Explained with ayahs 69–76
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 100
یہ ہے ان کے ٹھوکر کھانے کی اصل وجہ۔ ان کا قرآن کو اور اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ ماننا اور اللہ کی آیات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے بجائے جھگڑالو پن سے ان کا مقابلہ کرنا، یہی وہ بنیادی سبب ہے جس نے ان کو بھٹکا دیا ہے اور ان کے لیے سیدھی راہ پر آنے کے سارے امکانات ختم کردیے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان لوگوں (کی حالت) کو نہیں دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں (حق سے) کہاں پھرے چلے جا رہے ہیں، جن لوگوں نے اس کتاب (یعنی قرآن) کو جھٹلایا اور اس چیز کو بھی (جھٹلایا) جو ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا (اس میں کتب و احکام و معجزات سب داخل ہوگئے کیونکہ مشرکین عرب اور کسی پیغمبر کو بھی نہ مانتے تھے) سو ان کو ابھی (یعنی قیامت میں کہ قریب ہے) معلوم ہوا جاتا ہے جبکہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور ان (طوقوں میں) زنجیریں (پروئی ہوئی ہوں گی، جن کا دوسرا سرا فرشتوں کے ہاتھ میں ہوگا اور ان زنجیروں سے) ان کو گھسیٹتے ہوئے کھولتے پانی میں پہنچائیں گے۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →’ کتاب ‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یہ ان کے جرم کا بیان ہے کہ انہوں نے قرآن کی بھی تکذیب کی اور ان تمام تعلیمات کی بھی جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ تمام رسولوں کی تعلیم بنیادی طور پر یہی رہی ہے جو قرآن دے رہا ہے تو قرآن کی تکذیب سب کی تکذیب ہوئی۔ ’ فسوق یعلمون ‘ یہ دھمکی ہے۔ یعنی اگر انہوں نے یہ جسارت کی ہے تو عنقریب وہ اس کا انجام بھی دیکھیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
71۔ 1 یہ وہ نقشہ ہے جو جہنم میں ان مکذبین کا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–73
18: یعنی یہ سمجھو کہ جو ذات انسان کو تخلیق کے ان سارے مراحل سے گزار رہی ہے، اس کو کسی اور شریک کی کیا حاجت ہے ؟ اور اس کے سوا کون ہے جو عبادت کے لائق ہو ؟ نیز جس نے انسان کو اتنے سارے مراحل سے گذارا، کیا وہ اسے ایک اور مرحلے سے گزار کر اسے ایک دوسری زندگی نہیں دے سکتی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
آیت نمبر 69 تا 76
یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز !
الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔
انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
8 کہ اس تکذیب کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 70 { الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِالْکِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِہٖ رُسُلَنَاقف فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ”وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو اور ان چیزوں کو جن کے ساتھ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو ‘ تو عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔“
بس کچھ ہی وقت کی بات ہے ‘ اصل حقیقت ان پر منکشف ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →93 کیونکہ سابقہ کتب سماوی کی بنیادی تعلیم وہی کچھ ہے جو قرآن کریم کی ہے اور ان لوگوں کا قرآن یا پہلی کتابوں کو جھٹلانا یہ ہے کہ وہ قرآن سے ہدایت لینے کے خواہشمند نہیں ہوتے بلکہ قرآن میں اپنے قائم کردہ نظریات کو داخل کرنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
69۔ یہ نقشہ ہے حشر میں قابل صد تحقیر وموجب صد ہزار تعزیر مجرموں کے ساتھ برتاوے کا۔ (آیت) ” بما ارسلنا بہ رسلنا “۔ اس عموم کے اندر معجزات، احکام، دلائل سب آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
آیت نمبر 69 تا 78
ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…
Read the full tafseer →الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا فسوف یعلمون یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب کی ‘ اور اللہ نے اپنے پیغمبروں کو جو (شریعتیں) دے کر بھیجا ‘ ان کی (بھی) تکذیب کی ‘ سو ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔
اَنّٰی یُصْرَفُوْنَکہاں یعنی کس طرح ان کو حق سے پھیرا جاتا ہے۔ یہ استفہام جزری ‘ توبیخی ہے ‘ مجادلہ کرنے والوں کا دو بار ذکر مذمت مجادلہ کی تاکید کیلئے ہے ‘ یا مجادلہ کرنے والے الگ الگ تھے ‘ یا جن مسائل میں جدال کرتے تھے ‘ وہ مسائل جدا جدا تھے ‘ اسلئے دو بار جدال کرنے والوں کا ذکر کیا۔ محمد بن سرین نے کہا : پہلی آیت مشرکوں کے بارے میں ہے اور یہ آیت فرقۂ قدریہ کے متعلق نازل ہوئی۔
اَلَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →جن لوگوں نے قرآن حکیم کو اور سابقہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کی کتابوں کو جھٹلایا سو ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →الذین کذبوا بالکتب …: یعنی ان کے اللہ کی کتاب اور اس کے رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات (توحید، رسالت اور آخرت وغیرہ) پر ایمان لانے کے بجائے ان کے بارے میں جھگڑنے کیا صل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے قبول کرنے کے ارادے سے ان پر سناجیدگی سے غور ہی نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ جھگڑاو پن سے ان کا مقابلہ کرنے اور انہیں جھٹلانے کا راستہ اختیار کئے رکھا۔ سو وہ اپنے اس عمل کا انجام بہت جلد جان لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
( الم ترالی الذین۔۔۔۔۔ )
الم ترالی الذین یجادلوں فی ایت اللہ انی یصرفون۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد مشرک ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت قدریہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ابن سیرین نے کہا : اگر یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تو میں نہیں جانتا کہ یہ کس کے حق میں نازل ہوئی ؟ ابو قبیل نے کہا : میں تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ وہی ایمان والوں سے مجادلہ کرتے ہیں۔ عقبہ بن عامر نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی “ یہ مہدوی نے ذکر کیا۔
اذا لا غلل فی اعناقھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ سات سال کی عمر میں بچے کے دودھ والے دانت ٹوٹتے ہیں اور چودہ سال کی عمر میں احتلام کرلیتا ہے (یعنی بالغ ہوجاتا ہے) اکیس سال کی عمر میں اس کی لمبائی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور اٹھائیس سال کی عمر میں اس کی عقل پوری ہوجاتی ہے اور تینتیس سال کی عمر میں اس کی عقل پختہ ہوجاتی ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومنکم من یتوفی من قبل “ (اور تم میں سے بعض پہلے سے فوت ہوجاتے ہیں) یعنی بوڑھا ہونے سے پہلے (آیت ) ” ولتبلغوا اجلا مسمی “ (تاکہ تم اپنی مقرر مدت تک پہنچ جاؤ) یعنی بڑھاپے اور جوانی کو (آیت ) ” ولعلکم تعقلون “ (تاکہ تم…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا [ جنھوں نے جھٹلایا ] بِالْكِتٰبِ [ اس کتاب کو ] وَبِمَآ [ اور اس کو ] اَرْسَلْنَا بِهٖ [ ہم نے بھیجا جس کے ساتھ ] رُسُلَنَا ڕ [ اپنے رسولوں کو ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جان لیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
دوزخیوں کا طوقون اور زنجیروں میں گھسیٹا جانا، دوزخ میں داخل ہونا اور ان سے یہ سوال ہونا کہ تمہارے باطل معبود کہاں ہیں
اوپر چند آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اولاً ان لوگوں کی وعید ذکر فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑے بازی کرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب اپنی سزا کو جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی اسی حالت میں فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دئیے جائیں گے وہاں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم نے جو معبود بنا رکھے تھے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
68:۔ ” الذین کذبوا بالکتب “ یہاں سے لے کر ” فبئس مثوی المتکبرین “ تک تخویف اخروی کا اعادہ ہے۔ ” الذین کذبوا “ ، الذین یجادلون سے بدل ہے۔ یا اس کی صفت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور خاص طور سے اس مسئلہ توحید کا انکار کیا جس کی تبلیغ کے لیے ہم نے تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو بھیجا، جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وما ارسلمنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون “ (الانبیاء رکوع 2) ۔ ان لوگوں کو تکذیب و انکار اور جدال و خصام کے انجام بد کا اس وقت خوب پتہ چلے گا جب قیامت کے دن ان کی گردنوں میں طوق اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی اور انہیں بھڑکتی آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔
ّ (آیات الہی میں جھگڑا)
اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِہٖ رُسُلَنَا 0 ۣ ۛ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ 70ۙ
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
ترکیب : اذا الاغلالظرف لیعلمون والمراد معنی الاستقبال والسلاسل جمع سلسلۃ معطوف علی الاغلال و الخبرفی اعناقہم او مبتداء خبرہ یسبحون والعائد محذوف ای یسبحون بھا و ھو علی الاول حال و قریٰ بالنصب و یسبحون بفتح الیاء ای یسبحون السلاسل۔
تفسیر : آیات الٰہیہ میں جھگڑا کرنے والوں کی پھر مذمت بیان کی جاتی ہے۔ فقال الم ترالی الذین الخ خدا تعالیٰ تعجب کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جو آیات الٰہیہ میں ناحق حجت کیا کرتے ہیں، وہ کہاں بہکے جاتے ہیں ؟ پھر فرماتا ہے وہ کون ہیں۔ الذین کذبوا بالکتابوہ ہیں کہ جنہوں نے کتاب اللہ کو جھٹلایا، عام ہے کہ قرآن مجید ہو یا اگلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ ط اَنّٰی یُصْرَفُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِالْـکِتٰبِ وَبِمَـآ اَرْسَلْنَا بِہٖ رُسُلَنَا قف فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (المؤمن : 69، 70)
(کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں، وہ کہاں سے پھرائے جارہے ہیں۔ جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور ان چیزوں کو بھی جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا، وہ عنقریب جان لیں گے۔ )
کفار کی کٹ حجتی کا سبب
اوپر والی تقریر نے ہر فکری گمراہی کو کھول کر رکھ دیا ہے اور ہر ذہنی الجھن کی گرہ کھول دی ہے۔ حقائق بالکل واشگاف ہو کر سامنے آگئے ہیں، اس کے باوجود جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ واضح دلائل آجانے کے باوجود اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں ان کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں توحید و رسالت اور قیامت کے بارے میں اتنے واضح اور ٹھوس دلائل دیئے ہیں کہ معمولی سے معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی انہیں قبول کیے بغیر نہیں سکتا بشرطیکہ وہ جھگڑالو نہ ہو۔ جھگڑالو آدمی اپنی انا اور تعصب کی بنیاد پر حقیقت قبول کرنے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بالخصوص مشرک توحید کی بات سمجھنا تو دور کی بات اسے سننا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو ” اللہ “ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کہاں سے بھٹک رہے…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا (جن لوگوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور اس چیز کو بھی جو ہم نے اپنے پیغمبر کو دے کر بھیجا تھا) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے اور ما ارسلنا بہ سے کتب سابقہ۔ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ (پس ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
تفسیر (68۔ 69) ۔۔۔۔۔۔ ، ھوالذی یحی ویمیت، فاداقضی امرافانما یقول لہ کن فیکون الم ترالی الذین یجادلون فی ایت اللہ،
یعنی قرآن میں کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ ، انی یصرفون، کیسے وہ دین حق سے پھیرے جاتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین ہیں اور محمد بن سیرین اور ایک جماعت سے روایت ہے کہ یہ آیت قدریہ (منکرین تقدیر) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–76
آیت 66
(آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟
بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →131 کتاب الہی کی تکذیب کا ہولناک جرم اور اسکا انجام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری اس کتاب کو " یعنی الف لام یہاں پر عہدی ہے۔ مراد اس سے قرآن مجید ہے جو کہ سب آسمانی کتابوں کا محافظ اور جامع ہے۔ (صفوہ وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد میں انکا وہ جرم بیان فرمایا گیا ہے جو جرموں کا جرم اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس کتاب کی تکذیب و انکار جو کہ سب آسمانی کتابوں کی خاتم، ان کی جامع اور ان کی اصل اور اصولی تعلیمات کی مہیمن اور محافظ کتاب ہے کہ اس کی تکذیب و انکار کا مطلب دنیا کو نور حق و ہدایت سے محروم کرکے گھٹا ٹوپ اندھیروں کے حوالے کردینا ہے جو کہ خساروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
جھٹلانے والوں کا انجام
تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78:
اسرار و معارف ؛
ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ان کتابوں کو جو پہلے انبیاء پر نازل ہوئیں۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” الکتاب “ سے مراد قرآن لیا جائے اور اگر اس سے مراد جنس کتاب ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ ” جنہوں نے ہماری کتابوں کو جھٹلایا اور اس ( شریعت یا سنت) کو بھی جھٹلایا ہے جسے دے کر ہم نے اپنے ” پیغمبروں کو بھیجا “۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(40:70) الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا : اس میں الکتب سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور بما ارسلنا بہ رسلنا۔ سے مراد وہ کتابیں ، صحیفے و احکام شرائع ہیں جو دوسرے پیغمبروں پر نازل کئے گئے۔ بما میں ما موصولہ ہے اس جملہ میں معانقہ ہے۔ اگر وقف رسلنا پر کریں تو یہ جملہ الذین یجادلون فی ایت اللہ کی توضیح و تعریف میں ہے یعنی اللہ کی کتاب و آیات میں جھگڑے نکالنے والے یہی لوگ ہیں جنہوں نے (اللہ کی) کتاب (یعنی قرآن) کی اور ان کی کتابوں، صحائف، شرائع کی تکذیب کی جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجا تھا۔ (پس جلدی ہی یہ اپنے انجام کو جان لیں گے)
اور اگر وقف یصرفون (آیت 69) پر کیا جائے تو یہ ایک نیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–77
مشرکوں کی ہٹ دھرمی۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں پھر فرمایا کہ کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا، جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
[23] یعنی قرآن کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
ف 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی حالت پر تبصرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ بغیر علم و دلیل کے اللہ کی آیتوں میں میں میخ نکالتے ہیں ۔ اور بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور ساری کتابوں کی تکذیب کرتے ہیں ۔ انہیں عنقریب معلوم ہوگا ۔ جب کہ ذلت ورسوائی کے گراں بار طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ۔ اور زنجیریں ان کے پیروں میں ۔ جب یہ گھسیٹتے ہوئے گرم پانی کے چشموں کی طرف لے جائیں گے ۔ اور پھر جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ تب ان سے پوچھا جائیگا ۔ کہ آج تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں ۔ آج وہ کیوں تمہاری عقیدت مندی اور نیاز مندی کا صلہ نہیں دیتے ۔ اس وقت ان کو محسوس ہوگا کہ ہم غلطی پر تھے ۔ یہ…
Read the full tafseer →(70) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کتاب یعنی قرآن کی تکذیب کی اور نیز ان چیزوں کی تکذیب کی جو چیزیں ہم نے اپنے رسولوں کودے کر بھیجا تھا سو ان کو عنقریب اپنا انجام معلوم ہوا جاتا ہے اور یہ لوگ بہت جلد معلوم کرلیں گے۔ یعنی قیامت میں ان کو سب معلوم ہوجائے گاجوچیزرسول دے کر بھیجے گئے وہ احکام اور معجزات وغیرہ ہیں کتاب کی تکذیب رسولوں کے لائے ہوئے احکام معجزات سب ہی کو جھٹلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
ف 9۔ یعنی تمہارے باپ کو۔
10۔ یعنی آگے ان کی نسل کو۔
11۔ یعنی جوانی اور بڑہاپے سے پہلے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں نے کتاب اللہ اور رسولوں سب کی تکذیب کی
70۔ ان لوگوں نے کتاب للہ یعنی قرآن کریم کی تکذیب کی اور قرآن کریم کی تکذیب کر کے وہ گزشتہ تمام کتابوں کی بھی تکذیب کر مرتکب ٹھہرے کیونکہ قرآن کریم گزشتہ تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور تحدی کی طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ میرا پیغام کوئی نیا پیغام نہیں بلکہ وہی ہے جو قبل ازیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے پیش کیا تھا اور جس میں ان کی قوموں نے تحریف کر کے بہت کچھ اپنے پاس سے اس میں داخل کردیا کسی نے ان میں تفریط کی اور کسی نے افراط سے کام لیا لیکن یہ دنیوی زندگی آخر کتنی ہے ؟ تکذیب کرنے والے کب تک تکذیب کریں گے ؟ جب تک زندہ ہیں بس زندگی کا یہ کھیل ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
Commentary
In verses 71 and 72, it was said: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ (They will be dragged [ 71] into the hot water after which they will be thrown in the Fire as a fuel.). The word: الْحَمِيمِ (al-hameem) is boiling hot water. The verse seems to suggest that the people of Jahannam will first be put into the hameem, then, into the jahim, that is, the Jahannam. Again, it also seems to suggest that the hameem is somewhere outside the Jahannam. The verse: ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ (Then, their return is but to the Fire - As-Saffat, 37:68)…
Read the full tafseer →100 This is the real cause of their going astray Their denial of the Qur'an and the teachings brought by the Messenger of AIlah and their resisting by disputation the Revelations of Allah instead of pondering over them seriously, was the basic cause, which has led them astray and exhausted all possibilities of their adopting the Right Way
Read the full tafseer →