Explained with ayahs 25–29
آداب قرآن حکیم۔
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ مشرکین کو اس نے گمراہ کردیا ہے اور یہ اس کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ وہ اپنے تمام افعال میں حکمت والا ہے۔ اس نے کچھ جن و انس ایسے ان کے ساتھ کردیئے تھے۔ جنہوں نے ان کے بداعمال انہیں اچھی صورت میں دکھائے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ دور ماضی کے لحاظ سے اور آئندہ آنے والے زمانے کے لحاظ سے بھی ان کے اعمال اچھے ہی ہیں۔ جیسے اور آیتیں ہے (وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ 36) 43۔ الزخرف :36) ، ان پر کلمہ عذاب صادق آگیا۔ جیسے ان لوگوں پر جو ان سے پہلے جیسے تھے۔ نقصان اور گھاٹے میں یہ اور وہ یکساں ہوگئے، کفار نے…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 30
یہ کفار مکہ کے ان منصوبوں میں سے ایک تھا جس سے وہ نبی ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو ناکام کرنا چاہتے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ قرآن اپنے اندر کس بلا کی تاثیر رکھتا ہے، اور اس کو سنانے والا کس پائے کا انسان ہے، اور اس شخصیت کے ساتھ اس کا طرز ادا کس درجہ مؤثر ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے عالی مرتبہ شخص کی زبان سے اس دل کش انداز میں اس بےنظیر کلام کو جو سنے گا وہ آخر کار گھائل ہو کر رہے گا۔ اس لیے انہوں نے یہ پروگرام بنایا کہ اس کلام کو نہ خود سنو، نہ کسی کو سننے دو۔ محمد ﷺ جب بھی اسے سنانا شروع کریں، شور مچاؤ، تالی پیٹ دو۔ آوازے کسو، اعتراضات کی بوچھاڑ کردو۔ اور اتنی آواز بلند کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
خلاصہ تفسیر
اور یہ کافر (باہم) یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنو ہی مت اور (اگر پیغمبر سنانے بھی لگیں تو) اس کے بیچ میں غل مچا دیا کرو شاید (اس تدبیر سے) تم ہی غالب رہو (اور پیغمبر ہار کر خاموش ہوجاویں) تو (ان کے اس ناپاک ارادے اور عزم کے بدلہ میں) ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھا دیں گے اور ان کو ان کے برے برے کاموں کی سزا دیں گے، یہی سزا ہے اللہ کے دشمنوں کی یعنی دوزخ ان کے لئے وہاں ہمیشہ رہنے کا مقام ہوگا۔ اس بات کے بدلہ میں کہ وہ ہماری آیتوں میں انکار کیا کرتے تھے (اور جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو) وہ کفار کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو وہ دونوں شیطان اور انسان دکھلا دیجئے جنہوں نے ہم کو…
Read the full tafseer →وقال الذین کفروا لاتسمعوالھذا القرآن و الغوافیہ لعلکم تغلبون (26)
حق سے روکنے کے لئے گنڈوں کا ہتھیار
الذین کفروا اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد کفر کے وہ سرغنے ہیں جو مشرکین عرب پر مسلط تھے اور جن کے رویہ پر اوپر والی آیت میں اجمالی تبصرہ ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کی دعوت سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنے گنڈوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ جب دیکھو کہ محمد ﷺ لوگوں کو قرآن سنا رہے ہیں تو نہ اس کو خود سنو اور نہ دوسروں کو سننے دو بلکہ اپنے شور و شغب اور اپنی ہوٹنگ سے ایسا گھپلا پیدا کرو کہ محمد ﷺ کی بات بالکل دب جائے اور تمہاری بات اونچی رہے۔
Read the full tafseer →26۔ 1 یہ انہوں نے باہم ایک دوسرے کو کہا۔ بعض نے لا تسمعوا کے معنی کیے ہیں اس کی اطاعت نہ کرو۔
26۔ 2 یعنی شور کرو، تالیاں، سیٹیاں بجاؤ، چیخ چیخ کر باتیں کرو تاکہ حاضرین کے کانوں میں قرآن کی آواز نہ جائے اور ان کے دل قرآن کی بلاغت اور خوبیوں سے متا ثر نہ ہوں۔
26۔ 3 یعنی ممکن ہے اس طرح شور کرنے کی وجہ سے محمد ﷺ قرآن کی تلاوت ہی نہ کرے جسے سن کر لوگ متاثر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
12: اس سے مراد وہ شیاطین بھی ہیں جو انسانوں کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے گناہوں کے لیے بہکاتے تھے، اور ایسے انسان بھی جو گناہ کے کاموں کو مفید اور ضروری قرار دینے کے لیے طرح طرح کے دلائل گھڑتے اور ان کی بنیاد پر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
Read the full tafseer →یہ وہ بات ہے جو قریش کے کبراء اپنے آپ کو اور جمہور عوام کو کہتے تھے۔ یہ لوگ قرآن کریم کی حیرت انگیز اثر آفرینی سے عاجز آگئے تھے۔ یہ اثر ان پر بھی تھا اور عوام پر بھی تھا۔
لا تسمعوا لھذا القران (41 : 26) ” اس قرآن کو ہرگز نہ سنو “۔ کیونکہ جس طرح وہ کہتے تھے یہ ان پر جادو کرتا ہے۔ ان کی سوچ پر غالب آجاتا ہے اور ان کی زندگی کو خراب کر رہا ہے۔ باپ اور بیٹے کے درمیان تفرقہ کردیتا ہے ، خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی کردیتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن ایسی جدائیاں کردیتا تھا لیکن اس لیے کہ خود اللہ نے ایمان اور کفر کے درمیان جدائی کردی ہے ، ہدایت اور ضلالت کے درمیان جدائی کردی ہے ، جو اسے مانتا تھا…
Read the full tafseer →9 قرآن کریم کی آواز بجلی کی طرح سننے والوں کے دلوں میں اثر کرتی تھی۔ جو سنتا فریفتہ ہوجاتا اس سے روکنے کی تدبیر کفار نے یہ نکالی کہ جب قرآن پڑھا جائے، ادھر کان مت دھرو اور اس قدر شور و غل مچاؤ کہ دوسرے بھی نہ سن سکیں۔ اس طرح ہماری بک بک سے قرآن کی آواز دب جائے گی۔ آج بھی جاہلوں کو ایسی ہی تدبیریں سوجھا کرتی ہیں کہ کام کی بات کو شور مچا کر سننے نہ دیا جائے۔ لیکن صداقت کی کڑک مچھروں اور مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے کہاں مغلوب ہوسکتی ہے ان سب تدبیروں کے باوجود حق کی آواز قلوب کی گہرائیوں تک پہنچ کر رہتی ہے۔
Read the full tafseer →اب اگلی آیت میں قرآن مجید کا ذکر بہت عظیم الشان انداز میں ہو رہا ہے :
آیت 26 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ } ”اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ مت سنو اس قرآن کو اور اس کی تلاوت کے دوران میں شور مچایا کرو“
رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا آلہ اور ذریعہ چونکہ قرآن تھا اس لیے منکرین حق نے آپس میں ایک دوسرے کو یہ مشورہ دینا شروع کردیا کہ جب محمد ﷺ قرآن پڑھا کریں تو تم لوگ اسے مت سنا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دلوں پر اس کا اثر ہوجائے اور اس کی وجہ سے تم اپنے آبائی دین سے برگشتہ ہو جائو۔ اس لیے جب بھی وہ تمہیں قرآن سنانے کی کوشش کریں تم شور…
Read the full tafseer →33 ابن دغنہ کا ابوبکر ؓ کو پناہ دینا بشرطیکہ قرآن بلند آواز سے نہ پڑھیں :۔ جو شخص بھی قرآن سنتا تھا تو قرآن کی بات اس کے دل میں اتر جاتی تھی اور یہی بلا کی تاثیر قرآن کا اعجاز تھا جس سے قریش مکہ سخت خائف رہتے تھے۔ اور قرآن سے متعلق انہوں نے تین طرح کے اقدام کئے تھے تاکہ اس کی آواز کو دبایا جاسکے۔ ان میں سے پہلا اقدام تو مسلمانوں پر پابندی تھی کہ وہ قرآن کو اونچی آواز سے نہ پڑھا کریں کیونکہ اس طرح ان کی عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی جرم کی پاداش میں خود رسول اللہ پر کئی بار حملے ہوئے اور مسلمانوں کی بھی پٹائی ہوئی۔ اسی جرم کی پاداش میں سیدنا ابوبکر صدیق ؓ پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا اور آپ…
Read the full tafseer →24۔ (اور یہ پیغمبر ہار کر، تھک کر چپ ہوجائیں) مکہ کے مشرکوں نے جب دیکھا کہ پیغمبر ﷺ اپنی تبلیغ سے رکتے نہیں اور قرآن برابر دلوں میں گھر کرتا جاتا ہے تو ایک تدبیر یہی سمجھ میں آئی کہ سرے سے قرآن کی آواز ہی کو کانوں تک نہ پہنچنے دیاجائے، اور قرآن جب رسول اللہ ﷺ سنا رہے ہوں تو اتنا غل مچایا جائے کہ ان کی آواز سن ہی نہ پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیت نمبر 26 تا 32
ترجمہ : اور کافروں نے آپ کی قراءت کے وقت کہا اس قرآن کو سنو مت، اور شوروغل کرو، اور آپ ﷺ کی قراءت کے وقت شور مچاؤ کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ ؟ اور پیغمبر (ہار کر) چپ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا سو ہم ان کافروں کو یقیناً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور انہیں انکے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے، یعنی ان کے عمل کی بدترین جزاء (ضرور دیں گے) وہ یعنی عذاب شدید اور بدترین بدلہ، اللہ کے دشمنوں کی سزایہی دوزخ کی آگ ہے، دوسرے ہمزہ کی تحقیق اور اس کو واؤ سے بدل کر، النّار، الجزاء کا عطف بیان ہے، جو ذٰلک کا مخبربہ (خبر) ہے، جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے یعنی…
Read the full tafseer →وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون اور ان لوگوں (یعنی کفار
مکہ) نے کہا کہ قرآن کو نہ سنو اور اس میں گڑبڑ ڈال دو تاکہ تم (قرأت قرآن پر) غالب آجاؤ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : کچھ لوگ دوسروں سے کہتے تھے : جب محمد ﷺ کو تم قرآن پڑھتے دیکھو تو ان کے سامنے رجز اور شعر خوب پڑھو اور بیہودہ باتیں کرو۔ مجاہد نے کہا : گڑبڑ کرنے سے مراد ہے سیٹیاں اور تالیاں بجانا۔ ضحاک نے کہا : خوب باتیں کرو کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہوں ‘ اس میں گڑبڑ پیدا ہوجائے۔ سدی نے کہا : ان کے سامنے جا کر شور مچاؤ ‘ چیخو ‘ چلاؤ۔
Read the full tafseer →اور ابو جہل اور اس کے ساتھی سب ملکر یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو مت سنو جو محمد تمہارے سامنے پڑھتے ہیں اور اس کے بیچ میں شور و غل مچا دیا کرو شاید تم ہی محمد پر غالب رہو اور آپ خاموش ہوجائیں۔
Read the full tafseer →(1) وقال الذین کفروا ولا تسمعوا …: کفار قرآن کی تاثیر سے واقف تھے کہ جو شخص عناد سے خالی ہو کر اسے سن لے وہ یقیناً اس سے متاثر ہوتا ہے۔ چناچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ نہ خود قرآن سنو، نہ کسی کو سننے دو۔ یہ ان کا واضح اعتراف شکست تھا، وہ اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر نہ لاسکے تو حق یہ تھا کہ اس پر ایمان لے آتے ، مگر وہ اس کی مخالفت پر ڈٹ گئے اور ہر طریقے سے لوگوں کو اس سے روکنے کی کوشش کرنے لگے۔
(2) لھذا القرآن : یعنی پہلی کتابیں پڑھنے سننے پر کوئی پابندی نہیں، کیونکہ اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ قرآن جو محمد (ﷺ) لے کر آئے ہیں، یہ مت سنو، کیونکہ یہ دلوں کو کھینچتا ہے۔
(3) والغوا فیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
وقال الذین کفروا لا تسمعو الھذا القران والغوا فیہ جب اللہ تعالیٰ نے قوم ہود، قوم صالح اور دوسرے لوگوں کے کفرد کا ذکر کیا تو قریش کے مشرکین کے بارے میں خبر دی اور یہ بتایا کہ انہوں نے قرآن کو جھٹلا دیا اور کہا : لا تسمعو ا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لا تسمعوا کا معنی ہے تم اطاعت نہ کرو یہ جملہ کہا جاتا ہے : سمعت لک، یعنی میں نے تیری اطاعت کی وا لغوا فیہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ابو جہل نے کہا جب حضرت محمد ﷺ قرآن پڑھیں تو اس کے سامنے چیخنا چلانا شروع کردیا تھا تو اس وقت انہوں نے کہا : مجاہد نے کہا : شور مچانے، سیٹیاں بجانے اور گفتگو میں خلط ملط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لغو ہوجائے۔
ضحاک نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
قرآن سے منہ موڑنے والوں کی سزاء :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے جب آپ بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین لوگوں کو آپ سے دور بھگا دیتے تھے اور کہتے تھے (آیت ) ” لا تسمعوا لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون “ (کہ تم اس قرآن کو نہ سنو اور شورمچاؤ شاید کہ تم غالب ہوجاؤ) اور رسول اللہ ﷺ جب آہستہ آواز میں قرآن پڑھتے تھے تو وہ شخص نہ سن سکتا تھا جو قرآن مجید کو سننا پسند کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) ” اتاری ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت “ (الاسراء آیت 110) (کہ تو اپنی نماز کو اونچی آواز سے نہ پڑھ اور نہ بالکل آہستہ پڑھ)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ] لَا تَسْمَعُوْا [ تم لوگ مت سنو ] لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ [ اس قرآن کو ] وَالْـغَوْا فِيْهِ [ اور غل غپاڑہ کرو اس میں ] لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ [ شاید تم لوگ غالب ہوجاؤ ]
Read the full tafseer →کافروں کا قرآن سننے سے روکنا اور شور و شغب کرنے کا مشورہ دینا
یہ سات آیات کا ترجمہ ہے اول کی چار آیتوں میں کافروں کی شرارت اور حماقت کا اور ان کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے اور آپس میں جو وہاں بڑوں اور چھوٹوں میں دشمنی کا مظاہرہ ہوگا اس کو بیان کیا ہے، رسول اللہ ﷺ جب قرآن مجید تلاوت کرتے اور لوگوں کو سناتے تو مکہ کے مشرکین میں سے جو بڑے بڑے لوگ تھے وہ اپنے نیچے والوں کو حکم دیتے تھے کہ اس قرآن کو نہ تو خود سنو اور نہ دوسروں کو سننے دو جب محمد رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو تم لوگ اس میں شور و غل مچاؤ، لایعنی باتیں کرو، بےتکی آوازیں نکالو لہٰذا وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی تلاوت کے وقت سیٹیاں بجاتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
تفصیل عذاب آخرت وذلت وناکامی منکرین و انعامات مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویوم یحشر اعدآء اللہ الی النار ....... الی ....... نزلا من غفور رحیم “۔
(ربط) ” گذشتہ آیات کا مضمون دلائل قدرت کے سلسلۂ بیان میں مجرمین کی نافرمانیوں پر دنیاوی عذاب کا ذکر تھا، اور یہ کہ ایسے واضح دلائل قدرت کے ہوتے ہوئے اس قادر مطلق کی نافرمانی بڑی ہی حیرت اور افسوس کی بات ہے، اور وہ اس روش کے باعث دنیا کے عذاب اور ذلت و خواری سے نہیں بچ سکتے، اب ان مجرمین پر عذاب اخروی بیان کیا جارہا ہے کہ آخرت کی ذلت ورسوائی کا کیسا ہولناک منظر ہوگا، ساتھ ہی مطیعین پر انعامات خداوندی اور ان کے اعزاز واکرام کا مضمون ارشاد…
Read the full tafseer →27:۔ ” وقال الذین۔ الایۃ “ یہ دوسرا شکوی ہے اور پہلے سے علی سبیل الترقی ہے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ خود اعراض کرتے ہیں اور سنتے نہیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ منکرین دوسرے لوگوں کو بھی قرا ان سننے سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں جب قرآن پڑھا جائے تو اسے مت سنو، بلکہ شور و غوغا بپا کردو۔ تاکہ تم پڑھنے والے (محمد ﷺ پر غالب آجاؤ۔ اور وہ خود بھی پریشان ہوجائے۔ اور کوئی دوسرا بھی نہ سن سکے۔ یا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا خرافات اور بےہودہ اعتراضات سے مقابلہ کرو تاکہ قرآن کی طرف لوگوں کے دل مائل نہ ہوسکیں اور تم غالب ہوجاؤ۔ عارضوہ بالخرافات او ارفعوا اصراتکم بھا تشوشوہ علی القارئ (بیضاوی) قال ابو العالیۃ وابن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے جزائے عمل کے سلسلے میں فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کا دوزخ کے قریب اجتماع ہوگا ۔ پھر ان کو ان کے جرائم کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی تو خود انہی کے اعضاء و جو ارع کو ان پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دے رہے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس مالک الملک نے قوت گویائی عطاکی ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ۔ اب آج کی آیات میں بھی انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے ۔ اس درس میں قرآن کریم کی تلاوت پر کفار کے ردعمل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ 26
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ترکیب : النار عطفا بیان للجزاء اوخبر محذوف جزاء یجزون جزاء مفعول مطلق۔ الذین تثنیۃ فی حالۃ النصب لکونہ مفعولا ثانیاً لارنا من الجن والانس بیان لہ نجعلھما بالسکون لکونہ جواب الامر و ہوا رنا بکسر الراء عند الجمہور۔
تفسیر : کفار کے کفر پر جہنم کی سخت سزا بیان فرما کر ان کے کفر میں مبتلا ہونے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال و قیضنا لہم قرناء الخ تقیض کے معنی ہیں آسان کرنا اور آمادہ کرنا، صاحب صحاح کہتے ہیں یقال قاضیت الرجل مقایضۃ ای عاوضۃ بمتاع و بماقیضان، قرنا جمع قرین ساتھی۔ یعنی ہم نے ان کفار کا شیاطین کو یارو مددگار بنادیا تھا، پس شیاطین نے ان کی نظروں میں ان کے سامنے یا آگے جو باتیں ہیں امور…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّـکُمْ تَغْلِبُوْنَ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 26)
(اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا کہ اس قرآن کو نہ سنو، اس کے بیچ میں شور برپا کرو تاکہ تم غالب آجاؤ۔ )
قرآنی دعوت کو بےاثر کرنے کا ایک حربہ
نبی کریم ﷺ کی بعثت سے سرزمینِ مکہ پر حق و باطل کی جو کشمکش برپا ہوئی جہاں اس میں نبی کریم ﷺ نے اظہارِحق کی ہر ممکن کوشش کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف مائل کرنے کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا وہیں کفار مکہ نے بالخصوص ان کے سرداروں نے مخالفت کا ہر طریقہ آزمایا۔ کبھی مذاق اڑایا، کبھی اعتراضات کی بوچھاڑ کی، کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح پہلے لوگ گمراہ ہوئے اسی طرح ہی اہل مکہ نے گمراہی اختیار کی۔
ابھی بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے لیے گمراہی کا راستہ پسند کرتے ہیں ان کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دیئے جاتے ہیں۔ جس کے لیے شیطان برے اعمال خوبصورت بنا دے پھر اسے سمجھ نہیں رہتی کہ میں کس قدر گمراہی میں آگے نکل چکا ہوں۔ یہی صورت حال اہل مکہ کی تھی۔ اللہ کے نبی ﷺ انہیں قرآن مجید اس لیے سناتے تھے تاکہ یہ لوگ گمراہی کے راستے کو چھوڑ کر صراط مستقیم پر آجائیں۔ آپ کی تلاوت سن کر لوگ بالخصوص نوجوان طبقہ آپ کی طرف متوجہ ہورہا تھا۔ یہاں تک کہ نبوت کے ابتدائی تین سالوں میں ابوجہل کے بھتیجے بھی مسلمان ہوچکے تھے۔”…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ (اور کافر یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو) جب یہ پڑھا جا رہا ہو۔ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ (اور اس کے دوران شور مچا دیا کرو۔ شاید تم ہی غالب رہو) اور اس کا مقابلہ ایسے کلام سے کرو جو سمجھ نہ آنے والا ہو۔ تاکہ تم ان کو تشویش میں ڈال سکو اور ان کی قراءت پر تم غالب آؤ۔ اللغو فضول کلام جس کے اندر کچھ نہ ہو۔
Read the full tafseer →25، وقضینالھم، یعنی ہم نے بھیجا اور سپر کیا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے تیار کیا اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کا سبب بنایا۔ ، قرنائ، شیطانوں میں سے نظررکھنے والے جنہوں نے ان کو گمراہ کردیا۔ ، فزینوالھم مابین ایدیھم، دنیا کے معاملہ میں سے حتی کہ انہوں نے اس کو آخرت پر ترجیح دی۔ ، وما خلفھم، آخرت کے معاملہ سے۔ پس انہوں نے اس کو اس کی تکذیب اور بعث کے انکار کی طرف بلایا۔ ، وحق علیھم القول فی امم، امتوں کے ساتھ۔ ، قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانواخاسرین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
26۔ 32۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ حضرت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو مشرک لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور سورة لقمان میں گزر چکا ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص نے رستم و اسفندیار وغیرہ کے قصوں کی کتابیں خرید رکھیں تھیں۔ جب آنحضرت ﷺ قرآن شریف پڑھتے تھے تو نضر بن 1 ؎ حارث وہ قصے لوگوں کو سنا کر قرآن شریف کے سننے سے روکا کرتا تھا صحیحین 2 ؎ وغیرہ میں حضرت مسعود کی حدیث مشہور ہے کہ ابوجہل وغیرہ مشرکوں نے مل کر اونٹ کی اوجھڑی نماز پڑھتے وقت آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دی تھی غرض اسی طرح کی بہیودہ باتیں آنحضرت ﷺ کے نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے وقت مشرک لوگ اس غرض سے کرتے تھے کہ لوگ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے : (آیت) ” اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں : اس قرآن کو نہ سنو “ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو ۔ اگر تمہیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ (والغوافیہ) ”(جب پڑھا جائے تو) خوب شو مچاؤ “ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمہارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
41 برائی کی ایک نقد سزا، برے ساتھیوں کا تسلط ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ برے لوگوں کی برائی کا نتیجہ وانجام اور برائی کی ایک نقد سزا برے ساتھیوں کا تسلط ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو اس ارشاد سے خداوند قدوس کی اس سنت کو واضح فرما دیا گیا کہ برے لوگوں کیلئے برے ساتھیوں کا غلبہ و تسلط اور ان کی ان کیلئے تزیین و تحسین انکے عمل کا طبعی نتیجہ وثمرہ ہے۔ یعنی ہمارا قانون اور ضابطہ یہی ہے کہ جو لوگ ہماری تعلیمات سے منہ موڑ کر دنیا اور اس کی لذات ہی کے اسیر و غلام بن کر رہ جاتے ہیں ان پر ان کے ایسے ساتھی مسلط کر دئیے جاتے ہیں جو ان کیلئے ان کی برائیوں کو بھی اچھائیوں کی شکل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–29
حشر کے میدان کی تصویر کشی یعنی حالات
تشریح : ان آیات میں تمام انسانوں کو ایک بہت بڑا راز اور ایک بہت بڑی خبر بڑے واضح الفاظ میں دے دی گئی ہے۔ تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکیں۔ اور پھر میدان حشر میں دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بظاہر ممکن نہیں لگتا مگر قران پاک میں اور احادیث میں بیشمار مرتبہ اس بات کا یقین دلایا گیا ہے۔ پھر انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ہر شخص کے جسم کا ہر عضو خود انسان کے خلاف گواہی دے گا اور انسان اپنے اعمال نامے کی فلم بھی اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا : ان کے کان، آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
اور آج بھی جب کفار دلائل میں لاجواب ہوگئے تو کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھیں تو شوروغل کیا کرو تاکہ کوئی سن ہی نہ سکے اور قرآن کی برکات سے محروم رہے یوں تمہارا مقصد پورا ہو۔
تلاوت قرآن خاموشی سے سننا واجب ہے اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت اور مروجہ شبینہ ۔
معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کا سننا واجب ہے اور آج کل ریڈیو پر تلاوت ہوتی ہے ہوٹلوں والے اپنے کام اور شوروغل میں لگے رہتے ہیں جو کفار کی عادت ہے چاہیے ریڈیو بند رکھیں یا تھوڑی دیر کے لیے کھولیں اور آرام سے سنیں اور دوسروں کو بھی سننے کا موقع دیں اس تناظر میں آج کل کے مروجہ شبیہ…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو آپس میں ایک دو سے سے کہتے ہیں۔
1 یعنی قرآن پڑھنے والے کی آواز کو دبا لو اور وہ گھبرا کر قرآن پڑھنا بند کر دے۔
Read the full tafseer →(41:26) الذین کفروا سے مراد کفار مکہ اور مشرکین قریش ہیں۔
الغوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ لغو (باب نصر، سمع، فتح) سے مصدر۔ تم لغو باتیں کرو، فضول بےمعنی شور مچاؤ۔ بےہودہ بکواس کرو
لغوا۔ بےہودہ۔ بےمعنی بات جو کسی شمار میں نہ ہو۔ اور جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے۔
فیہ : فی حرف جار ہے یہاں ظرفیت کے معنی دیتا ہے۔ ہ ضمیر کا مرجع قرآۃ قرآن ہے۔ یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو تم اس وقت فضول بکواس اور شور و غوغا مچانا شروع کر دو ۔ یا فیہ بمعنی بہ ہے۔
تغلبون : مضارع جمع مذکر حاضر غلبۃ مصدر (باب ضرب) تم غالب آجاؤ، تم چھا جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 32 : لا تسمعوا ( تم نہ سنو) الغوا (شور مچائو) تغلبون (تم غالب ہو جائو گے) نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) اسوا ( بر کیا) دار الخلد (ہمیشہ کا گھر) استقاموا ( وہ جمے رہے) یلحدون ( الحاد) (ٹیڑھاچلتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 26 تا 32 : ہمیشہ سے ایسے لوگوں کی اکثریت رہی ہے جو حق و صداقت ، نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کے بجائے اس سے منہ پھیر کر چلتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جس چیز کو وہ حقیقت سمجھ رہے ہیں سارا حق اس کے مطابق ہو کر چلے وہ اپنے گھڑے ہوئے خیالات کی دنیا سے باہر آنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور ہر تنقید اور نصیحت کو نہایت تلخ اور کڑوا سمجھتے ہیں ۔ وہ بغیر کسی ثبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
منکرین اسلام کی اسلام دشمنی۔
(ف 1) شان نزول : کفار قریش ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ جب محمد ﷺ قرآن شریف پڑھیں تو زور زور سے شور کروخوب چلاؤ، اور اونچی اور نیچی آوازیں نکال کرچیخو بےمعنی کلمات سے شور کرو تالیاں اور سیٹیاں بجاؤ تاکہ کوئی قرآن سننے نہ پائے اور محمد ﷺ پریشان ہوں، اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو سخت عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے روکنا یارکنا خدا کا دشمن بننے کی نشانی ہے اور جن لوگوں کے بہکانے سے دوزخی لوگوں نے برے کام کیے ہیں دوزخ میں جانے کے بعد یہ لوگ کہویں گے یا اللہ ہم تو آفت میں پھنسے ہیں لیکن آدمیوں اور جنوں میں سے جن شیطانوں نے ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–32
[13] یعنی ان پر شیطان تعینات تھے تاکہ ان کے برے کام جو انہوں نے پہلے کئے یا آگے کرتے بھلے کر کے دکھائیں اور تباہ کن ماضی و مستقبل کو خوشنما بنا کر ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ شیطانوں کا تعینات کیا جانا بھی نتیجہ تھا ان کے نصیحت سے منہ موڑنے کا جیسا کہ سورة زخرف آیت 36 میں ارشاد ہوا ہے۔
[14] یعنی وعدہ عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ف 2: یعنی کفار مکہ کی ذہنیت یہ تھی ۔ کہ ان کی صلاح کے لئے قرآن پڑھ کر ان کو سنایا جاتا ۔ اور وہ ازراہ بدبختی اور محرومی نہ صرف اس کی مخالفت کرتے ۔ بلکہ دوسروں کو بھی آمادہ کرتے ۔ کہ شوروشغب ڈال کر مجمعوں کو منتشر کردیں اور ایسی فضا پیدا کردیں کہ حضور ﷺ کے ارشادات سے کوئی استفادہ نہ کرسکے ۔ مگر ان کی شطنت اور ارادوں کے خلاف قرآن کی تعلیم پھیلتی چلی گئی ۔ اور اس کی فتوحات دن دوگنی رات چوگنی ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کلام الٰہی ہرچند سنانا نہ چاہا مگر قرآن نے مجبور کردیا کہ وہ سنیں اور اس کے مبلغ نہیں ۔
حل لغات :۔ من المعتبین ۔ عتاب سے ہے ہمزہ سلب کے لئے ہے قیضنا ۔ تعینات کیا ۔
Read the full tafseer →(26) اور یہ دین حق کے منکر آپس میں یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور اس کے پڑھتے وقت بیچ میں غل مچایا کرو شاید تم غالب ہوجائو۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جب قرآن پڑھا جائے اور یہ تم کو قرآن پڑھا جائے اور یہ تم کو قرآن سنانے لگیں تو خوب غل وشور کرو اور سنو نہیں شاید تم غلبہ پا جائو اور اس قرآن کا لوگوں پر اڑر نہ ہو۔
آگے تہدید اور تنبیہہ فرمائی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
ف 3۔ یعنی اس وقت ان لوگوں پر غصہ آوے گا جنہوں نے بہکایا تھا، آدمی بھی شیطان بھی، اور اس درخواست کا منظور ہونا ضرور نہیں، اور یوں تو مضلین بھی نار میں ہوں گے مگر شاید درخواست کے وقت نظر نہ آویں۔
Read the full tafseer →کافروں کی مجلس شوریٰ کا فیصلہ کتاب اللہ کے خلاف ایک سازش
26 ؎ قرآن کریم کی زبان خالصتاً عربی تھی اس لیے قریش کے بچے ، جوان ، بوڑھے ، مرد اور عورتیں سب اس کو سمجھتے تھے پھر یہ بات بھی آپ پیچھے کئی ایک مقامات پر پڑھ آئے ہیں کہ کچھ لوگ ناخواندہ ہوتے ہیں لیکن جاہل نہیں ہوتے جس طرح بہت کچھ پڑھے لکھے بھی جاہل ہوتے ہیں۔ عربوں میں ناخواندگی ضرور تھی لیکن بہت سے ایسے بھی تھے جو جاہل نہیں تھے اگرچہ ناخواندہ تھے ایسے لوگوں پر قرآن کریم کے سنتے ہی اثر ہوجاتا اور اس اثر کے باعث اگر وہ حالات کی سنگینی کے باعث اگر ایمان کا اعلان نہ بھی کرتے تب بھی ان کے اندر ایمان گھرجاتا اس اثر کو روکنے کے لیے روسا مکہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
Commentary
لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ (Do not listen to this Qur'an, and make noiseduring its recitation, - 41:26) When all the efforts of the disbelievers failed in confronting the Holy Qur'an, they started doing such mischievous acts as mentioned in this verse. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has stated that Abu Jahl got his people primed up and ready to make noises whenever Muhammad ﷺ recited the Qur'an, so that people might not find out what he is saying. Some have said that preparations were made to stop people from listening to the Qur'an by whistling, clapping and by…
Read the full tafseer →30 This was one of those plans of the disbelievers of Makkah with which they wanted to frustrate the Holy Prophet's mission of preaching his message. They knew fully well haw impressive was the Qur'an, how high was the character of the man presenting it, and how effective and inspiring the style of his preaching. They knew that anyone who heard such matchless discourses in such an attractive style from such a noble person could not help being hued and charmed. Therefore, they planned that they should neither hear it themselves nor Iet anyone else hear it; whenever Muhammad (upon whom be…
Read the full tafseer →