Ayahs 38:18–19پہاڑوں کی تسبیح
قول باری ہے (انا سخرنا الجبال معہ۔ ہم نے پہاڑوں کو ان کا تابع فرمان بنادیا تھا) ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے تابع فرمان اس طرح بنادیا تھا کہ یہ پہاڑ ان کے ساتھ چلتے تھے۔
پہاڑوں کے اس چلنے کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تسبیح قرار دیا تھا کیونکہ اللہ کی تسبیح کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی ذات کو ان تمام باتوں سے پاک رکھا جائے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ جب پہاڑوں کے چلنے کو اس بات کی نشانی قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی تنزیہ کرتے ہیں تو اسے اللہ کے لئے ان کی تسبیح کہا گیا۔
چاشت (اشراق) کی نمازحضور ﷺ نے کبھی پڑھی کبھی نہیں پڑھی
قول باری ہے (یسبحن بالعشی والاشراق (پہاڑ) صبح وشام تسبیح کیا کرتے تھے) معمر نے عطاء خرسانی سے روایت کی ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” میرے دل میں چاشت کی نماز کے متعلق ہمیشہ خلجان رہتا تھا یہاں تک کہ میں نے قول باری (انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق) کی تلاوت کی، اس آیت کی وجہ سے میرے دل کا خلجان دور ہوگیا۔
قاسم نے حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ ایک مرتبہ اہل قبا کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت وہ چاشت کی نماز میں مشغول تھے۔ آپ نے فرمایا (ان صلوۃ الاوابین اذارمضت الفصال من الضحیٰ ۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹنی یا گائے کے بچوں کے قدم چاشت کی گرمی کی بنا پر جل اٹھیں) ۔
شریک نے زید بن ابی زیاد سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ” مجھے میری جگری دوست ( حضور ﷺ ) نے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے، چاشت کی نماز کی، سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی اور ہر ماہ تین روزے رکھنے کی۔ مجھے آپ ﷺ نے نماز میں مرغے کی طرح ٹھونگیں مارنے اور لومڑی کی طرح دائیں بائیں دیکھنے اور کتے کی طرح بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ “
عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ مسلسل چاشت کی نماز پڑھتے رہتے یہاں تک کہ یہ خیال ہوتا کہ شاید اب آپ یہ نماز نہیں چھوڑیں گے، پھر آپ اسے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ یہ خیال پیدا ہوجاتا کہ شاید اب آپ ﷺ یہ نماز کبھی نہیں پڑھیں گے۔
حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے چاشت کی نماز پڑھی تھی۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے یہ نماز نہیں پڑھی تھی۔ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے ” لوگوں نے جو جو نئی باتیں پیدا کی ہیں ان میں چاشت کی نماز میرے نزدیک سے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ “
ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ان سے چاشت کی نماز کے متعلق جب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ نماز تو کتاب اللہ میں موجود ہے لیکن اس نماز تک صرف کسی غواص (غوطہ خور یعنی کتاب اللہ کے بحرز خار میں غوطہ لگانے والے) کو ہی رسائی ہوسکتی ہے۔ پھر انہوں نے آیت (فی بیوت آذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو والا صال) کی تلاوت فرمائی۔
Ayah 38:20فصل الخطاب کیا تھا ؟
قول باری ہے (واتیناہ الحکمۃ وفصل الخطاب ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی) اشعث نے حسن سے روایت کی ہے کہ مقدمات کے فیصلوں کا علم عطا ہوا تھا ، شریح سے مروی ہے کہ گواہیوں اور قسم اٹھوانے کا علم مراد ہے۔ ابوحصین سے مروی ہے کہ انہوں نے ابو عبدالرحمن سلمی سے روایت کی ہے کہ فصل خطاب کے معنی اہل مقدمات کے درمیان فیصلہ کرنے کے ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اہل مقدمات کے درمیان حق کی بنیاد پر فیصلے کرنا مراد ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب حاکم کی عدالت میں کوئی مقدمہ پیش ہو تو اس پر اس کا فیصلہ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے فیصلہ کرنے کے عمل کو نظر انداز کرنا جائز نہیں ہوتا۔ یہ چیز ان لوگوں کے قول کو باطل کردیتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قسم اٹھانے سیانکار کرنے والے کو قید کردیاجائے گا یہاں تک کہ وہ یا تو اقرار کرے یا قسم اٹھالے۔ کیونکہ اس طریق کار سے فیصلے کے عمل کو نظر انداز کردینا اور اس میں تاخیر کرنا لازم آتا ہے۔
شبعی نے زیاد سے روایت کی ہے کہ فصل خطاب کا مفہوم یہ ہے کہ تقریر کی ابتداء میں ” اما بعد “ کا لفظ کہا جائے۔ زیادہ ایسا شخص نہیں ہے جس کے قول کا مسائل کے سلسلے میں اعتبار کیا جائے تاہم شعبی نے روایت کی ہے اس لئے اسکی توجیہہ یہ کی جائے گی کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کتاب کی ابتداء میں ” امابعد “ کے لفظ سے خطبہ کتاب اور اصل کتاب کے درمیان جو کہ کتاب کا مقصود ہوتی ہے قصل کیا جائے۔
جج کیا وصاف اور اس کی احتیاط
Ayah 38:21جج روزانہ عدالت لگانے کا پابند نہیں اور نہ ہی شوہر روزانہ بیوی کے پاس جانے کا پابند ہے
قول باری ہے (وھل اتاک نبا الخصم اذ توسروا المحراب۔ بھلا آپ کو ان اہل مقدمہ کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آگئے) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق سے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے عمروبن عبید سے، انہوں نے حسن سے اس قول باری کی تفسیر میں روایت کی کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اوقات کو چاردنوں پر تقسیم کررکھا تھا۔ ایک دن بیویوں کے لئے مخصوص تھا۔ ایک دن فیصلوں کے لئے، ایک دن عبادت کے لئے اور ایک دن بنی اسرائیل کے سائلین کے سوالات اور درخواستیں سننے کے لئے ۔ حسن نے باقی ماندہ روایت کا بھی ذکر کیا۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قاضی کے لئے مقدمات کے فیصلوں کی خاطر ہر روز عدالت لگانا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لئے گنجائش ہے کہ ہر چار دنوں میں سے ایک دن اس کام کے لئے مخصوص کردے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے شوہر پر اپنی بیوی کے نزدیک ہر روز موجود گی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر چار دن میں ایک دن باری مقرر کردینا جائز ہے۔
محراب کسے کہتے ہیں ؟
ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب کسی بٹیھک کی درمیان والی جگہ کو کہتے ہیں۔ اسی لئے محرب المسجد بنا ہے کیونکہ محراب وسط میں ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب بالا خانہ اور حجرہ کو کہتے ہیں۔ قول باری (اذتسوروالمحراب) اس پر دلالت کرتا ہے۔
Ayahs 38:22–23خصم کا اسم، واحد اور جماعت دونوں پر واقع ہوتا ہے ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) ان آنے والوں سے اس لئے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ یہ آپ کے پاس اجازت کے بغیر انسانوں کی صورت میں آپ کی نماز گاہ میں دیوار پھاند کر آئے تھے۔ آنے والوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے کہا (لا تخف خصمان بغی بعضنا علی بعض۔ آپ ڈریے نہیں، ہم دو اہل مقدمہ ہیں ایک نے دوسرے سے زیادتی کی ہے) اس کے معنی ہیں۔ دیکھیے، اگر آپ کے پاس دواہل مقدمہ آجائیں اور آکر یہ کہیں کہ ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی ہے تو آپ کیا فیصلہ کریں گے۔ “
یہ بات اضمار کی صورت میں بیان ہوئی ہے کیونکہ یہ واضح ہے کہ مقدمہ کے دونوں فریق فرشتے تھے اور کسی نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی تھی۔ نیز فرشتوں سے کذب بیانی کا جواز بھی نہیں ہے۔ ان باتوں سے ہمیں یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ ان دونوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے اشارے کنائے میں بات کی تھی جو انہیں کذب بیانی کے دائرے سے باہر رکھتا ہے۔ اور پھر انہوں نے مثال بیان کرکے مفہوم کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے ذہن سے اور زیادہ قریب کردیا تھا۔
ان دونوں کا یہ قول (ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ۔ یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں) معنوی طور پر اضمار پر محمول ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں اضمار یہ ہے۔ ” دیکھئے، اگر میرے اس بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہوں…“ دنبیوں سے عورتیں مراد ہیں۔ ایک قول کے مطابق حضرت دائود (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور یا بن حنان کی کوئی بیوی نہ تھی۔ اس نے ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا۔ حضرت دائود نے بھی اس عورت کو نکاح کا پیغام بھیج دیا حالانکہ آپ کو پتہ تھا کہ اور یا نے اسے پیغام بھیجا ہے۔ اس کے بعد اس عورت سے آپ کا نکاح ہوگیا۔
اس واقعہ میں دو باتیں ایسی تھیں جن سے انبیاء کو دامن کشاں رہنا چاہیے تھا۔ ایک تو یہ کہ پیغام نکاح پر پیغام نکاح بھیجنا دوسری یہ کہ بیویوں کی کثرت کے باوجود نکاح کی طرف میلان رکھنا جب کہ دوسرے شخص کے پاس کوئی بیوی نہیں تھی، یہ معصیت کی صورت تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر حضرت دائود (علیہ السلام) سے اپنی ناراضی کا اظہار کیا اگرچہ یہ ایک صغیرہ گناہ تھا۔
جب فرشتوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے خطاب کیا تھا اس وقت ہی وہ یہ بات سمجھ گئے تھے کہ انہیں پیغام نکاح پر پیغام نکاح نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ اور یہ یبات ان کے لئے بہتر تھی۔ قول باری (ولی نعجۃ واحدۃ۔ اور میری صرف ایک دنبی ہے) یعنی میں نے صرف ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا تھا اور دونوں طرف سے اس نکاح پر رضامندی بھی ہوگئی تھی۔
اس قصہ کی فضول روایات
روایات میں قصہ گو راویوں نے جس باتوں کا تذکرہ کیا ہے کہ حضرت دائود کی نظر ایک برہنہ عورت پر پڑگئی تھی اور آپ اس پر فریفتہ ہوگئے تھے پھر آپ نے اس کے شوہر کو قتل کرادیا اور اسے اپنے عقلہ میں لے آئے، وہ تمام باتیں بےسروپا قسم کی من گھڑت کہانیاں ہیں جن کا انبیاء کی ذات سے وقوع پذیر ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔
کیونکہ انبیاء کرام معاصی کو معاصی سمجھتے ہوئے کبھی ان کا ارتکاب نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ معاصی کہیں کبائر نہ ہوں جن کے ارتکاب کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ انہیں عہدہ نبوت سے ہی معزول نہ کردے۔
پہلی تاویل کی صحت پر اس شخص کا قول (وعزنی فی الخطاب۔ اور بات چیت میں مجھے دباتا ہے) دلالت کرتا ہے ۔ کیونکہ اس فقرے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فریقین کے درمیان پیغام نکاح کے سلسلے میں گفتگو ہورہی تھی۔ یہ بات نہیں تھی کہ ایک نے نکاح کرنے میں دوسرے سے سبقت کرلی تھی۔
حاکم کو فریق مقدمہ کی سطح پر بات کرنی چاہیے
قول باری (قاحتکم بیننا بالحق ولاتشطط۔ سو آپ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کردیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے) اس پر دلالت کرتا ہے کہ مقدمہ کے فریق کے لئے حاکم کو اس جیسے الفاظ کے ساتھ خطاب کرنا جائز ہے۔
Ayah 38:24قول باری (لقد ظلمک بسئوال نعجتک الی نعاجہ۔ اس نے تیری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کی درخواست کرکے واقعی تجھ پر ظلم کیا ہے) اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے دوسرے فریق کا بیان لئے بغیر یہ بات جو کہہ دی وہ فیصلہ سنانے کے طور پر نہیں کہی بلکہ حکایت اور مثل کے طور پر کہی تھی جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
نیز حضرت دائود (علیہ السلام) نے مقدمے کا پورا پس منظر ایک فریق کے بیان سے سمجھ لیا تھا اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ دوسرے فریق کا بیان لئے بغیر اس پر ظالم ہونے کا حکم نہ لگاتے، مدعا علیہ کے بیان کے بعد یا تو وہ اس بات کا اعتراف کرلیتا یا اس کے خلاف گواہی وغیرہ کی صورت میں ثبوت پیش کردیا جاتا پھر اس پر ظالم ہونے کا حکم لگانا درست ہوتا۔
قول باری ہے (وان کثیرا من الخلطاء لیبغی بعضھم علی بعض۔ اور اکثر شرکاء ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کرتے رہتے ہیں) یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ اکثر شرکاء کی عادت میں ظلم اور دوسرے شریک کے ساتھ زیادتی داخل ہوتی ہے۔
اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (الا الذین امنوا وعملو الصالحات وقلیل ماھم مگر ہاں وہ لوگ نہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال بھی کیے) دائود (علیہ السلام) کی آزمائش
قول باری ہے (وظن دائود انما فتنۃ اور دائود کو خیال آیا کہ ہم نے ان کی آزمائش کی ہے) یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے ابتدا میں کسی معصیت کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ فرشتوں کی گفتگو سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ شاید ان سے کسی معصیت کا ارتکاب ہوگیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے اس لئے کہ اس مقام پر فتنہ کے معنی آزمائش اور حکم کی سختی ہے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کو اسی وقت پتہ چل گیا کہ انہوں نے نکاح کے سلسلے میں جو قدم اٹھایا تھا وہ معصیت تھی اس لئے اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی مانگنے لگے۔
سورۃ ص ٓ میں سجدہ تلاوت کی حقیقت
قول باری ہے (وخرراکعاواناب اور وہ جھک پڑے اور رجوع ہوئے) ایوب نے عکرمہ سے روایت کی ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو سورة ص ٓ کی اس آیت پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن یہ سجدہ واجب نہیں ہے۔ سعید بن جبیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ سورة ص ٓ کا سجدہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے توبہ کے طور پر کیا تھا اور ہم شکرکے طور پر کرتے ہیں۔ زہری نے حضرت سائب بن یزید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ کو سورة ص ٓ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ حضرت عثمان ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔
مجاہدکہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ آپ نے سورة ص کا سجدہ کہاں سے اخذ کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابن عباس ؓ نے آیت (اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ) پڑھ دی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے یہاں سجدہ کیا تھا اس لئے حضور ﷺ نے بھی اس مقام پر سجدہ کیا۔ مسروق نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ وہ سورة ص کا سجدہ نہیں کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ سجدہ تو ایک نبی نے توبہ کے طور پر کیا تھا۔
سعید بن جبیر کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول کہ حضور ﷺ نے حضرت دائود کسی اقتداء کرتے ہوئے یہ سجدہ کیا تھا۔ کیونکہ قول باری ہے (فبھدھم اقتدہ) اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ سجدہ واجب تھا کیونکہ امروجوب پر محمول ہوتا ہے۔ اس طرح یہ روایت عکرمہ کی اس روایت کے خلاف ہے جس میں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ واجب سجد نہیں ہے۔ جب حضور ﷺ نے اس مقام پر بھی دوسرے مقامات سجود کی طرح سجدہ کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اس مقام اور دوسرے مقامات میں کوئی فرق نہیں ہے۔
رہ گیا حضرت ابن مسعود ؓ کا یہ قول کہ یہ سجدہ ایک نبی نے توبہ کے طور پر کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ مقامات سجود میں سے کسی ایسے مقامات ہیں جہاں سجدہ کرکے دراصل ایسے لوگوں کی نقل کی جاتی ہے جنہیں سجدہ ریز ہونے پر سراہا گیا ہے۔ مثلاً یہ قول باری ہے (ان الذین عندربک لا یستکبرون عن عبادتہ ویسبحونہ ولہ یسجدون۔ وہ فرشتے جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے ، وہ اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں) ۔
Ayah 38:25آیت میں فرشتوں کی بات ہوئی ہے جب کہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مقام انسانوں کے لئے سجدے کا ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (ان الذین اوتوالعلم من قبلہ اذا یتلی علیھم یحرون للاذقان سجدا۔ جن لوگوں کو اس سے قبل علم دیا جاچکا ہے جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں)
اسی طرح کی دوسری آیات سجود جن میں کسی قوم کے سجدے کی حکایت ہے اور اس بنا پر یہ آیات آیات سجود قرار پائیں۔ قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان پر قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ سجدہ ریز نہیں ہوتے) قرآن کے سماع پر سجدہ میں چلے جانے کے لزوم کا مقتضی ہے۔ اگر ہم صرف اس آیت کو لے لیں تو سارے قرآن میں سجدہ کرنا واجب قرار دیں۔
اس لئے جس مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہو تو ظاہراً وہ وجوب کا مقتضی ہوگا۔ الایہ کہ عدم وجوب پر کوئی دلالت قائم ہوجائے۔ ہمارے اصحاب نے سجدہ تلاوت کے لئے سجد میں جانے کے بجائے صرف رکوع پر اکتفا کرلینے کو جائز قرار دیا ہے۔ محمد بن الحسن نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے قول باری (خراراکعا) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اس کے معنی خرسا جدا (سجدے میں گرپڑے) کے ہیں۔ یہاں لفظ رکوع سے سجدے کی تعبیر کی گئی ہے اس لئے رکوع کا سجدے کے قائم مقام ہوجانا جائز ہے کیونکہ رکوع سجدے سے عبارت ہے۔
Ayahs 38:26–30قول باری ہے (یا دائود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ناحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ اے دائود (علیہ السلام) ! ہمنے آپ کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے سو لوگوں کے درمیان انصاف فیصلہ کرتے رہیے اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کیجئے کہ وہ اللہ کے راستے سے آپ کو بھٹکادے گی)
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حارث بن ابی اسامہ نے، انہیں ابو عبید قاسم بن سلام نے، انہیں عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے حمید سے اور انہوں نے حسن سے کہ اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین باتوں کا وعدہ لیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ نفسانی خواہش کی پیروی نہ کریں، اللہ سے ڈرتے رہیں اور انسانوں سے نہ ڈریں، اور اللہ کی آیات کے عوض تھوڑی قیمت نہ لیں۔ پھر انہوں نے درج بالا آیات کی تلاوت کی۔
نیز یہ بھی تلاوت کی (انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا۔ ہم نے تورات نازل کی اس میں ہدایت اور روشنی ہے اس کے مطابق وہ ابنیاء فیصلے کرتے تھے جو فرمانبردار تھے) تا قول باری (فلا تخشوالناس واخشون۔ لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو)
سلیمان بن حرب نے حماد بن ابی سلمہ سے روایت کی ہے اور انہوں نے حمید سے کہ ایاس بن معاویہ کو جب عہدہ قضا سپرد ہوا تو حسن بصری ان کے پاس گئے، انہیں دیکھ کر ایاس رونے لگے ، حسن نے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا۔” مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ قاضیوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں ان میں دو قسمیں جہنم میں جائیں گی اور صرف ایک قسم جنت کی مستحق ہوگی۔ جو قاضی کسی مسئلے میں اجتہاد کرے گا لیکن اجتہاد میں اس سے غلطی ہوجائے وہ جہنم میں جائے گا۔ جو قاضی خواہش نفسانی کے تحت غلط فیصلے کی طرف مائل ہوجائے گا وہ بھی جہنم میں پڑے گا اور جو قاضی اجتہاد کرے گا اور اجتہاد کے ذریعے درست فیصلہ کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ “ حسن نے یہ سن کر کہا۔ ” اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہم سے حضرت دائود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ بیان کیا ہے جو انہوں نے ایک فصل کے جھگڑے کے سلسلے میں کیا تھا۔ پھر فرمایا (وکلا اتیناہ حکما وعلما۔ اور حکمت وعلم تو ہم نے ہر ایک کو دیا تھا) اس کے ذریعے اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تعریف کی لیکن حضرت دائود (علیہ السلام) کی مذمت نہیں کی۔ “ پھر حسن نے یہ فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین باتوں کا وعدہ لیا ہے۔ “ انہوں نے یہاں اپنی پوری بات بیان کی جس کا ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ ؓ کی روایت میں وہ بات بیان کی گئی ہے جس کا ذکر ایاس بن معاویہ نے اپنی روایت میں کیا ہے کہ قاضی جب فیصلہ کرنے میں غلطی کرے گی تو وہ جہنم میں جائے گا۔
یہ روایت محمد بن بکرالبصری نے سنائی ہے ، انہیں ابودائود سبحستانی نے، انہیں محمد بن حسان السمنی نے، انہیں خلف بن خلیفہ نے ابو ہاشم سے، انہوں نے حضرت بریدہ ؓ کے ایک بیٹے سے اور انہوں نے اپنے والد سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (القضاۃ ثلاثۃ واحد فی الجنۃ واثنان فی النار فاما الذی فی الجنۃ فرجل عرف الحق وقضی بہ۔ ورجل عرف الحق فجار فی الحکم فھوفی النار ورجل قضی للناس عن جھل فھو فی النار۔ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک جنت میں جائے گا اور دو جہنم میں پڑیں گے۔ جنت میں جانے والا قاضی وہ ہوگا جسے حق کی معرفت حاصل ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے اور جسے حق کی معرفت حاصل ہو لیکن فیصلہ کرنے میں ظلم اور ناانصافی سے کام لے وہ جہنم میں جائے گا اور جو شخص علم کے بغیر ہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا وہ بھی جہنم میں جائے گا) حضور ﷺ نے یہ بتادیا کہ جو شخص علم کے بغیر جہالت کی بنیاد پر لوگوں کے درمیان غلط فیصلے کرے گا وہ جہنم میں جائے گا۔
Ayah 38:31قول باری ہے (اذ عرض علیہ بالعشی الصافنات الجیاد۔ وہ واقعہ بھی قابل غور ہے۔ جب شام کے وقت ان کے روبرو واصیل عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے) تا قول باری (فطفق مسد بالسوق والاعناق پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) ۔
مجاہد کا قول ہے کہ گھوڑے کا تین ٹانگوں اور چوتھی کے کھر پر کھڑا ہونے کو صفون کہتے ہیں جس سے لفظ صافنات نکلا ہے۔ گھوڑوں کی یہ عام عادت ہوتی ہے ۔ جیاد تیز رفتار گھوڑوں کو کہتے ہیں جب گھوڑا ایڑ لگنے پر دوڑ پڑے تو کہا جاتا ہے ” ھذا فرس جواد “ یہ تیز رفتار گھوڑا ہے۔
Ayah 38:32یہاں خیر مال کو کہا گیا ہے
قول باری ہے (انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی ۔ میں اس مال کی محبت میں اپنے پروردگار کی ید سے غافل ہوگیا) اس کی تفسیر میں دو احتمال ہیں ایک تو یہ کہ خیر سے مال مرادہو یعنی میں اس مال کی محبت میں جوان گھوڑوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا ، اس سے وہ نماز مراد ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس وقت ادا کیا کرتے تھے۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ خیر سے خود گھوڑے مراد ہوں، گھوڑوں کو خیر کے نام سے اس لئے موسوم کیا گیا کہ ان کے ذریعے اللہ کے راستے میں جہادکرکے اور خدا کے دشمنوں سے قتال کرکے خیر یعنی نیکی حاصل ہوتی ہے۔ اس صورت میں قول باری (عن ذکرربی) کے معنی ہوں گے۔ ” ان گھوڑوں کا پالنا اور ان کی دیکھ بھال میرے رب کی یاد اور اس کے حق کی ادائیگی میں شامل ہے۔ “
قول باری ہے (حتی توارت بالحجاب یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا) حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ آفتاب پردے میں چھپ گیا ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جس طرح بعید کا یہ شعر ہے :
حتی اذا القت یدا فی کافر
واجن عورات الثغور ظلامھا
یہاں تک کہ جب سورج نے اپنا ہاتھ رات کے اندر ڈال دیا یعنی ڈوبنے لگا اور تاریکی نے خوف کے مقام پر پرد ا ڈال دیا ۔ یعنی جب سورج غروب ہوگیا اور رات آگئی۔
یا جس طرح حاتم کا شعر ہے :۔
اماوی ما یغنی الثراء عن الفتی
اذا حشرجت یوماد صناق بھا الصدر
اے ماریہ ! دولتمندی انسان کے کس کام آئے گی جب ایک دن جان کنی کے وقت گھنگرو بول اٹھے اور سینے میں جان تنگ ہوجائے۔ یہاں شاعر نے ’ حشرجت ‘ میں نفس یعنی جان کا الضمار کیا ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ کے سوا دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ ” یہاں تک کہ ھگوڑے پردے میں چھپ گئے۔