Al-Ghaafir 40:45

Al-Ghaafir · from ayah 45

40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِ ۟ۚفَوَقٰٮهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ‌ۚ‏

غرض خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So Allah protected him from the evils they plotted, and the people of Pharaoh were enveloped by the worst of punishment -

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:45

آخرکار اُن لوگوں نے جو بری سے بری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آ گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

غرض خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اسے اللہ تعالیٰ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا

— مولانا محمد جوناگڑہی

نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے جو برے برے منصوبے بنا رکھے تھے، اللہ نے اس (مرد مومن) کو ان سب سے محفوظ رکھا اور فرعون کے لوگوں کو بد ترین عذاب نے آگھیرا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اللہ نے اسے بچالیا ان کے مکر کی برائیوں سے اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اللہ نے اسے ان کے برے نتائج سے بچالیا جو انھوں نے تدبیریں کیں اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں نے جو چالیں اس مرد مومن کے خلاف چلی تھیں اللہ نے ان سے اسے بچا لیا اور آل فرعون خود ہی برے عذاب میں گھر گئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی آفتوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو میرے عذاب نے گھیر لیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار اللہ نے اس کو بچا لیا ان تمام بری چالوں سے جو ان لوگوں نے اس کے خلاف چلی تھیں اور گھیر لیا فرعون والوں کو اس برے عذاب نے (جو ان کا مقدر بن چکا تھا)

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اللہ نے اس (مومن) کو ان لوگوں کی مضر تدبیروں سے محفوظ رکھا اور اہل فرعون کو موذی عذاب نے گھیرلیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

و بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

غرض اللہ نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعونیوں کو برے عذاب نے آگھیرا

— محترمہ رفعت اعجاز

Eventually Allah saved the person endowed with faith from all the evils of their guile, and a woeful chastisement encompassed the Pharaonites.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then Allah saved him from the evils of what they designed, and the House of Pharaoh was encircled by an evil punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Then Allah saved him from the evils of what they designed, and the House of Pharaoh was encircled by an evil punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, Allah saved him from the evils that they plotted (against him), while an evil torment encompassed Fir`awn's people.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So Allah warded off from him the evils which they plotted, while a dreadful doom encompassed Pharaoh's folk,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So Allah protected him from the evils they plotted, and the people of Pharaoh were enveloped by the worst of punishment -

— Saheeh International

God protected him against their evil plans and the people of the Pharaoh were struck by the most horrible torment.

— Muhammad Sarwar

So Allah protected him from the evil (consequences) of what they planned, and the most evil punishment overtook Firon's people:

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore Allah protected him from ills which they plotted, and there surrounded the family of Fir'awn the evil of torment.

— Abdul Majid Daryabadi

Then Allah saved him from (every) ill that they plotted (against him), but the burnt of the Penalty encompassed on all sides the People of Pharaoh.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–46

عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔ قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 61 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص فرعون کی سلطنت میں اتنی اہم شخصیت کا مالک تھا کہ بھرے دربار میں فرعون کے رو در رو یہ حق گوئی کر جانے کے باوجود علانیہ اس کو سزا دینے کی جرأت نہ کی جاسکتی تھی، اس وجہ سے فرعون اس کے حامیوں کو اسے ہلاک کرنے کے لیے خفیہ تدبیریں کرنی پڑیں، مگر ان تدبیروں کو بھی اللہ نے نہ چلنے دیا۔ سورة الْمُؤْمِن 62 اس طرز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ مومن آل فرعون کی حق گوئی کا یہ واقعہ حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش کے بالکل آخری زمانے میں پیش آیا تھا۔ غالباً اس طویل کشمکش سے دل برداشتہ ہو کر آخر کار فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کردینے کا ارادہ کیا ہوگا۔ مگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فوقہ اللہ سیات ما مکروا وحاق بال فرعون سوء العذاب۔ یعنی اس کو اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کی بری تدبیروں کے شر سے بچا لیا مگر خود قوم فرعون سخت عذاب میں پکڑی گئی۔ مولائے کریم نے مومن آل فرعون کو دنیا میں اول تو آل فرعون کو ان کے خلاف تدبیروں سے بچایا جس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں۔ مگر الفاظ قرآن سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو قتل کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لئے قوم فرعون نے بہت سی تدبیریں کی تھیں اور جب پھر قوم فرعون غرق ہوئی تو اس بندہ مومن کو حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ نجات دی گئی اور آخرت کی نجات تو ظاہر ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون اور اس کے اعیان کی سازشوں کی ناکامی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس تقریر کے بعد فرعون اور اس کے تمام اعیان ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور ان کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں لگ گئے کہ کسی طرح ان کو اپنے دین میں واپس لائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشوں کے شر سے ان کو محفوظ رکھ۔ اس سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے جو سازشیں ان کو دین حق سے پھیرنے کے لئے کیں ان میں کوئی کامیابی ان کو نہیں ہوئی۔ اسی طرح اللہ کے جو بندے حق کا اعلان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دین و ایمان کی حفاظت فرماتا ہے۔ فرعون اور اس کے اتباع کا انجام ’ وحاق بال فرعون سوٓء العذاب ‘۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 یعنی اس کی قوم قبط نے اس مومن کے اظہار حق کی وجہ سے اس کے خلاف جو تدبیریں اور سازشیں سوچ رکھی تھیں ان سب کو ناکام بنادیا اور اسے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ نجات دے دی۔ اور آخرت میں اس کا گھر جنت ہوگا۔ 45۔ 2 یعنی دنیا میں انہیں سمندر میں غرق کردیا گیا اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کا سخت ترین عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–45

12: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن بتوں کو تم پوجتے ہو، خودان میں صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنے پوجنے کی دعوت دیں، اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ جن کو تم پوجنے کی ہمیں دعوت دے رہے ہو، وہ اس دعوت کے ہرگز لائق نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–50

آیت نمبر 45 تا 50 یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔ النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی حق و باطل کی اس کشمکش کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (اور ان کے ہمراہیوں کو جن میں یہ مومن آل فرعون بھی تھا) فرعونیوں کے منصوبوں سے محفوظ رکھا کوئی داؤ ان کا چلنے نہ دیا۔ بلکہ ان کے داؤ پیچ خود ان ہی پہ الٹ پڑے۔ جس نے حق پرستوں کا تعاقب کیا مارا گیا اور قوم کی قوم کا بیڑا بحرقلزم میں غرق ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 { فَوَقٰــٹـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا } ”تو بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے“ یہاں پر ہُ کی ضمیر کا مرجع مومن ِآلِ فرعون بھی ہوسکتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد مومن آلِ فرعون ہے کہ اللہ نے اسے فرعون کے انتقام کا نشانہ بننے سے بچالیا ‘ لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ مراد ہیں۔ چونکہ اس بات کا آغاز فرعون کی اس قرارداد سے ہوا تھا جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کرنے کی اجازت کے لیے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کی تھی۔ اس لیے زیادہ قرین ِقیاس یہی ہے کہ اس پوری تفصیل کے اختتام پر آیت زیر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

59 معلوم ایسا ہوتا ہے کہ فرعون اس مرد مومن کو فوری طور پر قتل نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو گرفتار کرکے اسے جسمانی تعذیب دینا چاہتا تھا تاکہ اس سے وہ سب باتیں اگلوا لے جن باتوں کی اسے ضرورت تھی۔ ان لوگوں نے اس مرد مومن کے خلاف کیا چالیں چلی تھیں۔ ان کی وضاحت معلوم نہیں ہوسکی۔ بہرحال اس واقعہ کے بعد جلد ہی سیدنا موسیٰ کو ہجرت کا حکم مل گیا اور یہ مرد مومن بھی مہاجرین میں شامل تھا۔ اس طرح اسے فرعون کی چالوں سے نجات مل گئی۔ اور جب فرعون اور آل فرعون نے ان مہاجرین کا تعاقب کیا تو خود ہی اپنی اس چال میں پھنس گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 45–46

44۔ یہ آیت اثبات عذاب قبر ووجود برزخ میں ایک نص صریح ہے۔ دل علی ان المراد النار یعرضون علیھا قبل القیامۃ (جصاص) ھذہ الایۃ تدل علی عذاب القبر (جصاص) والجمھور علی ان ھذا العرض فی البرزخ (قرطبی) ھذہ الایۃ دلیل علی عذاب القبر (مدارک) وفیہ دلیل علی بقاء النفس و عذاب البرزخ (بیضاوی) احتج اصحابنا بھذہ الایۃ علی اثابات عذاب القبر (کبیر) ذالک یدل علی اثبات عذاب القرب فی حق ھؤلآء واذا ثبت فی حقھم ثبت فی حق غیرھم لانہ لاقائل بالفرق (کبیر) وھذہ الایۃ اصل کبیرفی استدلال اھل السنۃ علی عذاب البرزخ فی القبور (ابن کثیر) ھذہ الایۃ تمسک بھا اھل السنۃ فی اثبات عذاب القبر صرح بذالک فی علم الکلام وکتب التفاسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–50

آیت نمبر 38 تا 50 ترجمہ : اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم (کے لوگو) میری پیروی کرو (اتَّبِعونِی) میں اثبات (ی) اور حذف (ی) کے ساتھ میں تمہاری صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کروں گا تقدّمَ ای تقَدَّمَ قرِیْبًا (یعنی اِلاَّ سبیل الرشاد کے ضمن میں عنقریب گذر چکا ہے) اے میری قوم یہ حیات دنیا نہایت قلیل بہت جلد فنا ہونے والی متاع ہے، یقین مانو (کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے جس نے گناہ کیا اس کو تو برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی خواہ مرد ہو یا عورت اور حال یہ کہ وہ باایمان ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (یُدْخَلُوْنَ ) میں یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا عکس (بھی) وہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فوقہ اللہ سیات ما مکروا وحاق بال فرعون سواء العذاب اس کے بعد اللہ نے اس کو فرعون اور فرعونیوں کی ضرر رساں تدبیروں سے محفوظ رکھا اور فرعون (اور اس) کے پیروؤں (یعنی کافروں) پر برا عذاب نازل ہوا۔ فَوَقٰہُ سے پہلے چند جملے محفوظ ہیں ‘ پوری عبارت اس طرح تھی : فرعونیوں نے اس کو قتل کرنا چاہا ‘ مگر وہ وہ بھاگ گیا۔ فرعون نے اس کو پکڑنے کیلئے اپنے آدمیوں کو بھیجا ‘ لیکن اللہ نے اس کو محفوظ رکھا۔ وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون اور فرعونیوں پر برا تکلیف دہ عذاب آ نازل ہوا۔ فرعون کا ذکر کرنا بیکار تھا ‘ کیونکہ وہ تو عذاب کا مستحق سب سے زیادہ تھا ‘ اسلئے اس کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ سُوْٓءُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن کو فرعونیوں کی قتل کی تدبیر سے محفوظ رکھا اور فرعون اور اس کی قوم پر غرق ہونے کا سخت عذاب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فوقہ اللہ سیات مامکروا : فرعون اس مرد مومن کی واشگاف الفاظ میں نصیحت پر جتنا بھی غضب ناک ہوا ہو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی وجہ سے علی الاعلان اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرسکا، بلکہ اس نے اور اس کے دربار والوں نے اس کے خلاف کاروائی کے لئے کئی خفیہ منصوبے طے کئے، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے برے نتائج سے بھی بچالیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ نہیں بتایا کہ کس طرح بچایا۔ بعض مفسرین نے بیان کیا کہ وہ ان سے بچ کر پہاڑوں کی طرف نکل گیا۔ بعض نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد جلد ہی موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تو وہ بھی ان کے ساتھ سمندر پار ہوگیا۔ ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی یقینی نذریعہ نہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–46

( فوقہ اللہ سیات ما مکرواو۔۔۔۔۔۔۔۔ ) فوقہ اللہ سیات ماماکرواللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا عذاب کی جو انواع انہوں نے آپ کو پہنچانے کا مکر کیا تھا انہوں نے اسے تلاس کیا اور اور نہ پایا کیونکہ اس نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا تھا۔ قتادہ نے کہا : وہ قطبی تھا اللہ تعالیٰ نے اسے اسرائیل کے ساتھ نجات دی، اس تعبیر کی بناء پر ھاء ضمیر آل فرعون کے مومن کے لیے ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہوگی جس طرح یہ اختلاف پہلے گزر چکا ہے۔ و حاق بال فرعون سوء العذاب۔ کسائی نے کہا : یہ کہا جاتا ہے حاق یحیق حیقاوحیوقا یعنی کوئی چیز نازل ہو اور لازم ہو پھر عذاب کی وضاحت کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–45

1:۔ فریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ “ (اور اے میری قوم یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات (کے راستہ) کی طرف بلاتا ہوں) یعنی ایمان کی طرف (آیت ) ” لا جرم انما تدعوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا “ (یعنی بات یہ ہے کہ جس چیز کی عبادت کی طرف تم مجھے بلاتے ہو وہ دنیا میں پکارے جانے کے لائق نہیں) فرمایا کہ بت کوئی چیز نہیں (کہ ان کی عبادت کی جائے) (آیت ) ” وان المسرفین “ (اور حد سے گزرنے والے) یعنی خون کو بہانے والے ناحق (آیت ) ” ھم اصحب النار “ وہ دوزخ والے ہیں۔ 2:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ [ تو بچایا اس کو اللہ نے ] سَيِّاٰتِ مَا [ اس کی برائیوں سے جو ] مَكَرُوْا [ انہوں نے خفیہ تدبیر کی ] وَحَاقَ [ اور گھیرے میں لیا ] بِاٰلِ فِرْعَوْنَ [ فرعون کے پیروکاروں کو ] سُوْۗءُ الْعَذَابِ [ عذاب کی برائی نے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مرد مومن کا قوم کی شرارتوں سے محفوظ ہوجانا اور قوم فرعون کا برباد ہونا یہاں تک مرد مومن کا کلام تھا آگے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اس کی حفاظت کا اور آل فرعون کے مبتلائے عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا (فَوَقَہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا) (سو اللہ نے اس کو ان لوگوں کے مکر اور تدبیر کی مصیبتوں سے محفوظ فرما دیا) (وَحَاق بآلِ فِرْعَوْنَ سَؤٓءُ الْعَذَابِ ) (اور فرعون اور آل فرعون پر برا عذاب نازل ہوگیا) یہ لوگ دریا میں غرق ہوئے اور ڈوب مرے اگر (وَحَاق بآلِ فِرْعَوْنَ ) سے اسی غرق کو مراد لیا جائے تو سیاق کلام سے بعید نہیں ہے گو صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب مرد مومن کو قتل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–45

قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–46

51:۔ ” النار یعرضون “ یہ تخویف اخروی ہے۔ اس میں عالم برزخ اور قیامت دونوں کے عذاب کا ذکر ہے۔ قوم فرعون کو ہلاکت اور غرق کے بعد عالم برزخ میں روزانہ صبح شام آگ کا عذاب دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اور جب قیامت قائم ہوگی، تو حکم ہوگا کہ قوم فرعون کو اب اس پہلے سے بھی زیادہ سخت عذاب میں داخل کر دو ۔ یہ آیت عذاب قبر (عالم برزخ) کے ثبوت پر نص صریح ہے اور تمام اہل سنت و جماعت عذاب قبر کے اثبات پر متفق ہیں۔ اس آیت میں دو عذابوں کا ذکر ہے ایک ” النار یعرضون الخ “۔ دوم ” ادخلوا ال فرعون الخ “ دونوں کے درمیان ” ویم تقوم الساعۃ وارد ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ” النار یعرضون الخ “ میں جس عذاب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–45

ربط آیات : جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اسی کی قوم کے ایک مرد مومن اللہ تعالیٰ کی نبی کی جان بچانے کے لیے آگے آئے اس شخص کا نام قرآن نے تو ذکر نہیں کیا ، تاہم بعض مفسرین نے حزقیل یاسمعان نام بتایا ہے ، اس شخص نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، اس مرد مومن نے قوم کو خدا کے عذاب سے ڈریا اور ان کے کردار پر سخت تنقید کی مگر فرعون نے کہا میری بات مانو اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خاتمہ کر دو ورنہ یہ تمہارا دین بھی بگاڑ دے اور زمین میں بھی فساد بھی برپا کرے گا ۔ (نیکی کا راستہ) فرعون کی اس بات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَوَقٰىہُ اللہُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ۝ 45ۚ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] ، وَما لَهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–50

تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اس مومن کے ایمان کا نتیجہ بیان کرتا ہے جو دنیا میں بھی اس کے سامنے آیا اور فرعونیوں کا انجام کار بیان فرماتا ہے۔ فقال فوقہ اللہ کہ اللہ نے اس مومن کو فرعونیوں کے فریب و ایذاء سے جو اس کو مومن سمجھ کردینا چاہتے تھے بچالیا اور خود فرعونیوں پر بڑا عذاب آپڑا کہ وہ اول تو طرح طرح کی مصیبتوں میں جو موسیٰ ( علیہ السلام) کی بددعا سے ان پر آئیں، مبتلا ہوئے، پھر بحر قلزم میں غرق ہوئے اور مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوا۔ النار یعرضون الخ کہ صبح و شام آتش جہنم کے سامنے کئے جاتے ہیں۔ صبح و شام سے مراد خاص یہی دو وقت نہیں بلکہ دوام مراد ہے۔ اس کو محاورہ میں صبح و شام سے تعبیر کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَوَقٰـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ ۔ (المؤمن : 45) (پس اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی آفتوں سے محفوظ رکھا، اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا۔ ) مخالفین کی سازشوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت سیاقِ کلام کو دیکھتے ہوئے گمان ہوتا ہے کہ مردمومن کی حق گوئی کے نتیجے میں حالات تیزی سے بگڑے۔ فرعون اور اس کے حواریوں نے مردمومن پر براہ راست ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ وہ اس وہم میں مبتلا ہوگئے تھے کہ جس سچائی نے مردمومن کو اتنے بڑے اقدام پر مجبور کردیا ہے نہ جانے وہ سچائی کس کس دل میں اتر چکی ہے۔ ممکن ہے کہ عمائدینِ سلطنت میں سے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : مرد حق نے اپنے خطاب میں فرعون اور قوم کے سامنے وہی باتیں کیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے پیش کی تھیں۔ جن باتوں سے فرعون اور اس کی قوم کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ڈرایا کرتے تھے وہی باتیں مرد حق نے آل فرعون کو سمجھائیں مگر وہ نہ سمجھے۔ جس کے نتیجے میں انہوں نے وہی پایا جس سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی سازشوں سے محفوظ رکھا فرعون اور آل فرعون کو بدترین عذاب میں مبتلا کیا۔ عالم برزخ میں صبح و شام انہیں آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور قیامت کے دن فرعون اور اس کے ساتھیوں کو حکم ہوگا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اس کے متعلق تمام فرعونی منصوبے ناکام ہوئے : فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا (پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کی مضر تدابیر سے محفوظ رکھا) ۔ ان کے منصوبوں کی وجہ سے پہنچنے والی تکالیف اور قسم قسم کے عذاب جو اس شخص کو دئیے جاتے جو ان کی مخالفت کرتا تھا۔ ایک قول : وہ ان سے نکل کر پہاڑ کی طرف رخ کر گیا۔ فرعون نے ایک ہزار فوجی اس کی تلاش میں روانہ کیے۔ جن میں بعض کو درندوں نے پھاڑ کھایا اور جو واپس لوٹے ان کو ناکامی مہم کی وجہ سے فرعون نے سولی پر لٹکا دیا۔ وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ (اور فرعونیوں پر موذی عذاب نازل ہوا) حاق کا معنی اترنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

44، فستذکرون مااقول لکم، جب تم عذاب کا مشاہدہ کرلوگے تو اس وقت کایاد آنا تمہیں نفع نہ دے گا۔ ، وافوض امری الی اللہ، اور یہ اس وجہ سے کہا کہ انہوں نے اپنے دین کی مخالفت کرنے کی وجہ سے دھمکیاں دی تھیں ۔ ، ان اللہ بصیر بالعباد، حق اور باطل کو خوب جانتا ہے۔ پھرمؤمن ان کے بیچ سے چلا گیا، انہوں نے اس کو تلاش کیا لیکن وہ نہ ملا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–45

38۔ 45۔ ایماندار قبطی کی نصیحت کا سلسلہ یہاں سے پھر شروع ہوا۔ سورة الاعراف 1 ؎ میں گزر چکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ٹڈیوں کی مینڈکوں کی غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخر ہر آفت کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی التجا کی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا۔ اسی بات کو ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا ہے کہ سبیل الرشاد کہہ کر جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلا رہا ہے اس طریقہ میں ہرگز کچھ بھلائی نہیں ہے کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 36–45

سورة المومن ہامان کی تعمیر کردہ عمارت قول باری ہے (یا ھامان ابن لی صرحا۔ اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا) سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ہامان نے اینٹ کی عمارت بنوائی جبکہ لوگ اینٹوں کی عمارت کو ناپسند کرتے تھے وہ انہیں مقبروں میں استعمال کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

92 حفاظت اصل میں اللہ ہی کی حفاظت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے بچا لیا اس مرد مومن کو ان تمام بری چالوں سے جو دشمنانِ حق نے اس کے خلاف چلی تھیں۔ قتادہ وغیرہ سے روایت ہے کہ اس کے بعد اس مرد مومن نے فرعون سے بھاگ کر ایک پہاڑی میں پناہ لے لی۔ جس پر فرعون نے ایک ہزار کا لشکر اس کے تعاقب میں بھیجا مگر ان میں سے کچھ تو پیاس کے مارے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کچھ کو درندوں نے پھاڑ کھایا اور جو باقی ماندہ واپس پہنچے ان کو فرعون نے سازش کی تہمت میں قتل کردیا۔ اور اس طرح وہ ہزار کا ہزار پورا لشکر ختم اور واصل جہنم ہوگیا۔ (قرطبی، مدارک، و جیز وغیرہ) ۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے اللہ والوں اور اہل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–50

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50: اسرار معارف : اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص غیر معمولی حیثیت کا مالک تھا اور فرعونیوں کو یہ ہمت نہ ہوسکی کہ اسے علانیہ سزا دے سکیں۔ اس لئے انہوں نے خفیہ تدبیریں اختیار کیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی اور وہ اس کے قتل میں ناکام رہے۔ قتادۃ (رح) کہتے ہیں کہ وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ سمندر کے پار چلا گیا۔ ( شوکانی)4 اور سب کو سمندر میں غرق ہونا پڑا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:45) فوقہ :تعلیل کا ہے۔ یعنی اپنے جملہ امور کو اللہ کی سپردگی میں دے دینے سے فرعون کی ہرگز ند سے بچنے کا سبب بن گئی۔ چناچہ عربی میں کہتے ہیں سھا فسجد اس سے سہو ہوئی۔ پس اس نے سجدہ کیا۔ یعنی اس کی سہو سجدہ کا سبب بن گئی۔ وقی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وقایہ مصدر باب ضرب : و ق ی مادہ۔ (لفیف مفروق) بچانا۔ حفاظت کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو حفاظت میں رکھا۔ بچا لیا۔ بچائے رکھا۔ سیئات ما مکروا : سیئات جمع سیئۃ واحد۔ برائیں۔ اعمال بد۔ مضاف ۔ ما موصولہ مکروا ماضی جمع مذکر غائب ۔ مضاف الیہ۔ ان کی تدابیر مذموم کے مال بد سے۔ یعنی فرعونیوں کی ضرررساں تدبیروں کے شر سے اس کو محفوظ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–46

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 46 :۔ دارالقرار ( ہمیشہ رہنے والا ، سکون والا گھر) مالی ( تعجب کے لئے) مجھے کیا ہوا ؟ ) لا جرم ( شک نہیں) ( یقینا ) افوض ( میں سپرد کرتا ہوں) مکروا ( انہوں نے تدبیر کی) حاق ( چھا گیا) یعرضون (پیش کیا جاتا ہے) غدوا ( صبح) عشی ( شام ( رات) اشد ( سخت ، شدید) تشریح : آیت نمبر 38 تا 46 :۔ آل فرعون میں سے جو مرد مومن ایمان لا چکا تھا اس نے فرعون کے دربار میں فرعون اور درباریوں کے دبائو ، دھمکی اور لالچ دیئے جانے کے باوجود اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری باتوں کو غور سے سنو اور میں تمہیں جس راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہوں اس پر چلو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–45

(ف 1) سورة الاعراف میں گزرچکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ، ٹڈیوں کی، مینڈکوں کی، غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا، کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخرہرآفت کے وقت حضرت موسیٰ سے دعا کی التجا کی گئی اور حضرت موسیٰ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا اسی بات کو ایماندار شخص نے ہر ایک آفت کو سمجھایا کہ جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلارہا ہے اس طریقہ میں ہرگز نہیں بھلائی کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور پہنچتی، ہاں جس طریقہ کی حضرت موسیٰ نصیحت کرتے ہیں بھلائی کا طریقہ وہ ہے کہ اسکے طفیل تمہاری سب آفتیں رفع دفع…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–46

[15] یہ آیت عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے۔ یہاں واضح الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کم درجے کا عذاب یعنی صبح و شام فرعونیوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ اسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے۔ چناچہ قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا۔ پھر قیامت میں انہیں دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ یہ معاملہ صرف فرعونیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر مرنے والے کو اس کا آخری مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے، جنتی کو جنت کا اور دوزخی کو دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تجھے قیامت کے دن زندہ کر کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–48

عذاب قبر کا ثبوت 1: اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ موت کے بعد ہر انسان عالم قبر یا عالم برزخ میں رہتا ہے اور یہ حالت ایک نوع کی تنویمی حالت ہوتی ہے ۔ سابقہ اعمال کا اس عالم پر اثر ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص نیک رہا ہو ۔ تو یہاں اچھے اثرات کو محسوس کرتا ہے اور فرح ومسرت سے دوچار ہوتا ہے ۔ اور اگر اس نے دنیا میں برے اعمال کئے ہیں تو یہاں ان کو تکلیف کو محسوس کریگا ۔ یہ عذاب قبر ہے ۔ اس عقیدے کا ثبوت اس آیت سے ملتا ہے کیونکہ یہ مذکور ہے ۔ کہ فرعون اور آل فرعون کو صبح وشام جہنم کے سامنے پیش کیا جائیگا ۔ اور پھر جب باقاعدہ حساب و کتاب کی منزلیں طے ہوچکیں گی ۔ تو اس وقت ان کے متعلق کہا جائے گا ۔ کہ انہیں شدید…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن مرد کو یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان لوگوں کی بدی اور شرارت آمیز جالوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے اور بدترین عذاب نے آگھیرا۔ یعنی یا تو حزقیل کو یا موسیٰ (علیہ السلام) کو کیونکہ کلمۃ الحق کے اعلان کے بعد فرعون حزقیل کا بھی دشمن ہوگیا ہوگا اسی لئے بعض نے حزقیل مراد لیا اور بعض نے موسیٰ کو مراد لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے برے دائوں اور برے چالوں سے اس کو بچا لیا اور فرعونیوں کو برے عذاب نے گھیر لیا غرض وہ دریامیں ڈبودیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا مرنے کے بعد فرعون والوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے اس کو آگے بیان فرماتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–45

ف 1۔ یعنی سبیل الرشاد میرا بتلایا ہوا راستہ ہے نہ فرعون کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے مکروں سے اس کو محفوظ رکھا اور فرعون گھیر لیا گیا 45۔ بلاشبہ ان کی خاموشی معنی خیز تھی اور وہ چاہتے تھے کہ موسیٰ سے بھی پہلے اس کو ٹھکانے لگا دیا جائے اور انہوں نے جو مخفی تدبیریں اس کے لیے سوچیں وہ سب کی سب دھری کی دھری رہ گئیں اور فرعون اور اس کے لائو لشکر کو سخت عذاب نے اپنے گھیرے میں لے لیا مطلب یہ ہے کہ اس مرد مومن کی مداخلت سے جو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی تھی اس سے بالکل بچالیا اور اس مرد مومن کی طرف ان کی توجہ مبذول ہوگی اور جتنا وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر غصہ تھے اس سے زیادہ وہ اس مرد مومن پر غصہ میں آگئے لیکن ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This has been mentioned in verse 45 in the following words: فَوَقَاهُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُ‌وا وَحَاقَ بِآلِ فِرْ‌عَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ (Then Allah saved him from the evils of what they designed, and the House of the Pharaoh was encircled by an evil punishment.), that is, Allah Ta’ ala saved the believer from the harm the people of Pharaoh planned to bring to him, but they themselves were seized by a severe punishment. First of all, Allah Ta’ ala, in His mercy, saved the believer belonging to the House of Pharaoh right here in this world from the aggressive designs of the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

61 This shows that the Believer was such an important man in the kingdom of Pharaoh that although he spoke out the truth in the face of Pharaoh, in the full-packed court, yet none could have the courage to punish him publicly. That is why, Pharaoh and his supporters had to make secret plans to kill him, but these plans also were frustrated by Allah. 62 It so appears from the style that this event of the Believer's speaking out the trnth had taken place in the last stage of the conflict between the Prophet Moses and Pharaoh. Probably being fed up and disgusted with the long drawn out conflict,…

Read the full tafseer →