Explained with ayahs 33–36
اللہ تعالیٰ کا محبوب انسان۔
فرماتا ہے جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہوگی ؟ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ ﷺ سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چناچہ صحیح مسلم میں ہے قیامت کے دن موذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔ سنن میں ہے امام…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 40
شیطان کو سخت تشویش لاحق ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں کمینگی کا مقابلہ شرافت کے ساتھ اور بدی کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ایک ہی مرتبہ سہی، حق کے لیے لڑنے والوں، اور خصوصاً ان کے سربر آوردہ لوگوں، اور سب سے بڑھ کر ان کے رہنما سے کوئی ایسی غلطی کرا دے جس کی بنا پر عامۃ الناس سے یہ کہا جاسکے کہ دیکھیے صاحب، برائی یک طرفہ نہیں ہے، ایک طرف سے اگر گھٹیا حرکتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف کے لوگ بھی کچھ بہت اونچے درجے کے انسان نہیں ہیں، فلاں رکیک حرکت تو آخر انہوں نے بھی کی ہے۔ عامۃ الناس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ٹھیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(آیت) وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ، یہاں سے دعوت الیٰ اللہ کی خدمت انجام دینے والوں کو خاص ہدایات دی گئی ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیں بلکہ صبر اور احسان سے کام لیں اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ یعنی داعیان حق کی خصلت یہ ہونی چاہئے کہ وہ لوگوں کو برائی کو طریق احسن سے دفع کریں۔ وہ یہ کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ لینا اور معاف کردینا تو عمل حسن ہے اور۔ احسن یہ ہے کہ جس نے تمہارے ساتھ برا سلوک کیا، تم اس کو معاف بھی کردو اور اس کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت میں حکم یہ ہے کہ جو شخص تم پر غصہ کا اظہار کرے، تم اس کے…
Read the full tafseer →شیطان کی ایک ہٹ کا علاج
واما ینزغنک من الشیطن نزع فاستعذ باللہ انہ ھو السمیع العلیم (36)
یہ علاج بتایا ہے کہ اگر مخالفوں کی شرارت اور شیطان کی شر انگیزی سے طبیعت میں کوئی ایسا جذبہ ابھرے جو اس حکمت کے منافی ہو تو اس وقت آدمی کو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ آدمی اگر جذبات کی رو میں بہہ جانے کے بجائے صدق دل سے اللہ کی پناہ کا طالب ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور اپنی پناہ میں لے لے گا اور شیطان کو اس پر قابو نہیں پانے دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی سمیع وعلیم ہے۔ کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہتی۔ بندہ جب صدق دل سے شیطان کے مقابل میں اللہ تعالیٰ سے مدد کا طالب ہوتا ہے تو وہ ضرو اس کی مدد فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →36۔ 1 یعنی شیطان، شریعت کے کام سے پھیرنا چاہے یا احسن طریقے سے برائی کے دفع کرنے میں رکاوٹ ڈالے تو اس کے شر سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ طلب کرو۔
36۔ 2 اور جو ایسا ہو یعنی ہر ایک کی سننے والا اور ہر بات کو جاننے والا، وہی پناہ کے طلب گاروں کو پناہ دے سکتا ہے۔ اس کے بعد اب پھر بعض ان نشانیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو اللہ کی توحید، اس کی قدرت کاملہ اور اس کی قوت تصرف پر دلالت کرتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
15: شیطان کے کچوکے سے مراد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے دل میں کوئی گناہ کا یا کوئی برائی کرنے کا وسوسہ ڈالے تو تم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کرو جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ یہ کہو : اَعوْذُ باللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔
Read the full tafseer →واما ینزغنک ۔۔۔۔۔ السمیع العلیم (41 : 36) ” اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے “۔ غصے میں کبھی اکساہٹ ہوتی ہے انتقام کی ، برائی کی وجہ سے بعض اوقات انسان صبر کی کمی محسوس کرتا ہے یا شرافت میں تنگ دلی محسوس کرتا ہے۔ ایسے حالات میں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہئے۔ اس سے وہ سوراخ بند ہوجائے گا جو شیطان کرنا چاہتا تھا۔
اللہ انسانی دل کا خالق ہے ، وہ اس کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ اس کی طاقت اور حد برداشت کو بھی جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ شیطان کس سوراخ سے حملہ آور ہوتا ہے ۔ یہ داعی کے قلب کو گھیرتا ہے اور اکساتا…
Read the full tafseer →3 یعنی ایسے شیطان کے مقابلہ میں نرمی اور عفو و درگزر سے کام نہیں چلتا۔ بس اس سے بچنے کی ایک ہی تدبیر ہے کہ خداوند قدوس کی پناہ میں آجاؤ۔ یہ وہ مضبوط قلعہ ہے جہاں شیطان کی رسائی نہیں۔ اگر تم واقعی اخلاص و تضرع سے اللہ کو پکارو گے وہ ضرور تم کو پناہ دے گا۔ کیونکہ وہ ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ کس نے کتنے اخلاص و تضرع سے اس کو پکارا ہے۔ حضرت شاہ صاحب اس آیت کا پہلی آیت سے ربط ظاہر کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں۔ " یعنی کبھی بےاختیار غصہ چڑھ آئے تو یہ شیطان کا دخل ہے۔ " وہ نہیں چاہتا کہ تم حسن اخلاق پر کار بند ہو کر دعوت الی اللہ کے مقصد میں کامیابی حاصل کرو۔
Read the full tafseer →آیت 36{ وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ } ”اور اگر کبھی تمہیں شیطان کی طرف سے کوئی چوک لگنے لگے تو اللہ کی پناہ طلب کرلیا کرو۔“
اگر کبھی کسی کے ناروا سلوک اور مخالفانہ رویے پر غصہ آجائے تو فوراً سمجھ لو کہ یہ شیطان کی اکساہٹ ہے ‘ شیطان تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے۔ چناچہ ایسی کیفیت میں فوراً اللہ کی پناہ طلب کرلیا کرو ‘ کیونکہ صرف اسی کی پناہ میں آکر تم شیطان کے وار سے بچ سکتے ہو۔
{ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ } ”یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ جاننے والا۔“
یہ آیت سورة الاعراف آیت 200 میں بھی آچکی ہے۔ وہاں { اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} کے…
Read the full tafseer →44 برائی پر غصہ سے بھڑک اٹھنا شیطانی انگیخت ہے :۔ یعنی جب کوئی شخص برائی کرے اور انسان غصہ سے بھڑک اٹھے اور بدلہ لینے پر تیار ہوجائے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ یہ شیطانی انگیخت ہے۔ شیطان اسے یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ اس قسم کی بےعزتی کو ہرگز برداشت نہ کرنا چاہئے۔ پھر وہ اسے انتقام لینے پر آمادہ کردیتا ہے۔ ایسی صورت حال پیش آئے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیجئے اور شیطان مردود سے، جو اس بات کا محرک بنا تھا، اللہ کی پناہ میں آجائیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کی حرکات و سکنات کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے احوال سے بھی خوب واقف ہے لہذا وہ خود ہی تمہاری چارا جوئی فرمائے گا۔
45 غصہ کا علاج :۔…
Read the full tafseer →34۔ (جس سے نہ کسی کے الفاظ واقوال مخفی ہیں نہ کسی کے اعمال واحوال) (آیت) ” واما ...... نزغ “۔ نزع یا وسوسہ سے یہاں مراد غصہ وانتقام کا وسوسہ ہے۔ معاندین کی مخالفت شدید وپیہم کے وقت اس کا پیدا ہوجانا ایک حد تک امر طبعی ہے۔ تاہم پیغمبر کے مرتبہ سے فروتر چیز ہے۔ اس لیے قرآں نے ہر امر مذموم ومعیوب کی طرح اسے بھی شیطان کی جانب منسوب کیا ہے۔ محققین عارفین نے مفہوم میں توسع پیدا کرکے اور مخاطبت میں مراد ساری امت کو لے کر دوسرے شیطانی تاثرات وتصرفات مثلاحسد، ریاء کبر، کینہ، کذب وغیرہ کی تحریکات کو اسی حکم کے تحت میں لے لیا ہے۔ ابھی ابھی حکم صبرکاملا تھا، صبر ہی اساس اخلاق ہے، اور سعادت اخروی و بہبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیت نمبر 33 تا 44
ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…
Read the full tafseer →واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ اور اگر (ایسے وقت میں) شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ
آنے لگے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے۔
اِمَّا - اِنْ شرطیہ ہے اور مَا زائد ہے۔
یَنْزَغَنَّکَ- نَزْغٌکچوکا دینا ‘ چبھونا۔ شیطان کچوکا دیتا ہے ‘ یعنی گناہ پر ابھارتا ہے۔ قاموس میں ہے : نزغہٗ اسکے نیزہ چبھویا۔ نَزَغَ بینھم ان کے درمیان فساد ڈلوا دیا ‘ وسوسہ پیدا کردیا ‘ برانگیختہ کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر شیطان کی طرف سے آپ کے دل میں وسوسہ پیدا ہو اور انتقام لینے پر اور برائی کے عوض برائی کرنے پر شیطان آپ کو ابھارے تو شیطان کے شر سے آپ اللہ کی پناہ کے خواستگار ہوں اور شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں ‘ اللہ…
Read the full tafseer →اگر ابو جہل کی سختیوں کی وجہ سے شیطان کی طرف سے غصہ کا کچھ خیال آنے لگے تو اس شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کیجیے وہ ابو جہل کی باتوں کو سننے والا اور اس کی سزا سے باخبر ہے یا یہ کہ آپ کے استفادہ کو سننے والا اور وسوسہ شیطان کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →واما ینزغنک من الشیطن نزع … ”نزع“ کا لفظی معنی ”کسی سوئی یا نوک دار چیز کے ساتھ چوکا مارنا“ ہے، مراد شیطان کا غصہ دلا کر برانگیختہ کردینا ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة اعراف (200) اور سورة مومنوں (96 تا 98) میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
وما یلقھا ھا ضمیر سے مراد معزز فعل اور علی خصلت ہے الا الذین صبروا جو غصہ پی کر اور اذیت برداشت کرکے صبر کرتے ہیں و ما یلقھا الا ذو حظ عظیم۔ حظ عظیم سے مراد بھلائی میں سے وافر حصہ ہے ؛ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : قتاوہ اور مجاہد نے کہا : حظ عظیم سے مراد جنت ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حظ جنت کے بغیر کبھی بھی عظیم نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یلقھا میں ضمیر سے مراد جنت ہے یعنی جنت صرف صابر لوگ ہی پاتے ہیں۔ معنی قریب قریب تر ہے۔
ایتہ سے مراد وہ علامات ہیں جو اس کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہے الیل والنھار و الشمس والقمر یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔ پھر ان دونوں کو سجدہ کرنے سے منع…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و بخاری (رح) ومسلم (رح) وابو داؤد (رح) و نسائی (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے سلیمان بن صرد ؓ سے روایت کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آپس میں گالی گلوچ کی ان میں سے ایک کا غصہ تیز ہوگا نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر یہ اس کو کہہ لے تو اس سے غصہ دور ہوجائے گا (اور وہ ہے) ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “ اس آدمی نے کہا کیا آپ مجھے مجنون سمجھتے ہیں (پھر) آپ نے یہ (آیت) پڑھی ” واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم “ (اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو فورا اللہ کی پناہ مانگ لیجئے ) ۔
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح)…
Read the full tafseer →وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ [ اور اگر اکسائے ہی تجھ کو ] مِنَ الشَّيْطٰنِ [ شیطان (کی طرف ) سے ] نَزْغٌ [ کوئی اکساہٹ ] فَاسْتَعِذْ [ تو پناہ میں آؤ ] بِاللّٰهِ ۭ[ اللہ کی ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →جب کوئی شخص نیک کاموں میں لگتا ہے تو شیطان اس کے نفس میں برے برے وسوسے ڈالتا ہے اس کے بارے میں فرمایا (وَاِِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنْ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ ) (اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کچھ وسوسہ آنے لگے تو آپ اللہ کی پناہ مانگیں) (اِِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ )
صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ لفظ نزغ عربی زبان میں کسی لکڑی یا انگلی سے چبھانے کے لیے بولا جاتا ہے جسے اردو کے محاورے میں کچو کہ دینا کہہ سکتے ہیں ذرا ذرا سے و سو سے تو آتے ہی رہتے ہیں شیطان کبھی زور دار وسوسہ بھی ڈال دیتا ہے اسی لیے اسے نزع سے تعبیر فرمایا جب کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فضیلت دعوت الی اللہ وبیان صبر و استقامت وحلم و درگذر درراہ حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ ....... الی ....... وھم لا یسئمون “۔
(ربط) گذشہ آیات میں اہل ایمان اور ایمان پر استقامت والوں کا اللہ کے یہاں کیا عظیم مقام و مرتبہ ہے بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی فضیلت بیان کی جارہی اور یہ کہ عقل و فطرت کے اس قانون کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ہے، اور دعوت الی اللہ اور اشاعت حق میں انسان کو بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ اور شدائد پر صبر کی ضرورت ہے، یہ چیز کمال کی نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ٖ 34:۔ ” واما ینزغنک “ اگر کبھی بتقاضائے بشریت، آپ کو ان معاندین کی خرافات پر غصہ آجائے تو آپ شر شیطان سے اللہ کی پناہ مانگیں، تاکہ اس کا اثر زائل ہوجائے۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ یہ ماقبل کے لیے علت ہے۔ کیونکہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وان صرفک الشیطان عما وصیت بہ من الدفع بالتیھی احسن (فاستعذ باللہ) ای من شرہ (خازن جلد 6 ص 112) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ربط آیات
گزشتہ رادع کے آغاز میں اللہ نے کفار کا شکوہ بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو مت سنو بلکہ جب اس کی تلاوت ہو رہی ہو ۔ تو شور و غل مچائو۔ تو شور و غل مچائو تا کہ دوسرے بھی اس کو نہ سن سکیں ۔ قرآن پاک کے پروگرام کو اسی طرح ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے کہ اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچنے سے روک دیا جائے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ہم ایسے لوگوں کو سخت سزا دیں گے ۔ پھر اللہ نے دوزخ میں تابعین اور متبوعین کا ذکر کیا کہ تابعین اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ہمیں ہمارے متبوعین دکھائے جائیں تا کہ ہم انہیں اپنے پائوں کے نیچے روند ڈالیں کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 36
نزع
نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی:
وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43]
( ن زع ) نزع
الشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کام ن کو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ترکیب : ومن استفہامیۃ و محلہا الرفع بالا بتداء والخبر احسن قولا تمیز لاحسن ممن متعلق باحسن ولا السیئۃ لا زائدۃ جاءت لتا کید النفی ادفع بالتی ای ادفع السیئۃ حیث اصابتک من احد بالتیھی احسن ای بالحسنۃ۔
تفسیر : کمال احسانی دو قسم پر ہیں، ایک تام دوسرا اس سے بھی بڑھ کر کمال تام۔ اپنے تئیں صفات حمیدہ سے مزین کرنا اس کا ذکر ان الذین قالوا ربنا اللہ میں آچکا، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اپنی تکمیل کے بعد ناقصوں کی تکمیل کی طرف متوجہ ہونا، اس کی طرف ان آیات میں اشارہ کرتا ہے۔ فقال و من احسن قولا ممن دعا الی اللہ اور نیز اس میں مخاطبین پر ایک ملائم طور پر حجت قائم کی جاتی ہے کہ تم کس لیے قرآن میں غل مچاتے ‘…
Read the full tafseer →وَاِمَّا یَنْزَغَنَّـکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ ط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 36)
(اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ سے پناہ مانگو، بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ )
صاحبِ تفہیم القرآن نے اس پر ایک خوبصورت نوٹ لکھا ہے ہم یہاں اسے نقل کررہے ہیں۔
شیطان کی اکساہٹ کا علاج
شیطان کو سخت تشویش لاحق ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں کمینگی کا مقابلہ شرافت کے ساتھ اور بدی کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ایک ہی مرتبہ سہی، حق کے لیے لڑنے والوں اور خصوصاً ان کے سربرا آوردہ لوگوں اور سب سے بڑھ کر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مبلّغ کو اپنے بچاؤ کے لیے ہدایات۔
مبلّغ بھی انسان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں دفاع کے لیے غیرت اور غصّہ رکھا ہے۔ اگر انسان میں غیرت اور غصہ نہ ہوتا تو یہ کبھی اپنی عزت اور مال و جان کی حفاظت نہ کرسکتا۔ غیرت کا اظہار اور غصہ کرنا بعض مواقع پر فرض ہے۔ لیکن کچھ مواقع ایسے ہیں جن میں غیرت اور غصہ کا اظہار فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ثابت ہوتا ہے۔ بالخصوص اگر الداعی جذباتی اور جھگڑالو ہوگا تو فائدے کی بجائے اپنا اور دین حنیف کا نقصان کربیٹھے گا۔ طبیعت میں غصہ اور طیش آئے تو حکم ہے کہ ” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ “ پڑھے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات…
Read the full tafseer →نزعِ شیطان :
وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ (اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے وسوسہ آنے لگے) النزغ یہ نخس کے مشابہ ہے شیطان انسان کے دل میں وساوس ڈالتا ہے۔ گویا کہ وہ شیطان کی چوک سے ہے وہ اس کو نامناسب کاموں پر ابھارتا ہے۔ آیت میں نزغ کو نازغ قرار دیا۔ جیسا کہتے ہیں۔ جد جدہ اس نے پور کوشش کی یا مراد اما ینزغنک نازغ کو کچوکا لگانے والا آپ کو کچوکا لگائے۔ شیطان کی صفت مصدر سے بیان کی یا اس کی تزیین کو بیان کیا۔ مطلب یہ ہے اگر شیطان نے آپ کو پھیر دیا اس نصیحت سے جو آپ کو ادفع بالتیھی احسن کی صورت میں دی گئی ہے تو فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ (تو اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگیں) اور…
Read the full tafseer →35، وما یلقاھا، اور یہ عادت نہیں دیاجاتا ہے۔ یعنی برائی واچھائی کے ذریعے دور کرنے کی۔ ، الا الذین صبروا، غصہ کو پینے اور ناپسند چیز کو برداشت کرنے پر۔ ، وما یلقھا الاذوحظ عظیم، خیر اور ثواب میں ۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حظ عظیم جنت ہے۔ یعنی یہ نہیں دیاجاتامگر وہ شخص جس کے لیے جنت واجب ہوچکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
34۔ 36۔ اوپر وعظ و نصیحت کا ذکر تھا اور وعظ و نصیحت میں مخالف لوگ بدگوئی اور بدی سے پیش آنے لگتے ہیں اس واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے موقع پر بدگوئی کے بدلہ میں بدگوئی کا کرنا تو برابر کا مقابلہ ہے ہاں ایسے موقع پر اگر بدی کے مقابلہ میں صبر سے کام لے جا کر بدی کرنے والے سے نیکی کی جائے گی تو نیکی اور بدی برابر کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ نیکی سے دشمن رشتہ داروں کی سی الفت کا برتاؤ کرنے لگتا ہے مگر بدی کے مقابلہ میں نیکی سے پیش آنا ہر شخص کا کام نہیں ہے جن کو اللہ ایسی برداشت دیتا ہے وہی ایسی ہمت کرتے ہیں پھر فرمایا کبھی ایسے موقع پر شیطانی وسوسے سے بےاختیار غصہ آجائے تو اللہ سے پناہ مانگنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت نمبر (35)
” نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں “ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو کبھی برابر نہیں ہوسکتے مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہوسکتے اپنی ذات میں برابر ہوسکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔ “
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے احاسن خاص کا ذکر فرمایا جس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احاسن کرنا جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا اس لیے فرمایا ” آپ بدی کا اسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو “ یعنی جب کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ترک تعلق بھی بطریق احسن ہو
قول باری ہے (ادفع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عدوۃ کانہ ولی حمیم۔ آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص میں اور آپ میں عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دست ہوتا ہے) بعض اہل علم کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کا ذکر کیا اور پھر اس کے متعلق ایک تدبیر بتائی کہ اس پر عمل کیا جائے یہاں تک کہ اس کی دشمنی زائل ہوجائے اور وہ ایسا بن جائے جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوا (ادفع بالتیھی احسن) تا آخر آیت۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض دفعہ تمہارا سامانا کسی ایسے شخص سے ہوجائے جو اپنے دل میں تمہارے خلاف دشمنی اور کینہ چھپائے ہوئے ہو تم…
Read the full tafseer →62 شیطان کی اکساہٹ کا علاج۔ اللہ کی پناہ مانگنا : خواہ وہ شیطن الجن کی طرح خفیہ طور پر وسوسہ اندازی کرے اور خواہ شیطن الانس کی شکل میں سامنے آ کر اکسانے اور بھڑکانے لگے اور اشتعال دلائے۔ تاکہ اس طرح وہ چنگاری کو سلگا کر آگ کا بگولہ بنا سکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مخالفوں کی مخالفت و شر انگیزی اور شیطان کی اکساہٹ و تحریک سے اگر کوئی ایسا جذبہ ابھرے جو اس کو برائی پر آمادہ کرے تو اللہ کی پناہ مانگنی چاہیئے۔ اور یہی اس چیز کا اصل علاج ہے کہ ایسے وقت میں انسان اللہ کی پناہ مانگے۔ اگر انسان جذبات کی رو میں بہ جانے کی بجائے صدق دل سے اللہ کی پناہ مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پناہ میں لے لیگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ایمان والوں کے درجات
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیات 33 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو
اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔
اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی شیطان دل میں وسوسہ ڈالے اور برائی پر اکسائے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی کبھی بےاختیار غصہ چڑھ آئے تو یہ شیطان کا دخل ہے۔ ( موضح)4 صحیحین میں حضرت سلمان ؓ بن صرو سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی مجلس میں دو آدمی باہم گالم گلوچ کرنے لگے۔ ایک کا پارہ بہت چڑھا ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے جسے یہ شخص زبان سے ادا کرے تو اس کا غصہ فرد ہوجائے اور وہ ہے ” اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم “ وہ شخص وبولا ” کیا آپ مجھے پاگل سمجھتے ہیں ؟ جواب میں آنحضرت ﷺ نے ( کچھ کہنے کی بجائے) یہ آیت تلاوت فرمائی ( شوکانی) اس کے متعلق کچھ تشریح سورة اعراف ( آیت 20) اور سورة مومنوں آیت (97،…
Read the full tafseer →(41:36) اما : ان شرطیہ اور ما زائدہ سے مرکب ہے۔ اگر
ینزغنک مضارع واحد مذکر غائب بانون تاکید ثقیلہ ۔ نزغ (باب فتح) سے مصدر جس کے معنی عیب لگانا۔ لفظ کے ذریعے طعن و تشنیع کرنا۔ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا۔ برائی پر اکسانا کے ہیں۔ نزغ بینھم ان کے درمیان فساد ڈال دیا۔ وسوسہ پیدا کردیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ مطلب یہ ہے کہ اگر شیطان کی طرف سے آپ کے دل میں وسوسہ پیدا ہو اور انتقام لینے پر اور برائی کے عوض برائی کرنے پر شیطان آپ کو ابھارے۔
فاستعذ باللّٰہ۔ فاء جواب شرط کے لئے ہے استعذ : فعل امر واحد مذکر حاضر۔ استعاذۃ (استفعال) بمعنی پناہ مانگنا۔ تو تو (اس کے شر سے) پناہ مانگ۔ سورة اعراف (7) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 : قرآن کریم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی جائے اور ان کو رب سے جوڑ کر اس کی یاد میں جینے کا طریقہ سکھا دیا جائے ۔ اور اس بات کا گہرا شعور بیدار کردیا جائے کہ وہ صرف اس ایک اللہ کا بندہ ہے جو اس کا خالق ، رازق اور مالک ہے وہی ہر طرح کی عبادت و بندی کے لائق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ ایک اتنا عظیم مقصد ہے جس کی طرف بلانے والے سے بہتر شخص اور کون ہو سکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس شخص سے بہتر اور کس کی بات ہو سکتی ہے جو٭لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے٭ اسی کی اطاعت و فرما برداری کرتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے اور ٭ اور یہ کہے میں اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
توحید کا بیان اور اللہ کریم کی قدرت کی کامل نشانیاں۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آویں، اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لیے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پاکر دوسرے دن بھی پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے اور وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندہ کرے، سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کیے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس حساب سے رکھیں، جس سے مہینہ اور سال کا حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
[16] یعنی بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ مثلاً کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخرکار جگری دوست بن جائے گا۔ اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی، مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بےحیا مخالف بھی شرمندہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر مشکل ہی سے کبھی اس کی زبان آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
خلق عظیم
اس سے قبل کی آیت میں صبر و برداشت کی تلقین فرمائی تھی اور یہ کہا تھا کہ منکرین کی برائیوں کا جواب حسن سلوک سے دو اپنی روحانیت سے دو ۔ اس میں یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ کام آسان نہیں ہے اس کے لئے استقامت اور صبر کی ضرورت ہے وہ لوگ اس خلق عظیم سے بہرہ مند ہوتے ہیں جنہوں نے مواجب ومالک سے حصہ وافر پایا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا ۔ کہ جہاں تک سختی اور برائی کے جواب دینے کا تعلق ہے بہترین طریق یہی ہے ۔ کہ طرز عمل بالکل خلاف اختیار کیا جائے ۔ دشمن مشکلات سے پیدا کرے تو اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچائی جائیں ۔ دکھ معاند اور تکلیف کا سبب ہو تو اس کے لئے راحت و سکون کی آرزو کی جائے ۔ مخالف مادی آفات نفرت سے…
Read the full tafseer →(36) اور اگر شیطانی وسوسہ کسی وقت آپ کو ابھارے اور اگر کبھی شیطان کا کچوکنا آپ کو کچو کے تو آپ پنا پکڑئیے اللہ کی اور اللہ سے پناہ طلب کیا کیجئے بلا شبہ وہی سننے والا جاننے والا ہے۔
نزغ کا لفظی ترجمہ کچوکنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غصہ کا وسوسہ آئے اور غصہ پر ابھارے تو آپ فورات اللہ سے پناہ طلب کرلیا کیجئے کیونکہ وہی سب کے سننے والا جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 2۔ اس سے علاوہ دلالت علی التوحید کے دلالت علی امکان البعث بھی حاصل ہوئی۔
Read the full tafseer →پیغمبرِ اسلام ﷺ کے ذریعہ آپ ﷺ کی قوم کے لیے ایک انتباہ
36 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی پوری امت کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اچھی طرح سن لو اور خوب یاد رکھو کہ جب کوئی اللہ کا بندہ حسن اخلاق اور اچھے کردار کا مظاہرہ کرتا ہے تو شیطان بھی اس کے مقابلہ میں اتنی ہی طاقت و قوت سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ وہ تم کو پچھاڑ دے کیونکہ وہ تو نیکی اور اچھے کردار کا پکا بیری ہے وہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ تمہاری ذات میں نیکی ، حسن خلق اور پاکبازی کا ایک ایسا حسین پیکر دنیا کے سامنے پیش ہو جسے دیکھ کر دل بےساختہ اس کی طرف کھچے چلے جائیں وہ تو ضرور راستہ روکے گا اور پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ (And good and evil are not equal - 34). The special instructions for those who are engaged in calling others towards Allah commence from here. The gist of these instructions is not to repay evil with evil, but to be patient and to be obliging ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (Repel (evil) with what is best, - 34) means that the habit of those people who are engaged in calling others towards Allah should be to reply to the evil behavior of the addressees in the best possible manner. No doubt, it is good not to repay evil with evil and to forgive,…
Read the full tafseer →40 Satan feels grieved when he sees that in the conflict between the Truth and falsehood meanness is being resisted with nobility and evil with goodness. He wants that he should somehow incite the fighters for the sake of the Truth and their prominent men in particular, and especially their leaders, to commit such a mistake, even if once, on the basis of which he may tell the common people that evil is not being committed by one side only: if mean acts are being committed by one side, the people of the other side also are not morally any better: they too have committed such and such a…
Read the full tafseer →