Fussilat 41:39

Fussilat · from ayah 39

41:39

وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ؕ— اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ؕ— اِنَّهٗ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ‌ؕ اِنَّ الَّذِىۡۤ اَحۡيَاهَا لَمُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:39

اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وه تر وتازه ہوکر ابھرنے لگتی ہے جس نے اسے زنده کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زنده کرنے واﻻ ہے، بیشک وه ہر (ہر) چیز پر قادر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ مرجھائی پڑی ہے۔ پھر جونہی ہم نے اس پر پانی اتارا، وہ حرکت میں آگئی، اور اس میں بڑھوتری پیدا ہوگئی، حقیقت یہ ہے کہ جس نے اس زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے۔ یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بے قدر پڑی پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ (پہلے) زمین کو خشک (اور بے قدر) دیکھتے ہیں پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے اور نمو پانے لگتی ہے، بے شک وہ ذات جس نے اس (مردہ زمین) کو زندہ کیا ہے یقیناً وہی (روزِ قیامت) مُردوں کو زندہ فرمانے والا ہے۔ بے شک وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بیشک تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بیشک وہ جس نے اسے زندہ کیا، یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین سونی (بےآباد) پڑی ہوئی ہے۔ پھر ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے اور پھول جاتی ہے۔ جس (اللہ) نے اس زمین کو زندہ کیا وہ یقیناً مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ چیز بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو بالکل بےجان، پس جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ متحرک ہوجاتی اور پھول جاتی ہے۔ بیشک جس نے اس کو زندہ کردیا وہ مردوں کو بھی زندہ کردینے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم اس زمین کو سونی پڑی ہوئی دیکھتے ہو پھر جونہی ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو یہ ابھر اٹھتی ہے اور پھول پڑتی ہے بلاشبہ جو اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ قطعی طور پر مردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے بلاشبہ اس کو ہر چیز پر پوری پوری قدرت ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے دبی دبائی پڑی ہے لیکن جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے تو وہی جس نے اس (زمین) کو جی اٹھایا وہی مردوں کو بھی جی کھڑا کرے گا بیشک وہی ہر چیز پر قادر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ دبی پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسادیتے ہیں تو اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ ابھر آتی ہے۔ یقینا وہ (اللہ) جس نے اس کو زندہ کیا ہے وہی ُ مردوں کو بھی زندہ کرے گا۔ یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اے بندے یہ اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی یعنی خشک دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And of His Signs is that you see the earth withered, then We send down water upon it, and lo! it quivers and swells. Surely He Who gives life to the dead earth will also give life to the dead. Surely He has power over everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among His signs is that you see the land inactive; then, once We send down water thereto, it gets excited and swells. Surely, the One who has given life to it is the One who gives life to the dead. No doubt, He is powerful to do everything.

— Muhammad Taqi Usmani

And among His signs is that you see the land inactive; then, once We send down water thereto, it gets excited and swells. Surely, the One who has given life to it is the One who gives life to the dead. No doubt, He is powerful to do everything.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among His signs; that you see the earth barren, but when We send down water to it, it is stirred to life and growth. Verily, He Who gives it life, surely is able to give life to the dead. Indeed He is Able to do all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of His portents (is this): that thou seest the earth lowly, but when We send down water thereon it thrilleth and groweth. Lo! He Who quickeneth it is verily the Quickener of the Dead. Lo! He is Able to do all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent.

— Saheeh International

Further evidence is that (at times) you find the earth to be barren. When it is watered it moves and swells (to let the plants grow). The One who brings it back to life will also bring the dead back to life. He has power over all things.

— Muhammad Sarwar

And among His signs is this, that you see the earth still, but when We send down on it the water, it stirs and swells: most surely He Who gives it life is the Giver of life to the dead; surely He has power over all things.

— Muhammad Habib Shakir

And of His signs is that thou beholdest the earth lowly, and when We send down thereon water, it stirreth to life and groweth. Verily He who quickeneth is the Quickener of the dead. Verily He is over everything Potent.

— Abdul Majid Daryabadi

And among His Signs in this: thou seest the earth barren and desolate; but when We send down rain to it, it is stirred to life and yields increase. Truly, He Who gives life to the (dead) earth can surely give life to (men) who are dead. For He has power over all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–39

مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بےمثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں ؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہوجاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہوجاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 47 تشریح کے لیے ملاحظہ تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ 53، جلد سوم، الحج، حواشی 8۔ 9، الروم، حاشیہ 28۔ جلد چہارم، فاطر، حاشیہ 19۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–39

(آیت) وَهُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ۔ اس پر تو امت کا اجماع ہے کہ اس سورت میں سجدہ تلاوت واجب ہے مقام سجدہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت علی اور ابن مسعود ؓ پہلی آیت کے ختم پر سجدہ کرتے تھے یعنی (آیت) اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ پر اور اسی کو امام مالک نے اختیار فرمایا ہے اور حضرت ابن عباس دوسری آیت کے آخر یعنی لا یسمون پر سجدہ کرتے تھے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی یہی فرمایا کہ دوسری آیت کے ختم پر سجدہ کریں۔ مسروق، ابو عبدالرحمن سلمی، ابراہیم نخعی، ابن سیرین، قتادہ وغیرہ، جمہور فقہاء لا یسمون۔ ہی پر سجدہ کرتے تھے۔ امام ابوبکر جصاص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربتہ ان الذین احیا ھالمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر (39) قیامت کی یاد دانی توحید کے بعد یہ قیامت کی یاد دانی فرمائی کہ جو لوگ قیامت کو مستبعد خیال کر ہرے ہیں وہ اس زمین میں اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں۔ دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک، بےجان اور بےبرگ وگیاہ ہوتی ہے کہ ہم اپنی عنایت سے اس پر رحمت کی گھٹا برسا دیتے ہیں تو دیکھتے دیکھتے اس میں زندگی کی حرکت نمایاں ہوجاتی ہے، اس کی پستی میں سبزہ اور نباتات سے ابھار پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے ہر گوشے میں روئیدگی اور نشو و نما کی بہار آجاتی ہے۔ ان الذی احیا ھا لمحی الموتی فرمایا کہ جو خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 خَاشِعَۃً کا مطلب، خشک اور قحط زدہ یعنی مردہ۔ 39۔ 2 یعنی انوارع و اقسام کے خوش ذائقہ پھل اور غلے پیدا کرتی ہے۔ 39۔ 3 مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے اس طرح زندہ کردینا اور روئیدگی کے قابل بنادینا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مردوں کو بھی یقینا زندہ کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–39

16: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص اس کی تلاوت کرے، یا کسی کو تلاوت کرتے ہوئے سنے، اس پر ایک سجدہ کرنا واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ہر مقام پر قرآن کا انداز تعبیر قابل ملاحظہ ہے۔ زمین کا ” خشوع “ کی حالت میں ہونا سے مراد یہ ہے کہ بارش سے پہلے وہ سوئی ہوئی اور مردہ حالت میں تھی۔ جب بارش برسی تو وہ پھبک اٹھی ، سر سبز و شاداب ہوگئی ، گویا اس نے شکر ادا کیا اور سجدے میں گر گئی کہ اسے زندگی مل گئی۔ جس سیاق میں یہ مثال آرہی ہے وہاں عبادت خشوع و خضوع اور حمد و ثنا اور تسبیح کا مضمون چل رہا ہے۔ چناچہ زمین کی بھی ایسی کیفیت دکھائی گئی ، گویا وہ بھی زندہ ہے اور اللہ کے حوالے سے وہ بھی شعور رکھتی ہے۔ مناسب ہے کہ میں اپنی ہی کتاب التصویر الفنی فی القرآن سے ایک صفحہ یہاں نقل کر دوں : ” قرآن نے بارش ہونے سے قبل زمین کی حالت کو بعض جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی زمین کو دیکھو بیچاری چپ چاپ، ذلیل و خوار بوجھ میں دبی ہوئی پڑی رہتی ہے۔ خشکی کے وقت ہر طرف خاک اڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن جہاں بارش کا ایک چھینٹا پڑا۔ پھر اس کی تروتازی رونق اور ابھار قابل دید ہوجاتا ہے۔ آخر یہ انقلاب کس کے دست قدرت کے تصرف کا نتیجہ ہے۔ جس خدا نے اس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیا، کیا وہ مرے ہوئے انسانوں کے بدن میں دوبارہ جان نہیں ڈال سکتا ؟ اور کیا وہ قادر مطلق مرے ہوئے دلوں کو دعوت الی اللہ کی تاثیر سے ازسر نو حیات تازہ عطا نہیں کرسکتا ؟ بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت کے سامنے کوئی مانع و مزاحم نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً } ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ دبی پڑی ہے“ یعنی زمین کی وہ کیفیت کہ جب وہ بنجر اور ویران ہوتی ہے اور اس پر روئیدگی وغیرہ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ { فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآئَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ } ”پھر جب ہم اس پر پانی برسادیتے ہیں تو اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ ابھر آتی ہے۔“ بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں جیسے کہ مردہ زمین میں جان پڑگئی ہو۔ { اِنَّ الَّذِیْٓ اَحْیَاہَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰیط اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ”یقینا وہ اللہ جس نے اس کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 زمین کی روئیدگی سے معاد پر دلیل :۔ اس قدر خشک ہوچکی تھی کہ اس کی اوپر کی سطح خشکی کی وجہ سے پتھر کی طرح بن چکی تھی۔ اوپر سے پانی برسا تو وہ پھولنے لگی۔ بارش کے پانی کی اس مٹی میں آمیزش سے اس میں روئیدگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ اور وہ بیج جو کبھی کے زیر زمین پڑے ہوئے تھے۔ ان میں زندگی کے آثار پیدا ہوئے تو اس پھولی ہوئی زمین سے ان بیجوں کے پودوں کی کونپلیں زمین سے باہر نکل آئیں۔ حتیٰ کہ زمین نباتات سے لہلہا اٹھی اور اس پر جوبن آگیا پھر اس بارش سے کئی جانور مینڈک، پپی ہے اور حشرات الارض بھی پیدا ہوگئے۔ بالکل ایسی ہی صورت قیامت کے قریب واقع ہوگی آسمان سے ایک خاص قسم کی بارش برسے گی جس سے تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

38۔ بعث وحشر کے امکان پر، اس امکان کے منکروں کو، اس قریب کی اور روز مرہ پیش آنے والی نظیر سے توجہ دلائی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–44

آیت نمبر 33 تا 44 ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ فاذا انزلنا علیھا الماء اھتزت وربت ان الذی احیاھا لمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر اور منجملہ (قدرت و توحید کی) نشانیوں کے ایک یہ بھی ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین دبی دبائی پڑی ہوتی ہے ‘ پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی اور پھولتی ہے (اس سے ثابت ہوا کہ) جس نے اس کو زندہ کردیا ‘ وہی مردوں کو زندہ کر دے گا۔ بیشک وہ ہر شے پر قادر ہے۔ وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یعنی منجملہ اس کی دلائل قدرت ہے۔ خاشِعَۃً خشک ‘ غبار آلواد جس میں کوئی روئیدگی نہ ہو۔ اھْتَزَّتْ ہلتی ہے۔ رَبَتْ ابھرتی ہے ‘ اوپر کو پھولتی ہے۔ اَحْیَاھَا یعنی زمین کی روئیدگی کو زندہ کیا ‘ قیامت کے دن مردوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اس کی قدرت اور توحید کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو بنجر دیکھتا ہے پھر جب ہم اس بارش برساتے ہیں تو وہ اس سے پھولتی اور سبزیوں کے ساتھ ابھرتی اور اس میں کثرت کے ساتھ پیداوار ہوتی ہے یا یہ کہ وہ سبزیوں کے ساتھ پھولتی ہے۔ تو جس ذات نے زمین کے بنجر ہوجانے کے بعد پھر اس کو تروتازہ کردیا وہی حشر کے لیے مردوں کو زندہ کردے گا وہ مارنے اور جلانے پر پوری طرح قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ…: اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نحل (65) اور سورة حج (5 تا 7) یہاں بنجر زمین کے لئے ”خاشعۃ“ (دبی ہوئی، عاجز) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ بات ایک اللہ کو سجدے کی ہو رہی ہے، یعنی خشوع کی ہو رہی ہے، جب کہ سورة حج میں اسی بنجر زمین کے لئے“ ھامدۃ“ (مردہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے، کیونکہ وہاں مرنے کے بعد زندگی کی بات ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ خطاب ہر دانشمند کو ہے اس کی آیات جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے انکا تری الارض خاشعۃ تو زمین کو خشک اور بنجر دیکھے گا۔ یہ زمین کی خشوع سے صفت بیان کرنا ہے۔ نابغہ نے کہا ہے : رماد ککحل العین لایا ابینہ ونوی کجذم الحوض اثلم خاشع الا رض خاشعۃ سے مراد ایسی مٹی ہے جو فصل نہ اگائے بلد خاشعۃ سے مراد ایسی زمین ہے جس کی کوئی منزل نہ ہو اسی طرح مکان خاشع ہے۔ فاز انزلنا علیھا لماء اھتزت یعنی نباتات سے جھومنے لگتی ہے۔ یہ مجاہد کا قول ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : اھتز الاء نسان یعنی انسان نے حرکت کی اسی معنی میں یہ قول ہے : تراہ کنصل السیف یھتذ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–39

1:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ “ (اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین دبی دبائی پڑی ہوتی ہے) یعنی غبار آلود اور خشک (آیت ) ” فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت “ (جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں وہ ابھرتی اور پھولتی ہے) یعنی جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ خوب پھلتی پھولتی ہے۔ 2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اھتزت “ یعنی وہ ابھری ہے سبزے کیساتھ (آیت) ” وربت “ یعنی فصل اگانے سے پہلے کانپتی ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ [ اور اس کی نشانیوں ہی میں سے ہے ] اَنَّكَ تَرَى [ کہ آپ دیکھتے ہیں ] الْاَرْضَ [ زمین کو ] خَاشِعَةً [ فروتنی کرنے والی حالت میں (بنجر) ] فَاِذَآ اَنْزَلْنَا [ پھر جب ہم اتارتے ہیں ] عَلَيْهَا الْمَاۗءَ [ اس پر پانی ] اهْتَزَّتْ [ تو وہ لہلہاتی ہے ] وَرَبَتْ ۭ [ اور ابھرتی ہے ] اِنَّ الَّذِيْٓ [ بیشک وہ جس نے ] اَحْيَاهَا [ زندہ کیا اس (زمین) کو ] لَمُحْىِ [ یقینا زندہ کرنے والا ہے ] الْمَوْتٰى ۭ [ مردوں کو ] اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ بیشک وہ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ ہر حال میں قدرت رکھنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی نشانیوں میں سے زمین بھی ہے جس پر یہ لوگ رہتے ہیں اور اس پر جن تغیرات کا ظہور ہوتا رہتا ہے انہیں یہ لوگ دیکھتے رہتے ہیں انہی تغیرات میں سے ایک یہ ہے کہ زمین خشک ہوجاتی ہے سبزی بالکل نہیں رہتی سوکھی ہوئی حالت میں پڑی رہتی ہے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے بارش برستی ہے زمین پر پانی پڑتا ہے اور اندر پہنچتا ہے جیسے ہی یہ زمین پانی سے متاثر ہوتی ہے اس میں تازگی آجاتی ہے زمین پھولتی ہے اندر سے پودے زور لگاتے ہیں باہر نکلتے ہیں تھوڑا ہی سا وقت گزرتا ہے کہ زمین ہری بھری ہوجاتی ہے اس میں کھیتیاں بھی ہوتی ہیں جن سے انسانوں کو غذائیں ملتی ہیں بڑے بڑے درخت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–46

بیان دلائل وقدرت وتنبیہ وتہدید برائے ملحدین درآیات و احکام خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض ...... الی ...... بظلام للعبید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دعوت الی اللہ کے مضمون کے ضمن میں معاندین کے مقابلہ اور ان کی رکاوٹوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ذکر فرما رہے ہیں جن کو تصور کرکے داعی الی اللہ کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ طبعی طور سے یہ ممکن ہے کہ داعی الی اللہ مخاطبین کی بےبسی غفلت عناد اور بغاوت کا رنگ دیکھ کر مایوس ہوجائے تو اس کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھنی چاہئے کہ زمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

37:۔ ” ومن ایتہ “ یہ دوسری دلیل عقلی کا دوسرا حصہ ہے جو پہلی عقلی دلیل کے پہلے حصے سے متعلق ہے اس میں تھا کہ اللہ نے زمین کو پیدا فرمایا اور اس میں تمام خاصیتیں رکھ دیں۔ اور یہاں اس کی بعض خاصیتوں کا ذکر کیا گیا اس کی قدرت اور وحدانیت کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ وہ خشک اور دبی ہوئی زمین کو مینہ برسا کر اس میں نرمی اور نشوونما کے آثار پیدا فرما دیتا ہے اور اس میں سرسبز و شاداب اور لہلہاتے کھیت پیدا کردیتا ہے۔ ” ان الذی احیاھا۔ الایۃ “ یہ جملہ معترضہ ہے جس ذات پاک میں مردہ اور بنجر زمین کو تری و تازگی عطا فرمانے کی قدرت ہے وہ مردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ اس کی قدرت کاملہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–40

ربط آیات گزشتہ درس میں دعوت الیٰ اللہ کا ذکر تھا۔ قرآن پاک کے انکار کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے خود نیک کام کرتا ہے اور زبان سے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا اقرار بھی کرتا ہے ، پھر اللہ نے نیکی اور بدی کا تقابل ذکر کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ دور کرنے کا اصول بتلایا ، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ خصلت عظمہ عدیل اور خوش بخت انسانوں کو ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر اللہ نے شیطان کی چھیڑ چھاڑ اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غصے یا وسوے کا علاج یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پناہ پکڑو ، وہیں تمہیں ان شرور سے محفوظ رکھے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْہَا الْمَاۗءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ۝ 0 ۭ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاہَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى۝ 0 ۭ اِنَّہٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ 39 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–39

تفسیر : جبکہ پہلی آیات میں یہ بیان فرمایا کہ احسن اعمال و اقوال اللہ کی طرف بلانا ہے تو اس کے بعد چند دلائل بیان فرماتا ہے جو اس کے وجود وقدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ اللہ کی طرف بلانا دلائل بیان کرنا ہے اور یہ کہ اللہ کی طرف بلانا کسی مجہول چیز کی طرف بلانا نہیں بلکہ وہ ایسا متجلی ہے کہ ہر چیز میں اس کے پر توے نظر آرہے ہیں۔ کما قال ومن آیاتہ الیل والنہار والشمس و القمر کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ چار چیزیں تمہارے سامنے ہیں، رات، دن، سورج، چاند رات عدمی چیز ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ یہ چاروں چیزیں اپنے انقلابات کی نیرنگیوں میں ثابت کررہی ہیں کہ کوئی قادر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنَّـکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَـآئَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ ط اِنَّ الَّذِیْْٓ اَحْیَاھَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ط اِنَّـہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 39) (اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین دبی پڑی ہے، پھر جیسے ہی ہم نے اس پر پانی اتارا تو وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے، بیشک جس ذات نے اس کو زندہ کیا ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گا، بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ) توحید اور قیامت پر دلیل یہ آیت اللہ تعالیٰ کی توحید پر بھی دلیل ہے اور وقوع قیامت پر بھی۔ اور دلیل میں کاٹ ایسی ہے کہ اَن پڑھ سے اَن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی قدرت کی ایک اور نشانی۔ جس ذات کبریا نے سورج اور چاند پیدا کیے، رات اور دن بنائے۔ اس کی نشانیوں میں ایک نشانی بارش بھی ہے ہر کوئی دیکھتا ہے کہ زمین خشک اور ویران ہوچکی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے اور جو بیج اس میں پڑے ہوتے ہیں وہ اگ آتے ہیں۔ جس سے زمین سبز لباس پہن لیتی ہے۔ جس زمین پر ویرانی کی وجہ سے نظر نہیں ٹکتی تھی آج ہریالی کی وجہ سے اس قدر پُر کشش ہوچکی ہے کہ نظر کو سکون اور دل کو قرار حاصل ہوتا اور نظر اس سے اٹھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ زمین سے نباتات کا اگنا اس بات کی دلیل ہے کہ جس ذات کبریا نے بارش سے مردہ زمین کو زندہ کیا اور اس میں مدت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرت و تصرف کی نشانی : وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً (اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے۔ دبی دبائی ہے) خاشعۃ کا معنی غبار والی خشک۔ خشوع اصل میں تذلل اور عاجزی کو کہتے ہیں۔ یہاں بطور استعارہ اس زمین کیلئے استعمال ہوا جو بغیر نبات اور بغیر پانی کے ہو۔ فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ (پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں) الماء سے بارش مراد ہے۔ اهْتَزَّتْ (تو وہ ابھرتی ہے) نباتات کے ساتھ حرکت میں آتی ہے۔ وَرَبَتْ (اور پھولتی ہے) پھولتی پھٹتی ہے۔ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ۭ اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (جس نے اس زمین کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38، فان استکبروا، سجدوں سے۔ ، فالذین عند ربک ، یعنی فرشتے۔ ، یسبحون لہ باللیل والنھاروھم لایسامون، نہ وہ اکتاتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

39۔ آسمان پر کی قدرت کی نشانیوں کے بعد یہ زمین پر کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے مینہ برسنے سے پہلے زمین کیسی سوکھی پڑی ہوتی ہے پھر مینہ برستے ہی اس میں کس طرح کی سرسبزی آجاتی ہے دوسرے صور سے پہلے اسی طرح ایک مینہ برسے گا جس کی ثاثیر سے مرے ہوئے لوگوں کے سب جسم تیار ہوجائیں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جائیں گی حاصل کلام یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے ہر سال کی کھیتی اور حشر کا ایک سا حال ہے صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی جس میں کھیتی کی مشابہت دی جا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–41

آیت نمبر (39) اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اناسن کو اپنے دشمن اناسن کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ اناسن شیطان کو جو اس کا دشمن ہے کیسے دور ہٹائے ؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔ یعنی آپ کسی بھی وقت شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں یعنی شیطان کا وسوسہ اس کا شرکو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا یا اس کے کسی حکم کی اطایت کا خدشہ محسوس کریں ” تو اللہ کی پناہ مانگیے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–43

یہاں مقام سجدہ کونسا ہے ؟ قول باری ہے (واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اور صرف اللہ کے لئے سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سورت میں مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس، مسروق اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (وھم یسامون۔ اور وہ اکتاتے نہیں) مقام سجدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب ، حسن اور ابوعبدالرحمان سے مروی ہے کہ قول باری (ان کنتم ایاہ تعبدون) مقام سجدہ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر صورت تو یہی ہے کہ دونوں آیتوں کا اختتام مقام سجدہ قرار دیا جائے کیونکہ سلسلہ کلام کا اختتام وہیں جاکر ہوتا ہے۔ اسے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 کائنات کی بعض اہم نشانیوں کے بارے میں تذکیر و یاددہانی : سو اس ارشاد سے زمین میں موجود قدرت کی بعض اہم نشانیوں کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم اس زمین کو سونی پڑی ہوئی دیکھتے ہو۔ یعنی یہ بالکل خشک پڑی ہوتی ہے۔ نہ اس میں کوئی سبزہ ہوتا ہے نہ انگوری۔ پھر بارش کے بعد اس میں طرح طرح کی انگوریاں نکل آتی ہیں اور قسما قسم کے سبزے لہرانے لگتے ہیں۔ سو اسی طرح وحی کی مقدس بارش کے ذریعے وہ تمہاری روحانی زندگی اور معنوی کھیتی کی ہریالی کا سامان بھی فرماتا ہے اور اسی طرح وہ تم لوگوں کو مرنے کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھائے گا تاکہ تم زندگی بھر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–46

غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–44

آیات 33 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔ اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی اس میں کھیتی گھاس وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ زمین کی اسی حالت کو دوسری آیات میں موت سے تعبیر کیا ہے۔9 یعنی اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، گھاس اگتی ہے۔ الغرض زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:39) ومن ایتہ : من تبعیضیہ ہے۔ خاشعۃ اسم فاعل واحد مؤنث خشوع مصدر (باب نصر) عاجزی کرنا۔ نگاہ یا آواز کا پست ہونا۔ (زمین کا) خشک کونا۔ بےآب وگیاہ ہونا۔ زمین کا بارش نہ ہونے سے خشک ہوجانا۔ زمین کا بغیر پانی کے خشک اور دبا ہوا ہونا۔ المائ : ای المطر۔ بارش۔ اھتزت : ماضی واحد مؤنث غائب اھتزاز (افتعال) اس نے تروتازہ ہوکر حرکت کی۔ الھز کے معنی کسی چیز کو زور سے ہلانے کے ہیں۔ مثلا قرآن مجید میں ہے وھزی الیک بجذع النخلۃ (19:25) اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف بلاؤ۔ اور باب افتعال سے خوش و شاداب ہوکر ہلنا۔ ربت : ماضی واحد مؤنث غائب ربو مصدر (باب نصر) جس کے معنی بڑھنے بھولنے اور بلند ہونے کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–40

تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 : اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں بیشمار نشانیاں بنائی ہیں لیکن غور و فکر نہ کرنے والے بڑی سے بڑی حقیقت ہے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ انہیں اس کی حقیقت اور عظمت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہر آدمی رات ، دن ، سورج ، چاند اور ستاروں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں دنیا کی گھڑیاں اور اندازے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نکلنا ، چھپنا اور ڈوب جانا مختلف نہیں ہوتا ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو ستاروں ، چاند اور سورج کی عبادت کرتے دیکھا تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ان میں سے ہر چیز کا سامنے آنا اور چھپ جانا ان کے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–39

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے مینہ برسنے سے پہلے زمین کیسی سوکھی پڑی ہوتی ہے ہر طرف خاک اڑتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن جہاں مینہ پڑا پھر اس کی تروتازگی رونق اور ابھار قابل دید ہوتا ہے آخریہ انقلاب کس کے دست قدرت کے تصرف کے نتیجہ کا ہے جس خدا نے اس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیا کیا وہ مرے ہوئے انسانوں کے بدن میں دوبارہ جان نہیں ڈال سکتا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا اس کی قدرت کے سامنے کوئی مانع مزاحم نہیں۔ قرآن کو جھٹلانے والوں کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا انہی لوگوں کے بارے جو قرآن کی آیتوں کے سنانے کے وقت سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں اور سنتے نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–39

[16] یعنی بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ مثلاً کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخرکار جگری دوست بن جائے گا۔ اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی، مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بےحیا مخالف بھی شرمندہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر مشکل ہی سے کبھی اس کی زبان آپ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–41

خلق عظیم اس سے قبل کی آیت میں صبر و برداشت کی تلقین فرمائی تھی اور یہ کہا تھا کہ منکرین کی برائیوں کا جواب حسن سلوک سے دو اپنی روحانیت سے دو ۔ اس میں یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ کام آسان نہیں ہے اس کے لئے استقامت اور صبر کی ضرورت ہے وہ لوگ اس خلق عظیم سے بہرہ مند ہوتے ہیں جنہوں نے مواجب ومالک سے حصہ وافر پایا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا ۔ کہ جہاں تک سختی اور برائی کے جواب دینے کا تعلق ہے بہترین طریق یہی ہے ۔ کہ طرز عمل بالکل خلاف اختیار کیا جائے ۔ دشمن مشکلات سے پیدا کرے تو اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچائی جائیں ۔ دکھ معاند اور تکلیف کا سبب ہو تو اس کے لئے راحت و سکون کی آرزو کی جائے ۔ مخالف مادی آفات نفرت سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) اور منجملہ اس کے نشانہائے قدرت اور دلائل توحید کے یہ بات بھی ہے کہ اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ دبی پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ تروتازہ ہوتی اور ابھرنے لگتی ہے بیشک جس اللہ تعالیٰ نے اس دبی ہوئی زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو بھی زندہ کرے والا ہے اور بلا شبہ وہ ہرچیز پر پوری طرح قادر اور قدرت رکھنے والا ہے۔ یعنی گرمی کے موسم میں جب زمین خشک ہوجاتی ہے اس کو فرمایا کہ دبی پڑی ہوتی ہے اور ایسی ہوتی ہے جیسے مردہ کہ اس میں نمو ہی نہیں اور کسی چیز کو اگانے کی صلاحیت ہی نہیں لیکن جہاں بارش کا چھینٹا پڑا اور زمین میں ایک حرکت اور ابھار پیدا ہوا۔ زمین کی فصل کٹ جانے کے بعد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–39

ف 2۔ اس سے علاوہ دلالت علی التوحید کے دلالت علی امکان البعث بھی حاصل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ قیامت کے آنے سے انکاری ہیں ان کے لیے دلیل قاطع 39 ؎ جب زمین خشک ہوجائے اور اس پر مینہ نہ برسے اور اس لحاظ سے زمین مردہ ہوجائے اور سبزہ اس میں نہ اُگ سکے اس کو { خاشعۃً } سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح (ارض خاشعۃ) اس زمین کو بھی کہا جاتا ہے جسے نرمی کے باعث ہوائیں اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیں۔ زیر نظر آیت میں وہی زمین مراد ہے جو خشک ہوجائے اور پیداوار کے قابل نہ رہے اور یہ مثال بیان کی جا رہی ہے ان لوگوں کے لیے جو قیامت کے آنے سے منکر ہیں کہ تم لوگ قیامت کے آنے کی بات کا مذاق اڑا رہے ہو کیوں ؟ محض اس لیے کہ تم اس کو بعید از عقل سمجھتے ہو حالانکہ تم روزمرہ زندگی میں دیکھ رہے ہو کہ زمین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–39

وَهُمْ لَا يَسْأَمُونَ (and they do not get weary. - 38) This is one of the verses called ` Verses of sajdah' the recitation of which makes it obligatory to perform sajdah (prostration) for the one who recites them and the one who listens to them. This sajdah is called sajdah of tilawah. There is consensus of the Ummah on the point that sajdah of tilawah is wajib (obligatory) in this Surah, but the scholars differ regarding the exact place where it becomes wajib. Qadi Abu Bakr Ibn-ul-` Arabi has written in Ahkam-ul-Qur'an that Sayyidna ` Aliand Sayyidna Ibn Masud ؓ used to prostrate at the…

Read the full tafseer →