Fussilat 41:23

Fussilat · from ayah 23

41:23

وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۟وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِىۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ اَرۡدٰٮكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that was your assumption which you assumed about your Lord. It has brought you to ruin, and you have become among the losers."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:23

تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہاری اسی بدگمانی نےجو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالﺂخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اپنے پروردگار کے بارے میں تمہارا یہی گمان تھا جس نے تمہیں برباد کیا، اور اسی کے نتیجے میں تم ان لوگوں میں شامل ہوگئے جو سراسر خسارے میں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے بارے میں قائم کیا، تمہیں ہلاک کر گیا سو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ تمہارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمہیں ہلاک کردیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے پروردگار کے متعلق کر رکھا تھا تمہیں لے ڈوبا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اپنے رب کے بارے میں تمہارا یہی وہ گمان ہے جس نے تم کو غارت کیا اور تم خسارے میں پڑنے والے بنے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تمہارے اسی گمان نے جو کہ تم نے اپنے رب کے بارے میں قائم رکھا تھا تم کو تباہ کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے تم ہوگئے (ابدی) خسارے والوں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور تمہارے اسی گمان نے جو تم اپنے پروردگار کے ساتھ رکھتے تھے تمہیں برباد کیا اور تم گھاٹے میں پڑ کررہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہارا یہی وہ گمان ہے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا جس نے تمہیں غارت کیا ہے تو آج تم ہوگئے خسارہ پانے والوں میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی خیال نے جو تم اپنے رب کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This thought of yours about your Lord has led to your perdition and you have become among the losers.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This thought of yours that you conceived about your Lord brought you to ruin, and you became among the losers.

— Muhammad Taqi Usmani

This thought of yours that you conceived about your Lord brought you to ruin, and you became among the losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that thought of yours which you thought about your Lord, has brought you to destruction; and you have become of those utterly lost!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That, your thought which ye did think about your Lord, hath ruined you; and ye find yourselves (this day) among the lost.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that was your assumption which you assumed about your Lord. It has brought you to ruin, and you have become among the losers."

— Saheeh International

This was how you considered your Lord, but He knows you better than you know yourselves. Thus, you are now lost".

— Muhammad Sarwar

And that was your (evil) thought which you entertained about your Lord that has tumbled you down into perdition, so are you become of the lost ones.

— Muhammad Habib Shakir

That thought of yours which ye formed concerning Your Lord, hath ruined you, and ye have become of the losers.

— Abdul Majid Daryabadi

"But this thought of yours which ye did entertain concerning your Lord, hath brought you to destruction, and (now) have ye become of those utterly lost!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–24

انسان اپنا دشمن آپ ہے۔ یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے جیسے فرمان ہے (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86؀ۘ) 19۔ مریم :86) یعنی گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کردیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضا کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے۔ کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ کہیں گے اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–23

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 27 حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ نے اس آیت کی تشریح میں خوب فرمایا ہے کہ ہر آدمی کا رویہ اس گمان کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے۔ مومن صالح کا رویہ اس لیے درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے، اور کافر و منافق اور فاسق و ظالم کا رویہ اس لیے غلط ہوتا ہے کہ اپنے رب کے بارے میں اس کا گمان غلط ہوتا ہے۔ یہی مضمون نبی ﷺ نے ایک بڑی جامع اور مختصر حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے انا عند ظن عبدی بی، " میں اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے۔ " (بخاری و مسلم)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–25

(آیت) وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ الآیة۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ انسان اگر چھپ کر کئی جرم و گناہ کرنا چاہے تو دوسرے لوگوں سے تو چھپا سکتا ہے، خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیسے چھپائے۔ جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور بدن کی کھال اور بال سب ہمارے نہیں بلکہ سرکاری گواہ ہیں اور جب ان سے ہمارے اعمال کو پوچھا جاوے گا تو سچی گواہی دے دیں گے تو پھر چھپا کر کوئی جرم و گناہ کرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا، اس رسوائی سے بچنے کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ گناہ کو ہی چھوڑا جائے۔ مگر تم لوگ یعنی منکرین توحید و رسالت کا ذہن ادھر تو کیا جاتا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 22–24

’ تسترون کا مفہوم تسترون کی تاویل بعض اہل تاویل نے تخافون سے کی ہے۔ ان کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے کان، آنکھ اور دوسرے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ میرے نزدیک لفظ کی یہ تعبیر صحیح ہے۔ یہ لازم سے ملزوم پر استدلال کی نوعیت کی ایک چیز ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ اندیشہ رکھتے ہوتے تو کوئی برا کام کرتے ہوئے ان سے چھپتے لیکن جب ان سے وہ نہیں چھپتے تھے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ ان سے کوئی اس نوعیت کا اندیشہ نہیں رکھتے تھے۔ ’ ولکن ظننتم…الآیۃ ‘۔ ’ لکن ‘ یہاں ’ بل ‘ کے مفہوم میں ہے یعنی اعضا کی گواہی کا اندیشہ تو درکنار تمہاری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 یعنی تمہارے اس اعتقاد فاسد اور گمان باطل نے کہ اللہ کو ہمارے بہت سے عملوں کا علم نہیں ہوتا تمہیں ہلاکت میں ڈال دیا کیونکہ اس کی وجہ سے تم ہر قسم کا گناہ کرنے میں دلیر اور بےخوف ہوگئے تھے اس کی شان نزول میں ایک روایت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قرشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قرشی جمع ہوئے فربہ بدن قلیل الفہم ان میں سے ایک نے کہا کیا تم سمجھتے ہو ہماری باتیں اللہ سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا ہماری جہری باتیں سنتا ہے اور سری باتیں نہیں سنتا ایک اور نے کہا اگر وہ ہماری جہری باتیں سنتا ہے تو ہماری سری باتیں بھی یقینا سنتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت وما کنتم…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–24

11: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض احمق کافر یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ کوئی گناہ چھپ کر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوگا، اس وقت وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے گناہ کا نہ کوئی گواہ ہے، اور نہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کو اس کا پتہ چلے گا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات کا گواہ ہے ہی، خود ان کے جسم کے یہ اعضاء بھی ان کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وذلکم ظننکم ۔۔۔۔ من الخسرین (41 : 23) ” تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا ، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑگئے “۔ اور اب اس پورے منظر پر تبصرہ اور اس سے حاصل ہونے والا سبق :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 23–24

5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی دنیا میں بعض بلاصبر سے آسان ہوتی ہے، وہاں صبر کریں یا نہ کریں، دوزخ گھر ہوچکا (جہاں سے کبھی نکلنا نہیں) اور بعض منت خوشامد کرنے سے ٹلتی ہے وہاں بہتیرا چاہیں کہ منت کریں، کوئی قبول نہیں کرتا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23 { وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰٹکُمْ } ”اور تمہارا یہی وہ گمان ہے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا ‘ جس نے تمہیں غارت کیا ہے“ اس حوالے سے ہمیں خود اپنے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے۔ اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ایک ایک حرکت کو دیکھتا اور جانتا ہے لیکن اپنے اس ایمان کے مطابق ہمارے دلوں میں اس بارے میں یقین پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم غلط کام کرتے ہوئے اس حقیقت سے لاپرواہی برت جاتے ہیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے ‘ ورنہ اگر واقعی کسی کے دل میں یقین ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے تو بھلاوہ کوئی غلط حرکت کیسے کرسکتا ہے۔ { فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 اللہ کے متعلق جیسا بندہ گمان رکھے گا ویسا ہی اللہ اس سے معاملہ کرے گا :۔ تمہارا اللہ کے متعلق علم اس قدر کمزور اور مشکوک قسم کا گمان رہا۔ اس لیے تم نے گناہوں سے بچنے کی کبھی کوشش ہی نہ کی تھی اور اس سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ تم نہ روز آخرت کے قائل تھے اور نہ اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور سے خائف تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم گناہوں پر دلیر ہوتے گئے اور ساری زندگی ہی گناہوں میں گزار دی۔ اپنے پروردگار سے تمہاری یہی بےیقینی تمہاری ہلاکت کا باعث بن گئی۔ اس سے واضح طور پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان جس قسم کی معرفت اپنے پروردگار کی نسبت رکھتا ہے اس طرز اور اسی سانچے میں اس کی پوری زندگی ڈھل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ مشرکانہ عقائد ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان برابر بدکاریوں میں پڑا رہتا ہے اور اس کا پورا انجام حشر میں جا کر ظاہر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–25

آیت نمبر 19 تا 25 ترجمہ : اور وہ دن یاد کرو کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (یَحْشُرُ ) میں یاء اور نون مفتوح اور شین کے ضمہ کے ساتھ اور (اَعْدَاءَ ) کے (آخری) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے قریب آجائیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ (لوگ) اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے ہمیں اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو جس کو چاہا بولنے کی طاقت بخشی اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے، کہا گیا ہے کہ وہ (یعنی وھو خلَقَکم اول مرّۃ الخ) کھالوں کا کلام ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وذلکم ظنکم الذی ظننتم بربکم اردئکم فاصبحتم من الخسرین اور اسی تمہارے خیال نے جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا ‘ تم کو ہلاک کیا اور تم گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) مگر تم اس گمان اور دعوے میں رہے کہ ہم خاموشی کے ساتھ کام کرتے اور باتیں کرتے ہیں اس کی اللہ کو خبر نہیں اور تمہارے اسی جھوٹے گمان نے جو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تمہیں ہلاک کردیا۔ کہ تم سزا کی وجہ سے خسارہ میں پڑگئے اب خواہ تم دوزخ میں صبر کرو یا نہ کرو دوزخ تمہارا ٹھکانا ہے۔ اور اگر دنیا میں پھر واپس جانے کی درخواست کرو تو تمہیں دنیا میں اب ہرگز واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وذلکم ظنکم الذی ظنتم بربکم …”ذلکم“ کی خبر ”ظنکم“ معرفہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”یہی تمہارا گمان تھا“ کیا گیا ہے۔“ ارذی یردی“ (افعال) ہلاک کرنا۔ یعنی تمہارے اسی باطل گمان اور غلط عقیدے نے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہوتا، تمہیں ہلاک کردیا، کیونکہ اس سے تم اس کی نافرمانی پر دلیر ہوگئے اور خسارا پانے والوں میں سے ہوگئے۔ یاد رہے کہ گمراہی کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب صحیح غور و فکر نہ کرنا اور محض گمان کے پیچھے چلتے رہنا ہے۔ مشرکین کی اصل گمرایہ بھی یہی تھی، جیسا کہ فرمایا :(ان یبتعون الا الظن) (الانعام : 116) ”وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے۔“ اور فرمایا :(یظنون…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–24

(وما کنتم تسترون۔۔۔۔۔۔۔۔ ) وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم یہ جائز ہے کہ یہ اعضاء کا ان کے لیے قول ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ یا فرشتوں کا قول ہو۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک روایت مروی ہے کہ بیت اللہ شریف کے پاس تین افراد جمع ہوئے دو قریشی تھے اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی۔ ان کے دلوں میں فہم کم تھا اور پیٹوں کی چربی بہت زیادہ تھی ان میں سے ایک نے کہا : بتائو ہم جو کہتے تھے اللہ تعالیٰ اسے سنتا ہے۔ دوسرے نے کہا : اگر ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ سنتا ہے اور اگر ہم خفیہ طریقہ سے بات کریں گے تب بھی وہ نہیں سنتا۔ تیسرے سے کہا : جب ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–24

1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ (اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے پھر روکے جائیں گے) یعنی ان میں سے پہلے کو آخری پر روک دیا جائے گا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور ابورزین (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوزعون “ سے مراد ہے کہ ان کو دھکیل دیا جائے گا۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ میں ” الوزعہ “ سے مراد ہے فرشتوں میں سے ہانکنے والے کہ وہ ان کو دوزخ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَذٰلِكُمْ [اور یہ ] ظَنُّكُمُ الَّذِيْ [ تمہارا وہ گمان ہے جو ] ظَنَنْتُمْ [ تم لوگوں نے گمان کیا ] بِرَبِّكُمْ [ اپنے رب کے بارے میں ] اَرْدٰىكُمْ [ اس (گمان) نے ہلاک کیا تم کو ] فَاَصْبَحْتُمْ [ تو تم لوگ ہوگئے ] مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ [ خسارہ پانے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں کو ان کے گمان بد نے ہلاک کیا (وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمْ الَّذِیْ ظَنَنتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدَاکُمْ ) اور یہ تمہارا گمان کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا اس نے تمہیں ہلاک کردیا (فَاَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (سو تم خسارے والے ہوگئے) تم نے جو یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے اسی گمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے رہے اگر اللہ تعالیٰ کو علم والا جانتے اور یہ یقین کرتے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے تو خلوتوں میں اور جلوتوں میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے اور اس نے جو اعضاء کی نعمتیں دی تھیں ان کو نیکیوں میں استعمال کرتے، تم نے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–32

تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔ (ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24:۔ ” و ذلکم ظنکم “ ذلکم موصوف، ظنکم الخ صفت۔ موصوف صفت مبتدا۔ ” ارداکم “ خبر (مدارک) ۔ اس عالم الغیب والشہادۃ کے بارے میں تمہارے اسی گمان نے، کہ وہ تمہارے چھپے اعمال نہیں جانتا، تم کو تباہ و برباد کیا۔ اسی خیال سے تم گناہوں میں منہمک رہے اور دین و دنیا میں خسارہ اٹھا۔ ” فان یصبروا۔ الایۃ “ وہ صبر کریں، تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور اگر جزع فزع کریں اور معذرت کریں، تو بھی ان کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ ہر حال میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سے اب ان کے لیے کوئی مفر نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–25

ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی سر کشی اور انکار نبوت اور پھر ان کے ساتھ دنیا میں ہونے والے سلوک کا ذکر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا تھا تو کسی فرشتے کو اپنا پیغام دے کر بھیج دیتا تو ہم ایمان لے آتے ، ہم کسی انسان کو نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر ان قوموں نے توحید و رسالت دونوں کا انکار کیا ۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر تند ہوا بھیج دی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۝ 23 ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–24

ترکیب : یوم ظرف لما دل علیہ مابعدہ وھو قولہ فہم یوزعون ان یشہد ای من ان یشھد لان یستتر لایتعدی بنفسہ و ذلکم مبتداء و ظنکم خبرہ الذی لغت للخبر او خبر بعد خبر واردکم خبر آخر ویجوزان یکون الجمیع صفت او بدلاء و ارادکم الخبر و یجوزان یکون حالا یستعتبوایطلب العتبیٰ ۔ تفسیر : دنیا کی سزا بیان کرکے آخرت کی سزا اور اس عالم کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ بیان کامل ہوجاوے فقال و یوم یحشر کہ جس روز دشمنان خدا آتش جہنم کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے، ان کو ٹھہراویں گے۔ یہاں تک کہ سب جمع ہوجاویں گے، پھر ان کے اعمال قبیحہ پر ان کی آنکھیں اور کان جلدیں گواہی دیں گے۔ حواس گو پانچ ہیں، مگر قوت شامہ سے کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–23

وَمَا کُنْـتُمْ تَسْتَـتِرُوْنَ اَنْ یَّشْھَدَعَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلاَ جُلُوْدُکُمْ وَلٰـکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لاَ یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْن۔ َ وَذٰلِکُمْ ظَنُّـکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اٰرْدٰ کُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 22، 23) (اور تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی بلکہ تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا۔ تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا تمہیں ہلاک کردیا، اور تم خسارے میں پڑنے والے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے اعضاء کی مزید گواہی۔ جب جہنمیوں کے اعضاء اور ان کے وجود گواہی دے رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ کیا تم اپنا گھناؤنا کردار اس لیے چھپایا کرتے تھے کہ شاید تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری چمڑیاں گواہی نہ دیں گی اور تم یہ بھی گمان رکھتے تھے کہ تمہارے بہت سے اعمال کا تمہارے رب کو علم نہیں ہوگا۔ اپنے رب کے بارے میں جو تم گمان رکھتے تھے۔ اسی نے تمہیں ہلاک کردیا اور تم نقصان پانے والوں میں شامل ہوگئے۔ اب صبر کرو یا واویلا کرو دونوں صورتوں میں تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ سوچ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ (اور تمہارے اس گمان نے جو تم نے اپنے رب کے متعلق کیا تھا تم کو برباد کردیا) یہی تو وہ گمان ہے جس نے تمہیں ہلاک کیا۔ نحو : نمبر 1 ۔ ذلکم مبتداء اور ظنکم اس کی خبر ہے۔ الذی ظننتم یہ خبر کی صفت ہے۔ ارداکم دوسری خبر ہے۔ نمبر 2 ظنکم یہ ذلکم کا بدل ہے اور مبتدا ہوا اور ارداکم خبر ہے۔ فاصبحتم من الخسرین (پھر تم خسارہ میں پڑگئے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22، وما کنتم تستترون ، یعنی جو تم ملکاسمجھتے ہو یہ معنی اکثر اہل علم کے نزدیک ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تم بچتے ہو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم گمان کرتے ہو۔ ، ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم جلودکم ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم کثیرامما تعملون، حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بیت اللہ کے پاس دد قبیلہ ثقیف کے آدمی اور ایک قریش کا آدمی جمع ہوگئے یادوقریشی اور ایک ثقفی۔ ان کے پیٹوں پرچربی بہت زیادہ اور دلوں میں سمجھ بہت کم تھی ، ان میں سے ایک کہنے لگا کیا تمہاراخیال ہے کہ جو ہم کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سن لیتے ہیں ؟ تو دوسراکہنے لگا اگر ہم بلند آواز سے بولیں تو سن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–25

23۔ 25۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ پردہ کی باتوں کو مشرک لوگ اللہ کے علم سے باہر گمان کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے اس گمان نے ان کو ہلاکت اور ٹوٹے میں ڈالا کیونکہ اسی گمان کے سبب سے ان لوگوں کو کثرت گناہوں کی جرأت بڑھ گئی گناہ کرتے رہے اور اسی گمان میں رہے کہ ان کے بہت سے گناہ اللہ کے علم سے باہر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ غیب دان ان کے اس گمان کو جھوٹا کر کے ان کے سب گناہ ان کو جتلا دے گا اور ان کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم اس آگ کی مصیبت پر صبر کرو یا جھوٹے عذر پیش کرکے غل شور مچاؤ کسی طرح اب اس آگ سے تم کو نجات نہیں کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 (واماثمود) اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انہیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی اللہ کی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی، اس لئے ثمود کے بارے میں فرمایا : (و اما ثمود فھدینھم) ” جو ثمود تھے، ہم نے انہیں سیدھا راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

39 رب کے بارے میں بدگمانی کا نتیجہ ابدی خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے رب کے بارے میں بدگمانی کا نتیجہ ابدی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اپنے رب کے بارے میں تمہارا پہلے ہی وہ گمان تھا جس نے تم لوگوں کو ہلاک کردیا اور تم دائمی خسارے میں پڑ کر رہے "۔ سو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی باعث ہلاکت و تباہی ہے کہ اس سے زاویہ نگاہ ہی بدل جاتا ہے۔ اس کے طور طریقے بدل جاتے ہیں اور وہ حق اور حقیقت سے محروم ہو کر دائمی ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تم لوگ اپنے اس گمان فاسد کی بنا پر اپنے رب کی نافرمانی کرتے اور اعمال صالحہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–29

حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 18–25

آیات 18 تا 25۔ اسرار ومعارف ۔ اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔ اعضاء کی گواہی۔ توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم میں سے کسی شخص کا انتقال نہیں ہونا چاہیے مگر اس حال میں کہ اللہ سے اس کا گمان اچھا ہو، اس لئے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ سے ان کا برا گمان ہی لے ڈوبتا ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( شوکانی) حسن بصری نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” انا عند من عبدی بی وانا معہ اذا دعانی “ ( میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی ہوں جیسا دوسرے ساتھ گمان کرے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ ) اس کے بعد امام حسن ؓ بصری کچھ دیرخاموش رہے اور پھر بولے ” ہر شخص کا عمل ویسا ہوتا ہے جیسا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:23) ذلکم۔ یہ۔ یہی۔ اسم اشارہ بعید۔ مبتدائ۔ ظنکم الذی ظننتم بربکم : ظنکم مضاف مضاف الیہ۔ الذی ظننتم بربکم : ظن کی نعمت۔ سارا جملہ ذلک سے مبدل منہ ہے۔ اردکم مبتداء کی خبر۔ اردی یردی ارداء (افعال) مصدر بمعنی ہلاک کرنا۔ غارت کرنا۔ ر د ی مادہ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ترجمہ :۔ تمہارے اسی گمان نے جو تم اپنے رب کے بارے میں کیا کرتے تھے تمہیں غارت کردیا۔ فاصبحتم۔ فاء سببیہ ہے یعنی بسبب اس گمان کے جس نے تمہیں ہلاک کر ڈالا تم (گھاٹا پانے والوں میں سے) ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–25

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25 : یحشر ( اکٹھے کئے جائیں گے) یوزعون (گروہوں میں تقسیم ہوں گے) شھد (اس نے گواہی دی) جلود (جلد) ( کھالیں ، گوشت پوست ، چمڑے) لم شھدتم (تم نے گواہی کیوں دی) انطقنا (ہمیں بولنے کی طاقت دی) مرۃ (مرتبہ ، باربار) تستترون ( تم پردہ کرتے ہو ، چھپاتے ہو) اردی ( اردائ) (ہلاک کیا ، تباہ کیا) یستعتبوا (راضی کریں گے) قیضنا (ہم نے مقرر کردیا) تشریح : آیت نمبر 19 تا 25 : انسان راز داری کے ہزاروں پردوں کے اندر چھپ کر کوئی کام کرے یا اعلانیہ کھلم کھلا ۔ اللہ کو اس کی ایک ایک ایک حرکت کا علم ہوتا ہے۔ جس بات کو دنیا کا کوئی آدمی نہیں جانتا اور ہر ایک سے پوشیدہ ہے اللہ کو اس کا بھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) اوپر کی آیت میں ذکر تھا پردہ کی باتوں کو مشرک لوگ اللہ کے علم سے باہر گمان کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے اس گمان نے ان کو ہلاک اور ٹوٹے میں ڈالا ہے کیونکہ اسی گمان کے سبب سے ان لوگوں کو کثرت گناہوں کی جرات بڑھ گئی ہے گناہ کرتے رہے اور اسی گمان میں رہے کہ ان کے بہت سے گناہ اللہ کے علم سے باہر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ ان کے اس گمان کو جھوٹا کرکے ان کے سب گناہ ان کو جتلادے گا اور اس کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی ۔ اور ان سے کہہ دیاجائے گا کہ اب تم اس آگ کی مصیبت پر صبرو کرو، یاجھوٹے عذر پیش کرکے غل شور مچاؤ کسی طرح اب اس آگ سے تم کو نجات نہیں کیونکہ یہ دوزخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–24

[12] اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن تمام چیزیں بول اٹھیں گی جن کے سامنے انسان نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا یہاں تک کہ زمین بھی بولے گی جیسا کہ سورة زلزال میں مذکور ہے۔ احادیث میں ہے کہ بعض ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار کریں گے جو انہوں نے دنیا میں کئے تھے تو اس وقت حکم ہوگا کہ ان کے اعضا کی شہادت پیش کی جائے جن کے ذریعے گناہ کئے تھے۔ ہاتھ اور پاؤں کی گواہی کا ذکر سورة یٰسین میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

خدا کا علم وسیع ہے 2: منکرین یہ سمجھے ہوئے تھے ۔ کہ ہماری سیاہ کاریوں کا علم خدا کو کس طرح ہوسکے گا ۔ اور یہ کیسے ممکن ہے ۔ کہ وہ ان اعمال کو دیکھ سکے جو ہم چھٹ کر کرتے ہیں ۔ اور جس طرح کی اطلاع چشم فلک کو بھی نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ کہ ہماری تمام سیسہ کاریوں کو کوئی ذات اپنی قدرت سے معلوم کرلے مگر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ ہوگی ۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اس کی اطلاعات کس درجہ وسیع ہیں ۔ اور وہ خدا نہ صرف یہ کہ ان کی کرتوتوں کو جانتا ہے ۔ بلکہ یہ قدرت بھی رکھتا ہے ۔ کہ ان کے اپنے بدن کے حصے گواہی دینے لگیں ۔ کان ۔ آنکھیں اور کھالیں زبان احتیاج بن جائیں ۔ اور ان کی بدعملیوں کو واشگاف طور پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) اور تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے پروردگار کے ساتھ قائم کررکھا تھا تم کو تباہ و برباد کیا لہٰذا تم سخت خسارے میں پڑگئے یعنی اپنی بدگمانیوں کی بدولت اس ڈھاڑے کو پہنچے اور ابدی نقصان میں اور خسارے میں پڑگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارا یہی گمان جو اپنے رب سے رکھتے تھے تم کو لے ڈوبا 23 ؎ تعجب ہے تم پر کہ تم نے مخلوق سے تو کچھ نہ کچھ اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کی اگرچہ وہ بھی جھوٹ موٹ ہی کی تھی لیکن خالق کے ساتھ تم نے وہ گمان رکھا کہ وہ ہمارے کیے سے کچھ واقف ہی نہیں ہے اور اس گمان نے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں شامل ہوگئے یا تمہارا یہ گمان تھا کہ تمہارے بنائے ہوئے شریک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تم کو خسارہ پانے والوں میں شامل ہوگئے یا تمہارا یہ گمان تھا کہ تمہارے بنائے ہوئے شریک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تم کو چھڑالیں گے اور اب زعم میں تم وہ سب کچھ کرتے رہے جو کچھ تم کرکے یہاں پہنچ گئے اور اب تمہاری آنکھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–25

وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُ‌ونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ (And you had not been hiding your selves [ when committing sins ] because of [ the apprehension ] that your ears and your eyes and your skins would bear witness against you,….41:22) This verse means that if anyone wants to commit a sin or a crime, he may hide it from others, but how can he hide it from his own limbs and organs? When it is known that our ears, eyes, hands, feet, skin and hair are not ours, rather they are witnesses of the state against us, and when they would be questioned about our deeds, they would give true…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

27 Hadrat Hasan Basri (may Allah bless him) has explained this verse thus "Every. man's. attitude and conduct is determined by the thought and conjecture that he has about his God. The conduct of a righteous believer is right because his thought and conjecture about his Lord is right, and the conduct of a disbeliever and a hypocrite and a sinful person is wrong because his thought and conjecture about his Lord is wrong. " This same theme has the Holy Prophet expressed in a comprehensive and brief Hadith, thus: "Your Lord says: I am with the thought and conjecture that My servant holds about…

Read the full tafseer →