Explained with ayahs 37–39
مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو۔
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بےمثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں ؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہوجاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہوجاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لئے…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 45
" غرور میں آ کر " سے مراد یہ ہے کہ اگر یہ تمہاری بات مان لینے میں اپنی ذلت سمجھ کر اسی جہالت پر اصرار کیے چلے جائیں جس میں یہ مبتلا ہیں۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 46
مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات کا نظام، جو ان فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے، اللہ کی توحید اور اسی کی بندگی میں رواں دواں ہے، اس نظام کے منتظم فرشتے ہر آن یہ شہادت دے رہے ہیں کہ ان کا رب اس سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی خداوندی اور معبودیت میں اس کا شریک ہو۔ اب اگر چند احمق سمجھانے پر نہیں مانتے اور ساری کائنات جس راستے پر چل رہی ہے اس سے منہ موڑ کر شرک ہی کی راہ پر چلنے پر اصرار کیے جاتے ہیں تو پڑا رہنے دو ان کو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(آیت) وَهُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ۔ اس پر تو امت کا اجماع ہے کہ اس سورت میں سجدہ تلاوت واجب ہے مقام سجدہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت علی اور ابن مسعود ؓ پہلی آیت کے ختم پر سجدہ کرتے تھے یعنی (آیت) اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ پر اور اسی کو امام مالک نے اختیار فرمایا ہے اور حضرت ابن عباس دوسری آیت کے آخر یعنی لا یسمون پر سجدہ کرتے تھے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی یہی فرمایا کہ دوسری آیت کے ختم پر سجدہ کریں۔ مسروق، ابو عبدالرحمن سلمی، ابراہیم نخعی، ابن سیرین، قتادہ وغیرہ، جمہور فقہاء لا یسمون۔ ہی پر سجدہ کرتے تھے۔ امام ابوبکر جصاص…
Read the full tafseer →فان استکبروا فالذین عند ربک یسبعون لہ بالیل و الھار وھم لایسمعون (38)
خدا کسی کی عبادت کا محتاج نہیں ہے
یعنی اگر یہ لوگ بربنائے استکبار تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں اور بڑے طنطنہ کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمہاری باتوں کے لئے ان کے کان بہرے اور تمہارے اور ان کے درمیان حجاب حائل ہے تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں اور تم بھی ان کی کوئی پروا نہ کرو۔ یہ اگر خدا کی عبادت نہیں کریں گے تو اس سے خدا کے بزم نہیں اجڑ جائے گی۔ تییر رب کے پاس جو فرشتے ہیں وہ رات دن اس کی تسیع میں سرگرم ہیں اور ان کے ذوق و شوق کا حال یہ ہے کہ وہ کبھی اس کام سے نہیں تھکتے۔ الذین عند ربک سے ملائکہ بحیثیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 یعنی رات کو تاریک بنانا تاکہ لوگ اس میں آرام کرسکیں دن کو روشن بنانا تاکہ کسب معاش میں پریشانی نہ ہو پھر یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کا آنا جانا اور کبھی رات کا لمبا اور دن کا چھوٹا ہونا اور کبھی اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہوتا اسی طرح سورج اور چاند کا اپنے اپنے وقت پر طلوع وغرب ہونا اور اپنے اپنے مدار پر اپنی منزلیں طے کرتے رہنا اور آپس میں باہمی تصادم محفوظ رہنا، یہ سب اس بات کی دلیلیں ہیں کہ ان کا یقینا کوئی خالق اور مالک ہے نیز وہ ایک اور صرف ایک ہے اور کائنات میں صرف اسی کا تصرف اور حکم چلتا ہے اگر تدبیر و امر کا اختیار رکھنے والے ایک سے زیادہ ہوتے ہیں تو یہ نظام کائنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
16: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص اس کی تلاوت کرے، یا کسی کو تلاوت کرتے ہوئے سنے، اس پر ایک سجدہ کرنا واجب ہے۔
Read the full tafseer →اس کا قریب الفہم مفہوم تو یہی ہے کہ اللہ کے پاس کی مخلوق سے مراد ملائکہ ہیں۔ لیکن اللہ کے مقرب بندوں پر مشتمل کوئی اور مخلوق بھی اس سے مراد ہو سکتی ہے۔ اللہ کی مخلوقات کے بارے میں تو ہم بہت کم جانتے ہیں۔
وہ لوگ جو رب کے ہاں ہیں وہ ارفع و اعلیٰ مخلوق ہیں ، وہ زیادہ مکرم اور مثالی لوگ ہیں۔ یہ اللہ کے مقابلے میں اس طرح کبر نہیں کرتے جس طرح زمین کی یہ کمزور مخلوق انسان کرتا ہے ، نہ وہ اس طرے میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقربین ہیں اور نہ وہ رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کی تسبیح کرنے سے رکتے یا تھکتے ہیں۔
وھم لا یسئمون (41 : 38) ” کبھی نہیں تھکتے “۔ لہٰذا اگر اہل امین سب کے سب ہی اللہ کی…
Read the full tafseer →6 یعنی اگر غرور تکبر حق کے قبول کرنے سے مانع ہے اور باوجود وضوح دلائل توحید کے خدائے واحد کی عبادت کی طرف آنا نہیں چاہتے تھے تو نہ آئیں، اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ کو ان کی کیا پرواہ ہوسکتی کہ بیشمار ملائکہ مقربین شب و روز اس کی عبادت اور تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں، نہ کبھی تھکتے ہیں، نہ اکتاتے ہیں، اس کے سامنے یہ بیچارے کیا چیز ہیں اور ان کا غرور کیا چیز ہے۔ خواہ مخواہ کی جھوٹی شیخی کر کے اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 38{ فَاِنِ اسْتَکْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوْنَ لَہٗ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَہُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ } ”پس اے نبی ﷺ ! اگر وہ استکبار کریں تو پروا نہیں وہ جو آپ کے رب کے پاس ہیں وہ دن رات اس کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں اور وہ اس سے تھکتے نہیں۔“
اگر یہ لوگ تکبر کی بنا پر مجھے سجدہ کرنے کو تیار نہیں تو مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے پاس تو فرشتوں کی فوجیں ہیں جو دن رات مسلسل میری تسبیح اور حمد میں لگے رہتے ہیں۔ اس بارے میں فرشتوں کا یہ بیان ہم سورة البقرہ کی آیت 30 میں پڑھ چکے ہیں : { وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَط } ”اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح…
Read the full tafseer →47 اللہ کی تسبیح میں ہمہ وقت مشغول رہنے والے فرشتے :۔ اپنے شرک اور اپنی جہالت پر ڈٹے رہیں اور آپ کی بات تسلیم کرنے میں اپنی توہین سمجھیں تو اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں کیونکہ اللہ ان کی نافرمانی یا فرمانبرداری سے بےنیاز ہے اور اس کے پاس فرشتوں کی ایک عظیم جمعیت موجود ہے جو اس کے حکم سے تدبیر امور کائنات کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ انہیں اللہ کے حکم سے سرتابی کی مجال نہیں۔ وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے علاوہ ازیں وہ اس کی تسبیح وتحمید میں بھی ہر وقت مشغول رہتے ہیں یہی ان کی غذا اور یہی ان کا وظیفہ حیات ہے۔ وہ اپنے قول اور فعل سے اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ کائنات کی…
Read the full tafseer →37۔ مسلک توحید و ایمان اختیار کرنے میں بہرحال اپنے طریق آبائی کو چھوڑنا اور نبی کا اتباع کرنا پڑتا تھا، اور یہ بہت سے طبائع کو گراں ٗ گزرتا تھا۔ یہاں اشارہ اسی جانب ہے۔ (آیت) ” فالذین عندربک “۔ فرشتوں کا ذکر (آیت) ” فان استکبروا “۔ کے مقابلہ میں لانے سے اس طرف بھی اشارہ منظور ہے کہ ملائکہ مقربین مرتبہ ومنزلت میں ان اشخاص سے ہزار ہا ہزار درجہ زائد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیت نمبر 33 تا 44
ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…
Read the full tafseer →فان استکبروا فالذین عند ربک یسبحون لہ بالیل والنھار وھم لا یسئمون پھر اگر یہ
(امتثال حکم اور سجدہ کرنے سے) تکبر کریں تو (ا اللہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا) جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں ‘ وہ شب و روز اسکی پاکی بیان کرتے ہیں اور (بالکل) نہیں اکتاتے۔
فَالَّذِیْنَ میں فَ تعلیلہ ہے ‘ شرط کی جزاء محذوف ہے اور جزاء کے قائم مقام جزاء کی علت کو ذکر کیا ہے ‘ یعنی اگر یہ لوگ تکبر کرتے تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ مقرب بارگاہ فرشتے اسکی پاکی بیان کرتے ہیں ‘ اللہ کو ان لوگوں کے سجدہ کی کوئی پروا نہیں۔
عِنْدَ رَبِّکَ جو آپ کے رب کے مقرب ہیں۔ یہ قرب مکانی ہے ‘ اللہ کے قرب کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ بارگاہ…
Read the full tafseer →پھر یہ لوگ ایمان لانے اور عبادت خداوندی سے تکبر کریں تو جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں وہ رات دن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور عبادت خداوندی سے ذرا نہیں بیزار ہوتے اور تھکتے۔
Read the full tafseer →(1) فان استکبروا :”پھر اگر وہ تکبر کریں“ یعنی یہ سب کچھ سن کر بھی اگر وہ اپنی بات چھوڑنے کو ذلت سمجھیں، سورج چاند اور مخلوق کو سجدہ کرنے پر اڑے رہیں اور اپنی جھوٹی عزت اور بڑائی کی وجہ سے جہالت اور شرک پر اصرار کرتے چلے جائیں۔
(2) یعنی اگر مشرکین اس قدر مغرور اور متکبر ہوگئے ہیں کہ اکیلے اللہ کو سجدہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں ، اللہ تعالیٰ ان کا محتاج نہیں۔ اس کی عظمت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ مقرب ترین فرشتے جو اس کے پاس ہیں، اس کا عرش اٹھائے ہوئے ہیں، یا عرش کے اردگرد یا اس کے نیچے عاجزی سے کھڑے ہیں۔ (دیکھیے مومن : 7) جن کے ذریعے سے ساری کائنات کے معاملات کی تدبیر ہو رہی…
Read the full tafseer →فان استکبروا یعنی کفار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے تکبر کریں فالذین عند ربک اسم موصول سے مراد ملائکہ ہیں
یسبحون لہ بالیل والنھار وھم لیسمون۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہیں اکتا تے۔ زہیر نے کہا :
سئمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابا لک یسام
میں زندگی کے امور سے اکتا گیا اور جو آدمی اسی سال کا ہوجائے۔ تیرا باپ نے رہے۔ وہ اکتا جاتا ہے۔
مسئلہ : یہ آیت بلا اختلاف آیتہ سجدہ ہے سجود کے محل کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک نے کہا : اس کا محل ان کنتم ایاہ تعبدون۔ کیونکہ یہ امر کے ساتھ مفصل ہے۔ حضرت علی شیر خدا، حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء تعبدون پر سجدہ کرتے تھے۔ ابن و ہب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
1:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ “ (اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین دبی دبائی پڑی ہوتی ہے) یعنی غبار آلود اور خشک (آیت ) ” فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت “ (جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں وہ ابھرتی اور پھولتی ہے) یعنی جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ خوب پھلتی پھولتی ہے۔
2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اھتزت “ یعنی وہ ابھری ہے سبزے کیساتھ (آیت) ” وربت “ یعنی فصل اگانے سے پہلے کانپتی ہے۔
Read the full tafseer →فَاِنِ اسْـتَكْبَرُوْا [ پھر اگر وہ لوگ بڑائی دکھائیں ] فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ [ تو جو لوگ آپ کے رب کے پاس ہیں ] يُسَبِّحُوْنَ لَهٗ [ وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی ] بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ [ رات اور دن ] وَهُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ (السجدہ 11) [ اس حال میں کہ وہ اکتاتے نہیں ہیں ]
Read the full tafseer →(فَاِِنْ اسْتَکْبَرُوْا) (الآیۃ) سو اگر وہ لوگ تکبر اختیار کریں اور آپ کی بات ماننے میں عار سمجھیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنے سے باز نہ آئیں تو انہیں بتادیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کی عبادت اور سجود کا محتاج نہیں ہے تم اسے سجدہ کرو یا نہ کرو اس کی ذات عالی صفات بہرحال بلند اور برتر ہے اس کی بارگاہ اقدس میں جو فرشتے حاضر ہیں وہ ہمہ تن اور ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتے ہیں ذرا بھی نہیں اکتاتے اور اسے ان کی تسبیح اور عبادت کی بھی حاجت نہیں ہے۔
زمین کا خشک ہو کر زندہ ہوجانا بھی اللہ کی نشانی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فضیلت دعوت الی اللہ وبیان صبر و استقامت وحلم و درگذر درراہ حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ ....... الی ....... وھم لا یسئمون “۔
(ربط) گذشہ آیات میں اہل ایمان اور ایمان پر استقامت والوں کا اللہ کے یہاں کیا عظیم مقام و مرتبہ ہے بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی فضیلت بیان کی جارہی اور یہ کہ عقل و فطرت کے اس قانون کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ہے، اور دعوت الی اللہ اور اشاعت حق میں انسان کو بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ اور شدائد پر صبر کی ضرورت ہے، یہ چیز کمال کی نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص…
Read the full tafseer →36:۔ ” فان استکبروا “ یہ ادخال الٰہی ہے اور پر غرور معاندین پر زجر ہے۔ اگر یہ لوگ کبر و غرور سے انکار و جحود پر قائم رہیں اور اللہ کی خالص عبادت نہ کریں تو کیا ان کے سوا اللہ کی خالص عبادت کرنے والا کوئی نہیں ؟ اللہ کے فرشتے جن کی تعداد اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، ہر وقت رات دن اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔ اور پھر تھکتے اور اکتاتے بھی نہیں اس لیے اللہ کی عبادت کرنے یا نہ کرنے میں تمہارا ہی نفع یا نقصان ہے۔ اگر تم عبادت کرو گے تو ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اگر نہیں کرو گے تو اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ربط آیات
گزشتہ درس میں دعوت الیٰ اللہ کا ذکر تھا۔ قرآن پاک کے انکار کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے خود نیک کام کرتا ہے اور زبان سے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا اقرار بھی کرتا ہے ، پھر اللہ نے نیکی اور بدی کا تقابل ذکر کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ دور کرنے کا اصول بتلایا ، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ خصلت عظمہ عدیل اور خوش بخت انسانوں کو ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر اللہ نے شیطان کی چھیڑ چھاڑ اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غصے یا وسوے کا علاج یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پناہ پکڑو ، وہیں تمہیں ان شرور سے محفوظ رکھے…
Read the full tafseer →فَاِنِ اسْـتَكْبَرُوْا فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُوْنَ لَہٗ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَہُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ 38۞
الاسْتِكْبارُ
والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة .
والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين :
أحدهما :
أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود .
والثاني :
أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
تفسیر : جبکہ پہلی آیات میں یہ بیان فرمایا کہ احسن اعمال و اقوال اللہ کی طرف بلانا ہے تو اس کے بعد چند دلائل بیان فرماتا ہے جو اس کے وجود وقدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ اللہ کی طرف بلانا دلائل بیان کرنا ہے اور یہ کہ اللہ کی طرف بلانا کسی مجہول چیز کی طرف بلانا نہیں بلکہ وہ ایسا متجلی ہے کہ ہر چیز میں اس کے پر توے نظر آرہے ہیں۔ کما قال ومن آیاتہ الیل والنہار والشمس و القمر کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ چار چیزیں تمہارے سامنے ہیں، رات، دن، سورج، چاند رات عدمی چیز ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ یہ چاروں چیزیں اپنے انقلابات کی نیرنگیوں میں ثابت کررہی ہیں کہ کوئی قادر…
Read the full tafseer →فَاِنِ اسْتَـکْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوْنَ لَـہٗ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَھُمْ لاَ یَسْئَمُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 38)
(پس اگر یہ لوگ تکبر کریں تو جو لوگ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کررہے ہیں اور وہ کبھی نہیں تھکتے۔ )
اللہ تعالیٰ کسی کی عبادت کا محتاج نہیں ہے
گزشتہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ مشرکینِ مکہ اتنے واضح دلائل کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے باز نہیں آتے اور مخلوقات میں سے بعض کو سجدہ کرتے ہیں اور بجائے آپ کی نصیحتوں پر کان دھرنے کے وہ تکبر کی وجہ سے انھیں سننے کے بھی روادار نہیں تو آپ بھی ان کی پرواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب پر ایمان لانا اور اس کی توحید کی دعوت دینا ہے اس کی وحدت کے دلائل۔
جس رب کی طرف لوگوں کو بلانا اور غصہ کی حالت میں شیطان سے جس رب کی پناہ چاہنا ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ رات اور دن سورج اور چاند اسی کے تابع فرمان ہیں۔ کیا مجال کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے رب کی سرمو حکم عدولی کرے۔ جب رات اور دن، سورج اور چاند اس کے حکم کے تابع ہیں تو پھر چاند اور سورج کو سجدہ کرنا کیا معنٰی دارد ؟ سجدہ تو اس اللہ کو کرنا چاہیے جس نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، رات اور دن بنائے۔ جو حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اسے سب کی بندگی چھوڑ کر صرف اور صرف ایک رب کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →فَاِنِ اسْـتَكْبَرُوْا فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ (پس اگر وہ تکبر کریں تو جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں) ملائکہ مراد ہیں۔ يُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْـَٔــمُوْنَ (وہ شب و روز اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں ہیں) ۔ لایسئمون کا معنی اکتانا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے پھر اگر یہ لوگ تکبر کریں اور اس کے احکام کی تعمیل نہ کریں اور واسطہ کے بغیر اس کو ماننے سے انکاری ہوں تو ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ عابد و ساجد بالاخلاص کو معدوم نہیں فرماتے۔ اس کے مقرب بندے ایسے بھی ہیں جو دن رات شریکوں سے اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ عند ربک یہ قرب کی تعبیر…
Read the full tafseer →37، ومن آیہ اللیل والنھار والشمس والقمر لاتسجدواللشمس ولا للقمر واسجد واللہ الذی خلقھن، یہاں ، خلقھن، مؤ نث ضمیر کے ساتھ اس وجہ سے کہا ہے کہ اس کو جمع مکسر کے طریقہ پر جاری کیا ہے اور یہاں مذکرکو مؤنث پر غلبہ دینے کے طریقہ پر جاری نہیں کیا۔ ، ان کنتم ایاہ تعبدون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 38۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن کی نصیحت سننے کے وقت سرکشی سے اپنے آپ کو بڑا بتاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آئیں اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لئے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پا کر دوسرے دن پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندا کرے سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کئے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت نمبر (35)
” نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں “ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو کبھی برابر نہیں ہوسکتے مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہوسکتے اپنی ذات میں برابر ہوسکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔ “
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے احاسن خاص کا ذکر فرمایا جس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احاسن کرنا جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا اس لیے فرمایا ” آپ بدی کا اسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو “ یعنی جب کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
یہاں مقام سجدہ کونسا ہے ؟
قول باری ہے (واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اور صرف اللہ کے لئے سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سورت میں مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس، مسروق اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (وھم یسامون۔ اور وہ اکتاتے نہیں) مقام سجدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب ، حسن اور ابوعبدالرحمان سے مروی ہے کہ قول باری (ان کنتم ایاہ تعبدون) مقام سجدہ ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر صورت تو یہی ہے کہ دونوں آیتوں کا اختتام مقام سجدہ قرار دیا جائے کیونکہ سلسلہ کلام کا اختتام وہیں جاکر ہوتا ہے۔ اسے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
65 اللہ کی نشانیوں کو خدا بنانے سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو "۔ کہ یہ سب نشانہائے قدرت معبود و مسجود نہیں بلکہ تمہارے خادم و کارندے اور خداوند قدوس کی قدرت و عظمت اور عنایت و مہربانی کے چمکتے دمکتے نشان ہیں۔ سو کس قدر احمق و بےانصاف اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو بھول کر اس طرح کی عاجز مخلوق کی پوجا و پرستش اور سیوا میں لگے ہیں جو کہ خود ان کی خدمت و سیوا کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کروں کی اس چمک دمک اور ان سے ملنے اور حاصل ہونے والے طرح طرح کے عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے
تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیات 33 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو
اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔
اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی اگر مشرکین اس قدر مغرور و سرکش ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اپنے شایان شان نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں، اللہ تعالیٰ ان کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا تو یہ عالم ہے کہ بیشمار مقرب تریں فرشتے جن کے ذریعہ پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے دن رات اس کی عبادت اور تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں اور کبھی نہیں اکتاتے۔ یہ لوگ جھوٹے پندار میں مبتلا رہ کر کسی اور کا نہیں اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اس مقام پر سجدہ ہونے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے۔ صرف محل سجدہ میں اختلاف ہے۔ بعض صحابہ ؓ ایاہ تعبدون اور بعض لا یسمون پر سجدہ کرتے تھے۔ ( قرطبی وغیرہ)
Read the full tafseer →(41:38) فان استکبروا : ان شرطیہ ہے۔ استکبروا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ استکبار (استفعال) مصدر بمعنی گھمنڈ کرنا۔ غرور کرنا۔ اگر پھر بھی وہ اپنے غرور پر اڑے رہیں۔ اس کے بعد اجزاء شرط محذوف ہے ای فلا یخل ذلک لعظمۃ ربک (ان کے اس فعل سے) تیرے رب کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (جزاء کے قائم مقام جزاء کی علت کو ذکر کیا گیا ہے)
فالذین میں فاء تعلیل کی ہے یعنی ان کے استکبار سے خدا کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اس کی عظمت کے لئے تو کسی مخلوق کی عبادت کی بھی ضرورت نہیں لیکن اگر بالفرض عبادت گزاروں ہی کا ذکر ہے تو وہ ملائکہ مقربین جو اپنے مرتبہ و منزلت میں ان مستکبرین سے بدر جہا اعلیٰ وارفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 : اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں بیشمار نشانیاں بنائی ہیں لیکن غور و فکر نہ کرنے والے بڑی سے بڑی حقیقت ہے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ انہیں اس کی حقیقت اور عظمت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہر آدمی رات ، دن ، سورج ، چاند اور ستاروں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں دنیا کی گھڑیاں اور اندازے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نکلنا ، چھپنا اور ڈوب جانا مختلف نہیں ہوتا ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو ستاروں ، چاند اور سورج کی عبادت کرتے دیکھا تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ان میں سے ہر چیز کا سامنے آنا اور چھپ جانا ان کے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے مینہ برسنے سے پہلے زمین کیسی سوکھی پڑی ہوتی ہے ہر طرف خاک اڑتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن جہاں مینہ پڑا پھر اس کی تروتازگی رونق اور ابھار قابل دید ہوتا ہے آخریہ انقلاب کس کے دست قدرت کے تصرف کے نتیجہ کا ہے جس خدا نے اس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیا کیا وہ مرے ہوئے انسانوں کے بدن میں دوبارہ جان نہیں ڈال سکتا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا اس کی قدرت کے سامنے کوئی مانع مزاحم نہیں۔
قرآن کو جھٹلانے والوں کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا انہی لوگوں کے بارے جو قرآن کی آیتوں کے سنانے کے وقت سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں اور سنتے نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
[16] یعنی بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ مثلاً کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخرکار جگری دوست بن جائے گا۔ اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی، مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بےحیا مخالف بھی شرمندہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر مشکل ہی سے کبھی اس کی زبان آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
خلق عظیم
اس سے قبل کی آیت میں صبر و برداشت کی تلقین فرمائی تھی اور یہ کہا تھا کہ منکرین کی برائیوں کا جواب حسن سلوک سے دو اپنی روحانیت سے دو ۔ اس میں یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ کام آسان نہیں ہے اس کے لئے استقامت اور صبر کی ضرورت ہے وہ لوگ اس خلق عظیم سے بہرہ مند ہوتے ہیں جنہوں نے مواجب ومالک سے حصہ وافر پایا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا ۔ کہ جہاں تک سختی اور برائی کے جواب دینے کا تعلق ہے بہترین طریق یہی ہے ۔ کہ طرز عمل بالکل خلاف اختیار کیا جائے ۔ دشمن مشکلات سے پیدا کرے تو اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچائی جائیں ۔ دکھ معاند اور تکلیف کا سبب ہو تو اس کے لئے راحت و سکون کی آرزو کی جائے ۔ مخالف مادی آفات نفرت سے…
Read the full tafseer →(38) پھر اگر یہ لوگ تکبر کا اظہار کریں اور غرور کریں تو آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے کیونکہ وہ لوگ یعنی فرشتے جو آپ کے پروردگار کے پاس ہیں اور آپ کے پروردگار کے مقرب ہیں وہ رات دن اس اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور وہ عبادت کرتے ہوئے ذرا نہیں تھکتے۔ مطلب یہ ہے کہ توحید کے اعتراف اور اقرار میں اور صرف وحدہ لاشریک کے عبادت کرنے میں انہی کا فائدہ ہے لیکن اگر یہ اپنے ہی فائدے کو ترک کرتے ہیں تو یہ ان کی حماقت اور بےوقوفی ہے اللہ تعالیٰ کو تو عبادت اور اس کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے رہتے ہیں اور باوجود اس قدر محنت شاقہ کے تھکتے ہی نہیں تو پھر جس دربار میں بیشمار عبادت گزار موجود ہوں وہاں اگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 2۔ اس سے علاوہ دلالت علی التوحید کے دلالت علی امکان البعث بھی حاصل ہوئی۔
Read the full tafseer →اگر مشرکین تکبیر کرتے ہیں تو اللہ کی بہت سی مخلوق ایسی ہے جو اس کو سجدہ کرتی ہے
38 ؎ اگر مشرکین محض تکبر اور بڑائی کے نشہ میں آپ ﷺ کی بات سلیم نہیں کرتے اور شرک سے باز نہیں آتے تو آپ ﷺ بھی ان کی پرواہ نہ کریں۔ مشرکین کو یہ تکبر کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں اور اپنے دل میں یہ خیال جمائے بیٹھے ہیں کہ محمد (رسول اللہ ﷺ کو ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے کہ اللہ نے اس پر فرشتہ نازل کیا ہے اور اپنے پیغام کے لیے اس کو چن لیا ہے حالانکہ دنیا کے سارے وسائل تو ہمارے پاس موجود ہیں اور ہر طرح کی آسانیاں ہم کو میسر ہیں اور نبوت کے لیے ایک ایسے آدمی کو منتخب کرلیا ہے جس کے پاس ان وسائل میں سے کچھ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
وَهُمْ لَا يَسْأَمُونَ (and they do not get weary. - 38) This is one of the verses called ` Verses of sajdah' the recitation of which makes it obligatory to perform sajdah (prostration) for the one who recites them and the one who listens to them. This sajdah is called sajdah of tilawah. There is consensus of the Ummah on the point that sajdah of tilawah is wajib (obligatory) in this Surah, but the scholars differ regarding the exact place where it becomes wajib. Qadi Abu Bakr Ibn-ul-` Arabi has written in Ahkam-ul-Qur'an that Sayyidna ` Aliand Sayyidna Ibn Masud ؓ used to prostrate at the…
Read the full tafseer →45 "If they show arrogance": If they think it is beneath them to listen to you and persist still in the ignorance in which they are involved.
46 It means this: "The system of this whole universe, whose agents these' angels are, is running on the basis of Allah's Oneness and His servitude. The angels who are its agents are testifying every moment that their Lord is pure and exalted far above that another should be His associate in His Divinity and worship. Now, if a few foolish persons do not believe even after admonition, and turn away from the way that is being followed by the whole universe…
Read the full tafseer →