ناکردہ گناہ سزا نہیں پاتا۔
اس آیت کا مطلب بہت صاف ہے بھلائی کرنے والے کے اعمال کا نفع اسی کو ہوتا ہے اور برائی کرنے والے کی برائی کا وبال بھی اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ پروردگار کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ ایک کے گناہ پر دوسرے کو وہ نہیں پکڑتا۔ ناکردہ گناہ کو وہ سزا نہیں دیتا۔ پہلے اپنے رسول ﷺ بھیجتا ہے۔ اپنی کتاب اتارتا ہے، اپنی حجت تمام کرتا ہے، اپنی باتیں پہنچا دیتا ہے، اب بھی جو نہ مانے وہ مستحق عذاب و سزا قرار دے دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 59
یعنی تیرا رب کبھی یہ ظلم نہیں کرسکتا کہ نیک انسان کی نیکی ضائع کر دے اور بدی کرنے والوں کو ان کی بدی کا بدلہ نہ دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
(آیت) ءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ۔ عرب کے سوا جتنی قومیں دنیا میں ہیں ان سب کو عجم کہا جاتا ہے اور جب اس پر حرف ہمزہ بڑھا کر اعجم کہا جائے تو اس کے معنی کلام غیر فصیح کے ہوتے ہیں۔ اس لئے عجمی اس شخص کو کہیں گے جو عربی نہ ہو، اگرچہ کلام فصیح بولتا ہو۔ اور اعجمی اس کو جو کلام فصیح نہ کرسکے۔ (قرطبی)
آیت مذکورہ میں اعجمی فرمایا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم قرآن کو عربی زبان کے علاوہ کسی زبان میں بھیجتے تو قریش عرب جو قرآن کے پہلے مخاطب ہیں ان کو یہ شکایت ہوتی کہ یہ کتاب ہماری سمجھ میں نہیں آتی، اور تعجب سے کہتے کہ نبی تو عربی ہے اور کتاب اعجمی ہے جو فصیح نہیں۔
(آیت) قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسآء فعلیھا وما ربک بظلام للعبید (46)
مخالفین سے بےپروائی کا اعلان
یہ ان لوگوں سے پروائی کا اظہار ہے۔ فرمایا کہ نہ کسی کی نیکی سے خدا کو کوئی نفع پہنچنے والا ہے اور نہ کسی کی بدی سے اس کا کوئی نقصان ہے۔ جو نیکی کرے گا اس کا فائدہ اسی کو حاصل ہوگا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی اپنے بندوں پر ظلم کرنے الا نہیں ہے۔ جس کے جو اعمال ہوں گے اسی کے ثمرات و نتائج وہ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو راہ راست دکھانے کی یہ سرگرمی جو ہے اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے بغیر خدا…
Read the full tafseer →46۔ 1 اس لئے کہ وہ عذاب صرف اسی کو دیتا ہے جو گناہ گار ہوتا ہے، نہ کہ جس کو چاہے، یوں ہی عذاب میں مبتلا کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔
19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →رسالت محمدی ﷺ نے اعلان کردیا کہ انسانیت اب بالغ ہوچکی ہے اور اس کے کاندھوں پر آزادی کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اپنی کئے کا ذاتی طور پر ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جو شخص جو راستہ چاہے اختیار کرے۔
وما ربک بظلام للعبید (41 : 46) “ اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے ”۔
Read the full tafseer →12 یعنی خدا کے ہاں ظلم نہیں۔ ہر آدمی اپنے عمل کو دیکھ لے۔ جیسا کرے گا وہ ہی سامنے آئے گا۔ نہ کسی کی نیکی اس کے ہاں ضائع ہوگی نہ ایک کی بدی دوسرے پر ڈالی جائے گی (ربط) چونکہ نیکی بدی کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن ملے گا اور کفار اکثر سوال کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی، اس لیے اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ (اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ) 41 ۔ فصلت :47)
Read the full tafseer →آیت 46{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَا } ”جو کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اپنے ہی لیے کرتا ہے ‘ اور جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔“
{ وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۔ } ”اور آپ کا رب کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے اپنے بندوں کے حق میں۔“
Read the full tafseer →60 یعنی آپ کے پروردگار کو اپنے بندوں کو خواہ مخواہ سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔ نہ وہ یہ ظلم کرسکتا ہے کہ نیکی کرنے والوں کو کچھ بدلہ نہ دے اور نہ یہ کہ بدی کرنے والوں کو ان کی بدی کی کوئی سزا نہ دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
46۔ اور چونکہ یہ یقین و ایمان سے محروم ہیں، اس لیے قدرۃ سکون و اطمینان کی دولت سے بھی محروم ہیں) (آیت) ” ولقد ..... فیہ “۔ چناچہ اسی توریت ہی کی طرح آج قرآن کے بارے میں بھی لوگ اختلاف کررہے ہیں، اور بہت سے اشرار اسے کلام الہی تسلیم کرنے سے انکار تو کررہے ہیں۔ مقصود رسول کو تسکین دینی ہے کہ خلقت کی یہ عادت انکار تو پہلے سے چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” لولا ...... لقضی بینھم “۔ وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اسی دنیا میں آگیا ہوتا۔
47۔ (کہ کسی کی کی ہوئی نیکی کو شمار سے چھوڑ دے اور یا کسی کی نہ کی ہوئی بدی کو لکھ لے) (آیت) ” وما ..... للعبید “۔ آیت کے اس ٹکڑے میں تردید آگئی ان مشرک جاہلی قوموں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
آیت نمبر 45 تا 53
ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…
Read the full tafseer →من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا وما ربک بظلام للعبید جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ
اپنے نفع کیلئے (کرتا ہے) اور جو برا عمل کرتا ہے سو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور آپ کا رب بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں۔ یعنی نیکی کرنے والوں کے اعمال کا ثواب اللہ ضائع نہیں کرے گا ‘ نہ بدکاروں کو سزا جرم سے زائد دے گا۔
ایک شبہ : اللہ تو تھوڑا بھی ظلم نہیں کرتا ‘ کیونکہ ظلم یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرے اور ہر چیز کا مالک اللہ ہے ‘ اسلئے اسکے کسی فعل میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ بڑا ظالم نہیں ہے تو اس کا کیا یہ مطلب ہے کہ اللہ تھوڑا…
Read the full tafseer →جو شخص خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرتا ہے اس کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو شرک کرے گا اس کی سزا اسی کو بھگتنی پڑے گی اور آپ کا رب تو بغیر کسی جرم کے بندوں کی گرفت فرمانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →(1) من عمل صالحا فلنفسہ ’: اس میں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لئے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پر اس کا کوئی وبال نہیں۔ جو صالح عمل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔
(2) وما ربک بظلام للعید : اور اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں کہ کسی کو اس کی نیکی کا بدلا نہ دے، یا ایک کی بدی دوسرے پر ڈال دے۔
(3) یہاں لفظ ”بظلام“ پر ایک مشہور سوال ہے، اس سوال اور اس کے جواب کے لئے دیکھیے سورة آل عمران (182) انفال (51) اور سورة حج (10) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →من عمل صالحا فلنفسہ یہ کلاف شرط اور جواب ہے، اسی طرح یہ کلام ہے ومن اسمآء فعلیھا للہ تعالیٰ بندوں کی اطاعت سے مستغنی ہے پس جو اطاعت کرے اس کے لیے ثواب ہے اور جو برائی کر عقاب اسی پر ہوگا وما ربک بظلام للعید۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے تھوڑے اور زیادہ ظلم سے نفی کی۔ جب مبالغہ کی نفی ہوئی تو غیر کی بھی نفی ہوگئی اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا کہ فرمان ہے : ان اللہ لا یظلم الناس شیئاً (یونس : (44 عادل سے امین ارض سے وہ امین السماء سے وہ رب تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں فرمایا : اے میرے بندو ! میں نے اپنی ذات پر ظلم کو حرام کردیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان حرام کردیا تم باہم ظلم نہ کیا کرو نیز وہ حکیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک “ اور اگر یہ بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی (کہ پورا عذاب آخرت میں ملے گا) یعنی اللہ کی طرف سے وقت اور ان کی اجل کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →مَنْ عَمِلَ [ جس نے عمل کیا ] صَالِحًــا [نیکی کا ] فَلِنَفْسِهٖ [ تو (وہ) اس کے اپنے آپ کے لئے ] وَمَنْ اَسَاۗءَ [ اور جس نے برائی کی ] فَعَلَيْهَا ۭ [ تو (وہ) اس (کی جان) پر ہے ] وَمَا رَبُّكَ [ اور نہیں ہے آپ کا رب ] بِظَلَّامٍ [ کبھی بھی ظلم کرنے والا ] لِّـلْعَبِيْدِ [ بندوں پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس دن مشرکین کی حیرانی و بربادی
قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف حوالہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت کب واقع ہوگی اس کا علم اللہ عالی کے سوا کسی کو نہیں، سور الاعراف میں فرمایا (يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا ۭقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ) وہ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ کب ہے اس کا واقعہ ہونا، آپ فرما دیجیے کہ اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے اس کو ظاہر نہیں فرمائے گا مگر وہی۔ ایک مرتبہ جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ کے پاس انسانی صورت میں آئے اور متعدد سوالات کیے ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
بیان دلائل وقدرت وتنبیہ وتہدید برائے ملحدین درآیات و احکام خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض ...... الی ...... بظلام للعبید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دعوت الی اللہ کے مضمون کے ضمن میں معاندین کے مقابلہ اور ان کی رکاوٹوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ذکر فرما رہے ہیں جن کو تصور کرکے داعی الی اللہ کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ طبعی طور سے یہ ممکن ہے کہ داعی الی اللہ مخاطبین کی بےبسی غفلت عناد اور بغاوت کا رنگ دیکھ کر مایوس ہوجائے تو اس کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھنی چاہئے کہ زمین…
Read the full tafseer →45:۔ ” من عمل۔ الایۃ “ یہ بشارت و تخویف ہے۔ جو شخص نیک عمل کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ملے گا۔ اور جو برے کام کرے گا ان کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔ نیک لوگوں کو نیکیوں کی جزا ملے گی۔ اور برے لوگوں کو ان کی برائیوں کی سزا۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں فرماتا اور نہ کسی کی ھق تلفی کرتا ہے۔ کسی شخص کی کوئی نیکی ضائع نہیں کی جائے گی اور کسی کی ناکردہ گناہ کی سزا نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور واضح کیا کہ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس پروردگار عالم کے سامنے ریزہ ہو جائو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ فرمایا اگر مشرک لوگ اپنے غرور وتکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تو اس کو مقرب مخلوق ملائکہ موجود ہیں جو صبح و شام اس کی تسبیح تحمید بیان کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے بعث بعد الموت کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا کہ جس طرح خشک زمین پر اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اس کو ہرا بھرا کردیتا ہے ۔ یعنی مردہ زمین کو زندگی بخشا ہے ۔ اسی طرح قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا ،…
Read the full tafseer →مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْہَا 0 ۭ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ 46
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
تفسیر : پھر یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔
ولقد آتینا موسیٰ الکتاب فاختلف فیہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی، یعنی تورات سو اس میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا، کسی نے مانا کسی نے انکار کیا۔ اب غضب الٰہی تو یہی چاہتا تھا کہ اس سرکشی پر ہلاک کردیے جائیں مگر اس کی رحمت سے ان کے ہلاک ہونے کا ایک خاص وقت مقرر ہوچکا ہے اور کسی کے لیے ایک وقت میں آکر ایماندار ہونا لکھ دیا ہے اور کسی کے ہلاک نہ ہونے کی وجہ کوئی خاص مصلحت رکھی ہوئی ہے کہ یتیم اس کے ساتھ متعلق ہیں یا کوئی اور بات ہے، اس لیے ان کا ابھی فیصلہ نہیں ہوتا، اس سے وہ اور بھی قرآن مجید سے بڑے شک میں پڑگئے کہ اگر یہ کلام الٰہی تھا تو اس کے انکار سے ہم…
Read the full tafseer →مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَـآئَ فَعَلَیْھَا ط وَمَا رَبُّـکَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 46)
(جو نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو بدی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، اور آپ کا رب بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ )
مخالفین سے بےنیازی کا اعلان
بات کو پوری طرح واضح کردینے کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص آپ کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے اور آپ کی ہدایت کے مطابق اپنا رویہ بدلتا اور اپنے اعمال کو درست کرلیتا ہے تو اس کا فائدہ اسے ہی پہنچے گا، نہ پروردگار کو اس کا کوئی فائدہ ہوگا اور نہ آپ اس سے کوئی فائدہ اٹھائیں گے۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لانے والوں کا صرف قرآن کے بارے میں یہ رویہ نہیں بلکہ ایسے لوگوں کا تورات کے بارے میں بھی یہی رویہ تھا۔
قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں میں سب سے جامع اور مفصّل کتاب تورات ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا۔ کچھ لوگ ایمان لائے اور باقی نے انکار کردیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ طے شدہ نہ ہوتا تو ان کا دنیا میں ہی فیصلہ کردیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ لوگوں کو دنیا میں اچھے، برے عمل کے لیے مہلت دی جائے۔ اور آخرت میں حساب و کتاب کیا جائے۔ اس مہلت کی وجہ سے ہی لوگوں تورات کے…
Read the full tafseer →مَنْ عَمِلَ صَالِحًــا فَلِنَفْسِهٖ (جو شخص نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے نفع کیلئے) اس کے نفس کو اس کا فائدہ ہوگا۔ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْهَا (اور جو شخص برا عمل کرتا ہے اس کا وبال اسی پر پڑیگا) اس کے نفس کو اس کا ضرر پہنچے گا۔ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ (اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں) کہ غیر مجرم کو عذاب دے۔
Read the full tafseer →45، ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فاختلف فیہ، پس اس کی تصدیق کرنے والے اور تکذیب کرنے والے تھے۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) کی قوم نے آپ (علیہ السلام) کی کتاب میں اختلاف کیا۔ ، ولولاکلمۃ سبقت من ربک قرآن کی تکذیب کرنے والوں سے عذاب مؤخر کرنے میں ، لقضی بینھم، ان کے عذاب سے فارغ ہوچکے ہوتے اور ان کو جلدی ہلاک کردیتے۔ ، وانھم لفی شک منہ، آپ (علیہ السلام) کی سچائی میں۔ ، مریب، ان کے لیے شک واقع کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
45۔ 47۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کے سننے اور ان کے مطلب کے سمجھنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کرتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات اور یہود کی پھوٹ اور ٹیڑھی باتوں کا ذکر فرمایا تاکہ اللہ کے رسول ﷺ کی تسلی ہوجائے کہ مشرکین مکہ کی یہ حالت کچھ نئی نہیں ہے یہود کی بھی یہی حالت ہے سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب یہود نے تورات کے موافق عمل کرنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کیں تو ان کو ڈرایا گیا کہ ان پر طور پہاڑ پٹخ دیا جائے گا اس ڈر سے انہوں نے وہ ٹیڑھی باتیں چھوڑیں یہود کی ایسی اور مثالیں بھی قرآن شریف میں ہیں صحیح 1 ؎ بخاری میں عبد اللہ بن مسعود سے اور صحیح 2 ؎ مسلم میں…
Read the full tafseer →آیت 46
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولقد اتینا موسیٰ الکتب) ” اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تھی “ جس طرح آپ کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انہوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہوسکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور اسبقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہوسکتا : (آیت) ” تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا “ جس سے اہل ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–54
قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے
قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →85 اللہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں کرتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارا رب ایسا نہیں کہ کوئی ظلم کرے اپنے بندوں پر "۔ یعنی { ظلام } مبالغے کا صیغہ یہاں پر کثرت متعلقین ۔ یعنی عبید ۔ کے اعتبار سے لایا گیا ہے۔ ورنہ اللہ پاک تو اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی کوئی ظلم نہیں کرتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنَّ اللّٰہَ لا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ } ۔ (النسائ : 40) پس نہ تو وہ کسی کو جرم کے بغیر کوئی سزا دیتا ہے بلکہ بہت سے گناہوں کو تو وہ یونہی معاف کرتا اور ان سے درگزر فرماتا جاتا ہے ۔ { وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ } ۔ (الشوری : 24) اور نہ ہی وہ جرم سے زیادہ کسی کو سزا دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے
تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیات 45 تا 46۔
اسرار ومعارف۔
ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر جب کتاب نازل ہوئی تھی تویہی سلوک ان سے کیا گیا تھا کہ کسی نے مانا اور کسی نے محض اعتراضات کیے اور انکار کیا وہی سلوک آپ سے کر رہے ہیں کہ یہوداکثر اعتراضات دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں اگر یہ مقدور نہ کردیا گیا ہوتا کہ عذاب وثواب کا فیصلہ میدان محشر میں ہوگا تو انہیں ابھی فیصلہ سنادیاجاتا کہ انہیں ان کی غلط فہمیاں چین نہیں لینے دیتیں بہرحال جو نیکی کرتا ہے وہ خود اس کے اپنے کام آئے گی اور جو برائی کرتا ہے وہ خود اس کا نتیجہ بھگت لے گا تیرا پروردگار اپنے بندوں اور اپنی مخلوق میں سے کسی کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →ف 9 کہ ان کی نیکیاں برباد کر دے یا ان پر ناکردہ گناہوں کا بوجھ لاد دے۔ مقصد کلیۃً ظلم کی نفی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ( ان اللہ لا یظلم الناس شیئا) کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا۔ (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →(41:46) عمل صالحا : ای عمل عملا صالحا نیک عمل کیا۔
فلنفسہ : ای فلنفسہ نفعہ لا لغیرہ اس کا اجر بھی اسی کے لئے ہے غیر کے لئے نہیں ہے۔
اسائ۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے برا کیا۔ اس نے برائی کی۔ اساء ۃ مصدر (افعال) سے جس کے معنی کسی برے کام کو انجام دینے کے ہیں۔
علیہا۔ اسی پر ۔ یعنی اس کی برائی کی سزا بھی اسی پر ہے۔ غیر پر نہیں ہے۔ ما۔ نافیہ ہے۔
ظلام۔ ظلم کرنے والا۔ ظلم سے مبالغہ کا صیغہ ہے یہ لفظ حق تعالیٰ شانہ کی نسبت سے قرآن مجید میں مندرجہ ذیل مقامات پر آیا ہے
(1) ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللّٰہ لیس بظلام للعبید (8:51)
(2) ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللّٰہ لیس بظلام للعبید (22:10)
(3) ذلک بما قدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 26 : ذوعقاب ( سزا دینے والا) اعجمی (جو عربی نہ ہو ، عجمی ہو) ظلام (بہت زیادہ ظلم کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 : اصل میں جو لوگ زندگی کے معاملات میں سنجیدہ اور سمجھ دار ہوتے ہیں وہ بات کو سمجھنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں لیکن غیر سنجیدہ لوگ جن میں تدبر کی کمی ہوتی ہے وہ ہمیشہ حق و صداقت کی بات کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ گھٹیا اور غیر سنجیدہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ کی زبان عربی ہے اس میں کسی کلام کو گھڑ لینے میں کیا دیر لگتی ہے ( نعوذ باللہ) اگر یہ کتاب اور کلام کسی عجمی زبان میں ہوتا تو ہم سمجھتے کہ واقعی آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
مشرکوں کا مسخراپن۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جہاں مشرکین کی اور مسخرا پن کی باتیں تھیں وہاں مسخراپن کے طور پر یہ لوگ اکثر قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے کہ جس قیامت کے دن کی سزا سے ڈرایاجاتا ہے وہ آخر کب آئے گی ، مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ قیامت کے آنے کے وقت اور میوؤں کا درختوں کے غلافوں میں سے نکلنے کا وقت اور مادہ کے حمل کو اور اس کی ساعتوں کو اور وضع کے ووقت کو اور اس کے ناقص وغیرہ اور اچھے اور برے نرومادہ ہونے کو رب جانتا ہے پھر اللہ کے رسول ﷺ سے گھڑی گھڑی مسخراپن سے قیامت کے آنے کا وقت کیوں پوچھتے ہو، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اولیائے کرام اصحاب کشف بسا اوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[22] اور وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی ہے کہ پورا عذاب آخرت ہی میں ہوگا۔
[23] وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اس دنیا میں آگیا ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ف 1: اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی خاص زبان نہیں اس نے تمام زبانوں کو پیدا کیا ہے ۔ اس لئے اس کا تعلق ربوبیت ہر زبان میں یکساں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا ۔ کہ پھر جب کہ اس کا تعلق تمام زبانوں کے ساتھ برابر کا ہے ۔ تو عربی کو کیوں ترجیح دی گئی ۔ اور کیوں قرآن کو جو دنیا کی آخری کتاب ہے ۔ اس زبان میں نازل کیا گیا ؟ ۔ جواب یہ ہے کہ یہی زبان ایسی ہے ۔ جس میں مذہبی اور دینی مطالب کے لئے ایضاح و تفصیل کی قابلیت اور استعداد دوسری زبانوں سے زیادہ ہے ۔ اور اس لئے بھی عربی زبان کا استعمال ناگریز تھا ۔ کہ جن لوگوں کو اولاً رشدوہدایت کے لئے منتخب کرنا ضروری تھا ۔ وہ عرب تھے ۔ قرآن کا عامل اور پیش کرنے والا…
Read the full tafseer →(46) جوشخص نیک عمل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو برا کرتا ہے تو اس کی برائی کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ یعنی بھلے کام کرنے والوں کو بھلائی کا نفع پہنچے گا اور برائی کرنے والوں کو برائی کا نقصان اور ضرر پہنچے گا کیونکہ آپ کے پروردگار کے ہاں ظلم نہیں ہے جیسا کوئی کرے گا ویسا بھرے گا آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی ایسا نہیں کہ کوئی نیکی جو بشرطہا عمل میں لائی گئی ہو اس کو شمار نہ کرے یا کسی بدی کو زائد شمار کرلے۔
Read the full tafseer →جو شخص اچھے عمل کرتا ہے اس کو فائدہ اور برے عمل کرنے والے کا نقصان بھی اپنا ہے
46 ؎ زیر نظر آیت میں قانون الٰہی کا اعلان بھی ہے اور متکبرین سے بےپروائی کا اظہار بھی اور قانون الٰہی یہ ہے کہ جو شخص نیکی کرتا ہے کل اس نیکی کا نتیجہ بھی اس کو ملے گا اور بعینہٖ برائی کمانے والا بھی اپنی برائی سے دوچار ہوگا اور اس کا وبال بھی اس پر پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کا کسی کے نیکی کرنے سے کچھ فائدہ اور کسی کے برائی کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اللہ بےنیاز ہے اس کو کسی کی کوئی احتیاج نہیں اور نہ ہی اس کی طرف سے کسی انسان پر کسی طرح کا کوئی ظلم ہوگا جس کے جو اعمال ہوں گے اس کے ثمرات و نتائج وہ ان کے سامنے پیش کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ (Is it a non- Arabic [ book ] and an Arab [ messenger ]? - 44) The original word used for non-Arabic in the text is a'jamiyy (with hamza before the letter 'ain) which is an Arabic term for ` ineloquent speech', while ` ajam' (without hamzah in its beginning) means any nation other than Arabs. Therefore ` ajamiyy is a person who is non-Arab, even though he may speak eloquently, and a'jamiyy is a person who cannot speak eloquently (Qurtubi). The use of the word أَعْجَمِيٌّ ajamiyy in this verse means that if We had revealed the Qur'an in any language other than…
Read the full tafseer →59 That is, "Your Lord can never be so unjust as to Iet go to waste the good deeds of a good man and fail to punish the evil-doers for their evil."
Read the full tafseer →