38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 38:1–11

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اسنے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر انہیں ہی کی حکومت ہے تو چاہیے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں پر) چڑھ جائیں

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے

آیت 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔ جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لئے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھا دی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کردیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے (عزۃ و شقاق) ” غرور، مخالفت “ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انہوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لئے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کے مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آپہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے، لیکن (لات حین مناص) ” وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔ “ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں تھا۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوگا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔ : (آیت) ” یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کرسکیں اور اسے پہچان لیں جیسے کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس کا اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کا اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انہوں نے انکار کرنے والے پر تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا : (ھذا سحر کذاب) ” یہ جادو گر اور نہایت جھوٹا شخص ہے “ ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلا شبہ (اجعل الالھۃ الھا واحداً ) ” اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا۔ “ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہم سر سبنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلصا کا حکم دیتا ہے۔ (ان ھذا) ” یقیناً یہ “ جسے وہ لے کر آیا ہے (لشی عجاب) ” البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔ “ یعنی انکے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔ (وانطلق الملا منھم) یعنی اشرفا قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے (ان امشوا واصبروا علی الھتکم) یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمہیں ان کی عبادت سے روک نہ دے (ان ھذا) یہ جو محمد ﷺ بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں (لشی یراد) ” یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔ “ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لئے ہے۔ اس کی دعوت کو صرف ان دلائل وبراہین کے ذریعے سے رد کیا جاسکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کرسکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لئے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمہارے سردار، تمہارے بڑے اور تمہارے قائد بن جائیں۔ (ماسمعنا بھذا) یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا (فی الملۃ الاخرۃ) ” پچھلے مذہب میں۔ “ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پ اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمہارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے، کیونکہ انہوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لئے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباؤ و اجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو (انزل علیہ الذکر من بیننا) ” کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے ؟ “ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لئے مختص کرتا ہے ؟ یہ بھی باطل شبہ ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لئے کون سی دلیل ہے ؟ کیا تمام انباء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انہیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لئے درست نہیں، اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بیشک وہ (فی شک من ذکری) ” میری نصیحت (کتاب) کے بارے میں شک میں ہیں۔ “ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں۔ جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہوگئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آگیا اور وہ اپنے شک پر قائم رہے، تب انہوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لئے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا :: (آیت) ” انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزا نہیں چکھا۔ “ انہیں ایسی باتیں کہنے کی اس لئے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب کا عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جراأت نہ کرتے۔ : (آیت) ” کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے میں “ کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کردیں ؟ کیونکہ ان کا قول ہے : (آیت) ” کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کردیا گیا “ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے جو ان کے قبضہ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر قرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کرسکیں۔ : (آیت) ” یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان کی حکومت ہے “ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں : (آیت) ” تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں “ جو انہیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کردیں۔ یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں ؟ کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے ؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہوگا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہوگی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔ “
Ayahs 38:12–16

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اسکی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی یہی وہ گروہ ہیں

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

(ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمر بستہ تھیں :: (آیت) ” قوم نوح اور عاد “ جو کہ حضرت ہود کی قوم تھی : (آیت) ” اور میخوں والا فرعون “ یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا (وثمود) ” اور ثمود “ صالح کی قوم (وقوم لوط واصحب لئکۃ) ” اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ ‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیب کی قوم ہے۔ (اولئک الاحزاب) جنہوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لئے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ (ان کل) ” نہیں تھا کوئی “ گروہ ان میں سے (الا کذب الرسل فحق) ” مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگا ی “ ان پر (عقاب) ” عذاب میرا “ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ کون سی چیز ہے جو انہیں پاک اور طاہرہ رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں : (آیت) ” صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔ یعنی اب اس عذاب کو روجنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں۔ اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھڑا انہیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

آیت 17 یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے (قبل یوم الحساب) ” حساب کے دن پہلے “ وہ اپنے اس قوم سے باز نہیں آتے۔ اے محمد ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : (اصبر علی مایقولن) ” یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے “ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Ayahs 38:18–20

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے سب ان کے فرمانبردار تھے

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)

آیت 18 چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، سا لئے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزرار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا : (آیت) ” جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غرورب آفتاب سے پہلے ، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔ “ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤد ہیں وہ ذالاید) ” صاحب قوت تھے “ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے۔ انہ اواب) یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعید، خوف، امید، کثرت گریہ زاری اور کثرت دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہوجاتا تو اس خللل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیہ بیان کرتے تھے (باعشی والاشراق) صحیح اور شام کو (اور) ” تابع کردیا (الطیر محشورۃ) پرندوں کو بھی وہ آپ کے پاس جمع کردیئے گئے (کل ‘ سب کے سب “ پہاڑ اور پر ندیں اللہ تعالیٰ کے لئے لہ اقاب) ” مطیع تھے “ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے : (آیت) ” اے پہاڑو تو اس (داؤد) کے ساتھ تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔ “ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا، چناچہ فرمایا : (وشددنا ملکہ) ” اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔ ‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقت ور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چناچہ فرمایا :: (آیت) ” یعنی ہم نے آپ کو نبوت، حکمت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ : (آیت) ” اور بات کا فیصلہ (سکھایا) “ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔
Ayahs 38:21–28

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا خوف نہ کیجئے ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے گا اور ہم کو سیدھا راستہ دکھا دیجئے

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اسکے (ہاں) نناوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دنبی ہے یہ کہتا ہے یہ بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بیشک تجھ پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گرپڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے راستے سے بھٹکا دے گی جو لوگ خدا کے راستے سے بھٹکتے ہیں انکے لئے سخت عذاب (تیار) ہے لہ انہوں نے حساب کے دن کو بھولا دیا

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے کیا ان کو ہم انکی طرح کردیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے

آیت 21 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔ “ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے (اذتسوروا) ” جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے “ حضرت داؤد کے پاس (المحراب) ’ محراب میں۔ “ یعنی اجازت طلب کئے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دوازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے انہوں نے آپ سے کہا کہ ہم (خصمن) ” دو جھگڑا کرنے والے ہیں “ اس لئے ڈریے مت (بخی بعضنا عل بعض) ” ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے “ ظلم کرتے ہوئے (فاحکم بیننا بالحق) لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں (ولا تشطط واھدنا الی سوآء الصراط) ” اور بےانصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہنمائی کیجیے۔ “ اس پورے واقعے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤد کو معلوم ہوگیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق ہے۔ جب یہ معاملہ ہوا اور وہ حضرت داؤد کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تو اللہ کے نبی داؤد نے ان کے وعظ و نصیحت سے تنگی محسوس کی نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہ کا : (آیت) ” بیشک یہ میرا بھئای “ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے (لہ تسع وستعون نعجۃ) ” اس کی ننانوے دنبیاں ہیں “ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے (ولی نعجۃ واحدۃ) ” اور میرے پاس ایک نبی ہے “ یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ (فقال اکفلنیھا) اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے (وعزنی فی الخطاب) اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتی کہ وہ میری نبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ جب داؤد نے اس کی بات سنی۔۔۔ فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لئے حضرت داؤد نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرافریق بات کرے، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لئے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجئاش نہیں ہے کہ حضرت داؤد نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا ؟۔۔۔ تو فرمایا :: (آیت) ” یہ جو تیری نبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے، بیشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ “ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ “ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے : (آیت) ” سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔ “ کیونکہ انہیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انہیں ظلم سے باز رکھتے ہیں (و قلیل ماھم) ” اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔ “ وظن داؤد) جب حضرت داؤد نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ (انما فتنہ) ہم نے حضرت داؤد کی آزمائش کے لئے یہ مقدمہ بنا کر انکے سامنے پیش کیا ہے۔ (فاستغفر ربہ) جب آپ سے لغزش سر زد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی (وخرراکھا) ” اور جھک کر گرپڑے۔ “ یعنی سجدے میں گرپڑے (واناب) اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ (فغرنا لہل ذلک “ پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش “ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا : (وان لہ عندنا لزلفی) ” اور بلا شبہ ہمارے ہاں اس کے لئے خاص مرتبہ ہے “ یعنی بہت بلند مرتبہ، جو کہ ہمارا قرب (وحسن ماب) ” اور اچھا انجام ہے۔ “ حضرت داؤد سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں، اس لئے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ : (آیت) ” اے داؤد ! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا “ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کرسکیں : (آیت) ” لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے “ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک واجب کا علم اور واقعے کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ (ولا تتبع الھدی) ” اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے۔ “ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہوجائے) (فیضلک) ” پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے “ (عن سبیل اللہ) ” اللہ کی راہ سے “ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ (ان الذین یضلون عن سبیل اللہ) ” بلا شبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ “ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ : (آیت) ” ان کے لئے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے، سخت عذاب ہے۔ “ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انہیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کرسکتیں۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

آیت 29 اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین و آسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے اور مصلحت کے کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ : (آیت) ” یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے “ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ : (آیت) ” پس کافروں کے لئے آپ کی ہلاکت ہے۔ “ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انہیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لئے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا مل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کرسکتے۔ حیات بعد الموت حق ہے اور قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا، اس لئے فرمایا : (آیت) ” کیا ہم انہیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں ؟ “ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔ : (آیت) ” یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔ “ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لئے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القادر کتاب نہیں آئی۔ (لیدبروآ ایتہ) یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غور و فکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور و فکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قرأت جو تدبر و تفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جا رہی ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ : (آیت) ” تاکہ عقل صحیح کے حاملین اس میں غور و فکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
Ayahs 38:30–40

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

(اور) دعا کی اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایان نہ ہو بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور اوروں کو بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے

آیت 30 اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمان کی مدح و ثنا بیان کی، چناچہ فرمایا : (ووھبنا لداؤد سلیمن) (1) اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے “ اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا “ فاضل مفسر (رح) نے اسی ترجمہ و مفہوم کے مطابق تفسیر کی ہے۔ یعنی ہم نے داؤ دکو سلیمان عطا کیا کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں (نعم العبد) سلیمان بہترین بندے تھے “ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ (انہ اواب) یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر و دعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔ بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پڑش کئے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کئے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جنہیں ان گھوڑوں کی ضرورت تھی، مثلاً بادشاہ وغیرہ سلیمان کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتی کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کردیا۔ سلیمن نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محب الٰہی کو غیر اللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا : (انی احبب ت حب الخیر) یہاں (احببت) (آثرت) کے معنی کو متضمن ہے یعنی میں نے ” خیر “ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔” خیر “ کے معنی عام طور پر ” مال “ لئے جاتے ہیں۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں : (آیت) ” اپنے رب کی یاد سے حتی کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔ “ سلیمان نے فرمایا :: (آیت) ” ان کو میرے پاس واپس لاؤ۔ “ حضرت سلیمان کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ (فطفق مسحا بالسوق والاعناق) تو سلیمان نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کردیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولقد فتنا سلیمن) یعنی ہم نے حضرت سلیمان سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ : (آیت) ” اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈاکل دیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا و قدر کے ذریعے سے مقدر کردیا کہ ایک شیطان سلیمان کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصے کے دوران میں بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے۔ (1) (1) فاضل مفسر (رح) کا یہ بیان اسرائیلی روایات ہی سے ماخوذ ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیا ہے۔ پتا نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کر کے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیا تھی ؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا ؟ اور اس کا مطلب کیا ہے ؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لئے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ ی) (ثم اناب) پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔ (قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبع لاحد من بعد انک انت الوھاب) ” کہنے لگے اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کردی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضاعہ کردیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا ‘ شیاطین آپ کے لیے مسخر کردیے گئے ‘ آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرے تھے ‘ وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکلا کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کردیتے۔ ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) سے کہا (ھذا عطآؤنا) ” یہ ہمارا عطیہ ہے “ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ (فامنن) جسے چاہیں عطا کریں۔ (او امسک) اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ (بغیر حساب) اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔ آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمان ( علیہ السلام) کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں ‘ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ‘ بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیر کثیر سے نوازا جائے گا ‘ اس لیے فرمایا : (وان لہ عندنا لزلفٰی وحسن ماٰب) ” اور بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں قریب اور عمدہ مقام ہے۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکزمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔ فوائد حضرت داود اور سلیمان ( علیہ السلام) کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفٰی ﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھا تا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت ‘ ان کے صمر کی شدت اور ان کی انبت کا ذکر عرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صمر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی ‘ آپ کے او آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بد کلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صمر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داود ( علیہ السلام) کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے ‘ کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار ‘ اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی ‘ تیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بےکاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ 3۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیا اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے ‘ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ (اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ) (الانعام : 6؍09) ” یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا ‘ لٰہذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔ “ 4۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داود ( علیہ السلام) کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے ‘ اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے ‘ جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داود ( علیہ السلام) کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ 6۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء ورسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتال میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہوجاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں جیسا کہ حضرت داود ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو آزمائش پیش آئی۔ 7۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں ‘ کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ‘ لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا اتکاب ہوجاتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کردیتا ہے۔ 8۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داود ( علیہ السلام) اپنے غالب احوال میں ‘ اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے ‘ اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھند کر محراب میں آنا پڑا ‘ کیونکہ حضرت داود ( علیہ السلام) جب اپنے محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جاسکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ 9۔ حضرت داود ( علیہ السلام) کے قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکام کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے ‘ کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داود ( علیہ السلام) کی خدمت میں حضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا ‘ اس لیے حضرت داود ( علیہ السلام) ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری ‘ ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ 01۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کانا گوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ 11۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داود ( علیہ السلام) کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے ‘ کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ..... حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے ..... تو آپ ان سے ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ انھیں کوئی زجرو تو بیخ ہی کی۔ 21۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم مے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔” تو نے مجھ پر ظلم کیا “” اے ظالم ! “” اے مجھ پر زیادتی کرنے والے ! “ وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے کہا تھا (خصمان بغی بعضنا علی بعض) (83؍66) ” ہم مقدمے کے دو فریق ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔ “ 31۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو ‘ جب کوئی شخص خیر خواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے ‘ بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کرلینا چاہیے ‘ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داود ( علیہ السلام) کو نصیحت کی تو آپ نے برا مانا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپکو راہ حپ سے ہٹایا ‘ بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ 41۔ اس قصے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط ‘ دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے ‘ نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقوٰی اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جاسکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ 51۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت ‘ خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داود ( علیہ السلام) کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ 61۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داود ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اکرام و تکریم ‘ اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا ‘ اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجے میں کوئی کمی واقع ہوگئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کردیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کردیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو بھی مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں ‘ کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان کے دلوں میں ان کا درجہ کم ہوجاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کردیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ 71۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے ‘ جسے یہ ذمہ واری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم ‘ محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حک شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے ‘ لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بےبہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ 81۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے ‘ کیونکہ نفس خوہشات سے خالی نہیں ہوتا ‘ بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ 91۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) حضرت داود ( علیہ السلام) کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داود ( علیہ السلام) پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمان ( علیہ السلام) سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاو عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علٰی نور ہے۔ 02۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (نعم العبدانہ اواب) ” بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ “ 12۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیر کثیر اور ان پر احسان ہے کہ او انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ‘ پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے ‘ حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ 22۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محت پر ترجیح دیتے تھے۔ 32۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کرلے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہوجائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ 42۔ ان آیات کریمہ سے یہ بجہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے “ چناچہ سلیمان ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے ‘ سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کردیا ‘ جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کردیا ‘ جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصدو ارادہ کرتے ‘ صمح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کردیا جو ایسے کام کر بکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ 52۔ سلیمان ( علیہ السلام) ایک بادشاہ اور نبی تھے دو اپنی مسن مرضی کرسکتے تھے ‘ لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبی عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تامع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے ‘ جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفٰی ﷺ کا حال تھا اور یہ کامل ترین حال ہے۔