Explained with ayahs 19–24
انسان اپنا دشمن آپ ہے۔
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے جیسے فرمان ہے (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86ۘ) 19۔ مریم :86) یعنی گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کردیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضا کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے۔ کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ کہیں گے اللہ…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 28
اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی طرف پلٹنا چاہیں گے تو پلٹ نہ سکیں گے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو نہ نکل سکیں گے، اور یہ بھی کہ توبہ اور معذرت کرنا چاہیں گے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(آیت) وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ الآیة۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ انسان اگر چھپ کر کئی جرم و گناہ کرنا چاہے تو دوسرے لوگوں سے تو چھپا سکتا ہے، خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیسے چھپائے۔ جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور بدن کی کھال اور بال سب ہمارے نہیں بلکہ سرکاری گواہ ہیں اور جب ان سے ہمارے اعمال کو پوچھا جاوے گا تو سچی گواہی دے دیں گے تو پھر چھپا کر کوئی جرم و گناہ کرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا، اس رسوائی سے بچنے کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ گناہ کو ہی چھوڑا جائے۔ مگر تم لوگ یعنی منکرین توحید و رسالت کا ذہن ادھر تو کیا جاتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
’ تسترون کا مفہوم
تسترون کی تاویل بعض اہل تاویل نے تخافون سے کی ہے۔ ان کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے کان، آنکھ اور دوسرے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ میرے نزدیک لفظ کی یہ تعبیر صحیح ہے۔ یہ لازم سے ملزوم پر استدلال کی نوعیت کی ایک چیز ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ اندیشہ رکھتے ہوتے تو کوئی برا کام کرتے ہوئے ان سے چھپتے لیکن جب ان سے وہ نہیں چھپتے تھے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ ان سے کوئی اس نوعیت کا اندیشہ نہیں رکھتے تھے۔
’ ولکن ظننتم…الآیۃ ‘۔ ’ لکن ‘ یہاں ’ بل ‘ کے مفہوم میں ہے یعنی اعضا کی گواہی کا اندیشہ تو درکنار تمہاری…
Read the full tafseer →24۔ 1 ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ اگر وہ منانا چاہیں گے تاکہ وہ جنت میں چلے جائیں تو یہ چیز ان کو کبھی حاصل نہ ہوگی (ایسر التفاسیر و فتح القدیر) بعض نے اس کا مفہرم یہ بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی آرزو کریں گے جو منظور نہیں ہوگی ابن جریر طبری نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ان کا ابدی ٹھکانا جہنم ہے اس پر صبر کریں تب بھی رحم نہیں کیا جائے گا جیسا کہ دنیا میں بعض دفعہ صبر کرنے والوں پر ترس آجاتا ہے یا کسی اور طریقے سے وہاں سے نکلنے کی سعی کریں مگر اس میں بھی انہیں ناکامی ہی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
11: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض احمق کافر یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ کوئی گناہ چھپ کر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوگا، اس وقت وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے گناہ کا نہ کوئی گواہ ہے، اور نہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کو اس کا پتہ چلے گا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات کا گواہ ہے ہی، خود ان کے جسم کے یہ اعضاء بھی ان کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔
Read the full tafseer →فان یصبروا فالنار مثوی لھم (41 : 24) ” اس حالت میں اگر وہ صبر کریں تو آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے۔ صبر اب آگ جہنم پر ہے۔ یہ وہ صبر نہیں ہے جس کے نتیجے میں انسان کو خوشی ، اور حسن جزاء نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر جزاء نار جہنم ہے کیونکہ اب تو قرار دیا جا چکا ہے کہ یہی ان کا ٹھکانا ہے۔
وان یستعتبوا فماھم من المعتبین (41 : 24) ” اگر رجوع کا موقعہ چاہیں گے تو کوئی موقعہ انہیں نہ دیا جائے گا “ ۔ نہ وہاں رضا مندی ہے اور نہ وہاں توبہ کی گنجائش ہے۔ کیونکہ جو شخص معافی مانگتا ہے تو معافی تب ہوتی ہے جب ظلم و زیادتی کو زائل کر کے معافی طلب کی جائے۔ آج تو معافی اور ازالے کا دروازہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی دنیا میں بعض بلاصبر سے آسان ہوتی ہے، وہاں صبر کریں یا نہ کریں، دوزخ گھر ہوچکا (جہاں سے کبھی نکلنا نہیں) اور بعض منت خوشامد کرنے سے ٹلتی ہے وہاں بہتیرا چاہیں کہ منت کریں، کوئی قبول نہیں کرتا۔ "
Read the full tafseer →آیت 24 { فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ } ”تو اب اگر یہ لوگ صبر کریں یا نہ کریں پس ان کا ٹھکانہ آگ ہی ہے۔“
{ وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا ہُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ } ”اور اگر وہ معافی مانگیں تو اب انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔“
قیامت کے دن وہ چاہیں گے کہ انہیں معافی مانگنے پر چھوڑ دیا جائے مگر اس وقت یہ ممکن نہیں ہوگا۔ معافی مانگنے اور استغفار کرنے کا موقع تو دنیا میں ہے۔ انفرادی طور پر ہر آدمی کی موت کے وقت تک اور اجتماعی طور پر قیامت کے آثار نمایاں ہونے تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ لیکن اس کے بعد عالم برزخ یا عالم آخرت میں توبہ کا کوئی سوال نہیں۔
Read the full tafseer →29 یعنی دنیا میں صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ لیکن وہاں صبر کا بھی کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ وہ صبر کریں یا نہ کریں عذاب سے نجات نہ مل سکے گی۔
30 استعتب کے مختلف مفہوم :۔ (یَسْتَعْتِبُوْا) کا مادہ عتب ہے اور عتب کے یا عتاب کے معنی ناراضگی دور کرنے کے لیے میٹھے انداز میں خفگی کا اظہار کرنا ہے یعنی ایسی میٹھی میٹھی سرزنش اور ملامت جس کا مقصد بالآخر رضامند ہونا اور مان جانا ہو اور إسْتَعْتَبَکے معنی کسی روٹھے ہوئے کو منا لینا اور اعتب کے معنی سبب ناراضگی کو دور کرنا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر وہ دوبارہ دنیا میں آنے کی…
Read the full tafseer →22۔ یعنی اگر یہ تن بتقدیر ہو کر صبر وخاموشی سے کام لیں، اور کوئی عذر ومعذرت نہ پیش کریں، جب بھی ان کے حق میں کوئی رعایت نہ ہوگی، جیسا کہ دنیا میں کبھی ہوجاتا ہے۔ اور عذر خواہی بھی اگر کرنا چاہیں تو اس دارالجزاء میں بالکل بیکار ثابت ہوگی، آخرت تو صرف ظہور نتائج کا محل ہے وہاں اگر دارالعمل والے قانون کی ذرا بھی گنجائش ہوتی تو سب سے پہلے ابلیس ہی نہ اپنی توبہ کے لئے اس گنجائش سے فائدہ اٹھاتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
آیت نمبر 19 تا 25
ترجمہ : اور وہ دن یاد کرو کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (یَحْشُرُ ) میں یاء اور نون مفتوح اور شین کے ضمہ کے
ساتھ اور (اَعْدَاءَ ) کے (آخری) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے قریب آجائیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ (لوگ) اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے ہمیں اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو جس کو چاہا بولنے کی طاقت بخشی اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے، کہا گیا ہے کہ وہ (یعنی وھو خلَقَکم اول مرّۃ الخ) کھالوں کا کلام ہے اور…
Read the full tafseer →فان یصبروا فالنار مثوی لھم وان یستعتبوا فماھم من المعتبین اب اگر وہ (دوزخ کے اندر) صبر
کریں گے تو دوزخ ان کا ٹھکانا ہے ہی (کبھی وہاں سے نجات نہیں ملے گی) اور اگر معافی طلب کریں گے تو معافی یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوں گے۔
وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا یعنی اگر وہ رب کو راضی کرنے چاہیں گے اور خواستگار عقبیٰ ہوں گے۔ عقبیٰ کا معنی ہے اپنی پسندیدہ حالت کی طرف لوٹنا۔
فَمَا ھُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ تو ان کی یہ درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23۔ 24) مگر تم اس گمان اور دعوے میں رہے کہ ہم خاموشی کے ساتھ کام کرتے اور باتیں کرتے ہیں اس کی اللہ کو خبر نہیں اور تمہارے اسی جھوٹے گمان نے جو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تمہیں ہلاک کردیا۔
کہ تم سزا کی وجہ سے خسارہ میں پڑگئے اب خواہ تم دوزخ میں صبر کرو یا نہ کرو دوزخ تمہارا ٹھکانا ہے۔ اور اگر دنیا میں پھر واپس جانے کی درخواست کرو تو تمہیں دنیا میں اب ہرگز واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
Read the full tafseer →فان یصبروا فالنار مثوی لھم …: یعنی دنیا میں کئی مصیبتیں صبر کرنے سے ٹل جاتی ہیں یا آسان ہو منتیں جتنی چاہیں کریں کوئی قبول نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(وما کنتم تسترون۔۔۔۔۔۔۔۔ )
وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم یہ جائز ہے کہ یہ اعضاء کا ان کے لیے قول ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ یا فرشتوں کا قول ہو۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک روایت مروی ہے کہ بیت اللہ شریف کے پاس تین افراد جمع ہوئے دو قریشی تھے اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی۔ ان کے دلوں میں فہم کم تھا اور پیٹوں کی چربی بہت زیادہ تھی ان میں سے ایک نے کہا : بتائو ہم جو کہتے تھے اللہ تعالیٰ اسے سنتا ہے۔ دوسرے نے کہا : اگر ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ سنتا ہے اور اگر ہم خفیہ طریقہ سے بات کریں گے تب بھی وہ نہیں سنتا۔ تیسرے سے کہا : جب ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ (اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے پھر روکے جائیں گے) یعنی ان میں سے پہلے کو آخری پر روک دیا جائے گا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور ابورزین (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوزعون “ سے مراد ہے کہ ان کو دھکیل دیا جائے گا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ میں ” الوزعہ “ سے مراد ہے فرشتوں میں سے ہانکنے والے کہ وہ ان کو دوزخ کی…
Read the full tafseer →فَاِنْ يَّصْبِرُوْا [ پس اگر وہ لوگ صبر کریں (یا نہ کریں ) ] فَالنَّارُ [پھر آگ ] مَثْوًى لَّهُمْ ۭ [ ٹھکانہ ہے ان کے لئے ] وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا [ اور اگر وہ لوگ رضا مندی چاہیں گے ] فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ [ تو وہ نہیں ہوں گے راضی کئے ہوؤں میں سے ]
Read the full tafseer →(فَاِِنْ یَصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًی لَہُمْ ) سو یہ لوگ جو دوزخ میں داخل کرنے کے لیے جمع کردئیے گئے ہیں ان کو دوزخ میں داخل ہونا ہی ہے اور انہیں اس میں رہنا ہی ہے اور ہمیشہ رہنا ہے صبر کریں یا نہ کریں دوزخ ہی ان کا ٹھکانہ ہے یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں تکلیف پر صبر کرلیتے تھے تو بعد میں اچھی حالت آجاتی تھی وہاں صبر کرنا کوئی کام نہیں دے گا (وَاِنْ یَسْتَعْتِبُوْا فَمَا ھُمْ مِنَ الْمُعْتَبِیْنَ ) (اور اگر وہ چاہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیں اور اس کے لیے درخواست کریں تو ان کی یہ درخواست منظور نہیں کی جائے گی) راضی کرنے کا موقع موت سے پہلے تھا، ایمان لاتے اعمال صالحہ کرتے نافرمانیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
25:۔ ” وقیضنا لہم “ یہ دوسرے شکوے کی تمہید ہے اور اس سورت کا مقصود ہی مقام ہے۔ سورة مومن کے مرکزی دعوے پر جو اعتراض اور شبہہ وارد ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ شبہہ یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ مصائب و حاجات میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اس لیے کہ اس کے سوا کوئی متصرف و مختار اور کارساز نہیں۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے اور غیر اللہ کو پکارے یا غیر اللہ کے نام نذر و منت مانے، تو وہ مصیبت سے چھوٹ جاتا ہے۔ نیز بعض اوقات پیر و مرشد اور بزرگان دین اپنے عقید مندوں کو خواب میں ملتے ہیں یا کبھی بیداری ہی میں سامنے آجاتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تکلیف تمہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ربط آیات
گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی سر کشی اور انکار نبوت اور پھر ان کے ساتھ دنیا میں ہونے والے سلوک کا ذکر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا تھا تو کسی فرشتے کو اپنا پیغام دے کر بھیج دیتا تو ہم ایمان لے آتے ، ہم کسی انسان کو نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر ان قوموں نے توحید و رسالت دونوں کا انکار کیا ۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر تند ہوا بھیج دی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک…
Read the full tafseer →فَاِنْ يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّہُمْ 0 ۚ وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا ہُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ترکیب : یوم ظرف لما دل علیہ مابعدہ وھو قولہ فہم یوزعون ان یشہد ای من ان یشھد لان یستتر لایتعدی بنفسہ و ذلکم مبتداء و ظنکم خبرہ الذی لغت للخبر او خبر بعد خبر واردکم خبر آخر ویجوزان یکون الجمیع صفت او بدلاء و ارادکم الخبر و یجوزان یکون حالا یستعتبوایطلب العتبیٰ ۔
تفسیر : دنیا کی سزا بیان کرکے آخرت کی سزا اور اس عالم کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ بیان کامل ہوجاوے فقال و یوم یحشر کہ جس روز دشمنان خدا آتش جہنم کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے، ان کو ٹھہراویں گے۔ یہاں تک کہ سب جمع ہوجاویں گے، پھر ان کے اعمال قبیحہ پر ان کی آنکھیں اور کان جلدیں گواہی دیں گے۔ حواس گو پانچ ہیں، مگر قوت شامہ سے کوئی تعلق…
Read the full tafseer →فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالْـنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ ج وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا ھُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 24)
(پس اگر وہ صبر کریں تو نارجہنم ہی ان کا ٹھکانہ ہے، اور اگر وہ معافی مانگیں گے تو ان کو معافی نہیں ملے گی۔ )
قیامت کا عذاب حتمی ہے، رویوں سے متاثر نہیں ہوگا
جن لوگوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اگر وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر مطمئن ہو کر صبر کریں، یعنی نہ اس سے نکلنے کی جستجو کریں اور نہ زبان سے اس کے خلاف کچھ کہیں بلکہ اس بات کا یقین کرلیں کہ ہم اسی سزا کے مستحق تھے، ہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رسول کو ماننے سے انکار کیا، اس پر نازل ہونے والی کتاب سے فائدہ اٹھانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے اعضاء کی مزید گواہی۔
جب جہنمیوں کے اعضاء اور ان کے وجود گواہی دے رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ کیا تم اپنا گھناؤنا کردار اس لیے چھپایا کرتے تھے کہ شاید تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری چمڑیاں گواہی نہ دیں گی اور تم یہ بھی گمان رکھتے تھے کہ تمہارے بہت سے اعمال کا تمہارے رب کو علم نہیں ہوگا۔ اپنے رب کے بارے میں جو تم گمان رکھتے تھے۔ اسی نے تمہیں ہلاک کردیا اور تم نقصان پانے والوں میں شامل ہوگئے۔ اب صبر کرو یا واویلا کرو دونوں صورتوں میں تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ سوچ…
Read the full tafseer →صبر و عذر سب بےفائدہ : فَاِنْ يَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ (پس اگر یہ لوگ صبر کریں تب بھی دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے) یعنی اگر یہ صبر کریں تو وہ ذرہ بھر سود مند نہیں۔ اس کی وجہ سے وہ آگ کی قرار گاہ سے آزادی نہیں پاسکتے۔ وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ (اور اگر وہ عذر پیش کرنا چاہیں گے تو بھی مقبول نہ ہوگا) اگر وہ رضا طلب کریں تو ان سے رضا قبول نہ کی جائے گی۔ یا نمبر 2 ۔ اور اگر وہ طلب رضا مندی کا موقعہ چاہیں گے۔ تو وہ بھی ان کو میسر نہ کیا جائے اور ان کی بات اس سلسلہ میں قبول نہ کی جائے گی۔
Read the full tafseer →23، وذلکم ظنکم الذی ظننتم بربکم ارداکم، تمہیں ہلاک کردیا یعنی تمہارے اس گمان نے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اکثر اعمال کو نہیں جانتے تمہیں ہلاک کردیا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمہیں آگ میں ڈال دیا ہے۔ ، فاصبحتم من الخاسرین، پھر ان کے مال کی خبردیتے ہوئے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
23۔ 25۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ پردہ کی باتوں کو مشرک لوگ اللہ کے علم سے باہر گمان کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے اس گمان نے ان کو ہلاکت اور ٹوٹے میں ڈالا کیونکہ اسی گمان کے سبب سے ان لوگوں کو کثرت گناہوں کی جرأت بڑھ گئی گناہ کرتے رہے اور اسی گمان میں رہے کہ ان کے بہت سے گناہ اللہ کے علم سے باہر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ غیب دان ان کے اس گمان کو جھوٹا کر کے ان کے سب گناہ ان کو جتلا دے گا اور ان کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم اس آگ کی مصیبت پر صبر کرو یا جھوٹے عذر پیش کرکے غل شور مچاؤ کسی طرح اب اس آگ سے تم کو نجات نہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے، جنہوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہوگا۔ ان کو اکٹھا کیا جائے گا (الی النار فھم یوزعون) ” آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے “۔ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے۔ وہ اپنی مدد خود کرسکیں گے نہ ان کی مدد کی جاسکے گی۔ (حتی اذا ماجاء وھا) یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا…
Read the full tafseer →40 منکروں کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اگر صبر کریں ۔ یا بےصبری ۔ ان کا ٹھکانا بہرحال دوزخ ہی ہے "۔ اگر وہ معافی مانگیں گے تو ان کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہاں پر نہ انکا کوئی عذر قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ان کو کوئی معافی ملے گی ۔ سبحان اللہ !۔ دنیا میں تو اپنے رب کو منوانے اور راضی کرنے کے لئے طرح طرح سے ترغیب دی جا رہی ہے کہ آج اس کا موقع ہے اور وہاں پر وہ منوانے اور راضی کرنے کے لئے اس قدر بڑے جتن بھی اگر کریں گے تو بھی کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ہمیں میسر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات
تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
آیات 18 تا 25۔
اسرار ومعارف ۔
اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔
اعضاء کی گواہی۔
توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و…
Read the full tafseer →ف 8 مطلب یہ ہے کہ اگر وہ منت سماجت کریں گے تو بھی ان کی شنوائی نہ ہوگی۔ دوسرا مطلب امام ابن جریر (رح) نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر وہ یہ چاہیں کہ انہیں دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تو انہیں لوٹا یا نہ جائے گا۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(41:24) فان یصبروا فالنار مثوی لہم : ان شرطیہ ہے اور فالنار میں فاء جواب شرط کے لئے ہے یصبروا کے بعد اولا تصبروا کلام مقدرہ ہے یعنی وہ صبر کریں یا نہ کریں آگ ہی ان کا ٹھکانا ہے۔
ان یستعتبوا : ان شرطیہ ہے۔ یستعتبوا مضارع مجزوم کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ۔ استعتاب (استفعال) مصدر بمعنی طلب اعتاب ، یعنی ناراضگی کو دور کرنے کی طلب ای طلب العتبی۔ یعنی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے کوئی عذر پیش کریں گے (تو ان کی معذرت قبول نہ ہوگی) نیز ملاحظہ ہو 16:84
المعتبین : اسم مفعول جمع مذکر المعتب واحد عتب ومعتبۃ اسم ومصدر ناراضگی۔ ناراض ہونا۔ اعتاب (افعال) مصدر سے ہے ناراضگی کا اظہار کرنا۔ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25 : یحشر ( اکٹھے کئے جائیں گے) یوزعون (گروہوں میں تقسیم ہوں گے) شھد (اس نے گواہی دی) جلود (جلد) ( کھالیں ، گوشت پوست ، چمڑے) لم شھدتم (تم نے گواہی کیوں دی) انطقنا (ہمیں بولنے کی طاقت دی) مرۃ (مرتبہ ، باربار) تستترون ( تم پردہ کرتے ہو ، چھپاتے ہو) اردی ( اردائ) (ہلاک کیا ، تباہ کیا) یستعتبوا (راضی کریں گے) قیضنا (ہم نے مقرر کردیا)
تشریح : آیت نمبر 19 تا 25 : انسان راز داری کے ہزاروں پردوں کے اندر چھپ کر کوئی کام کرے یا اعلانیہ کھلم کھلا ۔ اللہ کو اس کی ایک ایک ایک حرکت کا علم ہوتا ہے۔ جس بات کو دنیا کا کوئی آدمی نہیں جانتا اور ہر ایک سے پوشیدہ ہے اللہ کو اس کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
منکرین اسلام کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : کفار قریش ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ جب محمد ﷺ قرآن شریف پڑھیں تو زور زور سے شور کروخوب چلاؤ، اور اونچی اور نیچی آوازیں نکال کرچیخو بےمعنی کلمات سے شور کرو تالیاں اور سیٹیاں بجاؤ تاکہ کوئی قرآن سننے نہ پائے اور محمد ﷺ پریشان ہوں، اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو سخت عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے روکنا یارکنا خدا کا دشمن بننے کی نشانی ہے اور جن لوگوں کے بہکانے سے دوزخی لوگوں نے برے کام کیے ہیں دوزخ میں جانے کے بعد یہ لوگ کہویں گے یا اللہ ہم تو آفت میں پھنسے ہیں لیکن آدمیوں اور جنوں میں سے جن شیطانوں نے ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
[12] اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن تمام چیزیں بول اٹھیں گی جن کے سامنے انسان نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا یہاں تک کہ زمین بھی بولے گی جیسا کہ سورة زلزال میں مذکور ہے۔ احادیث میں ہے کہ بعض ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار کریں گے جو انہوں نے دنیا میں کئے تھے تو اس وقت حکم ہوگا کہ ان کے اعضا کی شہادت پیش کی جائے جن کے ذریعے گناہ کئے تھے۔ ہاتھ اور پاؤں کی گواہی کا ذکر سورة یٰسین میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
برے دوست
1: یہ ایک انداز بیان ہے ان کے لئے برے ہمنشین مقرر کر رکھے تھے ۔ اور نہ مقصد یہ ہے کہ کہ ان کچھ ایسے یاران صحبت تھے ۔ جو اپنی گناہوں میں حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ اور ان کے اعمال بد کو سنوار سنوار کر پیش کرتے تھے ۔ جس سے ان کے دل میں احساس تک نہیں پیدا ہوتا تھا ۔ ورنہ خدا نہیں چاہتا کہ اس کے بندے گمراہ ہوں ۔ وہ ایک قلم رحمت ہے رمودت ہے اور راحت و شفقت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتا ۔ کہ انسان کو عقل سے بہرہ مند کردے اور پھر دوسرے ذرائع تربیت سے ہاتھ اٹھائے بلکہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ۔ توفیق ہدایت سے مشرف کرتا ہے ۔ معجزات و دلائل پیش کرتا ہے ۔ تاکہ اس کا بندہ محروم نہ…
Read the full tafseer →(24) پھر اگر اب یہ توگ صبرکریں تب بھی ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر وہ کوئی عذر کریں اور خدا کو راضی کرنا چاہیں تو بھی ان کا کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل نہ ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں بعضی بلا صبر سے آسان ہوتی ہے وہاں صبرکریں یا نہ کریں دوزخ گھر ہوچکا اور بعضی بلاٹلتی ہے منت کرنے سے وہاں بہترا چاہیں کہ منت کریں کوئی قبول نہیں کرتا۔
خلاصہ : یہ کہ صبر کرنا یا نہ کرنا نہ تو آگ سے بچا سکتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کو منت اور سماجت سے منانے اور راضی کرنے کی کوشش کامیاب ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یہ نہیں کہ ان کی صبر و خموشی موجب رحم ہوجاوے، جیسا احیانا دنیا میں ایسا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 24 تا 27
اب روئیں ، چیخیں یا صبر کریں دونوں حال ان کے لیے برابر ہوں گے
24 ؎ کفار کو کہا جارہا ہے کہ دنیا میں تم کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے لیکن تم نے ان کو ایک نہ سنی اور اپنی من مانیاں کرتے رہے اب جب تم کو تمہارے کاموں کے نتیجہ میں پکڑلیا گیا ہے تو اب تم روئویا چیخویا صبر کرکے خاموش ہوجائویہ تمہاری مرضی اس لیے کہ تمہارا ٹھکانا تو اب آگ ہی ہے اور اس آگ میں تم کو رہنا ہے اس وقت تم رو رو کر اور چیخیں مار مار کر بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو راضی کرنا چاہو تو اس کے راضی ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اب وقت گزرچکا ہے اب تم چاہو جو بھی کرو اللہ کریم کبھی راضی ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ (And you had not been hiding your selves [ when committing sins ] because of [ the apprehension ] that your ears and your eyes and your skins would bear witness against you,….41:22) This verse means that if anyone wants to commit a sin or a crime, he may hide it from others, but how can he hide it from his own limbs and organs? When it is known that our ears, eyes, hands, feet, skin and hair are not ours, rather they are witnesses of the state against us, and when they would be questioned about our deeds, they would give true…
Read the full tafseer →28 It can also mean this: "If they would want to return to the world, they would not be able to return," and this: "If they would want to come out from Hell, they would not be able to come out of it," and this: "If they would want to offer an excuse or repentance, it would not be accepted."
Read the full tafseer →