Explained with ayahs 25–29
آداب قرآن حکیم۔
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مشرکین کو اس نے گمراہ کردیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کردیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں۔ جیسے اور آیتیں ہے (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36) 43۔ الزخرف :36) ، ان پر کلمہ عذاب صادق آگیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہوگئے، کفار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 31
یعنی دنیا میں تو یہ لوگ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں اور فریب دینے والے شیاطین کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں، مگر جب قیامت کے روز انہیں پتہ چلے گا کہ یہ رہنما انہیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی لوگ انہیں کو سنے لگیں گے اور یہ چاہیں گے کہ وہ کسی طرح ان کے ہاتھ آجائیں تو پکڑ کر انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
خلاصہ تفسیر
اور یہ کافر (باہم) یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنو ہی مت اور (اگر پیغمبر سنانے بھی لگیں تو) اس کے بیچ میں غل مچا دیا کرو شاید (اس تدبیر سے) تم ہی غالب رہو (اور پیغمبر ہار کر خاموش ہوجاویں) تو (ان کے اس ناپاک ارادے اور عزم کے بدلہ میں) ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھا دیں گے اور ان کو ان کے برے برے کاموں کی سزا دیں گے، یہی سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی یعنی دوزخ ان کے لئے وہاں ہمیشہ رہنے کا مقام ہوگا۔ اس بات کے بدلہ میں کہ وہ ہماری آیتوں میں انکار کیا کرتے تھے (اور جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو) وہ کفار کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو وہ دونوں شیطان اور انسان دکھلا دیجئے جنہوں نے ہم کو…
Read the full tafseer →ذلک جزآء عدآء اللہ النار، لھم فیھا دارالخلد ط جزآء بما کانوا بایتنا یعجدون (28)
ذلک کا اشارہ اسی بدترین جزاء (جزاء اسواء) کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ اعدآء اللہ، سے مراد یہاں قرینہ دلیل ہے کہ قریش کے وہی لیڈر ہیں جو اپنے گنڈوں کے ذریعہ سے قرآن کی دعوت دبا دینے کے در پے تھے۔ النار مستقل جملہ ہے۔ خبر پر زور دینے کے لئے اس میں مبتداء کو حذف کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جزا جو بیان ہوئی ہے ان لوگوں کے سامنے آئے گی جو آج اللہ اور اس کے دین کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور اس بات کو خوب سمجھ لو کہ اس سے مراد دوزخ ہے۔ اسی میں ان کفر کے سرغنوں کے گھر ہوں گے جن میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ یہ…
Read the full tafseer →28۔ 1 آیتوں سے مراد جیسا کہ پہلے بھی بتلایا گیا ہے وہ دلائل وبراہین واضحہ ہیں جو اللہ تعالیٰ انبیاء پر نازل فرماتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو انہیں عطا کیے جاتے ہیں یا دلائل تکوینیہ ہیں جو کائنات یعنی آفاق وانفس میں پھیلے ہوئے ہیں کافر ان سب ہی کا انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایمان کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
12: اس سے مراد وہ شیاطین بھی ہیں جو انسانوں کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے گناہوں کے لیے بہکاتے تھے، اور ایسے انسان بھی جو گناہ کے کاموں کو مفید اور ضروری قرار دینے کے لیے طرح طرح کے دلائل گھڑتے اور ان کی بنیاد پر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آگے اب بہت جلد ہم انہیں آگ میں دیکھتے ہیں اور اب ان دو ساتھیوں پر ان لوگوں کی نفرت کی بوچھاڑ ہوتی ہے جنہوں نے ان کو دھوکہ دیا تھا ، اور ان کے لئے ان کے ماحول کو مزین کردیا تھا اور دھوکہ دے کر اس مقام تک انہیں لے آئے تھے۔
Read the full tafseer →1 یعنی دل میں سمجھتے تھے، لیکن ضد اور تعصب وعناد سے انکار ہی کرتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 28 { ذٰلِکَ جَزَآئُ اَعْدَآئِ اللّٰہِ النَّارُ } ”یہ ہے بدلہ اللہ کے دشمنوں کا یعنی آگ !“
یہ لوگ قرآن کے دشمن ہیں تو قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے یہ اللہ کے دشمن ہیں۔ اور اللہ کے دشمنوں کی سزا آتش دوزخ کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے !
{ لَہُمْ فِیْہَا دَارُ الْخُلْدِ } ”ان کے لیے اسی میں ہمیشگی کا ٹھکانہ ہوگا۔“
{ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ } ”یہ بدلہ ہوگا اس کا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے تھے۔“
Read the full tafseer →35 ایسے لوگ صرف منکر حق ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے، اللہ کے رسول کے، اللہ کے دین کے، سب کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔ پھر اللہ انہیں سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
25۔ یہ گفتگو دوزخ میں ہوگی، جب کافر اپنے کو مبتلائے عذاب پائیں گے۔ اتنہائی جھنجھلاہٹ اور جوش غیظ میں یہی چاہیں گے کہ اپنے گمراہ کرنے والوں کو (حالانکہ وہ بھی اسی دوزخ ہی میں کہیں گے) اپنے قریب موجود پائیں اور اپنے پیروں سے روند کر رکھ دیں۔ (آیت) ” اضلنا من الجن والانس “۔ یہ نص اس باب میں صاف وواضح ہے کہ انسان کی گمراہی شیطان (جنات خبیث) کی طرف سے بھی آتی ہے اور انسانوں کی طرف سے بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت نمبر 26 تا 32
ترجمہ : اور کافروں نے آپ کی قراءت کے وقت کہا اس قرآن کو سنو مت، اور شوروغل کرو، اور آپ ﷺ کی قراءت کے وقت شور مچاؤ کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ ؟ اور پیغمبر (ہار کر) چپ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا سو ہم ان کافروں کو یقیناً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور انہیں انکے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے، یعنی ان کے عمل کی بدترین جزاء (ضرور دیں گے) وہ یعنی عذاب شدید اور بدترین بدلہ، اللہ کے دشمنوں کی سزایہی دوزخ کی آگ ہے، دوسرے ہمزہ کی تحقیق اور اس کو واؤ سے بدل کر، النّار، الجزاء کا عطف بیان ہے، جو ذٰلک کا مخبربہ (خبر) ہے، جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے یعنی…
Read the full tafseer →ذلک جزاء اعداء اللہ النار لھم فیھا دار الخلد جزاء بما کانوا بایتنا یجحدون یہ سزا ہے
ا اللہ کے دشمنوں کی (یعنی) دوزخ ‘ جس کے اندر ان کیلئے (دوامی) قیام گاہ ہوگی ‘ بدلہ میں اس بات کے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔
دَارُ الْخُلْدِ قیام گاہ ‘ رہنے کا مقام۔
بِاٰیٰتِنَا آیات سے مراد قرآن ہے۔
یَجْحَدُوْنَ یعنی حق کا انکار کرتے تھے ‘ یا حجود سے مراد ہے قرآن میں گڑبڑ کرنا۔ انکار قرآن گڑبڑ کرنے کا سبب تھا ‘ اسلئے سبب سے اس کا نتیجہ مراد لیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →ان کی دنیا میں یہی سزا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی سزا دوزخ ہے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اس بات کے بدلے میں کہ وہ رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →(1) ذلک جزآء اعدآء اللہ النار…: اللہ کے دشمنوں کی یہی جزاء یعنی آگ ہے، جنہوں نے کفر و شرک کیا، زبان اور ہاتھ کو ہر طرح سے اس کی کتاب سننے سے روکا، اس کے نبی اور ایمان والوں کا مقابلہ کا، ان سے جنگ کی اور دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
(2) بایتنا یجحدون : یعنی اس جزا کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری آیات حق ہیں، پھر جان بوجھ کر ضد اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کرتے تھے، پھر اللہ ایسے دشمنوں کو سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا ؟”جحو ”‘ کا معنی جانتے ہوئے انکار کرنا ہے۔
Read the full tafseer →ذلک جزاء اعدآء للہ النار یعنی وہ عذاب شدید اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی جزا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت النار سے کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ذلک جزاء اعداء اللہ النار دار الخلود پڑھا ہے دار کو النار سے تعبیر کیا یہی آیت کا معنی ہے ذلک مبتدا ہے اور جزاء اس کی خبر ہے النار، جزا سے بدل ہے یا ضمیر مبتدا کی خبر ہے اور خبر جملہ پہلے جملہ کے بیان کے محل میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
قرآن سے منہ موڑنے والوں کی سزاء :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے جب آپ بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین لوگوں کو آپ سے دور بھگا دیتے تھے اور کہتے تھے (آیت ) ” لا تسمعوا لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون “ (کہ تم اس قرآن کو نہ سنو اور شورمچاؤ شاید کہ تم غالب ہوجاؤ) اور رسول اللہ ﷺ جب آہستہ آواز میں قرآن پڑھتے تھے تو وہ شخص نہ سن سکتا تھا جو قرآن مجید کو سننا پسند کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) ” اتاری ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت “ (الاسراء آیت 110) (کہ تو اپنی نماز کو اونچی آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل آہستہ پڑھ)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ [ یہ ] جَزَاۗءُ اَعْدَاۗءِ اللّٰهِ [ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے ] النَّارُ ۚ [ جو آگ ] لَهُمْ فِيْهَا [ ان کے لئے ہے اس میں ] دَارُ الْخُلْدِ ۭ [ ہمیشگی کا گھر ] جَزَاۗءًۢ [بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ [ ہماری نشانیوں کا جانتے بوجھتے انکار کرتے تھے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کو (آخرت میں جو) سزا ملے گی آگ کی صورت میں ان کے سامنے آئے گی یعنی نار جہنم میں داخل ہوں گے اور ایسا نہیں کہ تھوڑے سے دن سزا بھگت لیں تو جان بخشی ہوجائے بلکہ انہیں اس آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا ان کا یہ عذاب اس کا بدلہ ہوگا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
گمراہ لوگ درخواست کریں گے کہ ہمارے بڑوں کو سامنے لایا جائے، تاکہ قدموں سے روند ڈالیں
دنیا میں تو یہ حال تھا کہ چھوٹے موٹے لوگ اپنے بڑے اور سرداروں کے بہکانے سے کفر پر جمے رہے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے رہے ان کے بہکانے والوں میں جنات بھی تھے اور انسان بھی تھے جو انہیں حق قبول نہیں کرنے دیتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
29:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ آیت مشرک پیشواؤں، گمراہ کن پیروں اور ان کے متبعین کے حق میں ہے قیامت کے دن جب مشرکین جہنم کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ تو غیظ و غضب سے کہیں گے : ہمارے پروردگار ! ذرا ہمیں وہ شیاطین جن اور شیاطین انس (گمراہ کرنے والے مشرک پیشوا) تو دکھاوے جنہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بھٹکایا اور توحید سے ہٹا کر شرک کی راہ پر ڈالا۔ ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روند ڈالیں اور مسل دیں اور اس طرح آج ان کو سرِ محشر ذلیل ورسوا کریں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈالیں۔ تاکہ انہیں سب سے زیادہ سخت عذاب ہو (بیضاوی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے جزائے عمل کے سلسلے میں فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کا دوزخ کے قریب اجتماع ہوگا ۔ پھر ان کو ان کے جرائم کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی تو خود انہی کے اعضاء و جو ارع کو ان پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دے رہے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس مالک الملک نے قوت گویائی عطاکی ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ۔ اب آج کی آیات میں بھی انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے ۔ اس درس میں قرآن کریم کی تلاوت پر کفار کے ردعمل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ جَزَاۗءُ اَعْدَاۗءِ اللہِ النَّارُ 0 ۚ لَہُمْ فِيْہَا دَارُ الْخُلْدِ 0 ۭ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ 28
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ترکیب : النار عطفا بیان للجزاء اوخبر محذوف جزاء یجزون جزاء مفعول مطلق۔ الذین تثنیۃ فی حالۃ النصب لکونہ مفعولا ثانیاً لارنا من الجن والانس بیان لہ نجعلھما بالسکون لکونہ جواب الامر و ہوا رنا بکسر الراء عند الجمہور۔
تفسیر : کفار کے کفر پر جہنم کی سخت سزا بیان فرما کر ان کے کفر میں مبتلا ہونے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال و قیضنا لہم قرناء الخ تقیض کے معنی ہیں آسان کرنا اور آمادہ کرنا، صاحب صحاح کہتے ہیں یقال قاضیت الرجل مقایضۃ ای عاوضۃ بمتاع و بماقیضان، قرنا جمع قرین ساتھی۔ یعنی ہم نے ان کفار کا شیاطین کو یارو مددگار بنادیا تھا، پس شیاطین نے ان کی نظروں میں ان کے سامنے یا آگے جو باتیں ہیں امور…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ جَزَآئُ اَعْدَآئِ اللّٰہِ النَّارُ ج لَھُمْ فِیْھَا دَارُالْخُلْدِ ط جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰـتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 28)
(یہ اللہ کے دشمنوں کی جزاء ہے یعنی دوزخ، اسی میں ہمیشگی کا ان کے لیے گھر ہے، یہ سزا ہے اس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے ہیں۔ )
قرآنی دعوت کو روکنے کی سزا
ذٰلِکَ سے اشارہ اسی بدترین جزاء کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ البتہ اس سے مراد دوزخ ہے جسے النَّارُسے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور النَّارُ سے پہلے مبتدا محذوف ہے، اس لحاظ سے کہنا چاہیے کہ یہ پورا جملہ ہے۔ اور اَعْدَآئُ اللّٰہِ سے مراد وہی لوگ ہیں جنھوں نے یہ منصوبہ بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح پہلے لوگ گمراہ ہوئے اسی طرح ہی اہل مکہ نے گمراہی اختیار کی۔
ابھی بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے لیے گمراہی کا راستہ پسند کرتے ہیں ان کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دیئے جاتے ہیں۔ جس کے لیے شیطان برے اعمال خوبصورت بنا دے پھر اسے سمجھ نہیں رہتی کہ میں کس قدر گمراہی میں آگے نکل چکا ہوں۔ یہی صورت حال اہل مکہ کی تھی۔ اللہ کے نبی ﷺ انہیں قرآن مجید اس لیے سناتے تھے تاکہ یہ لوگ گمراہی کے راستے کو چھوڑ کر صراط مستقیم پر آجائیں۔ آپ کی تلاوت سن کر لوگ بالخصوص نوجوان طبقہ آپ کی طرف متوجہ ہورہا تھا۔ یہاں تک کہ نبوت کے ابتدائی تین سالوں میں ابوجہل کے بھتیجے بھی مسلمان ہوچکے تھے۔”…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ جَزَاۗءُ اَعْدَاۗءِ اللّٰهِ (یہ سزا ہے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی) ذلک کا مشارالیہ اسوء ہے اور تقدیر کلام لازما اس طرح ہوگی (اسوا جزاء الذی کانوا یعملون) بدترین بدلہ ان برے عملوں کا جو وہ کرتے تھے) ۔ تاکہ ذلک کا شارہ درست ہوسکے۔ النَّارُ (آگ)
نحو : یہ جزاء کا عطف بیان ہے۔ نمبر 2 ۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔
کفار کا دار الخلد : لَهُمْ فِيْهَا دَارُ الْخُلْدِ (اور ان کے لیے وہاں ہمیشگی کا مقام ہوگا) یعنی آگ جو کہ بنفس نفیس دار الخلد ہے۔ جیسے تم کہو۔ لک فی ھذہ الدار دار السرور۔ وانت تعنی الدار بعینہا (تیرے لیے یہ گھر دار السرور ہے تمہاری مراد اس سے بعینہ وہی گھر ہے۔ جس کو تم دار السرور کہہ رہے…
Read the full tafseer →27، فلندیقن الذین کفروا عذابا شدیداولنجزینھم اسوا الذی، یعنی ان کے برے افعال کی وجہ سے۔
، کانوایعملون، دنیا میں اور وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
26۔ 32۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ حضرت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو مشرک لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور سورة لقمان میں گزر چکا ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص نے رستم و اسفندیار وغیرہ کے قصوں کی کتابیں خرید رکھیں تھیں۔ جب آنحضرت ﷺ قرآن شریف پڑھتے تھے تو نضر بن 1 ؎ حارث وہ قصے لوگوں کو سنا کر قرآن شریف کے سننے سے روکا کرتا تھا صحیحین 2 ؎ وغیرہ میں حضرت مسعود کی حدیث مشہور ہے کہ ابوجہل وغیرہ مشرکوں نے مل کر اونٹ کی اوجھڑی نماز پڑھتے وقت آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دی تھی غرض اسی طرح کی بہیودہ باتیں آنحضرت ﷺ کے نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے وقت مشرک لوگ اس غرض سے کرتے تھے کہ لوگ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے : (آیت) ” اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں : اس قرآن کو نہ سنو “ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو ۔ اگر تمہیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ (والغوافیہ) ”(جب پڑھا جائے تو) خوب شو مچاؤ “ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمہارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی…
Read the full tafseer →46 انکار حق کا نتیجہ وانجام دوزخ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی آیتوں کے انکار کا بدلہ دوزخ کی ہولناک آگ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و انکار اور دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے اعراض و روگردانی بیماریوں کی بیماری اور تمام مفاسد و مہالک اور خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللّٰہ جل و علا ۔ اور جن کفار کو دوزخ کی اس ہولناک آگ میں ہمیشہ کے لئے رہنا اور جلنا ہے ان کو اگر دنیا ساری کی دولت و حکومت بھی مل جائے تو بھی ان کو کیا ملا کہ ان کا نتیجہ و انجام تو بہرحال یہ ہونا ہے۔ اور دنیا اور اس کی ہر نعمت بہرحال عارضی اور فانی ہے ۔ فَخُذْنَا بَنَوَاصِیْنَا یَا رَبَّنَا اِلٰی مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات
تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
اور آج بھی جب کفار دلائل میں لاجواب ہوگئے تو کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو شوروغل کیا کرو تاکہ کوئی سن ہی نہ سکے اور قرآن کی برکات سے محروم رہے یوں تمہارا مقصد پورا ہو۔
تلاوت قرآن خاموشی سے سننا واجب ہے اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت اور مروجہ شبینہ ۔
معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کا سننا واجب ہے اور آج کل ریڈیو پر تلاوت ہوتی ہے ہوٹلوں والے اپنے کام اور شوروغل میں لگے رہتے ہیں جو کفار کی عادت ہے چاہیے ریڈیو بند رکھیں یا تھوڑی دیر کے لیے کھولیں اور آرام سے سنیں اور دوسروں کو بھی سننے کا موقع دیں اس تناظر میں آج کل کے مروجہ شبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 3 یعنی جن کی ہم دنیا میں پیروی کر کے گمراہ ہوئے۔4 حضرت علی ؓ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ’ اس میں جن سے مراد ابلیس اور آدمی سے مراد آدم (علیہ السلام) کا بیٹا قابیل ہے۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(41:28) ذلک جزاء اعداء اللّٰہ النار۔
ذلک اشارہ ہے اس عذاب و سزا کی طرف جو آیہ سابقہ میں مذکور ہوئی ہے۔ مبتدا جزاء اعداء اللّٰہ : جزاء مضاف اعداء اللہ مضاف مضاف الیہ مل مضاف الیہ، خبر النار ۔ جزاء کا عطف بیان ہے یا مبدل منہ۔ یہ ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی یعنی آگ (دوزخ
جزاء بما کانوا بایتنا یجحدون : جزاء بوجہ مفعول مطلق فعل مقدر کے منصوب ہے ای یجزون جزاء ، بما میں باء سببیہ ہے ما موصولہ کانوا یجحدون : ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ان کو سزا دی گئی بسبب اس کے کہ وہ ہماری آیات (قرآن) کا انکار کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 32 : لا تسمعوا ( تم نہ سنو) الغوا (شور مچائو) تغلبون (تم غالب ہو جائو گے) نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) اسوا ( بر کیا) دار الخلد (ہمیشہ کا گھر) استقاموا ( وہ جمے رہے) یلحدون ( الحاد) (ٹیڑھاچلتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 32 : ہمیشہ سے ایسے لوگوں کی اکثریت رہی ہے جو حق و صداقت ، نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کے بجائے اس سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز کو وہ حقیقت سمجھ رہے ہیں سارا حق اس کے مطابق ہو کر چلے وہ اپنے گھڑے ہوئے خیالات کی دنیا سے باہر آنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور ہر تنقید اور نصیحت کو نہایت تلخ اور کڑوا سمجھتے ہیں ۔ وہ بغیر کسی ثبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
محبوبان بارگاہ الٰہی۔
(ف 1) اللہ نے ان خدا کے دشمن لوگوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن لوگوں نے دل سے اقرار کیا اور اس پر قائم رہے اس کی ربوبی توالوہیت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا نہ اس یقین واقرار سے مرتے دم تک ہٹے جو زبان سے کہا تھا، اس کے مقتضی پر اعقاد اور عملا جمے رہے اللہ کی ربوبیت کاملہ کا حق پہچانا، جو عمل کیا خالص اس کی خوشنودی اور شکرگزاری کے لیے کیا اور اپنے رب کے عائد کیے ہوئے حقوق وفرائض کو سمجھا اورادا کیا اور اسی کے راستہ پر چلے ، ایسے مستقیم نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور نیک لوگوں کو اللہ کی رضامندی کی اور مغفرت کی خوش خبری سناتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔
[14] یعنی وعدہ عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 2: یعنی کفار مکہ کی ذہنیت یہ تھی ۔ کہ ان کی صلاح کے لئے قرآن پڑھ کر ان کو سنایا جاتا ۔ اور وہ ازراہ بدبختی اور محرومی نہ صرف اس کی مخالفت کرتے ۔ بلکہ دوسروں کو بھی آمادہ کرتے ۔ کہ شوروشغب ڈال کر مجمعوں کو منتشر کردیں اور ایسی فضا پیدا کردیں کہ حضور ﷺ کے ارشادات سے کوئی استفادہ نہ کرسکے ۔ مگر ان کی شطنت اور ارادوں کے خلاف قرآن کی تعلیم پھیلتی چلی گئی ۔ اور اس کی فتوحات دن دوگنی رات چوگنی ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کلام الٰہی ہرچند سنانا نہ چاہا مگر قرآن نے مجبور کردیا کہ وہ سنیں اور اس کے مبلغ نہیں ۔
حل لغات :۔ من المعتبین ۔ عتاب سے ہے ہمزہ سلب کے لئے ہے قیضنا ۔ تعینات کیا ۔
Read the full tafseer →(28) اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی سزا یہی آگ ہے اور یہ ہے جزا دشمنان خدا کی آگ ہے ان کو اسی آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا ان کا گھر اسی آگ میں ہے سدا کو یہ بدلا ان کو اس بنا پر دیا کہ یہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 3۔ یعنی اس وقت ان لوگوں پر غصہ آوے گا جنہوں نے بہکایا تھا، آدمی بھی شیطان بھی، اور اس درخواست کا منظور ہونا ضرور نہیں، اور یوں تو مضلین بھی نار میں ہوں گے مگر شاید درخواست کے وقت نظر نہ آویں۔
Read the full tafseer →اللہ کے دشمنوں کی جزا آگ ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
28 ؎ گزشتہ آیت میں برے اعمال کی جزا کا اعلان فرمایا گیا تھا کہ جو لوگ برے اعمال کرتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ ان اعمال کی بری جزا بھی حاصل کریں گے جب کہ یہ طے ہے کہ ہر عمل اپنی جزا رکھتا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ اس روز جو روز محض اس لیے ہے کہ ہر عمل کرنے والے کو ویسی ہی جزا ملے جیسے وہ عمل کررہا ہے جب کہ دنیا میں اکثر ایسا نہیں ہوتا حالانکہ مکافات مل لازم وضروری ہے۔ فرمایا اس کے ازالہ کے لیے جو دن مقرر ہے جب وہ آئے گا تو ان لوگوں کو بالکل ویسی ہی جزا ملے گی اور وہ جزا کیا ہے ؟ فرمایا وہ آگ ہے اور برے اعمال کرنے والے اپنے اعمال کے مطابق اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
Commentary
لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ (Do not listen to this Qur'an, and make noiseduring its recitation, - 41:26) When all the efforts of the disbelievers failed in confronting the Holy Qur'an, they started doing such mischievous acts as mentioned in this verse. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has stated that Abu Jahl got his people primed up and ready to make noises whenever Muhammad ﷺ recited the Qur'an, so that people might not find out what he is saying. Some have said that preparations were made to stop people from listening to the Qur'an by whistling, clapping and by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
31 That is, "In the world these people were at the beck and call of their leaders and religious guides and deceitful devils, but when on the Day of Resurrection they will come to know where their leaders had led them, they will curse them and would wish that they should somehow get hold of them so that they may trample them under their foot."
Read the full tafseer →