Fussilat 41:29

Fussilat · from ayah 29

41:29

وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ ۟وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who disbelieved will [then] say, "Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet that they will be among the lowest."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:29

وہاں یہ کافر کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ذرا ہمیں دکھا دے اُن جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کافر لوگ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں جنوں انسانوں (کے وه دونوں فریق) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراه کیا (تاکہ) ہم انہیں اپنے قدموں تلے ڈال دیں تاکہ وه جہنم میں سب سے نیچے (سخت عذاب میں) ہو جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کافر لوگ کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ان جنات اور انسانوں دونوں کی صورت دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ایسا روندیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کافر بولے اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں جنّات اور انسانوں میں سے وہ دونوں دِکھا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے (روند) ڈالیں تاکہ وہ سب سے زیادہ ذِلّت والوں میں ہو جائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہینگے اے ہمارے رب ! تو ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے ڈالیں، تاکہ وہ سب سے نچلے لوگوں سے ہوجائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (قیامت کے دن) کافر کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھادے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روندیں تاکہ وہ ذلیل و خوار ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہمیں ان لوگوں کو دکھا جنہوں نے جنوں اور انسانوں میں سے ہم کو گمراہ کیا، ہم ان کو اپنے پائوں کے نیچے ڈالیں گے، وہ ذلیل ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہاں پہنچ کر) کافر لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ذرا دکھا دے ان جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا کہ ہم ان کو ڈال دیں اپنے قدموں کے نیچے (روندنے کو) تاکہ وہ سب سے نیچے (اور خوب ذلیل و خوار) ہوجائیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور کافر (اس وقت) کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ شیطان و انسان دونوں دکھا دیجئے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ہم انہیں اپنے پیروں کے نیچے مل ڈالیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کافر ہیں وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں دکھا دے ِجنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روندیں تاکہ وہ ہوجائیں سب سے نیچے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا دے کہ ہم ان کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There the unbelievers will say: “Our Lord, show us those that led us astray, both jinn and humans, and we will trample them under our feet so that they are utterly degraded.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those who disbelieve will say, :Our Lord, show us the two, out of the Jinns and the humans, who led us astray and we will put both of them under our feet, so that they become among the lowest.

— Muhammad Taqi Usmani

And those who disbelieve will say, :Our Lord, show us the two, out of the Jinns and the humans, who led us astray and we will put both of them under our feet, so that they become among the lowest.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who disbelieve will say: "Our Lord! Show us those among Jinn and men who led us astray, that we may crush them under our feet so that they become the lowest."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who disbelieve will say: Our Lord! Show us those who beguiled us of the jinn and humankind. We will place them underneath our feet that they may be among the nethermost.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who disbelieved will [then] say, "Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet that they will be among the lowest."

— Saheeh International

The disbelievers will say, "Lord, show us the human beings and jinn who caused us to go astray. We shall put them under our feet to lower them".

— Muhammad Sarwar

And those who disbelieve will say: Our Lord! show us those who led us astray from among the jinn and the men that we may trample them under our feet so that they may be of the lowest.

— Muhammad Habib Shakir

And those who disbelieve will say: our Lord! show us those, of the jinn and mankind, who led us astray and we will place them underneath our feet that they may be of the nithermost.

— Abdul Majid Daryabadi

And the Unbelievers will say: "Our Lord! Show us those, among Jinns and men, who misled us: We shall crush them beneath our feet, so that they become the vilest (before all)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–29

آداب قرآن حکیم۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مشرکین کو اس نے گمراہ کردیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کردیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں۔ جیسے اور آیتیں ہے (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36؀) 43۔ الزخرف :36) ، ان پر کلمہ عذاب صادق آگیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہوگئے، کفار نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–29

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 31 یعنی دنیا میں تو یہ لوگ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں اور فریب دینے والے شیاطین کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں، مگر جب قیامت کے روز انہیں پتہ چلے گا کہ یہ رہنما انہیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی لوگ انہیں کو سنے لگیں گے اور یہ چاہیں گے کہ وہ کسی طرح ان کے ہاتھ آجائیں تو پکڑ کر انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–29

خلاصہ تفسیر اور یہ کافر (باہم) یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنو ہی مت اور (اگر پیغمبر سنانے بھی لگیں تو) اس کے بیچ میں غل مچا دیا کرو شاید (اس تدبیر سے) تم ہی غالب رہو (اور پیغمبر ہار کر خاموش ہوجاویں) تو (ان کے اس ناپاک ارادے اور عزم کے بدلہ میں) ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھا دیں گے اور ان کو ان کے برے برے کاموں کی سزا دیں گے، یہی سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی یعنی دوزخ ان کے لئے وہاں ہمیشہ رہنے کا مقام ہوگا۔ اس بات کے بدلہ میں کہ وہ ہماری آیتوں میں انکار کیا کرتے تھے (اور جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو) وہ کفار کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو وہ دونوں شیطان اور انسان دکھلا دیجئے جنہوں نے ہم کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وقال الذین کفروا ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس نجعلھما تحت اقدامنا لیکونا من السلمین (29) عوام کا غصہ اپنے لیڈروں کے لخاف یہاں بھی الذین کفروا اگرچہ لفظ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ عوام ہیں جو اپنے لیڈروں کے ورغلانے سے گمراہ ہوئے۔ ضامنوں نے خود قرآن کی طرف توجہ کی اور نہ دوسروں کو، جہاں تک ان کا بس چلا، اس کی طرف متوجہ ہونے دیا۔ فرمایا کہ جو عوام آج اس وفاداری کے ساتھ اپنے لیڈروں کی پیروی کر رہے ہیں جب وہ دیکھیں گے کہ ان کے لیڈروں نے ان کو کس گھاٹ میں لا کر اتارا ہے تو وہ غصہ سے دانت پیسیں گے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اب رب ! جن انسانوں اور جنوں نے ہم کو یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 اس کا مفہوم واضح ہے کہ گمراہ کرنے والے شیاطین ہی نہیں ہوتے تاہم بعض نے جن سے ابلیس اور انسانوں سے قابیل مراد لیا ہے، جس نے انسانوں میں سے سب سے پہلے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے ظلم اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا اور حدیث کے مطابق قیامت تک ہونے والے ناجائز قتلوں کے گناہ کا ایک حصہ بھی اس کو ملتا رہے گا ہمارے خیال میں پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ 29۔ 2 یعنی اپنے قدموں سے انہیں روندیں اور اس طرح ہم انہیں خوب ذلیل و رسوا کریں جہنمیوں کو اپنے لیڈروں پر جو غصہ ہوگا اس کی تشفی کے لیے وہ یہ کہیں گے ورنہ دونوں ہی مجرم ہیں اور دونوں ہی یکساں جہنم کی سزا بھگتیں گے جیسے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–33

13: دنیا میں انسان کے جو ساتھی اسے دین سے غافل کر کے گمراہ کرتے رہے، وہ بھی اس میں داخل ہیں، اور وہ شیطان جو اسے بہکاتا رہا، وہ بھی۔ ان دونوں کے بارے میں دوزخی شخص یہ کہے گا کہ مجھے یہ گمراہ کرنے والے نظر آجائیں تو میں انہیں پاؤں تلے روند ڈالوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ بہت سخت غصہ ہے۔ یہ لوگ اب انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور ان کے دلوں میں یہ خواہش ہے کہ ۔ نجعلھما تحت اقدامنا (41 : 29) ” ہم انہیں پاؤن تلے روند ڈالیں “۔ لیکونا من الاسفلین (41 : 29) ” تا کہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں “۔ لیکن پہلے تو تم دوست تھے ، گہرے یار تھے ، ان کے وسوسوں اور ان کی تزئین پر تم یقین کرتے تھے۔ یہ تو انجام تھا وسوسوں کا اور عوام کو گمراہ کرنے کا۔ لیکن لوگوں کی اصلاح کے لئے جدو جہد کرنے والوں کا بھی ایک انجام اور اجر ہے۔ یہ مومن ہیں ، جنہوں نے اخلاص کے ساتھ کہہ دیا کہ بس اللہ ہمارا رب ہے ، پھر اپنی راہ پر استقامت اختیار کی یعنی ایمان لائے اور عمل صالح کیا۔ ایسے لوگوں پر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی خیر ہم تو آفت میں پھنسے ہیں، لیکن آدمیوں اور جنوں میں سے جن شیطانوں نے ہم کو بہکا بہکا کر اس آفت میں گرفتار کرایا ہے ذرا انہیں ہمارے سامنے کر دیجئے کہ ان کو ہم اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں۔ اور نہایت ذلت و خواری کے ساتھ جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں دھکیل دیں تاکہ انتقام لے کر ہمارا دل کچھ تو ٹھندا ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ } ”اور جو کافر ہیں وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں دکھا دے ِجنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا“ وہاں جہنم میں بڑے بڑے سرداروں اور لیڈروں کے خلاف ان کے عوام واویلا کر رہے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ اے پروردگار ! اس وقت ہم ان لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ وہ لوگ جو ہمیں قرآن سننے سے روکتے رہے ‘ جنہوں نے ہماری عقلوں پر پردے ڈال دیے تھے ‘ جنہوں نے محمد ﷺ کے بارے میں ہمیں ورغلایا ‘ ان کے بارے میں ہمارے دلوں میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 گمراہوں کی اپنے لیڈروں کو پاؤں تلے روندنے کی آرزو :۔ یہاں جنوں سے مراد شیطان ہیں یعنی بدکردار جن جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں۔ قیامت کے دن کافر جب اپنا انجام دیکھیں گے تو انہیں اپنے وہ قائد، وہ سیاسی لیڈر وہ مذہبی پیشوا یاد آئیں گے جن کے پیچھے لگ کر یہ گمراہ ہوئے تھے۔ وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ آج وہ قائد ہمیں دکھادے تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں کے نیچے مسل کر کچھ تو انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرلیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–29

25۔ یہ گفتگو دوزخ میں ہوگی، جب کافر اپنے کو مبتلائے عذاب پائیں گے۔ اتنہائی جھنجھلاہٹ اور جوش غیظ میں یہی چاہیں گے کہ اپنے گمراہ کرنے والوں کو (حالانکہ وہ بھی اسی دوزخ ہی میں کہیں گے) اپنے قریب موجود پائیں اور اپنے پیروں سے روند کر رکھ دیں۔ (آیت) ” اضلنا من الجن والانس “۔ یہ نص اس باب میں صاف وواضح ہے کہ انسان کی گمراہی شیطان (جنات خبیث) کی طرف سے بھی آتی ہے اور انسانوں کی طرف سے بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–32

آیت نمبر 26 تا 32 ترجمہ : اور کافروں نے آپ کی قراءت کے وقت کہا اس قرآن کو سنو مت، اور شوروغل کرو، اور آپ ﷺ کی قراءت کے وقت شور مچاؤ کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ ؟ اور پیغمبر (ہار کر) چپ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا سو ہم ان کافروں کو یقیناً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور انہیں انکے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے، یعنی ان کے عمل کی بدترین جزاء (ضرور دیں گے) وہ یعنی عذاب شدید اور بدترین بدلہ، اللہ کے دشمنوں کی سزایہی دوزخ کی آگ ہے، دوسرے ہمزہ کی تحقیق اور اس کو واؤ سے بدل کر، النّار، الجزاء کا عطف بیان ہے، جو ذٰلک کا مخبربہ (خبر) ہے، جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الذین کفروا ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس اور (دوزخ میں ڈالنے جانے کے بعد) کافر کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم کو وہ دونوں شیطان اور انسان دکھا دے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا۔ الَّذِیْنَ اَضَلّٰنَا یعنی جنات اور انسانوں میں سے جس نے ہم کو بہکایا اور گناہ پر آمادہ کیا ‘ ان کو ہمارے سامنے لے آ۔ بعض کے نزدیک دو بہکانے والوں سے مراد ہیں ا بلیس اور حضرت آدم کا بیٹا قابیل ‘ کفر و معصیت کی بنیاد ڈالنے والے یہی دونوں تھے۔ نجعلھما تحت اقدامنا لیکونا من الاسفلین ہم انکو اپنے پیروں تلے مل ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں۔ لِیَکُوْنَا تاکہ وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوجائیں۔ حضرت ابن عباس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور دوزخ میں یہ کفار کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دونوں دکھلا دیجیے جنہوں نے ہمیں حق و ہدایت سے گمراہ کیا ہے یعنی جنوں میں سے ابلیس کو اور انسانوں میں سے قابیل کو جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا ہے یا یہ کہ جنوں میں سے ابلیس اور شیاطین کو اور انسانوں میں سے ہمارے سرداروں کو تاکہ ہم اس عذاب میں ان کو پیروں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ عذاب کے ذریعے خوب ذلیل ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وقال الذین کفروا ربنا ارنا…: اس سے پہلے آیت (25) (وقیضنا لھم قرنآء …) میں کفار کے اعمال بد کی وجہ سے ان پر جن و انس کے وہ قرین مسلط کرنے کا ذکر ہے جو ان کے لئے ان کے برے اعمال خوش نما بنا کر پیش کرتے رہے، حتیٰ کہا ان پر جہنمی ہونے کا ٹھپا پکا ہوگیا۔ اب جہنم میں کفار کی اپنے ان دوستوں کے متعلق خواہش اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کا ذکر ہے۔ (2) کفار یہ بات جہنم میں جانے کے بعد کہیں گے، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مضای کا صیغہ ”قال“ استعمال فرمایا : کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بات اتنی یقینی ہے کہ سمجھو یہ کام ہوچکا۔ (3) قیامت کے دن جہنمی اپنے گمراہ کرنے والے جن و انس میں سے شیاطین دوستوں پر سخت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وقال الذین کفروا وہ جن ہم میں یہ بات کریں گے۔ اسے ماضی کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا مراد مستقبل ہے ربنا ارنا الذین اضلنا من الحین ولانس، الذین سے مراد ابیلس اور حضرت آدم (علیہ السلام) کا وہ بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا ؛ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء سے مروی ہے اس قول کی تائید مرفوع کرتی ہے م من مسلم یقتل ظلما الا کان علی ابن آدم الاول کفل من ذنبہ لانہ اول من سن القرل (1) جو مسلمان بھی ظلما کسی کو قتل کرتا ہے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پلے بیٹے پر اس کے گناہ کا حصہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے ہی سب سے پہلے قتل کیا تھا۔ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : الذین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححۃ) وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ربنا ارنا الذین اضلنا من الجن والانس “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا اور ابلیس ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) اور ابراہیم (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اَرِنَا [ تو دکھا ہمیں ] الَّذَيْنِ [ ان دونوں کو جنھوں نے ] اَضَلّٰنَا [ گمراہ کیا ہم کو ] مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ [ جنوں اور انسانوں میں سے ] نَجْعَلْهُمَا [ ہم ڈالیں گے ان دونوں کو ] تَحْتَ اَقْدَامِنَا [ اپنے پیروں تلے ] لِيَكُوْنَا [ تاکہ وہ ہوجائیں ] مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ [ پست ترین لوگوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

اہل استقامت کو بشارت اس کے بعد اہل ایمان کی فضیلت بیان فرمائی اور ان کی اجمالی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور پھر ایمان پر جمے رہے یعنی اس کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان کو بشارت دیتے ہیں کہ تم خوف نہ کرو اور رنج نہ کرو اور جنت کی خوشخبری سن لو جس کا تم سے اللہ کے نبی نے اور اللہ کی کتاب نے وعدہ کیا ہے۔ فرشتوں کے جس نزول اور بشارت کا ذکر ہے اس کا وقوع کب ہوتا ہے ؟ صاحب روح المعانی نے حضرت زید بن اسلم تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ موت کے وقت اور قبر میں نازل ہوتے وقت فرشتے آتے ہیں اور مذکورہ بالا بشارت دیتے ہیں اور قیامت کے دن جب قبروں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–32

تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

29:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ آیت مشرک پیشواؤں، گمراہ کن پیروں اور ان کے متبعین کے حق میں ہے قیامت کے دن جب مشرکین جہنم کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ تو غیظ و غضب سے کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں وہ شیاطین جن اور شیاطین انس (گمراہ کرنے والے مشرک پیشوا) تو دکھاوے جنہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بھٹکایا اور توحید سے ہٹا کر شرک کی راہ پر ڈالا۔ ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالیں اور مسل دیں اور اس طرح آج ان کو سرِ محشر ذلیل ورسوا کریں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالیں۔ تاکہ انہیں سب سے زیادہ سخت عذاب ہو (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–32

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے جزائے عمل کے سلسلے میں فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کا دوزخ کے قریب اجتماع ہوگا ۔ پھر ان کو ان کے جرائم کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی تو خود انہی کے اعضاء و جو ارع کو ان پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دے رہے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس مالک الملک نے قوت گویائی عطاکی ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ۔ اب آج کی آیات میں بھی انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے ۔ اس درس میں قرآن کریم کی تلاوت پر کفار کے ردعمل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَيْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ۝ 29 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–29

ترکیب : النار عطفا بیان للجزاء اوخبر محذوف جزاء یجزون جزاء مفعول مطلق۔ الذین تثنیۃ فی حالۃ النصب لکونہ مفعولا ثانیاً لارنا من الجن والانس بیان لہ نجعلھما بالسکون لکونہ جواب الامر و ہوا رنا بکسر الراء عند الجمہور۔ تفسیر : کفار کے کفر پر جہنم کی سخت سزا بیان فرما کر ان کے کفر میں مبتلا ہونے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال و قیضنا لہم قرناء الخ تقیض کے معنی ہیں آسان کرنا اور آمادہ کرنا، صاحب صحاح کہتے ہیں یقال قاضیت الرجل مقایضۃ ای عاوضۃ بمتاع و بماقیضان، قرنا جمع قرین ساتھی۔ یعنی ہم نے ان کفار کا شیاطین کو یارو مددگار بنادیا تھا، پس شیاطین نے ان کی نظروں میں ان کے سامنے یا آگے جو باتیں ہیں امور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَـآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْھُمَا تَحْتَ اَقْدَا مِنَا لِیَـکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 29) (اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے اللہ ! ہمیں ان لوگوں کو دکھا جنھوں نے جنوں اور انسانوں میں سے ہم کو گمراہ کیا، ہم انھیں اپنے پائوں کے نیچے پامال کریں گے تاکہ وہ ذلیل ہوجائیں۔ ) آخرت میں عوام کا اپنے لیڈروں پر غصہ اس آیت کریمہ میں پروردگار عوام اور ان کے لیڈروں کے تعلق کی حقیقت کھول رہے ہیں کہ آج اشرافِ قریش اور ان کے پیچھے چلنے والے نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں پوری طرح شریک اور ہم آواز ہیں۔ عوام اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں داخل ہونے کے بعد اپنے لیڈروں، علماء اور مرشدوں کے خلاف رد عمل۔ رب ذوالجلال سے جہنّمی مطالبہ کریں گے کہ ہمارے رب ! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لیڈر اور مرشد دکھلا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ان کی وجہ سے ہم جہنّم میں داخل ہوئے۔ اگر وہ ہمارے ہاتھ چڑھ جائیں تو ہم انہیں اپنے پاؤں تلے روند کر سب کے سامنے ذلیل کریں گے اور کہیں گے کہ اے ذلیلو ! اگر تم ہمیں گمراہ نہ کرتے تو آج ہم جہنم کی بجائے جنت میں موجیں مار رہے ہوتے۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں لیڈر اور ان کے ور کر، پیر اور ان کے مرید، علماء اور ان کے مقتدی آپس میں جھگڑا کریں گے : 1۔ پوجنے والے اور جن کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مطالبہ کفار : وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا (اور وہ کفار کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو دکھلا دیجیے) قراءت : اَرْنا سکون راء کے ساتھ کیونکہ کسرہ ثقیل ہے۔ جیسا فَخِذٌ میں فَخْذٌ پڑھتے ہیں مکی، شامی ابوبکر نے پڑھا اور اختلاس حرکت سے ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ الَّذَيْنِ اَضَلّٰنَا (وہ جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا) ، دونوں شیطان جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (جن و انس میں سے) کیونکہ شیطان کی دو قسمیں ہیں۔ نمبر 1 ۔ جنی۔ نمبر 2 ۔ انسی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن (الانعام :112) ۔ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُوْنَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28، ذلک، جو میں نے سخت عذاب ذکر کیا۔ ، جزاء اعداء اللہ، پھر اس جزاء کو بیان کرتے ہوئے فرمایا، النار، یعنی وہ جزاء آگ ہے۔ ، لھم فیھا، یعنی آگ میں ، دارالخلد، ایسارہائشی ٹھکانہ ہے جس سے کہیں اور منتقل نہ ہوسکیں گے۔ ، جزآء بماکانوابایاتنا یجحدون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–32

26۔ 32۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ حضرت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو مشرک لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور سورة لقمان میں گزر چکا ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص نے رستم و اسفندیار وغیرہ کے قصوں کی کتابیں خرید رکھیں تھیں۔ جب آنحضرت ﷺ قرآن شریف پڑھتے تھے تو نضر بن 1 ؎ حارث وہ قصے لوگوں کو سنا کر قرآن شریف کے سننے سے روکا کرتا تھا صحیحین 2 ؎ وغیرہ میں حضرت مسعود کی حدیث مشہور ہے کہ ابوجہل وغیرہ مشرکوں نے مل کر اونٹ کی اوجھڑی نماز پڑھتے وقت آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دی تھی غرض اسی طرح کی بہیودہ باتیں آنحضرت ﷺ کے نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے وقت مشرک لوگ اس غرض سے کرتے تھے کہ لوگ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–29

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے : (آیت) ” اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں : اس قرآن کو نہ سنو “ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو ۔ اگر تمہیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ (والغوافیہ) ”(جب پڑھا جائے تو) خوب شو مچاؤ “ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمہارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

47 گمراہ کن لیڈروں اور پیشواؤں کے خلاف غیظ وغضب کا ایک منظر : سو اس سے عوام کے اپنے گمراہ کن لیڈروں اور پیشواؤں کے خلاف غیظ و غضب کا ایک منظر سامنے آتا ہے۔ سو اس ارشاد سے آخرت کے اس جہاں میں عوام الناس کافروں کے اپنے لیڈروں کیخلاف غیظ و غضب اور غم و غصے کا ایک منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ وہاں پر اپنا ہولناک انجام دیکھنے کے بعد اپنے رب سے عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں ان جنوں اور انسانوں کو دکھا دے تاکہ ہم ان کو اپنے پاؤں تلے روند کر ان سے انتقام لے سکیں کہ انہی کی وجہ سے ہمیں یہ روز بد دیکھنا پڑا اور اس انجام سے دو چار ہونا پڑا۔ مگر ان کے اس بےموقع کے غصے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–29

حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–32

آیات 26 تا 32۔ اسرار ومعارف۔ اور آج بھی جب کفار دلائل میں لاجواب ہوگئے تو کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو شوروغل کیا کرو تاکہ کوئی سن ہی نہ سکے اور قرآن کی برکات سے محروم رہے یوں تمہارا مقصد پورا ہو۔ تلاوت قرآن خاموشی سے سننا واجب ہے اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت اور مروجہ شبینہ ۔ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کا سننا واجب ہے اور آج کل ریڈیو پر تلاوت ہوتی ہے ہوٹلوں والے اپنے کام اور شوروغل میں لگے رہتے ہیں جو کفار کی عادت ہے چاہیے ریڈیو بند رکھیں یا تھوڑی دیر کے لیے کھولیں اور آرام سے سنیں اور دوسروں کو بھی سننے کا موقع دیں اس تناظر میں آج کل کے مروجہ شبیہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 3 یعنی جن کی ہم دنیا میں پیروی کر کے گمراہ ہوئے۔4 حضرت علی ؓ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ’ اس میں جن سے مراد ابلیس اور آدمی سے مراد آدم (علیہ السلام) کا بیٹا قابیل ہے۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:29) ارنا الذین اضلنا : ار فعل امر واحد مذکر حاضر ، اراء ۃ (افعال) مصدر نا ضمیر جمع متکلم تو ہمیں دکھا۔ الذین الذی کا تثنیہ اسم موصول بحالت نصب۔ (وہ دو مرد) جنہوں (نے) اضلنا۔ اضلال (افعال) سے ماضی کا صیغہ تثنیہ مذکر غائب ہے۔ نا ضمیر جمع متکلم (ن) دونے ہمیں بہکایا یا گمراہ کیا۔ (تثنیہ کا صیغہ دو اشخاص کے لئے بھی آسکتا ہے اور دو گروہوں کے لئے بھی یعنی یہ بہکانے والے شیطان سیرت خواہ انسان میں سے ہوں یا جنات میں سے (ان کو ہمارے سامنے لے آ) نجعلہا : مضارع جمع متکلم مجزوم بوجہ جواب امر۔ ھما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب ہم ان دونوں کو کریں (اپنے قوموں کے نیچے) یعنی ان کو اپنے قدموں کے نیچے روند…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–32

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 32 : لا تسمعوا ( تم نہ سنو) الغوا (شور مچائو) تغلبون (تم غالب ہو جائو گے) نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) اسوا ( بر کیا) دار الخلد (ہمیشہ کا گھر) استقاموا ( وہ جمے رہے) یلحدون ( الحاد) (ٹیڑھاچلتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 32 : ہمیشہ سے ایسے لوگوں کی اکثریت رہی ہے جو حق و صداقت ، نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کے بجائے اس سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز کو وہ حقیقت سمجھ رہے ہیں سارا حق اس کے مطابق ہو کر چلے وہ اپنے گھڑے ہوئے خیالات کی دنیا سے باہر آنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور ہر تنقید اور نصیحت کو نہایت تلخ اور کڑوا سمجھتے ہیں ۔ وہ بغیر کسی ثبوت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–29

محبوبان بارگاہ الٰہی۔ (ف 1) اللہ نے ان خدا کے دشمن لوگوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن لوگوں نے دل سے اقرار کیا اور اس پر قائم رہے اس کی ربوبی توالوہیت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا نہ اس یقین واقرار سے مرتے دم تک ہٹے جو زبان سے کہا تھا، اس کے مقتضی پر اعقاد اور عملا جمے رہے اللہ کی ربوبیت کاملہ کا حق پہچانا، جو عمل کیا خالص اس کی خوشنودی اور شکرگزاری کے لیے کیا اور اپنے رب کے عائد کیے ہوئے حقوق وفرائض کو سمجھا اورادا کیا اور اسی کے راستہ پر چلے ، ایسے مستقیم نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور نیک لوگوں کو اللہ کی رضامندی کی اور مغفرت کی خوش خبری سناتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–32

[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔ [14] یعنی وعدہ عذاب۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ہم کو گمراہ کرنے والے کہا ہیں 1: منکرین جب جہنم میں جائیں گے ۔ اس وقت ان کی یہ خواہش ہوگی کہ کسی طرح ہم اس برے ساتھیوں کو اور دوستوں کو دیکھ لیں ۔ جو ہماری گمراہی کا باعث بنے ہیں ۔ تاکہ یہاں ان کو ان کی ہر خود غلط راہنمائی کی سزا دیں ۔ ان کو پاؤں تلے روندیں اور سخت ترین عقوبت میں مبتلا کریں ۔ چناچہ وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرینگے کہ پروردگار ایسا تو کردے کہ ان مہربانیوں کو دیکھ لیں اور ان سے پوچھیں ۔ کہ وہ تمہاری فخروغرور کی باتیں کیا ہوئیں ۔ آج یہ کیا ہوا ۔ کہ ہم اور تم دونوں اللہ کے غضب اور غصے کے مورد اور مستحق قرار پا رہے ہیں ۔ تمہارا دعویٰ تو یہ تھا کہ تم روحانیت کے اعلیٰ ترین منصب پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) اور یہ دین حق کے منکر یوں کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو جنات میں سے اور انسانوں میں سے جن جن لوگوں نے بہکایا اور گمراہ کیا تھا ان دونوں گروہوں کو ذرا ہم کو دکھادے کہ ہم ان کو اپنے پائوں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں اور نیچے رہنے والوں میں سے ہوجائیں - یعنی قیامت کے دن عذاب کو دیکھ کر اور جہنم میں مبتلائے عذاب ہو کر یہ کفارگمراہ کرنے والوں سے انتقام لینے کی آرزو کریں گے اور ان پر غصہ اتارنا چاہیں گے کہ جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا اور بہکایا خواہ وہ جن ہوں یا آمی ہوں ان دونوں گروہوں کو ہمیں دکھلا دے تاکہ ان کو پائوں تلے ڈال کر ہم خوب مسلیں اور خوب روندیں اور وہ خوب ذلیل ہوں اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–29

ف 3۔ یعنی اس وقت ان لوگوں پر غصہ آوے گا جنہوں نے بہکایا تھا، آدمی بھی شیطان بھی، اور اس درخواست کا منظور ہونا ضرور نہیں، اور یوں تو مضلین بھی نار میں ہوں گے مگر شاید درخواست کے وقت نظر نہ آویں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کافر کہیں گے اے اللہ ہم کو وہ لوگ دکھاجو ہم کو گمراہ کرتے رہے 29 ؎ فرمایا جب کافروں کو دوزخ کے عذاب میں جھونک دیاجائے گا اس وقت ان کو یقین آئے گا کہ ہماری اس شامت کا اصل باعث تو ہمارے مذہبی اور سیاسی پیشوا اور لیڈر ہوئے جن آسروں اور ساروں کے بل پر ہم جھٹلاتے رہے اور آج یہاں ہمیں وہ نظر آئیں تو ان کو مزہ چکھادیں اور اس غصہ میں آکر وہ اپیل کریں گے کہ اے اللہ وہ لوگ ایک بار ہم کو دکھا جنہوں نے ہم کو سیدھی راہ سے روک کر الٹی راہ پر لگایا وہ کتنے ہی قوی ہیکل اور سورمے کیوں نہ ہوں ہم ان کو اپنے قدموں کے نیچے دے کر ان کو اس طرح دبایں کہ ان کی انتڑیا نکال دیں اس طرح گویا وہ دانت پیسیں گے اور اپنے غصہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–29

Commentary لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ (Do not listen to this Qur'an, and make noiseduring its recitation, - 41:26) When all the efforts of the disbelievers failed in confronting the Holy Qur'an, they started doing such mischievous acts as mentioned in this verse. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has stated that Abu Jahl got his people primed up and ready to make noises whenever Muhammad ﷺ recited the Qur'an, so that people might not find out what he is saying. Some have said that preparations were made to stop people from listening to the Qur'an by whistling, clapping and by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–29

31 That is, "In the world these people were at the beck and call of their leaders and religious guides and deceitful devils, but when on the Day of Resurrection they will come to know where their leaders had led them, they will curse them and would wish that they should somehow get hold of them so that they may trample them under their foot."

Read the full tafseer →