Explained with ayahs 33–36
اللہ تعالیٰ کا محبوب انسان۔
فرماتا ہے جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہوگی ؟ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو ہیں مگر خود نہیں کرتے یہ تو خود بھی کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کہتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ رسول اللہ ﷺ سب سے اولیٰ طور پر اس کے مصداق ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے مصداق اذان دینے والے ہیں جو نیک کار بھی ہوں۔ چناچہ صحیح مسلم میں ہے قیامت کے دن موذن سب لوگوں سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔ سنن میں ہے امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 36
اہل ایمان کو تسکین دینے اور ان کی ہمت بندھانے کے بعد اب ان کو ان کے اصل کام کی طرف رغبت دلائی جا رہی ہے۔ گزشتہ آیت میں ان کو بتایا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی پر ثابت قدم ہوجانا اور اس راستے کو اختیار کرلینے کے بعد پھر اس سے منحرف نہ ہونا بجائے خود وہ بنیادی نیکی ہے جو آدمی کو فرشتوں کا دوست اور جنت کا مستحق بناتی ہے۔ اب ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آگے کا درجہ، جس سے زیادہ بلند کوئی درجہ انسان کے لیے نہیں ہے، یہ ہے کہ تم خوب نیک عمل کرو، اور دوسروں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلاؤ، اور شدید مخالفت کے ماحول میں بھی، جہاں اسلام کا اعلان و اظہار کرنا اپنے اوپر مصیبتوں کو دعوت دینا…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ۔ یہ مومنین کاملین کا دوسرا حصہ احوال ہے کہ وہ صرف خود ہی اپنے ایمان و عمل پر قناعت نہیں کرتے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں۔ اور فرمایا کہ اس سے اچھا کس کا قول ہوسکتا ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔ معلوم ہوا کہ انسان کے کلام میں سب سے افضل و احسن وہ کلام ہے جس میں دوسروں کو دعوت حق دی گئی ہو، اس میں دعوت الی اللہ کی سب صورتیں داخل ہیں۔ زبان سے تحریر سے یا کسی عنوان سے، اذان دینے والا بھی اس میں داخل ہے، کیونکہ وہ دوسروں کو نماز کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لئے حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا کہ یہ آیت موذنوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور…
Read the full tafseer →ومن احسن قولاً ممن دعآ الی اللہ وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین (33)
اسلام کی دعوت سے بڑھ کر کوئی دعوت نہیں rnٍیہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور آپ کے ان مخالفین کے لئے ملامت بھی جو کہتے تھے کہ قلوبنا فی النۃ مما تدعونا الیہ و فی اذاتنا و قرو ومن بیننا وبینک حجاب رحم السجدۃ 5) (ہمارے دل تمہاری دعوت سے پردے میں ہیں اور ہمارے کان بہیر ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہے) مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں اور مخالفت کے جنون میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ لوگوں کو یہ سکھاتے پھر رہے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور جب اس کو سنانے کی کوشش کی جائے تو شور و شغب سے اس کو دبا…
Read the full tafseer →33۔ 1 یعنی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے ساتھ خود بھی ہدایت یافتہ، دین کا پابند اور اللہ کا مطیع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
13: دنیا میں انسان کے جو ساتھی اسے دین سے غافل کر کے گمراہ کرتے رہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں، اور وہ شیطان جو اسے بہکاتا رہا، وہ بھی۔ ان دونوں کے بارے میں دوزخی شخص یہ کہے گا کہ مجھے یہ گمراہ کرنے والے نظر آجائیں تو میں انہیں پاؤں تلے روند ڈالوں۔
Read the full tafseer →اس سبق کا خاتمہ ایک داعی کے خدو خال اور حوصلہ افزائی پر ہوتا ہے۔ اس کی روح ، اس کے الفاظ ، اس کے آداب اور اس کی میٹھی میٹھی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ان باتوں کی طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے تمام داعیوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ سورت کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ پیغمبروں اور داعیوں کے ساتھ عوام الناس کا رویہ کس قدر ظالمانہ ہوتا ہے۔ اور وہ کس قدر گستاخی اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں داعی کو بتایا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کا منہاج دعوت یہ ہے۔
دعوت اسلامی کا کام ایک بہت بڑا اور کٹھن کام ہے ، داعی کو مخاطب کی پیچیدہ نفسیات کا ، اس کی جہالت کا ، اس کی عزت نفس ، اس کے استکبار کا ، اس…
Read the full tafseer →7 پہلے (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ) 46 ۔ الاحقاف :13) میں ان مخصوص مقبول بندوں کا ذکر تھا جنہوں نے صرف ایک اللہ کی ربوبیت پر اعتقاد جما کر اپنی استقامت کا ثبوت دیا۔ یہاں ان کے ایک اور اعلیٰ مقام کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی بہترین شخص وہ ہے جو خود اللہ کا ہو رہے، اسی کی حکم برداری کا اعلان کرے، اسی کی پسندیدہ روش پر چلے۔ اور دنیا کو اسی کی طرف آنے کی دعوت دے۔ اس کا قول و فعل بندوں کو خدا کی طرف کھینچنے میں موثر ہو جس نیکی کی طرف لوگوں کو بلائے بذات خود اس پر عامل ہو۔ خدا کی نسبت اپنی بندگی اور فرمانبرداری کا اعلان…
Read the full tafseer →آیت 33{ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ } ”اور اس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف“
جس خوش قسمت شخص کو ایمان کے بعد ”استقامت“ کا مقام حاصل ہوچکا ہو ‘ اسے بھلا اب کس بات کی دھن ہوگی ؟ کیا وہ اب بھی مال و دولت ِدنیا کے پیچھے دوڑے گا ؟ یا کیا حکومت اور اقتدار کے حصول کی خواہش اب بھی اس کے دامن دل کو اپنی طرف کھینچے گی ؟ نہیں ! ہرگز نہیں ! اس ”متاعِ غرور“ کو تو وہ ٹھکرا کر بہت آگے نکل آیا ہے۔ مسند ِاستقامت پر رونق افروز ہونے کے بعد دنیا ومافیہا کے بارے میں اس کی ترجیحات بہت واضح ہوچکی ہیں۔ اب تو وہ خوب سمجھتا ہے کہ یہ سب آنی جانی چیزیں ہیں ‘ آج ہیں تو کل…
Read the full tafseer →41 اصلاح نفس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو تبلیغ :۔ پچھلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہوا جو اللہ پر ایمان لانے کے بعد ساری زندگی اپنے اس قول وقرار پر پہرہ بھی دیتے ہیں۔ اس آیت میں ان سے بھی اگلے درجہ کے ایمانداروں کا ذکر ہے۔ یعنی وہ لوگ جو صرف خود ہی احکام الٰہی کی بجاآوری پر جمے نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو اسی بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ سب سے پہلے خود عمل پیرا ہو کر اللہ کی فرمانبرداری کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دوسروں کو بلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا پہلے خود عمل پیرا ہونا پھر اس کے بعد اللہ کے دین کی طرف بلانا انتہائی بہترین عمل ہے۔
Read the full tafseer →31۔ ابھی ذکر حسن مآل کا تھا، اب ذکر حسن عمل کا ہے۔ (آیت) ” من عمل صالحا “۔ دعوت الی اللہ کے ساتھ ضرورت خود بھی حسن عمل کی ہے بلکہ اس قید نے یہ اشارہ کردیا کہ عالم بےعمل اور واعظ غیر متقی اس بشارت سے خارج ہے۔ المراد ان یتبع القول العمل (ابن العربی) (آیت) ” قال اننی من المسلمین “۔ مومن کو چاہیے کہ اپنی بندگی پر فخر کرے، اس میں کوئی عار نہ سمجھے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” عمل صالحا “۔ کی قید سے معلوم ہوا کہ شیخ کو خود بھی عامل ہونا چاہیے ورنہ اس کی تعلیم میں برکت نہ ہوگی۔ (آیت) ” دعآالی اللہ “۔ ظاہر لفظ سے بعض علماء نے اشارہ اذان کی جانب سمجھا ہے۔ اور استدلال اسی سے عمل اذان کی فضیلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیت نمبر 33 تا 44
ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…
Read the full tafseer →ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین اور اس شخص کے
قول سے بہتر کس کا قول ہوگا جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور نیک کام کئے اور کہا : میں بلاشبہ مسلمانوں میں سے ہوں۔
استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اس سے بہتر قول والا کوئی نہیں ہوسکتا (جس نے اللہ کو ماننے کی دعوت دی اور نیک کام کئے اور مسلم ہونے کا اعلان کیا) ۔
قَوْلاً قول سے مراد ہے فخر کرنا ‘ یا اسلام کو دین و مذہب بنانا (یعنی قول سے مراد ہے دین و مذہب) عرب کہتے ہیں : یہ فلاں شخص کا قول ہے ‘ یعنی دین و مذہب ہے۔
محمد بن سرین اور سدی نے کہا : مَنْ دَعَا اِلَی اللہ الخ سے رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک مراد ہے۔ حسن کے نزدیک ہر…
Read the full tafseer →اور اس سے زیادہ محکم یا یہ کہ بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو لوگوں کو توحید کی طرف بلائے یعنی رسول اکرم کی ذات اقدس اور فرائض کو ادا کرے نیز کہا گیا ہے کہ یہ آیت موذنوں کے بارے میں نازل ہوئی یعنی جو اذان کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے اس سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے اور خود بھی مغرب کی اذان کے علاوہ اور اذانوں کے بعد دو رکعتیں پڑھے اور اسلام کا اقرار کرے اور کہے کہ میں بیشک مومن ہوں ان اوصاف کے مالک رسول اکرم کی ذات بابرکت اور آپ کے اصحاب ہیں۔
اور رسول اکرم کا توحید کی طرف دعوت دینا اور ابو جہل کا شرک کی طرف بلانا یہ دونوں باتیں برابر نہیں ہوسکتیں یا یہ کلمہ لا الہ الا اللہ کی…
Read the full tafseer →(1) من احسن قولاً منن دعا الی اللہ …: پچھلی آیات میں ایمان لا کر اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتوں کے نزول ، دنیا و آخرت میں ان کی دوستی، جنت میں داخلے اور غفور و رحیم کی مہمانی کی بشارت دے کر ان کے قلبی سکون و اطمینان اور دلی راحت کا سامان فرمایا، اب ایک ایسے کام کا ذکر فرمایا جو ”ربنا اللہ“ کہنے کا فطری تقاضا ہے کہ وہ اس نعمت کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ان کی کوشش اسے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی ہوتی ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو نعمت انھیں عطا ہوئی ہے وہ ہر شخص کو عطا ہوجائے۔ یہ کام سر انجام دیتے ہوئے جب وہ تین باتوں کا اہتمام کریں تو بات میں ان سے بہتر اور درجے میں ان…
Read the full tafseer →ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ وعمل صالحا جنہوں نے قرآن میں لغو بات کرنے کی ایک دوسرے کو وصیت کی تو انہیں شرمندہ کیا جارہا ہے معنی قرآن سے بہتر کون سا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کی طرف دعوت دینے والے سے بہتر قول میں کو اچھا ہو سکتا ہے ؟ حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ ابن سیرین، سدی، ابن زید، اور حسن بصری نے کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔ حضرت حسن بصری جب یہ آیت پڑھتے تو کہتے : یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، یہ حبیب اللہ ہیں، یہ اللہ کے ولی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق ہیں اللہ کی قسم ! یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے محبوب ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائوں…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ “ (اس شخص کے قول سے بہتر کس کا قول ہوگا جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا) سے مراد ہے مؤذن (آیت ) ” وعمل صالحا “ (اور نیک عمل کیا) اس سے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت نماز پڑھنا مراد ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے دوسری سند سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں اس آیت کو نہیں دیکھتی ہوں مگر یہ مؤذنوں کے بارے میں نازل ہوئی (اور وہ یہ آیت ہے) (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ “
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن بصری (رح) سے…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَحْسَنُ [ اور کون زیادہ اچھا ہے ] قَوْلًا [ بلحاظ بات کرنے کے ] مِّمَّنْ [ اس سے جس نے ] دَعَآ اِلَى اللّٰهِ [ دعوت دی اللہ کی طرف ] وَعَمِلَ صَالِحًـا [ اور عمل کیا نیکی کا ] وَّقَالَ اِنَّنِيْ [ اور کہا کہ میں ] مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداروں میں سے ہوں ]
نوٹ ۔ 4: آیت ۔ 33 ۔ میں مومنین کاملین کا دوسرا حصہ احوال ہے کہ وہ خود اپنے ایمان وعمل پر قناعت نہیں کرتے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں ۔ (معارف القرآن ) لیکن کسی خاص مسلک یا فرقہ کی دعوت اس مسلک یا فرقہ کی دعوت ہوگی ، وہ دعوت الی اللہ نہیں ہے ۔ (ڈاکٹر اسرار احمد) پھر اگلی آیت میں دعوت الی اللہ کی خدمت انجام دینے…
Read the full tafseer →داعی الی اللہ کی فضیلت، اخلاق عالیہ کی تلقین، شیطان سے محفوظ ہونے کے لیے اللہ کی پناہ لینا
ان آیات میں داعی الی اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے اشخاص و افراد کی فضیلت بیان فرمائی اور بعض امور پر تنبیہ کی ہے ارشاد فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کس کی بات اچھی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور یوں کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں، اس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جو شخص بلائے یعنی توحید کی دعوت دے اور اس کے دین اور احکام دین قبول کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دے اسے خود بھی اعمال صالحہ میں لگنا چاہیے جب خود عمل کرے گا تو دوسروں کو اعمال صالحہ کی دعوت دینا بھی مفید اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فضیلت دعوت الی اللہ وبیان صبر و استقامت وحلم و درگذر درراہ حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ ....... الی ....... وھم لا یسئمون “۔
(ربط) گذشہ آیات میں اہل ایمان اور ایمان پر استقامت والوں کا اللہ کے یہاں کیا عظیم مقام و مرتبہ ہے بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اللہ کی طرف دعوت دینے والوں کی فضیلت بیان کی جارہی اور یہ کہ عقل و فطرت کے اس قانون کو بخوبی سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ہے، اور دعوت الی اللہ اور اشاعت حق میں انسان کو بڑی رکاوٹیں اور دشواریاں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ اور شدائد پر صبر کی ضرورت ہے، یہ چیز کمال کی نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
32:۔ ” ومن احسن “ یہ دوسری شکوے کے ساتھ متعلق ہے۔ اس میں ترغیب و ترہیب اور طریق تبلیغ کا بیان ہے۔ جب آپ ان معاندین کو اللہ تعالیٰ کا حکمنامہ (قرآن) سنائیں گے۔ تو وہ شور بپا کریں گے اور خرافات بکیں گے۔ تو آپ ان کی شرارتوں کا سختی سے جواب نہ دیں۔ بلکہ نرمی سے سمجھائیں۔ اور نہایت معقول اور سنجیدہ طرز اختیار کریں۔ تاکہ وہ کم از کم اس قرآن کو سن تو لیں۔ ان معاندین کی بدبختی دیکھو کہ وہ دعوت توحید ایسے احسن و افضل قول کو ٹھکراتے ہیں، جسے محمد ﷺ ایسے جامع کمالات اور ناصح مشفق ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بھلا اس شخص سے بھی کسی کا قول بہتر اور اعلی ہوسکتا ہے جو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دے رہا ہو، خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ربط آیات
گزشتہ رادع کے آغاز میں اللہ نے کفار کا شکوہ بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو مت سنو بلکہ جب اس کی تلاوت ہو رہی ہو ۔ تو شور و غل مچائو۔ تو شور و غل مچائو تا کہ دوسرے بھی اس کو نہ سن سکیں ۔ قرآن پاک کے پروگرام کو اسی طرح ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے کہ اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچنے سے روک دیا جائے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ہم ایسے لوگوں کو سخت سزا دیں گے ۔ پھر اللہ نے دوزخ میں تابعین اور متبوعین کا ذکر کیا کہ تابعین اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ہمیں ہمارے متبوعین دکھائے جائیں تا کہ ہم انہیں اپنے پائوں کے نیچے روند ڈالیں کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللہِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ 33
احسان
الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» .
فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل
واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ترکیب : ومن استفہامیۃ و محلہا الرفع بالا بتداء والخبر احسن قولا تمیز لاحسن ممن متعلق باحسن ولا السیئۃ لا زائدۃ جاءت لتا کید النفی ادفع بالتی ای ادفع السیئۃ حیث اصابتک من احد بالتیھی احسن ای بالحسنۃ۔
تفسیر : کمال احسانی دو قسم پر ہیں، ایک تام دوسرا اس سے بھی بڑھ کر کمال تام۔ اپنے تئیں صفات حمیدہ سے مزین کرنا اس کا ذکر ان الذین قالوا ربنا اللہ میں آچکا، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اپنی تکمیل کے بعد ناقصوں کی تکمیل کی طرف متوجہ ہونا، اس کی طرف ان آیات میں اشارہ کرتا ہے۔ فقال و من احسن قولا ممن دعا الی اللہ اور نیز اس میں مخاطبین پر ایک ملائم طور پر حجت قائم کی جاتی ہے کہ تم کس لیے قرآن میں غل مچاتے ‘…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَـآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 33)
(اور اس شخص سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ )
سب سے بہتر وہ ہے جو قول و عمل سے دین کی دعوت دیتا ہے
انتہائی بدترین حالات میں اور کافروں کی منہ زور مخالفت کے باوجود ان لوگوں کا رویہ یقینا انتہائی قابل تحسین ہے اور یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان کے ٹوٹے ہوئے دلوں اور زخم زخم جسموں پر تسکین و اطمینان کا مرہم رکھتے ہیں۔ جن لوگوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنا رب بنایا، اس کے قانون کو اپنا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ایمانداروں میں اعلیٰ کردار اور بلند مقام کے حامل حضرات۔
اپنے رب پر ایمان لانا اور اس پر مرتے دم تک قائم رہنا بہت بڑاکام اور مقام ہے۔ مگر ایک جماعت ان حضرات سے بھی ارفع مقام کی حامل ہے اور ہوگی جن کے بارے میں ارشاد ہورہا ہے کہ یہ لوگ قول اور کردار کے لحاظ سے دوسرے مسلمانوں سے بہتر ہیں۔ جس نے اسلام قبول کیا اور پھر لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور خود صالح اعمال کرتا رہا۔” اللہ “ کی طرف بلانے سے مراد اس کے دین کی بلامفاد اور پوری جانفشانی کیساتھ دعوت دینا ہے۔ جس میں سرفہرست رب کی توحید کی دعوت ہے۔ کیونکہ دین کی ابتدا اور اس کی انتہا توحید پر رکھی گئی ہے۔ اسلامی انقلاب اور…
Read the full tafseer →داعی کی بات سب سے اعلی :
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ (اور اس سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے۔ جو خدا کی طرف بلائے) ۔ وہ داعی رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اور جس کی طرف دعوت دی وہ توحید ہے۔ وَعَمِلَ صَالِحًـا (اور وہ نیک عمل کرے) ۔ صالح سے خالص اعمال مراد ہیں۔ وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں) آپ اسلام پر فخر کرنے والے ہیں اور اس کا اعتقاد رکھنے والے ہیں۔ اور آپ کے صحابہ کرام یا موذن یا تمام ہدایت والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے۔
Read the full tafseer →(32۔ 33) ۔۔۔۔۔۔ نزلا، رزق ہے۔ ، من غفوررحیم ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ ، اس کی طاعت کی طرف۔ ، وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین، ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہیں کہ اس بات کی گواہی کی طرف بلایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ مؤمن ہے جس نے اللہ کی اس بات کی گواہی کی طرف بلایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ مؤمن ہے جس نے اللہ کی دعوت پر لبیک کہا اور خود جو بات قبول کی ، لوگوں کو بھی اس کی طرف بلایا اور پھر نیک عمل کیے اور کہا، اننی من المسلمین، بیشک میں تو مسلمانوں میں سے ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی…
Read the full tafseer →33۔ اول درجہ میں تو یہ آیت انبیاء کی شان میں ہے جن کے سبب سے دنیا میں نیک کام کرنے کی اور برائی سے بچنے کی بنیاد قائم ہوئی اور جن کی ذات کو خاص اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کہ وہ نیک راستے پر امت کے لوگوں کو لگائیں۔ دوم درجہ میں امت کے وہ علما اور نیت لوگ ہیں جو انبیاء کی فرمانبرداری کے سبب سے خود نیک راستے پر لگے اور دوسروں کو بھی نیک راستے کی رغبت دلاتے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں حضرت 1 ؎ عائشہ سے اور بعضی اور کتابوں میں اور صحابہ سے یہ جو روایتیں ہیں کہ یہ آیت موذنوں کی شان میں نازل ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ موذن لوگ نماز جیسے نیک کام کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
آیت 30
اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انہیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے ان کے لئے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ (تتنزل علیھم الملئکۃ) ” ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں “ یعنی ان کا نزول بتکرار وہتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاض رہو کر…
Read the full tafseer →دعوت الی اللہ فرض ہے
قول باری ہے (ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا۔ اور اس سے بہتر بات کس کی ہے جو دوسروں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیک عمل کرے) اس میں یہ بیان ہے کہ یہی بات سب سے بہتر ہے۔ اس کے ذریعے اس امر پر دلالت ہورہی ہے کہ اللہ کی طرف بلانے کی فرضیت لازم ہے ۔ کیونکہ نفل کا فرض سے بہتر ہونا کسی طرح درست نہیں ہے۔ اگر اللہ کی طرف بلانا فرض نہ ہوتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین قرار دیا ہے تو یہ اس امر کا مقتضی ہوتا کہ نفل کو فرض سے بہتر قرار دیا جائے حالانکہ یہ امر ممتنع ہے۔
Read the full tafseer →55 سب سے اچھی بات کی نشاندہی : سو اس سے اس امر کی تصریح فرما دی گئی کہ سب سے اچھے بات داعی حق کی بات ہی ہوتی ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ داعی حق سے بڑھ کر اچھی بات اور کسی کی نہیں ہوسکتی "۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر اچھی بات اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور اس کے اولین مُخَاطَب اور سب سے بڑے مصداق خود داعی اکبر مُبَلِّغِ اعظم امام الانبیاء والرسل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ جیسا کہ ابن سیرین، ابن زید اور حضرت حسن بصری وغیرہ کا کہنا ہے۔ (المراغی، المدارک وغیرہ) ۔ لیکن الفاظ کے عموم کے ساتھ یہ ارشاد ہر اس داعی حق کو عام اور شامل ہے جو خود حق پر ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ایمان والوں کے درجات
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیات 33 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو
اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔
اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 8” احسن قولا “ سے مراد قرآن اور داعی سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں اور پھر قیامت تک ہر وہ شخص اس کے تحت آجاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت لیکر اٹھے۔ یوں با اعتبار معنی اس میں مؤذنین ( آذان دینے والے) اس کے مصداق ہیں۔ جنہوں نے کفار کے نرغہ سے آنحضرت ﷺ کو بچایا اور کہا ( اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ) ( قرطبی وغیرہ)
Read the full tafseer →(41:33) ومن احسن قولا : من سوالیہ ہے۔ احسن افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ قولا تمیز ہے احسن سے۔ قول کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔ اس شخص کے قول سے کس کا قول بہتر ہوسکتا ہے یا ہوگا۔
یہ جملہ استفہام انکاری ہے یعنی اس سے بہتر قول والا کوئی نہیں ہوسکتا۔
ممن۔ مرکب ہے من (حرف جر) اور من (اسم موصول) سے ۔ یعنی اس شخص سے دعا الی اللّٰہ ۔۔ الخ صلہ۔ جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ بعض کے نزدیک اس دعوت الی اللہ سے مراد اذان ہے۔ پھر من دعا الی اللّٰہ سے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔
(1) محمد بن سیرین اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد رسول کریم ﷺ کی ذات مبارک ہے۔
(2) حسن کے نزدیک ہر وہ مومن مراد ہے جس نے اللہ کی طرف دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 : قرآن کریم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی جائے اور ان کو رب سے جوڑ کر اس کی یاد میں جینے کا طریقہ سکھا دیا جائے ۔ اور اس بات کا گہرا شعور بیدار کردیا جائے کہ وہ صرف اس ایک اللہ کا بندہ ہے جو اس کا خالق ، رازق اور مالک ہے وہی ہر طرح کی عبادت و بندی کے لائق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ ایک اتنا عظیم مقصد ہے جس کی طرف بلانے والے سے بہتر شخص اور کون ہو سکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس شخص سے بہتر اور کس کی بات ہو سکتی ہے جو٭لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے٭ اسی کی اطاعت و فرما برداری کرتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے اور ٭ اور یہ کہے میں اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
(ف 1) شان نزول۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت موذنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی کیا گی ا ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو نیک راستے پر لگاتا ہے اس کو اپنے ذاتی عملوں کے اجر کے سوا اس قدر اجر اور ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا۔
Read the full tafseer →[15] پہلے ذکر تھا ان مخصوص مقبول بندوں کا جنہوں نے صرف ایک اللہ کی ربوبیت پر اعتقاد جما کر اپنی استقامت کا ثبوت دیا اور ساری عمر اس پر قائم رہے اور اس کے ساتھ کسی باطل عقیدے کی آمیزش نہیں کی۔ اب یہاں ذکر ہے ایک اور اعلیٰ مقام کا۔ یعنی بہترین شخص وہ ہے جو خود اللہ کا ہو کر رہے، اسی کی حکم برداری کا اعلان کرے، اسی کی پسندیدہ روش پر چلے اور دنیا کو اسی کی طرف آنے کی دعوت دے۔ اس کا قول و فعل بندوں کو اللہ کی طرف کھینچنے میں موثر ہو، جس نیکی کی طرف لوگوں کو بلائے بذات خود اس پر عامل ہو اور اللہ کی نسبت
اپنی بندگی اور فرماں برداری کا اعلان کرنے سے کسی موقع پر اور کسی وقت نہ جھجکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
فرشتے اتریں گے
2: اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ جہنم میں دکھ اور تکلیف برداشت کررہے ہونگے ۔ جہوں نے دنیا میں اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ دوسری جانب جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ تعلقات عبودیت کو استوار کیا اور پھر ان تعلقات کی ذمہ داریوں کو مردانہ وار استقلال اور عزیمت کے ساتھ آخر تک نبھایا ۔ وہ فرشتوں کی زبان سے خوشخبریاں سن رہے ہونگے ۔ کہ اس وقت تم قطعاً غم اور فکر سے بےنیاز ہوجاؤ۔ دلوں کو مسرت سے معمور کرلو ۔ کہ تمہارے لئے جنت کی نعمتیں اور آسودگیوں مقدر ہیں ۔ جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم نے دنیا میں تمہاری اعانت کی ۔ آج آخرت میں بھی تمہارے رفیق اور دوست ہیں ۔ یہاں جنت میں…
Read the full tafseer →(33) اور قول کے اعتبار سے اس شخص سے بہتر کس کی بات اور کس کا قول ہوسکتا ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے اور بلائے اور خود بھی نیک عمل کرتا رہے اور یوں کہے کہ بیشک میں مسلمان ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ یعنی توحید کی دعوت دے عمل نیک یعنی خلوص کے ساتھ کام کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر فخر کرتا ہو اور اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔
ظاہر ہے کہ اس سے مراد خود نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے جیسا کہ آگے آیت میں آپ ہی کو خطاب ہے اس میں دعوت الی اللہ کا ذکر ہے آگے تبلیغ میں وہ حالات پیش آتے ہیں ان کا علاج ہے فخر کرنے کا یہ مطلب کہ اسلام سے تکبر یا عارنہ کرتا ہو۔
حضرت…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی بندگی کو فخر سمجھتے متکبرین کی طرح عار نہ کرے۔
Read the full tafseer →اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اچھے عمل کرے اور ربِّ کریم کی دعوت دے
33 ؎ بلاشبہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی ذات پر ایمان لانا اور اسلام کی سچائی کو سچے دل سے قبول کرنا اور اس کی تصدیق بالعمل پیش کرنا بہت درجے کی بات ہے تاہم ایک مقام اس سے بھی بلند ہے اور مبارک ہیں وہ جو اس مقام پر فائز ہیں اور بندئہ مومن اس مقام پر پہنچنے کی سعی کرسکتا ہے اور اپنے مقام و مرتبہ کے مطابق اس کو حاصل کرسکتا ہے اگر وہ کرنا چاہے۔ وہ بلند مقام کیا ہے ؟ وہ یہ کہ لوگوں کو بھی ربِّ کریم کی وحدانیت وکبریائی پر ایمان لانے کی دعوت دے اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں ان کی پیروی…
Read the full tafseer →وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّـهِ (And who can be better in words than the one who calls towards Allah, and acts righteously and says, "I am one of those who submit themselves [ to Allah ] "? - 33) This is the second aspect of the state of the totally obedient Mu'mins, that they not only have faith and carry out good deeds themselves, but they also invite others to do the same. The Qur'an states that who can say anything better than the one who calls others towards Allah. So we know that the best and most excellent discourse of a man is to call others towards truth. This…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
36 After consoling and encouraging the believers, now they are being exhorted towards their real duty. In the preceding verse they were told: "Being firm in the service to Allah and standing steadfast on this way after adopting it is by itself the basic good, which makes man a friend of the angels and worthy of Paradise." Now they are being told: "The next thing which wins man the highest place of honour is that he should do good deeds himself and should invite others to the service of Allah, and even in the environment of severe antagonism where to proclaim Islam is tantamount to inviting…
Read the full tafseer →