Fussilat 41:45

Fussilat · from ayah 45

41:45

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ ؕ— وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ ؕ— وَاِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ ۟وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِيۡهِ‌ؕ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ وَاِنَّهُمۡ لَفِىۡ شَكٍّ مِّنۡهُ مُرِيۡبٍ

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We had already given Moses the Scripture, but it came under disagreement. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been concluded between them. And indeed they are, concerning the Qur'an, in disquieting doubt.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 6 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:45

اِس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا اگر تیرے رب نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر دی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی تھی، سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر (وه) بات نہ ہوتی (جو) آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی مقرر ہو چکی ہے۔ توان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ ہو چکا ہوتا، یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی، پھر اس میں بھی اختلاف ہوا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی، تو ان لوگوں کا معاملہ چکا ہی دیا گیا ہوتا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو خلجان میں ڈال رکھا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا اور بیشک وہ ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بے شک ہم نے موسٰی ؑ کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں (بھی) اختلاف کیا گیا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے فرمان پہلے صادر نہ ہو چکا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک وہ اس (قرآن) کے بارے میں (بھی) دھوکہ دینے والے شک میں (مبتلاء) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہوچکی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کردیا جاتا اور بلاشبہ وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میں ہیں جو بےچین رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تو اس میں (بھی) اختلاف کیا گیا۔ اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور یہ لوگ بھی اس (قرآن) کی نسبت ایسے شک میں پڑے ہیں جو انہیں بےچین کئے دیتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تھی تو اس میں اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈال دینے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی سو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقینا ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کبھی کا کردیا گیا ہوتا اور یہ لوگ یقینی طور پر اس (قرآن) کی بناء پر ایک سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو بھی کتاب دی تھی اس میں بھی اختلاف پڑا بس اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے پروردگار کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ لوگ اس کی طرف سے ایسے شک میں ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے موسیٰ ؑ ٰ کو بھی کتاب دی تھی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ کردیا جاتا اور یقینا وہ اس کے بارے میں خلجان انگیز شک میں مبتلا ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے رب کی طرف سے پہلے سے ایک بات ٹھہر نہ چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس قرآن سے الجھ رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And in the past We gave Moses the Book and yet it became an object of dispute. If your Lord's decree had not gone forth before, a decisive judgement would have been made among them, once and for all. Surely they are in a disquieting doubt about it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We gave Musa the book, then it was disputed (as well). But for a word that had already come from your Lord, the matter would have been decided between them. They are in confounding doubt about it.

— Muhammad Taqi Usmani

And We gave Musa the book, then it was disputed (as well). But for a word that had already come from your Lord, the matter would have been decided between them. They are in confounding doubt about it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We gave Musa the Scripture, but dispute arose therein. And had it not been for a Word that went forth before from your Lord, and the matter would have been settled between them. But truly, they are in grave doubt thereto.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We verily gave Moses the Scripture, but there hath been dispute concerning it; and but for a Word that had already gone forth from thy Lord, it would ere now have been judged between them; but lo! they are in hopeless doubt concerning it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We had already given Moses the Scripture, but it came under disagreement. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been concluded between them. And indeed they are, concerning the Qur'an, in disquieting doubt.

— Saheeh International

We had given the Book to Moses about which people greatly disagreed. Had the word of your Lord not been decreed, He would have certainly settled their differences (there and then). They were greatly suspicious and doubtful about the Book of Moses.

— Muhammad Sarwar

And certainly We gave the Book to Musa, but it has been differed about, and had not a word already gone forth from your Lord, judgment would certainly have been given between them; and most surely they are in a disquieting doubt about it.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We vouchsafed Unto Musa the Book, and difference arose concerning it; and had not a word gone forth from thy Lord, the affair would have been decreed between them. And verily they are in regard thereto in doubt and dubitating.

— Abdul Majid Daryabadi

We certainly gave Moses the Book aforetime: but disputes arose therein. Had it not been for a Word that went forth before from thy Lord, (their differences) would have been settled between them: but they remained in suspicious disquieting doubt thereon.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–45

قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اس کے حکم احکام اس کے لفظی و معنوی فوائد کا بیان کر کے اس پر ایمان نہ لانے والوں کی سرکشی ضد اور عداوت کا بیان فرما رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے مطلب یہ ہے کہ نہ ماننے کے بیسیوں حیلے ہیں نہ یوں چین نہ ووں چین۔ اگر قرآن کسی عجمی زبان میں اترتا تو بہانہ کرتے کہ ہم تو اسے صاف صاف سمجھ نہیں سکتے۔ مخاطب جب عربی زبان کے ہیں تو ان پر جو کتاب اترتی ہے وہ غیر عربی زبان میں کیوں اتر رہی ہے ؟ اور اگر کچھ عربی میں ہوتی اور کچھ دوسری زبان میں تو بھی ان کا یہی اعتراض ہوتا کہ اس کی کیا وجہ ؟ حضرت حسن بصری کی قرأت ! عجمی ہے۔ سعید بن جبیر بھی یہی مطلب بیان کرتے ہیں۔ اس سے ان کی سرکشی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 56 یعنی کچھ لوگوں نے اسے مانا تھا اور کچھ مخالفت پر تل گئے تھے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 57 اس ارشاد کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ طے نہ کردیا ہو تاکہ لوگوں کو سوچنے سمجھنے کے لیے کافی مہلت دی جائے گی تو اس طرح کی مخالفت کرنے والوں کا خاتمہ کردیا جاتا۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ نے پہلے ہی یہ طے نہ کرلیا ہوتا کہ اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز کیا جائے گا تو دنیا ہی میں حقیقت کو بےنقاب کردیا جاتا اور یہ بات کھول دی جاتی کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 58 اس مختصر سے فقرے میں کفار مکہ کے مرض کی پوری تشخیص کردی گئی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–46

(آیت) ءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ۔ عرب کے سوا جتنی قومیں دنیا میں ہیں ان سب کو عجم کہا جاتا ہے اور جب اس پر حرف ہمزہ بڑھا کر اعجم کہا جائے تو اس کے معنی کلام غیر فصیح کے ہوتے ہیں۔ اس لئے عجمی اس شخص کو کہیں گے جو عربی نہ ہو، اگرچہ کلام فصیح بولتا ہو۔ اور اعجمی اس کو جو کلام فصیح نہ کرسکے۔ (قرطبی) آیت مذکورہ میں اعجمی فرمایا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم قرآن کو عربی زبان کے علاوہ کسی زبان میں بھیجتے تو قریش عرب جو قرآن کے پہلے مخاطب ہیں ان کو یہ شکایت ہوتی کہ یہ کتاب ہماری سمجھ میں نہیں آتی، اور تعجب سے کہتے کہ نبی تو عربی ہے اور کتاب اعجمی ہے جو فصیح نہیں۔ (آیت) قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم وانھم لفی شک منہ قریب 45 یہود کا اللہ تو کیا ہوا، ایک اور اعتراض اور اس کا جواب یہ آیت بعینہ سورة ہود میں بھی گزر چکی ہے، ملاحظہ ہو آیت 110 وہاں ہم اس کی تفسیر کرچکے ہیں۔ یہ بھی درحقیقت اسی طرح کے اعتراض کا جواب ہے جس طرح کے اعتراض کا جواب اوپر والی آیت میں دیا گیا ہے یہود، یہ اعتراض بھی لوگوں کو سکھاتے تھے کہ جب تورات، اللہ کی کتاب موجود ہے اور اس کا کتاب الٰہی ہونا قرآن کو بھی تسلیم ہے تو آخر ایک نئی کتاب نازل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ اس اعتراض کا جواب قرآن نے مختلف پہلوئوں سے دیا جو مختلف سورتوں میں مذکور ہے۔ یہاں یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 کہ ان کے عذاب دینے سے پہلے مہلت دی جائے گی۔ ولکن یوخرھم الی اجل مسمی فاطر 45۔ 2 یعنی فوراً عذاب دے کر ان کو تباہ کردیا گیا ہوتا۔ 45۔ 3 یعنی ان کا انکار عقل و بصیرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض شک کی وجہ سے ہے جو ان کو بےچین کئے رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–54

18: بعض کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ؟ اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ چونکہ کوئی دوسری زبان نہیں جانتے، اس لیے آپ پر کسی اور زبان کی وحی نازل ہونے سے واضح ہوجاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں اتارا جاتا تو کہنے والے یہ اعتراض کرتے کہ عربی پیغمبر پر غیر عربی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے ؟ غرض جب بات ماننی نہ ہو تو ہزار بہانے پیدا کرلئے جاتے ہیں۔ 19: کسی کو دور دراز جگہ سے پکارا جائے تو بسا اوقات نہ وہ اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور یہی فیصلہ نبی ﷺ کی رسالت کے بارے میں کیا گیا۔ قیامت میں اس کے بارے میں بھی فیصلہ ہوجائے گا ، لوگ جس طرح چاہیں عمل کریں ، قیامت میں جزاء وسزا ہوگی ان کے اعمال پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جیسے آج قرآن کے ماننے اور نہ ماننے والوں میں اختلاف پڑ رہا ہے۔ پہلے تورات کے متعلق بھی ایسا ہی اختلاف پڑچکا ہے پھر دیکھ لو وہاں کیا انجام ہوا تھا۔ 10 بات وہ ہی نکل چکی کہ فیصلہ آخرت میں ہے۔ 11 یعنی مہمل شکوک و شبہات ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ ہر وقت دل میں کھٹکتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45{ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو بھی کتاب دی تھی ‘ تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا۔“ { وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ } ”اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ کردیا جاتا۔“ اللہ تعالیٰ کی تقویم میں ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے ‘ اسی طرح ان کے فیصلے کا بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وقت طے کررکھا ہے۔ اگر یہ وقت پہلے سے طے نہ ہوتا تو ان کا فیصلہ اب تک چکا دیا جاتا۔ { وَاِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ } ”اور یقینا وہ اس کے بارے میں خلجان انگیز شک میں مبتلا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

59 یعنی جو کتاب تورات موسیٰ کو دی گئی تھی اس میں بھی جامع ہدایات موجود تھیں۔ اور لوگوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ کچھ ایمان لائے تھے اور بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت شروع کردی تھی۔ بالکل ایسی ہی صورت حال اب قرآن کے معاملہ میں پیش آرہی ہے اور اگر اللہ کی مشیئت میں یہ بات نہ ہوتی کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے تو ابھی ان لوگوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا جو اپنے بعض مفادات اور سرداریوں کی بقا کی خاطر دعوت حق کو بہرحال جھٹلانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ اور پوری سرگرمیاں اس دعوت کو مٹانے پر صرف کر رہے ہیں۔ جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ ان کے دل دعوت کو درست تسلیم کرتے ہیں اور انہیں اندر ہی اندر یہ خدشہ کھائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 45–46

46۔ اور چونکہ یہ یقین و ایمان سے محروم ہیں، اس لیے قدرۃ سکون و اطمینان کی دولت سے بھی محروم ہیں) (آیت) ” ولقد ..... فیہ “۔ چناچہ اسی توریت ہی کی طرح آج قرآن کے بارے میں بھی لوگ اختلاف کررہے ہیں، اور بہت سے اشرار اسے کلام الہی تسلیم کرنے سے انکار تو کررہے ہیں۔ مقصود رسول کو تسکین دینی ہے کہ خلقت کی یہ عادت انکار تو پہلے سے چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” لولا ...... لقضی بینھم “۔ وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اسی دنیا میں آگیا ہوتا۔ 47۔ (کہ کسی کی کی ہوئی نیکی کو شمار سے چھوڑ دے اور یا کسی کی نہ کی ہوئی بدی کو لکھ لے) (آیت) ” وما ..... للعبید “۔ آیت کے اس ٹکڑے میں تردید آگئی ان مشرک جاہلی قوموں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–54

آیت نمبر 45 تا 53 ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاخلتف فیہ اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی ‘ پھر اس میں اختلاف کیا جانے لگا۔ یعنی کسی نے تصدیق کی ‘ کسی نے تکذیب کی ‘ اسی طرح قریش نے قرآن میں اختلاف کیا۔ ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے (کہ پورا عذاب آخرت میں ملے گا ‘ روز قیامت تک کامل عذاب نہیں آئے گا ‘ یا مقرر مدت سے پہلے عذاب نہیں آئے گا) تو ان کا فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا ‘ یعنی ان پر عذاب آچکا ہوتا اور دنیا میں ہی ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا۔ وانھم لفی شک منہ مریب اور یہ لوگ اسکی طرف سے ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے موسیٰ کو بھی توریت دی تھی تو اس کتاب موسیٰ میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا بعض نے تصدیق کی اور بعض نے اس کو جھٹلایا اور اگر اس امت سے تاخیر عذاب کا فیصلہ نہ ہوچکا تھا۔ تو ان مشرکین اور یہود و نصاری کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہوتا یعنی ان پر بھی جھٹلانے کی وجہ سے عذاب نازل ہوجاتا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں پر تکذیب کے وقت عذاب نازل کیا گیا اور یہ یہود و نصاری اور مشرکین اس قرآن کریم یا یہ کہ کتاب موسیٰ کے بارے میں صاف شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لوقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ : اس سے بھی مقصود رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ہے ، یعنی اس سے پہلے موسیٰ ؑ پر تورات نازل کی گئی، مگر لوگوں نے اس کے ماننے اور نہ ماننے میں اختلاف کیا، اسی طرح اگر یہ کفار مکہ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں تو آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں ؟ (قرطبی) (2) ولولاکلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم : یعنی اگر پہلے یہ طے نہ ہوچکا ہوتا کہ کفار کے اعمال بد پر فوری گرفت کے بجائے دنیا میں ایک وقت تک انھیں مہلت دی جائے گی اور اصل فیصلہ آخرت میں ہوگا، تو ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (42) ، نحل (61) اور فاطر (45) ”لولا کلمۃ سبقت من ربک“ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الکتب سے مراد تو رات ہے فاختلف فیہ یعنی کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے جھٹلا یا۔ ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے یعنی آپ کی قوم جو آپ کی کتاب میں اختلاف کرتی ہے وہ آپ کو غمگین نہ کرے جو آپ سے قبل انبیاء ہو گذرے ہیں ان کی کتابوں میں بھی کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ولو لا لا کلمۃ سبقت من ربک یعنی انہیں مہلت دینے کا فیصلہ پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے عذاب کے جلدی آنے کا فیصلہ کردیا جاتا۔ وہ قرآن کے بارے میں سخت شک میں مبتلا ہیں۔ اس کے بارے میں بحث پہلے گزر چکی ہے۔ کلبی نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : اگر اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–46

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک “ اور اگر یہ بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی (کہ پورا عذاب آخرت میں ملے گا) یعنی اللہ کی طرف سے وقت اور ان کی اجل کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى [ اور بیشک ہم دے چکے موسیٰ کو ] الْكِتٰبَ [ وہ کتاب (تورات) ] فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۭ [ پھر اختلاف کیا گیا اس میں ] وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] كَلِمَةٌ [ ایک ایسا فرمان جو ] سَبَقَتْ [ طے ہوا ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب ( کی طرف ) سے ] لَقُضِيَ [ تو ضرور فیصلہ کردیا جاتا ] بَيْنَهُمْ ۭ [ ان کے درمیان ] وَاِنَّهُمْ [ اور بیشک وہ لوگ ] لَفِيْ شَكٍّ [ یقینا ایک ایسے شک میں ہیں ] مِّنْهُ [ اس سے ] مُرِيْبٍ [ جو الجھن میں ڈالنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ہر شخص کا نیک عمل اس کے لیے مفید ہے اور برے عمل کا وبال برا عمل کرنے والے ہی پر ہے اوپر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ معاندین کی طرف سے آپ کے بارے میں وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہی گئیں اس کے بعد گذشتہ رسولوں میں سے ایک رسول یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب یعنی توریت شریف دی اس کتاب میں اختلاف کیا گیا کسی نے اس کی تصدیق کی اور کسی نے اسے جھٹلایا آپ کے ساتھ اور قرآن کے ساتھ جو آپ کے مخاطبین کا معاملہ ہے یہ پہلے بھی ہوچکا ہے پھر فرمایا کہ آپ کے رب کی طرف سے ایک بات طے ہوچکی ہے اور وہ یہ کہ جھٹلانے والوں پر مقررہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–46

بیان دلائل وقدرت وتنبیہ وتہدید برائے ملحدین درآیات و احکام خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض ...... الی ...... بظلام للعبید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دعوت الی اللہ کے مضمون کے ضمن میں معاندین کے مقابلہ اور ان کی رکاوٹوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ذکر فرما رہے ہیں جن کو تصور کرکے داعی الی اللہ کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ طبعی طور سے یہ ممکن ہے کہ داعی الی اللہ مخاطبین کی بےبسی غفلت عناد اور بغاوت کا رنگ دیکھ کر مایوس ہوجائے تو اس کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھنی چاہئے کہ زمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ ” ولقد اتینا موسیٰ “ یہ معاندین کے دوسرے شبہہ کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے ہیں قرآن دفعۃً سارا کیوں نازل نہیں ہوا۔ شاید محمد ﷺ تھوڑا تھوڑا کر کے خود ہی بنا لاتا ہے۔ جیسا کہ سورة فرقان (رکوع 3) میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ ” وقالوا لولا نزل علیہ القران جملۃ واحدۃ “ نیز وہ کہتے، اگر یہ قرآن سچا ہوتا تو سب لوگ اسے مان لیتے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اکثر لوگ جن میں علماء اہل کتاب بھی شامل ہیں اس کو نہیں مانتے۔ اس کا جواب دیا گیا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب نازل کی تھی وہ ساری ایک ہی بار نازل کی اور وہ تھی بھی سچی کتاب۔ لیکن پھر بھی اس میں اختلاف کیا گیا۔ اس لیے تمہارا نکار محض عناد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–46

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور واضح کیا کہ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس پروردگار عالم کے سامنے ریزہ ہو جائو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ فرمایا اگر مشرک لوگ اپنے غرور وتکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تو اس کو مقرب مخلوق ملائکہ موجود ہیں جو صبح و شام اس کی تسبیح تحمید بیان کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے بعث بعد الموت کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا کہ جس طرح خشک زمین پر اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اس کو ہرا بھرا کردیتا ہے ۔ یعنی مردہ زمین کو زندگی بخشا ہے ۔ اسی طرح قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْہِ۝ 0 ۭ وَلَوْلَا كَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَہُمْ۝ 0 ۭ وَاِنَّہُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ مُرِيْبٍ۝ 45 آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . {…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–46

تفسیر : پھر یہ بھی کوئی نئی بات نہیں۔ ولقد آتینا موسیٰ الکتاب فاختلف فیہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی، یعنی تورات سو اس میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا، کسی نے مانا کسی نے انکار کیا۔ اب غضب الٰہی تو یہی چاہتا تھا کہ اس سرکشی پر ہلاک کردیے جائیں مگر اس کی رحمت سے ان کے ہلاک ہونے کا ایک خاص وقت مقرر ہوچکا ہے اور کسی کے لیے ایک وقت میں آکر ایماندار ہونا لکھ دیا ہے اور کسی کے ہلاک نہ ہونے کی وجہ کوئی خاص مصلحت رکھی ہوئی ہے کہ یتیم اس کے ساتھ متعلق ہیں یا کوئی اور بات ہے، اس لیے ان کا ابھی فیصلہ نہیں ہوتا، اس سے وہ اور بھی قرآن مجید سے بڑے شک میں پڑگئے کہ اگر یہ کلام الٰہی تھا تو اس کے انکار سے ہم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْـکِتٰبُ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ ط وَلَوْ لاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 45) (ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف پیدا کردیا گیا، اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا، بیشک یہ لوگ اس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ) ایک اور اعتراض اور اس کا جواب اس آیت میں بھی کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ اعتراض پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات انھیں یہود کی طرف سے سجھائی گئی ہوگی۔ اعتراض یہ ہے کہ قرآن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لانے والوں کا صرف قرآن کے بارے میں یہ رویہ نہیں بلکہ ایسے لوگوں کا تورات کے بارے میں بھی یہی رویہ تھا۔ قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں میں سب سے جامع اور مفصّل کتاب تورات ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا۔ کچھ لوگ ایمان لائے اور باقی نے انکار کردیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ طے شدہ نہ ہوتا تو ان کا دنیا میں ہی فیصلہ کردیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ لوگوں کو دنیا میں اچھے، برے عمل کے لیے مہلت دی جائے۔ اور آخرت میں حساب و کتاب کیا جائے۔ اس مہلت کی وجہ سے ہی لوگوں تورات کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تورات میں اختلاف کیا گیا : وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ (اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی تھی۔ پس اس میں بھی اختلاف ہوگیا) بعض نے کہا وہ برحق ہے۔ اور بعض نے کہا وہ باطل ہے۔ جیسا کہ تمہاری قوم اس کتاب کے متعلق اختلاف کر رہی ہے۔ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ (اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے مقرر ہوچکی ہے) کہ ان سے عذاب کو مؤخر کردیا گیا۔ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ (تو اس کا فیصلہ ہوچکا ہوتا) تو ان کا ضرور استیصال کردیا جاتا۔ ایک قول : یہ ہے کہ کلمہ سابقہ سے قیامت والا وعدہ مراد ہے۔ اور تمام جھگڑوں کا حقیقی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اور اگر یہ بات نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 44۔ ، ولو جعلناہ، یعنی ہم اس کتاب کو بنادیتے ہیں جس کو آپ (علیہ السلام) لوگوں پر پڑھتے ہیں۔ ، قرآنا اعجمیا، لغت عرب کے علاوہ کے ساتھ۔ لقالوالو لافصلت آیاتہ، کیوں نہیں بیان کی گئیں اس کی آیات عربی میں تاکہ ہم ان کو سمجھ لیتے۔ ، ء اعجمی وعربی، یعنی کیا کتاب عجمی ہو اور رسول عربی ؟ یہ استفہام انکار کے لیے ہے۔ یعنی وہ کہتے جس پر اتاری گئی ہے وہ عربی ہے اور اتاری جانے والی کتاب غجمی ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ عامربن حضرمی کے غلامی یسار کے پاس آتے جاتے تھے۔ یہ غلام یہودی عجمی یعنی ابوفکیھہ ۔ تو مشرکین کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ باتیں یسار سکھاتا ہے۔ تو یہ بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–48

45۔ 47۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کے سننے اور ان کے مطلب کے سمجھنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کرتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات اور یہود کی پھوٹ اور ٹیڑھی باتوں کا ذکر فرمایا تاکہ اللہ کے رسول ﷺ کی تسلی ہوجائے کہ مشرکین مکہ کی یہ حالت کچھ نئی نہیں ہے یہود کی بھی یہی حالت ہے سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب یہود نے تورات کے موافق عمل کرنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کیں تو ان کو ڈرایا گیا کہ ان پر طور پہاڑ پٹخ دیا جائے گا اس ڈر سے انہوں نے وہ ٹیڑھی باتیں چھوڑیں یہود کی ایسی اور مثالیں بھی قرآن شریف میں ہیں صحیح 1 ؎ بخاری میں عبد اللہ بن مسعود سے اور صحیح 2 ؎ مسلم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 44–45

آیت 44 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اپنی کتاب رسول عربی ﷺ پر، آپ کی قوم کی زبان، عربی میں نازل کی تاکہ اس سے ان پر راہ ہدایت واضح ہوجائے۔ اس کتاب کریم کا یہ وصف زیادہ اعتنا کا موجب ہے اور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ سرتسلیم خم کر کے اسے قبول کیا جائے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عظیم کو کسی عجمی زبان میں بھیجا ہوتا تو اس کی تکذیب کرنے والے کہتے۔ (لولا فضلت ایتہ) اس کی آیات کو واضح کیوں نہ کیا گیا، اس کی تفسیر کیوں نہ بیا ن کی گئی (اعجمی و عربی) ” یہ کیا بات ہے کہ کتاب عجمی زبان میں اور مخاطب عربی ؟ “ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ محمد ﷺ عربی ہیں اور کتاب عجمی ہو ؟ یہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–54

قرآن کا ترجمہ غیر زبان میں جائز ہے قول باری ہے (ولو جعلناہ اعجمیا تقالوا لولا فصلت ایاتہ اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بناتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف کیوں نہیں بیان کی گئیں) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو عجمی بنانا چاہتا تو یہ عجمی ہوتا یعنی اس صورت میں قرآن عجمی ہوتا۔ قرآن اس لئے عربی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کو کسی عجمی زبان میں ترجمہ کرنا اسے قرآن ہونے کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

82 کتاب موسیٰ کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی مگر اس میں بھی اختلاف کیا گیا "۔ کہ کسی نے مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ کسی نے تصدیق کی اور کسی نے تکذیب۔ سو آپ ﷺ کی قوم جو آج آپ ﷺ کو اور آپ کی پیش فرمودہ اس کتاب حق کو جھٹلا رہی ہے تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے بھی ایسے ہی ہوا ہے۔ سو آپ ﷺ بھی اس طرح صبر و استقامت سے کام لیں جس طرح کہ حضرت موسیٰ اور دوسرے انبیاء نے لیا کہ غلبہ و انجام بہرحال حق ہی کا ہے۔ سو اس میں حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ (ابن کثیر، ابن جریر اور قرطبی وغیرہ) ۔ نیز کتاب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–46

غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–46

آیات 45 تا 46۔ اسرار ومعارف۔ ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر جب کتاب نازل ہوئی تھی تویہی سلوک ان سے کیا گیا تھا کہ کسی نے مانا اور کسی نے محض اعتراضات کیے اور انکار کیا وہی سلوک آپ سے کر رہے ہیں کہ یہوداکثر اعتراضات دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں اگر یہ مقدور نہ کردیا گیا ہوتا کہ عذاب وثواب کا فیصلہ میدان محشر میں ہوگا تو انہیں ابھی فیصلہ سنادیاجاتا کہ انہیں ان کی غلط فہمیاں چین نہیں لینے دیتیں بہرحال جو نیکی کرتا ہے وہ خود اس کے اپنے کام آئے گی اور جو برائی کرتا ہے وہ خود اس کا نتیجہ بھگت لے گا تیرا پروردگار اپنے بندوں اور اپنی مخلوق میں سے کسی کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ یعنی اس سے پہلے موسیٰ ( علیہ السلام) پر توارۃ نازل کی گئی مگر لوگوں نے اسے ماننے اور نہ ماننے میں اختلاف کیا۔ اسی طرح اگر یہ کفار مکہ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں تو آپ ﷺ کیوں کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔ ( قرطبی)8 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، بات وہی نکل چکی کہ فیصلہ ہے آخرت میں ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:45) کلمۃ اس سے مراد وہ حکم ازلی ہے جس کے متعلق فیصلہ ہوچکا کہ وہ قیامت کے روز چکایا جائے گا۔ سبقت ماضی واحد مؤنث غائب۔ پہلے سے طے ہوچکی۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے حکم پہلے ہی طے نہ ہوچکا ہوتا (کہ پورا عذاب آخرت میں ملے گا روز قیامت تک کامل عذاب نہیں آئیگا یا مقررہ مدت سے پہلے عذاب نہیں آئے گا) ۔ لقضی بینھم لام جواب شرط کا ہے قضی فعل ماضی مجہول واحد مذکر غائب تو ان کا فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ بینھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ انھم ای کفار قومک۔ منہ ای من القران۔ شک مریب : موصوف و صفت مریب اسم فاعل واحد مذکر ارابۃ (افعال) مصدر ریب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–46

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 26 : ذوعقاب ( سزا دینے والا) اعجمی (جو عربی نہ ہو ، عجمی ہو) ظلام (بہت زیادہ ظلم کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 : اصل میں جو لوگ زندگی کے معاملات میں سنجیدہ اور سمجھ دار ہوتے ہیں وہ بات کو سمجھنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں لیکن غیر سنجیدہ لوگ جن میں تدبر کی کمی ہوتی ہے وہ ہمیشہ حق و صداقت کی بات کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ گھٹیا اور غیر سنجیدہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ کی زبان عربی ہے اس میں کسی کلام کو گھڑ لینے میں کیا دیر لگتی ہے ( نعوذ باللہ) اگر یہ کتاب اور کلام کسی عجمی زبان میں ہوتا تو ہم سمجھتے کہ واقعی آپ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات اور یہود کی پھوٹ اور ٹیڑھی باتوں کا ذکر فرمایا ہم نے حضرت موسیٰ کو توریت دی اس میں اختلاف کیا گیا کوئی تصدیق کرتا ہے کوئی تکذیب اگر خدا کی حکمت ازلیہ سے جو ہونے والی باتیں ہو نہ چکی ہوتیں اور یہ مقدور نہ ہوگیا ہوتا تاکہ اس امت سے عذاب موخر رہے گا تو ابھی فیصلہ کردیاجاتا اور بسبب تکذیب عذاب نازل ہوجاتا اور یہود نصاری ومشرکین سب ہلاک ہوجاتے یہ لوگ قرآن کو نہین مانتے کھلے شک میں گرفتار ہیں فرمایا ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیاجائے جو کوئی ان میں سے راہ راست پر آکرنیک کام کرے گا تو اچھے سے اچھا نیکی کا بدلہ اس کو ملے گا جو کوئی بدی کی حالت پر مرجائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–46

[22] اور وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی ہے کہ پورا عذاب آخرت ہی میں ہوگا۔ [23] وہ فیصلہ یہی کہ منکرین پر عذاب اس دنیا میں آگیا ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–46

ف 1: اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی خاص زبان نہیں اس نے تمام زبانوں کو پیدا کیا ہے ۔ اس لئے اس کا تعلق ربوبیت ہر زبان میں یکساں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا ۔ کہ پھر جب کہ اس کا تعلق تمام زبانوں کے ساتھ برابر کا ہے ۔ تو عربی کو کیوں ترجیح دی گئی ۔ اور کیوں قرآن کو جو دنیا کی آخری کتاب ہے ۔ اس زبان میں نازل کیا گیا ؟ ۔ جواب یہ ہے کہ یہی زبان ایسی ہے ۔ جس میں مذہبی اور دینی مطالب کے لئے ایضاح و تفصیل کی قابلیت اور استعداد دوسری زبانوں سے زیادہ ہے ۔ اور اس لئے بھی عربی زبان کا استعمال ناگریز تھا ۔ کہ جن لوگوں کو اولاً رشدوہدایت کے لئے منتخب کرنا ضروری تھا ۔ وہ عرب تھے ۔ قرآن کا عامل اور پیش کرنے والا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) اور بلا شبہ ہمنے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب عطا کی تھی پھر اس کتاب میں بھی اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے پروردگار کی ایک بات پہلے سے مقدر نہیں ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین اور ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ کفار مکہ بھی اس قرآن کی طرف سے ایک تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ سنا کر کہ ان کو بھی ہم نے توریت عطا کی تھی پھر اس کو بھی کسی نے مانا کسی نے نہ مانا یہی آپ کے ساتھ ہورہا ہے اگر مہلت اور میعا کی بات آپ کے پروردگار کی طرف سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ کردیا جاتا یعنی فیصلہ قیامت کے دن ہوتا اس لئے اس وقت فیصلہ نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی کسی نے مانا کسی نے نہ مانا، یہ کوئی نئی بات آپ کے لئے نہیں ہوئی، پس آپ مغموم نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی اور اس میں بھی اختلاف کیا گیا 45 ؎ قرآن کریم سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی قبل موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی تھی لیکن اس میں بھی اختلاف کرنے والوں نے اختلاف کیا بعض نے اس کو مانا اور تسیمو کیا اور بعض نے اس کو تکذیب کی اور پھر یہ بھی کہ جن لوگوں نے اس کو تسلیم کیا انہوں نے اس میں تحریف شروع کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تورات کے بیانات صریحاً ایک دوسرے کے خلاف نظر آنے لگے اور اس پر طرہ یہ کہ نہ تو تورات کا کوئی اصل نسخہ ہی باقی رہا اور نہ ہی حاملین اوّل موجود رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کھرا اور کھوٹا اس طرح مل گیا کہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–50

أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَ‌بِيٌّ (Is it a non- Arabic [ book ] and an Arab [ messenger ]? - 44) The original word used for non-Arabic in the text is a'jamiyy (with hamza before the letter 'ain) which is an Arabic term for ` ineloquent speech', while ` ajam' (without hamzah in its beginning) means any nation other than Arabs. Therefore ` ajamiyy is a person who is non-Arab, even though he may speak eloquently, and a'jamiyy is a person who cannot speak eloquently (Qurtubi). The use of the word أَعْجَمِيٌّ ajamiyy in this verse means that if We had revealed the Qur'an in any language other than…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

56 That is, some people had believed in it and some others had made up their minds to oppose it. 57 It has two meanings' (1) If Allah had not already decreed that the people would be given enough respite for consideration the disputants would have long been destroyed; (2) if AIlah had not already decreed that the disputes would finally be decided on the Day of Judgement, the reality would have been made plain as to who is in the right and who is in the wrong. 58 In this brief sentence the spiritual disease of the disbelievers of Makkah has been clearly diagnosed. It says that they are…

Read the full tafseer →