Explained with ayahs 25–29
آداب قرآن حکیم۔
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مشرکین کو اس نے گمراہ کردیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کردیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں۔ جیسے اور آیتیں ہے (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36) 43۔ الزخرف :36) ، ان پر کلمہ عذاب صادق آگیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہوگئے، کفار نے…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 29
یہ اللہ تعالیٰ کی مستقل اور دائمی سنت ہے کہ وہ بری نیت اور بری خواہشات رکھنے والے انسانوں کو کبھی اچھے ساتھی نہیں دلواتا، بلکہ انہیں ان کے اپنے رجحانات کے مطابق برے ساتھی ہی دلواتا ہے۔ پھر جتنے جتنے وہ بدی کی پستیوں میں گہرے اترتے جاتے ہیں اتنے ہی بدتر سے بدتر آدمی اور شیاطین ان کے ہم نشین اور مشیر اور رفیق کار بنتے چلے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ فلاں صاحب بذات خود تو بہت اچھے ہیں، مگر انہیں ساتھی برے مل گئے ہیں، حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔ قانون فطرت یہ ہے کہ ہر شخص کو ویسے ہی دوست ملتے ہیں جیسا وہ خود ہوتا ہے۔ ایک نیک آدمی کے ساتھ اگر برے لوگ لگ بھی جائیں تو وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(آیت) وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ الآیة۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ انسان اگر چھپ کر کئی جرم و گناہ کرنا چاہے تو دوسرے لوگوں سے تو چھپا سکتا ہے، خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیسے چھپائے۔ جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور بدن کی کھال اور بال سب ہمارے نہیں بلکہ سرکاری گواہ ہیں اور جب ان سے ہمارے اعمال کو پوچھا جاوے گا تو سچی گواہی دے دیں گے تو پھر چھپا کر کوئی جرم و گناہ کرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا، اس رسوائی سے بچنے کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ گناہ کو ہی چھوڑا جائے۔ مگر تم لوگ یعنی منکرین توحید و رسالت کا ذہن ادھر تو کیا جاتا کہ…
Read the full tafseer →4۔ آگے کا مضمون … آیات : 5 2۔ 36
قیامت کے دن کفر کے سرغنوں اور ان کے پیروئوں کا جو حال ہوگا پہلے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آج تو قرآن کی مخالفت کے لئے انہوں نے آپس میں بڑا گٹھ جوڑ کر رکھا ہے لیکن جب اس کا انجام سامنے آئے گا۔ تو وہ ایک دوسرے کے ایسے جانی دشمن بن جائیں گے کہ عوام اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ ان کے لیڈران کو دکھا دیئے جائیں کہ وہ ان کو اپنے قدموں سے روند ڈالیں۔
اس کے بعد ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جو ان تمام غوغا آرائیوں کے علی الرغم توحید پر ثابت قدم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ ان کے پاس بشارت لے کر آئیں گے کہ اب آپ کی آزمائشوں کا دور ختم ہوگیا۔ آگے اب آپ لوگوں کے…
Read the full tafseer →25۔ 1 ان سے مراد وہ شیاطین انس و جن ہیں جو باطل پر اصرار کرنے والوں کے ساتھ لگ جاتے ہیں، جو انہیں کفر و معاصی کو خوبصورت کر کے دکھاتے ہیں، پس وہ اس گمراہی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں موت آجاتی ہے اور وہ خسارہ ابدی کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
12: اس سے مراد وہ شیاطین بھی ہیں جو انسانوں کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے گناہوں کے لیے بہکاتے تھے، اور ایسے انسان بھی جو گناہ کے کاموں کو مفید اور ضروری قرار دینے کے لیے طرح طرح کے دلائل گھڑتے اور ان کی بنیاد پر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا اقتدار تو تمہارے دلوں پر بھی قائم ہے۔ جب تم زمین میں تھے اس وقت بھی تمہارے دل اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے۔ جب تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ جب اللہ کو تمہارے دلوں کا میلان فساد معلوم ہوا تو اللہ نے تمہارے دلوں پر ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جو جنوں میں سے بھی تھے اور انسانوں میں سے بھی ۔ یہ برائی کو تمہارے دل و دماغ کے لئے مزین کرتے تھے۔ یہ ساتھی ان کو اس قافلے میں ملا دیتے تھے جس کا انجام گھاٹے کا لکھا گیا تھا۔ یوں ان پر کلمہ عذاب اور فیصلہ عذاب صادق ہوا :
ذرا دیکھیں تو سہی کہ وہ کس حد تک اللہ کے قبضے میں ہیں ، جس کی بندگی کرنے سے وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے…
Read the full tafseer →6 یعنی ان پر شیطان تعینات تھے کہ ان کو برے کام جو پہلے کیے یا آگے کرتے، بھلے کر کے دکھلائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ اور یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی ان کے اعراض عن الذکر کا نتیجہ تھا کما قال تعالیٰ ( وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ) 43 ۔ الزخرف :36)
7 یعنی وہ ہی بات جو شروع میں کہی گئی تھی۔ ( لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 11 ۔ ہود :119)
8 جب آدمی کو خسارہ آتا ہے تو اسی طرح آتا ہے اور ایسے ہی سامان ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 25 { وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَآئَ فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ } ”اور ہم نے ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کردیے جنہوں نے ان کو مزین ّکر کے دکھلائی ہر وہ چیز جو ان کے سامنے تھی اور جوان کے پیچھے تھی“
جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ایسے ہی ہر انسان کے ساتھ شیاطین ِجن بھی لگا دیے گئے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ فرشتوں کی موجودگی کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الانعام کی آیت 61 میں { وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً } کے الفاظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے انسانوں کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان…
Read the full tafseer →31 قرین کا مفوم نیزآدمی کا کردار اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے :۔ قُرَنَاء قرین کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہم عمر ساتھی ہے جو بہادری، قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہمسر ہو، ہمجولی اور اس لفظ کا استعمال برے معنوں میں ہوتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کو بھول کر بداعمالیوں میں لگے رہتے ہیں تو ان کے ہمجولی بھی انہی کی قسم کے شیطان سیرت ہوتے ہیں۔ جو اس کے ہر برے عمل پر اسے شاباش اور داد تحسین ہی دیئے جاتے ہیں۔ مثلاً چوروں یا ڈاکوؤں کے گروہ میں سے اگر ایک شخص اپنی چوری یا ڈاکہ کی داستان سنائے گا تو دوسرے ساتھی اس کے اس کارنامہ کو بہادری پر محمول کرکے فخریہ انداز میں اس کی داستان سنیں سنائیں گے۔ ان میں سے کسی کو…
Read the full tafseer →23۔ ہر بدی، ہر نافرمانی، ہر معصیت، کسی نہ کسی دوست، رفیق ہی کی ترغیب وتشویق کا آخری نتیجہ ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کی جانب یہاں اشارہ ہے۔ (آیت) ” فی امم ..... فی “۔ مرادف ہے مع کے (ابومسعود)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
آیت نمبر 19 تا 25
ترجمہ : اور وہ دن یاد کرو کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (یَحْشُرُ ) میں یاء اور نون مفتوح اور شین کے ضمہ کے
ساتھ اور (اَعْدَاءَ ) کے (آخری) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے قریب آجائیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ (لوگ) اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے ہمیں اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو جس کو چاہا بولنے کی طاقت بخشی اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے، کہا گیا ہے کہ وہ (یعنی وھو خلَقَکم اول مرّۃ الخ) کھالوں کا کلام ہے اور…
Read the full tafseer →وقیضنا لھم قرنا اور ہم نے دنیا میں ان کے ساتھ رہنے والے کچھ شیاطین مقرر کر رکھے تھے۔
وَقَیَّضْنَا یعنی ہم نے مقرر کر دئیے ہیں۔ مقاتل نے ترجمہ کیا : ہم نے فراہم کر دئیے ہیں ‘ تیار کر دئیے ہیں۔
لَھُمْ ان کافروں کیلئے۔
قُرَنَآء ساتھی۔ قرنا ‘ قرین کی جمع ہے جیسے کرماء ‘ کریم کی جمع ہے ‘ یعنی کافروں جیسے شیطان جنات جو ان پر ایسے مسلط اور محیط ہیں جیسے انڈے پر اس کا پوست۔ قیّض انڈے کے پوست کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : قیّضکا اصل معنی ہے عوض۔ بیع مقالضہ (سامان کا سامان سے مبادلہ) اسی سے مشتق ہے۔
فزینوا لھم ما بین ایدھم وما خلفھم سو انہوں نے انکے اگلے پچھلے (انکی نظر میں) خوبصورت بنا دئیے تھے۔
مَا…
Read the full tafseer →اور ہم نے ان کفار کے لیے کچھ مددگار اور شرکاء شیاطین میں سے مقرر کردیے تھے سو انہوں نے ان کی نظروں میں یہ چیز پسندیدہ بنا دی تھی کہ آخرت کے امور میں سے جنت دوزخ اور بعث کچھ نہیں اور امور دنیا میں سے کچھ نہیں یعنی کچھ خرچ مت کرو اور یہ کہ دنیا باقی ہے فانی نہیں ان لوگوں کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ عذاب پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن و انس میں سے کفار گزرے ہیں۔ یقینا وہ سب بھی سزا کی وجہ سے خسارہ میں رہے۔
Read the full tafseer →(1) وقیضنا لھم قرنآء … :’ قرنآئ“ ”قرین“ کی جمع ہے، ساتھ رہنے والا۔ ”القیض“ انڈے کے چھلکے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس طرح چھلکا انڈے کے ساتھ پیوست ہوتا ہے اسی طرح ہم نے ایسے برے لوگ ان مشرکین کے ساتھ لگا دیئے جو ان کے ساتھ اس طرح چمٹے رہتے ہیں جس طرح انڈے کا چھلکا چمٹا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اگر انسان برا ہو تو اسے ساتھی بھی برے میسر آتے ہیں، جو اسے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان برائیوں میں مگن ہوجاتا ہے اور آٰخر کار خود کو اپنے ساتھیوں سمیت لے ڈوبتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة زخرف (36) اور سورة ق (23 تا 29)
(2) فزینوا لھم مابین ایدیھم …:”مابین ایدیھم“ سے مراد وہ…
Read the full tafseer →و قیضنا لھم قرناء نقاش نے کہا : ہم نے ان کے لیے شیاطین کو تیار کردیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے ان پر ایسے شیاطین مسلط کردیے ہیں جو ان کے ہاں معاصی کو مزین کر کے پیش کرتے ہیں یہ جنوں، شیاطین اور انسانوں میں سے قرتاء ہوں گے یہ کہا جاتا ہے : قیض اللہ فلانا قر ناء۔ قشیری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے میرے لیے رزق کو مقرر کیا جس طرح میں اسے طلب کرتا تھا تقیض کا معنی بدل دینا ہے اسی سے مقایضہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : قا یضت الرجل مقا یضۃ یعنی میں نے اس کے ساتھ سامان کے ساتھ مبادلہ کیا۔
فزینو الھم ما بین ایدیھم مابین ایدیھم سے مراد امور دینا ہیں ان شیاطین نے اسے ان کے لیے مزین کیا یہاں تک کہ اسے…
Read the full tafseer →1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقیضنا لھم قرنآء “ (اور ہم نے دنیا میں ان کے ساتھ رہنے والے کچھ شیاطین مقرر کر رکھے ہیں یعنی شیاطین مقرر کر رکھے ہیں )
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” فزینوا لھم مابین ایدیھم “ (سو انہوں نے ان کے اگلے (گناہ ان کی نظر میں خوبصورت بنا دیئے تھے) کہ انہوں نے ان کے لئے دنیا کو مزین کردیا جس میں وہ رغبت رکھتے ہیں (آیت) ” وما خلفھم “ (اور جو ان کے پیچھے ہے) یعنی انکے لئے آخرت کو بھی بھلادینے اور اسی کے انکار کو مزین کردیا۔
Read the full tafseer →وَقَيَّضْنَا لَهُمْ [ اور ہم نے تعینات کئے ان کے لئے ] قُرَنَاۗءَ [ کچھ ساتھی ] فَزَيَّنُوْا لَهُمْ [ تو انہوں نے زینت دی ان کے لئے ] مَّا [ اس کو جو ] بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ [ ان کے آگے ہے ] وَمَا خَلْفَهُمْ [ اور اس کو جو ان کے پیچھے ہے ] وَحَقَّ عَلَيْهِمُ [ اور ثابت ہوئی ان پر ] الْقَوْلُ [وہ بات (جو ) ] فِيْٓ اُمَمٍ [ ایسی امتوں میں ہوئی جو ] قَدْ خَلَتْ [ گزر چکی ہیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے ] مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۚ [ جنوں اور انسانوں میں سے ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک وہ لوگ تھے ] خٰسِرِيْنَ [ خسارہ پانے والے ]
ق ی ض (ض) قیضا ۔ ایک چیز کو دوسری کے بدلے میں لینا ۔ (تفعیل )…
Read the full tafseer →مشرکین اور کافرین پر برے ساتھی مسلط کردئیے گئے
(وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَاءَ ) (اور ہم نے ان کے اوپر ساتھی مسلط کردئیے) جو انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنات میں سے بھی اور ان کے ساتھ لگے رہتے ہیں (فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ) ان ساتھیوں نے ان کے اعمال کو مزین کردیا اور ان کو اچھا بتا کر پیش کیا گناہوں کو اچھا کرکے دکھایا لذتوں پر ابھارا شہوتوں میں پڑنے کی ترغیب دی اور انہیں یہ بھی سمجھایا جو مزے اور اڑا سکتے ہو اڑا لو موت کے بعد نہ جی اٹھنا ہے نہ جنت ہے نہ دوزخ، ان ساتھیوں کی باتوں میں آکر کفر و شرک اختیار کیا گناہوں میں منہمک رہے۔ لہٰذا عذاب کے مستحق ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
25:۔ ” وقیضنا لہم “ یہ دوسرے شکوے کی تمہید ہے اور اس سورت کا مقصود ہی مقام ہے۔ سورة مومن کے مرکزی دعوے پر جو اعتراض اور شبہہ وارد ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ شبہہ یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ مصائب و حاجات میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی متصرف و مختار اور کارساز نہیں۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے اور غیر اللہ کو پکارے یا غیر اللہ کے نام نذر و منت مانے، تو وہ مصیبت سے چھوٹ جاتا ہے۔ نیز بعض اوقات پیر و مرشد اور بزرگان دین اپنے عقید مندوں کو خواب میں ملتے ہیں یا کبھی بیداری ہی میں سامنے آجاتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تکلیف تمہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ربط آیات
گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی سر کشی اور انکار نبوت اور پھر ان کے ساتھ دنیا میں ہونے والے سلوک کا ذکر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا تھا تو کسی فرشتے کو اپنا پیغام دے کر بھیج دیتا تو ہم ایمان لے آتے ، ہم کسی انسان کو نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر ان قوموں نے توحید و رسالت دونوں کا انکار کیا ۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر تند ہوا بھیج دی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک…
Read the full tafseer →وَقَيَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَاۗءَ فَزَيَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَحَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ 0 ۚ اِنَّہُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ 25ۧ
قضی
الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی:
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک،
( ق ض ی ) القضاء
کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ترکیب : النار عطفا بیان للجزاء اوخبر محذوف جزاء یجزون جزاء مفعول مطلق۔ الذین تثنیۃ فی حالۃ النصب لکونہ مفعولا ثانیاً لارنا من الجن والانس بیان لہ نجعلھما بالسکون لکونہ جواب الامر و ہوا رنا بکسر الراء عند الجمہور۔
تفسیر : کفار کے کفر پر جہنم کی سخت سزا بیان فرما کر ان کے کفر میں مبتلا ہونے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال و قیضنا لہم قرناء الخ تقیض کے معنی ہیں آسان کرنا اور آمادہ کرنا، صاحب صحاح کہتے ہیں یقال قاضیت الرجل مقایضۃ ای عاوضۃ بمتاع و بماقیضان، قرنا جمع قرین ساتھی۔ یعنی ہم نے ان کفار کا شیاطین کو یارو مددگار بنادیا تھا، پس شیاطین نے ان کی نظروں میں ان کے سامنے یا آگے جو باتیں ہیں امور…
Read the full tafseer →وَقَـیَّـضْنَا لَہُمْ قُرَنَـآئَ فَزَیَّنُوْا لَھُمْ مَّابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ج اِنَّھُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 25)
(اور ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کردیئے تھے جو انھیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بنا کے دکھاتے تھے۔ آخر ان پر بھی وہی بات پوری ہو کے رہی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر پوری ہوچکی تھی۔ یقینا وہ خسارے میں رہنے والے تھے۔ )
مسلسل اعراض کا نتیجہ
بعض دفعہ تبلیغ و دعوت کا کام کرنے والوں کو ایسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو انھیں بعض…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جب انسان فکری اور اعتقادی طور پر اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیتا ہے تو پھر وہ اپنے نظریات اور معاشرے کی رسومات کو اپنے لیے حرف آخر سمجھتا ہے اور یہ چیز اس پر اس طرح مسلط ہوجاتی ہے کہ وہ اس کے سوا کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتا ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بھی کھلا چھوڑ دیتا ہے۔
انسان میں لاپرواہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی برا کام اس کے لیے فیشن بن جاتا ہے۔ جو لوگ قیامت کے حساب اور اپنے رب کو بھول جاتے ہیں۔ ان پر شیطان مسلّط کردیا جاتا ہے۔ جس پر شیطان مسلّط کردیاجائے۔ تو اس کی سوچ، کردار اور ماحول برا بن جاتا ہے۔ اگر حکمران ہے تو اس کے وزیر، مشیر، اس کے برے کاموں کی تعریف کرتے…
Read the full tafseer →مکہ والے بھی عذاب کے مستحق ہوچکے۔
وَقَيَّضْنَا لَهُمْ (اور ہم نے ان کے لیے مقرر کردئیے) مشرکین مکہ کیلئے مقرر کردئیے۔ عرب کہتے ہیں ھذان ثوبان قیضان ای مثلان۔ یہ دونوں کپڑے مماچل ہیں۔ المقایضہ معاوضہ کو کہتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے ہم نے ان پر مسلط کردیے۔ قُرَنَاۗءَ (ساتھ دینے والے) شیاطین میں سے دوست۔ قرناء جمع قرین کی ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا فھو لہ قرین (زخرف :36) فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ (پس انہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نظر میں مستحسن کر رکھے تھے) بین ایدیہم سے وہ اعمال جو پہلے کرچکے اور ما خلفہم سے جن کا وہ…
Read the full tafseer →تفسیر 24۔۔۔۔۔۔ ، فان یصبروافاظنار مثوی لھم، ان کا ٹھکانہ ہے۔ ، وان یستعتبوا، وہ رضاکوطلب کریں اور عتبہ کو تلاش کریں۔ ، فماھم من المعتبین، معتب وہ شخص جس کا عتاب قبول کرلیا گیا ہو اور اس نے جو مانگا ہو اس کو قبول کرلیا گیا ہو۔ کہاجاتا ہے، اعتبنی فلان، یعنی اس نے مجھے ناراض کرنے کے بعد راضی کردیا اور، استعتبہ ، یعنی میں نے اس سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھ سے راضی ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 25۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ پردہ کی باتوں کو مشرک لوگ اللہ کے علم سے باہر گمان کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے اس گمان نے ان کو ہلاکت اور ٹوٹے میں ڈالا کیونکہ اسی گمان کے سبب سے ان لوگوں کو کثرت گناہوں کی جرأت بڑھ گئی گناہ کرتے رہے اور اسی گمان میں رہے کہ ان کے بہت سے گناہ اللہ کے علم سے باہر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ غیب دان ان کے اس گمان کو جھوٹا کر کے ان کے سب گناہ ان کو جتلا دے گا اور ان کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم اس آگ کی مصیبت پر صبر کرو یا جھوٹے عذر پیش کرکے غل شور مچاؤ کسی طرح اب اس آگ سے تم کو نجات نہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →آیت 25
یعنی ہم نے حق کا انکار کرنے والے ان ظالموں کے لئے (قرنآء) ” ہم نشین “ شیاطین کو ساتھی مقرر کردیا ہے۔ جی اس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کفار کی طرف شیاطین کو بھیجتے ہیں جو انہیں برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ ‘ یعنی وہ انہیں گناہ کا ارتکاب کرنے کے لئے بےقرار رکھتے ہیں اور ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ان شیاطین نے مزین کردیا (لھم مابین ایدیھم وما خلفھم) ” ان کے لئے جو ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا ‘ پس ان شیاطین نے دنیا اور اس کی خوبصورتی کو ان کی آنکھوں کے سامنے مزین کردیا اور انہیں اس کی لذات و شہوات محرمہ کے حوالے کردیا، یہاں تک کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
41 برائی کی ایک نقد سزا، برے ساتھیوں کا تسلط ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ برے لوگوں کی برائی کا نتیجہ وانجام اور برائی کی ایک نقد سزا برے ساتھیوں کا تسلط ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو اس ارشاد سے خداوند قدوس کی اس سنت کو واضح فرما دیا گیا کہ برے لوگوں کیلئے برے ساتھیوں کا غلبہ و تسلط اور ان کی ان کیلئے تزیین و تحسین انکے عمل کا طبعی نتیجہ وثمرہ ہے۔ یعنی ہمارا قانون اور ضابطہ یہی ہے کہ جو لوگ ہماری تعلیمات سے منہ موڑ کر دنیا اور اس کی لذات ہی کے اسیر و غلام بن کر رہ جاتے ہیں ان پر ان کے ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جاتے ہیں جو ان کیلئے ان کی برائیوں کو بھی اچھائیوں کی شکل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات
تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
آیات 18 تا 25۔
اسرار ومعارف ۔
اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔
اعضاء کی گواہی۔
توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی انسانوں اور جنوں میں سے برے ساتھی
10 اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اگر انسان برا ہو تو اسے ساتھی بھی برے میسر آتے ہیں جو اسے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان برائیوں میں مگن ہوجاتا ہے اور آخر کار خود کو اپنے ساتھیوں سمیت لے ڈوبتا ہے۔ ( دیکھئے زخرف : 36)
Read the full tafseer →(41:25) قیضنا۔ ماضی جمع متکلم تقییض (تفعیل) مصدر۔ قیض مادہ۔ قیض کے معنی انڈے کا بالائی چھلکا۔ چھلکا انڈے کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے اس مناسبت سے تقییض کے معنی ہوئے ساتھ لگا دینا۔ پیچھے لگا دینا۔ مسلط کردینا۔ یعنی ہم نے ان کے ساتھ لگا دیا۔ چمٹا دیا۔ یا مسلط کردیا۔
قرناء جمع اس کا واحد قرین ہے۔ ہمنشین، ساتھ رہنے والے۔ ساتھی وہم قرناء ہم من الشیطین علی التحقیق۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے شیاطین جن و انس میں سے بعض کو ان پر بطور ساتھیوں کے لگا رکھا تھا۔ جو ان کو راہ راست سے بھٹکائے رکھتے اور کفر و معاصی کو مزین کرکے ان کو دکھاتے تھے۔ ای ان اللّٰہ تعالیٰ سلط علی الکفرین قرناء من الشیاطین یضلونھم عن الھدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25 : یحشر ( اکٹھے کئے جائیں گے) یوزعون (گروہوں میں تقسیم ہوں گے) شھد (اس نے گواہی دی) جلود (جلد) ( کھالیں ، گوشت پوست ، چمڑے) لم شھدتم (تم نے گواہی کیوں دی) انطقنا (ہمیں بولنے کی طاقت دی) مرۃ (مرتبہ ، باربار) تستترون ( تم پردہ کرتے ہو ، چھپاتے ہو) اردی ( اردائ) (ہلاک کیا ، تباہ کیا) یستعتبوا (راضی کریں گے) قیضنا (ہم نے مقرر کردیا)
تشریح : آیت نمبر 19 تا 25 : انسان راز داری کے ہزاروں پردوں کے اندر چھپ کر کوئی کام کرے یا اعلانیہ کھلم کھلا ۔ اللہ کو اس کی ایک ایک ایک حرکت کا علم ہوتا ہے۔ جس بات کو دنیا کا کوئی آدمی نہیں جانتا اور ہر ایک سے پوشیدہ ہے اللہ کو اس کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
منکرین اسلام کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : کفار قریش ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ جب محمد ﷺ قرآن شریف پڑھیں تو زور زور سے شور کروخوب چلاؤ، اور اونچی اور نیچی آوازیں نکال کرچیخو بےمعنی کلمات سے شور کرو تالیاں اور سیٹیاں بجاؤ تاکہ کوئی قرآن سننے نہ پائے اور محمد ﷺ پریشان ہوں، اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو سخت عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے روکنا یارکنا خدا کا دشمن بننے کی نشانی ہے اور جن لوگوں کے بہکانے سے دوزخی لوگوں نے برے کام کیے ہیں دوزخ میں جانے کے بعد یہ لوگ کہویں گے یا اللہ ہم تو آفت میں پھنسے ہیں لیکن آدمیوں اور جنوں میں سے جن شیطانوں نے ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔
[14] یعنی وعدہ عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
برے دوست
1: یہ ایک انداز بیان ہے ان کے لئے برے ہمنشین مقرر کر رکھے تھے ۔ اور نہ مقصد یہ ہے کہ کہ ان کچھ ایسے یاران صحبت تھے ۔ جو اپنی گناہوں میں حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ اور ان کے اعمال بد کو سنوار سنوار کر پیش کرتے تھے ۔ جس سے ان کے دل میں احساس تک نہیں پیدا ہوتا تھا ۔ ورنہ خدا نہیں چاہتا کہ اس کے بندے گمراہ ہوں ۔ وہ ایک قلم رحمت ہے رمودت ہے اور راحت و شفقت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتا ۔ کہ انسان کو عقل سے بہرہ مند کردے اور پھر دوسرے ذرائع تربیت سے ہاتھ اٹھائے بلکہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ۔ توفیق ہدایت سے مشرف کرتا ہے ۔ معجزات و دلائل پیش کرتا ہے ۔ تاکہ اس کا بندہ محروم نہ…
Read the full tafseer →(25) اور ہم نے ان کفار کے لئے کچھ ایسے ہم نشین مقرر کردیئے تھے جنہوں نے ان کی نگاہ میں ان کے پہلے اور پچھلے اعمال کو یا دنیا اور آخرت کو خوش نما اور امید افزا اپنا رکھا تھا اور آج ان کافروں کے حق میں بھی اللہ تعالیٰ کا وہ کلمۃ العذاب پورا ہوکر رہا جو ان امتوں کے حق میں ہوا تھا جو امتیں جنات اور انسان کی ان سے پہلے گزر چکی ہیں کیونکہ وہ سب زیاں کار تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا کفر وعناد اور سرکشی بڑھ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و ہدایت کا اثرکم ہوجاتا ہے اور شیطان کا اثر بڑھ جاتا ہے اور شیطان اس پر قابو پالیتا ہے اور اس کو برے اعمال کو خوبیاں اور بھلائیاں سمجھاتا ہے اور آخر برباد کرکے…
Read the full tafseer →ف 2۔ اوپر شروع سورت میں قرآن و رسالت کے متعلق مضمون تھا، آگے اس کے منکرین پر تقریع وتشنیع ہے۔
Read the full tafseer →ان کے لیے ایسے ساتھی تھے جوان کو نیکی کے قریب جانے نہیں دیتے تھے
25 ؎ اللہ تعالیٰ کے عذابوں میں سے ایک عذاب یہ بھی ہے کہ کسی قوم کو بڑے لیڈر اور بڑے رہنما مل جائیں جو ان کو سیدھی راہ سے روک کر بری راہ پر لگادیں اور بلاشبہ دنیا کے سارے عذابوں میں سے یہ برا عذاب ہے جس کا نتیجہ اس قوم کو دنیا میں بھی بھگتنا پڑتا ہے اور آخرت بھی ان کی برباد ہوجاتی ہے اگر قارئین برا نہ مانیں تو یہی حالت اس وقت مجموعی طور پر مسلمان قوم کی ہے اور خصوصاً اس ملک عزیز کی جس کو حاصل کرنے کے لیے اس ملک کے باسیوں نے بیشمار قربانیاں دیں۔ بہرحال اس جگہ سنت الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے اور اہل مکہ کو بات سمجھائی جارہی ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ (And you had not been hiding your selves [ when committing sins ] because of [ the apprehension ] that your ears and your eyes and your skins would bear witness against you,….41:22) This verse means that if anyone wants to commit a sin or a crime, he may hide it from others, but how can he hide it from his own limbs and organs? When it is known that our ears, eyes, hands, feet, skin and hair are not ours, rather they are witnesses of the state against us, and when they would be questioned about our deeds, they would give true…
Read the full tafseer →29 This is the permanent and eternal way of Allah that He dots not let the men with evil intentions and desires have good companions, but lets them have bad companions according to their own inclinations. Then, as they go on descending into the depths of vice, more and more evil and wicked men and devils go on joining them as their associates and advisers and companions. Some people's saying that so-and-so is himself a very good man but happens to have bad companions is, in fact, contrary to fact. The law of nature is that every man gets the same sort of friends as he himself is. If bad…
Read the full tafseer →