Explained with ayahs 69–76
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة الْمُؤْمِن 101
یعنی جب وہ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر پانی مانگیں گے تو دوزخ کے کارکن ان کو زنجیروں سے کھینچتے ہوئے ایسے چشموں کی طرف لے جائیں گے جن سے کھولتا ہوا پانی نکل رہا ہوگا۔ اور پھر جب وہاں سے پی کر فارغ ہوں گے تو پھر وہ انہیں کھینچتے ہوئے واپس لے جائیں گے اور دوزخ کی آگ میں جھونک دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
معارف و مسائل
يُسْحَبُوْنَ فِي الْحَمِيْمِ ڏ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ۔ حمیم کھولتا ہوا گرم پانی ہے۔ اس آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اہل جہنم کو پہلے حمیم میں ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد جحیم یعنی جہنم میں اور بظاہر اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حمیم جہنم سے باہر کسی جگہ ہے۔ سورة صفت کی آیت (آیت) ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ حمیم جہنم سے باہر کسی جگہ ہے اہل جہنم کو اس کا پانی پلانے کے لئے لایا جائے گا۔ پھر جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔ اور بعض آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ حمیم بھی جحیم ہی میں ہے جیسے (آیت) ھذہ جہنم التی یکذب بھا المجرمون یطوفون بینھا وبین حمیم ان۔ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
’ والسلاسل ‘ کے بعد ’ فی ارجلھم ‘ کے الفاظ میرے نزدیک محذوف ہیں۔ ترجمہ میں ان کو میں نے کھول دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے استکبار کی بنا پر اللہ کی آیات کی تکذیب کی اس وجہ سے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ان کے پائوں میں زنجیریں پہنائی جائیں گی۔ اس کے بعد وہ گرم پانی میں گھسیٹے جائیں گے پھر دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ ’ سجر التنور ‘ کے معنی ہیں، تنور کو ایندھن سے بھر دیا۔ ‘
Read the full tafseer →72۔ 1 مجاہد اور مقاتل کا قول ہے کہ ان کے ذریعے سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی یعنی یہ لوگ اس کا ایندھن بنے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–73
18: یعنی یہ سمجھو کہ جو ذات انسان کو تخلیق کے ان سارے مراحل سے گزار رہی ہے، اس کو کسی اور شریک کی کیا حاجت ہے ؟ اور اس کے سوا کون ہے جو عبادت کے لائق ہو ؟ نیز جس نے انسان کو اتنے سارے مراحل سے گذارا، کیا وہ اسے ایک اور مرحلے سے گزار کر اسے ایک دوسری زندگی نہیں دے سکتی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
آیت نمبر 69 تا 76
یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز !
الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔
انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں…
Read the full tafseer →1 یعنی دوزخ میں کبھی جلتے پانی کا اور کبھی آگ کا عذاب دیا جائے گا۔ (اعاذنا اللہ منہما)
Read the full tafseer →آیت 72 { فِی الْْحَمِیْمِلا ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ } ”کھولتے پانی میں ‘ پھر انہیں آگ میں جھونک دیا جائے گا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
94 یعنی ایسے اہل دوزخ مشرکوں کو جب پیاس لگے گی تو فرشتے ان کو گھسیٹتے ہوئے ایسے مقام پر لے جائیں گے جہاں گرم پانی کے چشمے ابل رہے ہوں گے۔ انہیں وہاں سے گرم پانی پلانے کے بعد پھر اپنے اصل مقام پر لاکر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
69۔ یہ نقشہ ہے حشر میں قابل صد تحقیر وموجب صد ہزار تعزیر مجرموں کے ساتھ برتاوے کا۔ (آیت) ” بما ارسلنا بہ رسلنا “۔ اس عموم کے اندر معجزات، احکام، دلائل سب آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
آیت نمبر 69 تا 78
ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…
Read the full tafseer →فی الحمیم ثم فی النار یسجرون ‘ پھر آگ میں ان کو جھونک دیا جائے گا۔
یُسْحَبُوْنَ یعنی یُسْحَبُوْنَ بِھَا زنجیروں سے ان کو کھینچا جائے گا۔
یُسْجَرُوْنَ انکو جلایا جائے گا۔ سَجَر التنور اس نے تنور میں ایندھن بھر دیا ‘ جھونک دیا۔ مقاتل نے کہا : ان سے آگ بھڑکائی جائے گی۔ مجاہد نے کہا : ان کو آگ کا ایندھن بنایا جائے گا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان کو طرح طرح کا عذاب دیا جائے گا ‘ کبھی کھولتے ابلتے پانی کا عذاب ‘ کبھی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن حبان ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سر کی کھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(71۔ 74) جبکہ لوہے کے طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور اس کے ساتھ ان کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی شیاطین بھی ان کے ساتھ ہوں گے ان کو گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا پھر یہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔
پھر ان سے فرشتے کہیں گے کہ وہ تمہارے شریک کہاں گئے جن کو پوجتے تھے وہ کہیں گے کہ وہ شرکاء تو ہم سے غائب ہوگئے اور پھر خود ہی اس بات کے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو اس سے پہلے اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پوجتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کفار کو دلیل سے گمراہ کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(1) اذ الاغلل فی اعناقھم …:”الاغلل“”غل“ (غین کے ضمہ کے ساتھ) کی جمع ہے، طوق۔ ’ السلسل“”سلسلۃ“ کی جمع ہے، زنجیریں۔ ان آیات کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة رعد (5)۔
(2) ”یسحبون“ ”سحب یسحب سحباً“ (ف) گھسیٹ کرلے جانا۔ ”یسجرون“”سجر یسجر سجراً“ (ن) ”التنور“ تنور میں ایندھن جھونکنا۔ یعنی اللہ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں کج بحثی کرنے والے ان کفار کو جب پیاس لگے گی تو فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے اس جگہ لے جائیں گے جہاں شدید گرم پانی ابل رہا ہوگا۔ وہاں سے گرم پانی پلانے کے بعد انہیں پھر ان کی اصل جگہ جہنم میں ایندھن کی طرح جھونک دیا جائے گا۔ دیکھیے سورة صافات (66 تا 68) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
( الم ترالی الذین۔۔۔۔۔ )
الم ترالی الذین یجادلوں فی ایت اللہ انی یصرفون۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد مشرک ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت قدریہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ابن سیرین نے کہا : اگر یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تو میں نہیں جانتا کہ یہ کس کے حق میں نازل ہوئی ؟ ابو قبیل نے کہا : میں تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ وہی ایمان والوں سے مجادلہ کرتے ہیں۔ عقبہ بن عامر نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی “ یہ مہدوی نے ذکر کیا۔
اذا لا غلل فی اعناقھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
5:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون (71) فی الحمیم، یعنی ان پر ہر چیز کو اتاردے گی کھال گوشت اور رگیں یہاں تک کہ وہ اس کی ایڑیوں میں چلی جائے گی یہاں تک کہ اس کے گوشت کی لمبائی ستر ہاتھ کے بقدر ہوگی، پھر اس کو دوسری کھال پہنائی جائے گی، پھر اسے آگ میں جلایا جائے گا ہر چیز ان سے تر ہوجائے گی کھال گوشت اور آنتوں میں سے۔
6:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون “ سے مراد ہے کہ ان پر آگ کو جلایا جائے گا ” تمرحون “ (تم اتراتے تھے) یعنی تم اتراتے تھے اور اکڑتے تھے۔
Read the full tafseer →فِي الْحَمِيْمِ ڏ [ گرم (پانی) میں ] ثُمَّ فِي النَّارِ [ پھر آگ میں ] يُسْجَرُوْنَ [ جھونکے جائیں گے ]
س ج ر : (ن) سجرا ۔ تنور میں ایندھن ڈال کے اسے گرم کرنا ۔ (1) ڈالنا ۔ جھونکنا ۔ (2) بھڑکانا ۔ جوش دینا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 72 ۔ مسجور ۔ اسم المفعول ہے۔ جوش دیا ہوا ۔ آیت ۔ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ [ قسم ہے جوش دیئے ہوئے سمندر کی ] 52:6 ۔ (تفعیل ) تسجیرا [خوب بھڑکانا ۔ خوب جوش دینا ۔ آیت ۔ وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ [اور جب سمندروں کو خوب جوش دیا جائے گا ] 81:6 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
دوزخیوں کا طوقون اور زنجیروں میں گھسیٹا جانا، دوزخ میں داخل ہونا اور ان سے یہ سوال ہونا کہ تمہارے باطل معبود کہاں ہیں
اوپر چند آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اولاً ان لوگوں کی وعید ذکر فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑے بازی کرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب اپنی سزا کو جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی اسی حالت میں فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دئیے جائیں گے وہاں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم نے جو معبود بنا رکھے تھے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
68:۔ ” الذین کذبوا بالکتب “ یہاں سے لے کر ” فبئس مثوی المتکبرین “ تک تخویف اخروی کا اعادہ ہے۔ ” الذین کذبوا “ ، الذین یجادلون سے بدل ہے۔ یا اس کی صفت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور خاص طور سے اس مسئلہ توحید کا انکار کیا جس کی تبلیغ کے لیے ہم نے تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو بھیجا، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وما ارسلمنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون “ (الانبیاء رکوع 2) ۔ ان لوگوں کو تکذیب و انکار اور جدال و خصام کے انجام بد کا اس وقت خوب پتہ چلے گا جب قیامت کے دن ان کی گردنوں میں طوق اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی اور انہیں بھڑکتی آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔
ّ (آیات الہی میں جھگڑا)
اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…
Read the full tafseer →فِي الْحَمِيْمِ 0ۥۙ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ 72ۚ
حم
الحمیم : الماء الشدید الحرارة، قال تعالی: وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ، إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] ، وقال تعالی: وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [ الأنعام/ 70] ، وقال عزّ وجل : يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] ، هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ [ ص/ 57] ، وقیل للماء الحارّ في خروجه من منبعه :
حَمَّة، وروي : «العالم کالحمّة يأتيها البعداء ويزهد فيها القرباء» «6» ، وسمي العَرَق حمیما
علی التشبيه، واستحمّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
ترکیب : اذا الاغلالظرف لیعلمون والمراد معنی الاستقبال والسلاسل جمع سلسلۃ معطوف علی الاغلال و الخبرفی اعناقہم او مبتداء خبرہ یسبحون والعائد محذوف ای یسبحون بھا و ھو علی الاول حال و قریٰ بالنصب و یسبحون بفتح الیاء ای یسبحون السلاسل۔
تفسیر : آیات الٰہیہ میں جھگڑا کرنے والوں کی پھر مذمت بیان کی جاتی ہے۔ فقال الم ترالی الذین الخ خدا تعالیٰ تعجب کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جو آیات الٰہیہ میں ناحق حجت کیا کرتے ہیں، وہ کہاں بہکے جاتے ہیں ؟ پھر فرماتا ہے وہ کون ہیں۔ الذین کذبوا بالکتابوہ ہیں کہ جنہوں نے کتاب اللہ کو جھٹلایا، عام ہے کہ قرآن مجید ہو یا اگلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
اِذِالْاَغْلٰـلُ فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ وَالسَّلٰسِلُ ط یُسْحَبُوْنَ ۔ فِی الْحَمِیْمِ لا 5 ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ ۔ (المؤمن : 71، 72)
(جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی، وہ کھینچے جائیں گے۔ کھولتے ہوئے پانی میں، پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ )
آخرت میں مخالفین کا انجام
تکذیبِ رُسل اور تکذیبِ کتاب کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت میں ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور جسم کے مختلف حصے زنجیروں میں جکڑے جائیں گے۔ پھر جب وہ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر پانی مانگیں گے تو جہنم کے کارکن ان کو زنجیروں سے پکڑ کر گھسیٹیں گے اور ان چشموں پر لے جائیں گے جن سے کھولتا ہوا پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ واضح دلائل آجانے کے باوجود اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں ان کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں توحید و رسالت اور قیامت کے بارے میں اتنے واضح اور ٹھوس دلائل دیئے ہیں کہ معمولی سے معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی انہیں قبول کیے بغیر نہیں سکتا بشرطیکہ وہ جھگڑالو نہ ہو۔ جھگڑالو آدمی اپنی انا اور تعصب کی بنیاد پر حقیقت قبول کرنے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بالخصوص مشرک توحید کی بات سمجھنا تو دور کی بات اسے سننا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو ” اللہ “ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کہاں سے بھٹک رہے…
Read the full tafseer →فِي الْحَمِيْمِ (گرم پانی میں) ای یجرون فی الماء الحار (ان کو گرم پانی میں کھینچا جائے گا) ۔ڏ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ (پھر ان کو آگ میں جھونک دیا جائے گا) یسجرون سجر التنور سے بنا ہے۔ جبکہ اس کو ایندھن سے بھر دیں اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آگ میں ہوں گے اور وہ ان کے چاروں طرف چھائی ہوگی اور ان کو آگ سے جلایا جائے گا اس حال میں کہ ان کے پیٹ آگ سے بھرے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
تفسیر (70۔ 71) ۔۔۔۔۔ الذین کذبوابالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا فسوف یعلمون اذالا غلل فی اعناقھم والسلسل یسحبون، گھسٹیے جائیں گے۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–76
آیت 66
(آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟
بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
134 دوزخیوں کے حال بد کی ایک تصویر : سو دوزخیوں کے حال بد کی ایک تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب طوق پڑے ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں انکے پاؤں میں ۔ والعیاذ باللہ : مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ زنجیریں ان کے طوقوں سے بندھی ہوں گی۔ اور فرشتے ان سے پکڑ کر ان کو کبھی وہاں کے اس کھولتے پانی میں اور کبھی اس دہکتی آگ میں منہ کے بل گھسیٹ رہے ہوں گے جو انتہائی ہولناک ہوگی۔ جیسا کہ خود قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَطُوْفُوْنَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ } ۔ ( الرحمن : 44) ۔ والعیاذ باللّٰہِ العزیزالرحمن ۔ سو ان منکرین نے چونکہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
جھٹلانے والوں کا انجام
تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78:
اسرار و معارف ؛
ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ف 4 یعنی اگر وہ واقعی خدا کے شریک تھے اور تم اس امید پر ان کی عبادت کیا کرتے تھے کہ وہ مشکل وقت میں تمہاری دستگیری کریں گے تو آج وہ تمہاری مدد کو کیوں نہیں پہنچ رہے ؟ (ضلواعنا) یعنی جو امید ہم ان معبودوں سے رکھتے تھے وہ ضائع ہوگئی۔ ( جامع)
Read the full tafseer →(40:72) الحمیم : ح م م مادہ۔ حمیم کے معنی سخت گرم پانی کے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وسقوا ماء حمیما (47:15) اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ تشبیہ کے طور پر پسینہ کو بھی حمیم کہا جاتا ہے اور حمام کو حمام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں گرم پانی موجود ہوتا ہے یا یہ کہ وہ پسینہ آور ہوتا ہے۔ مجازا قریبی رشتہ دار اور گہرے درست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں یا اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔
فی النار : ای فی نار جھنم دوزخ کی آگ میں۔
سیجرون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ سجر (باب نصر) مصدر۔ تپائے جائیں گے۔ جھونکے جائیں گے۔
السجر کے اصل معنی زور سے آگ بھڑ کانے کے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–77
مشرکوں کی ہٹ دھرمی۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں پھر فرمایا کہ کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا، جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
[25] یعنی پہلے تو گھبرا کر منہ سے نکل جائے گا کہ وہ ہم سے کھوئے گئے، پھر سنبھل کا انکار کردیں گے کہ ہم نے اللہ کے سوا کسی چیز کو پکارا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
ف 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی حالت پر تبصرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ بغیر علم و دلیل کے اللہ کی آیتوں میں میں میخ نکالتے ہیں ۔ اور بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور ساری کتابوں کی تکذیب کرتے ہیں ۔ انہیں عنقریب معلوم ہوگا ۔ جب کہ ذلت ورسوائی کے گراں بار طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ۔ اور زنجیریں ان کے پیروں میں ۔ جب یہ گھسیٹتے ہوئے گرم پانی کے چشموں کی طرف لے جائیں گے ۔ اور پھر جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ تب ان سے پوچھا جائیگا ۔ کہ آج تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں ۔ آج وہ کیوں تمہاری عقیدت مندی اور نیاز مندی کا صلہ نہیں دیتے ۔ اس وقت ان کو محسوس ہوگا کہ ہم غلطی پر تھے ۔ یہ…
Read the full tafseer →(72) سخت گرم کھولتے ہوئے پانی میں پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ یہ حمیم اور جحیم کی بحث پہلے بھی گزر چکی ہے مدعا یہ ہے کہ عذاب کو انواع مختلف ہوں گے کبھی بھی یہ مقدم اور کبھی وہ مقدم مفسرین کے دو قول ہیں ہم نے ابن کثیر کے فیصلے کو اختیار کیا ہے کبھی گرم پانی کا عذاب کبھی نار خالص کا عذاب یطوفون بینھا وبین حمیم ان اللھم اجرنا من نارک انا عائذون بجوارک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
ف 9۔ یعنی تمہارے باپ کو۔
10۔ یعنی آگے ان کی نسل کو۔
11۔ یعنی جوانی اور بڑہاپے سے پہلے۔
Read the full tafseer →دوزک میں کھولتا ہوا پانی ہوگا جس میں ان کو ڈال دیا جائے گا۔
72۔ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ان معاندین ومجرمین کو دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ وہاں ان کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا جائے گا اور آگ میں سیدھے جھونک دیئے جائیں گے۔ جس طرح کسی کو قتل کردینا بہت اذیت ناک بات ہے لیکن جب اس کے قتل کرنے کو اس طرح بیان کیا جائے کہ فلاں آدمی کو پہلے باندھا گیا اور پھر نیزے کی انی سے اس کو چھیدا گیا اور دیر تک اس کو اذیتیں دی جاتی رہیں اور انجام کار اس کو قتل کردیا گیا تو انسان اس طرح کی بات سن کر اور اس طرح کے عذاب دیئے جانے کی داستان سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
Commentary
In verses 71 and 72, it was said: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ (They will be dragged [ 71] into the hot water after which they will be thrown in the Fire as a fuel.). The word: الْحَمِيمِ (al-hameem) is boiling hot water. The verse seems to suggest that the people of Jahannam will first be put into the hameem, then, into the jahim, that is, the Jahannam. Again, it also seems to suggest that the hameem is somewhere outside the Jahannam. The verse: ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ (Then, their return is but to the Fire - As-Saffat, 37:68)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
101 That is, "When compelled by the intensity of thirst they will ask for water, the keepers of Hell will drag them by the chains towards the springs of boiling water, and when they will have drunk from them, they will drag them back to be cast into the fire of Hell. "
Read the full tafseer →