Fussilat 41:37

Fussilat · from ayah 37

41:37

وَمِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ؕ— لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ۟وَمِنۡ اٰيٰتِهِ الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ‌ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِىۡ خَلَقَهُنَّ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو۔ بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostate to Allah, who created them, if it should be Him that you worship.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:37

اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو۔ بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو اور سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر واقعی تمہیں اسی کی عبادت کرتے ہو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر تم اس کے بندے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی کی نشانیوں میں سے رات اور دن، اور سورج اور چاند ہیں، نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ رات اور دن، سورج اور چاند سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ نہ تو تم سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اگر تمہیں (فی الواقع) اسی کی عبادت کرنا منظور ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی کی نشانیوں میں سے رات اور دن، سورج اور چاند بھی ہیں۔ نہ سجدہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو، بلکہ سجدہ کرو اس اللہ کو جس نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ رات و دن اور سورج و چاند بھی ہیں پس تم نہ تو سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو بلکہ تم سجدہ اس اللہ (وحدہ لاشریک) ہی کے لئے کرو جس نے ان سب کو پیدا فرمایا ہے اگر تم لوگ واقعی اسی کی بندگی کرتے ہوف

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کی نشانیوں میں رات ہے اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے۔ (بس) تم لوگ نہ سورج کو پوجو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ ہی کو پوجو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں رات دن سورج اور چاندتم سورج کو سجدہ مت کرو اور نہ چاند کو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعتا اسی کی بندگی کرتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رات اور دن، سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو لوگو ! نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And of His Signs are the night and the day, and the sun and the moon. Do not prostrate yourselves before the sun, nor before the moon, but prostrate yourselves before Allah Who created them, if it is Him that you serve.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Do not prostrate yourselves to the sun, or to the moon. And prostrate yourselves to Allah who has created them, if it is Him whom you worship.

— Muhammad Taqi Usmani

Among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Do not prostrate yourselves to the sun, or to the moon. And prostrate yourselves to Allah who has created them, if it is Him whom you worship.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Do not prostrate yourselves to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you worship Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of His portents are the night and the day and the sun and the moon. Do not prostrate to the sun or the moon; but prostrate to Allah Who created them, if it is in truth Him Whom ye worship.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostate to Allah, who created them, if it should be Him that you worship.

— Saheeh International

(Some evidence of His existence) are the night, day, sun, and moon. Do not prostrate before the sun and the moon, but prostrate before God Who has created them if you want to worship Him alone.

— Muhammad Sarwar

And among His signs are the night and the day and the sun and the moon; do not prostrate to the sun nor to the moon; and prostrate to Allah Who created them, if Him it is that you serve.

— Muhammad Habib Shakir

And of His signs are the night and the day and the sun and the moon. So prostrate not yourselves Unto the sun nor the moon. but prostrate yourselves Unto Allah who hath created them, if it is He alone whom ye are worshipping.

— Abdul Majid Daryabadi

Among His Signs are the Night and the Day, and the Sun and the Moon. Do not prostrate to the sun and the moon, but prostrate to Allah, Who created them, if it is Him ye wish to serve.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–39

مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بےمثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں ؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہوجاتا ہے۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہوجاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 42 اب روئے سخن عوام الناس کی طرف مڑ رہا ہے اور چند فقرے ان کو حقیقت سمجھانے کے لیے ارشاد ہورے ہیں۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 43 یعنی یہ اللہ کے مظاہر نہیں ہیں کہ تم یہ سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرنے لگو کہ اللہ ان کی شکل میں خود اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن پر غور کرنے سے تم کائنات کی اور اس کے نظام کی حقیقت سمجھ سکتے ہو اور یہ جان سکتے ہو کہ انبیاء (علیہم السلام) جس توحید خداوندی کی تعلیم دے رہے ہیں وہی امر واقعی ہے۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس امر پر متنبہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا، اور دن کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور منجملہ اس کی (قدرت و توحید) کی نشانیوں کے رات اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے (پس) تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو (جیسا کہ صائبین ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے کما فی الکشاف) اور (صرف) اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان (سب) نشانیوں کو پیدا کیا۔ اگر تم کو خدا کی عبادت کرنا ہے (یعنی اگر خدا کی عبادت کرنا ہے تو وہ صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو، مشرکین کی طرح اللہ کی عبادت کے ساتھ دوسروں کو عبادت میں شریک کردیا تو پھر وہ اللہ کی عبادت نہیں رہتی) پھر اگر یہ لوگ (توحید کی عبادت اختیار کرنے اور اپنی آبائی رسوم شرک کو چھوڑنے سے عار) اور تکبر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-6 آگے کا مضمون …آیات :46-37 سورة کی ابتداء میں آفاق کی نشانیوں سے توحید اور معاد پر جو دلیلیں قائم فرمائی ہیں آگے کی آیات میں ان کی مزید وضاحت اور ساتھ ہی ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اللہ کی آیات کی رہنمائی سے خود بھی منحرف ہیں اور دوسروں کو بھی منحرف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن خدائے زیز کا اتارا ہوا صحیفہ ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کیں گے وہ نہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے نہ رسول کا بلکہ خود اپنی ہی ہلاکت کا سامان کریں گے۔ اسی ضمن میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ قرآن نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے اہل عرب اور اہل کتاب دونوں ہی پر ایک عظیم احسان فرمایا ہے۔ انہوں نے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 37–38

37۔ 1 یعنی رات کو تاریک بنانا تاکہ لوگ اس میں آرام کرسکیں دن کو روشن بنانا تاکہ کسب معاش میں پریشانی نہ ہو پھر یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کا آنا جانا اور کبھی رات کا لمبا اور دن کا چھوٹا ہونا اور کبھی اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہوتا اسی طرح سورج اور چاند کا اپنے اپنے وقت پر طلوع وغرب ہونا اور اپنے اپنے مدار پر اپنی منزلیں طے کرتے رہنا اور آپس میں باہمی تصادم محفوظ رہنا، یہ سب اس بات کی دلیلیں ہیں کہ ان کا یقینا کوئی خالق اور مالک ہے نیز وہ ایک اور صرف ایک ہے اور کائنات میں صرف اسی کا تصرف اور حکم چلتا ہے اگر تدبیر و امر کا اختیار رکھنے والے ایک سے زیادہ ہوتے ہیں تو یہ نظام کائنات…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–37

15: شیطان کے کچوکے سے مراد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے دل میں کوئی گناہ کا یا کوئی برائی کرنے کا وسوسہ ڈالے تو تم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کرو جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہ کہو : اَعوْذُ باللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 228 ایک نظر میں اس سبق کا تعلق بھی اسلامی دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ کائناتی نشانیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اور گردش لیل ونہار کو ہمارے غور کے لئے پیش کرتا ہے اور شمس وقمر کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو شمس و قمر کے پجاری تھے۔ حالانکہ یہ دونوں خدا کی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان آیات کے باوجود یہ لوگ اللہ کی آیات سے انکار کرتے ہیں اور اس کی بندگی نہیں کرتے لیکن اللہ کے ہاں ایسی مخلوق ہے جو ہر وقت اس کی بندگی میں لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ پوری زمین بھی اللہ کی بندگی میں لگی ہوئی ہے ، یہ مردہ ہوجاتی اور پھر اللہ سے فیض حیات لیتی ہے جیسا کہ انسان کو بھی زندگی اللہ نے دی ہے ، لیکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 دعوت الی اللہ کے ساتھ چند دلائل سماویہ و ارضیہ بیان فرماتے ہیں جن سے داعی الی اللہ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و وحدانیت اور بعث بعد الموت وغیرہ اہم مسائل کے سمجھانے میں مدد ملے۔ اس ضمن میں ادھر بھی اشار ہوگیا کہ ایک طرف خدا کے مخصوص بندے اپنے قول و عمل سے خدا کی طرف بلارے ہیں اور دوسری طرف چاند، سورج اور آسمان و زمین کا عظیم الشان نظم و نسق سوچنے والوں کو اسی خدائے واحد کی طرف آنے کی دعوت دے رہا ہے وفی کل شیءٍ لہ ایۃ تدل علی انہ واحد۔ انسان کو چاہیے کہ ان تکوینی نشانیوں میں الجھ کر نہ رہ جائے جیسے بہت سی قومیں رہ گئی ہیں، بلکہ لازم ہے کہ اس لامحدود قدرت والے مالک کے سامنے سرجھکائے جس کی یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37{ وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّـیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ } ”اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند۔“ { لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ } ”تم سورج کو سجدہ مت کرو اور نہ چاند کو“ { وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ } ”بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ‘ اگر تم واقعتا اسی کی بندگی کرتے ہو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 پیکر محسوس اور غیر اللہ کی پوجا :۔ مشرکین اور بعض صاحبان طریقت یا وحدت الوجود کے قائلین رہبان اور پیر و فقیر قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند وغیرہ اللہ تعالیٰ کے مظاہر ہیں۔ لہذا ہم جو سورج اور چاند کی پرستش کرتے ہیں تو فی الحقیقت انہیں اللہ کا پیکر محسوس سمجھ کر اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے مظاہر یا پیکر محسوس نہیں بلکہ اللہ کی یہ نشانیاں ہیں اور اس کے غلام ہیں۔ ان کا تعلق دن اور رات سے ہے۔ دن کو سورج نکلتا ہے تو چاند روپوش ہوتا ہے اور رات کو چاند ہوتا تو سورج روپوش ہوتا ہے۔ اس سے ایک تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس قدر پابندی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

35۔ (نہ یہ کہ کوئی مستقل دیوی دیوتا ہیں) آیت میں رد آگیا، تمام ستارہ پرست، آفتاب پرست، ماہتاب پرست جاہلی قوموں کا، ارشاد ہورہا ہے کہ رات ہو، یا دن، سورج ہو یا چاند، یہ تو سب حق تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی علامتیں اور نشانیاں ہیں اور اس کی توحید و عظمت، حکمت وصناعی پر مستقل دلائل و شواہد، انہیں خود معبود سمجھ لینا کس درجہ کی حماقت وسفاہت ہے۔ ملاحظہ ہوں تفسیر انگریزی کے حاشیے۔ 36۔ اہل شرک پر حجت قائم کی ہے کہ اگر تم توحید کے مدعی ہو، اور ایک خدا کے ماننے والے ہو، تو یہ آفتاب پرستی، ماہتاب پرستی، اس دیوتا کی پرستش اور اس دیوی کی پوجا کے کیا معنی ؟ تم کو چاہیے کہ سارے دیوی دیوتاؤں سے منہ موڑ کر صرف ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–44

آیت نمبر 33 تا 44 ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن ایتہ الیل والنھار والشمس والقمر لا تسجدوا للشمس ولا للقمروا سجدوا اللہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون اور منجملہ اس کی (وحدانیت وقدرت کی) نشانیوں کے رات اور دن اور سورج اور چاند بھی ہیں۔ تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو ‘ نہ چاند کو اور صرف اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا اگر تم کو اسی کی عبادت کرنی ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک چیز اپنے بنانے والے کے واجب ہونے پر اور اس کی وحدانیت اور صفات کاملہ پر دلالت کر رہی ہے ‘ اسلئے چاند ‘ سورج کو سجدہ نہ کرو ‘ یہ تو مخلوق ہیں ‘ تمہاری طرح محکوم ہیں بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان چاروں کو پیدا کیا ہے۔ ھُنّ کی ضمیر چاروں کی طرف راجع ہے مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اس کی قدرت اور توحید کی نشانیوں میں سے رات ہے اور دن ہے سورج ہے اور چاند ہے یہ سب قدرت الہیہ کی نشانیاں ہیں لہٰذا نہ سورج کی عبادت کرو اور نہ چاند کی اور اسی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس نے چاند سورج رات اور دن کو پیدا کیا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے یا یہ کہ اگر تم چاند و سورج کی پوجا کو عبادت خداوندی سمجھتے ہو تو پھر ان کی پوجا نہ کرو اللہ کی عبادت ان کی عبادت کے چھوڑنے میں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ومن ایتہ الیل و الھار ’ : اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو سب سے اچھی بات قرار دیا، اب اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کے لئے چند اور چیزیں بطور دلیل ذکر فرمائیں، جن میں سے بعض آسمان سے تعلق رکھتی ہیں اور بعض زمین سے اور واضح فرمایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (2) انسان کو نظر آنے والی اشیا میں سے سب سے عظیم اور سب سے روشن چیزیں سورج اور چاند ہیں، اس لئے بہت سے لوگ انھی کو رب تعالیٰ سمجھ بیٹھے۔ بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا مظہر سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور ان کی پرستش اور انہیں سجدہ کرنے لگے، جیسے صابی اور پارسی لوگ ہیں۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–37

وما یلقھا ھا ضمیر سے مراد معزز فعل اور علی خصلت ہے الا الذین صبروا جو غصہ پی کر اور اذیت برداشت کرکے صبر کرتے ہیں و ما یلقھا الا ذو حظ عظیم۔ حظ عظیم سے مراد بھلائی میں سے وافر حصہ ہے ؛ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : قتاوہ اور مجاہد نے کہا : حظ عظیم سے مراد جنت ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حظ جنت کے بغیر کبھی بھی عظیم نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یلقھا میں ضمیر سے مراد جنت ہے یعنی جنت صرف صابر لوگ ہی پاتے ہیں۔ معنی قریب قریب تر ہے۔ ایتہ سے مراد وہ علامات ہیں جو اس کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہے الیل والنھار و الشمس والقمر یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔ پھر ان دونوں کو سجدہ کرنے سے منع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابویعلی وابن مردویہ (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات اور دن کو گالی نہ دو اور نہ سورج اور چاند کو اور نہ ہوا کو کیونکہ انکو ایک قوم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا جاتا ہے اور دوسری قوم کے لئے عذاب بنا کر۔ 2:۔ طستی (رح) اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے (آیت ) ” لایسئمون “ کے بارے میں بتائیے فرمایا وہ نہیں اکتاتے اور نہ سستی کرتے ہیں، پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا : ہاں ! کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ من الخوف لا ذی سامۃ من عبادہ ولا مؤمن طول التعبد یجھد : ترجمہ : وہ خوف کی وجہ سے ایسا کرتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْ اٰيٰتِهِ [ اور اس کی نشانیوں ہی میں سے ہیں ] الَّيْلُ وَالنَّهَارُ [ رات اور دن ] وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۭ [ اور سورج اور چاند ] لَا تَسْجُدُوْا [تم لوگ سجدہ مت کرو ] لِلشَّمْسِ [ سورج کو ] وَلَا لِلْقَمَرِ [ اور نہ ہی چاند کو ] وَاسْجُدُوْا [ اور تم لوگ سجدہ کرو ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کو جس نے ] خَلَقَهُنَّ [ پیدا کیا ان کو ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] اِيَّاهُ [ اس کی ہی ] [تَعْبُدُوْنَ : بندگی کرتے ہو ] نوٹ ۔ 1: سورة کے شروع میں آیات 9 تا 12 میں آسمان و زمین کی پیدائش سے توحید ومعاد پر جو استدلال کیا ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 37 ۔ اسی سے متعلق ہے۔ درمیان میں جو مطالب تنبیہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رات اور دن چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کے پیدا کرنے والے کو سجدہ کرو ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بعض دلائل قائم فرمائے ہیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے رات بھی ہے اور دن بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت سے ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں اور سورج اور چاند بھی اس کی نشانیوں میں سے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا اور روشنی بخشی اور ان کے گردش کرنے کا مدار مقرر فرمایا اور طلوع و غروب کے اوقات مقرر فرمائے جس ذات پاک نے ان کو پیدا فرمایا صرف وہی مستحق عبادت ہے۔ (لاَ تَسْجُدُوْا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–38

فضیلت دعوت الی اللہ وبیان صبر و استقامت وحلم و درگذر درراہ حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ ....... الی ....... وھم لا یسئمون “۔ (ربط) گذشہ آیات میں اہل ایمان اور ایمان پر استقامت والوں کا اللہ کے یہاں کیا عظیم مقام و مرتبہ ہے بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی فضیلت بیان کی جارہی اور یہ کہ عقل و فطرت کے اس قانون کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ہے، اور دعوت الی اللہ اور اشاعت حق میں انسان کو بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ اور شدائد پر صبر کی ضرورت ہے، یہ چیز کمال کی نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ ” ومن ایتہ “ تا ’[ انہ علی کل شیء قدیر “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الترقی۔ اس میں پہلی دلیل کے دونوں حصوں پر مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلی دلیل میں آسمانوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا۔ اس دلیل میں نظام شمسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ رات دن کی آمد و رفت اور چاند سورج کی گردش یہ سارا نظام بھی اللہ کی وحدانیت اور اس کے کمال قدرت کے دلائل میں سے ہے۔ سورج اور چاند کی گردش سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑی طاقت کے ماتحت اور اس کے فرمانبردار ہیں، جو ہر وقت اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں اور وہ معبود اور کارساز نہیں ہیں۔ اس لیے سورج اور چاند کو معبود سمجھ کر ان کی عبادت نہ کرو۔ اور نہ مصائب میں ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–40

ربط آیات گزشتہ درس میں دعوت الیٰ اللہ کا ذکر تھا۔ قرآن پاک کے انکار کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے خود نیک کام کرتا ہے اور زبان سے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا اقرار بھی کرتا ہے ، پھر اللہ نے نیکی اور بدی کا تقابل ذکر کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ دور کرنے کا اصول بتلایا ، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ خصلت عظمہ عدیل اور خوش بخت انسانوں کو ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر اللہ نے شیطان کی چھیڑ چھاڑ اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غصے یا وسوے کا علاج یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پناہ پکڑو ، وہیں تمہیں ان شرور سے محفوظ رکھے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْ اٰيٰتِہِ الَّيْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۝ 0 ۭ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلہِ الَّذِيْ خَلَقَہُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاہُ تَعْبُدُوْنَ۝ 37 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–39

تفسیر : جبکہ پہلی آیات میں یہ بیان فرمایا کہ احسن اعمال و اقوال اللہ کی طرف بلانا ہے تو اس کے بعد چند دلائل بیان فرماتا ہے جو اس کے وجود وقدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ اللہ کی طرف بلانا دلائل بیان کرنا ہے اور یہ کہ اللہ کی طرف بلانا کسی مجہول چیز کی طرف بلانا نہیں بلکہ وہ ایسا متجلی ہے کہ ہر چیز میں اس کے پر توے نظر آرہے ہیں۔ کما قال ومن آیاتہ الیل والنہار والشمس و القمر کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ چار چیزیں تمہارے سامنے ہیں، رات، دن، سورج، چاند رات عدمی چیز ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ یہ چاروں چیزیں اپنے انقلابات کی نیرنگیوں میں ثابت کررہی ہیں کہ کوئی قادر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْ اٰیٰـتِہِ الَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 37) (اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند، سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا ہے، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ ) توحید کے راستے کی ایک غلط فہمی کا ازالہ توحید اور اس کے متعلقات کا مضمون جاری تھا کہ درمیان میں ایک تقریب کے تحت چند جملہ ہائے معترضہ پیش آگئے، اب پھر اصل مضمون کو لیا جارہا ہے اور مخاطب عام لوگ ہیں جو توحید اور اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–38

فہم القرآن ربط کلام : جس رب پر ایمان لانا اور اس کی توحید کی دعوت دینا ہے اس کی وحدت کے دلائل۔ جس رب کی طرف لوگوں کو بلانا اور غصہ کی حالت میں شیطان سے جس رب کی پناہ چاہنا ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ رات اور دن سورج اور چاند اسی کے تابع فرمان ہیں۔ کیا مجال کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے رب کی سرمو حکم عدولی کرے۔ جب رات اور دن، سورج اور چاند اس کے حکم کے تابع ہیں تو پھر چاند اور سورج کو سجدہ کرنا کیا معنٰی دارد ؟ سجدہ تو اس اللہ کو کرنا چاہیے جس نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، رات اور دن بنائے۔ جو حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اسے سب کی بندگی چھوڑ کر صرف اور صرف ایک رب کی عبادت کرنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَمِنْ اٰيٰتِهِ (اور اس کی نشانیوں میں سے) جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہیں۔ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ (دن اور رات ہے) ۔ یہ معلوم اندازہ کے ساتھ ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں اور مقررہ مقدار کے مطابق باری باری آنے میں۔ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (اور سورج اور چاند ہے) ۔ ایک مقررہ سیر پر چلنے میں یہ دونوں خاص ہیں۔ اور ان کا نور بھی مقرر ہے۔ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ (تم لوگ نہ سورج کو اور نہ چاند کو سجدہ کرو) یہ دونوں مخلوق ہیں اگرچہ ان کے منافع بیشمار ہیں۔ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (اور اس اللہ کو سجدہ کیا کرو جس نے ان کو پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36، واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ انہ ھوالسمیع ، آپ کے پناہ طلب کرنے اور آپ کے اقوال کو، العلیم، آپ کے افعال و احوال کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–38

37۔ 38۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن کی نصیحت سننے کے وقت سرکشی سے اپنے آپ کو بڑا بتاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آئیں اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لئے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پا کر دوسرے دن پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندا کرے سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کئے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 35–38

آیت نمبر (35) ” نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں “ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو کبھی برابر نہیں ہوسکتے مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہوسکتے اپنی ذات میں برابر ہوسکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔ “ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے احاسن خاص کا ذکر فرمایا جس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احاسن کرنا جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا اس لیے فرمایا ” آپ بدی کا اسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو “ یعنی جب کبھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–43

یہاں مقام سجدہ کونسا ہے ؟ قول باری ہے (واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اور صرف اللہ کے لئے سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سورت میں مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس، مسروق اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (وھم یسامون۔ اور وہ اکتاتے نہیں) مقام سجدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب ، حسن اور ابوعبدالرحمان سے مروی ہے کہ قول باری (ان کنتم ایاہ تعبدون) مقام سجدہ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر صورت تو یہی ہے کہ دونوں آیتوں کا اختتام مقام سجدہ قرار دیا جائے کیونکہ سلسلہ کلام کا اختتام وہیں جاکر ہوتا ہے۔ اسے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 37–38

65 اللہ کی نشانیوں کو خدا بنانے سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو "۔ کہ یہ سب نشانہائے قدرت معبود و مسجود نہیں بلکہ تمہارے خادم و کارندے اور خداوند قدوس کی قدرت و عظمت اور عنایت و مہربانی کے چمکتے دمکتے نشان ہیں۔ سو کس قدر احمق و بےانصاف اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو بھول کر اس طرح کی عاجز مخلوق کی پوجا و پرستش اور سیوا میں لگے ہیں جو کہ خود ان کی خدمت و سیوا کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کروں کی اس چمک دمک اور ان سے ملنے اور حاصل ہونے والے طرح طرح کے عظیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–37

ایمان والوں کے درجات تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–44

آیات 33 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔ اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیوں میں سے چند نشانیاں ہیں جنکی پیدائش اور نظام پر اگر تم غور کرو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت کے دلائل مل سکتے ہیں۔ اس آیت سے مقصود ان مشرکین کا رد ہے جو ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا مظہر سمجھتے ہوئے ان کی پرستش کرتے تھے جیسے صابی اور پارسی حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سورج، چاند اور ہوائوں میں سے کسی کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ ہوائیں وہ چیز ہیں جو بعض کے لئے رحمت اور بعض کے لئے عذاب بنا کر بھیج جاتی ہیں۔ ( ابن کثیر)6 یعنی اگر خدا کی عبادت کرنا چاہتے ہو تو براہ راست اسی کو سجدہ کرو جو ان سب کا خالق ہے۔ معلوم ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:37) من ایتہ : من تبعیضیہ ہے۔ منجملہ اس کی نشانیوں میں سے۔ خلقھن ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع لیل و نہار، شمس و قمر چاروں ہی ہیں یا یہ ضمیر ایتہ کی طرف راجع ہوسکتی ہے۔ واسجدوا للّٰہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون ۔ یہاں سجدہ سے مراد عام اصطلاحی سجدہ اسلامی نماز کا مراد نہیں ہے بلکہ عام عبادت و پرستش مقصود ہے۔ ان کنتم ایاہ تعبدون اگر تمہیں صرف اسی کی عبادت کرنا مقصود ہے۔ جملہ شرطیہ جس کی جزاء مقدم ہے۔ الخازن فرماتے ہیں :۔ ان ناسا کانوا یسجدون للشمس والقمر والکواکب ویزعمون ان سجودھم لھذہ الکواکب ھو سجود للّٰہ عزوجل فنھوا عن السجود لھذہ الوسائط وامروا بالسجود للّٰہ الذی خلق ھذہ الاشیاء کلہا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–40

تشریح : آیت نمبر 37 تا 40 : اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں بیشمار نشانیاں بنائی ہیں لیکن غور و فکر نہ کرنے والے بڑی سے بڑی حقیقت ہے اس طرح گزر جاتے ہیں کہ انہیں اس کی حقیقت اور عظمت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہر آدمی رات ، دن ، سورج ، چاند اور ستاروں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں دنیا کی گھڑیاں اور اندازے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نکلنا ، چھپنا اور ڈوب جانا مختلف نہیں ہوتا ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کو ستاروں ، چاند اور سورج کی عبادت کرتے دیکھا تو یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ان میں سے ہر چیز کا سامنے آنا اور چھپ جانا ان کے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–37

توحید کا بیان اور اللہ کریم کی قدرت کی کامل نشانیاں۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آویں، اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لیے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پاکر دوسرے دن بھی پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے اور وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندہ کرے، سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کیے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس حساب سے رکھیں، جس سے مہینہ اور سال کا حساب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–39

[16] یعنی بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ مثلاً کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخرکار جگری دوست بن جائے گا۔ اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی، مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بےحیا مخالف بھی شرمندہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر مشکل ہی سے کبھی اس کی زبان آپ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–41

خلق عظیم اس سے قبل کی آیت میں صبر و برداشت کی تلقین فرمائی تھی اور یہ کہا تھا کہ منکرین کی برائیوں کا جواب حسن سلوک سے دو اپنی روحانیت سے دو ۔ اس میں یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ کام آسان نہیں ہے اس کے لئے استقامت اور صبر کی ضرورت ہے وہ لوگ اس خلق عظیم سے بہرہ مند ہوتے ہیں جنہوں نے مواجب ومالک سے حصہ وافر پایا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا ۔ کہ جہاں تک سختی اور برائی کے جواب دینے کا تعلق ہے بہترین طریق یہی ہے ۔ کہ طرز عمل بالکل خلاف اختیار کیا جائے ۔ دشمن مشکلات سے پیدا کرے تو اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچائی جائیں ۔ دکھ معاند اور تکلیف کا سبب ہو تو اس کے لئے راحت و سکون کی آرزو کی جائے ۔ مخالف مادی آفات نفرت سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) اور منجملہ اس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانوں میں سے رات دن اور سورج اور چاند بھی اسی کی نشانیاں ہیں تو تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اس اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم کو واقعی اسی کی عبادت کرنی ہے۔ یہاں سے پھر توحید کے دلائل اور رسالت وقرآن کی صداقت اور نبی کریم ﷺ کی تسلی کا ذکر شروع فرمایا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے بیشمار دلائل اور نشانیاں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند بھی اسی کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور جب یہ چیزیں آیات قدرت ہیں تو تم نہ سورج کو بندگی کرو اور نہ چاند کو بلکہ تم اگر واقعی اللہ تعالیٰ کے پجاری…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 34–39

ف 2۔ اس سے علاوہ دلالت علی التوحید کے دلالت علی امکان البعث بھی حاصل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی نشانیوں کا بیان جن پر غورو فکر لازم ہے 37 ؎ انسان کو غلطی لگنے پر آئے تو معمولی سی بات بھی اس کی غلطی کا باعث ہو سکتی ہے لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ میں نے غلطی کی ہے یا مجھ سے غلطی ہوگئی ہے تو اس سے باز آجانے سے اس غلطی کا ازالہ ہوجاتا ہے یہ خاصہ صرف اور صرف مشرکین کا ہے کہ وہ غلطی کرتے ہیں اور پھر غلطی کو غلطی تسلیم بھی نہیں کرتے اور اس بات کا کوئی ثبوت یا کوئی دلیل بھی پیش نہیں کرتے کہ یہ غلطی نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ ان کی سو دلیل کے برابر ایک دلیل ہوتی ہے کہ ہمارا باپ دادا ایسا کرتا آیا ہے اور یہ کہ ساری دنیا ایسا کر رہی ہے حالانکہ اس کو کوئی عقل مند دلیل نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

It is Not permissible to prostrate before anyone except Allah Almighty لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ‌ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ (Do not make sajdah [ prostration ] to the sun, or to the moon. And make sajdah to Allah who has created them - 37). It is learnt from this verse that prostration is the right of the Creator of the Universe only. The consensus of the Ummah is that to prostrate before any star, human being, etc. is haram (forbidden), whether it is for worship, or just as a gesture of respect and reverence. The only difference is that if someone prostrates…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42 Now the discourse turns to the common people and they are made to understand the truth in a few sentences. 43 That is, "They are not the objects of Divine power that you may start worshipping them, thinking that Allah is manifesting Himself in their form, but they are the Signs of Allah by pondering over which you can understand the reality of the universe and its system, and can know that the doctrine of the Oneness of God which the Prophets arc teaching is the actual Reality. The mention of the night and day before the sun and moon has been made to give the warning that the hiding of the…

Read the full tafseer →