Al-Ghaafir 40:48

Al-Ghaafir · from ayah 48

40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ ۙ— اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ ۟قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ ۙاِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ

بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who had been arrogant will say, "Indeed, all [of us] are in it. Indeed, Allah has judged between the servants."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:48

وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے "ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه بڑے لوگ جواب دیں گے ہم تو سبھی اس آگ میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کر چکا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جو بڑے بنے ہوئے تھے کہیں گے کہ ہم سب ہی اس دوزخ میں ہیں اللہ تمام بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تکبر والے بولے ہم سب آگ میں ہیں بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تکبر کرنے والے کہیں گے: ہم سب ہی اسی (دوزخ) میں پڑے ہیں بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان حتمی فیصلہ فرما دیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ کہیں گے جو بڑے بنے تھے بیشک ہم سب اس میں ہیں، بیشک اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ بڑا بننے والے جواب دیں گے : ہم سب اسی میں پڑے ہیں۔ (اور) اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو بڑے بنے رہے وہ جواب دیں گے، اب تو ہم سب ہ اس میں ہیں۔ اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر وہ لوگ جو (دنیا میں) بڑے بنے ہوئے تھے کہیں گے (کہ تمہارے کام کیا آتے) ہم تو خود سب کے سب اسی میں پڑے ہوئے ہیں بیشک اللہ نے قطعی (اور آخری) فیصلہ صادر فرما دیا اپنے بندوں کے درمیان

— مولانا اسحاق مدنی

بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب ہی اس میں (پڑے) ہیں اللہ تو اب بندوں کے درمیان (قطعی) فیصلہ کرچکا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ بڑے بننے والے کہیں گے کہ ہم سبھی اس کے اندر پڑے ہوئے ہیں اللہ نے تو اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کردیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بڑے لوگ کہیں گے کہ تم بھی اور ہم بھی سب دوزخ میں ہیں اللہ بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who had waxed proud will reply: “All of us are in it. Allah has already passed His judgement among His servants.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who were arrogant will say, :We all are in it. Allah has already passed the judgment between (His) servants.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who were arrogant will say, :We all are in it. Allah has already passed the judgment between (His) servants.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who were arrogant will say: "We are all (together) in this (Fire)! Verily, Allah has judged between (His) servants!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who were proud say: Lo! we are all (together) herein. Lo! Allah hath judged between (His) slaves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who had been arrogant will say, "Indeed, all [of us] are in it. Indeed, Allah has judged between the servants."

— Saheeh International

The ones who had dominated them will say, "All of us are now in hell. God has already issued His Judgment of His servants (and no one can change this)."

— Muhammad Sarwar

Those who were proud shall say: Surely we are all in it: surely Allah has judged between the servants.

— Muhammad Habib Shakir

Those who were stiff-necked will say: verily we are all in it; verily Allah hath judged between His bondmen.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who had been arrogant will say: "We are all in this (Fire)! Truly, Allah has judged between (his) Servants!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–50

دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب۔ جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہوگا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 65 یعنی ہم اور تم، دونوں ہی سزا یافتہ ہیں، اور اللہ کی عدالت سے جس کو جو سزا ملنی تھی مل چکی ہے۔ اس کے فیصلے کو بدلنا، یا اس کی دی ہوئی سزا میں کمی بیشی کردینا اب کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–50

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت بھی پیش نظر رکھنے کے قابل ہے) جبکہ کفار دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجہ کے لوگ (یعنی تابعین) بڑے درجہ کے لوگوں سے (یعنی متبوعین سے جن کا وہ دنیا میں اتباع کیا کرتے تھے) کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے کیا تم ہم سے آگ کا کوئی جز ہٹا سکتے ہو (یعنی جب دنیا میں تم نے ہمیں اپنا تابع اور پیرو بنا رکھا تھا تو آج تمہیں ہماری مدد کرنا چاہئے) وہ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب ہی دوزخ میں ہیں (یعنی ہم اپنا ہی عذاب کم نہیں کرسکتے تو تمہارا کیا کریں گے) اللہ تعالیٰ (اپنے) بندوں کے درمیان (قطعی) فیصلہ کرچکا (اب اس کے خلاف کرنے کی کس کو مجال ہے) اور (اس کے بعد) جتنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 47–48

لیڈروں اور پیروئوں کا حال دوزخ میں اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے کہ مرد مومن کی سرگزشت ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی سنائی گئی ہے جو اپنے لیڈروں کے رعب کے سبب سے اظہار حق میں ہچکچا رہے تھے۔ اب یہ دکھایا ہے کہ دنیا کی مجالس میں جو لوگ اپنے لیڈروں کے ڈر سے حق کے اعتراف و اعلان کی جرأت نہیں کر رہے ہیں، ایک دن آئے گا جب یہ لیڈر اور ان کے پیرو دونوں دوزخ میں ہوں گے اور ایک دوسرے پر لعنت و نفرین کریں گے۔ کمزور اور دبے ہوئے لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم آنکھ بند کر کے آپ لوگوں کے پیرو بنے رہے تو کیا آج آپ لوگ اس عذاب دوزخ میں سے بھی کچھ اپنے سر لینے والے بنیں گے جو ہمارے حصہ میں آیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–50

50۔ 1 ہم ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے کیونکر کچھ کہہ سکتے ہیں جن کے پاس اللہ کے پیغمبر دلائل و معجزات لے کر آئے لیکن انہوں نے پروا نہ کی ؟ 50۔ 2 یعنی بالآخر وہ خود ہی اللہ سے فریاد کریں گے لیکن اس فریاد کی وہاں شنوائی نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ دنیا میں ان پر حجت تمام کی جا چکی تھی اب آخرت تو ایمان، توبہ اور عمل کی جگہ نہیں، وہ تو دار الجزا ہے، دنیا میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کا نتیجہ وہاں بھگتنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 46–50

13: انسان کے مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے انسان کی روح جس عالم میں رہتی ہے، اسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو عالم برزخ میں دوزخ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، تاکہ انہیں پتہ چلے کہ ان کا ٹھکانا یہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–50

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جو دنیا میں بڑے بنتے تھے جواب دیں گے کہ آج ہم اور تم سب اسی مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک کے جرم کے موافق سزا کا فیصلہ سنا دیا ہے جو بالکل قطعی اور اٹل ہے۔ اب موقع نہیں رہا کہ کوئی کسی کے کام آئے۔ ہم اپنی ہی مصیبت کو ہلکا نہیں کرسکتے، پھر تمہارے کیا کام آسکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 { قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُلٌّ فِیْہَآ } ”وہ بڑے بننے والے کہیں گے کہ ہم سبھی اس کے اندر پڑے ہوئے ہیں“ یعنی ابوجہل اور عتبہ بن ابی معیط جیسے بڑے بڑے سردار اپنی بےبسی اور بےچارگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے یوں معذرت کریں گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ } ”اللہ نے تو اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کردیا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری فیصلہ ہوچکا ہے اور ہم تم سب چونکہ مجرم تھے اس لیے اس عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

62 بڑے حضرات جواب دیں گے کہ اب تو جو کچھ ہونا تھا ہوچکا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے حق میں جتنی سزا کا فیصلہ کرچکا ہے اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

46۔ وہ بڑے لوگ جواب میں کہیں گے کہ واہ، جہاں تم وہاں ہم، ہم میں اگر کچھ قدرت ہوتی تو ہم اپنے ہی کو بچانے کی فکر نہ کرتے اور اب تو حق تعالیٰ کا آخری اور قطعی فیصلہ صادر ہوچکا، اب ہو ہی کیا سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–50

آیت نمبر 38 تا 50 ترجمہ : اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم (کے لوگو) میری پیروی کرو (اتَّبِعونِی) میں اثبات (ی) اور حذف (ی) کے ساتھ میں تمہاری صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کروں گا تقدّمَ ای تقَدَّمَ قرِیْبًا (یعنی اِلاَّ سبیل الرشاد کے ضمن میں عنقریب گذر چکا ہے) اے میری قوم یہ حیات دنیا نہایت قلیل بہت جلد فنا ہونے والی متاع ہے، یقین مانو (کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے جس نے گناہ کیا اس کو تو برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی خواہ مرد ہو یا عورت اور حال یہ کہ وہ باایمان ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (یُدْخَلُوْنَ ) میں یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا عکس (بھی) وہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال الذین استکبروا ان اکل فیھا ان اللہ قد حکم بین العباد (اسکے جواب میں) وہ لوگ جو (دنیا میں) بڑے بن بیٹھے تھے ‘ کہیں گے : ہم سب ہی دوزخ میں ہیں ‘ اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔ وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ یعنی اے محمد ﷺ ! آپ اپنی قوم کے سامنے اس وقت کا ذکر کیجئے جب وہ دوزخ کے اندر باہم جھگڑیں گے۔ تَبَعًا۔ تَبَع واحد بھی ہے اور جمع بھی ‘ جیسے خَدَم ‘ خادم کی جمع ہے۔ یہ قول علماء بصرہ کا ہے ‘ لیکن ادباء کوفہ کے نزدیک یہ جمع کا صیغہ ہے مگر اس کا واحد نہیں آتا ‘ البتہ اس کی جمع اَتْبَاعٌ آتی ہے۔ فَھَلْ اَنْتُمْ- ھَلْ حرف استفہام ہے لیکن استفہام بمعنی امر ہے۔ نَصِیْبًا مغنون کا مفعول ہے یا مصدر ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو یہ بڑے درجے کے لوگ ادنی درجے والوں سے کہیں گے کہ ہم سب ہی عابد ہوں یا معبود سردار ہوں چاہے ان کے پیروکار دوزخ میں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے دوزخ کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ یا یہ کہ مومنین کے لیے جنت کا اور کافروں کے لیے دوزخ کا قطعی فیصلہ فرما دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 47–48

(1) واذ یتخآجون فی النار فیقول الصعفوآ…: فرعون اور آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چلنے والوں کا انجام آگ اور قیامت کے دن ”اشد العذاب“ بیان فرمانے کے بعد بتایا کہ صرف فرعون ہی نہیں، ہر متکبر اور اس کے اندھا دھند پیرو کار جہنم میں جائیں (ایک دوسرے سے جھگڑیں گے) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ کمزور لوگوں کا بڑا بننے والوں سے کہنا :(انا کنا لکم تبعاً فھل انتم معنون عنا نصیباً من النار) (کہ ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے، تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹاؤ گے ؟) ان سے آگ ہٹانے کی درخواست کے لئے نہیں ہوگا، بلکہ انہیں ذلیل کرنے کے لئے اور اپنے دل کا ابال نکالنے کے لئے ہوگا۔ ان بڑے بننے والوں کے پاس بھی یہ کہنے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–50

(واذ یتحاجون۔۔۔ ) واذیتحاجون فی النار جب وہ آگ میں جھگڑیں گے تو کمزورلوگ انہیں کہیں گے جو انبیاء کی اطاعت سے تکبر یا کرتے تھے : ہم دنیا میں تمہا ری ان معاملات میں پیروی کیا کرتے تھے جس شرک کی طرف تم ہمیں بلا یا کرتے تھے کیا تم ہم سے اس چیز کو اٹھاتے ہو عذاب میں س سے جز کی صورت میں ہمیں ملا ہے۔ تبع یہ واحد ہے اور بصریوں کے قول کے مطابق یہ جمع ہے اس کی واحد تابع ہے۔ اہل کوفہ نے کہا : یہ جمع ہے اس کا کوئی واحد نہیں جس طرح مصدر ہوا کرتا ہے اسی وجہ سے اس کی جمع نہیں بنائی جاتی اگر اس کی جمع بناتے تو کہتے۔ اتباع۔ قال الذین استکبرو انا کل فیھا، فیھا میں ھاء ضمیر سے مراد جہنم ہے اخفش نے کہا : کل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–50

عذاب قبر کے احوال : 1:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) نے ہذیل بن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ فرعون والوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹوں میں ہیں ان کو صبح اور شام کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے، یہی ان کا پیش کرنا ہے اور شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں اور مسلمان کی اولاد جو بلوغت کو نہیں پہنچی (اور موت آگئی) تو ان کی روحیں جنت کی چڑیوں کے پیٹوں میں ہیں (جنت کے باغوں میں) چرتی ہیں، وہ گھومتی پھرتی ہیں۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جاتا ہے جو جنت کے چکر لگاتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا [ کہیں گے وہ لوگ جو بڑے بنے ] اِنَّا كُلٌّ فِيْهَآ ۙ [ کہ ہم سب کے سب اس میں ہیں ] اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ [ بیشک اللہ فیصلہ کرچکا ہے ] بَيْنَ الْعِبَادِ [بندوں کے درمیان ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–48

دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا، چھوٹوں کا بڑوں پر الزام دھرنا دوزخی لوگ آپس میں جھگڑے بازی کریں گے جو لوگ چھوٹے تھے دنیا میں خوب بڑھ چڑھ کر اپنے بڑوں کی بات مانتے تھے اور ان کے کہنے سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اور ان کے متبعین سے لڑتے تھے اور ان کی تکذیب کرتے تھے اور دوسروں کو بھی ایمان قبول کرنے سے روکتے تھے، جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو بڑے چھوڑئے سب آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے اور دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو یہی اتباع یعنی چھوٹے لوگ جو دنیا میں سرداروں اور لیڈروں کے کہنے اور تھپکی دینے سے حق اور اہل حق سے دشمنی کرتے تھے اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم نے تمہاری بات مانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–60

بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–48

52:۔ ” اذ یتحاجون “ جب مشرک رہنما اور ان کے متبعین دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑیں گے اور ہر فریق دوسرے کو الزام دے گا۔ ضعفاء یعنی کمزور اور زبردست لوگ جنہوں نے بڑوں اور راہنماؤں کے کہنے پر کفر و شرک اختیار کیا وہ اپنے ان پیشواؤں سے کہیں گے جنہوں نے ازراہ استکبار توحید کو قبول نہیں کیا تھا اور عوام کو بھی توحید سے روکا تھا کہ ہم تمہارے ماتحت اور متبع تھے اور اسی کے نتیجے میں آج دوزخ میں پڑے ہیں تو کیا آج تم ہم سے عذاب میں کچھ تخفیف کر اسکتے ہو۔ ” قال الذین استکبروا “ تو وہ بڑے جواب دیں گے کہ ہم تو خود اسی عذاب میں پڑے ہیں۔ اگر ہم میں کچھ قدرت ہوتی تو خود ہی اس عذاب سے بچ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–50

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے توحید اور جزائے عمل کی بات سمجھانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آل فرعون کا ذکر کیا کہ انہوں نے کسی طرح سرکشی کی ، حق کی مخالفت کرتے رہے ، موسیٰ (علیہ السلام) کو تکالیف پہنچائیں اور آخر میں قتل کے درپے ہوئے اس دوران میں قوم فرعون میں سے ایک مرد مومن نے آل فرعون کو نصیحت کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی مخالفت کی اور پھر اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ، اللہ تعالیٰ نے اس مرد مومن اور موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے حواریوں کی بری تدبیر سے بچا لیا اور خود انہی کو عذاب میں مبتلا کیا ، دنیا میں تو وہ بحر قلزم میں غرقی ہوئے اور اب عالم برزخ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُلٌّ فِيْہَآ۝ 0 ۙ اِنَّ اللہَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ۝ 48 الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–50

تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اس مومن کے ایمان کا نتیجہ بیان کرتا ہے جو دنیا میں بھی اس کے سامنے آیا اور فرعونیوں کا انجام کار بیان فرماتا ہے۔ فقال فوقہ اللہ کہ اللہ نے اس مومن کو فرعونیوں کے فریب و ایذاء سے جو اس کو مومن سمجھ کردینا چاہتے تھے بچالیا اور خود فرعونیوں پر بڑا عذاب آپڑا کہ وہ اول تو طرح طرح کی مصیبتوں میں جو موسیٰ ( علیہ السلام) کی بددعا سے ان پر آئیں، مبتلا ہوئے، پھر بحر قلزم میں غرق ہوئے اور مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوا۔ النار یعرضون الخ کہ صبح و شام آتش جہنم کے سامنے کئے جاتے ہیں۔ صبح و شام سے مراد خاص یہی دو وقت نہیں بلکہ دوام مراد ہے۔ اس کو محاورہ میں صبح و شام سے تعبیر کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَـکْبَرُوْٓا اِنَّا کُلٌّ فِیْھَـآ لا اِنَّ اللّٰہَ قَدْحَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ ۔ (المؤمن : 48) (جو بڑے بنے رہے وہ جواب دیں گے، اب تو ہم سب اس میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے۔ ) تو بڑے طبقے کے لوگ اپنے پیروکاروں کو جواب دیں گے کہ یہاں ہم سب گرفتارِعذاب ہیں، یہاں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں۔ یہاں عظمت اور بڑائی صرف ایک ذات کو حاصل ہے جسے اللہ کہتے ہیں۔ اور اس نے ہمارے درمیان فیصلہ کردیا ہے کہ ہم سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ اب تمہارے یہ گلے شکوے یہاں کسی کام نہیں آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور کی دولت سب کو دی تھی۔ رسول سب کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ ہم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–50

فہم القرآن ربط کلام : آل فرعون اور دوسرے جہنّمیوں کا جہنّم میں کیا حال ہوگا ؟ جب جہنّمی جہنم میں جھونکے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑیں گے۔ جو لوگ دنیا میں جس کسی کی تابعداری کرتے تھے ان سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابعدار تھے۔ کیا اب تم آگ کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو۔ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب اس آگ میں اکٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے۔ اس کا فیصلہ بدلنے کی نہ ہم میں ہمّت ہے اور نہ تم بدل سکتے ہو۔ لہٰذا ہم نے اسی آگ میں رہنا ہے۔ اس کے بعد نہایت مجبور ہو کر جہنم کے فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی ہمارے لیے اپنے پروردگار سے سفارش کرو ! کہ ایک دن تو عذاب سے رخصت مل جایا کرے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَآ (وہ بڑے لوگ کہیں گے ہم سب بھی دوزخ میں ہیں) ۔ کل کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے ای کلنا ہم میں سے ہر ایک اس میں ہے کوئی ایک دوسرے سے عذاب کو ہٹا نہیں سکتا۔ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ (اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا) ان کے مابین فیصلہ کردیا جائے گا کہ اہل جنت کو جنت میں اور اہل نار کو نار میں داخل کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 48–49

تفسیر 47۔ ، واذیتحاجون فی النار، یعنی اے محمد ! آپ اپنی قوم کے لیے وہ ذکرکریں جب وہ جگڑیں گے یعنی جہنم والے جہنم میں ، فیقول الضعفاء للذین استکبروا انا کنالک تبعا، دنیا میں، فھل انتم مغنون عنانصیبا من النار، اور التبع کا لفظ اہل بصرہ کے قول میں واحد اور جمع استعمال ہوتا ہے اس کا واحدتابع بھی ہے اور اہل کوفہ فرماتے ہیں کہ یہ جمع ہے اس کا کوئی واحد نہیں اور اس کی جمع اتباع ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–50

47۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی خبر دیتا ہے فرعون اور اس کی قوم بھی ان میں ہوگی تابعداری کرنے والے اپنے سرداروں سے اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے تابعدار تھے جس گمراہی کی طرف تم نے ہم کو بلایا ہم نے تمہارا کہا مانا اب اتنا کرو کہ کوئی حصہ عذاب کا ہم سے دفع کرو وہ جواب دیں گے ہم سب اس میں مبتلا ہیں ہم عذاب کا کوئی حصہ دفع نہیں کرسکتے اللہ فیصلہ کرچکا اپنے بندوں کے حق میں کہ ہر ایک کو بقدر اس کے گناہوں کے عذاب بانٹ دیا وہ اب کیسے کم ہوسکتا ہے اور جب دوزخیوں نے یہ بات معلوم کرلی کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا کو نہ سنے گا تو خازنوں سے جو مانند درواغہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–50

آیت 47 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بےفائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور جب وہ دو زخ میں باہم جھگڑیں گے۔ “ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروں کاروں سے بیزاری اور برأت کا اظہار کریں گے۔ (فیقول الضعفوآء) ” پس کمزور کہیں گے “ یعنی پیروکار کار (للذین استکبروآ) ان قائدین سے جنہوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنہوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ (انا کنا لکم تبعا) ” ہم تمہارے تابع تھے۔ “ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–59

قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 بےوقت کے عذر و معذرت کا کوئی فائدہ نہیں : سو اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے والے وہ گمراہ لیڈر اور گرو اپنے ان دم چھلوں سے کہیں گے کہ " بیشک اللہ نے فیصلہ فرما دیا اپنے بندوں کے درمیان " یعنی اب بےوقت کے اس طرح کے عذر و معذرت کا کوئی فائدہ نہیں کہ اب اللہ کا فیصلہ صادر ہوچکا۔ جس کے بدلنے اور اس کے خلاف ہونے کی اب کوئی صورت ممکن نہیں۔ سو گرو اپنے چیلوں سے اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا رہنے والے اپنے پیرؤوں اور دم چھلوں سے اس روز صاف اور صریح طور پر کہیں گے کہ اب اس طرح کے شکو وں شکایتوں اور الزام تراشیوں وغیرہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–50

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50: اسرار معارف : اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوچکا اب تم اپنی سزا بھگتو، ہم اپنی بھگت رہے ہیں۔ اس عذاب میں کمی بیشی ہمارے بس میں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:48) انا کل فیہا۔ ہم سب ہی اس جہنم (کی آگ میں) پڑے ہوئے ہیں۔ حکم ماضی واحد مذکر غائب حکم (باب نصر) سے مصدر۔ فیصلہ کرنا۔ حکم دینا ۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ نے قطعی فیصلہ کردیا ہے اب کیا ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–50

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 :۔ یتحاجون ( وہ جھگڑتے ہیں) مغنون ( بےنیازی کرنے والے ( بچانے والے) حکم ( اس نے فیصلہ کردیا) خزنۃ ( جہنم پر مقرر ( فرشتہ) یخفف ( وہ کمی کرتا ہے) دعائ ( پکار ، بلانا) تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 :۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ حق و باطل کا فیصلہ فرمادیں گے ۔ اہل جنت اللہ کی رحمتوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں پر ان کا جرم ثابت ہوجائے گا ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا تب وہ لوگ جو دنیا میں اپنے پیشواؤں کی تابع داری کرتے تھے اور ان کے کہنے پر چلتے تھے عذاب کی شدت سے بوکھلا کر اپنے بڑوں سے یہ کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھروہی کیا جو تم نے ہمیں حکم دیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–50

(ف 1) اے محبوب آپ اپنی قوم سے جہنم کے اندر کفار کے آپس میں جھگڑنے کا حال ذکر فرمایے کہ جب سب کفار دوزخ میں جمع ہوں گے تو آپس میں جھگڑاکریں گے کمزور لوگ سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے تابعدار تھے ، اور تمہاری بدولت ہی کافر بنے اب اتنا کرو کہ کوئی حصہ عذاب کا ہم سے دفع ہو، وہ جواب دیں گے کہ ہم سب اس میں مبتلا ہیں ہم عذاب کا کوئی حصہ دفعہ نہیں کرسکتے، اللہ فیصلہ کرچکا اپنے بندوں کے حق میں کہ ایمانداروں کو اس نے جنت میں داخل کردیا اور کافروں کو جہنم میں ، جو ہونا تھا ہوچکا، جب دوزخیوں پر عذاب کی سختی ہوگی اور صبر باقی نہ رہے گا اور خدا کو پکارتے پکارتے تھک جائیں گے تو دوزخ کے داروغہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–51

[16] یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی اور گواہ حاضر کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–48

عذاب قبر کا ثبوت 1: اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ موت کے بعد ہر انسان عالم قبر یا عالم برزخ میں رہتا ہے اور یہ حالت ایک نوع کی تنویمی حالت ہوتی ہے ۔ سابقہ اعمال کا اس عالم پر اثر ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص نیک رہا ہو ۔ تو یہاں اچھے اثرات کو محسوس کرتا ہے اور فرح ومسرت سے دوچار ہوتا ہے ۔ اور اگر اس نے دنیا میں برے اعمال کئے ہیں تو یہاں ان کو تکلیف کو محسوس کریگا ۔ یہ عذاب قبر ہے ۔ اس عقیدے کا ثبوت اس آیت سے ملتا ہے کیونکہ یہ مذکور ہے ۔ کہ فرعون اور آل فرعون کو صبح وشام جہنم کے سامنے پیش کیا جائیگا ۔ اور پھر جب باقاعدہ حساب و کتاب کی منزلیں طے ہوچکیں گی ۔ تو اس وقت ان کے متعلق کہا جائے گا ۔ کہ انہیں شدید…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) متکبرین سردار جواب دیں گے کہ ہم تم سب ہی اس آگ میں پڑے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان ایک قطعی فیصلہ کرچکا۔ یعنی اس بات کا موقعہ کہاں تم ہم سب آگ میں پڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جو فیصلہ کرنا تھا وہ کرچکا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اب جگہ نہ رہی کہ کوئی کسی کے کام آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی جیسے تم دوزخ میں ہو ہم بھی دوزخ میں ہیں۔ سو ہم کو اگر کچھ قدرت مدد کرنے کی ہوتی تو اول اپنی ہی فکر کرتے۔ جب اپنے ہی سے عذاب دفع نہیں کرسکتے تو تم سے کیا دفع کریں گے۔ 2۔ اب اس کے خلاف مجتمل نہیں، اس فیصلہ میں ہم سب ناری ٹھہرے، اب کیا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مترفین و متکبرین ان کو جواب دیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں ؟ 48۔ کمزور لوگ جب اپنی بات پوری کر چکیں گے اور ایک بار اپنا غصہ نکال لیں گے تو پھر متکبریں ومترفین بول پڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم پر تم کیوں غصہ نکالتے ہو کیا ہم بھی اس جگہ تمہارے پاس اور ساتھ نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا ہے اور یک بات کا فیصلہ ہوجانے کے بعد ہم کیا کرسکتے ہیں اس وقت دنیا میں بھی ہم نے تم کو مجبور کر کے کسی کی مخالفت پر نہیں لگایا تھا بلکہ تم خود ہم سے فوائد حاصل کرنے کے لیے ہماری ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور ہم کو خوش کر کے تم نے بھی اپنا الو سیدھا کیا۔ اس جگہ وضاحت نہیں بلکہ جواب کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

Commentary In the opening statement of verse 51, it was said: إِنَّا لَنَنصُرُ‌ رُ‌سُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (Surely, We do help Our messengers and those who believe in the worldly life, 40:51). This verse carries the promise of Allah Ta’ ala that He would keep helping His messengers and believers, both in the present world and in the Hereafter. It is obvious that this help is intended to be against adversaries and enemies. That it so happened in the case of most prophets (علیہم السلام) ، peace be on them all, is clear enough. But, there were prophets (علیہم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65 That is, Both you and we have already been sentenced and Allah has passed His judgement regarding each of us. Now it does not lie in anyone's power to change the sentence of Allah, or to make any increase or decrease in the punishment awarded by Him."

Read the full tafseer →