Explained with ayahs 71–85
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔
یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
سورة صٓ 64
یہ الفاظ تخلیق انسانی کے شرف پر دلالت کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ بادشاہ کا اپنے خدام سے کوئی کام کرانا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک معمولی کام تھا جو خدام سے کرا لیا گیا۔ بخلاف اس کے بادشاہ کا کسی کام کو بنفس نفیس انجام دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک افضل و اشرف کام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جسے میں نے خود بلا واسطہ بنایا ہے اس کے آگے جھکنے سے تجھے کس چیز نے روکا ؟
" دونوں ہاتھوں " کے لفظ سے غالباً اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کے دو اہم پہلو پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
(آیت) لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۔ یہاں حضرت آدم ؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پیدا کیا۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ ”ہاتھوں“ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی ہاتھ ہیں جیسے انسانوں کے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعضاء وجوارح کی احتیاج سے منزہ ہے۔ لہٰذا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور عربی زبان میں لفظ ”ید“ بکثرت قدرت کے معنی میں مستعمل ہے، مثلاً ارشاد ہے(آیت) بیدہ عقدة النکاح۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آدم کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ اور یوں تو کائنات کی ساری چیزیں قدرت خداوندی ہی سے پیدا ہوئی ہیں، لیکن جب باری تعالیٰ کسی…
Read the full tafseer →قال انا خیر منہ ط خلقتنی من نار وخلقتہ من طین (76)
فضیلت کی بنیاد نسب پر رکھنا شیطان کی ایجادات میں سے ہے
ابلیس نے اس کا جواب دیا کہ میں اس سے برتر ہوں اور اس کی دلیل یہ دی کہ مجھ کو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے یعنی اس نے اپنی برتری کا دعویٰ کیا اور اس کے ثبوت میں اس نے یہ چیز پیش کی کہ اس کی خلقت ایک برتر عنصر سے ہوئی ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ اس نے فضیلت کی بنیاد صفات پر نہیں بلکہ صرف نسب اور خاندان پر رکھی۔ یہ وہی منطق ہے جو قریش کے لیڈر آنحضرت ﷺ اور آپ کے غریب ساتھیوں کے مقابل میں پیش کرتے تھے، جس کا ذکر اس سورة میں پیچھے گزر چکا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی کاتب اتارنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
76۔ 1 یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم ؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–80
27: اس سے فرشتوں کی اس گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم ؑ کی تخلیق کے وقت ہوئی تھی، اور جو تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ : 31 میں گذر چکی ہے، اور اس کا کچھ حصہ آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 76
اس جواب سے حسد ٹپکا پڑتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جسد آدم میں مٹی کے عنصر سے جو زائد عنصر ہے ، شیطان اس سے غافل تھا۔ یہ وہی عنصر تھا یعنی روح ربانی جو اس عزت افزائی کا مستحق تھا۔ بہرحال یہ اس ذات کی جانب سے ایک کورا جواب ہے جو اس منظر میں ہر قسم کی خبر اور بھلائی سے محروم ہوتی ہے۔
چناچہ بارگاہ رب العزت سے حکم نامہ جاری ہوا اور اس قبیح ذات کو دربار عالیہ سے نکال دیا گیا۔
Read the full tafseer →7 سورة اعراف میں اس کا بیان گزر چکا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ آگ ہے گرم پر جوش اور مٹی سرد ہے خاموش۔ ابلیس نے آگ کو اچھا سمجھا اللہ نے اس مٹی کو پسند رکھا۔ "
Read the full tafseer →آیت 76 { قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ } ”اس نے کہا : میں اس سے بہتر ہوں !“
اس نے کہا ہاں ! یہ بات صحیح ہے کہ میں اس سے بہتر اور برتر ہوں۔ دراصل شیطان کا یہ دعویٰ اس کے مشاہدے کی بنیاد پر تھا۔ اس کے پیش نظر صرف حضرت آدم علیہ السلام کا جسد ِخاکی تھا۔ اس کے اندر پھونکی گئی روح کا اسے علم نہیں تھا۔ چناچہ اس کا یہ دعویٰ کہ ”میں اس خاکی وجود سے بہتر ہوں“ اس کے مشاہدے کے اعتبار سے کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔
{ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ } ”مجھے بنایا تو نے آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
72 یعنی قیامت تک تو اللہ، اس کے فرشتے، تمام انسان حتیٰ کہ ابلیس کی پیروی کرنے والے بھی اس پر لعنت پھٹکار کرتے رہیں گے پھر اس کے بعد ابدا لآباد ابلیس اور اس کی آل اولاد کو عذاب میں مبتلا رکھا جائے گا۔
Read the full tafseer →67۔ (اور آگ اس کے مقابلہ میں عالی ولطیف ہے، تو سافل وکثیف کے روبرو عالی ولطیف کیسے جھکے ؟ ) ابلیس احمق اتنا نہ سمجھا کہ اول تو مٹی پر آگ کی ہر جہتی افضیلت واشرفیت ہی مسلم نہیں۔ اور بالفرض ہو بھی تو کیا کسی مصلحت سے افضل کو غیر افضل، اشرف کو غیر اشرف کے آگے نہیں جھکایا جاسکتا ؟ ایک مفسر نے اس حقیقت سے یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ ابلیس جب اتنا کج فہم ہے تو انسان کو اس سے درنا ہی کیا، بجز اس کے کہ انسان اپنی قوت ارادی سے کام نہ لے کر خود ہی اپنے کو نور عقل سے محروم کردے ! مناظرہ ابلیس حضرت حق پر اور ابلیسی منطق کی سفاہت پر حاشیے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
آیت نمبر 65 تا 88
ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…
Read the full tafseer →قال ابلیس نے کہا۔
انا خیر منہ میں اس سے افضل ہوں۔ ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بیان کی کہ میں آدم سے افضل ہوں اور یہ دلیل پیش کی کہ
خلقنی من نار وخلقتہ من طین تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اس کو گارے سے بنایا۔ اسکی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →کہنے لگا میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آگ مٹی کو کھا جاتی ہے اسی وجہ سے میں نے آدم کو سجدہ نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ : اس آیت سے آدم ؑ کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ تفصیل سورة مائدہ کی آیت (64) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : (بل یدہ مبسوطتن) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ : ”اَسْتَكْبَرْتَ“ اصل میں ”أَ اِسْتَکْبَرْتَ“ تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
75 ۔ 83:۔ مامنعک کس نے تجھے حکم بجا لانے سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا کہ تو سجدہ کرے لما خلقت بیدی اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کا اظہار کا تھا اگرچہ وہ ہر شے کا خالص ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح ‘ بیت ‘ ناقہ اور مساجد کو مضاف کیا لوگوں سے اسی طریقہ سے خطاب کیا جس طرح لوگ اپنے معمولات میں آگاہ تھے کیونکہ مخلوقات میں سے ریئس اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا مگر اس شے کی عظمت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہاں بھی ید کا ذکر اسی معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں ید کا ذکر تاکید کے لئے اور زائد ہے اس کے معنی ہے لما خلقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–83
1:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کے پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! ہمیشہ شراب پینے والا دیوث اس میں نہیں ٹھہرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو پہچان لیا (مگر) دیوث کیا ہے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال کو بدکاری کا مشورہ دے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے اور ابوالشیخ (رح) نے…
Read the full tafseer →قَالَ [اس نے کہا ] اَنَا خَيْرٌ [میں بہتر ہوں ] مِّنْهُ ۭ [اس سے ] خَلَقْتَنِيْ [تو نے پیدا کیا مجھ کو ] مِنْ نَّارٍ [ایک آگ سے ] وَّخَلَقْتَهٗ [اور تو نے پیدا کیا اس کو ] مِنْ طِيْنٍ [ایک گارے سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔
ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔
ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–85
ربط آیات :
گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْہُ 0 ۭ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِيْنٍ 76
خير
الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه :
الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ،
( خ ی ر ) الخیر
۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–84
ترکیب : فقعوا امر من وقع یقع الا ابلیس استثناء متصل علی تقدیر انہ کان متصفا بصفات الملائکۃ فغلبوا علیہ او منقطع لما مامصدریۃ او موصولۃ و قری لما بالتشدید مع فتح الام استکبرت استفہام تو بیخ و انکار ام کنت ام متصلۃ اے اترکت السجود لاستکبار الحادث ام لاستکبار القدیم فالحق والحق قراء الجمہور بنصب الحق فی الموضعین علی انہ مقسم بہ حذف حرف الجرو قرء برفعھا۔
تفسیر : اب اس جگہ ملائِ اعلیٰ کے ملائکہ کی وہ گفتگو بیان فرماتا ہے جو آدم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پیشتر کی تھی۔ اس ذکر سے یہاں یہ چند باتیں بتلانی مقصود ہیں۔ (1) یہ کہ آدم کو ہم نے زمین کا خلیفہ بنانے کے لیے فرشتوں سے کہا، اُنہوں نے آدم کی…
Read the full tafseer →قَالَ اَنَا خَیْرٌمِّنْہُ ط خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ۔ (صٓ: 76)
(اس نے جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو آپ نے مٹی سے پیدا کیا۔ )
ابلیس کی فکری کجی
ابلیس نے جواب دیا کہ میرے سجدہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں اس سے بہتر اور برتر ہوں۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے، اور آگ مٹی سے افضل ہے۔ کیونکہ آگ کی سرشت میں بلندی کی طرف اٹھنا اور پرواز کرنا ہے۔ اور مٹی کی فطرت میں پستی کی طرف گرنا ہے۔ تو بلندی پستی کے سامنے کیسے جھک سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ابلیس نے اپنی برتری کی بنیاد صفات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
فہم القرآن
ربط کلام : نبی کا کام لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو لوگ برے انجام سے بےخوف ہوں گے ان کا انجام ابلیس جیسا ہوگا۔
نبی آخر الزمان ﷺ نے کفار اور مشرکین کو بار بار برے انجام سے متنبہ فرمایا مگر وہ لوگ دعوت قبول کرنے کی بجائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے اس پر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ انہیں سنایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملائکہ اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوئے اور شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذلیل ٹھہرا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے لیکن ہر موقعہ پر جدا گانہ الفاظ اور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے اللہ…
Read the full tafseer →بڑائی کا دعویٰ :
76: قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ (کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور) مِنْ طِیْنٍ (اس کو خاک سے پیدا کیا) یعنی اگر وہ آگ سے پیدا ہوا ہوتا تو ضرور اس کو بھی سجدہ نہ کرتا۔ اس لئے کہ وہ میری طرح کی مخلوق ہے پس میں اس کو کیسے سجدہ کرسکتا ہوں جو مجھ سے کم درجہ ہے ؟ کیونکہ وہ مٹی سے بنا ہے اور آگ مٹی پر غالب ہے اور اس کو کھا جاتی ہے۔
: دوسرا جملہ پہلے کیلئے اسی طرح لایا گیا جیسے عطف بیان اپنے معطوف علیہ کیلئے ہوتا ہے۔ اور دوسرا جملہ خلقتنی من نار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
75، قال یا ابلیس مامنعک ان لا تسجد لما خلقت بیدی استکبرت، الف استفہام کا ہے۔ الف وصل کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ ، ام کنت من العالین، اس سے مراد متکبرین ہیں ۔ یہ استفہام تو بیخ اور انکار کے طور پر ہے۔ اس نے سجدہ کرنے سے تکبر کیا اور سجدہ سے انکار کیا یا اس نے ایسی قوم کی طرح تکبر کیا جو سجدہ سے تکبر کرنے کی بناء پر سجدہ نہیں کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
71۔ 81۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ سورة اعراف سورة حجر وغیرہ میں بیان فرمایا ہے وہ قصہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرشتوں کو یہ بات جتلائی کہ وہ ایک بشر پیدا کرے گا۔ کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے اور جب اس کے پیدا کرنے اور درست کرنے کا کام پورا ہوجاوے تو چاہے کہ اس کی عزت بڑھانے کے لئے اور خدا کا حکم ماننے کے واسطے اس کو قبلہ ٹھہرا کر فرشتے سجدہ کریں۔ سارے فرشتوں نے اس کا حکم مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–88
آیت 74، 88
(قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–88
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ
قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…
Read the full tafseer →87 ابلیسی منطق کا ایک نمونہ : سو ابلیس لعین نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے ارشاد کے جواب میں کہا کہ " میں اس سے بہتر ہوں کہ مجھ کو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی گارے سے "۔ تو پھر میں اس کو سجدہ کیوں کرتا کہ میں اس سے افضل ہوں اور وہ مفضول۔ تو افضل مفضول کو سجدہ کس طرح کرے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ہے ابلیسی فکر و منطق اور شیطانی چکر و سوچ کا ایک نمونہ ومظہر کہ کوئی اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے صاف وصریح حکم کے مقابلے میں اپنے واہی تباہی حیلوں حوالوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں اور مفروضوں کی بنا پر اس طرح اکڑ جائے۔ سو یہ راستہ دائمی تباہی اور ابدی ہلاکت کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–88
شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے
تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88:
اسرار و معارف :
آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…
Read the full tafseer →ف 14 اور ’ ’ آگ مٹی سے بہتر ہے “ یہ ابلیس کا استدلال تھا حالانکہ بدبخت یہ نہ جانتا تھا کہ مٹی آگ سے بہتر ہے کیونکہ مٹی کیلئے آگ کی حیثیت محض خادم کی ہے، اگر ضرورت ہو تو کام لیا جاتا ہے ورنہ بجھا دی جاتی ہے اور یوں بھی آگ پر مٹی ڈال دی جائے تو وہ اسے بجھا دیتی ہے۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(38:76) قال : ای قال ابلیس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–88
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے)
تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–81
(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–88
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–84
اللہ کے نائب کا عہدہ
1: یہ اس وقت کی بات ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو وجود کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کو تھا ۔ جب یہ طے ہورہا تھا ۔ کہ اس ظلوم وجہول کے کندھے پر خلافت عظمی کا بار رکھا جائے ۔ جب ملاء اعلیٰ کے روحانی نعمتوں سے معمور تھا ۔ اور اخلاق اکبر کو یہ منظور تھا ۔ کہ زمین کو بشر کی ہنگامہ آرائیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ اس وقت اس میں خودداری و عظمت کا جذبہ بیدار کرنے اور زمین میں بہترین غائب بنانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ طاء اعلیٰ کو اس کے سامنے جھکایا جائے اور اس کی بتلایا جائے ۔ کہ دنیا میں جانے کا مقصد تسخیر کائنات ہے ۔ تم اس لئے خلعت وجود سے نوازے جارہے ہو ۔ تاکہ قدرت کی بلند…
Read the full tafseer →(76) ابلیس نے جواب دیا میں آدم سے بہتر ہوں تونے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔ یعنی کہاں آگ اور کہاں مٹی تیرا یہ حکم مصلحت کے خلاف ہے کہ ایک بلند چیز دوسری پست چیز کے آگے جھکاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
ف 2۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہی صلصال من حما مسنون اور ان میں کچھ تعارض نہیں، کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا، کہیں مادہ بعیدہ۔
Read the full tafseer →فرمایا تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہے تیرے رہنے کے یہ جگہ نہیں
76۔ زیر نظر آیت میں وہی بات بیان کی جارہی ہے جس کے متعلق آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص خود اپنے آپ کو (انا عالم) کہے وہ جاہل ہوتا ہے۔ ابلیسی طاقت وقوت نے بھی یہی کہا کہ ” میں اس سے بہتر ہوں “ اور یہی جملہ اس کے کہتر ہونے کو ثابت کر گیا اس لیے کہ انسانی خوبیوں میں سے یہ بھی ایک خوبی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بڑا نہ کہے کیونکہ اپنے منہ میاں مٹھو بننا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ ادنیٰ اور گھٹیا ہونے کی نشانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–85
In verse 75, it was said: لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (what I created with My hands...):
Here, it is about Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) that Allah Ta’ ala has said that it is He who had created him with His hands. There is a consensus among the majority of the Muslim Ummah that "hands" do not mean that Allah Ta’ ala has hands as human being do. The reason is that Allah Ta’ ala is absolutely pure and free from the need of body or its active limbs. Therefore, it means the power and control of Allah Ta’ ala and that the word: یَد (yad: hand) is commonly used in the Arabic language in the sense of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
64 These words have been used to point out the honour, rank and glory bestowed on man by his Creator. In other words, Allah did not get man created through his angels but created him Himself because his creation was a highly noble task. Therefore, what is meant to be said is: "What has prevented you from prostrating yourself before him whom I have made directly Myself?" The words "both hands" probably are meant to refer to the fact that this new creation combines in itself two important aspects of Allah's power of creation: (1) That man has been given an animal body on account of which he…
Read the full tafseer →