Explained with ayahs 66–68
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
سورة الْمُؤْمِن 99
مطلب یہ ہے کہ اوپر والی تقریر کے بعد بھی کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ ان لوگوں کی غلط بینی اور غلط روی کا اصل سر چشمہ کہاں ہے اور کہاں سے ٹھوکر کھا کر یہ اس گمراہی کے گڑھے میں گرے ہیں ؟ (واضح رہے کہ یہاں تم کا خطاب نبی ﷺ سے نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص مخاطب ہے جو ان آیات کو پڑھے یا سنے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
(آیت) وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ۔ انسان کی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سب جانوروں سے ممتاز، اعلیٰ اور بہتر ہئیت میں بنایا ہے۔ اس کو سوچنے سمجھنے کی عقل عطا فرمائی۔ اس کے ہاتھ پاؤں ایسے بنائے کہ ان سے طرح طرح کی اشیاء و مصنوعات بنا کر اپنی راحت کے سامان پیدا کرلیتا ہے۔ اس کا کھانا پینا بھی عام جانوروں سے ممتاز ہے وہ اپنے منہ سے چرتے اور پیتے ہیں یہ ہاتھوں سے کام لیتا ہے۔ عام جانوروں کی غذا مفردات سے ہے، کوئی گوشت کھاتا ہے کوئی گھاس اور پتے اور وہ بھی بالکل مفرد بخلاف انسان کے کہ یہ اپنے کھانے کو مختلف قسم کی چیزوں پھلوں، ترکاریوں، گوشت اور مصالحہ سے لذیذ و مرغوب بنا کر کھاتا ہے۔ ایک ایک…
Read the full tafseer →یعنی زندگی اور موت تمام تر اسی کے اختیار میں ہے اور اس کی قدرت کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کوئی چیز اس کے ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتی۔ وہ فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے اور اسی طرح ہوجاتی ہے جس طرح وہ چاہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کو بھی یوں ہی سمجھو۔ جب وہ اس کو لانا چاہے گا تو اس کے ایک کلمہ ٔ کن سے و چشم زدن میں آجائے گی۔
Read the full tafseer →68۔ 1 زندہ کرنا اور مارنا اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ ایک بےجان نطفے کو مختلف اطوار سے گزار کر ایک زندہ انسان کے روپ میں ڈھال دیتا ہے اور پھر ایک وقت مقررہ کے بعد اس زندہ انسان کو مار کر موت کی وادیوں میں سلا دیتا ہے۔
68۔ 2 اس کی قدرت کا یہ حال ہے کہ اس کے لفظ کن (ہو جا) سے وہ چیز معرض وجود میں آجاتی ہے جس کا وہ ارادہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–73
18: یعنی یہ سمجھو کہ جو ذات انسان کو تخلیق کے ان سارے مراحل سے گزار رہی ہے، اس کو کسی اور شریک کی کیا حاجت ہے ؟ اور اس کے سوا کون ہے جو عبادت کے لائق ہو ؟ نیز جس نے انسان کو اتنے سارے مراحل سے گذارا، کیا وہ اسے ایک اور مرحلے سے گزار کر اسے ایک دوسری زندگی نہیں دے سکتی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
آیت نمبر 67 تا 68
اس کرۂ ارض پر انسانی پیدائش کا ارداک انسانی علم نہیں کرسکتا ، کیونکہ انسان اس وقت نہ تھا جب اسے پیدا کیا گیا تھا ، انسانی پیدائش کے تسلسل میں بعض امور ایسے ہیں جن کا مشاہدہ انسان کرتا ہے لیکن یہ انسانی مشاہدہ اپنی موجودہ ترقی یافتہ شکل میں زمانہ حال میں سامنے آیا ہے ، نزول قرآن کے صدیوں بعد۔
پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور یہ واقعہ اس وقت ہوا جب انسان نہ تھا۔ لیکن معلوم ہوگیا کہ اس کرۂ ارض پر مٹی ہی حیات کی بنیاد ہے۔ اسی سے انسان کو بنایا گیا ہے اور اسے زندگی دی گئی ہے۔ یہ بات اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا کہ یہ معجزہ کس طرح ظہور میں آیا زندگی اور زمین…
Read the full tafseer →7 یعنی اس کی قدرت کاملہ اور شان کن فیکون کے سامنے یہ کیا مشکل ہے کہ موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کر دے۔
Read the full tafseer →آیت 68 { ہُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُج } ”وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت وارد کرتا ہے۔“
{ فَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ } ”چناچہ اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔“
Read the full tafseer →91 (کُنْ فَیَکُوْنُ ) کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة یٰسین کی آیت نمبر 84 کا حاشیہ نمبر 74
Read the full tafseer →67۔ اس بنیادی حقیقت توکوینی کو عمل تخلیق کی تدریج کے مسئلہ سے نفیایا اثباتا کوئی تعلق نہیں، آیت کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ ارادہ الہی اور عمل تخلیق کے درمیان چھوٹی بڑی کوئی دوسری شے حائل نہیں ہوسکتی نہ ارادۂ الہی پر کوئی دوسری شے ذرا سی بھی قید لگا سکتی ہے۔ (آیت) ” یقول لہ کن فیکون “۔ یہ مضمون کئی بار قبل آچکا ہے۔ حاشیے وہیں گزر چکے۔ (آیت) ” ھو الذی یحی ویمیت “۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زندگی وموت دونوں تمامتر اسی کے ہاتھ میں ہیں ...... یہ نہیں کہ زندگی بخشنے والے دیوتافلاں ہیں اور موت لانے والے دیوتافلاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنادی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو، اور ان کو دیکھنے والا (روشن) بنادیا، مُبْصِرًا کی اسناد نہار کی جانب مجازی ہے، اس لئے کہ اس میں دیکھا جاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر گذاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم ایمان سے دلیل کے باوجود کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ اسی طرح یعنی ان لوگوں کے الٹے چلنے کے مانندوہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیتوں یعنی معجزات کا انکار کیا کرتے تھے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قیام گاہ…
Read the full tafseer →ھو الذی یحی ویمیت فاذا قضی امر فانما یقول لہ کن فیکون وہی زندگی دیتا ہے اور (وہی)
موت دیتا ہے۔ جب وہ کسی کام (کے ہوجانے) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو صرف اتنا کہتا ہے ” ہو “ اور وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
فَاذَا قَضآی جب وہ کسی امر کا ارادہ کرتا ہے۔
فَیَکُوْنُ یعنی وہ چیز فوراً ہوجاتی ہے ‘ اللہ کو کسی چیز کی تخلیق میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
فَاذَا میں لفظ فَ دلالت کر رہا ہے کہ یہ کلام سابق کا نتیجہ ہے ‘ سابق کلام بتارہا ہے کہ اللہ کی قدرت ذاتی ہے ‘ کسی سامان اور مواد کی اس کو کوئی حاجت نہیں۔
Read the full tafseer →وہی حشر کے لیے زندہ کرتا ہے اور دنیا میں وہی موت دیتا ہے اور جب وہ بغیر باپ کے کوئی اولاد پیدا کرنا چاہتا ہے جیسے حضرت عیسیٰ تو وہ فرما دیتا ہے کہ ہوجا سو بغیر باپ کے لڑکا پیدا ہوجاتا ہے یا یہ کہ جس وقت وہ قیامت قائم کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو قیامت سے فرمائے گا کہ ہوجا سو وہ پھر قائم ہوجائے گی سو اس کا حکم کاف اور نون کے درمیان ہے کاف کے نون کے ساتھ ملنے سے پہلے ہی وہ کام ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ھو الذی یحییٰ ویمیت : توحید اور آخرت کو ثابت کرنے کے لئے اپنی نعمتوں اور قدرتوں کے تذکرے سے بھرپور آیات کے اس سلسلے کو اس آیت پر ختم فرمایا کہ ”وہی ہے جو صج سے چاہتا ہے) زندگی عطا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) موت دیتا ہے۔“ موت و حیات مکمل طور پر اس کے ہاتھ میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں۔
(2) فاذا قضی امراً فانما یقول لہ کن فیکون : یعنی ا سے پہلی مرتبہ یا دوبارہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بنانے میں، یا کسی کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اور قیامت برپا کرنے میں کیا مشکل ہوسکتی ہے ؟ وہ تو جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس ”کن“ (ہو جا) کہتا ہے تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ وہ اسباب کا محتاج نہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
( قل انی نھیت۔۔۔۔۔۔ )
قل انی نھیت اے محمد ﷺ ! کہہ دیجئے مجھے اس اللہ نے منع کیا ہے جو حی وقیوم ہے اور لا الہ الا غیرہ ہے کہ میں کسی اور کی عبادت کروں لما جاءنی المینت من ربی یہاں بینات سے مراد توحید کے دلائل ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عاجزی کا اظہار کروں رب العٰلمین کے لیے۔ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کو اپنے آباء کے دین کی طرف دعوت دی تو آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ یہ کہیں۔
ھو الذین خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقمۃ ثم یخر جکم طفلا ًیہاں طفل بمعنی اطفال ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے ثم لتبلغوا اشد کم یہ وہ حالت ہے جس میں قوت مجتمع ہوجاتی ہے اور عقل مکمل ہوجاتی ہے۔ سورة الانعام میں یہ وضاحت گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ سات سال کی عمر میں بچے کے دودھ والے دانت ٹوٹتے ہیں اور چودہ سال کی عمر میں احتلام کرلیتا ہے (یعنی بالغ ہوجاتا ہے) اکیس سال کی عمر میں اس کی لمبائی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور اٹھائیس سال کی عمر میں اس کی عقل پوری ہوجاتی ہے اور تینتیس سال کی عمر میں اس کی عقل پختہ ہوجاتی ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومنکم من یتوفی من قبل “ (اور تم میں سے بعض پہلے سے فوت ہوجاتے ہیں) یعنی بوڑھا ہونے سے پہلے (آیت ) ” ولتبلغوا اجلا مسمی “ (تاکہ تم اپنی مقرر مدت تک پہنچ جاؤ) یعنی بڑھاپے اور جوانی کو (آیت ) ” ولعلکم تعقلون “ (تاکہ تم…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ [وہ، وہ ہے جو ] يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ [ زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ] فَاِذَا قَضٰٓى [ تو جب بھی وہ فیصلہ کرتا ہے ] اَمْرًا [ کسی کام کا ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَـقُوْلُ لَهٗ [ وہ کہتا ہے اس سے ] كُنْ [ تو ہوجا ] فَيَكُوْنُ [ تو وہ ہوجاتا ہے ]
نوٹ ۔ 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر ہے جن کے لئے کٹر سے کٹر مشرک بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ کام صرف اللہ ہی کرسکتا ہے ۔ ان میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ان کے دیوی دیوتا یا بزرگ و اولیاء میں سے کوئی یہ کام کرسکتا ہے ۔ اس حقیقت کا منطقی تقاضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے صرف…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں یہ بتایا کہ اللہ ہی موت دیتا ہے اور وہی زندہ فرماتا ہے اور اس کے حکم کو کوئی روکنے والا نہیں ہے جب کسی چیز کو وجود میں لانا ہو تو اس کا کُن (ہوجا) فرما دینا ہی کافی ہے اس کا حکم ہوا اور چیز وجود میں آئی (فَاِِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) جو فرمایا اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا فرمانے میں اسباب اور آلات کا محتاج نہیں ہے کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس کا ارادہ ہی کافی ہے مزید توضیح کے لیے انوار البیان ص 195: ج 1 کا مطالعہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
بیان انعامات خداوندی وذکر دلائل قدرت واسباب معرفت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الیل ...... الی ...... کن فیکون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت و کامیابی کا قانون بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تسلی بھی کی گئی، اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی، اب ان آیات میں اپنے انعامات عامہ اور خاصہ کا ذکر فرمایا، تاکہ ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو، اس کی قدرت کاملہ پر ایمان لایا جائے تو فرمایا، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس نے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
66:۔ ” وھو الذی خلقکم “ یہ دلیل عقلی کا اعادہ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر نطفے سے اس کی نسل کا سلسلہ شروع کیا، نطفے کو رحم مادر میں محض اپنی قدرت سے گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل کردیا، پھر اس سے کامل الخلقت بچہ پیدا کیا، پھر تمہیں زندگی عطا کی یہاں تک کہ تم جوانی کو پہنچے پھر مزید زندگی عطا فرمائی یہاں تک کہ تم بڑھاپے کو پہنچ گئے۔ ” لتبلغو “ اور ” لتکونوا “ دونوں سے پہلے ” یبقیکم “ مقدر ہے (مدارک) ۔ تم میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جوانی یا بڑھاپے سے پہلے ہی موت کا جام پی لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کرتا ہے تاکہ تم اپنے معین وقت (اجل موت) تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ ہدایت اور گمراہی کی وضاحت بھی کی گئی تھی قیامت کے برحق ہونے کی بات تھی اور دعا کا مسئلہ بھی بیان ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر وقت اس کے دامنے دت بدعا رہو ، جو شخص تکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کریگا ، اس کو ذلیل و خوار کر کے جہنم میں داخل کیا جائیگا ۔
جیسا کہ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ، حوامیم کی ساری سورتیں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد پر مشتمل ہیں چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضمون مختلف انداز سے بیان ہو رہے ہیں توحید کا مسئلہ…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ 0 ۚ فَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَـقُوْلُ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 68ۧ
حيى
الحیاة تستعمل علی أوجه :
الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ،
الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا،
قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ،
الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی:
أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122]
والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ،
وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
ترکیب : لما ظرف لا عبد طفلا حال من ضمیر فی یخرجکم ای المنصوب المتصل اعنی کم۔ والتوحید لارادۃ الجنس اوعلی تاویل کل واحدہ المراد اطفالا لتبغلوا اللام متعلقہ بمحذوف ای ثم یبقیکم لبتلغواو کذا فی قولہ ثم لتکونوا شیوخًا جمع الشیخ والشیوخ بضم الشین و بکسرہا ولتبغلوا ذلک لتبلغوا اجلاً مسمی۔
تفسیر : دلائلِ توحید بیان فرما کر شرک کی برائی مؤکد کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے۔ قل انی نہیت کہ ان سے کہہ دو مجھ کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین کامل ہوگیا ہے اور شرک کی قباحت منکشف ہوگئی ہے۔ میں ان معبودوں کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہوں کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کیونکہ میرے پاس میرے رب کی طرف…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ج فَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَـقُوْلُ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ ۔ (المؤمن : 68)
(وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور جو مارتا ہے، پس جب وہ کسی عمل کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس کا حکم دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ )
گزشتہ دلیل کا نتیجہ
گزشتہ آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے جو غور و فکر کی دعوت دینے کے بعد ہر غور و فکر کرنے والے کے سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کی اصل چیز زندگی اور موت ہے کیونکہ نظریات سے لے کر اعمال تک ہر چیز کا تعلق زندگی سے ہے اور موت ہر چیز کے خاتمے اور فنا کا نام ہے۔ اور ان دونوں چیزوں کا سررشتہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی الوہیت کے واضح دلائل دے کر حکم دیا ہے کہ صرف میری ہی فرمانبرداری کی جائے۔ اس لیے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اسی نے ہی انسان کو مختلف مراحل کے بعد پیدا کیا ہے۔
جس رب کی تابعداری کا حکم ہوا ہے اسی نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ لفظ رب کا پہلا معنٰی خالق ہے۔ اس بنا پر ارشاد ہوا کہ اسی نے تمہیں پہلے مٹی سے پیدا کیا۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی کو پیدا کیا۔ پھر ان سے انسان کی آفزائش کا سلسلہ شروع فرمایا۔ (النساء : 1) اور تمام انسانوں کی تخلیق کا آغاز نطفہ سے کیا۔ جس سے لوتھڑا بنایا۔ پھر بچہ بنا کر…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۚ فَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَـقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے پھر جب وہ کسی کام کا پورا کرنا چاہتا ہے۔ سو بس اس کی نسبت فرما دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے) وہ اس کو جلد بنا دیتا ہے بغیر کس کلفت و مشقت کے۔
Read the full tafseer →67، ھوالذیخلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم یخرجکم طفلا، یعنی بچے۔ ، ثم لتبلغوا اشد کم ثم لتکونواشیوخاومنکم من یتوفی من قبل، یعنی بوڑھا ہونے سے پہلے ۔ ، ولتبلغوا، تم سب، اجلا مسمی، متعین وقت تک جس سے تم آگے نہ بڑھ سکوگے۔ اس سے زندگی کا وقت موت تک مراد ہے۔ ، ولعلکم تعقلون، یعنی تاکہ تم اپنے رب کی توحید اور اس کی قدرت کو سمجھ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
67۔ 68۔ یہاں انسان کی پیدائش کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فرمایا ہے قد افلح المومنون اور بعضی اور آیتوں میں اور صحیح حدیثوں میں انسان کی پیدائش کی تفصیل میں خدا تعالیٰ کی قدرت کے اس قدر نمونے ہیں کہ اور مخلوقات کے سوا اگر انسان اپنی پیدائش کے حال کو نظر غور سے دیکھے تو خدا کی قدرت کا حشر کی باتوں کا پورا اس کو یقین ہوسکتا ہے اسی واسطے سورة والذریات میں اللہ تعالیٰ نے اور عجائبات قدرت کا ذکر فرما کر پھر فرمایا ہے کہ خود انسان کی پیدائش میں انسان کے غور کرنے اور خدا کی قدرت کے پہچاننے اور حشر اور قیامت کے یقین کرنے کے لئے بہت سی نشانیاں قدرت الٰہی کی ہیں حقیقت میں اگر غور کیا جائے تو فقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–76
آیت 66
(آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟
بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
128 زندگی اور موت اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے "۔ سو احیاء و اماتت یعنی زندگی بخشنا اور موت دنیا اسی وحدہ لاشریک کی صفت و شان اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس کے سوا کسی بھی شخص اور کسی بھی ہستی کے لئے احیاء و اماتت کی یہ صفت ماننا شرک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کتنے بہکے اور بھٹکے ہوئے اور غلط کار ہیں وہ لوگ جو سادہ لوح عوام کو اس طرح کے ڈراوے دے کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں کہ اگر تم نے فلاں پیر صاحب کے نام کی نیاز نہ دی تو وہ تمہاری بھینس کو مار دیں گے اور تم کو یہ اور یہ نقصان پہنچا دیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
اللہ کی وحدانیت کے دلائل
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وضاحت پچھلے اسباق میں بڑی اچھی طرح ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ خالق ومالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ رازق ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بابرکت ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے۔ سب تعریف اسی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں، میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68:
اسرار و معارف :
عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی کسی دیر کے بغیر فوراً ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسباب کا محتاج نہیں بلکہ اسباب اسکے حکم سے وجود میں آتے ہیں۔
Read the full tafseer →(40:68) فاذا قضی امرا۔ پس جب وہ کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ ارادہ کرلیتا ہے یعنی اس کے ہوجانے کا فیصلہ یا ارادہ کرلیتا ہے۔
اس میںدلالت کر رہا ہے کہ یہ کلام سابق کا نتیجہ ہے۔ سابق کلام بتارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ذاتی ہے۔ کسی مراد کی یا سامان کی اس کو کوئی حاجت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
(ف 1) وہ پروردگار جس نے تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو خاک سے بنایا اور پھر تناسل کا سلسلہ یوں قائم کیا کہ تم کو منی کے قطرہ سے پیدا کرتا ہے پھر اس قطرہ منی کو خون کی پھٹکی بنادیتا ہے پھر سب اعضاء درست کیے جاتے ہیں پھر جان ڈالی جاتی ہے پھر بچہ ماں کے پیٹ سے باہر نکلتا ہے پھر جوان بنتا ہے پھر بوڑھا ہوجاتا ہے اس تمام عمر میں کس قدرت قدرت اللہ کی ظاہر ہوتی ہے اور کس قدر احسان اللہ کے بندوں پر ہوتے ہیں، اگر انصاف کی آنکھیں میسر ہوں تو بار احسان سے سرنہ اٹھاسکے، ہر وقت اللہ کی عبادت میں رہے دنیا کے کاروبار سے نفرت ہوجائے اللہ کی یاد سے رغبت ہوجائے اولیاء اللہ جو دنیا سے بےزار ہوجاتے ہیں یہی سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
[23] یعنی قرآن کو۔
Read the full tafseer →مادہ کو قدیم ماننے کے نتائج
1: کن فیکون کلمہ تکوین ہے ۔ یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ تو صرف یہ کافی ہے ۔ کہ وہ کن فیکون کہہ دے اور اس سے بھی مقصود یہ ہے ۔ کہ وہ جب پیدا کرنے کے درپے ہوتا ہے تو پھر اس میں خلاف نہیں ہوتا ۔ ادھر کہا ۔ اور ادھر وہ چیز کتم عدم سے نکل کر لباس وجود میں آگئی ۔ اسے نہ علت مادی کی ضرورت ہے اور نہ دیگر ذرائع اور وسائل کی ۔ وہ بمجرد اپنے ارادے کے صدہزار عوالم کو ان کو منصہ شہود پر جلوہ گر ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔ عالم کی پہنائیوں میں پر اس کی حکومت ہے ۔ وہ ہم انسانوں کی طرح محتاج نہیں ہے ۔ نہ اسے درمیان کی منزلوں کو طے کرنا پڑے ۔…
Read the full tafseer →(68) وہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور جب وہ کسی کام کو پورا کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے۔ یعنی پیدائش کا تدیجی سلسلہ مذکور ہوا اور اگر وہ کسی کام کو دفعہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے۔
ہم پہلے پارے کی تسہیل میں اور سورة یاسین کی تیسیر میں عرض کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
ف 9۔ یعنی تمہارے باپ کو۔
10۔ یعنی آگے ان کی نسل کو۔
11۔ یعنی جوانی اور بڑہاپے سے پہلے۔
Read the full tafseer →زندگی اور موت اس کے اختیار میں ہے جو کلمہ کن کا مالک ہے
68۔ زیر نظر آیت اس سے قبل دس بار قرآن ِ کریم میں کچھ الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ آچکی ہے اور ہم نے اس کی وضاحت بہت سے مقامات پر کردی ہے اور تقریبا ہر جگہ اس کا مفہوم ایک ہی جیسا ہے اس جگہ بھی پہلے اس بات کا اقرار لیا گیا ہے کہ اللہ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور بلاشبہ اس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے اور جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کے کلمہ کن سے سب کچھ ہوجاتا ہے جس کے ہونے کا وہ ارادہ کرتا ہے رہا یہ کلمہ کن تو یہ محض تفہیم کے لیے ہے ورنہ ارادہ کے لیے اس کو کسی تلفظ کی ضرورت ہی کب ہے ؟ دنیا میں جو کچھ تم کو نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
Commentary
In verses 71 and 72, it was said: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ (They will be dragged [ 71] into the hot water after which they will be thrown in the Fire as a fuel.). The word: الْحَمِيمِ (al-hameem) is boiling hot water. The verse seems to suggest that the people of Jahannam will first be put into the hameem, then, into the jahim, that is, the Jahannam. Again, it also seems to suggest that the hameem is somewhere outside the Jahannam. The verse: ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ (Then, their return is but to the Fire - As-Saffat, 37:68)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
99 That is, "Have you not understood even after the above discourse what is the real source of these people's misunderstanding and misconduct, and what has caused them to go astray? "(One should note that the addressee hire is not the Holy Prophet but every such person who reads these verses or hears them read).
Read the full tafseer →