Explained with ayahs 19–24
انسان اپنا دشمن آپ ہے۔
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے جیسے فرمان ہے (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86ۘ) 19۔ مریم :86) یعنی گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔ انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کردیا جائے گا۔ اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گی۔ تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے ہر عضو بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضا کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کریں گے۔ کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ کہیں گے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 27
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ نے اس آیت کی تشریح میں خوب فرمایا ہے کہ ہر آدمی کا رویہ اس گمان کے لحاظ سے متعین ہوتا ہے جو وہ اپنے رب کے متعلق قائم کرتا ہے۔ مومن صالح کا رویہ اس لیے درست ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے بارے میں صحیح گمان رکھتا ہے، اور کافر و منافق اور فاسق و ظالم کا رویہ اس لیے غلط ہوتا ہے کہ اپنے رب کے بارے میں اس کا گمان غلط ہوتا ہے۔ یہی مضمون نبی ﷺ نے ایک بڑی جامع اور مختصر حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا رب کہتا ہے انا عند ظن عبدی بی، " میں اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا بندہ مجھ سے رکھتا ہے۔ " (بخاری و مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
(آیت) وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ الآیة۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ انسان اگر چھپ کر کئی جرم و گناہ کرنا چاہے تو دوسرے لوگوں سے تو چھپا سکتا ہے، خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیسے چھپائے۔ جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور بدن کی کھال اور بال سب ہمارے نہیں بلکہ سرکاری گواہ ہیں اور جب ان سے ہمارے اعمال کو پوچھا جاوے گا تو سچی گواہی دے دیں گے تو پھر چھپا کر کوئی جرم و گناہ کرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا، اس رسوائی سے بچنے کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ گناہ کو ہی چھوڑا جائے۔ مگر تم لوگ یعنی منکرین توحید و رسالت کا ذہن ادھر تو کیا جاتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
’ تسترون کا مفہوم
تسترون کی تاویل بعض اہل تاویل نے تخافون سے کی ہے۔ ان کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے کان، آنکھ اور دوسرے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ میرے نزدیک لفظ کی یہ تعبیر صحیح ہے۔ یہ لازم سے ملزوم پر استدلال کی نوعیت کی ایک چیز ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ اندیشہ رکھتے ہوتے تو کوئی برا کام کرتے ہوئے ان سے چھپتے لیکن جب ان سے وہ نہیں چھپتے تھے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ ان سے کوئی اس نوعیت کا اندیشہ نہیں رکھتے تھے۔
’ ولکن ظننتم…الآیۃ ‘۔ ’ لکن ‘ یہاں ’ بل ‘ کے مفہوم میں ہے یعنی اعضا کی گواہی کا اندیشہ تو درکنار تمہاری…
Read the full tafseer →22۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے تو چھپنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اس بات کا کوئی خوف تمہیں نہیں تھا کہ تمہارے خلاف خود تمہارے اپنے اعضا بھی گواہی دیں گے جن سے چھپنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ اس کی وجہ ان کا بعث و نشور سے انکار اور اس پر عدم یقین تھا۔
22۔ 1 اس لیے تم اللہ کی حدیں توڑنے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بےباک تھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
11: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض احمق کافر یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ کوئی گناہ چھپ کر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوگا، اس وقت وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے گناہ کا نہ کوئی گواہ ہے، اور نہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کو اس کا پتہ چلے گا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات کا گواہ ہے ہی، خود ان کے جسم کے یہ اعضاء بھی ان کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔
Read the full tafseer →وما کنتم تستترون ۔۔۔۔۔۔ ولا جلودکم (41 : 22) ” تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان ، تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی “۔ تمہارے تو تصور میں بھی نہ تھا کہ یہ اعضاء تمہارے خلاف بغاوت کردیں گے ۔ اور تمہاری طاقت میں بھی یہ بات نہ تھی کہ تم کسی بھی طرح اللہ سے چھپا سکو اگر چاہو بھی۔
ولکن ظننتم ان اللہ لا یعلم کثیرا مما تعملون (41 : 22) ” بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے “۔ ناسمجھی نے تمہیں دھوکہ دے دیا۔ یہ نہایت ہی جاہلانہ اور بدکارانہ روش تھی جس نے تمہیں جہنم کے دھانے پر پہنچا…
Read the full tafseer →3 یعنی غیر سے چھپ کر گناہ کرتے تھے۔ یہ خبر نہ تھی کہ ہاتھ پاؤں بتلا دیں گے، ان سے بھی پردہ کریں۔ اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی۔
4 یعنی اصل میں تمہارے طرز عمل سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ گویا تم کو خدا تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو کون دیکھ بھال کرتا ہوگا۔ اگر پوری طرح یقین ہوتا کہ خدا ہماری تمہاری حرکات سے باخبر ہے اور اس کے ہاں ہماری پوری نسل محفوظ ہے تو ہرگز ایسی شرارتیں نہ کرتے۔
Read the full tafseer →آیت 22 { وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُوْدُکُمْ } ”اور تم اس خیال سے پردہ داری نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف گواہی دیں گے تمہارے اپنے کان ‘ تمہاری اپنی آنکھیں اور تمہاری اپنی کھالیں“
انسان دنیا میں جرائم کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے کی کوشش کرتا ہے ‘ مگر خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیونکرچھپ سکتا ہے ؟
{ وَلٰکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ } ”بلکہ تمہیں تو یہ گمان ہوگیا تھا کہ بہت سی باتیں تو اللہ کے علم میں ہی نہیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔“
گویا ایسے جہلاء بھی اس دنیا میں پائے جاتے ہیں جو یہ…
Read the full tafseer →26 یعنی یہ بات تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہ آسکتی تھی کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والے ہمارے اپنے اعضاء بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا ان سے بھی بچنے کی ضرورت ہے۔ اگر تم یہ سوچ لیتے تو تم سے گناہ کا سرزد ہونا ہی ناممکن تھا۔ کیونکہ نہ تم خود اپنے اعضاء سے چھپ سکتے تھے اور نہ ان سے گناہ کو چھپا سکتے تھے۔ نہ ان کے بغیر گناہ کا کام کرسکتے تھے۔
27 اللہ کی صفات سمیع وبصیر ہونے میں شک کا نتیجہ۔ بداعمالیاں :۔ بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمہیں یہ علم نہ تھا کہ ہمارے اعضاء ہمارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں۔ بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے اگر تمہیں یہ یقین ہوتا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے یا ہماری…
Read the full tafseer →20۔ کثرت سے مشرک ” حکماء وفلاسفہ “ نے علم الہی کو ناقص سمجھا ہے۔ کسی نے یہ کہا ہے کہ خدا کو علم صرف کلیات کا ہوتا ہے جزئیات کا نہیں، اور کسی نے کچھ اور۔ بہرحال مشرکین کو صفات کمالیہ الہی ہی کے سمجھنے میں شدید ٹھوکر لگی ہے، خصوصا صفت علم کے باب میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
آیت نمبر 19 تا 25
ترجمہ : اور وہ دن یاد کرو کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (یَحْشُرُ ) میں یاء اور نون مفتوح اور شین کے ضمہ کے
ساتھ اور (اَعْدَاءَ ) کے (آخری) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے قریب آجائیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ (لوگ) اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے ہمیں اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو جس کو چاہا بولنے کی طاقت بخشی اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے، کہا گیا ہے کہ وہ (یعنی وھو خلَقَکم اول مرّۃ الخ) کھالوں کا کلام ہے اور…
Read the full tafseer →وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم ولکن ظننتم ان
ا اللہ لا یعلم کثیرا مما تعملون اور تم (دنیا میں) اس وجہ سے چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان اور آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف میں گواہی دیں ‘ لیکن تم اس گمان میں رہے کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کی خبر بھی نہیں۔
تَسْتَتِرُوْنَ بغوی نے لکھا ہے : اکثر علماء نے اسکا ترجمہ کیا ہے : ” تم چھپا نہیں سکتے تھے “۔ مجاہد نے ترجمہ کیا : تم ڈرتے نہ تھے۔ قتادہ نے کہا : تم خیال بھی نہیں کرتے تھے کہ تمہارے ہاتھ اور پاؤں تمہارے خلاف شہادت دیں گے ‘ لیکن تمہارا خیال تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو خبر نہیں ہے ‘ اسی لئے تم اپنے…
Read the full tafseer →اور تم اپنے اعضاء کو اس بات سے روکنے پر قادر نہ تھے کہ قیامت کے دن تمہارے کان تمہارے خلاف گواہی دیں یا یہ کہ تم دنیا میں اپنے اعضاء سے کسی طرح بھی ان کے اعمال کو چھپا نہیں سکتے تھے تاکہ تمہارے خلاف گواہی نہ دیں یا یہ کہ تم اس چیز پر تو بالکل یقین ہی نہ کرسکتے تھے کہ قیامت کے دن تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں۔
شان نزول : وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ (الخ)
امام بخاری و مسلم اور ترمذی اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ بیت اللہ کے قریب تین افراد نے آپس میں بحث کی جن میں دو قریشی اور ایک ثقفی یا یہ کہ ایک قریشی اور دو ثقفی تھے۔
ان میں…
Read the full tafseer →(1) وما کنتم تستترون ان یشھدعلیکم …: یہ ان کی ملامت کا جواب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے اور پردہ کرنے کا تو پورا اہتمام کرتے تھے، مگر تمہیں اس بات کا خوف نہ تھا کہ تمہارے کان، آنکھیں اور چمڑے ہی تمہارے خلاف تمہارے اعمال بد کی شہادت دیں گے۔ اگر تمہیں اس بات کا خوف ہوتا تو تم برے اعمال کر ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ انھی اعضا کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی نافرمانی کرنا تھی۔
(2) ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم…: یعنی بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمہیں یقین نہ تھا کہ قیامت قائم ہوسکتی ہے اور تمہارے اعضا تمہارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(وما کنتم تسترون۔۔۔۔۔۔۔۔ )
وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم یہ جائز ہے کہ یہ اعضاء کا ان کے لیے قول ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ یا فرشتوں کا قول ہو۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک روایت مروی ہے کہ بیت اللہ شریف کے پاس تین افراد جمع ہوئے دو قریشی تھے اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی۔ ان کے دلوں میں فہم کم تھا اور پیٹوں کی چربی بہت زیادہ تھی ان میں سے ایک نے کہا : بتائو ہم جو کہتے تھے اللہ تعالیٰ اسے سنتا ہے۔ دوسرے نے کہا : اگر ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ سنتا ہے اور اگر ہم خفیہ طریقہ سے بات کریں گے تب بھی وہ نہیں سنتا۔ تیسرے سے کہا : جب ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ (اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے پھر روکے جائیں گے) یعنی ان میں سے پہلے کو آخری پر روک دیا جائے گا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور ابورزین (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوزعون “ سے مراد ہے کہ ان کو دھکیل دیا جائے گا۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار فھم یوزعون “ میں ” الوزعہ “ سے مراد ہے فرشتوں میں سے ہانکنے والے کہ وہ ان کو دوزخ کی…
Read the full tafseer →وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ [ اور تم لوگ پردہ نہیں کرتے تھے ] اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ [ کہ گواہی دیں گی تمہارے خلاف ] سَمْعُكُمْ [ تمہاری سماعت ] وَلَآ اَبْصَارُكُمْ [ اور نہ ہی تمہاری بصارتیں ] وَلَا جُلُوْدُكُمْ [ اور نہ ہی تمہاری کھالیں ] وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ [ اور لیکن تم نے گمان کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ ] لَا يَعْلَمُ [ نہیں جانتا ] كَثِيْرًا مِّمَّا [ اس میں سے اکثر کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ کرتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
(وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ ) (الآیۃ) یہ بھی کافروں سے خطاب ہے وہاں ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں جو کام کرتے تھے اس کا تمہیں ذرا بھی احتمال نہ تھا کہ قیامت کے دن تمہارے کان اور آنکھیں چمڑے تمہارے خلاف گواہی دیدیں گے لہٰذا تم ان سے نہ چھپتے تھے نہ چھپ سکتے تھے جس کی وجہ سے تم دلیری کے ساتھ گناہ کرتے تھے تم سمجھتے تھے کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والا کوئی نہ ہوگا مخلوق کے بارے میں تو تمہارا خیال تھا ہی تم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہی خیال کر رکھا تھا کہ وہ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا۔
قال القرطبی و معنی ” تَسْتَتِرُوْنَ “ تستخفون فی قول اکثر العلماء أی ما کنتم تستخفون من أنفسکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…
Read the full tafseer →23:۔ ” وما کنتم تستترون “ تا ” فاصبحتم من الخسرین “۔ یہ اعضاء کا کلام ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ” ان یشہد “ سے پہلے ” من “ مقدر ہے۔ تم گناہ کرتے وقت انسانوں سے تو چھپ سکتے تھے، لیکن اپنے ہی اعضاء سے تم نہیں چھپ سکتے تھے کہ مبادا وہ تمہارے خلاف گواہی دے دیں۔ بلکہ گناہوں کا ارتکاب تم نے ان ہی اعضاء سے کیا۔ اس لیے ان سے چھپنا ناممکن تھا۔ بلکہ تمہارے اعمال سے تمہارے آخرت سے اعراض اور لذات عیش میں انہماک سے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تم یہ سمجھتے تھے کہ خدا خود بھی تمہارے اکثر اعمال سے باخبر نہیں۔ یعنی پوشیدہ اعمال کو نہیں جانتا۔ ممکن ہے بعض کفار کا فی الحقیقۃ یہی اعتقاد ہو جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ربط آیات
گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی سر کشی اور انکار نبوت اور پھر ان کے ساتھ دنیا میں ہونے والے سلوک کا ذکر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا تھا تو کسی فرشتے کو اپنا پیغام دے کر بھیج دیتا تو ہم ایمان لے آتے ، ہم کسی انسان کو نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر ان قوموں نے توحید و رسالت دونوں کا انکار کیا ۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر تند ہوا بھیج دی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک…
Read the full tafseer →وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْہَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللہَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ 22
ستر
السَّتْرُ : تغطية الشّيء، والسِّتْرُ والسُّتْرَةُ : ما يستتر به، قال : لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِها سِتْراً [ الكهف/ 90] ، حِجاباً مَسْتُوراً [ الإسراء/ 45] ، والِاسْتِتَارُ : الاختفاء، قال :
وَما كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ [ فصلت/ 22] .
( س ت ر ) استر
( مصدر ن ) اس کے اصل معنی کسی چیز کو چھپا دینے کے ہیں اور ستر وستر ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ترکیب : یوم ظرف لما دل علیہ مابعدہ وھو قولہ فہم یوزعون ان یشہد ای من ان یشھد لان یستتر لایتعدی بنفسہ و ذلکم مبتداء و ظنکم خبرہ الذی لغت للخبر او خبر بعد خبر واردکم خبر آخر ویجوزان یکون الجمیع صفت او بدلاء و ارادکم الخبر و یجوزان یکون حالا یستعتبوایطلب العتبیٰ ۔
تفسیر : دنیا کی سزا بیان کرکے آخرت کی سزا اور اس عالم کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ بیان کامل ہوجاوے فقال و یوم یحشر کہ جس روز دشمنان خدا آتش جہنم کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے، ان کو ٹھہراویں گے۔ یہاں تک کہ سب جمع ہوجاویں گے، پھر ان کے اعمال قبیحہ پر ان کی آنکھیں اور کان جلدیں گواہی دیں گے۔ حواس گو پانچ ہیں، مگر قوت شامہ سے کوئی تعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
وَمَا کُنْـتُمْ تَسْتَـتِرُوْنَ اَنْ یَّشْھَدَعَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلاَ جُلُوْدُکُمْ وَلٰـکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لاَ یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْن۔ َ وَذٰلِکُمْ ظَنُّـکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اٰرْدٰ کُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 22، 23)
(اور تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی بلکہ تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا۔ تمہارے اسی گمان نے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا تمہیں ہلاک کردیا، اور تم خسارے میں پڑنے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے اعضاء کی مزید گواہی۔
جب جہنمیوں کے اعضاء اور ان کے وجود گواہی دے رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ کیا تم اپنا گھناؤنا کردار اس لیے چھپایا کرتے تھے کہ شاید تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری چمڑیاں گواہی نہ دیں گی اور تم یہ بھی گمان رکھتے تھے کہ تمہارے بہت سے اعمال کا تمہارے رب کو علم نہیں ہوگا۔ اپنے رب کے بارے میں جو تم گمان رکھتے تھے۔ اسی نے تمہیں ہلاک کردیا اور تم نقصان پانے والوں میں شامل ہوگئے۔ اب صبر کرو یا واویلا کرو دونوں صورتوں میں تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ سوچ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی :
وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ (اور تم اس بات سے تو اپنے کو چھپا ہی نہ سکتے تھے کہ تمہارے کان اور آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں) تم دیواروں سے پردہ کرتے یعنی پردے ڈالتے جب فواحش کا ارتکاب کرتے اور تمہارا یہ چھپنا اس ڈر سے نہ تھا کہ تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ کیونکہ تمہیں اپنے خلاف ان کی شہادت کا علم نہ تھا۔ بلکہ تم تو زور سے بعث بعد الموت کے بھی انکاری تھے۔ اور جزاء کے بالکل قائل ہی نہ تھے۔ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا…
Read the full tafseer →21، وقالوا، یعنی کفار جو جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ ، لجلودھم لم شھدتم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیئ، یہاں بات پوری ہوگئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، وھو خلقکم اول مرۃ، یہ ان کے اعضاء کا جواب نہیں ہے۔ ، والیہ ترجعون،
Read the full tafseer →22۔ صحیحین ترمذی 2 ؎ اور مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے (2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة حم السجدۃ باب قولہ و ماکنتم تسترون الایۃ ص 712 ج 2) ان آیتوں کے شان نزول کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ قریش کے ثقیف قبیلہ کے حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا نہیں تو نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں صحیح 1 ؎ مسلم (1 ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ۔ ) اور نسائی میں حضرت انس سے جو روایت ہے اس میں اس بات کی تفسیر ہے کہ کس وقت یہ مشرکوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
(واماثمود) اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لئے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انہیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی اللہ کی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی، اس لئے ثمود کے بارے میں فرمایا : (و اما ثمود فھدینھم) ” جو ثمود تھے، ہم نے انہیں سیدھا راستہ…
Read the full tafseer →37 انسان کے لیے اپنے کسی عمل کو اللہ سے چھپانا ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم ایسے نہیں تھے کہ خود اپنے کانوں، آنکھوں اور رونگٹوں سے چھپ سکتے "۔ سو حکومت سے، لوگوں سے اور پولیس وغیرہ سے تو تم لوگ اپنی پختہ بلڈنگوں اونچی دیواروں اور دوسرے طرح طرح کے طریقوں سے چھپ اور بچ جایا کرتے تھے لیکن اپنے ہی کانوں، اپنی آنکھوں اور اپنی کھالوں سے آخر تم لوگ کس طرح چھپ اور بچ سکتے تھے ؟ یہ تو بہرحال تمہارے بس میں نہیں تھا۔ مخلوق سے تو تم چھپ جاتے تھے مگر خالق سے کیسے چھپ سکتے تھے ؟ پس اس آیت کریمہ میں بڑی تنبیہ ہے کہ مومن کو ہر وقت یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیئے کہ میرا رب مجھے ہر وقت اور ہر حال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات
تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
آیات 18 تا 25۔
اسرار ومعارف ۔
اور باوجود اس قدرتباہی اور بربادی کے ہم نے ان لوگوں کو محفوظ رکھا جو ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا تھا یعنی خلوص دل سے اطاعت کی راہ اپنائی تھی یہ تو دنیا کا معاملہ تھا بات تو اس روز ہوگی جب دشمنان خدا جہنم میں جھونکنے کے لیے اکٹھاکرکے میدان حشر میں لائے جائیں گے جہاں یہ اپنے کردار کے بعض گھناؤ نے پہلوں سے انکار کریں گے کہ ہم نے ایسا نہ تو کیا تھا۔
اعضاء کی گواہی۔
توقدرت باری سے ان کے بدن کے اعضا بول اٹھیں گے اور جو کچھ فرشتوں نے اعمال نامے میں لکھ رکھا ہوگا اس کی تصدیق کریں گے یہ قدرت الٰہی ہے کہ اعضاء کی بات خود کافر تک سن رہا ہوگا اور اس سے سوال و…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی دوسروں سے چھپتے تھے لیکن چونکہ انہیں یہ اندیشہ نہ تھا کہ خود ہمارے کان، آنکھیں اور چمڑے ہمارے خلاف گواہی دیں گے اس لئے ان سے چھپنے کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔6” اس لئے خوب بےباکی سے گناہ کرتے رہتے تھے “۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں غلاف کعبہ کے پیچھے چھپا ہوا تھا کہ ایک قریشی اور دو ثقفی یا ایک ثقفی اور دو قریشی آئے اور آپس میں گفتگو کرنے لگے جسے میں سمجھ نہ سکا۔ پھر ایک کہنے لگا ” کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ گفتگو سن رہا ہے ؟ دوسرا بولا ” اگر ہم بلند آواز سے گفتگو کریں تب تو وہ سنتا ہے، لیکن اگر ہماری آواز دھیمی ہو تو وہ نہیں سنتا۔ اس پر دوسروں نے کہا : ” اگر وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(41:21) لم یہ لفظ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ سے۔ ما کے الف کو تخفیفاً ساقط کردیا گیا ہے۔ کیوں ؟ کس لئے ؟ کس وجہ سے ؟
انطقنا : انطق ماضی واحد مذکر غائب۔ انطاق (افعال) مصدر گویائی عطا کرنا۔ بولنے کی قابلیت عطا کرنا۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم، اس نے ہم کو قوت گویائی عطا کی۔ نطق مادہ۔
وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون ۔ یہ جملہ اعضاء کے کلام کی جزء بھی ہوسکتا ہے اور جملہ مستانفہ (ابتدائیہ، نیا) بھی ہوسکتا ہے اس کے بعد جو کلام آرہا ہے اس میں بھی یہ دونوں احتمال جائز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 25 : یحشر ( اکٹھے کئے جائیں گے) یوزعون (گروہوں میں تقسیم ہوں گے) شھد (اس نے گواہی دی) جلود (جلد) ( کھالیں ، گوشت پوست ، چمڑے) لم شھدتم (تم نے گواہی کیوں دی) انطقنا (ہمیں بولنے کی طاقت دی) مرۃ (مرتبہ ، باربار) تستترون ( تم پردہ کرتے ہو ، چھپاتے ہو) اردی ( اردائ) (ہلاک کیا ، تباہ کیا) یستعتبوا (راضی کریں گے) قیضنا (ہم نے مقرر کردیا)
تشریح : آیت نمبر 19 تا 25 : انسان راز داری کے ہزاروں پردوں کے اندر چھپ کر کوئی کام کرے یا اعلانیہ کھلم کھلا ۔ اللہ کو اس کی ایک ایک ایک حرکت کا علم ہوتا ہے۔ جس بات کو دنیا کا کوئی آدمی نہیں جانتا اور ہر ایک سے پوشیدہ ہے اللہ کو اس کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–22
کافروں کی نافرمانی۔
(ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
[12] اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن تمام چیزیں بول اٹھیں گی جن کے سامنے انسان نے جرائم کا ارتکاب کیا تھا یہاں تک کہ زمین بھی بولے گی جیسا کہ سورة زلزال میں مذکور ہے۔ احادیث میں ہے کہ بعض ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار کریں گے جو انہوں نے دنیا میں کئے تھے تو اس وقت حکم ہوگا کہ ان کے اعضا کی شہادت پیش کی جائے جن کے ذریعے گناہ کئے تھے۔ ہاتھ اور پاؤں کی گواہی کا ذکر سورة یٰسین میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →اعضاء بولیں گے
1: یہ لوگ اس لحاظ سے اللہ کے دشمن ہیں ۔ کہ اس کے پیش کردہ نصب العین سے عداوت رکھتے ہیں ۔ اس لئے نہیں ۔ کہ ان کی دشمنی اس کی جلالت قدر کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ یا ان کو اللہ کے مدمقابل ہونے کی حیثیت حاصل ہے ۔ یہ دشمن دین جب کشاں کشاں اس کے حضور میں لائے جائیں گے ۔ تو خلاف توقع ان کے کان ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف گواہی دیں گی ۔ اور بولیں گی ۔ یہ لوگ حیرت وندامت سے کہیں گے کہ تم میں گویائی کی صلاحیت کیونکر پیدا ہوگئی ؟ یہ جواب میں کہیں گی کہ جس اللہ نے ہر بولنے والی چیز کو نطق کی نعمت سے نوازا ہے ۔ اسی نے ہمیں بھی یہ صلاحیت بخش دی ہے ۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا…
Read the full tafseer →(22) اور تم اپنی بداعمالیوں اور فواحش کو کچھ اس خوف سے نہیں چھپایا کرتے تھے کہ تم پر تمہارے کان گواہی دیں گے نہ اس ڈر سے کہ تمہاری آنکھیں تم پر گواہی دیں گی اور نہ اس خوف سے کہ تمہارے چمڑے تم پر گواہی دیں گے وہ لیکن تم یہ خیال کرتے تھے کہ تم جو کچھ کرتے ہو ان میں سے بہت سی باتوں کو اللہ تعالیٰ کو خبر ہی نہیں ہوتی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غیر سے چھپ کر گناہ کرتے تھے یہ خبر نہ تھی کہ ہاتھ پائوں بتادیں گے اس کی خبر نہ تھی۔ خلاصہ : یہ کہ بعض منکروں کا یہ خیال تھا کہ جو بات پکار کر کہو جو بات علانیہ کرو وہ تو خدا کو معلوم ہوجاتی ہے اور جو خفیہ کردیا چپکے سے کہو خدا کو اس کی خبر نہیں…
Read the full tafseer →ف 3۔ کیونکہ حق تعالیٰ کی قدرت علی الاطلاق اور علم بالاعمال واقع میں ثابت ہے۔
Read the full tafseer →سوچ کر جواب دو کہ تم اللہ سے اپنے گناہوں کو کیسے چھپالو گے ؟
22 ؎ اب مجرموں اور گناہگاروں سے پوچھا جارہا ہے کہ جب بات ایسی ہے جیسا کہ اوپر بیان کی گئی کہ تم پر تمہارے ہاتھ پائوں ، آنکھیں اور کان یہاں تک کہ تمہاری جلدوں تک کی گواہی دینے کو کھڑے کردئیے جائیں گے تو تم ان گناہوں اور جرموں کا کیسے انکار کرپائوگے حالانکہ تم تو دنیا میں اکثر یہی نظریہ رکھتے ہو کہ شاید تمہارے ان جرائم و گناہوں سے اللہ بھی واقف نہیں کیونکہ تم دھڑا دھڑ ان کو کیے چلے جا رہے ہو اور تمہیں کبھی خیال تک بھی نہیں آیا کہ کوئی ہم کو دیکھ رہا ہے۔ تعجب ہے تم پر کہ تم لوگوں سے تو پوچھتے ہو لیکن رب ذوالجلال والاکرام سے تم کو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ (And you had not been hiding your selves [ when committing sins ] because of [ the apprehension ] that your ears and your eyes and your skins would bear witness against you,….41:22) This verse means that if anyone wants to commit a sin or a crime, he may hide it from others, but how can he hide it from his own limbs and organs? When it is known that our ears, eyes, hands, feet, skin and hair are not ours, rather they are witnesses of the state against us, and when they would be questioned about our deeds, they would give true…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
27 Hadrat Hasan Basri (may Allah bless him) has explained this verse thus "Every. man's. attitude and conduct is determined by the thought and conjecture that he has about his God. The conduct of a righteous believer is right because his thought and conjecture about his Lord is right, and the conduct of a disbeliever and a hypocrite and a sinful person is wrong because his thought and conjecture about his Lord is wrong. " This same theme has the Holy Prophet expressed in a comprehensive and brief Hadith, thus: "Your Lord says: I am with the thought and conjecture that My servant holds about…
Read the full tafseer →