے کوئی مددگار بھی ان کو نظر نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
خلاصہ تفسیر
(اوپر جس قیامت کا ذکر ہے کہ اس میں ان کو جزا ملے گی اس) قیامت کے علم کا حوالہ خدا ہی کی طرف دیا جاسکتا ہے (یعنی اس سوال کے جواب میں کہ قیامت کب آوے گی جیسا کہ کفار بغرض انکار ایسا کہا کرتے تھے یہی کہا جاوے گا کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ مخلوق کو اس کا علم نہ ہونے سے اس کا عدم وقوع لازم نہیں آتا) اور (قیامت ہی کی کیا تخصیص ہے۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے حتیٰ کہ) کوئی پھل اپنے خول میں سے نہیں نکلتا اور نہ کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب اس کی اطلاع سے ہوتا ہے (اور اس اطلاع کی وجہ اس کی صفت علم کا ذاتی ہونا ہے جو بوجہ اعلیٰ درجہ کے کمال ہونے کے دلیل توحید بھی…
Read the full tafseer →وضل عنھم ما کانوا یدعون میں قبل وظنوا مالھم من محیص (48)
عابد اپنے اپنے معبودوں سے اظہار برأت کریں گے یا معبود اپنے عابدوں سے دونوں ہی صورتوں میں مشرکوں کی نامرادی یقینی ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے جن کے اعتماد پر آخرت کو نظر انداز رکھا وہ سب ہوا ہوجائیں گے اور ان کو یقین ہو جاء گا کہ اب خدا کے عذاب سے ان کے لئے کوئی مضر نہیں ہے۔
لفظ ظن پر اس کے محل میں ہم بحث کرچکے ہیں کہ ان مواقع میں یہ یقین کے مفہوم میں آتا ہے جہاں مقصود مستقبل کی کسی ایسی حقیقت کا بیان ہو جو اگرچہ نادیدہ ہو لیکن متکلم کے نزدیک وہ یقینی ہو۔ مثلاً انی طننت انی ملاق حسابیہ (الحآقۃ 20:) (مجھے یہ یقین رہا کہ مجھے بہرحال اپنے روز…
Read the full tafseer →48۔ 1 یعنی وہ ادھر ادھر ہوگئے اور حسب گمان انہوں نے کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔
48۔ 2 یہ گمان، یقین کے معنی میں ہیں یعنی قیامت والے دن وہ یقین کرنے پر مجبور ہوں گے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا " وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا "18۔ الکہف :53)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔
19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →وضل عنھم ما ۔۔۔۔۔ من محیص (41 : 48) “ اس وقت وہ سارے معبودان سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔
کیونکہ اب ان کو اپنے سابقہ دعویٰ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہوگا کہ اس کی تصدیق کرسکیں۔ ان کے نفوس میں یہ بات گہرے طور پر بیٹھ گئی ہوگی کہ اب تو کوئی جائے فرار نہیں ہے۔ یہ ہوگی ان کی کربناک اور مدہوش کردینے والی حالت اس دن۔ جب ایسی حالت آتی ہے تو انسان اپنا تمام ماضی بھول جاتا ہے ، پھر اسے وہی حالات یاد ہوتے ہیں جو درپیش ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →5 یعنی دنیا میں جنہیں خدا کا شریک بنا کر پکارتے تھے آج ان کا کہیں پتہ نہیں۔ وہ اپنے پرستاروں کی مدد کو نہیں آتے۔ اور پرستاروں کے دلوں سے بھی وہ پکارنے کے خیالات اب غائب ہوگئے انہوں نے بھی سمجھ لیا کہ خدائی سزا سے بچنے کی اب کوئی سبیل نہیں۔ اور گلو خلاصی کا کوئی ذریعہ نہیں۔ آخر آس توڑ کر بیٹھ رہے۔ اور جن کی حمایت میں پیغمبروں سے لڑتے تھے آج ان سے قطعاً بےتعلقی اور بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔
Read the full tafseer →آیت 48{ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ } ”اور وہ سب گم ہوجائیں گے ان سے جنہیں وہ پکارا کرتے تھے اس سے پہلے“
اس دن کی سختی کو دیکھ کر گویا ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔
{ وَظَنُّوْا مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ } ”اور وہ یقین کرلیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی جائے فرار نہیں۔“
Read the full tafseer →63 یعنی قیامت کی ہولناکیوں سے اس قدر گھبرائے ہوئے اور حواس باختہ ہوں گے کہ انہیں سمجھ ہی نہ آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب دیں اور دنیا میں وہ اپنے معبودوں کے متعلق جو تصورات جمائے بیٹھے تھے کہ وہ اللہ سے سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے، سب کچھ بھول جائیں گے کیونکہ انہیں صاف نظر آرہا ہوگا کہ آج کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا، نہ ہی عذاب سے بچنے کی کوئی صورت یا کوئی جگہ نظر آتی ہے۔
Read the full tafseer →50۔ (اس لئے اب کسی اور سے آس لگانا حماقت محض ہے) (آیت) ” وظنوا “۔ ظن یہاں گمان کے معنی میں نہیں، یقین کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اور بھی متعدد موقعوں پر ہے۔ اے ایقنوا کما قال السدی وغیرہ لانہ لااحتمال لغیرہ ھنا والظن یکون بمعنی العلم کثیرا (روح) اے ایقنوا وعلموا (قرطبی) وھذا بمعنی الیقین (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
آیت نمبر 45 تا 53
ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…
Read the full tafseer →وضل عنہم ما کانوا یدعون من قبل وظنوا ما لھم من محیص اور جن جن کو یہ پہلے سے (یعنی
دنیا میں) پوجا کرتے تھے ‘ وہ سب غائب ہوجائیں گے اور وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کیلئے کہیں بچاؤ کی صورت نہیں۔
وَضَلَّ عَنْھُمْ یعنی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ سب غائب ہوں گے ‘ کوئی معبود دکھائی نہ دے گا۔
یَدْعُوْنَ پکارتے تھے ‘ یعنی پوجا کرتے تھے۔
وَظَنُّوْا اور گمان کریں گے ‘ یعنی یقین کرلیں گے۔
مَّحِیْص بھاگنے کی جگہ ‘ مفر۔
Read the full tafseer →اور جن کی یہ لوگ دنیا میں پوجا کیا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ دوزخ کے علاوہ اب ان کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔
Read the full tafseer →(1) وضل عنھم ما کانوا یدعون من قبل : یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چ اورں طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جنہیں پکارتے رہے ، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آجائے، انہیں عذاب سے چھڑا لے، یا اس میں کچھ کمی ہی کروا دے، مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔
(2) وظنوا ما لہم من محیص :”حاص یحیص حیضاً“ (ض) بھاگنا۔ ”محیص“ مصدر میمی ہے یا ظرف۔ مصدر کا معنی ہوگا بھاگنے کی کوئی صورت اور ظرف کا معنی ہے بھاگنے کی کوئی جگہ۔”ظن“ کا لفظ گمان کے علاوہ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (دیکھیے بقرہ : 46) یہاں بھی ”ظنوا“ یقین کے معنی میں ہے، کیونکہ قیامت کے دن تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیں گی اور کسی کو کوئی شک باقین ہیں رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت نمبر 47,, 48
الیہ یرد علم الساعۃ یعنی کب وہ قائم ہوگی ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا : اے محمد ! اگر تو نبی ہے تو ہمیں بتائو قیامت کب برپا ہوگی ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی وما تخرج من ثمرت من زائدہ ہے، مراد ہے جو اس کا پھل نکلتا ہے من اکمامھا اپنے برتنوں سے۔ اکمام پھلوں کے برتن ہوتے ہیں اسکی واحد کمۃ ہے یہ مال اور دوسری چیزوں کا برتن ہوتا ہے اسی وجہ سے گا بھے کے چھلکے کو کہۃ کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کمہ، کفری اس وقت ہوتا ہے جو ابھی پھٹا نہ ہو جب وہ پھٹ جائے تو کمہ نہیں ہوتا۔ سورة الرحمن میں اس کی مزید وضاحت آئیگی۔ نافع، ابن عامر اور حفص نے جمع کا صیغہ من ثمرت پڑھا ہے جبکہ باقی قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما تخرج من ثمرت من اکمامھا “ (اور کوئی پھل اپنے خول سے نہیں نکلتا) میں ما تخرج سے مراد ہے : حین تطلع یعنی جب وہ گابھے سے نکلتا ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ”‘ اذنک “ سے مراد ہے کہ ہم نے آپ کو بتایا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا یسئم الانسان “ یعنی انسان نہیں اکتا تا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولئن اذقنہ رحمۃ منا “ (اور اگر ہم اس کو اپنے پاس سے رحمت چکھائیں) یعنی عافیت…
Read the full tafseer →وَضَلَّ عَنْهُمْ [ اور بھٹک گیا ان سے ] مَّا [ وہ جس کو ] كَانُوْا يَدْعُوْنَ [ وہ لوگ پکارا کرتے تھے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَظَنُّوْا [ اور انہوں نے رائے قائم کی ] مَا لَهُمْ [ (کہ ) نہیں ہے ان کیلئے ] مِّنْ مَّحِيْصٍ [کوئی بھی بچنے کی جگہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
انسان کا حب دنیا اور ناشکری کا مزاج اور وقوع قیامت کا انکار
ان آیات میں انسان کا ایک مزاج بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان برابر اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرتا ہے مالھی مانگتا ہے اور صحت بھی اور دوسری چیزیں بھی، جب تک یہ چیزیں پاس رہتی ہیں تو خوب خوش رہتا ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچ جائے، مریض ہوجائے تنگ دستی آجائے تو اس پر ناامیدی چھا جاتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ بس اب تو میں مصیبت ہی میں رہوں گا کبھی میری حالت ٹھیک ہونے والی نہیں ہے ( یہ ان لوگوں کا حال ہوتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو نہیں پڑھا اس کے رسول کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، نیک بندوں کی صحبت نہیں اٹھائی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الیہ یرد علم الساعۃ ........ الی ....... الآانہ بکل شیء محیط “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین توحید اور قرآن کریم میں طعن واعتراض کرنے والوں کا ذکر تھا اور ان پر وعید وتنبیہ تھی، اب ان آیات میں مجموعی طور پر ان کی تحمیق وتجہیل کی جارہی ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت سے کوئی چیز مخفی نہیں، اسی ذلیل میں مشرکین مکہ قیامت کے بارے میں تمسخر اور انکار کے رنگ میں جو دریافت کرتے تھے کہ وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا بھی جواب دیا گیا کہ اس کا علم خدا ہی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے وہی جانتا ہے کہ کب آئے گی تو فرمایا اسی پروردگار کی طرف لوٹا یا جاسکتا ہے قیامت کا علم، بس اسی خالق کو قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48:۔ ” لایسئم الانسان “ یہ چوتھا شکوی ہے۔ انسان سے انسان کافر مراد ہے (مظہری) ۔ ” دعاء الخیر “ مصدر، مفعول کی طرف مضاف ہے (روح) مشرک اور کافر انسان اپنے خود ساختہ معبودوں سے دنیوی نعمتیں مانگنے سے اکتاتا نہیں اور مسلسل مانگتا ہی چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اس کی مصیبت بدستور باقی رہتی ہے، تو اپنے معبودوں سے مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اور ان کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے معبودان باطلہ سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ قنوط من الصنم ذو دعاء اللہ تعالی۔ (مدارک ج 4 ص 75، مظہری ج 8 ص 305) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ربط آیات
پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو…
Read the full tafseer →وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَظَنُّوْا مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ 48
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ترکیب : وما تخرج مانا فیۃ و من الاولی للاستغراق والثانیۃ للابتداء وقیل ماموصولۃ فی محل جرعطفا علی الساعۃ ای علم الساعۃ وعلم التی تخرج۔
تفسیر : جبکہ کفار کے مقابلے میں یہ کہا گیا تھا کہ جو نیکی کرتا ہے اپنے لیے اور بدی جو کرتا ہے تو اپنے لیے۔ جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ پوری جزاء و سزا قیامت کو ملے گی، اس پر سامع کا خیال جاسکتا تھا کہ قیامت کب ہوگی، اس بات کا جواب دیتا ہے، الیہ یردعلم الساعۃ کہ قیامت کی خبر اس کے پاس ہے، یعنی جب کوئی کسی سے اس کے تعین وقت سے سوال کرتا ہے تو اس کی خبر اللہ ہی کے سپرد کی جاتی ہے کہ وہی جانتا ہے اور اس پر کیا موقوف ہے جو کچھ عالم غیب سے دنیا میں ظہور کرتا ہے، جیسا…
Read the full tafseer →وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّاکَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَظَنُّوْا مَالَھُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 48)
(اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ سارے معبود جن کو وہ اس سے پہلے پکارتے رہے تھے اور وہ یقین کرلیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
گزشتہ آیت کے مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جنھیں تم نے میرا شریک بنا رکھا تھا تو اللہ کی طرف سے پکار اور قیامت کی ہولناکی سے ان تمام معبودوں کا تصور ان کے دماغ سے نکل جائے گا اور انھیں یقین ہوجائے گا کہ جنھیں ہم نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنا معبود بنا رکھا تھا یا جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فہم القرآن
ربط کلام : جو شخص کتاب اللہ کے بارے میں شک کرتا ہے وہ قیامت کے بارے میں بھی شک کا شکار ہوتا ہے۔
قرآن مجید کا اسلوب بیان خطاب برائے خطاب نہیں۔ قرآن انسان کی ہر پہلو پر راہنمائی کرتے ہوئے اس کی توجہ حقیقت پر مرکوز رکھتا ہے۔ اس کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی ترغیب دینا ہے۔ فکر آخرت کو اس لیے بنیادی عقائد میں شامل کیا ہے کہ اس کے سوا آدمی کو نہ نیکی کرنے میں حوصلہ ملتا ہے اور نہ ہی برائی کرنے میں خوف محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے توحید و رسالت کی تسلیم و اطاعت کے لیے آخرت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ اہل مکہ کی غالب اکثریت قیام آخرت کی منکر تھی جس بنا پر وہ نبی…
Read the full tafseer →48: وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّاکَانُوْا یَدْعُوْنَ (اور سب غائب ہوجائیں گے جن کو یہ لوگ پہلے سے پوجا کرتے تھے) یدعونؔ کا معنی عبادت کرنا۔ مِں ْ قَبْلُ (اس سے پہلے) دنیا کی زندگی میں وَظَنُّوْا (اور وہ یقین کرلیں گے) مَا لَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ (کہ ان کے لئے کہیں بچائو کی صورت نہیں) محیصؔ بھاگ کر پناہ لینے کا ٹھکانہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
تفسیر 47، الیہ یرد علم الساعۃ، یعنی جب قیامت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو اس کا علم اسی کی طرف لوٹا یا جائے گا کہ اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ ، وماتخرج من ثمرات من اکما مھا، اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص رحمہم اللہ نے، ثمرات ، جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے، ثمرۃ، مفرد کا صیغہ پڑھا ہے۔ ، من اکمامھا، ان کے خوشوں سے۔ اس کا واحد، کم، ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے پھل کا خوشہ مراد ہے، کھلنے سے پہلے۔ ، وما تحمل من النثی ولاتضع الا بعلمہ، مگر اس کی اجازت کے ساتھ ۔ فرماتے ہیں کہ اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹایاجاتا ہے۔ جیسا کہ اس کی طرف پھلوں اور ان کے نتیجے کا علم لوٹایاجاتا ہے۔ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
45۔ 47۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کے سننے اور ان کے مطلب کے سمجھنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کرتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات اور یہود کی پھوٹ اور ٹیڑھی باتوں کا ذکر فرمایا تاکہ اللہ کے رسول ﷺ کی تسلی ہوجائے کہ مشرکین مکہ کی یہ حالت کچھ نئی نہیں ہے یہود کی بھی یہی حالت ہے سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب یہود نے تورات کے موافق عمل کرنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کیں تو ان کو ڈرایا گیا کہ ان پر طور پہاڑ پٹخ دیا جائے گا اس ڈر سے انہوں نے وہ ٹیڑھی باتیں چھوڑیں یہود کی ایسی اور مثالیں بھی قرآن شریف میں ہیں صحیح 1 ؎ بخاری میں عبد اللہ بن مسعود سے اور صحیح 2 ؎ مسلم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اسی لئے فرمایا : (الیہ یرد علم الساعۃ) ” قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ “ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء ومرسلین اور فرشتے وغیرہ اس بارے میں اپنے عجز اور بےبسی کا اقرار کرتے ہیں۔ (وما تخرج من ثمرات من اکمامھا) ” اور نہ تو پھل پابھوں سے نکلتے ہیں۔ “ یعنی ان شگوفوں میں سے جن سے وہ عموماً نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے
قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →90 مشرکوں کے انجام اور ان کی یقینی محرومی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کھوجائیں گے ان سے ۔ انکے وہ سب حاجت روا و مشکل کشا ۔ جن کو یہ لوگ پکارا کرتے تھے "۔ اور وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ اور ان کے مشرکانہ فلسفوں اور خود ساختہ مفروضوں اور ڈھکوسلوں کا وہ سارا جال مٹ چکا ہوگا جو انہوں نے دنیا میں اپنے کاروبار شرک کو چلانے کے لئے پھیلا اور بچھا رکھا تھا۔ اور ان کا وہ سارا طلسم ہَبَائً مَّنْثُوْرًا ہوچکا ہوگا جس کے ذریعے یہ جاہل لوگوں کو طرح طرح سے اپنے دام تزویر میں پھانسا کرتے تھے کہ صاحب یہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی سب انہی کے ذریعے ہوتی ہے۔ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
قیامت کا علم اللہ کے پاس
تشریح : جب ایک بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا صرف وہ اللہ ہی ہے جو بےحد مضبوط قدرت والا، بےحد رحم کرنے والا اور سخت حساب لینے والا، ہر وقت ہمارے کام کو دیکھنے والا بلکہ ہماری نیتوں، ارادوں اور منصوبوں سے بھی وہ بڑی اچھی طرح واقف ہے اور دنیا و آخرت میں ہمارے حساب کتاب کر کے بدلہ دینے کے ایسے بہترین اور پکے بندوبست اس نے کر رکھے ہیں کہ ہر شخص جب دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہوگا تو اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور یوں کسی شخص کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہرگز نہ ہو سکے گی۔ اللہ بےحد مہربان ہے اور بےحد سخت بھی ہے۔ اگر بار بار نصیحت کا اثر بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
آیات 47 تا 54۔
اسرار ومعارف۔
اور یہ کہ قیامت کب ہوئی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہونے کا وقت کون سا ہے اس کا علم اللہ کو زیب دیتا ہے انسان کے بس کی بات نہیں نہ انسان نے اس روز فیصلہ سنانا ہے جس کا کام ہے وہ جانتا ہے بلکہ دار دنیا میں بھی جو کام صرف اس کے کرنے کے ہیں یا اس کی قدرت سے ہو رہے ہیں صرف وہی جانتا ہے اسے خبر ہے کہ کون سے درخت کے خوشے میں کیسا اور کتنا پھل ظاہر ہوگا۔
مادہ کے حمل کی خبر۔
اور جو کوئی حاملہ حمل سے رہتی ہے اس کے حکم کا حال اور جو کچھ پیدا کرتی ہے سب اس کے علم میں ہے اگر عہد جدیدہ میں مشین سے کسی حاملہ کے بارے میں جانناممکن ہے تو یہ علم الٰہی کے مقابل نہیں آتا کہ کسی ایک کے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چاروں طرف نگاہ دوڑائیں گے مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →(41:48) وضل عنھم ما کانوا یدعون من قبل ضل ماضی واحد مذکر غائب (بمعنی جمع مستعمل ہے) ضلال (باب ضرب) مصدر۔ کھوگیا۔ گم ہوگیا۔ بھٹک گیا۔ راہ سے دور جاپڑا۔ ماکانوا یدعون ما موصول ۔ کانوا یدعون (جن کی وہ دنیا میں بطور معبود) پوجا کیا کرتے تھے۔ ای شرکاء یہ فاعل ہوا فعل ضل کا اور عنھم میں ضمیر جمع مذکر غائب ان مشرکین کی طرف راجع ہے جن سے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ وہ تمہارے معبودان جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے کہاں ہیں ؟
ترجمہ آیت : اور جن کی یہ پہلے (دنیا میں ) پوجا کیا کرتے تھے وہ سب غائب ہوں گے کوئی معبود دکھائی نہ دے گا۔ یہ جملہ حالیہ ہے
ظنوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ظن (باب نصر) گمان کرنا۔ خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 54 : یرد (لوٹایا جاتا ہے) علم الساعۃ (قیامت کا علم) اکمام ( غلاف) تحمل (حاملہ ہوتی ہے) اذنا (ہم نے بتایا ، اطلاع کی) محیص (بھاگ کر بچ جانا ، پناہ گاہ) قنوط (نامید) نا بجانبہ (اس نے اپنا پہلو بچایا) دعاء عریض ( لمبی چوڑی دعا) مریۃ (شک) محیط (گھیرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 54 : جب کفار اور مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ قیامت کا ہولناک دن آنے ہی والا ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا ۔ میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دنیا ہوگا تو وہ قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ سن سن کر ہمارے تو کان پک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ حشر کے منکر ہیں ، ان کے ہر کام کا دارمدار دنیا کی زندگی اور دنیا کی خوب پر ہے اس لیے ان میں سے ہر ایک شخص دنیا کی خوبی کے مانگتے سے کبھی نہیں ، اکتاتا اگر ان کا بس چلے تو ساری دنیا کی دولت لے کر اپنے گھر میں ڈال لے لیکن ذرا کوئی افتاد پڑنا شروع ہوئی اور اسباب ظاہری کا سلسلہ اپنے خلاف دیکھاتو پھر مایوس اور ناامید ہوتے بھی دیر نہیں لگتی ، اس وقت اس کی نظر میں صرف پیش آمدہ اسباب پر محدود ہوتی ہے اس قادر مطلق مسبب الاسباب پر اعتماد نہیں رکھتا، جو چاہے تو ایک آن میں سلسلہ اسباب کو الٹ پلٹ کرکے رکھ دے، اس مایوسی کے بعد اگر فرض کیجئے اللہ نے تکلیف ومصیبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[24] یعنی قیامت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ یہ منکرین کے اس سوال کے جواب میں ہے کہ قیامت کب آئے گی۔[25] یعنی ہم میں کوئی اقبالی مجرم نہیں جو اس جرم (یعنی شرک) کا اعتراف کرنے کو تیار ہو۔ گویا اس وقت نہایت دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کر واقعے کا انکار کرنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة المومن کی آیات 74, 73 صفحہ 1132 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
حل لغات :۔ اکمام ۔ کم کی جمع ہے ۔ پھل کا غلاف ۔ شگوفے لایسئمم ۔ اکتا نہیں جاتا ہے لیوس ۔ ناامید ہراساں ۔ ناامید ۔
پورا پورا علم صرف اللہ کو ہے
1: غرض یہ ہے کہ کوئی انسان یہ نہیں جان سکتا ۔ کہ مستقبل میں کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے اور فردا کی آغوش میں کون سے حوادث پنہاں ہیں ۔ کوئی یقینی طور پر غیب کے متعلق پیش گوئی نہیں کرسکتا ۔ اور نہیں کہہ سکتا ۔ کہ آئندہ بطن تقدیر سے کیا تولد ہونے والا ہے اس باب خاص میں سب لوگ ناآشنا اور بےبہرہ ہیں ۔ ہاں انبیاء (علیہ السلام) کو بعض حالات سے مطلع کردیا جاتا ہے ۔ کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ۔ مگر ہر واقعہ اور ہر بات کے متعلق وہ بھی جواب نہیں دے سکتے ۔ قیامت کے…
Read the full tafseer →(48) اور جن معبودوں کو قیامت سے پہلے یہ لوگ پکارا کرتے تھے اور جن کی پوجا کیا کرتے تھے وہ سب ان کی نظروں سے غائب ہوجائیں گے اور یہ مشرک اس بات کو جان لیں گے کہ ان کے واسطے فرار کی اور بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے یعنی وہ سب شرکاء ان کی نظروں سے غائب اور اوجھل اور گم ہوجائیں گے اور مشرک اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں گے کہ اب کہیں خلاصی اور بھاگ نکلنے کی اور بچائو کی جگہ نہیں آگے منکروں کی اخلاقی کمزوری کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ف 1۔ اور یہ غایت ناشکری و سوء ظن باللہ و کراہت لامر اللہ ہے۔
Read the full tafseer →جن جن کو وہ پکارتے رہے سب کے سب اس روز کھوئے جائیں گے
48 ؎ بلاشبہ وہ دن ہی ایسا دن ہے کہ سارے پیر اپنے مریدوں سے اور سارے مرید اپنے پیروں سے اظہار براءت کریں گے یہی وجہ ہے کہ وہ دن مشرکوں کی نامرادی اور ناکامی کا دن ہوگا کیونکہ انہوں نے جن جن سہاروں اور آسروں سے اس دن کو بھلائے رکھا اور اس کے لیے کچھ بھی تیاری نہ کی اس دن ان سب کو یقین ہوجائے گا کہ اب عذاب الٰہی سے ان کو کوئی نہیں بچائے گا اور اس وقت ان کو یقین ہوجائے گا لیکن اس وقت کسی بات کا یقین آجانا جب اس کا وقت نکل چکا کیسے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ گاڑی جب چھوٹ گئی تب یقین آیا کہ ہاں فی الواقع گاڑی چھوٹ گئی تو کیا وہ اس یقین سے واپس آجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ (Is it a non- Arabic [ book ] and an Arab [ messenger ]? - 44) The original word used for non-Arabic in the text is a'jamiyy (with hamza before the letter 'ain) which is an Arabic term for ` ineloquent speech', while ` ajam' (without hamzah in its beginning) means any nation other than Arabs. Therefore ` ajamiyy is a person who is non-Arab, even though he may speak eloquently, and a'jamiyy is a person who cannot speak eloquently (Qurtubi). The use of the word أَعْجَمِيٌّ ajamiyy in this verse means that if We had revealed the Qur'an in any language other than…
Read the full tafseer →64 That is, "In their utter hopelessness they will look around to see if they could find any one of those whom they used to serve and worship in the world, who could come to their rescue and save them from God's torment, or at least have their punishment reduced, but they will find no helper on any side."
Read the full tafseer →