Explained with ayahs 30–32
اسقامت اور اس کا انجام۔
جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چناچہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرکے پھر کفر کرلیا۔ جو مرتے دم تک اس بات پر جما رہا وہ ہے جس نے اس پر استقامت کی۔ (نسائی وغیرہ) حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ نے فرمایا " اس سے مراد کلمہ پڑھ کر پھر کبھی بھی شرک نہ کرنے والے ہیں۔ " ایک روایت میں ہے کہ خلیفتہ المسلمین نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ استقامت سے مراد گناہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 36
اہل ایمان کو تسکین دینے اور ان کی ہمت بندھانے کے بعد اب ان کو ان کے اصل کام کی طرف رغبت دلائی جا رہی ہے۔ گزشتہ آیت میں ان کو بتایا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی پر ثابت قدم ہوجانا اور اس راستے کو اختیار کرلینے کے بعد پھر اس سے منحرف نہ ہونا بجائے خود وہ بنیادی نیکی ہے جو آدمی کو فرشتوں کا دوست اور جنت کا مستحق بناتی ہے۔ اب ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آگے کا درجہ، جس سے زیادہ بلند کوئی درجہ انسان کے لیے نہیں ہے، یہ ہے کہ تم خوب نیک عمل کرو، اور دوسروں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلاؤ، اور شدید مخالفت کے ماحول میں بھی، جہاں اسلام کا اعلان و اظہار کرنا اپنے اوپر مصیبتوں کو دعوت دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ۔ فرشتے مومنین و مخلصین کو بتلائیں گے کہ تمہیں جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا دل چاہے اور ہر وہ چیز جو تم مانگو۔ اس کا حاصل تو یہ ہے کہ تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی، خواہ تم مانگو یا نہ مانگو۔ آگے نزلاً بمعنی مہمانی فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ بہت سی وہ نعمتیں بھی ملیں گی جس کی تمنا بھی تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوئی۔ جیسا کہ مہمان کے سامنے بہت سی وہ چیزیں بھی آتی ہیں جن کا پہلے سے کوئی تصور نہیں ہوتا خصوصاً کسی بڑے کا مہمان ہو۔ (مظہری)
حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت…
Read the full tafseer →نحن اولیآء کم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون (31)
اہل امیان کو اس دنیا میں بھی فرشتوں کی میت حاصل ہوتی ہے
یعنی کفار کے ساتھی تو شیاطین جن و انس بنے رہے اور انہوں نے بالآخر جہنم کے گھاٹ پر ان کو لا اتارا لیکن آپ کے ساتھی دنیا میں بھی ہم رہے ہیں اور آخرت میں بھی ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ اب جو جنت آپ لوگوں کو ملنے والی ہے اس میں آپ کے لئے وہ سب کچھ ہے جن کو آپ کا جی چاہے گا اور مزید وہ چیزیں بھی آپ کو ملیں گی جو آپ طلب کریں گے۔ یہ امر یہاں واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس دنیا میں بھی اہل ایمان کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ ان کو نیکی کی راہ میں سجھاتے ہیں اور اس راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
31۔ 1 یہ مزید خوشخبری ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ بعض کے نزدیک یہ فرشتوں کا قول ہے، دونوں صورتوں میں مومن کے لئے یہ عظیم خوشخبری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
13: دنیا میں انسان کے جو ساتھی اسے دین سے غافل کر کے گمراہ کرتے رہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں، اور وہ شیطان جو اسے بہکاتا رہا، وہ بھی۔ ان دونوں کے بارے میں دوزخی شخص یہ کہے گا کہ مجھے یہ گمراہ کرنے والے نظر آجائیں تو میں انہیں پاؤں تلے روند ڈالوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔
الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس…
Read the full tafseer →4 بعض نے اس کو اللہ کا کلام بتایا ہے۔ یعنی فرشتوں کا کلام اس سے پہلے ختم ہوچکا۔ اور اکثر کے نزدیک یہ بھی فرشتوں کا مقولہ ہے۔ گویا فرشتے یہ قول ان کے دلوں میں الہام کرتے ہیں اور ان کی ہمت بندھاتے ہیں۔ ممکن ہے اس زندگی میں بعض بندوں سے مشافہۃً بھی اتنے الفاظ کہتے ہوں اور ممکن ہے موت کے قریب یا اس کے بعد کہا جاتا ہو۔ اس وقت (نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ) 41 ۔ فصلت :31) کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم دنیا میں بھی تمہارے رفیق رہے ہیں کہ اللہ کے حکم سے باطنی طور پر تمہاری اعانت کرتے تھے، اور آخرت میں بھی رفیق رہیں گے کہ وہاں تمہاری شفاعت یا اعزازو کرام کا انتظام…
Read the full tafseer →آیت 31 { نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِج } ”ہم ہیں تمہارے رفیق دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔“
ان الفاظ سے یہ مفہوم خود بخود واضح ہو رہا ہے کہ فرشتے حیات دنیوی کے دوران بھی ان خوش قسمت لوگوں کی ہمت بندھاتے ہیں اور انہیں یہ پیغامِ جانفرا پہنچاتے ہیں۔
{ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ } ”اور تمہارے لیے اس جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارے جی چاہیں گے“
تمہارے جی وہاں جو کچھ چاہیں گے وہ سب کچھ ہمارے علم میں ہے ‘ کیونکہ تمہارے نفسوں کے تقاضوں اور تمہاری خواہشات کو بھی ہم نے خود ہی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا ہم تمہاری خواہشات کی تسکین کا مکمل سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
40 اس آیت میں یہ دونوں احتمال ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ یہ بھی ان فرشتوں کا ہی کلام ہو جو ایمان پر ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو۔ فرشتوں کی دنیا میں ولایت کا ذکر کرچکا، آخرت میں یوں ہوگی کہ وہ ہر ہر مقام پر ان کا استقبال کریں گے۔ انہیں سلامتی کی دعائیں اور جنت کی بشارت دیں گے۔
Read the full tafseer →28۔ نیکی کے فرشتے مومن صالح کے رفیق اس دنیا میں برابر رہا کرتے ہیں، اور ہر وقت اسے صالحیت کی ترغیب بطریق الہام دیتے رہتے ہیں۔ اور آخرت میں ان کی ملاقات ورفاقت کا ذکر تو قرآن مجید میں باربار آیا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ امتحان ظاہری وباطنی کے موقع پر فیض ملائکہ نزول سکینت و برکت کرتا رہتا ہے۔
29۔ جنت اور آخرت کی نعمتوں کی کوئی حد اور کوئی شمار ہے الفاظ کا عموم و جامعیت ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہورہا ہے کہ جو کچھ بھی تم طلب کرو گے۔ ہر چیز تمہارے لیے حاضر ومہیا ہوگی۔ اور اس میں ساری ہی مادی وروحانی لذتیں اور حسی ومعنوی راحتیں آگئیں ! اور پھر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ، “ جو کچھ تمہارا جی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت نمبر 26 تا 32
ترجمہ : اور کافروں نے آپ کی قراءت کے وقت کہا اس قرآن کو سنو مت، اور شوروغل کرو، اور آپ ﷺ کی قراءت کے وقت شور مچاؤ کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ ؟ اور پیغمبر (ہار کر) چپ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا سو ہم ان کافروں کو یقیناً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور انہیں انکے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے، یعنی ان کے عمل کی بدترین جزاء (ضرور دیں گے) وہ یعنی عذاب شدید اور بدترین بدلہ، اللہ کے دشمنوں کی سزایہی دوزخ کی آگ ہے، دوسرے ہمزہ کی تحقیق اور اس کو واؤ سے بدل کر، النّار، الجزاء کا عطف بیان ہے، جو ذٰلک کا مخبربہ (خبر) ہے، جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے یعنی…
Read the full tafseer →نحن اولیؤکم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی (تمہارے ساتھ) رہیں گے۔ یعنی دنیا میں ہم تمہارے ساتھی تھے ‘ اچھی باتیں تمہارے دل میں ڈالتے تھے اور شیطانوں سے تمہاری حفاظت کرتے تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ اس وقت تک رہیں گے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔
ولکم فیھا ما تشھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون تمہارے لئے اس جنت میں جو کچھ تمہارا جی چاہے گا ‘ موجود ہے اور جو مانگو گے ‘ وہ بھی تمہارے لئے تیار ہے۔ یعنی جنت کے اندر وہ لذتیں اور عزت ملے گی جو تمہارے دل چاہیں گے اور جن کے تم خواہش مند ہوگا۔ تَدّعُوْن دعاء سے ماخوذ ہے اور دعاء کے معنی ہیں طلب۔ مقدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(31۔ 32) اور ہم تمہارے ساتھی تھے دنیوزی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے یہ حفظہ فرشتے ہوں گے اور تمہارے لیے اس جنت میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا موجود ہے اور نیز اس میں تمہارے لیے جو مانگو گے موجود ہے۔
یہ تمہارے لیے ثواب اور کھانا و پینا بطور مہمانی کے ہوگا اس ذات کی طرف سے جو تائب کی مغفرت فرمانے والا اور اس حالت میں مرنے والے پر رحیم ہے۔
Read the full tafseer →(1) نحن اولیوکم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ : دنیا میں دسوتی یہ کہ ہم تمہارے لئے داعئیں کرتے ہیں (دیکھیے مومن : 7) تمہیں نیکی کا الہام کرتے ہیں اور دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کرتے ہیں اور آخرت میں یہ کہ جب متقی لوگوں کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے تو ہماری دوستی تمہارے ساتھ قائم رہے گی، ہم آنے والے ہر مرحلے میں تمہارے ساتھی اور مددگار رہیں گی اور تمہیں حفاظت سے جنت میں پہنچائیں گے۔ فرشتے ہر مومن کو اس کی موت کے وقت یہ بشارت دیتے ہیں۔
(2) ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون : ”ماتدعون“ ”’ عا یدعو“ سے باب افتعال ہے، جو تم طلب کرو گے، مانگو گے۔ جنت کی نعمتوں کے لئے دیکھیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقاموا عطا نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی، اس کی وجہ یہ بنی کی مشرکین نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے، فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں تو انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : ہمارا رب وحدہ لا شریک ہے حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو آپ نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔
ترمذی میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرائت کی ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامو فرمایا : لوگوں نے کہ بھی کہا پھر ان میں سے اکثر نے کفر کیا جو اس پر مرگیا تو وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
1:۔ ترمذی (رح) و نسائی (رح) والبزار وابویعلی وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن عدی وابن مردویہ نے ابن عدی (رح) اور ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم پر رسول (رح) اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ (جن لوگوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر اس پر پکے ہوگئے) فرمایا لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کو کہا پھر ان کے اکثر لوگوں نے انکار کردیا جس نے اس کو کہا یہاں تک کہ وہ (اس حال میں) مرگیا کہ وہ ان لوگوں میں تھا کہ جو اس پر پکے ہوگئے (یعنی جنہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا)
2:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) وسعیدبن منصور وابن سعید وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر…
Read the full tafseer →نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ [ ہم ہیں تمہارے کارساز ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ [ دنیوی زندگی میں اور آخرت میں (بھی) ] وَلَكُمْ فِيْهَا [ اور تمہارے لئے ہے اس (جنت ) میں ] مَا [ وہ جو ] تَشْتَهِيْٓ [ خواہش کریں گے ] اَنْفُسُكُمْ [ تمہارے جی ] وَلَكُمْ فِيْهَا [ اور تمہارے لئے ہے اس میں ] مَا تَدَّعُوْنَ [ وہ جو تم لوگ مانگو گے ]
Read the full tafseer →فرشتوں کا اہل ایمان سے خطاب
(نَحْنُ اَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ ) فرشتے اہل استقامت مومنین سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم دنیا اور آخرت میں تمہارے ولی ہیں یعنی ہم تمہارے مددگار ہیں تمہارے دلوں میں حق کی بات ڈالتے ہیں اور تمہیں خیر و صلاح کا مشورہ دیتے رہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ موت سے پہلے بھی ملائکہ کا نزول ہوتا رہتا ہے جو اہل ایمان کو تسلی دیتے ہیں اور خیر و صلاح کی باتیں بتاتے ہیں اور شرور سے بچاتے ہیں دنیا میں ان کی یہ دوستی ہے اور آخرت میں بھی دوستی کا ظہور ہوگا، شفاعت بھی کریں گے اور اکرام کے ساتھ پیش آئیں گے اور ان کے پاس پہنچیں گے اور (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
32:۔ ” ومن احسن “ یہ دوسری شکوے کے ساتھ متعلق ہے۔ اس میں ترغیب و ترہیب اور طریق تبلیغ کا بیان ہے۔ جب آپ ان معاندین کو اللہ تعالیٰ کا حکمنامہ (قرآن) سنائیں گے۔ تو وہ شور بپا کریں گے اور خرافات بکیں گے۔ تو آپ ان کی شرارتوں کا سختی سے جواب نہ دیں۔ بلکہ نرمی سے سمجھائیں۔ اور نہایت معقول اور سنجیدہ طرز اختیار کریں۔ تاکہ وہ کم از کم اس قرآن کو سن تو لیں۔ ان معاندین کی بدبختی دیکھو کہ وہ دعوت توحید ایسے احسن و افضل قول کو ٹھکراتے ہیں، جسے محمد ﷺ ایسے جامع کمالات اور ناصح مشفق ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بھلا اس شخص سے بھی کسی کا قول بہتر اور اعلی ہوسکتا ہے جو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دے رہا ہو، خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے جزائے عمل کے سلسلے میں فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کا دوزخ کے قریب اجتماع ہوگا ۔ پھر ان کو ان کے جرائم کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی تو خود انہی کے اعضاء و جو ارع کو ان پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دے رہے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس مالک الملک نے قوت گویائی عطاکی ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ۔ اب آج کی آیات میں بھی انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے ۔ اس درس میں قرآن کریم کی تلاوت پر کفار کے ردعمل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ…
Read the full tafseer →نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ 0 ۚ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَشْتَہِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَدَّعُوْنَ 31ۭ
ولي
والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ترکیب : الذین اسم ان تتنزل خبرھا الا اصلہ ان لا وان مفسرۃ ای قائلین لاتخافوا۔ او مصدریۃ او مخففۃ مقدرۃ بالباء ماتشتہی موصولۃ ھی مع صل تھا مبتداء لکم خبرھا فیہا متعلق بتشتھی او بالمحذوف، نزلا حال من الموصول اومن عائدہ۔
تفسیر : وعید کے بعد وعدہ ذکر کرتا ہے اور یہ عمدہ ترتیب ہے۔ واضح ہو کہ کمالات تین قسم پر ہیں۔ نفسانیہ بدنیہ، خارجیہ ان میں سب سے بڑھ کر نفسانیہ ہیں اور اوسط بدنیہ اور کمتر مرتبہ میں خارجیہ۔ پھر کمالات نفسانیہ کی دو قسم ہیں۔ ایک علم یقینی دوسرا عمل صالح، علم یقینی میں کمالات کی بات اللہ جل جلالہ کی معرفت اور اس کی توحید کا اقرار کرنا ہے، اس کی طرف اس جملے میں اشارہ ہے۔ ان الذین…
Read the full tafseer →نَحْنُ اَوْلِیٰٓـؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ج وَلَـکُمْ فِیْھَا مَاتَشْتَھِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَـکُمْ فِیْھَا مَا تَدَّعُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 31)
(ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی رہے ہیں اور آخرت کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں، اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تم چاہو گے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ )
صاحبِ ایمان لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں فرشتوں کی مصاحبت حاصل ہوتی ہے
جب کبھی نامساعد حالات میں تمہارا حوصلہ جواب دینے لگتا تو ہم تمہارے حوصلے کو قائم رکھنے کے لیے تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ جب کبھی شیطانی قوتیں تمہیں مصائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے مقابلے میں موحّدوں کے ساتھ ملائکہ کا سلوک اور ان کا اکرام۔
جن لوگوں نے کہا کہ ہمار رب ” اللہ “ ہے پھر اس پر مرتے دم تک قائم رہے۔ ان کی موت کے وقت ان کے لیے ملائکہ آتے ہیں جو انہیں تسلی دیتے ہیں کہ غمگین اور پریشان نہیں ہونا۔ بلکہ اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھ تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ رہیں گے۔ تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے وہ سب کچھ ہے جو تمہارا دل چاہے گا اور تمہارے رب کے ہاں تمہاری مہمان نوازی ہوگی۔
” رَبُّنَا اللّٰہُ “ سے مراد یہ نہیں کہ بس انہوں نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ ہمارا رب ” اللہ “…
Read the full tafseer →نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ (ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے) جس طرح کہ شیاطین نافرمانوں کے دوست ہیں اسی طرح ملائکہ متقین کے دوست ہیں۔ اور ان کے رفیق دونوں جہانوں میں ہوں گے۔ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ (اور تمہارے لیے اس میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے) نعمتوں میں سے۔ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو گے موجود ہے) ۔ تدعون تمنا کرنے کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →استقامت سے کیا مراد ہے
تفسیر 30۔ ، ان الذین قالواربنا اللہ ثم استقاموا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے استقامت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ استقامت یہ ہے کہ امر اور نہی پر قائم رہ جائے اور لومڑی کی طرح پنیترے نہ بدلے اور حضرت عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا کہ خالص اللہ کے لیے عمل کرو اور حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ فرائض کو ادا کرو اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ فرائض کی ادائیگی پر ڈٹ جاؤ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کے حکم پر ڈٹ جاؤ۔
پس اس کی فرمانبرداری والے کام کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
26۔ 32۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ حضرت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو مشرک لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور سورة لقمان میں گزر چکا ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص نے رستم و اسفندیار وغیرہ کے قصوں کی کتابیں خرید رکھیں تھیں۔ جب آنحضرت ﷺ قرآن شریف پڑھتے تھے تو نضر بن 1 ؎ حارث وہ قصے لوگوں کو سنا کر قرآن شریف کے سننے سے روکا کرتا تھا صحیحین 2 ؎ وغیرہ میں حضرت مسعود کی حدیث مشہور ہے کہ ابوجہل وغیرہ مشرکوں نے مل کر اونٹ کی اوجھڑی نماز پڑھتے وقت آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دی تھی غرض اسی طرح کی بہیودہ باتیں آنحضرت ﷺ کے نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے وقت مشرک لوگ اس غرض سے کرتے تھے کہ لوگ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
آیت 30
اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انہیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے ان کے لئے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ (تتنزل علیھم الملئکۃ) ” ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں “ یعنی ان کا نزول بتکرار وہتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاض رہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
راہ خدا میں استقامت ، قیامت کو کام آئے گی
قول باری ہے (ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے) تاآخر آیت۔ ایک قول کے مطابق موت کے وقت فرشتے ان پر نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ ” جس منزل کی طرف تم جارہے ہو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ “ اللہ تعالیٰ ان کا خوف دور کردے گا۔ فرشتے پھر کہیں گے۔ ” دنیا اور دنیا والوں پر غم نہ کرو۔ “ اللہ تعالیٰ ان کا خوف دور کردے گا۔ فرشتے مزید کہیں گے۔ ” تمہیں جنت کی بشارت ہو۔ “ زید بن اسلم سے بھی یہی روایت ہے۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ فرشتے ان سے یہ بات قبر سے نکل کر میدان قیامت میں کھڑے ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
48 سعادت دارین سے سرفرازی کے ذریعے کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے سچے دل سے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے "۔ یعنی جو سچے دل سے اپنے خالق ومالک کی الوہیت و ربوبیت پر ایمان لائے اور انہوں نے دل کی تصدیق کے ساتھ ساتھ زبان سے اس کا اظہار و اقرار بھی کیا۔ ان کے لئے یہ بشارتیں ہیں۔ سو مخالفین و منکرین کا حشر بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جا رہا ہے جنہوں نے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ اور اس کے بعد وہ تمام تر مشکلات اور مخالفتوں سے بےپروا ہو کر پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
ایمان والوں کے درجات
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
اور آج بھی جب کفار دلائل میں لاجواب ہوگئے تو کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو شوروغل کیا کرو تاکہ کوئی سن ہی نہ سکے اور قرآن کی برکات سے محروم رہے یوں تمہارا مقصد پورا ہو۔
تلاوت قرآن خاموشی سے سننا واجب ہے اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت اور مروجہ شبینہ ۔
معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کا سننا واجب ہے اور آج کل ریڈیو پر تلاوت ہوتی ہے ہوٹلوں والے اپنے کام اور شوروغل میں لگے رہتے ہیں جو کفار کی عادت ہے چاہیے ریڈیو بند رکھیں یا تھوڑی دیر کے لیے کھولیں اور آرام سے سنیں اور دوسروں کو بھی سننے کا موقع دیں اس تناظر میں آج کل کے مروجہ شبیہ…
Read the full tafseer →ف 7 دنیا میں نگہبانی یہ کہ تمہیں نیکی کا الہام کرتے رہے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی اور مددگار رہیں گے اور تمہیں حفاظت سے جنت تک پہنچائیں گے فرشتے ہر مومن کو اس کی موت کے وقت یہ بشارت دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(41:31) فیہا : ای فی الجنۃ۔ جنت میں۔
ما تشتھی : ما موصولہ ہے تشتہی مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اشتھاء (افتعال) مصدر۔ یہاں واحد مؤنث کا صیغہ انفسکم (تمہاری جانیں، تمہارے دل۔ تمہارے جی) کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی جسے تمہارے جی پسند کریں گے۔ یا۔ چاہیں گے
ما تدعون : ما موصولہ۔ تدعون جمع مذکر حاضر مضارع معروف۔ ادعاء (افتعال) مصدر۔ جس کے معنی دعوی کرنے یا آرزو کرنے کے ہیں۔ یعنی تمہارے لئے وہاں ہر وہ چیز ہوگی جو تم مانگو گے یا جس کی تم آرزو کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 32 : لا تسمعوا ( تم نہ سنو) الغوا (شور مچائو) تغلبون (تم غالب ہو جائو گے) نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) اسوا ( بر کیا) دار الخلد (ہمیشہ کا گھر) استقاموا ( وہ جمے رہے) یلحدون ( الحاد) (ٹیڑھاچلتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 32 : ہمیشہ سے ایسے لوگوں کی اکثریت رہی ہے جو حق و صداقت ، نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کے بجائے اس سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز کو وہ حقیقت سمجھ رہے ہیں سارا حق اس کے مطابق ہو کر چلے وہ اپنے گھڑے ہوئے خیالات کی دنیا سے باہر آنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور ہر تنقید اور نصیحت کو نہایت تلخ اور کڑوا سمجھتے ہیں ۔ وہ بغیر کسی ثبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
(ف 1) شان نزول۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت موذنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی کیا گی ا ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو نیک راستے پر لگاتا ہے اس کو اپنے ذاتی عملوں کے اجر کے سوا اس قدر اجر اور ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔
[14] یعنی وعدہ عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
فرشتے اتریں گے
2: اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ جہنم میں دکھ اور تکلیف برداشت کررہے ہونگے ۔ جہوں نے دنیا میں اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ دوسری جانب جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ تعلقات عبودیت کو استوار کیا اور پھر ان تعلقات کی ذمہ داریوں کو مردانہ وار استقلال اور عزیمت کے ساتھ آخر تک نبھایا ۔ وہ فرشتوں کی زبان سے خوشخبریاں سن رہے ہونگے ۔ کہ اس وقت تم قطعاً غم اور فکر سے بےنیاز ہوجاؤ۔ دلوں کو مسرت سے معمور کرلو ۔ کہ تمہارے لئے جنت کی نعمتیں اور آسودگیوں مقدر ہیں ۔ جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم نے دنیا میں تمہاری اعانت کی ۔ آج آخرت میں بھی تمہارے رفیق اور دوست ہیں ۔ یہاں جنت میں…
Read the full tafseer →(31) دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق اور دوست تھے اور آخرت میں بھی ہم تمہارے رفیق اور دوست رہیں گے اور جنت میں تم کو ہر وہ چیز حاصل اور میسر ہوگی جس کے لئے تمہارے دل خواہش کریں اور وہاں تم جو طلب کرو گے وہ تم کو ملے گا۔
Read the full tafseer →ف 6۔ چناچہ دنیا میں نیکیوں کا الہام، حوادث میں صبر وسکینہ ملائکہ ہی کا فیض ہے۔
7۔ یعنی طلب اضطراری ہو یا اختیاری دونوں علی السوء پوری ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فرشتوں کا آخری کلام جو وہ اہل جنت کو جنت لے جاتے وقت کریں گے
32 ؎ اہل جنت کی جو تمنا ہوگی وہ ان کو ملے گی اور یہ بات کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس وقت انسانوں کی تمنا ایک جیسی ہوگی یا مختلف اور اس طرح یہ بھی کہ اس وقت کس چیز کی تمنا ہوگی ؟ لیکن جو تمنا ہوگی اس کے مطابق ان کو دیا جائے گا تاہم اس وقت کتاب وسنت میں جو کچھ انسانوں کو ملنے کا مختصر ذکر کیا گیا ہے یہ محض ایک انداز تفہیم ہے اور ظاہر ہے کہ وہ انسان کے سامنے اس طرح اور انہیں الفاظ میں پیش کیا جاسکتا تھا کیونکہ انسان کی سمجھ میں وہی چیز آسکتی ہے جس کا مشاہدہ انسان کو ہوتا ہے اور ایسی چیز جس کا مشاہدہ نہیں ہوتا یا نہیں ہوسکتا اس کو بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (And for you here is whatever your souls desire, and for you here is whatever you call for. - 41:31-32) In other words, ` all your desires' would be fulfilled whether you request or you don't.' The word used after that is ` nuzulan'1 meaning hospitality indicates that many the delights provided to you there will be such that even desire had not entered your heart, as happens to a guest, specially of a great personage, that many such things also are presented to him that the guest had not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
36 After consoling and encouraging the believers, now they are being exhorted towards their real duty. In the preceding verse they were told: "Being firm in the service to Allah and standing steadfast on this way after adopting it is by itself the basic good, which makes man a friend of the angels and worthy of Paradise." Now they are being told: "The next thing which wins man the highest place of honour is that he should do good deeds himself and should invite others to the service of Allah, and even in the environment of severe antagonism where to proclaim Islam is tantamount to inviting…
Read the full tafseer →