Fussilat 41:32

Fussilat · from ayah 32

41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ ۟۠نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

As accommodation from a [Lord who is] Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juzع

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:32

یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

غفور و رحیم (معبود) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب کچھ اس ذات کی طرف سے پہلی پہل میزبانی ہے جس کی بخشش بھی بہت ہے جس کی رحمت بھی کامل

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ) بڑے بخشنے والے، بہت رحم فرمانے والے (رب) کی طرف سے مہمانی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ بےحد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رب غفورو رحیم کی طرف سے سامان ضیافت کے طور پر ! !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ضیافت و) مہمانی کے طور پر بڑے بخشنے والے انتہائی مہربان (رب) کی طرف سے

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) بطور مہمانی کے (خدائے) ٖغفورورحیم کی طرف سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ابتدائی مہمان نوازی ہوگی اس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This is by way of hospitality from Him Who is Most Forgiving, Most Merciful.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

_ a gift of welcome from the Most-forgiving, the Very-Merciful .

— Muhammad Taqi Usmani

_ a gift of welcome from the Most-forgiving, the Very-Merciful .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"An entertainment from the Oft-Forgiving, Most Merciful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A gift of welcome from One Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

As accommodation from a [Lord who is] Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

a hospitable welcome from the All-forgiving and All-merciful God".

— Muhammad Sarwar

A provision from the Forgiving, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And entertainment from the Forgiving, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

"A hospitable gift from one Oft-Forgiving, Most Merciful!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–32

اسقامت اور اس کا انجام۔ جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چناچہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرکے پھر کفر کرلیا۔ جو مرتے دم تک اس بات پر جما رہا وہ ہے جس نے اس پر استقامت کی۔ (نسائی وغیرہ) حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ نے فرمایا " اس سے مراد کلمہ پڑھ کر پھر کبھی بھی شرک نہ کرنے والے ہیں۔ " ایک روایت میں ہے کہ خلیفتہ المسلمین نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ استقامت سے مراد گناہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 31–33

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 36 اہل ایمان کو تسکین دینے اور ان کی ہمت بندھانے کے بعد اب ان کو ان کے اصل کام کی طرف رغبت دلائی جا رہی ہے۔ گزشتہ آیت میں ان کو بتایا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی پر ثابت قدم ہوجانا اور اس راستے کو اختیار کرلینے کے بعد پھر اس سے منحرف نہ ہونا بجائے خود وہ بنیادی نیکی ہے جو آدمی کو فرشتوں کا دوست اور جنت کا مستحق بناتی ہے۔ اب ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آگے کا درجہ، جس سے زیادہ بلند کوئی درجہ انسان کے لیے نہیں ہے، یہ ہے کہ تم خوب نیک عمل کرو، اور دوسروں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلاؤ، اور شدید مخالفت کے ماحول میں بھی، جہاں اسلام کا اعلان و اظہار کرنا اپنے اوپر مصیبتوں کو دعوت دینا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–32

وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ۔ فرشتے مومنین و مخلصین کو بتلائیں گے کہ تمہیں جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا دل چاہے اور ہر وہ چیز جو تم مانگو۔ اس کا حاصل تو یہ ہے کہ تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی، خواہ تم مانگو یا نہ مانگو۔ آگے نزلاً بمعنی مہمانی فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ بہت سی وہ نعمتیں بھی ملیں گی جس کی تمنا بھی تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوئی۔ جیسا کہ مہمان کے سامنے بہت سی وہ چیزیں بھی آتی ہیں جن کا پہلے سے کوئی تصور نہیں ہوتا خصوصاً کسی بڑے کا مہمان ہو۔ (مظہری) حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نزلاً من غفور رحیم (32) نزل مہمان کی ابتدائی ضیافت کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو جو کچھ آپ لوگوں کو ملے گا کس حیثیت ابتدائی ضیافت کی ہے۔ آگے جو کچھ ملنے والا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 31–32

31۔ 1 یہ مزید خوشخبری ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ بعض کے نزدیک یہ فرشتوں کا قول ہے، دونوں صورتوں میں مومن کے لئے یہ عظیم خوشخبری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–33

13: دنیا میں انسان کے جو ساتھی اسے دین سے غافل کر کے گمراہ کرتے رہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں، اور وہ شیطان جو اسے بہکاتا رہا، وہ بھی۔ ان دونوں کے بارے میں دوزخی شخص یہ کہے گا کہ مجھے یہ گمراہ کرنے والے نظر آجائیں تو میں انہیں پاؤں تلے روند ڈالوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–32

یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔ الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی سمجھ لو ! وہ غفور رحیم اپنے مہمان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا۔ اور یہ کتنی بڑی عزت و توقیر ہے کہ ایک بندہ ضعیف رب العزت کا مہمان ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 { نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ } ”یہ ابتدائی مہمان نوازی ہوگی اس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔“ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہمیں قرآن و حدیث میں ملتا ہے ان کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی نُزُل سے ہے۔ جہاں تک ان کی اصل ضیافت کا تعلق ہے اس کی کیفیت ہمارے احاطہ شعور میں نہیں آسکتی۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ ‘ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ ‘ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ … 1 ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جنت میں وہ کچھ تیار کر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 31–32

40 اس آیت میں یہ دونوں احتمال ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ یہ بھی ان فرشتوں کا ہی کلام ہو جو ایمان پر ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو۔ فرشتوں کی دنیا میں ولایت کا ذکر کرچکا، آخرت میں یوں ہوگی کہ وہ ہر ہر مقام پر ان کا استقبال کریں گے۔ انہیں سلامتی کی دعائیں اور جنت کی بشارت دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ یعنی یہ بےاندازو بےحساب نعمتیں ملیں گی بھی تو اس طرح نہیں جیسے سائل یا گدا گر کو بھیک مل جاتی ہے، بلکہ بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ ملیں گی جیسے معزز مہمان کو میزبان کی طرف سے پیش ہوتی رہتی ہیں۔ اور میزبان کون ہوگا ؟ خود حق تعالیٰ ، صفات مغفرت و رحمت سے خاص طور پر متصف۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–32

آیت نمبر 26 تا 32 ترجمہ : اور کافروں نے آپ کی قراءت کے وقت کہا اس قرآن کو سنو مت، اور شوروغل کرو، اور آپ ﷺ کی قراءت کے وقت شور مچاؤ کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ ؟ اور پیغمبر (ہار کر) چپ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا سو ہم ان کافروں کو یقیناً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور انہیں انکے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے، یعنی ان کے عمل کی بدترین جزاء (ضرور دیں گے) وہ یعنی عذاب شدید اور بدترین بدلہ، اللہ کے دشمنوں کی سزایہی دوزخ کی آگ ہے، دوسرے ہمزہ کی تحقیق اور اس کو واؤ سے بدل کر، النّار، الجزاء کا عطف بیان ہے، جو ذٰلک کا مخبربہ (خبر) ہے، جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نزلا من غفور رحیم بطور مہمانی اس اللہ کی طرف سے جو بڑا بخشنے والا ‘ رحمت والا ہے۔ یعنی جو کچھ ان کی تمنا ہوگی اس کے مقابلہ میں جو کچھ دیا جائے گا وہ ایسا ہوگا جس کا خیال ان کے دلوں میں پیدا بھی نہ ہوا ہوگا اور عطیہ بطور مہمانی ہوگا (ا اللہ میزبان ہوگا اور اہل جنت مہمان) ۔ بزار ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم جنت کے اندر پرندوں کو دیکھ کر (ان کا گوشت کھانے کی) جونہی خواہش کرو گے ‘ فوراً وہ تمہارے سامنے بھنے بھنائے گرپڑیں گے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ جنتی آدمی (جونہی) جنت کے اندر پرندہ (کا گوشت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–32

(31۔ 32) اور ہم تمہارے ساتھی تھے دنیوزی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے یہ حفظہ فرشتے ہوں گے اور تمہارے لیے اس جنت میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا موجود ہے اور نیز اس میں تمہارے لیے جو مانگو گے موجود ہے۔ یہ تمہارے لیے ثواب اور کھانا و پینا بطور مہمانی کے ہوگا اس ذات کی طرف سے جو تائب کی مغفرت فرمانے والا اور اس حالت میں مرنے والے پر رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نزلاً من غفور رحیم : اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة سجدہ کی آیت (19) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–32

ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقاموا عطا نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی، اس کی وجہ یہ بنی کی مشرکین نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے، فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں تو انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : ہمارا رب وحدہ لا شریک ہے حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو آپ نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ترمذی میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرائت کی ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامو فرمایا : لوگوں نے کہ بھی کہا پھر ان میں سے اکثر نے کفر کیا جو اس پر مرگیا تو وہ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–32

1:۔ ترمذی (رح) و نسائی (رح) والبزار وابویعلی وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن عدی وابن مردویہ نے ابن عدی (رح) اور ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم پر رسول (رح) اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ (جن لوگوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر اس پر پکے ہوگئے) فرمایا لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کو کہا پھر ان کے اکثر لوگوں نے انکار کردیا جس نے اس کو کہا یہاں تک کہ وہ (اس حال میں) مرگیا کہ وہ ان لوگوں میں تھا کہ جو اس پر پکے ہوگئے (یعنی جنہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا) 2:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) وسعیدبن منصور وابن سعید وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

نُزُلًا [ ابتدائی مہمان نوازی ہوتے ہوئے ] مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ [ بخشنے والے رحم کرنے والے (کی طرف ) سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غفور رحیم کی طرف سے مہمانی آخر میں فرمایا (نُزُلًا مِنْ غَفُوْرٍ رَحِیْمٍ ) وہاں جو کچھ عطا کیا جائے گا غفور رحیم کی طرف سے بطور مہمانی کے ہوگا دیکھو سب سے بڑی ذات کے مہمان بن رہے ہو جس نے تمہارے سب گناہ اور خطائیں معاف فرما دی ہیں اور مہربانی فرما کر تمہیں یہاں داخلہ دے دیا ہے جس ذات عالی کے مہمان ہو اس کی مہمانی اسی کے شان کے لائق ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ مہمان کی جو خواہش ہو پوری کی جائے اور جو کچھ طلب کرے وہ اسے دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–32

تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–33

32:۔ ” ومن احسن “ یہ دوسری شکوے کے ساتھ متعلق ہے۔ اس میں ترغیب و ترہیب اور طریق تبلیغ کا بیان ہے۔ جب آپ ان معاندین کو اللہ تعالیٰ کا حکمنامہ (قرآن) سنائیں گے۔ تو وہ شور بپا کریں گے اور خرافات بکیں گے۔ تو آپ ان کی شرارتوں کا سختی سے جواب نہ دیں۔ بلکہ نرمی سے سمجھائیں۔ اور نہایت معقول اور سنجیدہ طرز اختیار کریں۔ تاکہ وہ کم از کم اس قرآن کو سن تو لیں۔ ان معاندین کی بدبختی دیکھو کہ وہ دعوت توحید ایسے احسن و افضل قول کو ٹھکراتے ہیں، جسے محمد ﷺ ایسے جامع کمالات اور ناصح مشفق ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بھلا اس شخص سے بھی کسی کا قول بہتر اور اعلی ہوسکتا ہے جو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دے رہا ہو، خود…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–32

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے جزائے عمل کے سلسلے میں فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کا دوزخ کے قریب اجتماع ہوگا ۔ پھر ان کو ان کے جرائم کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی تو خود انہی کے اعضاء و جو ارع کو ان پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دے رہے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس مالک الملک نے قوت گویائی عطاکی ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ۔ اب آج کی آیات میں بھی انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے ۔ اس درس میں قرآن کریم کی تلاوت پر کفار کے ردعمل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ۝ 32ۧ نزل ( ضيافت) النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. والنُّزُلُ : ما يُعَدُّ للنَّازل من الزَّاد، قال : فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا [ السجدة/ 19] وأَنْزَلْتُ فلانا : أَضَفْتُهُ. ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں النزل ( طعام مہمانی ) وہ کھان جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا[ السجدة/ 19] ان کے رہنے کے لئے باغ میں یہ مہمانی ۔ انزلت فلانا کے معنی کسی کی مہمانی کرنے کے ہیں غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–32

ترکیب : الذین اسم ان تتنزل خبرھا الا اصلہ ان لا وان مفسرۃ ای قائلین لاتخافوا۔ او مصدریۃ او مخففۃ مقدرۃ بالباء ماتشتہی موصولۃ ھی مع صل تھا مبتداء لکم خبرھا فیہا متعلق بتشتھی او بالمحذوف، نزلا حال من الموصول اومن عائدہ۔ تفسیر : وعید کے بعد وعدہ ذکر کرتا ہے اور یہ عمدہ ترتیب ہے۔ واضح ہو کہ کمالات تین قسم پر ہیں۔ نفسانیہ بدنیہ، خارجیہ ان میں سب سے بڑھ کر نفسانیہ ہیں اور اوسط بدنیہ اور کمتر مرتبہ میں خارجیہ۔ پھر کمالات نفسانیہ کی دو قسم ہیں۔ ایک علم یقینی دوسرا عمل صالح، علم یقینی میں کمالات کی بات اللہ جل جلالہ کی معرفت اور اس کی توحید کا اقرار کرنا ہے، اس کی طرف اس جملے میں اشارہ ہے۔ ان الذین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 32) (یہ ہے سامانِ ضیافت اس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے۔ ) نُزُلْ … مہمان کی ابتدائی ضیافت کو کہتے ہیں۔ یعنی جب کوئی مہمان ہمارے پاس اترتا ہے تو کھانے کے وقت سے پہلے یا کھانا تیار ہونے تک ہم کسی ٹھنڈے یا گرم مشروب سے مہمان کی ضیافت کرتے ہیں تو یہ اس کی ابتدائی مہمانی ہوتی ہے جس میں مہمان اور میزبان دونوں کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی چیزیں ہیں ابھی حقیقی ضیافت کا وقت نہیں آیا۔ اوپر کی آیت میں اصحابِ ایمان کے لیے جن نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو جاتے ہی ان کو جنت میں ملیں گی وہ ابتدائی مہمانی ہوگی۔ اور اس کا حال بھی یہ ہے کہ ہم دنیا میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–32

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مقابلے میں موحّدوں کے ساتھ ملائکہ کا سلوک اور ان کا اکرام۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمار رب ” اللہ “ ہے پھر اس پر مرتے دم تک قائم رہے۔ ان کی موت کے وقت ان کے لیے ملائکہ آتے ہیں جو انہیں تسلی دیتے ہیں کہ غمگین اور پریشان نہیں ہونا۔ بلکہ اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھ تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ رہیں گے۔ تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے وہ سب کچھ ہے جو تمہارا دل چاہے گا اور تمہارے رب کے ہاں تمہاری مہمان نوازی ہوگی۔ ” رَبُّنَا اللّٰہُ “ سے مراد یہ نہیں کہ بس انہوں نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ ہمارا رب ” اللہ “…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نُزُلًا (یہ بطور مہمانی کے ہوگا) وہ مہمان کا توشہ ہے۔ نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ذوالحال ضمیر ھا محذوف ہے۔ یا ما سے حال ہے۔ مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ (غفور و رحیم کی طرف سے) یہ اس کی صفت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31، نحن اولیاؤکم، یہ بات ان کو وہ فرشتے کہیں گے جوان پر بشارت کے ساتھ اتریں گے کہ ہم تمہارے دوست ، تمہارے مددگار اور تمہارے محبوب ہیں۔ ، فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ، یعنی دنیا وآخرت میں ۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتے کہیں گے کہ ہم تمہارے محافظ ہیں جو تمہارے ساتھ دنیا میں تھے اور آخرت میں ہم تمہارے اولیاء ہیں کہیں گے اب ہم تمہارے جنت میں داخل ہونے تک تم سے جدانہ ہوں گے۔ ، ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم، اعزازات اور لذتوں میں سے۔ ، ولکم فیھا، جنت میں ، ماتدعون، جو تم خواہش کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–32

26۔ 32۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ حضرت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو مشرک لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور سورة لقمان میں گزر چکا ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص نے رستم و اسفندیار وغیرہ کے قصوں کی کتابیں خرید رکھیں تھیں۔ جب آنحضرت ﷺ قرآن شریف پڑھتے تھے تو نضر بن 1 ؎ حارث وہ قصے لوگوں کو سنا کر قرآن شریف کے سننے سے روکا کرتا تھا صحیحین 2 ؎ وغیرہ میں حضرت مسعود کی حدیث مشہور ہے کہ ابوجہل وغیرہ مشرکوں نے مل کر اونٹ کی اوجھڑی نماز پڑھتے وقت آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دی تھی غرض اسی طرح کی بہیودہ باتیں آنحضرت ﷺ کے نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے وقت مشرک لوگ اس غرض سے کرتے تھے کہ لوگ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–34

آیت 30 اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انہیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے ان کے لئے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ (تتنزل علیھم الملئکۃ) ” ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں “ یعنی ان کا نزول بتکرار وہتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاض رہو کر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 30–32

راہ خدا میں استقامت ، قیامت کو کام آئے گی قول باری ہے (ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے) تاآخر آیت۔ ایک قول کے مطابق موت کے وقت فرشتے ان پر نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ ” جس منزل کی طرف تم جارہے ہو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ “ اللہ تعالیٰ ان کا خوف دور کردے گا۔ فرشتے پھر کہیں گے۔ ” دنیا اور دنیا والوں پر غم نہ کرو۔ “ اللہ تعالیٰ ان کا خوف دور کردے گا۔ فرشتے مزید کہیں گے۔ ” تمہیں جنت کی بشارت ہو۔ “ زید بن اسلم سے بھی یہی روایت ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ فرشتے ان سے یہ بات قبر سے نکل کر میدان قیامت میں کھڑے ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

54 اہل جنت کے لیے عظیم الشان مہمانی کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ ان کے لیے ربِّ غفور و رحیم کی طرف سے ایک عظیم الشان مہمانی ہوگی۔ سو جس طرح مہمان کو خاص عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے اور اس کو نہ کھانے پینے کی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ اس کے لئے اس کو کوئی تگ و دو کرنا پڑتی ہے ایسے ہی ان حضرات کو بھی وہاں پر خاص اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا۔ بلکہ وہاں کا حال تو اس سے اور بھی کہیں زیادہ مختلف اور بڑھ کر ہوگا کہ وہاں کی یہ مہمانی بھی اس ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف سے ہوگی جس کی نہ تو مغفرت و بخشش کا کوئی ٹھکانا ہے اور نہ ہی اس کی رحمت و مہربانی کا کوئی کنارہ۔ نیز یہاں پر یہ بھی واضح رہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–37

ایمان والوں کے درجات تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–32

آیات 26 تا 32۔ اسرار ومعارف۔ اور آج بھی جب کفار دلائل میں لاجواب ہوگئے تو کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو شوروغل کیا کرو تاکہ کوئی سن ہی نہ سکے اور قرآن کی برکات سے محروم رہے یوں تمہارا مقصد پورا ہو۔ تلاوت قرآن خاموشی سے سننا واجب ہے اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت اور مروجہ شبینہ ۔ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کا سننا واجب ہے اور آج کل ریڈیو پر تلاوت ہوتی ہے ہوٹلوں والے اپنے کام اور شوروغل میں لگے رہتے ہیں جو کفار کی عادت ہے چاہیے ریڈیو بند رکھیں یا تھوڑی دیر کے لیے کھولیں اور آرام سے سنیں اور دوسروں کو بھی سننے کا موقع دیں اس تناظر میں آج کل کے مروجہ شبیہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 8” احسن قولا “ سے مراد قرآن اور داعی سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں اور پھر قیامت تک ہر وہ شخص اس کے تحت آجاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت لیکر اٹھے۔ یوں با اعتبار معنی اس میں مؤذنین ( آذان دینے والے) اس کے مصداق ہیں۔ جنہوں نے کفار کے نرغہ سے آنحضرت ﷺ کو بچایا اور کہا ( اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ) ( قرطبی وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:32) نزلا۔ اسم۔ مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت۔ النزول کے اصل معنی ہیں بلند جگہ سے نیچے اترنا۔ چناچہ محاورہ ہے نزل عن دابتہ وہ سواری سے اتر پڑا۔ انزل باب افعال کسی کو بطور مہمان اتارنا۔ یا بطور مہمان ٹھہرانا۔ مہمانی کرنا۔ منزل اترنے کی جگہ مہمان خانہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فنزل من حمیم (56:93) (تو اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے۔ کتاب کا منجانب اللہ نازل کیا جانا۔ وحی کا نازل ہونا۔ عذاب یا مصیبت کا نازل ہونا سب اسے مادہ (نزل) سے ہیں۔ نزلا حال ہے ما تدعون سے بدیں وجہ منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–32

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 32 : لا تسمعوا ( تم نہ سنو) الغوا (شور مچائو) تغلبون (تم غالب ہو جائو گے) نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) اسوا ( بر کیا) دار الخلد (ہمیشہ کا گھر) استقاموا ( وہ جمے رہے) یلحدون ( الحاد) (ٹیڑھاچلتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 32 : ہمیشہ سے ایسے لوگوں کی اکثریت رہی ہے جو حق و صداقت ، نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کے بجائے اس سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز کو وہ حقیقت سمجھ رہے ہیں سارا حق اس کے مطابق ہو کر چلے وہ اپنے گھڑے ہوئے خیالات کی دنیا سے باہر آنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور ہر تنقید اور نصیحت کو نہایت تلخ اور کڑوا سمجھتے ہیں ۔ وہ بغیر کسی ثبوت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–33

(ف 1) شان نزول۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت موذنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی کیا گی ا ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو نیک راستے پر لگاتا ہے اس کو اپنے ذاتی عملوں کے اجر کے سوا اس قدر اجر اور ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–32

[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔ [14] یعنی وعدہ عذاب۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–35

فرشتے اتریں گے 2: اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ جہنم میں دکھ اور تکلیف برداشت کررہے ہونگے ۔ جہوں نے دنیا میں اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ دوسری جانب جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ تعلقات عبودیت کو استوار کیا اور پھر ان تعلقات کی ذمہ داریوں کو مردانہ وار استقلال اور عزیمت کے ساتھ آخر تک نبھایا ۔ وہ فرشتوں کی زبان سے خوشخبریاں سن رہے ہونگے ۔ کہ اس وقت تم قطعاً غم اور فکر سے بےنیاز ہوجاؤ۔ دلوں کو مسرت سے معمور کرلو ۔ کہ تمہارے لئے جنت کی نعمتیں اور آسودگیوں مقدر ہیں ۔ جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم نے دنیا میں تمہاری اعانت کی ۔ آج آخرت میں بھی تمہارے رفیق اور دوست ہیں ۔ یہاں جنت میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) یہ سب کچھ اس کی طرف سے بطور مہمانی کے ہوگا جو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی دنیا میں بھی نیک بندوں کو ان کی رفاقت میسر ہوتی ہے چناچہ نیکیوں کا الہام اور شدائد و حوادث میں صبر وسکینہ اور غیبی مدد ان ملائکہ ہی کا فیضان ہے ان کی رفاقت اور ہمراہی اور بشارت یہ سب باتیں آخرت میں ہونگی۔ اور جنت کی تعریف بیان کریں گے کہ تم وہاں جو چاہو گے وہ موجود ہوگا اور جو طلب کرو گے وہ ملے گا یعنی جس طرح یہاں دنیا میں ہرچیز کا تصور بلاتکلف کرسکتے ہو لیکن موجود نہیں کرسکتے وہاں یہ طاقت بڑھادی جائے گی جس چیز کا تصور کرو گے وہ تصورکرو گے وہ تصور کرتے ہی موجود ہوجائے گی اور یہ سب چیزیں بطور اکرام اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 31–32

فرشتوں کا آخری کلام جو وہ اہل جنت کو جنت لے جاتے وقت کریں گے 32 ؎ اہل جنت کی جو تمنا ہوگی وہ ان کو ملے گی اور یہ بات کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس وقت انسانوں کی تمنا ایک جیسی ہوگی یا مختلف اور اس طرح یہ بھی کہ اس وقت کس چیز کی تمنا ہوگی ؟ لیکن جو تمنا ہوگی اس کے مطابق ان کو دیا جائے گا تاہم اس وقت کتاب وسنت میں جو کچھ انسانوں کو ملنے کا مختصر ذکر کیا گیا ہے یہ محض ایک انداز تفہیم ہے اور ظاہر ہے کہ وہ انسان کے سامنے اس طرح اور انہیں الفاظ میں پیش کیا جاسکتا تھا کیونکہ انسان کی سمجھ میں وہی چیز آسکتی ہے جس کا مشاہدہ انسان کو ہوتا ہے اور ایسی چیز جس کا مشاہدہ نہیں ہوتا یا نہیں ہوسکتا اس کو بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–32

لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ‌ رَّ‌حِيمٍ (And for you here is whatever your souls desire, and for you here is whatever you call for. - 41:31-32) In other words, ` all your desires' would be fulfilled whether you request or you don't.' The word used after that is ` nuzulan'1 meaning hospitality indicates that many the delights provided to you there will be such that even desire had not entered your heart, as happens to a guest, specially of a great personage, that many such things also are presented to him that the guest had not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–33

36 After consoling and encouraging the believers, now they are being exhorted towards their real duty. In the preceding verse they were told: "Being firm in the service to Allah and standing steadfast on this way after adopting it is by itself the basic good, which makes man a friend of the angels and worthy of Paradise." Now they are being told: "The next thing which wins man the highest place of honour is that he should do good deeds himself and should invite others to the service of Allah, and even in the environment of severe antagonism where to proclaim Islam is tantamount to inviting…

Read the full tafseer →