Explained with ayahs 40–43
عذاب وثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا۔
الحاد کے معنی ابن عباس سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں اور قتادہ وغیرہ سے الحاد کے معنی کفر وعناد ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کردینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو ! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں، ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 48
عوام الناس کو چند فقروں میں یہ سمجھانے کے بعد کہ محمد ﷺ جس توحید آخرت کے عقیدے کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہی معقول ہے اور آثار کائنات اسی کے حق ہونے کی شہادت دے رہے ہیں، اب روئے سخن پھر ان مخالفین کی طرف مڑتا ہے جو پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 49
اصل الفاظ ہیں یُلْحِدُوْنَ فِیْ اٰیَاتِنَا (ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں)۔ الحاد کے معنی ہیں انحراف، سیدھی راہ سے ٹیڑھی راہ کی طرف مڑ جانا، کج روی اختیار کرنا۔ اللہ کی آیات میں الحاد کا مطلب تو نہ لے، باقی ہر طرح کے غلط معنی ان کو پہنا کر خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا رہے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں (یعنی یہ کہ ہماری آیتوں کا تقاضا ان پر ایمان لانے، پھر ان پر استقامت رکھنے کا ہے، اس کو چھوڑ کر ان کی تکذیب کرتے ہیں (کما فی الدر المنثور عن قتادہ) وہ لوگ ہم پر مخفی نہیں (ان کو ہم جہنم کا عذاب دیں گے) سو بھلا جو شخص جہنم میں ڈالا جائے (جیسے کافر) وہ اچھا ہے یا وہ شخص جو قیامت کے روز امن وامان کے ساتھ (جنت) میں آئے (آگے ان کو ڈرانے کے لئے ارشاد ہے کہ) جو جی چاہے (خوب) کرلو وہ تمہارا سب کچھ کیا ہوا دیکھ رہا ہے (ایک دفعہ ہی سزا دے گا) جو لوگ اس قرآن کا جبکہ وہ ان کے پاس پہنچتا ہے انکار کرتے ہیں (ان میں خود تدبر کی کمی ہے) اور (اس قرآن میں…
Read the full tafseer →ان الذین یلحدون فی ایتنا لایفقون علینا افمن یلقی فی النار خیر ام من یاتی امنا یوم القیمۃ اعملوا ماشئتم انہ بما تعملون بصیر (40)
اشرار کو تنبیہ
الحاد کے معنی
الحاد کے معنی انحراف اور کج روی اختیار کرنے کے ہیں۔ یلحدون فی ایتنا کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کی آیات اور اس کی نشانیاں تو کسی اور سمت میں رہنمائی کر رہی ہوں لیکن آدمی اپنی دھاندلی، ضد اور کر پزی یا کج بحثی سے کوئی اور راہ اختیار کرے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف موڑنے کی کوشش کرے۔
آیت 25 میں برے ساتھیوں اور گمراہ لیڈروں کی اس سعی نامراد کی طرف اشارہ ہوچکا ہے۔ اسی قسم کے اشرار کو اس آیت میں دھمکی دی ہے کہ جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کر ہرے ہیں ان…
Read the full tafseer →40۔ 1 یعنی ان کو مانتے نہیں بلکہ ان سے اعراض، انحراف اور ان کی تکذیب کرتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے الحاد کے معنی کیے ہیں وضع الکلام علی غیر مواضعہ جس کی رو سے اس میں وہ باطل فرقے بھی آجاتے ہیں جو اپنے غلط عقائد و نظریات کے اثبات کے لیے آیات الہی میں تحریف معنوی اور دجل وتلبیس سے کام لیتے ہیں۔
40۔ 2 یہ ملحدین (چاہے وہ کسی قسم کے ہوں) کے لئے سخت وعید ہے۔
40۔ 3 یعنی کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں۔ ، یقینا نہیں علاوہ ازیں اس سے اشارہ کردیا کہ کافر آگ میں ڈالے جائیں گے اور اہل ایمان قیامت والے دن بےخوف ہونگے۔
40۔ 3 یہ امر کا لفظ ہے، لیکن یہاں اس سے مقصود وعید اور تہدید ہے۔ کفر و شرک اور معیصت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
17: ٹیڑھا راستہ اختیار کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان آیتوں کو ماننے سے انکار کیا جائے، اور یہ بھی کہ انہیں غلط سلط معنی پہنائے جائیں۔ آیت کی وعید دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
Read the full tafseer →اب اس قدر تفصیلات کے بعد اور کائناتی شواہد و دلائل کے بعد اگر لوگ ان نشانیوں کو الٹے معنی پہناتا ہے یا قرآن کی آیات میں الحاد کرتے ہیں تو وہ تیار ہوجائیں اپنے انجام کے لئے۔ یہ لوگ اللہ کی واضح آیات کا انکار کرتے ہیں اور ان میں مغالطے ڈالتے ہیں۔
یہ تہدید اگرچہ بالواسطہ اور مجمل ہے لیکن نہایت ہی خطرناک ہے۔
لا یخفون علینا (41 : 40) ” وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں “۔ اللہ کے علم میں وہ بالکل سامنے ہیں۔ لہٰذا وہ جو الحاد کرتے ہیں ، قرآن کے معنوں کو الٹے معنی پہناتے ہیں۔ اس پر ان کو سزا ہوگی۔ اگرچہ وہ مغالطے اور تاویلات کریں۔ اگرچہ وہ سمجھیں کہ ہم اللہ کے ہاتھوں چھوٹ جائیں گے۔ جس طرح وہ قرآن کے معانی میں…
Read the full tafseer →1 یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی زبان سے آیات تنزیلیہ سن کر اور قرطاس دہر پر خدا کی آیات کونیہ کو دیکھ کر بھی جو لوگ کجروی سے باز نہیں آتے اور سیدھی سیدھی باتوں کو واہی تباہی شبہات پیدا کر کے ٹیڑھی بناتے ہیں، یا خواہ مخواہ توڑ مروڑ کر ان کا مطلب غلط لیتے ہیں، یا یوں ہی جھوٹ موٹ کے عذر اور بہانے تراش کر ان آیات کے ماننے میں ہیر پھیر کرتے ہیں، ایسی ٹیڑھی چال چلنے والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ ممکن ہے وہ لوگ اپنی مکاریوں اور چالاکیوں پر مغرور ہوں مگر خدا سے ان کی کوئی چال پوشیدہ ہیں۔ جس وقت سامنے جائیں گے دیکھ لیں گے فی الحال اس نے ڈھیل دے رکھی ہے۔ مجرم کو ایک دم نہیں پکڑتا۔ اسی لیے آگے فرما…
Read the full tafseer →آیت 40{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا } ”جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔“
{ اَفَمَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْٓ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”تو کیا وہ شخص جو آگ میں جھونک دیا جائے گا وہ بہتر ہوگا یا وہ کہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا !“
{ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْلا اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} ”تم کیے جائو جو بھی کرنا چاہتے ہو ‘ وہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔“
قبل ازیں ہم آیت 5 میں مشرکین کی طرف سے حضور ﷺ کے لیے اس کھلے چیلنج کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔…
Read the full tafseer →49 الحاد کے معنی :۔ (یُلْحِدُوْنَ ) کا مادہ لحد ہے اور لحد بمعنی قبر اور اس کا بغلی حصہ اور الحد بمعنی راہ راست سے کسی ایک طرف ہوجانا اور الحد السھم کے معنی تیر کا نشانہ کے کسی ایک پہلو میں لگنا اور الحد عن الدین کے معنی دین میں طعن کرنا۔ (مفردات القرآن) اور اس الحاد کا تعلق عقائد سے ہوتا ہے (فق۔ ل 189) جیسے اللہ کی ذات وصفات میں شک کرنا یا اس کے غلط معنی لینا یا معجزات سے انکار کرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : (وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ 180۔ ) 7 ۔ الاعراف :180) یعنی جو لوگ اللہ کے ناموں (صفات) میں کجی اختیار کرتے ہیں۔
خ الحاد کا تعلق اللہ کی…
Read the full tafseer →39۔ (ظاہر ہے کہ ہرگز وہ دوزخی بہتر نہیں) (آیت) ” الذین یلحدون فی ایتنا “۔ منکروں اور مکذبوں سے مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے لیکن علماء محققین نے لکھا ہے کہ وعید ان باطل فرقوں پر بھی شامل ہے جو آیات قرآنی کے معنی گڑھ گڑھ کر اور مسخ کر کر کے ایسے بیان کرتے ہیں۔ جو حدود تاویل سے بالکل خارج ہوتے ہیں، متکلمین واصولیین اہل سنت نے یہ تصریح کردی ہے کہ ہر نص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوگی، تاوقتیکہ کوئی دلیل قطعی تاویل کی مقتضی نہ مل جائے۔ لغت، زبان، قواعد نحوی سے الگ ہو کر ایسے معنی گڑھنا جس سے احکام شریعت ہی باطل ہوجائیں، باطنیہ وزنادقہ کا شیوہ رہا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس کے تحت میں وہ غالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیت نمبر 33 تا 44
ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…
Read the full tafseer →ان الذین یلحدون فی ایتنا لا یخفون علینا بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں ‘ وہ ہم سے
پوشیدہ نہیں ہیں۔
مجاہد نے کہا : یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا سے مراد ہیں سیٹیاں اور تالیاں بجانا ‘ شور و غل کرنا اور لغویات بکنا۔ قتادہ نے کہا : یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا یعنی ہماری آیات کو جھٹلاتے اور انکی تکذیب کرتے ہیں۔ سدی نے کہا : عناد اور مخالفت کرتے ہیں۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی۔
یُلْحِدُوْنَ کا لفظ عام ہے ‘ تکذیب کرنے والے ‘ لغویات بکنے والے اور قرآن کی قرأت کے وقت سیٹیاں بجانے والے اور تفسیر سلف کے خلاف قرآن کے معانی میں تحریف کرنے والے اور باطل تاویلات کرنے والے ‘…
Read the full tafseer →بیشک جو لوگ ہماری نشانیوں یعنی رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں یا یہ کہ تکذیب کرتے ہیں، ان کی باتوں میں سے کوئی چیز بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔
شان نزول : اَفَمَنْ يُّلْقٰى (الخ)
ابن منذر نے بشیر بن فتح سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ ابو جہل اور حضرت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 40۔ (1) ان الذین یلحدون فی ایتنا :”یلحدون“ کا مادہ ”لح ”‘ ہے۔ لحد اس قبر کو کہتے ہیں جو نیچے سیدھی کھودنے کے بجائے کچھ نیچے جا کر ایک طرف کھود کر بنائی جاتی ہے۔ ”الحا ”‘ کا معنی ہے سیدھے راستے سے انحراف یعنی ایک طرف کو ہٹ جانا، کج روی اور ٹیڑھا چلنا، یعنی جو لوگ حق سے ہٹ کر ٹیڑھی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد (ٹیڑھا چلنا) یہ ہے کہ ان کا انکار کر دے، یا ان کا سیدھا ساد اور واضح مطلب لینے کے بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انھیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات مثلاً مشرکانہ عقائد، بدعت، انکار حدیث اشتراکیت، سرمایہ داری اور دہریت وغیرہ کے حامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
آیت نمبر 40, 41.42
ان الذین یلجدون فی ایتنا یعنی ہمارے دلائل میں حق سے دو گردانی کرتے ہیں۔ الحاد کا معنی ایک طرف جھکنا اور صراط مستقیم کو چھوڑنا ہے اسی سے قبر میں لحد ہے کیونکہ اسے قبر سے ایک طرف بنایا گیا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : الحد فی دین اللہ یعنی اس سے ایک طرف ہوگیا لحد اس میں ایک لغت ہے یہ کلام بھی انہیں کے متعلق ہے جنہوں نے کہا : لا تسمعوا لھذ القرآن والغوا فیہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہماری آیات میں الحاد کیا اور حق سے ایک طرف جھک گئے انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہے وہ شعر ہے یا جادو ہے۔ آیات سے مراد قرآن کی آیات ہیں۔ مجاہد نے کہا : یلجدون فی ایتنا سے مراد ہے وہ قرآن کی…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یلحدون فی ایتنا “ (بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں سے مراد ہے کہ کلام کو اس کی غیرجگہ میں رکھنا یعنی وہ لوگ سلف صالحین کی تفسیر کے خلاف قرآن کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں تحریف و تبدیل کرنا کفر ہے :
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین یلحدون فی ایتنا “ سے مراد ہے کہ کلام کو اس کی جگہ (کے علاوہ) دوسری جگہ رکھنا یعنی قرآن کے معانی میں تحریف کرنا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ [ بیشک جو لوگ کجروی اختیار کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ ہماری آیتوں میں ] لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ۭ [ وہ پوشیدہ نہیں ہوتے ہم سے ] اَفَمَنْ [تو کیا وہ جو ] يُّلْقٰى [ ڈالا گیا ] فِي النَّارِ [ آگ میں ] خَيْرٌ [بہتر ہے ] اَمْ مَّنْ [ یا وہ جو ] يَّاْتِيْٓ [ آئے گا ] اٰمِنًا [ امن میں ہونے والا ہوتے ہوئے ] يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن ] اِعْمَلُوْا [ تم لوگ عمل کرو ] مَا شِئْتُمْ ۙ [ جو تم چاہو ] اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ [ بیشک وہ اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ] بَصِيْرٌ [ دیکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →ملحدین ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں، جو چاہو کرلو اللہ دیکھتا ہے !
قرآن مجید سے نفع حاصل کرنے والے اہل ایمان ہیں اور دو جماعتیں ایسی ہیں جو قرآن کی دشمن ہیں ایک جماعت تو وہ ہے جو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہی نہیں یہ لوگ منکرین ہیں اور دوسری جماعت وہ ہے جو یوں نہیں کہتے کہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں ہے لیکن ان کی دشمنی اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ وہ قرآن کا مطلب اپنی طرف سے تجویز کرتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے مطابق آیات اور کلمات کا مطلب بتاتے ہیں یہ لوگ ملحدین ہیں جو قرآن میں کجروی نکالتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے الحاد کا یہی مطلب بتایا اور فرمایا یَصَفُون الکلام فی غیر موضعہٖ یعنی آیات کا مطلب اپنی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
بیان دلائل وقدرت وتنبیہ وتہدید برائے ملحدین درآیات و احکام خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض ...... الی ...... بظلام للعبید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دعوت الی اللہ کے مضمون کے ضمن میں معاندین کے مقابلہ اور ان کی رکاوٹوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ذکر فرما رہے ہیں جن کو تصور کرکے داعی الی اللہ کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ طبعی طور سے یہ ممکن ہے کہ داعی الی اللہ مخاطبین کی بےبسی غفلت عناد اور بغاوت کا رنگ دیکھ کر مایوس ہوجائے تو اس کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھنی چاہئے کہ زمین…
Read the full tafseer →38:۔ ” ان الذین یلحدون۔ الایۃ “ یہ دوسری دلیل کے بعد تخویف اخروی ہے۔ یہ تخویف دلیل اول کے بعد والی تخویف سے بطور ترقی ہے۔ کیوں کہ اس سے اقرار و اعتراف کرانا مقصود ہے۔ جیسا کہ آرہا ہے۔ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی اور کج بحثی اختیار کرتے ہیں اور ماننے کے بجائے ان پر طعن کرتے اور ان میں کیڑے نکالتے ہیں۔ وہ ہم سے اوجھل اور پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہم ان کو خوب جانتے ہیں اور ان کے تمام اعمال بھی ہمارے سامنے ہیں، اس لیے وہ جہنم کی آگ سے نہیں بچ سکتے۔ انہیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ ” افمن یلقی الخ “ یہ ملحدین تو جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اب تم خود ہی بتاؤ ایک وہ ملحد ہے جسے جہنم میں پھینک دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ربط آیات
گزشتہ درس میں دعوت الیٰ اللہ کا ذکر تھا۔ قرآن پاک کے انکار کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے خود نیک کام کرتا ہے اور زبان سے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا اقرار بھی کرتا ہے ، پھر اللہ نے نیکی اور بدی کا تقابل ذکر کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ دور کرنے کا اصول بتلایا ، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ خصلت عظمہ عدیل اور خوش بخت انسانوں کو ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر اللہ نے شیطان کی چھیڑ چھاڑ اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غصے یا وسوے کا علاج یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پناہ پکڑو ، وہیں تمہیں ان شرور سے محفوظ رکھے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا 0 ۭ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۭ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ 0 ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 40
لحد
اللَّحْدُ : حفرة مائلة عن الوسط، وقد لَحَدَ القبرَ : حفره، کذلک وأَلْحَدَهُ ، وقد لَحَدْتُ الميّت وأَلْحَدْتُهُ : جعلته في اللّحد، ويسمّى اللَّحْدُ مُلْحَداً ، وذلک اسم موضع من : ألحدته، ولَحَدَ بلسانه إلى كذا : مال . قال تعالی: لِسانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ [ النحل/ 103] من : لحد، وقرئ : يلحدون من : ألحد، وأَلْحَدَ فلان : مال عن الحقّ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
تفسیر : دعوت الی اللہ اور اس کے طرق اقامۃ الدلائل کے بعد یہ بیان کرتا ہے کہ جو آیات الٰہیہ میں کجروی کرتے ہیں۔ وہ ہم پر مخفی نہیں، یعنی دنیا و آخرت میں سزا یاب ہوں گے، آخرت میں آگ میں ڈالے جائیں گے، پھر جو آگ میں ڈالا جائے گا، اس کے برابر ہوسکتا ہے، جو امن سے آوے گا ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ دونوں طریقوں کی برائی بھلائی تم کو خوب معلوم ہوگئی۔ اللہ کے رستہ کی بھی اور آیات اللہ میں کجروی کی بھی۔ اب تم کو اختیار ہے جو چاہو سو کرو، کیونکہ وہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ الالحاد المیل والعدول و منہ اللحد فی البقرلانہ امیل الی ناحیۃ منہ یقال الحد فی دین اللہ اے مال عنہ۔ الالحاد فی الآیات کے معنی ہیں ان میں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِـنَا لاَ یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا ط اَفَمَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْٓ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اِعْمَلُوْا مَاشِئْـتُمْ لا اِنَّـہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 40)
(بےشک جو لوگ ہماری آیات کو الٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں، بھلا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں ڈالا جائے گا یا وہ شخص جو قیامت کے روز امن کی حالت میں آئے گا، کیے جاؤ جو چاہو، بیشک وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ )
اس آیت کی تفسیر میں صاحب معارف القرآن نے جو کچھ لکھا ہے ہم اسے افادہ عام کے لیے نقل کررہے ہیں۔
کفر کی ایک خاص قسم الحاد ہے،…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دلائل اور حقائق کو جھٹلانے والے لوگوں کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کرنے کے سینکڑوں دلائل دیئے ہیں جن میں عقلی ور نظری دلائل بھی شامل ہیں۔ نظری دلائل میں سے آسمان سے بارش نازل کرنا اور اس کے ذریعے زمین سے ہر قسم کی نباتات کو اگانا ہے۔ کافر ہو یا مسلمان ہر کوئی مانتا ہے کہ بارش نازل کرنا اور زمین سے نباتات کو اگانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ مگر اس کے باوجود کافر ” اللہ “ کی ذات کا انکار کرتا ہے اور مشرک اسکے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ اور اس کی آیات کو غلط معانی پہنچاتے ہیں ایسے لوگ اور ان کے خیالات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں…
Read the full tafseer →حق سے منحرف :
اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا (بلاشبہ جو لوگ ہماری آیات میں کجروی اختیار کرتے ہیں) وہ ہمارے دلائل سے منہ موڑ کر حق سے روگردانی اختیار کرتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں الحد الحافر ولحد، جبکہ وہ استقامت سے جھک جائے اور ایک جانب کو کھودے۔ یہ لفظ یہاں بطور استعارہ قرآن مجید کی آیات کی صحیح و درست تاویل سے انحراف کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
قراءت : حمزہ نے یَلْحَدُ پڑھا ہے۔
لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا (وہ لوگ ہم پر مخفی نہیں) اس میں ان کی تحریف پر وعید و ڈراوا سنایا گیا ہے۔ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ (پس بتلاؤ جو شخص…
Read the full tafseer →تفسیر 39۔۔۔۔۔۔ ، ومن آیایتہ، اس کی قدرت کے دلائل میں سے۔ ، انک تری الارض خاشعۃ، خشک غبار آلود اس میں کوئی چیزنہ اگی ہو۔ ، فاذا انزلنا علیھا الماء اھتنزت وربت ان الذی احیاھالمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
40۔ 43۔ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہم بہرے ہیں قرآن کی آیتیں ہم نہیں سن سکتے اور اوپر سے دل سے کچھ بہروں کی طرح سن بھی لیں تو ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اس واسطے آیتوں کا مطلب نہیں سمجھتے۔ ان آیتوں میں ان ہی لوگوں کو فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سیٹیاں اور تالیاں بجا بجا کر نہیں سنتے اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں ایسی ٹیڑھی باتیں کرنے والوں کا حال اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ سرکشی سے ایسی ٹیڑھی باتیں کرکے جو شخص قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے گا ان کے نزدیک وہ بہتر ہے یا جو قرآن کی نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر (39)
اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اناسن کو اپنے دشمن اناسن کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ اناسن شیطان کو جو اس کا دشمن ہے کیسے دور ہٹائے ؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔ یعنی آپ کسی بھی وقت شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں یعنی شیطان کا وسوسہ اس کا شرکو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا یا اس کے کسی حکم کی اطایت کا خدشہ محسوس کریں ” تو اللہ کی پناہ مانگیے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
یہاں مقام سجدہ کونسا ہے ؟
قول باری ہے (واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اور صرف اللہ کے لئے سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سورت میں مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس، مسروق اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (وھم یسامون۔ اور وہ اکتاتے نہیں) مقام سجدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب ، حسن اور ابوعبدالرحمان سے مروی ہے کہ قول باری (ان کنتم ایاہ تعبدون) مقام سجدہ ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر صورت تو یہی ہے کہ دونوں آیتوں کا اختتام مقام سجدہ قرار دیا جائے کیونکہ سلسلہ کلام کا اختتام وہیں جاکر ہوتا ہے۔ اسے ایک…
Read the full tafseer →69 کج رو اشرار کے لیے سخت تنبیہ : سو اس ارشاد میں اللہ کی آیتوں میں کج روی اختیار کرنے والے اشرار کیلئے سخت تنبیہہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی برتتے ہیں اور وہ اپنی مرضی و خواہشات کے مطابق ان کے غلط معانی و مطالب نکالتے ہیں۔ کیونکہ الحاد کے معنیٰ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ۔ " وَضَعُ الْکَلام عَلٰی غَیْرِ مَحَلِّہ " ۔ کے ہیں۔ (ابن کثیر وغیرہ) سو اہل زیغ و ضلال جو اپنی مختلف اہوا و اَغراض کے مطابق اس کتاب عزیز کی آیات کریمات کے غلط مطلب نکالتے ہیں وہ بڑے ہی سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور وہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہیں گے کہ وہ ہم سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے
تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیات 33 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو
اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔
اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…
Read the full tafseer →ف 10 لفظی ترجمہ یہ ہے ” جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں۔ الحاد کے معنی ہیں حق سے پھر کر ٹیڑھی راہ اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحادیہ ہے کہ ان کا سیدھا سادا اور واضح مطلب لینے کی بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انہیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات انظار حدیث، اشراکیت، سرمایہ داری، بدعات وغیرہ کے حامی بن جاتے ہیں وہ یہی طرز اختیار کرتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔11 اس میں سخت سرزنش ہے کہ یہ لوگ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔
Read the full tafseer →(41:40) یلحدون : الحاد (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب وہ کج روی کرتے ہیں۔ اللحد اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب بنایا جاتا ہے (اور اس میں میت کو دفن کیا جاتا ہے) پھر اس کا ستعمال کسی کی طرف جھکنے، غلط نسبت کرنے یا غلط بات کہنے کے لئے بھی ہوتا ہے کیونکہ غلط بات حقیقت سے پھر کر بات ہوتی ہے۔
یا بقول علامہ ابن منظور : الملحد العادل عن الحق : الحاد کرنے والا وہ شخص ہے جو حق سے روگردانی کرے او المدخل فیہ مالیس فیہ : یا اس میں ایسی چیز کو داخل کرے جو اس میں نہیں ہے مثلاً باری تعالیٰ کو ان اوصاف کے ساتھ متصف ماننا جو کہ اس کی شان الوہیت کے منافی ہوں یا صفات الٰہی کی ایسی تاویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 : اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں بیشمار نشانیاں بنائی ہیں لیکن غور و فکر نہ کرنے والے بڑی سے بڑی حقیقت ہے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ انہیں اس کی حقیقت اور عظمت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہر آدمی رات ، دن ، سورج ، چاند اور ستاروں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں دنیا کی گھڑیاں اور اندازے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نکلنا ، چھپنا اور ڈوب جانا مختلف نہیں ہوتا ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو ستاروں ، چاند اور سورج کی عبادت کرتے دیکھا تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ان میں سے ہر چیز کا سامنے آنا اور چھپ جانا ان کے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
مشرکین کو جواب ، بےمثل قرآن مجید۔
(ف 1) شان نزول : قرآن پاک کو دیکھ کر بڑے بڑے فصحائے عرب کی زبانوں پر تالے پڑگئے تھے لیکن اپنی بڑائی سے باز نہیں آتے تھے آخرکار کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں کیوں نازل کیا، ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر سواعربی کے کسی اور زبان میں قرآن کو اتارا جاتا تو کفار کہتے کہ عربی میں کیوں نہیں اترا، یہ ایسا کیوں نہیں اترا کہ ہم سمجھتے اس کی آیتیں مفصل عربی میں کیوں نہیں ہوئیں اور اعتراض کرتے کہ وہ رسول توعربی زبان والے ہیں اور قرآن عجمی ہے اے محبوب ﷺ تم کہہ دو کہ یہ قرآن تو ایمان والوں کے لیے ہدایت ہے گمراہی سے نجات ہے ان کے دلوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
[17] کفار مکہ قرآن کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لئے جو تدبیریں کر رہے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قرآن کی آیات کو توڑ مروڑ کر ان کا غلط مطلب لیتے اور لوگوں کو شبہات میں ڈالتے۔ یہاں اسی کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
خلق عظیم
اس سے قبل کی آیت میں صبر و برداشت کی تلقین فرمائی تھی اور یہ کہا تھا کہ منکرین کی برائیوں کا جواب حسن سلوک سے دو اپنی روحانیت سے دو ۔ اس میں یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ کام آسان نہیں ہے اس کے لئے استقامت اور صبر کی ضرورت ہے وہ لوگ اس خلق عظیم سے بہرہ مند ہوتے ہیں جنہوں نے مواجب ومالک سے حصہ وافر پایا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا ۔ کہ جہاں تک سختی اور برائی کے جواب دینے کا تعلق ہے بہترین طریق یہی ہے ۔ کہ طرز عمل بالکل خلاف اختیار کیا جائے ۔ دشمن مشکلات سے پیدا کرے تو اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچائی جائیں ۔ دکھ معاند اور تکلیف کا سبب ہو تو اس کے لئے راحت و سکون کی آرزو کی جائے ۔ مخالف مادی آفات نفرت سے…
Read the full tafseer →(40) بلا شبہ جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ لوگ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں بھلا ایک شخص جو آگ میں ڈالا جائے وہ شخص اچھا اور بہت رہے یا وہ اچھا ہے جو قیامت بےخوف ومامون ہو کر آئے تم جو چاہو کرتے رہو بیشک تم جو کچھ کررہے ہو اس سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ توحید الٰہی اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کا انکار اور تکذیب کرتے ہیں اور ہماری آیات میں رکیک اور باطل تاویلات کرتے ہیں اور ہماری آیات میں تحریف کرتے ہیں ان کی یہ حرکات شنیعہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں یعنی ہم ان کی ان حرکات سے بخوبی واقف ہیں۔
آگے تمثیل بیان فرمائی کہ ایک وہ شخص جو آگ میں…
Read the full tafseer →ف 3۔ ہم کو ان کا حال سب معلوم ہے اور ان کو ہم سزائے نار دیں گے۔
Read the full tafseer →ملحدین ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ان کو آگاہ رہنا چاہئے
40 ؎ ملحد کون ہیں ؟ وہی لوگ جو حق سے اعراض کرتے ہوئے ایک طرف کو جھک جاتے ہیں اور ایسے ایسے اعتراض پیدا کرتے ہیں جن کے پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا گویا حق سے منہ پھیر کر باطل کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور آیتوں سے الحاد کے معنی یہی ہیں کہ قرآن کریم کی عبارت کسی اور طرف جا رہی ہو اور اس کا مفہوم کچھ اور ہی بتایا جاتا ہے اور ایسا استدلال کیا جائے جو ظاہر استدلال نہ کہا جاسکتا ہو جس طرح ہمارے اسلامی مکاتف فکر اکثر کرتے ہیں مثلاً قرآن کریم کی سورة الاعراف کی آیت 204 کا تعلق امام کے پیچھے سورة فاتحہ کے پڑھنے سے مطلق نہیں ہے جیسا کہ اس سورت…
Read the full tafseer →Commentary
Description and Rules of Ilhad (الحاد) - A particular kind of kufr
إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي آيَاتِنَا (Surely those who go crooked about Our signs are not hidden from Us….41:40) In the earlier verses, there were warnings, threats and mention of scourge for those who used to openly deny the Oneness of Allah and the prophethood of the Holy Prophet ﷺ . Now a particular kind of denial is being described which is called ` ilhad'. The lexical meaning of ` ilhad' is to deviate, to incline towards one side, being crooked. In the terminology of the Qur'an and Hadith, ` ilhad' means…
Read the full tafseer →48 After telling the common people in a few sentences that the doctrine of Tauhid and the Hereafter to which Muhammad (upon whom be Allah's peace) is inviting them, is rational and the signs of the universe testify to its being right and true, the discourse again tunes to the opponents who were determined to oppose it stubbornly.
49 The word yulhidun in the original is derived from ilhad which means to deviate, to turn away from the right to the wrong path, to adopt crookedness. Thus, ilhad in the Revelations of Allah would mean that instead of understanding them in their clear and…
Read the full tafseer →