Explained with ayahs 33–36
اللہ تعالیٰ کا محبوب انسان۔
فرماتا ہے جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہوگی ؟ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ ﷺ سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چناچہ صحیح مسلم میں ہے قیامت کے دن موذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔ سنن میں ہے امام…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 38
یعنی یہ نسخہ ہے تو بڑا کارگر، مگر اسے استعمال کرنا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے۔ اس کے لیے بڑا عزم، بڑا حوصلہ، بڑی قوت برداشت، اور اپنے نفس پر بہت بڑا قابو درکار ہے۔ وقتی طور پر ایک آدمی کسی بدی کے مقابلے میں بڑی نیکی برت سکتا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن جہاں کسی شخص کو سالہا سال تک ان باطل پرست اشرار کے مقابلے میں حق کی خاطر لڑنا پڑے جو اخلاق کی کسی حد کو پھاند جانے میں تامل نہ کرتے ہوں، اور پھر طاقت اور اختیارات کے نشے میں بھی بد مست ہو رہے ہوں، اور وہاں بدی کا مقابلہ نیکی اور وہ بھی اعلیٰ درجے کی نیکی سے کرتے چلے جانا، اور کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(آیت) وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ، یہاں سے دعوت الیٰ اللہ کی خدمت انجام دینے والوں کو خاص ہدایات دی گئی ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیں بلکہ صبر اور احسان سے کام لیں اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ یعنی داعیان حق کی خصلت یہ ہونی چاہئے کہ وہ لوگوں کو برائی کو طریق احسن سے دفع کریں۔ وہ یہ کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ لینا اور معاف کردینا تو عمل حسن ہے اور۔ احسن یہ ہے کہ جس نے تمہارے ساتھ برا سلوک کیا، تم اس کو معاف بھی کردو اور اس کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت میں حکم یہ ہے کہ جو شخص تم پر غصہ کا اظہار کرے، تم اس کے…
Read the full tafseer →وما یلقھآ الا الذین صبرا وما یلقھا الا ذوخظ عظیم (35)
ایک گنج گراں مایہ
ضمیر مفعول کا مرجع یہاں الفاظ میں مذکور نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ حکمت و موعظت ہے جس کی ہدایت اوپر والی آیت میں فرمائی گئی ہے۔ عربی زبان میں اس طرح ضمیر لانے کا طریقہ معروف ہے۔ سورة بقرہ کی آیت 45 وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین کے تحت اس ضمیر کی نوعیت پر ہم بحث کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس حکمت کے حامل صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر صبر کی صفت ہوتی ہے اور یہ حکمت کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ایک گنج گراں مایہ ہے، بڑے ہی نصیبہ ور ہیں وہ لوگ جو اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں !
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔
ایک یہ کہ اوپر…
Read the full tafseer →35۔ 1 یعنی برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالنے کی خوبی اگرچہ نہایت مفید اور بڑی ثمر آور ہے لیکن اس پر عمل وہی کرسکیں گے جو صابر ہونگے۔ غصے کو پی جانے والے اور ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنے والے۔
35۔ 2 حظ عظیم (بڑا نصیبہ) سے مراد جنت ہے۔ یعنی مذکورہ خوبیاں اس کو حاصل ہوتی ہیں جو بڑے نصیبے والا ہوتا ہے، یعنی جنتی جس کے لئے جنت میں جانا لکھ دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
14:۔ یعنی جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کر رہا ہو، اگرچہ تمہارے لیے یہ بھی جائز ہے کہ اس سے برابر کا بدلہ لے لو، لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کی برائی کا بدلہ اچھائی سے دو۔ ایسا کرو گے تو تمہارا دشمن بھی دوست بن جائے گا، اور تم نے اس کی برائی پر جو صبر کیا اس کا بہترین ثواب آخرت میں تمہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھا الا ذو حظ عظیم (41 : 35) ” اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہوتے ہیں “ ۔ یہ اس حد تک بلند درجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ جو ذاتی معاملات میں بھی کبھی غصے میں نہیں آتے تھے اور اگر غصے میں آتے تھے تو ان کے مقابلے میں کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ، آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ذریعہ ہر داعی کو یہ کہا جاتا ہے :
Read the full tafseer →2 یعنی بہت بڑا حوصلہ چاہیے کہ بری بات سہار کر بھلائی سے جواب دیں۔ یہ اخلاق اور اعلیٰ خصلت اللہ کے ہاں سے بڑے قسمت والے خوش نصیب اقبال مندوں کو ملتی ہے۔ (ربط) یہاں تک اس حریف اور دشمن کے ساتھ معاملہ کرنا سکھلایا تھا جو حسن معاملہ اور خوش اخلاقی سے متاثر ہوسکتا ہے۔ لیکن ایک دشمن وہ ہے جو کسی حال اور کسی نہج سے دشمنی نہیں چھوڑ سکتا۔ تم کتنی ہی خوشامد یا نرمی برتو، اس کا نصب العین یہ ہے کہ تم کو ہر طرح نقصان پہنچائے۔ ایسے پکے شیطان سے محفوظ رہنے کی تدبیر آگے تلقین فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 35{ وَمَا یُلَقّٰٹہَآ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا } ”اور یہ مقام نہیں حاصل ہوسکتا مگر ان ہی لوگوں کو جو بہت صبر کرتے ہوں۔“
اس خاص مقام تک صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جن میں صبر کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہو اور وہ اپنی عملی زندگی میں بھی ہمیشہ صبر کی روش پر کاربند ہوں۔
{ وَمَا یُلَقّٰٹہَا اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ”اور یہ نہیں دیا جاتا مگر ان ہی کو جو بڑے نصیب والے ہوں۔“
یہ حَظٍّ عَظِیْمٍ کیا ہے اور اس کا حقیقی معیار کیا ہے ؟ ہر انسان کے لیے اس کا صحیح ادراک حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے پہلے یہ لفظ ہم سورة القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بھی پڑھ آئے ہیں۔ قارون کے ٹھاٹھ باٹھ…
Read the full tafseer →43 بدلہ لینے کے لحاظ سے لوگوں کی تین قسمیں :۔ دنیا میں لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو برائی کا بدلہ برائی سے اور نیکی کا بدلہ نیکی سے دیتے ہیں۔ اور عام لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے۔ دوسرے وہ جو نیکی کا بدلہ بھی برائی سے دیتے ہیں۔ یہ بدترین لوگ ہوتے ہیں جو بچھو کی سرشت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ بالآخر آپ ہی اپنا نقصان کرتے ہیں۔ ان کی اس بدفطری کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان سے پرے ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور تیسرے وہ جو برائی ہونے پر بھڑک نہیں اٹھتے بلکہ اسے برداشت کر جاتے ہیں۔ بعد میں برائی کرنے والے سے خیرخواہی اور بھلائی کا سلوک کرتے ہیں۔ اور یہ کام کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ بڑے…
Read the full tafseer →33۔ یعنی اس دفاع احسن کی، بدی کی مکافات بھلائی سے کرنے کی توفیق ہر کس وناکس کو نہیں حاصل ہوجاتی۔ یہ تو صرف خوش نصیبوں ہی کے حصہ میں آتی ہے یعنی ان کے حصہ میں جو اپنے کو صبر کا خوگر بنا چکے ہوتے ہیں۔ (آیت) ” وما یلقھا ...... صبروا “۔ اس میں ذکر ان نیک بندوں کے اخلاق و عادات کا ہے۔ (آیت) ” وما یلقھا الا ذوحظ عظیم “۔ یہ خوش نصیبی انکے مرتبہ واجر وثواب کے لحاظ سے بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیت نمبر 33 تا 44
ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…
Read the full tafseer →وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھا الا ذوحظ عظیم اور یہ بات ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو
بڑے مستقل (مزاج) ہیں اور اسی کو یہ خصلت ملتی ہے جو بڑا خوش نصیب ہو۔
وَمَا یُلَقَّھَا یعنی بدی کے مقابلہ میں بھلائی کرنے کی خصلت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو نفسانیت اور خواہشات کی مخالفت پر جمے رہتے ہیں۔
ذُوْحَظٍّ عَظِیْم بڑا خوش نصیب ‘ یعنی جس کو تجلیات ذاتی و صفاتی کا بڑا حصہ ملتا ہے ‘ اسی کو یہ اعلیٰ خصلت ملتی ہے۔ نفس پر جب اعلیٰ صفات جلوہ پاش ہوجاتی ہیں تو بری صفات نکل جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →اور آخرت میں جنت ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو مشقتوں اور دشمن کی تکلیفوں پر دنیا میں صبر کرتے ہیں اور یہ بدی کو نیکی سے ٹال دینے کی توفیق ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو جنت میں ثواب کامل کے اعتبار سے بڑے نصیب والے ہوتے ہیں جیسا کہ رسول اکرم اور آپ کے صحابہ کرام۔
Read the full tafseer →(1) وما یلفھا الا الذین صبروا : یعنی برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دینے کی توفیق انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جنہوں نے اس سے پہلے بھی صبر کی عادت اپنئای ہوتی ہے۔ ”صبروا“ مضای کا صیغہ ہے۔
(2) وما یلقھآ الا ذوحظ عظیم : یعنی یہ خبوی کہ برائی کا جواب سب سے اچھے طریقے کے ساتھ دیں، صرف انھی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو بہت بڑے نصیب والے ہوں۔ معلوم ہوا یہ حوصلہ انسان کے بس کی بات نہیں، محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لئے اپنی کوشش کے ساتھ ساتھ اسی سے صبر اور حوصلے کی دعا کرنا لازم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
وما یلقھا ھا ضمیر سے مراد معزز فعل اور علی خصلت ہے الا الذین صبروا جو غصہ پی کر اور اذیت برداشت کرکے صبر کرتے ہیں و ما یلقھا الا ذو حظ عظیم۔ حظ عظیم سے مراد بھلائی میں سے وافر حصہ ہے ؛ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : قتاوہ اور مجاہد نے کہا : حظ عظیم سے مراد جنت ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حظ جنت کے بغیر کبھی بھی عظیم نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یلقھا میں ضمیر سے مراد جنت ہے یعنی جنت صرف صابر لوگ ہی پاتے ہیں۔ معنی قریب قریب تر ہے۔
ایتہ سے مراد وہ علامات ہیں جو اس کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہے الیل والنھار و الشمس والقمر یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔ پھر ان دونوں کو سجدہ کرنے سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیءۃ ادفع بالتیھی احسن، ادفع بالتیھی احسن “ (نیکی اور بدی برابر نہیں ہیں آپ نیک برتاؤ سے بدی کو ٹال دیا کریں) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو غصہ کے وقت صبر کا حکم فرمایا۔ اور بردباری کا حکم فرمایا جہالت کے وقت، اور معافی کا حکم فرمایا زیادتی کے وقت، جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو شیطان سے محفوظ کردے گا، اور اس کے دشمن کو انکے لئے سرنگوں کردے گا (آیت ) ” کانہ ولی حمیم “ (گویا کہ وہ گہرا دوست ہے)
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →وَمَا يُلَقّٰىهَآ [ اور نہیں دی جاتی یہ (صفت ) ] اِلَّا الَّذِيْنَ [مگر ان لوگوں کو جو ] صَبَرُوْا ۚ [ ثابت قدم رہے ] وَمَا يُلَقّٰىهَآ [ اور نہیں دی جاتی یہ (صفت) ] اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ [ مگر نصیبے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
اس کے بعد اچھی خصلت یعنی حلم اور بردباری، حسن خلق عفو اور درگزر کے بارے میں فرمایا کہ یہ بہت عمدہ اور بہت بلند صفت ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ (وَمَا یُلَقَّاھَا اِِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقَّاھَا اِِلَّا ذو حَظٍّ عَظِیْمٍ ) (اور یہ بلند اخلاقوں کی صف انہیں لوگوں کو دی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہوتے اور انہی کو دی جاتی ہے جو بڑے نصیب والے ہیں)
(حَظٍّ عَظِیْمٍ ) (بڑا نصیب) کیا ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے ثواب کا بڑا حصہ مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے جنت مراد ہے۔ (ذکر ہما فی الروح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فضیلت دعوت الی اللہ وبیان صبر و استقامت وحلم و درگذر درراہ حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ ....... الی ....... وھم لا یسئمون “۔
(ربط) گذشہ آیات میں اہل ایمان اور ایمان پر استقامت والوں کا اللہ کے یہاں کیا عظیم مقام و مرتبہ ہے بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی فضیلت بیان کی جارہی اور یہ کہ عقل و فطرت کے اس قانون کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ہے، اور دعوت الی اللہ اور اشاعت حق میں انسان کو بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ اور شدائد پر صبر کی ضرورت ہے، یہ چیز کمال کی نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ٖ 34:۔ ” واما ینزغنک “ اگر کبھی بتقاضائے بشریت، آپ کو ان معاندین کی خرافات پر غصہ آجائے تو آپ شر شیطان سے اللہ کی پناہ مانگیں، تاکہ اس کا اثر زائل ہوجائے۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ یہ ماقبل کے لیے علت ہے۔ کیونکہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وان صرفک الشیطان عما وصیت بہ من الدفع بالتیھی احسن (فاستعذ باللہ) ای من شرہ (خازن جلد 6 ص 112) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ربط آیات
گزشتہ رادع کے آغاز میں اللہ نے کفار کا شکوہ بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو مت سنو بلکہ جب اس کی تلاوت ہو رہی ہو ۔ تو شور و غل مچائو۔ تو شور و غل مچائو تا کہ دوسرے بھی اس کو نہ سن سکیں ۔ قرآن پاک کے پروگرام کو اسی طرح ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے کہ اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچنے سے روک دیا جائے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ہم ایسے لوگوں کو سخت سزا دیں گے ۔ پھر اللہ نے دوزخ میں تابعین اور متبوعین کا ذکر کیا کہ تابعین اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ہمیں ہمارے متبوعین دکھائے جائیں تا کہ ہم انہیں اپنے پائوں کے نیچے روند ڈالیں کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →وَمَا يُلَقّٰىہَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا 0 ۚ وَمَا يُلَقّٰىہَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ 35
( لقی) تلقی
السّماحة منه والنّدى خلقاویقال : لَقِيتُه بکذا : إذا استقبلته به، قال تعالی: وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] ، وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] . وتَلَقَّاهُ كذا، أي : لقيه . قال : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] ، وقال : وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6]
وتلقی السماحۃ منہ والندیٰ خلقا سخاوت اور بخشش کرنا اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ۔ لقیت بکذا ۔ میں فلاں چیز کے ساتھ اس کے سامنے پہنچا۔ قرآن میں ہے : وَيُلَقَّوْنَ فِيها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ترکیب : ومن استفہامیۃ و محلہا الرفع بالا بتداء والخبر احسن قولا تمیز لاحسن ممن متعلق باحسن ولا السیئۃ لا زائدۃ جاءت لتا کید النفی ادفع بالتی ای ادفع السیئۃ حیث اصابتک من احد بالتیھی احسن ای بالحسنۃ۔
تفسیر : کمال احسانی دو قسم پر ہیں، ایک تام دوسرا اس سے بھی بڑھ کر کمال تام۔ اپنے تئیں صفات حمیدہ سے مزین کرنا اس کا ذکر ان الذین قالوا ربنا اللہ میں آچکا، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اپنی تکمیل کے بعد ناقصوں کی تکمیل کی طرف متوجہ ہونا، اس کی طرف ان آیات میں اشارہ کرتا ہے۔ فقال و من احسن قولا ممن دعا الی اللہ اور نیز اس میں مخاطبین پر ایک ملائم طور پر حجت قائم کی جاتی ہے کہ تم کس لیے قرآن میں غل مچاتے ‘…
Read the full tafseer →وَمَا یُلَقّٰھَـآ اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا ج وَمَا یُلَقّٰھَـآ اِلاَّ ذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 35)
(اور یہ بات نہیں ملتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ دولت ہاتھ نہیں آتی مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ )
داعیانہ رویہ بڑے صبر اور نصیب کی بات ہے
جفا کے مقابلے میں دعا اور ظلم کے مقابلے میں احسان کہنے کو تو ایک آسان سی بات ہے مگر اس پر عمل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے بڑا دل گردہ، بڑا عزم، حوصلہ اور بڑی قوت برداشت چاہیے۔ وقتی طور پر ایک آدمی کی برائی کے مقابلے میں خاموش رہنا یا نیکی کا رویہ اختیار کرنا غیرمعمولی بات نہیں۔ لیکن جہاں سالہا سال مخالفین کا رویہ بدلنے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : داعئ حق کے لیے بنیادی ہدایت۔
ایک داعی کو اپنی دعوت کے دوران اس بات کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھنا چاہیے کہ اچھائی اور برائی، نیکی اور بدی کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ برائی پر چلنے اور اس کا پرچار کرنیوالے لوگ ہمیشہ جلد باز اور جذباتی ہوتے ہیں بالخصوص مشرک کی فطرت ہے کہ وہ شرک اور غیر اللہ کی محبت میں بڑا غالی اور جذباتی ہوتا ہے۔ جونہی اس کے سامنے اللہ وحدہٗ لاشریک کی بات کی جائے تو وہ سیخ پا ہوجاتا ہے اور توحید بیان کرنے والے کو بزرگوں کا گستاخ اور بےادب کہتا ہے۔ اس کے لیے وہابی کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ جس طرح نبی اکرم ﷺ کے دور میں صحابہ کرام ؓ کو مکہ کے کافرصابی کہتے تھے ہر دور میں…
Read the full tafseer →وَمَا يُلَقّٰىهَآ (اور یہ بات انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے) برائی کے مقابلہ میں احسان والی خصلت نصیب نہیں ہوتی۔
اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا (مگر ان لوگوں کو جو بڑے مستقل مزاج ہیں) یعنی اہل صبر۔ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ (اور یہ بات اسی کو نصیب ہوتی ہے۔ جو بڑا صاحب نصیب ہے) ۔ بہت نیکی والا آدمی جس کو خیر کا بہت بڑا حصہ ملا ہو۔ یہ فادفع بالتی ہی احسن نہیں فرمایا کیونکہ یہ کلام اس کہنے والے کے قول کی طرح ہے جو یہ کہے میں کیا کروں ؟ تو جواب دیا ادفع بالتیھی احسن۔ یعنی فاء نہیں لائی گئی۔
ایک قول : لا تاکید کیلئے زائدہ ہے مطلب یہ ہے حسنہ اور سیئئہ برابر نہیں ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
تفسیر 34، ولاتستوی الحسنۃ ولاالسیئۃ، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ ، لا، یہاں صلہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ، ولاتستوی الحسنۃ والسیئۃ، یعنی صبر اور غصہ اور بردباری و جہالت اور معافی اور برائی۔ ، ادفع بالتیھی احسن، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غصہ کے وقت صبرکاحکم دیا اور جہالت کے وقت بردباری کا اور برائی کے وقت معافی کا۔ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غصہ کے وقت صبر کا حکم دیا اور جہالت کے وقت بردباری کا اور برائی کے وقت معافی کا۔ ، فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ، یعنی جب تو یہ کرے گا تو تیرادشمن تیرے لیے پست ہوجائے گا اور تو اور تیرادشمن ایسے ہوجاؤگے، کانہ ولی حمیم، جیسے دوست اور قریبی تعلق دار۔ مقاتل بن حیان (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
34۔ 36۔ اوپر وعظ و نصیحت کا ذکر تھا اور وعظ و نصیحت میں مخالف لوگ بدگوئی اور بدی سے پیش آنے لگتے ہیں اس واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے موقع پر بدگوئی کے بدلہ میں بدگوئی کا کرنا تو برابر کا مقابلہ ہے ہاں ایسے موقع پر اگر بدی کے مقابلہ میں صبر سے کام لے جا کر بدی کرنے والے سے نیکی کی جائے گی تو نیکی اور بدی برابر کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ نیکی سے دشمن رشتہ داروں کی سی الفت کا برتاؤ کرنے لگتا ہے مگر بدی کے مقابلہ میں نیکی سے پیش آنا ہر شخص کا کام نہیں ہے جن کو اللہ ایسی برداشت دیتا ہے وہی ایسی ہمت کرتے ہیں پھر فرمایا کبھی ایسے موقع پر شیطانی وسوسے سے بےاختیار غصہ آجائے تو اللہ سے پناہ مانگنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت نمبر (35)
” نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں “ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو کبھی برابر نہیں ہوسکتے مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہوسکتے اپنی ذات میں برابر ہوسکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔ “
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے احاسن خاص کا ذکر فرمایا جس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احاسن کرنا جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا اس لیے فرمایا ” آپ بدی کا اسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو “ یعنی جب کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ترک تعلق بھی بطریق احسن ہو
قول باری ہے (ادفع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عدوۃ کانہ ولی حمیم۔ آپ نیکی سے بدی کو ٹال دیا کیجئے تو پھر یہ ہوگا کہ جس شخص میں اور آپ میں عداوت ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی دلی دست ہوتا ہے) بعض اہل علم کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کا ذکر کیا اور پھر اس کے متعلق ایک تدبیر بتائی کہ اس پر عمل کیا جائے یہاں تک کہ اس کی دشمنی زائل ہوجائے اور وہ ایسا بن جائے جیسا کوئی دلی دوست ہوتا ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوا (ادفع بالتیھی احسن) تا آخر آیت۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض دفعہ تمہارا سامانا کسی ایسے شخص سے ہوجائے جو اپنے دل میں تمہارے خلاف دشمنی اور کینہ چھپائے ہوئے ہو تم…
Read the full tafseer →60 صبر وسیلہ ظفر ۔ وباللہ التوفیق : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ صبر و برداشت کی صفت ایک عظیم الشان صفت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ چیز صبر والوں ہی کو ملتی ہے "۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر و ضبط سے کام لیتے رہنے سے یہ مقام شرف نصیب ہوجاتا ہے۔ پس اس کی عادت ڈالنی چاہیئے اور ہمیشہ صبر و برداشت ہی سے کام لینے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے کہ یہ ذریعہ ظفر اور باعث اجر ہے ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ حکمت و دولت انہی لوگوں کو نصیب ہوسکتی ہے جو صبرو برداشت کی خو خصلت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ سو صبر و برداشت کی صفت بڑی عظیم الشان صفت ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر و برداشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ایمان والوں کے درجات
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیات 33 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو
اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔
اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی جو اپنے اندر بڑا حوصلہ، عزم، قوت برداشت اور ضبط نفس رکھتے ہیں۔2 یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبہ اور اعلیٰ صفات کے مالک ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حوصلہ کشادہ چاہیے کہ بری بات سہار کر سامنے سے بھلی بات کہیے، یہ اقبال مندوں کو ملتا ہے۔ (موضح)
Read the full tafseer →(41:35) مایلقھا۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب ۔ تلقیۃ (تفعیل) مصدر وہ نہیں عطا کی جائے گی۔ لقی یلقی تلقیۃ ۔۔ فلان الشیء کوئی چیز کسی کی طرف پھینکنا دینا۔ عطا کرنا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وانک لتلقی القرآن (27:6) اور تم کو قرآن عطا کیا جاتا ہے۔ لقی مادہ۔
ذوحظ عظیم : ذو مضاف حظ عظیم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ حظ حصہ ۔ نصیب۔ خوش قسمتی۔ ذوحظ عظیم بڑا خوش نصیب، یعنی جس کو تجلیات ذاتی و صفاتی کا بڑا حصہ ملتا ہے اسی کو یہ اعلیٰ خصلت عطا ہوتی ہے نفس پر جب اعلیٰ صفات جلوہ پاش ہوجاتی ہیں تو بری صفات نکل جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 : قرآن کریم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی جائے اور ان کو رب سے جوڑ کر اس کی یاد میں جینے کا طریقہ سکھا دیا جائے ۔ اور اس بات کا گہرا شعور بیدار کردیا جائے کہ وہ صرف اس ایک اللہ کا بندہ ہے جو اس کا خالق ، رازق اور مالک ہے وہی ہر طرح کی عبادت و بندی کے لائق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ ایک اتنا عظیم مقصد ہے جس کی طرف بلانے والے سے بہتر شخص اور کون ہو سکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس شخص سے بہتر اور کس کی بات ہو سکتی ہے جو٭لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے٭ اسی کی اطاعت و فرما برداری کرتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے اور ٭ اور یہ کہے میں اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
توحید کا بیان اور اللہ کریم کی قدرت کی کامل نشانیاں۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آویں، اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لیے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پاکر دوسرے دن بھی پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے اور وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندہ کرے، سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کیے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس حساب سے رکھیں، جس سے مہینہ اور سال کا حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
[16] یعنی بدی کا مقابلہ محض نیکی سے نہیں بلکہ اس نیکی سے کرو جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو۔ مثلاً کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے اور تم اس کو معاف کردو تو یہ محض نیکی ہے۔ اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم موقع آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو۔ اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ بدترین دشمن بھی آخرکار جگری دوست بن جائے گا۔ اس لئے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی، مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بےحیا مخالف بھی شرمندہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر مشکل ہی سے کبھی اس کی زبان آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
فرشتے اتریں گے
2: اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ جہنم میں دکھ اور تکلیف برداشت کررہے ہونگے ۔ جہوں نے دنیا میں اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ دوسری جانب جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ تعلقات عبودیت کو استوار کیا اور پھر ان تعلقات کی ذمہ داریوں کو مردانہ وار استقلال اور عزیمت کے ساتھ آخر تک نبھایا ۔ وہ فرشتوں کی زبان سے خوشخبریاں سن رہے ہونگے ۔ کہ اس وقت تم قطعاً غم اور فکر سے بےنیاز ہوجاؤ۔ دلوں کو مسرت سے معمور کرلو ۔ کہ تمہارے لئے جنت کی نعمتیں اور آسودگیوں مقدر ہیں ۔ جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم نے دنیا میں تمہاری اعانت کی ۔ آج آخرت میں بھی تمہارے رفیق اور دوست ہیں ۔ یہاں جنت میں…
Read the full tafseer →(35) اور یہ بات سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کا شیوہ اختیار کررکھا ہے کسی اور کو میسر نہیں ہوتی اور نہ یہ بات سوائے اس کے کسی کو ملتی اور میسر ہوتی ہے جو بڑے نصیبے والا ہو۔ یعنی یہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں اور نہ یہ خصلت ہر ایک کو ملتی ہے مگر ہاں جو لوگ نصیبے والے ہیں اور جنہوں نے صبروسہار کا شیوہ اختیار کررکھا ہے ان کو اس خصلت سے سرفراز کیا جاتا ہے اور انہیں کو یہ خصلت تلقین کی جاتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں ورنہ اس وصف سے ہر شخص متصف نہیں ہوا کرتا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حوصلہ کشادہ چاہیے کہ بری بات سہار کر بھلی کہے یہ اقبال مندوں کو ملتا ہے۔
خلاصہ : یہ کہ یہ مرتبہ صرف صبر کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
ف 2۔ اس سے علاوہ دلالت علی التوحید کے دلالت علی امکان البعث بھی حاصل ہوئی۔
Read the full tafseer →اس مقام پر پہنچنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں صبر کا دامن تھامنا پڑتا ہے
35 ؎ وہی بات جو ہم نے اوپر بیان کردی ہے کہ اس مقام کو حاصل کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں یہ مقام وہی حاصل کرسکتے ہیں جو صبر کے مفہوم اور اس کے اجر سے اچھی طرح واقف ہیں اور بلاشبہ وہ شخص نہایت خوش بخت اور بہت ہی بڑے نصیبے کا مالک ہے جس کو اس کی ہمت میسر آئے۔ صبر کیا ہے ؟ اس کے متعلق تفصیلی بحث سورة طہٰ کی آیت 130 میں گزر چکی ہے اور سورة طہٰ جلد پنجم کی آخری سورت ہے۔ خیال رہے کہ جس چیز کو برداشت کہتے ہیں اس کو بعض لوگ صبر سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ برداشت اور صبر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ برداشت ایک دو بار ہوتی ہے اور صبر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ (And good and evil are not equal - 34). The special instructions for those who are engaged in calling others towards Allah commence from here. The gist of these instructions is not to repay evil with evil, but to be patient and to be obliging ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (Repel (evil) with what is best, - 34) means that the habit of those people who are engaged in calling others towards Allah should be to reply to the evil behavior of the addressees in the best possible manner. No doubt, it is good not to repay evil with evil and to forgive,…
Read the full tafseer →38 Although a very efficacious recipe, it is not easy to use. It requires a great will power, resolution, courage, power of endurance and full control over one's own self. A man may act benevolently in response to an evil done, on an impulse, and there is nothing extraordinary in it. But when a person has to fight for years and years, for the sake of the Truth, those mischievous worshippers of falsehood, who do not feel any hesitation in violating any bond of morality, and are also intoxicated with power, it requires extraordinary grit to go on resisting the evil with good, and that too with…
Read the full tafseer →