Fussilat 41:30

Fussilat · from ayah 30

41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اُتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who have said, "Our Lord is Allah " and then remained on a right course - the angels will descend upon them, [saying], "Do not fear and do not grieve but receive good tidings of Paradise, which you were promised.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:30

جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اُتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(دوسری طرف) جن لوگوں نے کہا ہے کہ ہمارا رب اللہ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر بیشک فرشتے (یہ کہتے ہوئے) اتریں گے کہ : نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں۔ نہ ڈرو اور نہ غمگین ہو اور اس جنت کی خوشی مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک ان لوگوں پر جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے، فرشتے اتریں گے کہ اب نہ کوئی اندیشہ کرو اور نہ کوئی غم اور اس جنت کی خوش خبری قبول کرو جس کا تم سے وعد کیا جاتا تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس) جن لوگوں نے (صدق دل سے) کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو ان پر اترتے ہیں (رحمت و بشارت کے) فرشتے (اس خوشخبری کے ساتھ) کہ نہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ اور خوش ہوجاؤ تم اس جنت (کے ملنے) سے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر (اس پر) قائم رہے۔ ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور خوش ہو جنت (کے ملنے) پر جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو اور خوشیاں منائو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے کہا کہ ہمار ارب اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے اور کہیں گے کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے خوشی مناؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who say “Allah is our Lord” and then remain steadfast, upon them descend angels (and say): “Do not fear nor grieve, and receive good tidings of Paradise which you were promised.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, those who have declared: :Our Lord is Allah , then remained steadfast, on them the angels will descend, saying, :Do not fear, and do not grieve; and be happy with the good news of the Jannah (Paradise) that you had been promised.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, those who have declared: :Our Lord is Allah , then remained steadfast, on them the angels will descend, saying, :Do not fear, and do not grieve; and be happy with the good news of the Jannah (Paradise) that you had been promised.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who say: "Our Lord is Allah," and then they stand firm, on them the angels will descend (saying): "Fear not, nor grieve! But receive the glad tidings of Paradise which you have been promised!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who say: Our Lord is Allah, and afterward are upright, the angels descend upon them, saying: Fear not nor grieve, but hear good tidings of the paradise which ye are promised.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who have said, "Our Lord is Allah " and then remained on a right course - the angels will descend upon them, [saying], "Do not fear and do not grieve but receive good tidings of Paradise, which you were promised.

— Saheeh International

To those who have said, "God is our Lord, " and who have remained steadfast to their belief, the angels will descend saying, "Do not be afraid or grieved. Receive the glad news of the Paradise which was promised to you.

— Muhammad Sarwar

(As for) those who say: Our Lord is Allah, then continue in the right way, the angels descend upon them, saying: Fear not, nor be grieved, and receive good news of the garden which you were promised.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who say: our Lord is Allah, and have thereafter stood fast by it,- upon them there shall come down the angels: fear not, nor grieve, and rejoice in the tidings of the Garden which ye have been promised.

— Abdul Majid Daryabadi

In the case of those who say, "Our Lord is Allah", and, further, stand straight and steadfast, the angels descend on them (from time to time): "Fear ye not!" (they suggest), "Nor grieve! but receive the Glad Tidings of the Garden (of Bliss), the which ye were promised!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–32

اسقامت اور اس کا انجام۔ جن لوگوں نے زبانی اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا یعنی اس کی توحید کا اقرار کیا۔ پھر اس پر جمے رہے یعنی فرمان الٰہی کے ماتحت اپنی زندگی گزاری۔ چناچہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرما کر وضاحت کی کہ بہت لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کرکے پھر کفر کرلیا۔ جو مرتے دم تک اس بات پر جما رہا وہ ہے جس نے اس پر استقامت کی۔ (نسائی وغیرہ) حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ نے فرمایا " اس سے مراد کلمہ پڑھ کر پھر کبھی بھی شرک نہ کرنے والے ہیں۔ " ایک روایت میں ہے کہ خلیفتہ المسلمین نے ایک مرتبہ لوگوں سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ استقامت سے مراد گناہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 32 یہاں تک کفار کو ان کی ہٹ دھرمی اور مخالفت حق کے نتائج پر متنبہ کرنے کے بعد اب اہل ایمان اور نبی ﷺ کی طرف روئے سخن مڑتا ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 33 یعنی محض اتفاقاً کبھی اللہ کو اپنا رب کہتے بھی جائیں اور ساتھ ساتھ دوسروں کو اپنا رب بناتے بھی جائیں، بلکہ ایک مرتبہ یہ عقیدہ قبول کرلینے کے بعد پھر ساری عمر اس پر قائم رہے، اس کے خلاف کوئی دوسرا عقیدہ اختیار نہ کیا، نہ اس عقیدے کے ساتھ کسی باطل عقیدے کی آمیزش کی، اور اپنی عملی زندگی میں بھی عقیدہ توحید کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے۔ توحید پر استقامت کا مفہوم کیا ہے، اس کی تشریح نبی ﷺ ، اور اکابر صحابہ نے اس طرح کی ہے حضرت انس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جن لوگوں نے (دل سے) اقرار کرلیا کہ ہمارا رب (حقیقی صرف) اللہ ہے (مطلب یہ ہے کہ شرک چھوڑ کر توحید اختیار کرلی) پھر (اس پر) مستقیم رہے (یعنی اس کو چھوڑا نہیں) ان پر (اللہ کی طرف سے رحمت و بشارت کے) فرشتے اتریں گے (اول موت کے وقت پھر قبر میں پھر قیامت میں۔ جیسا کہ درمنثور میں حضرت زید بن اسلم کی روایت سے ثابت ہے اور کہیں گے) کہ تم نہ (احوال آخرت سے) اندیشہ کرو اور نہ (دنیا کے چھوڑنے پر) رنج کرو (کیونکہ آگے تمہارے لئے اس کا نعم البدل اور امن و عافیت ہے) اور تم جنت (کے ملنے) پر خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جایا کرتا تھا، ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملٓئکۃ الاتخافوا ولا تخزنوا و ابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون (30) ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت قیامت کے دن مخالفین حق کا جو حشر ہوگا اس کو سنانے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جنہوں نے رسول کی دعوت قبول کرلی اور پھر تمام مخالفتوں سے بےپروا ہہو کر پوری یکسوئی و دلجمعی کے ساتھ، اس پر جم گئے۔ فرمایا کہ قیامت کے دن فیصلہ امور سے پہلے ان کی دلداری و تسلی کے لئے ان کے پاس اللہ کے فرشتے آئیں گے جو ان کو اطمینان دلائیں گے کہ بس اب آپ لوگوں کی آزمائش کا دور ختم ہوا، اب آپ کے لئے نہ کوئی خوف ہے نہ کوئی غم، اب آپ لوگ اس جنت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 یعنی ایک اللہ وحدہ لا شریک رب بھی وہی اور معبود بھی وہی یہ نہیں کہ ربوبیت کا تو اقرار لیکن الوہیت میں دوسروں کو بھی شریک کیا جارہا ہے۔ 30۔ 2 یعنی سخت سے سخت حالات میں بھی ایمان و توحید پر قائم رہے، اس سے انحراف نہیں کیا بعض نے استقامت کے معنی اخلاص کیے ہیں یعنی صرف ایک اللہ ہی کی عبادت واطاعت کی جس طرح حدیث میں بھی آتا ہے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا مجھے ایسی بات بتلا دیں کہ آپ کے بعد کسی سے مجھے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے آپ ﷺ نے فرمایا قل آمنت باللہ ثم استقم (صحیح مسلم کتاب الایمان) کہہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت اختیار کر۔ 30۔ 3 یعنی موت کے وقت، بعض کہتے ہیں، فرشتے یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–33

13: دنیا میں انسان کے جو ساتھی اسے دین سے غافل کر کے گمراہ کرتے رہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں، اور وہ شیطان جو اسے بہکاتا رہا، وہ بھی۔ ان دونوں کے بارے میں دوزخی شخص یہ کہے گا کہ مجھے یہ گمراہ کرنے والے نظر آجائیں تو میں انہیں پاؤں تلے روند ڈالوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–32

یعنی اللہ کو اپنا رب کہہ کر ، استقامت کے یہ معنی ہیں کہ اس اقرار کے تقاضے پورے کئے جائیں جس طرح ان کا حق ہے۔ ضمیر میں شعور طور پر یہ عقیدہ بیٹھا ہوا ہو ، زندگی اور عمل میں اس پر گامزن ہو ، اس راہ میں اگر تکالیف آئیں تو ان کو برداشت کرے۔ اس معنے میں یہ دراصل بہت بڑا حکم ہے اور بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے ہاں پھر اس کا بہت بڑا اجر ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوں گے اور ان کے ہمدم ہوں گے۔ ان کے دوست ہوں گے اور وہ جو باتیں کریں گے اللہ نے ان فرشتوں کی زبانی ان کو نقل کیا ہے۔ الا تخافوا (41 : 30) ” نہ ڈرو “ ولا تحزنوا (41 : 30) ” نہ غم کرو “۔ اور اس جنت کے لیے خوش ہوجاؤ۔ بشارت ہے تم کو جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی دل سے اقرار کیا اور اس پر قائم رہے اس کی ربوبیت و الوہیت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ نہ اس یقین و اقرار سے مرتے دم تک ہٹے، نہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلا۔ جو کچھ زبان سے کہا تھا اس کے مقتضاء پر اعتقادً اور عملاً جمے رہے۔ اللہ کی ربوبیت کاملہ کا حق پہنچانا۔ جو عمل کیا خالص اس کی خوشنودی اور شکر گزاری کے لیے کیا، اپنے رب کے عائد کیے ہوئے حقوق و فرائض کو سمجھا اور ادا کیا۔ غرض ماسوا سے منہ موڑ کر سیدھے اسی کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی کے راستہ پر چلے۔ ایسے مستقیم الحال بندوں پر موت کے قریب اور قبر میں پہنچ کر اور اس کے بعد قبروں سے اٹھنے کے وقت اللہ کے فرشتے اترتے ہیں جو تسکین و تسلی دیتے جنت کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 { اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا } ”بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے“ اللہ پر ایمان لانا آسان ہے مگر اس پر جمے رہنا آسان نہیں ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کو اللہ پر پوری طرح توکل ّہو ‘ وہ ہر حالت میں اس کی رضا پر راضی رہے۔ نہ اپنی کسی حالت کے بارے میں اس کی زبان پر حرف شکایت آئے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے پر اس کے دل میں ملال پیدا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے آگے اس کا سر تسلیم بلا حیل و حجت جھکتا چلا جائے اور وہ اپنے تن من دھن کو ہتھیلی پر رکھے ‘ اس کے درِ اطاعت پر ہمہ وقت کمر بستہ کھڑے رہ کر عملی طور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 دین کی تفہیم مختصر ترین الفاظ میں :۔ یہ ایک ایسا جامع جملہ ہے جس میں شریعت کی ساری تعلیم سمٹ کر آگئی ہے۔ چناچہ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ : مجھے اسلام کے متعلق ایک ہی ایسی بات بتا دیجئے جس کے بعد مجھے کسی دوسرے سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے آپ نے فرمایا : کہو ! میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ڈٹ جاؤ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب جامع اوصاف الاسلام) یعنی جن لوگوں نے دل و جان سے توحید باری تعالیٰ کا اقرار کیا۔ پھر تازیست اپنے اس قول وقرار کو پوری دیانتداری اور راست بازی سے نبھایا۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت والوہیت میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ نہ گرگٹ کی طرح رنگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ یعنی مذہب شرک چھوڑ کر دین توحید اختیار کیا اور اسی پر ثابت قدم رہے، اس سے ان کا قدم ڈگمگانے نہیں پایا۔ ثم ثبتوا علی الاقرار ولم یرجعوا الی الشرک (روح) معناہ ولم یشرکوا بہ شیئا ولکن تموا علی التوحید (ابن جریر) عن مجاھد اسلموا ثم لم یشرکوا بہ حتی لحقوا بہ (ابن جریر) عن عکرمۃ استقاموا علی شھادۃ ان لاالہ الا اللہ (ابن جریر) صدیق اکبر حضرت ابوبکر ؓ سے یہی معنی مروی ہیں۔ ھم الذین لم یشرکوا باللہ شیئا (ابن جریر، عن ابی بکر الصدیق ؓ لم یرجعوا الی عبادۃ الاوثان (روح عن ابی بکر الصدیق ؓ آیت سے منافق اور مرتد تو خارج ہو ہی گئے (منافق سے استقامت کیونکرممکن ہے اور مرتد وہ ہے جو اقرار ایمان پر قائم نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–32

آیت نمبر 26 تا 32 ترجمہ : اور کافروں نے آپ کی قراءت کے وقت کہا اس قرآن کو سنو مت، اور شوروغل کرو، اور آپ ﷺ کی قراءت کے وقت شور مچاؤ کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ ؟ اور پیغمبر (ہار کر) چپ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا سو ہم ان کافروں کو یقیناً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور انہیں انکے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے، یعنی ان کے عمل کی بدترین جزاء (ضرور دیں گے) وہ یعنی عذاب شدید اور بدترین بدلہ، اللہ کے دشمنوں کی سزایہی دوزخ کی آگ ہے، دوسرے ہمزہ کی تحقیق اور اس کو واؤ سے بدل کر، النّار، الجزاء کا عطف بیان ہے، جو ذٰلک کا مخبربہ (خبر) ہے، جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا بیشک جن لوگوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے ‘ پھر سیدھے راستہ پر قائم رہے۔ یعنی جن لوگوں نے اللہ کے رب ہونے کا اعتراف اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا (اور سیدھے راستہ سے انحراف نہیں کیا) ۔ محلی نے لکھا ہے : اس آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق کے متعلق ہوا (ثم سے تاخیر زمانی مراد نہیں ہے بلکہ) ثُم اس جگہ ترتیب کی تاخیر کو ظاہر کر رہا ہے۔ اقرار توحید و ربوبیت سے استقامت کا درجہ مؤخر ہے ‘ استقامت سے مراد ہے اعتدال ‘ کسی طور پر حق سے منحرف نہ ہونا ‘ کج راہی اختیار نہ کرنا ‘ نہ اعتقاد میں ‘ نہ اخلاق میں ‘ نہ اعمامل میں۔ قاموس میں ہے : استقام اعتدل۔ قَوَّمْتُہ میں نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس کے بجائے جو حضرات توحید خداوندی کے قائل ہوگئے اور ایمان پر ثابت قدم رہے اور اس کے بعد کوئی کفریہ کام نہیں کیا یا یہ کہ فرائض کی ادائیگی پر ثابت قدم رہے اور لومڑی کی طرح مکاری اور چالاکی نہیں کی تو ان لوگوں کی روحوں کے قبض کے وقت فرشتے اتریں گے اور کہیں گے کہ آئندہ آنے والے ہیولوں سے اندیشہ نہ کرو اور نہ دنیا کے چھوڑنے پر افسوس کرو اور جنت کے ملنے پر خوش رہو جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان الذین قالوا … کفار کے برے عقیدہ و عمل کی وجہ سے ان پر جن و انس میں سے شیاطین مسلط کرنے اور ان کے برے انجام کے ذکر کے بعد ایمان اور اس پر استقامت اختیار کرنے والوں کی تائید و نصرت کیلئے فرشتے نازل کرنے کا اور ان کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ (2) ربنا اللہ : ”ہمارا رب صرف اللہ ہے“ یہ مختصر سا جملہ معانی کا سمندر ہے۔ مبتدا کے بعد خبر معرفہ ہو تو کلام میں حصر پیدا ہوجاتا ہے، کتب بلاغت میں اس کی مشہور مثال ”صدیقی زی ”‘ ہے، یعنی ”میرا دسوت صرف زید ہے۔“ اس لئے ”ربنا اللہ“ کا معنی ہے ”ہمارا رب صرف اللہ ہے۔“ یہ بات دل سے کہہ لینے کے بعد آدمی کسی اور کو داتا ، دستگیر، گنج بخش، غریب نواز، بگڑی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–32

ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقاموا عطا نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی، اس کی وجہ یہ بنی کی مشرکین نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے، فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں تو انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : ہمارا رب وحدہ لا شریک ہے حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو آپ نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ترمذی میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرائت کی ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامو فرمایا : لوگوں نے کہ بھی کہا پھر ان میں سے اکثر نے کفر کیا جو اس پر مرگیا تو وہ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–32

1:۔ ترمذی (رح) و نسائی (رح) والبزار وابویعلی وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن عدی وابن مردویہ نے ابن عدی (رح) اور ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم پر رسول (رح) اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا “ (جن لوگوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر اس پر پکے ہوگئے) فرمایا لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے اس کو کہا پھر ان کے اکثر لوگوں نے انکار کردیا جس نے اس کو کہا یہاں تک کہ وہ (اس حال میں) مرگیا کہ وہ ان لوگوں میں تھا کہ جو اس پر پکے ہوگئے (یعنی جنہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا) 2:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) وسعیدبن منصور وابن سعید وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا [ بیشک جنھوں نے کہا ] رَبُّنَا [ ہمارا رب ] اللّٰهُ [اللہ ہے ] ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا [ پھر قائم رہے (اس پر ) ] تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ [ تو اترتے ہیں ان پر ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] اَلَّا تَخَافُوْا [ کہ تم لوگ خوف مت کرو ] وَلَا تَحْزَنُوْا [ اور غمگین مت ہو ] وَاَبْشِرُوْا [ اور بشارت حاصل کرو ] بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ [ اس جنت کی جس کا ] كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ [ تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ] نوٹ ۔ 1: محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے سلسلہ دروس قرآن ” منتخب نصاب “ میں ان آیات کا درس بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ان آیات میں مقام ولایت کا بیان ہے ۔ ان کی اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

اہل استقامت کو بشارت اس کے بعد اہل ایمان کی فضیلت بیان فرمائی اور ان کی اجمالی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان پر جمے رہے یعنی اس کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان کو بشارت دیتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو اور رنج نہ کرو اور جنت کی خوشخبری سن لو جس کا تم سے اللہ کے نبی نے اور اللہ کی کتاب نے وعدہ کیا ہے۔ فرشتوں کے جس نزول اور بشارت کا ذکر ہے اس کا وقوع کب ہوتا ہے ؟ صاحب روح المعانی نے حضرت زید بن اسلم تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ موت کے وقت اور قبر میں نازل ہوتے وقت فرشتے آتے ہیں اور مذکورہ بالا بشارت دیتے ہیں اور قیامت کے دن جب قبروں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–32

تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

30:۔ ” ان الذین قالوا “ تخویف منکرین کے بعد مؤمنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جن لوگوں نے اللہ کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کا اعتراف کیا اور پھر اسی پر قائم رہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا۔ اخلاص و احسان کے ساتھ اس کی اطاعت (اور اداء فرائض واجتناب محرمات) پر گامزن رہے اور ترک اطاعت کیلئے حیلے بہانے تلاش نہ کیے۔ عن ابی بکر الصدیق ؓ انہ قال ثم استقاموا لم یشرکوا باللہ شیئا۔ عن عمر ؓ اسقتقاموا واللہ علی الطریقۃ لطاعتہ ثم لم یرو غواروغان الثعالب وقال عثمان ؓ ثم اخلصو العمل للہ وقال علی ؓ ثم ادوا الفرائض (قرطبی ج 15 ص 358) ۔ 31 ۔ ” تتنزل “ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے فرشتے انہیں خوشخبری سنائیں گے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–32

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے جزائے عمل کے سلسلے میں فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کا دوزخ کے قریب اجتماع ہوگا ۔ پھر ان کو ان کے جرائم کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی تو خود انہی کے اعضاء و جو ارع کو ان پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دے رہے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس مالک الملک نے قوت گویائی عطاکی ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ۔ اب آج کی آیات میں بھی انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے ۔ اس درس میں قرآن کریم کی تلاوت پر کفار کے ردعمل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝ 30 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–32

ترکیب : الذین اسم ان تتنزل خبرھا الا اصلہ ان لا وان مفسرۃ ای قائلین لاتخافوا۔ او مصدریۃ او مخففۃ مقدرۃ بالباء ماتشتہی موصولۃ ھی مع صل تھا مبتداء لکم خبرھا فیہا متعلق بتشتھی او بالمحذوف، نزلا حال من الموصول اومن عائدہ۔ تفسیر : وعید کے بعد وعدہ ذکر کرتا ہے اور یہ عمدہ ترتیب ہے۔ واضح ہو کہ کمالات تین قسم پر ہیں۔ نفسانیہ بدنیہ، خارجیہ ان میں سب سے بڑھ کر نفسانیہ ہیں اور اوسط بدنیہ اور کمتر مرتبہ میں خارجیہ۔ پھر کمالات نفسانیہ کی دو قسم ہیں۔ ایک علم یقینی دوسرا عمل صالح، علم یقینی میں کمالات کی بات اللہ جل جلالہ کی معرفت اور اس کی توحید کا اقرار کرنا ہے، اس کی طرف اس جملے میں اشارہ ہے۔ ان الذین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 30) (بےشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقینا ان پر فرشتے نازل ہوں گے کہ اب نہ کوئی اندیشہ کرو اور نہ کوئی غم کرو، اور خوشخبری قبول کرو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ ) ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت منکرینِ حق کا قیامت کے دن جو حشر ہوگا اس کا ذکر کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–32

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مقابلے میں موحّدوں کے ساتھ ملائکہ کا سلوک اور ان کا اکرام۔ جن لوگوں نے کہا کہ ہمار رب ” اللہ “ ہے پھر اس پر مرتے دم تک قائم رہے۔ ان کی موت کے وقت ان کے لیے ملائکہ آتے ہیں جو انہیں تسلی دیتے ہیں کہ غمگین اور پریشان نہیں ہونا۔ بلکہ اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھ تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ رہیں گے۔ تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے وہ سب کچھ ہے جو تمہارا دل چاہے گا اور تمہارے رب کے ہاں تمہاری مہمان نوازی ہوگی۔ ” رَبُّنَا اللّٰہُ “ سے مراد یہ نہیں کہ بس انہوں نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ ہمارا رب ” اللہ “…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

استعانت والے : اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ (جن لوگوں نے اقرار کرلیا کہ ہمارا رب اللہ ہے) توحید باری تعالیٰ کا بول بول دیا۔ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا (پھر مستقیم رہے) پھر اس اقرار اور اس کے تقاضوں پر پورے اترے۔ قول ابوبکر ؓ : انہوں نے فعلاً استقامت اختیار کی جس طرح زبان سے استقامت اختیار کی اور پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا انہوں نے کوئی گناہ نہ کیا۔ آپ نے فرمایا تم نے معاملے کو سخت ترین حالت پر محمول کیا۔ انہوں نے کہا آپ کیا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا انہوں نے شرک نہ کیا اور عبادت اوثان کی طرف لوٹ کر نہ گئے۔ قول عمر ؓ : وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29، وقال الذین کفروا، یعنی آگ میں کہیں گے۔ ، ربنا ارنا الذین اضلانامن الجن والانس، اس سے ان کی مراد ابلیس اور قابیل بن آدم ہیں جس نے اپنے بھائی کو قتل کرکے گناہ کا طریقہ جاری کیا۔ ، نجعلھما تحت اقدامنا، آگ میں، لیکونا من الاسفلین، تاکہ وہ دونوں جہنم کے نچلے درجہ میں ہوجائیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تاکہ ان دونوں پر ہم سے سخت عذاب ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–32

26۔ 32۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ حضرت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو مشرک لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور سورة لقمان میں گزر چکا ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص نے رستم و اسفندیار وغیرہ کے قصوں کی کتابیں خرید رکھیں تھیں۔ جب آنحضرت ﷺ قرآن شریف پڑھتے تھے تو نضر بن 1 ؎ حارث وہ قصے لوگوں کو سنا کر قرآن شریف کے سننے سے روکا کرتا تھا صحیحین 2 ؎ وغیرہ میں حضرت مسعود کی حدیث مشہور ہے کہ ابوجہل وغیرہ مشرکوں نے مل کر اونٹ کی اوجھڑی نماز پڑھتے وقت آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دی تھی غرض اسی طرح کی بہیودہ باتیں آنحضرت ﷺ کے نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے وقت مشرک لوگ اس غرض سے کرتے تھے کہ لوگ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–34

آیت 30 اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انہیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے ان کے لئے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ (تتنزل علیھم الملئکۃ) ” ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں “ یعنی ان کا نزول بتکرار وہتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاض رہو کر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 30–32

راہ خدا میں استقامت ، قیامت کو کام آئے گی قول باری ہے (ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے) تاآخر آیت۔ ایک قول کے مطابق موت کے وقت فرشتے ان پر نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ ” جس منزل کی طرف تم جارہے ہو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ “ اللہ تعالیٰ ان کا خوف دور کردے گا۔ فرشتے پھر کہیں گے۔ ” دنیا اور دنیا والوں پر غم نہ کرو۔ “ اللہ تعالیٰ ان کا خوف دور کردے گا۔ فرشتے مزید کہیں گے۔ ” تمہیں جنت کی بشارت ہو۔ “ زید بن اسلم سے بھی یہی روایت ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ فرشتے ان سے یہ بات قبر سے نکل کر میدان قیامت میں کھڑے ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–31

48 سعادت دارین سے سرفرازی کے ذریعے کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے سچے دل سے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے "۔ یعنی جو سچے دل سے اپنے خالق ومالک کی الوہیت و ربوبیت پر ایمان لائے اور انہوں نے دل کی تصدیق کے ساتھ ساتھ زبان سے اس کا اظہار و اقرار بھی کیا۔ ان کے لئے یہ بشارتیں ہیں۔ سو مخالفین و منکرین کا حشر بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جا رہا ہے جنہوں نے رسول کی دعوت کو قبول کیا۔ اور اس کے بعد وہ تمام تر مشکلات اور مخالفتوں سے بےپروا ہو کر پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–37

ایمان والوں کے درجات تشریح : مندرجہ بالا آیات میں پکے اور سچے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ جنت کی تعریف کیا کریں ! جنت ایسے بہترین پر سکون اور پر آسائش باغات اور محلات کی جگہ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا انعام ہے وہاں فرشتے رحمتیں اور برکتیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ بلکہ وہ ایسی طلسماتی جگہ ہے کہ جو سوچا وہ پا لیا۔ مگر جنت کو حاصل کرنے کے لیے بڑی سخت محنت، خلوص محبت اور قربانی کی ضرورت ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ہوگا انعام اسی قدر زیادہ بہترین ہوگا۔ اس کا حاصل کرنا کوئی بہت زیادہ دشوار بھی نہیں اللہ کو مان لینا اس کے احکامات کو مان لینا اور صرف اسی کی ہی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–32

آیات 26 تا 32۔ اسرار ومعارف۔ اور آج بھی جب کفار دلائل میں لاجواب ہوگئے تو کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو شوروغل کیا کرو تاکہ کوئی سن ہی نہ سکے اور قرآن کی برکات سے محروم رہے یوں تمہارا مقصد پورا ہو۔ تلاوت قرآن خاموشی سے سننا واجب ہے اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت اور مروجہ شبینہ ۔ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کا سننا واجب ہے اور آج کل ریڈیو پر تلاوت ہوتی ہے ہوٹلوں والے اپنے کام اور شوروغل میں لگے رہتے ہیں جو کفار کی عادت ہے چاہیے ریڈیو بند رکھیں یا تھوڑی دیر کے لیے کھولیں اور آرام سے سنیں اور دوسروں کو بھی سننے کا موقع دیں اس تناظر میں آج کل کے مروجہ شبیہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 جمہور صحابہ ؓ وتابعین کے نزدیک ” سقامۃ “ سے مراد خلوص عمل اور عقیدہ توحید پر ثبات ہے۔6 یعنی موت یا قبر یا قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرو نہیں اور نہ دنیا کے مال و متاع اور اولاد کے چھوٹ جانے پر افسوس کرو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:30) ثم استقاموا : ثم تراخی وقت کے لئے بھی ہوسکتا ہے (التراخی الزمانی) کہ اقرار باللسان کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ استقامت میں بھی برقرار رہے۔ اور التراخی الرتبی کے لئے بھی ہوسکتا ہے کہ استقامت بہ نسبت اقرار باللسان کے زیادہ بلند اور مشکل امر ہے۔ یعنی زبانی اقرار کے بعد مسلسل اپنے قول اور فعل اور فرائض کی ادائیگی سے اس اقرار کو مستقل اور ثابت رکھے۔ استقاموا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ استقامۃ (استفعال) مصدر وہ ثابت قدم رہے۔ وہ قائم رہے ای ثبتوا علی الاقرار ولم یرجعوا الی التشرک یعنی اپنے اقرار پر ثابت قدم رہے اور شرک کی طرف دوبارہ نہ مڑے۔ حدیث شریف میں ہے قل ربی اللّٰہ تعالیٰ ثم استقم : کہو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–32

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 32 : لا تسمعوا ( تم نہ سنو) الغوا (شور مچائو) تغلبون (تم غالب ہو جائو گے) نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) اسوا ( بر کیا) دار الخلد (ہمیشہ کا گھر) استقاموا ( وہ جمے رہے) یلحدون ( الحاد) (ٹیڑھاچلتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 32 : ہمیشہ سے ایسے لوگوں کی اکثریت رہی ہے جو حق و صداقت ، نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کے بجائے اس سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز کو وہ حقیقت سمجھ رہے ہیں سارا حق اس کے مطابق ہو کر چلے وہ اپنے گھڑے ہوئے خیالات کی دنیا سے باہر آنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور ہر تنقید اور نصیحت کو نہایت تلخ اور کڑوا سمجھتے ہیں ۔ وہ بغیر کسی ثبوت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–33

(ف 1) شان نزول۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت موذنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی کیا گی ا ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو نیک راستے پر لگاتا ہے اس کو اپنے ذاتی عملوں کے اجر کے سوا اس قدر اجر اور ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–32

[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔ [14] یعنی وعدہ عذاب۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–35

فرشتے اتریں گے 2: اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ایک طرف تو یہ لوگ جہنم میں دکھ اور تکلیف برداشت کررہے ہونگے ۔ جہوں نے دنیا میں اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ دوسری جانب جنہوں نے رب العالمین کے ساتھ تعلقات عبودیت کو استوار کیا اور پھر ان تعلقات کی ذمہ داریوں کو مردانہ وار استقلال اور عزیمت کے ساتھ آخر تک نبھایا ۔ وہ فرشتوں کی زبان سے خوشخبریاں سن رہے ہونگے ۔ کہ اس وقت تم قطعاً غم اور فکر سے بےنیاز ہوجاؤ۔ دلوں کو مسرت سے معمور کرلو ۔ کہ تمہارے لئے جنت کی نعمتیں اور آسودگیوں مقدر ہیں ۔ جن کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ہم نے دنیا میں تمہاری اعانت کی ۔ آج آخرت میں بھی تمہارے رفیق اور دوست ہیں ۔ یہاں جنت میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) بلا شبہ جن لوگوں نے اس امر کا اقرار کیا اور یوں کہا کہ پروردگار ہمارا اللہ تعالیٰ ہے پھر اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تو ایسے لوگوں پر فرشتے اترتے ہیں کہ آئندہ آنے والی چیزوں سے خوف نہ کرو اور نہ پچھلی چیزوں کا کچھ غم کرو اور چھوڑی ہوئی چیزوں پر غمگین نہ ہو اور تم اس جنت کی بشارت پر خوش ہو جس کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے - یعنی اوپر کی آیتوں میں دین حق کے منکروں کا ذکر تھا اور ان کے افعال شنیعہ کا بیان تھا۔ اس آیت میں مسلمانوں کا ذکر ہے کہ جنہوں نے توحید کا اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرتے رہے تو ایسے لوگوں پر فرشتے اترتے ہیں یعنی مرتے وقت اور قبر میں اور قبروں سے دوبارہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ مطلب یہ کہ شرک سے تبری کر کے توحید اختیار کرلی۔ 5۔ یعنی اس کو چھوڑا نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنہوں نے اللہ کو رب مانا ان کے لیے دنیا وآخرت کی خوشخبری ہے 30 ؎ کفار کی حرکتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کے انجام کو بھی اچھی طرح بیان کردیا کرو کہ وہ کیسا ہوگا اور آخرت میں ان کی پذیرائی کیونکر ہوگی اور یہ بھی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کس طرح الجھیں گے۔ اب زیر نظر آیت میں اللہ کے ان بندوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں عزتیں اور سرفرازیاں بخشی جانے والی ہیں اس لیے کہ انہوں نے دنیوی زندگی محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کررکھی تھی اور جو کام وہ کرتے رہے محض رضائے الٰہی کے لیے کرتے رہے بلاشبہ ان لوگوں نے ثابت کردیا کہ شان بندگی کیا ہے کہ اپنا سب کچھ اللہ کی رضا کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Those who rejected the Qur'an, the prophethood and the Oneness of Allah have been addressed from the beginning of the Surah. With reference to the signs of Allah's Omnipotence, they are invited to believe in Oneness of Allah. Mentioned thereafter is the evil fate of those who reject the life hereinafter with a detailed account of the punishment of hell in that life. Now the text takes up, henceforth, the conditions of the believing people and of those having perfect faith, their being honored and exalted in this world and in eternity along with some special directions for them.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

32 After warning the disbelievers of the consequences of their opposition to the truth and their stubbornness, the address now turns to the believers and the Holy Prophet. 33 That is, they did not call Allah their Lord merely incidentally, nor were they involved in the error to regard Allah as their Lord and at the same time others 'as well as their lords, but they embraced the Faith sincerely and stood by it steadfastly: neither adopted a creed contrary to it later nor mixed it up with a false creed, but they fulfilled the demands of the doctrine of Tauhid in their practical lives as well.…

Read the full tafseer →